Baaghi TV

Tag: جنگ

  • اسرائیل میں سیکڑوں افراد کا ایران جنگ کے خلاف احتجاج

    اسرائیل میں سیکڑوں افراد کا ایران جنگ کے خلاف احتجاج

    اسرائیل میں سیکڑوں افراد ایران جنگ کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔

    عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل میں عوامی اجتماعات پر پابندی کے باوجود سیکڑوں افراد نے یران جنگ کے خلاف احتجاجی ریلی میں شرکت کی اور وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف نعرے لگائے، اس دوران مظاہرین نے” بمباری نہیں بات کرو”، "نہ ختم ہونے والی جنگ ختم کرو "کے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔

    اس کے علاوہ مظاہرین نے ایران، لبنان، غزہ میں جنگ اور مغربی کنارے میں منظم تشدد روکنے کا بھی مطالبہ کیا جبکہ پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں بھی ہوئیں اور متعدد مظاہرین کو گرفتار کرلیا گیا۔

    امریکا اسرائیل کے ایران پر حملے، خوزستان میں پیٹروکیمیکل تنصیبات تباہ

    دوسری جانب جنگ نے ایک نیا اور تشویشناک رخ اختیار کر لیا ہے جہاں امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں تعلیمی ادارے بھی نشانے پر آ گئے ہیں شمالی تہران میں واقع شاہد بہشتی یونیورسٹی کے وسیع و عریض کیمپس میں قائم لیزر اینڈ پلازما ریسرچ انسٹیٹیوٹ فضائی حملے کے بعد کھنڈر میں تبدیل ہو گیا۔

    جمعہ کے روز ہونے والے اس حملے میں خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا کیونکہ حکومت کی جانب سے پہلے ہی تمام جامعات کی کلاسز آن لائن منتقل کر دی گئی تھیں تاہم قریبی ہاسٹلز کو جزوی نقصان پہنچا، یونیورسٹی انتظامیہ نے اس حملے کو علمی آزادی، تحقیق اور تعلیمی ماحول پر براہ راست حملہ قرار دیتے ہوئے عالمی تعلیمی برادری سے آواز بلند کرنے کی اپیل کی ہے۔

    امریکی پائلٹ کے ریسکیو آپریشن میں مصروف ایک اور امریکی طیارے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    ادھر ایران کے وزیر سائنس، تحقیق و ٹیکنالوجی حسین سیمائی سراف نے انکشاف کیا ہے کہ 28 فروری سے جاری جنگ کے دوران اب تک ملک بھر میں کم از کم 30 جامعات کے مختلف حصے امریکا اور اسرائیل کے حملوں سے متاثر ہو چکے ہیں۔

  • امریکی پائلٹ کے ریسکیو آپریشن میں مصروف ایک اور امریکی طیارے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    امریکی پائلٹ کے ریسکیو آپریشن میں مصروف ایک اور امریکی طیارے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے امریکی پائلٹ کے ریسکیو آپریشن میں مصروف ایک اور امریکی طیارے کو نشانہ بنا کر گرایا ہے –

    ایرانی خبر رساں ایجنسی ’فارس‘ کے مطابق یہ کارروائی صوبہ اصفہان کے جنوبی علاقے میں کی گئی، جہاں امریکی طیارہ لاپتہ افسر کی تلاش کے لیے پرواز کر رہا تھا۔

    ایرانی میڈیا نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر ایک تصویر بھی جاری کی ہے جس میں کھیتوں کے درمیان سے کالے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے جا سکتے ہیں،ایرانی حکام نے اس واقعے کو صدر ٹرمپ کے ان دعوؤں کا جواب قرار دیا ہے جن میں وہ ریسکیو آپریشن کی کامیابی کی باتیں کر رہے تھے۔

    ایرانی خبر رساں ایجنسی نے اس کارروائی کو ”صدر ٹرمپ کی جانب سے ایک بڑی شکست پر پردہ ڈالنے کی مایوس کن کوشش“ کا انجام قرار دیا ہے۔

    واضح رہے کہ واشنگٹن سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق امریکی حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ لاپتہ ہونے والے دوسرے پائلٹ یا عملے کے رکن (ایئرمین) کو تلاش کرکے باحفاظت ایران سے نکال لیا گیا ہےہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب امریکی فورسز نے ایران کے صوبے کہگیلویہ و بویراحمد کے شہر دہشت میں اپنے دوسرے لاپتہ پائلٹ کو بچانے کے لیے ایک انتہائی بڑا اور خطرناک آپریشن کیا،رات بھر جاری رہنے والے اس ریسکیو آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اتوار کی صبح سوشل میڈیا پر تصدیق کی ہے کہ ایران میں گرائے گئے جنگی طیارے کا لاپتہ پائلٹ کو امریکی افواج نے باحفاظت نکال لیا ہے۔

  • ایران میں لاپتہ امریکی پائلٹ کی بازیابی،صدر ٹرمپ نے  مشن کو امریکی تاریخ کا سب سے مشکل اور نڈر  آپریشن قرار دیا

    ایران میں لاپتہ امریکی پائلٹ کی بازیابی،صدر ٹرمپ نے مشن کو امریکی تاریخ کا سب سے مشکل اور نڈر آپریشن قرار دیا

    ایران کے اندر گرنے والے امریکی جنگی طیارے ایف-15 ای کے عملے کو بچانے کے لیے جاری آپریشن کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کی صبح سوشل میڈیا پر تصدیق کی ہے کہ ایران میں گرائے گئے جنگی طیارے کا لاپتہ پائلٹ کو امریکی افواج نے باحفاظت نکال لیا ہے سماجی رابطے کی سائٹ ’ٹروتھ سوشل‘ پر کی گئی اپنی پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے لکھا کہ ”ہم نے اسے نکال لیا ہے،ا نہوں نے اس مشن کو امریکی تاریخ کے سب سے مشکل اور نڈر ’سرچ اینڈ ریسکیو‘ آپریشنز میں سے ایک قرار دیا، جس میں امریکی فوج نے دشمن کے علاقے کے اندر جا کر اپنے افسر کو بچایا۔

    صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ بازیاب کرایا گیا اہلکار کوئی معمولی افسر نہیں بلکہ ایک انتہائی قابلِ احترام ’کرنل‘ ہے، جو اب مکمل طور پر محفوظ ہے اگرچہ اس خطرناک مشن اور طیارہ گرنے کے دوران کرنل کو کچھ زخم آئے ہیں، لیکن وہ اب خطرے سے باہر ہے اور جلد ہی مکمل صحت یاب ہو جائے گا،اس مشن میں درجنوں جدید ترین جنگی طیارے اور مہلک ترین ہتھیار استعمال کیے گئے تاکہ دشمن کے علاقے میں پھنسے ہوئے اہلکار کو ہر قیمت پر نکالا جا سکے۔

    انہوں نے انکشاف کیا کہ یہ گزشتہ دو دنوں میں دوسری بڑی کامیابی ہے، کیونکہ اس سے پہلے ایک اور بہادر پائلٹ کو بھی بچایا گیا تھا جس کی تصدیق اس وقت اس لیے نہیں کی گئی تاکہ دوسرے جاری آپریشن کو کسی خطرے میں نہ ڈالا جائے۔

    صدر ٹرمپ نے اس دہری کامیابی کو امریکی فوجی تاریخ کا ایک یادگار لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ دو الگ الگ پائلٹس کو دشمن کی سرزمین کے اندر سے باحفاظت نکالا گیا ہو امریکا اپنے کسی بھی سپاہی کو کبھی پیچھے نہیں چھوڑے گا۔

    صدر ٹرمپ نے اس کامیابی کو ایرانی فضائی حدود پر امریکی غلبے اور برتری کا ثبوت قرار دیا، لیکن اس بارے میں کوئی ذکر نہیں کیا کہ آخر وہ ایف-15 طیارہ ایرانی فورسز نے گرایا کیسے تھاصدر ٹرمپ نے تمام امریکیوں، چاہے وہ ریپبلکن ہوں یا ڈیموکریٹ، سے اپیل کی کہ وہ اس فخر کے لمحے میں متحد ہو جائیں۔

    امریکی میڈیا کے مطابق امریکی حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ لاپتہ ہونے والے دوسرے پائلٹ یا عملے کے رکن (ایئرمین) کو تلاش کرکے باحفاظت ایران سے نکال لیا گیا ہےہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب امریکی فورسز نے ایران کے صوبے کہگیلویہ و بویراحمد کے شہر دہشت میں اپنے دوسرے لاپتہ پائلٹ کو بچانے کے لیے ایک انتہائی بڑا اور خطرناک آپریشن کیا،رات بھر جاری رہنے والے اس ریسکیو آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

    ’الجزیرہ‘ نے مقامی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اس آپریشن کے دوران کم از کم چار افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ ایک شخص زخمی ہے، تاہم غیر سرکاری اطلاعات بتاتی ہیں کہ جانی نقصان اس سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہےاگرچہ ان مسلح جھڑپوں کی باضابطہ تصدیق ابھی باقی ہے، لیکن دہشت کے گردونواح میں ہونے والی ہلچل سے یہ واضح تھا کہ امریکی کمانڈوز پائلٹ کو بازیاب کرانے کے لیے سرتوڑ کوششیں کر رہے تھے۔

    یہ صورتحال اس لیے بھی پیچیدہ تھی کیونکہ گزشتہ دو دنوں سے ایرانی حکام بھی اس پائلٹ کی تلاش میں مصروف تھے اور انہوں نے عام شہریوں کو بھی اس مہم میں شامل ہونے کی اپیل کی تھی ایرانی حکام نے پائلٹ کا سراغ لگانے والے کسی بھی شہری کے لیے بڑے انعام کا اعلان کر رکھا تھا، جس کی وجہ سے مقامی آبادی بھی اس تلاش میں سرگرم تھی۔

    لیکن اسی دوران امریکی ٹیموں نے ’سرچ اینڈ ریسکیو‘ مشن کے تحت پائلٹ تک پہنچنے کی کوشش کی امریکی حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے الجزیرہ کو بتایا تھا کہ اگرچہ لاپتہ اہلکار کو ڈھونڈ نکالنا ایک بڑی کامیابی ہے، لیکن ریسکیو ٹیم کے لیے اصل چیلنج اسے بحفاظت ایران سے باہر نکالنا تھا ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ بازیاب کرایا گیا اہلکار مرد ہے یا خاتون، کیونکہ امریکی فوجی اصطلاح میں ’ایئرمین‘ کا لفظ دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

  • ایران جنگ:امریکا میں گیس کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ

    ایران جنگ:امریکا میں گیس کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ

    امریکا میں گیس کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ، فی گیلن گیس کی قیمت $4.10 تک پہنچ گئی۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 48 گھنٹے کا وقت دیا ہے ، وجہ امریکا میں بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتیں ہیں، جبکہ امریکا میں گیس کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں فی گیلن گیس کی قیمت $4.10 تک پہنچ گئی، یہ اضافہ پچھلے ہفتے کے مقابلے میں 12 سینٹ کا اضافہ ہے جو غیر معمولی اضافہ ہے۔

    قیمتوں میں یہ اضافہ 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد سے 37 فیصد تک ہو چکا ہے۔ قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ خلیج فارس میں ہرمز کے تنگ راستے کی تقریباً بندش ہے س آبی گذرگاہ سے دنیا کے لیے تیل کی تقریباً 20 فیصد ترسیل کے لیے اہم ہے اور مشرق وسطیٰ میں تیل کی پیداوار میں کمی بھی ہے،ریاست کیلیفورنیا میں فی گیلن گیس کی سب سے زیادہ اوسط قیمت $5.92 کے قریب ہے جبکہ اوکلاہوما میں سب سے کم قیمت $3.29 فی گیلن ہے۔

  • معاہدہ نہ ہوا تو ایران پر قیامت ٹوٹ پڑے گی،ٹرمپ کا 48 گھنٹے کا ایک اور الٹی میٹم

    معاہدہ نہ ہوا تو ایران پر قیامت ٹوٹ پڑے گی،ٹرمپ کا 48 گھنٹے کا ایک اور الٹی میٹم

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے پاس 48 گھنٹے ہیں کہ وہ کوئی معاہدہ کر لے یا آبنائے ہرمز کھول دے، ورنہ اس پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل میں جاری بیان میں کہا کہ ‘یاد رکھیں جب میں نے ایران کو معاہدہ کرنے یا آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 10 دن دیے تھے،وقت نکلتا جا رہا ہے، اب 10 دن کا دیا وقت ختم ہو رہا ہے، معاہدہ نہ ہوا تو ان پر جہنم برسانے کے لیے 48 گھنٹے باقی رہ گئے ہیں-

    ایک اور بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایف 16 طیارےکی تباہی سے ایران سے مذاکرات پر اثر نہیں پڑےگایہ جنگ ہے اور ہم حالت جنگ میں ہیں، جنگی طیارے کی تباہی سے سفارتی عمل متاثر نہیں ہوگا، انہوں نے یہ بھی کہا کہ ابھی نہیں کہہ سکتاکہ لاپتا عملے کے رکن کو نقصان پہنچایاگیا تو امریکاکیا اقدام کرےگا۔

    امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری ایران پر حملوں کا آغاز کیا تھا، ان حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، پاسداران انقلاب کے مرکزی کمانڈرز اور اہم شخصیات شہید ہوگئی تھیں جبکہ ایران نے جوابی کارروائی میں خطے میں قائم امریکی بیسز اور اسرائیل کو نشانہ بنایا۔

    بعد ازاں ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مرتبہ ایران کو جنگ بندی معاہدہ کرنے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے بدترین کارروائیوں کی دھمکی دی تھی،ڈونلڈ ٹرمپ نے 30 مارچ کو سوشل میڈیا پر جاری بیان میں دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ معاہدہ نہ کرنے اور 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز نہ کھولنے کی صورت میں ایران کے بجلی گھروں، تیل کے کنوؤں اور ڈی سیلی نیشن پلانٹس پر حملے کیے جائیں گے۔

  • آپریشن وعدہ حق 4 کی 94 ویں لہر کا آغاز،ایران کے اسرائیل پر مزید حملے

    آپریشن وعدہ حق 4 کی 94 ویں لہر کا آغاز،ایران کے اسرائیل پر مزید حملے

    ایران کی پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ آپریشن وعدہ حق 4 کی 94 ویں لہر کا آغاز کردیا گیا ہے اور اس دوران اسرائیل کے انڈسٹریل اور فوجی تنصیبات کے ساتھ ساتھ فوجی کمانڈرز کے جمع ہونے کے مقام کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ آپریشن وعدہ حق 4 کی 94 مہم کے تحت صبح سویرے ہی کارروائیاں شروع کی گئیں، ان حملوں میں تل ابیب سمیت فلسطین کے مقبوضہ علاقوں کے جنوب، وسط اور شمال میں تنصبیات کو نشانہ بنایا گیا بیلسٹک میزائل، ٹھوس اور مائع ایندھن پروجیکٹا ئلز، خرمشہر، خیبر شکن اور عماد میزائل استعمال کیے گئے، اس کے علاوہ خودکش ڈرونز سے بھی اسرائیلی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

    پاسداران انقلاب کا کہنا تھا کہ ڈیمونا، نیگیو، بیریشیبا اور رامات گین میں قائم تنصبیات کو جدید انداز اپناتے ہوئے نشانہ بنایا گیا، جس کے دوران اسرائیل کے انتہائی جدید فضائی نظام کی کئی لہروں کو ناکام بنایا گیا اور وہ ایرانی ڈرونز روکنے میں ناکام ثابت ہوا یہ ایرانی مسلح افواج کی ایک بہت بڑی کامیابی ہے اور خطے کے ممالک کے لیے خوشی کا لمحہ ہے،یمنی جنگجو گروپ نے جنوبی مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر بلیسٹک میزائل حملے کیے، عراقی مزاحمتی گروپس نے ابھی 19 میزائل حملے کیے۔

    الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی فوج نے تصدیق کی ہے کہ مرکزی علاقے میں میزائل کا ملبہ گرا ہے، جس کے بعد مذکورہ علاقے کی طرف سرچ اور ریسکیو ٹیمیں روانہ کردی گئی ہیں اسرائیلی فوج نے عوام سے ہنگامی بنیاد پر درخواست کی وہ متاثرہ علاقے کے قریب جانے یا وہاں جمع ہونے سے گریز کریں اور ایمرجنسی سروسز کے اہلکاروں کو اپنا کام آزادانہ انداز میں کرنے دیں۔

  • ایران  کا  امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ کے امکان کا عندیہ

    ایران کا امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ کے امکان کا عندیہ

    ایران کی مسلح افواج کے سینئر کمانڈر بریگیڈیئر جنرل محمد جعفر اسدی نے امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ کے امکان کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی افواج کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے مکمل تیار ہیں۔

    ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایران کی مسلح افواج کے سینئر کمانڈر بریگیڈیئر جنرل محمد جعفر اسدی نے ہفتے کے روز ایک ٹی وی انٹرویو میں خطے کی حالیہ صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں ایران اور امریکا کے درمیان دوبارہ جنگ کا امکان موجود ہے ماضی گواہ ہے کہ امریکا کسی بھی معاہدے، وعدے یا بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری نہیں کرتا ہے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ اگر امریکا کی جانب سے کسی قسم کی کارروائی کی گئی تو ایران کی مسلح افواج پوری طاقت کے ساتھ اس کا مقابلہ کریں گی،کہ ملک کی دفاعی تیاری مکمل ہے اور دشمن کی کسی بھی ممکنہ کارروائی کا فیصلہ کُن اور سخت جواب دیا جائے گادشمن کی سازشوں کے باوجود ریاست کے تمام ستون ایرانی قیادت کی ہدایات کے مطابق مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی پیشکش کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس سے مطمئن نہیں ہیں، انہو ں نے کہا کہ ایران کی قیادت کے اندر شدید اختلافات کے باعث مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق تہران نے اپنی نئی مذاکراتی تجویز جمعرات کو ثالث ملک پاکستان کے ذریعے امریکا تک پہنچائی، تاہم اس کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

    دوسری جانب امریکی حکام نے بھی ایرانی تجویز کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں، تاہم رپورٹس کے مطابق امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف نے ایسی ترامیم پیش کی ہیں جن کے تحت ایران کے جوہری پروگرام کو دوبارہ مذاکرات کا حصہ بنایا گیا ہے ان مطالبات میں یہ بھی شامل ہے کہ ایران بمباری سے متاثرہ جوہری تنصیبات سے افزودہ یورینیم منتقل نہ کرے اور نہ ہی وہاں سرگرمیاں دوبارہ شروع کرے۔

    دوسری جانب سفارتی محاذ پر پاکستان کی امن کوششوں میں ایک بڑا بریک تھرو سامنے آیا ہے، ایران نے مذاکرات کے لیے اپنی نئی تجاویز پاکستان کے ذریعے امریکا کو بھجوا دی ہیں تاہم صدر ٹرمپ نے فی الحال ایرانی تجاویز پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی قیادت کو زیادہ مناسب تجاویز پیش کرنی چاہئیں۔

  • ٹرمپ نے ایران کے خلاف دو بڑے زمینی آپریشنز کی منصوبہ بندی کی ہے،امریکی میڈیا

    ٹرمپ نے ایران کے خلاف دو بڑے زمینی آپریشنز کی منصوبہ بندی کی ہے،امریکی میڈیا

    امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کی آڑ میں الجھا کر ایران پر زمینی حملوں کا منصوبہ بنا لیا ہے جبکہ ہزاروں امریکی فوجی پہلے ہی خطے میں پہنچ چکے ہیں۔

    امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کے خلاف دو بڑے زمینی آپریشنز کی منصوبہ بندی کی ہے پہلا آپریشن ایران کے اہم تیل بردار مرکز خارگ جزیرے پر قبضے کے لیے ہوگا جبکہ دوسرا آپریشن افزودہ یورینیم حاصل کرنے کے مقصد سے کیا جائے گا, امریکا پہلے ہی ساڑ ھے تین ہزار میرینز اور نیول اہلکار خطے میں تعینات کرچکا ہے، جبکہ آئندہ ہفتوں میں مزید ساڑھے تین ہزار فوجیوں کی آمد متوقع ہے، جس سے خطے میں امریکی فوجی موجودگی مزید بڑھ جائے گی۔

    رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ مکمل حملے سے کم درجے کا ہے، تاہم اس کے دوران امریکی اہلکاروں کو ایرانی ڈرونز، میزائلوں، زمینی فائرنگ اور بارودی سرنگوں جیسے خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے, وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ پینٹاگون کا کام مختلف آپشنز تیار کرنا ہے تاکہ صدر کو فیصلے کے لیے مکمل اختیارات حاصل ہوں، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ صدر ٹرمپ نے کوئی حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔

    امریکی میڈیا کے مطابق خارگ جزیرے پر قبضہ ایران کے لیے شدید معاشی دھچکا ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ یہ جزیرہ ایران کی تیل برآمدات کا ایک بڑا مرکز ہے اس کے ساتھ ساتھ اس اقدام سے ایران کے فوجی آپریشنز کے لیے دستیاب مالی وسائل بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔

    دوسری جانب صدر ٹرمپ کے قریبی حلقوں نے انہیں خبردار کیا ہے کہ ایرانی سرزمین پر قدم رکھنا ایک نہایت خطرناک اور پیچیدہ مشن ہوگا،ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے کسی بھی آپریشن سے نہ تو ایران کی حکومت گرے گی اور نہ ہی آبنائے ہرمز کھلنے کی ضمانت دی جاسکتی ہے اگر امریکا نے زمینی کارروائی کی تو یہ جنگ جلد ختم ہونے کے بجائے طویل ہوسکتی ہے اور اسے ہفتوں میں سمیٹنا ممکن نہیں ہوگا۔

    دوسری جانب ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ دشمن بظاہر مذاکرات کی بات کرتا ہے لیکن خفیہ طور پر زمینی حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق انہوں نے کہا کہ ایرانی افواج امریکی فوجیوں کے انتظار میں ہیں اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گ ایران کی عسکری تیاری مکمل ہے، میزائل نظام فعال ہے اور دشمن کی کمزوریوں سے بخوبی آگاہ ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ ان کا بیان ابراہ راست واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے ردعمل میں دیا گیا یا نہیں۔

  • ایران کی فوجی قیادت کا امریکا اور اسرائیل کو سخت پیغام

    ایران کی فوجی قیادت کا امریکا اور اسرائیل کو سخت پیغام

    ایران کی فوجی قیادت نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل ایران کی حقیقی عسکری طاقت سے ناواقف ہیں-

    ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایرانی فوج کے خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو ایران کی عسکری صلاحیتوں کے بارے میں مکمل معلومات حاصل نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن ایران کی وسیع اور اسٹریٹجک طاقت سے پوری طرح آگاہ نہیں۔

    ترجمان نے کہا کہ یہ نہ سمجھا جائے کہ ایران کے اسٹریٹجک میزائل مراکز، طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز، جدید فضائی دفاعی نظام اور الیکٹرانک وارفیئر کی صلاحیتیں تباہ کر دی گئی ہیں ایران کی اسٹریٹجک عسکری پیداوار ایسے مقامات پر ہو رہی ہے جن کے بار ے میں دشمن کو علم نہیں اور نہ ہی وہ وہاں تک پہنچ سکتا ہے۔

    ایران کی فوجی قیادت کا امریکا اور اسرائیل کو سخت پیغام

    ترجمان کے مطابق اب تک جن مقامات کو نشانہ بنایا گیا وہ “غیر اہم” تھے ترجمان نے مزید خبردار کیا کہ آئندہ کارروائیاں مزید سخت، وسیع اور تباہ کن ہوں گی ایران اس جنگ کو اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک دشمن کو مکمل اور حتمی شکست نہیں دی جاتی۔

    دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران کی مسلح افواج ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل تیار ہیں،امریکی سفارت کاری محض ایک ڈھونگ ہے۔

    پریس ٹی وی کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھارتی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو کہا کہ امریکا کی جانب سے ماضی میں ایران کے ساتھ کیے گئے سفارتی وعدوں کی خلاف ورزی کی گئی، جن میں 2015 کے جوہری معاہدے سے علیحدگی بھی شامل ہے امریکا نے مذاکرات کے دوران ہی اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف کارروائیاں کیں۔

    آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے برطانیہ میں آج 30 سے زائد ممالک کا اجلاس

    ترجمان نے ایران پر جاری امریکی حملوں کو ’’وحشیانہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی حکام کے اس دعوے میں کوئی صداقت نہیں کہ ایران اور امریکا کے درمیان اس وقت کوئی بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں،ثالثوں کے ذریعے ملنے والے پیغامات میں امریکا کی جانب سے غیر معقول اور یکطرفہ مطالبات کیے جا رہے ہیں، جن میں ایران کے پرامن جوہری پروگرام کو ترک کرنا اور اس کے میزائل دفاعی نظام کو محدود کرنا شامل ہے۔

    ایران کیخلاف جنگ سے انکار،ٹرمپ فرانسیسی صدر کو بیوی سےمار کےطعنےدینے لگے

    اسماعیل بقائی نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ ایرانی عوام ان پیغامات کو شدید شکوک و شبہات کی نظر سے دیکھتے ہیں اور اس وقت ایران کی پوری توجہ اپنی سرزمین اور خودمختاری کے دفاع پر مرکوز ہے حالیہ امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے بعد ایران نے ’’آپریشن ٹرو پرومس 4‘‘ کے تحت جوابی اقدامات شروع کیے ہیں، جن کے دوران اب تک درجنوں مراحل میں اہم امریکی اور اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 8 خوارج ہلاک

  • ٹرمپ کا جنگ جاری رکھنے کا اعلان، ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں شدید مندی

    ٹرمپ کا جنگ جاری رکھنے کا اعلان، ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں شدید مندی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے اعلان کے بعد ایشیا کی اسٹاک مارکیٹس میں نمایاں مندی دیکھی گئی ہے –

    جاپان کی نکی 225 میں 1.5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ جنوبی کوریا کی اسٹاک مارکیٹ کوسپی 2.6 فیصد نیچے آ گئی، اسی طرح ہانک کانگ کی ہینگ سینگ انڈیکس میں بھی تقریباً 1 فیصد کمی دیکھی گئی،مارکیٹ ماہرین کے مطابق خطے کی اسٹاک مارکیٹس میں اتار چڑھاؤ اس وقت سے جاری ہے جب فروری کے آخر میں ایران سے متعلق کشیدگی میں اضافہ ہواایشیا کی معیشتیں توانائی کے لیے مشرق وسطیٰ پر انحصار کرتی ہیں، اسی لیے کسی بھی تنازع کے اثرات فوری طور پر مالیاتی منڈیوں پر ظاہر ہوتے ہیں۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قومی خطاب کے دوران وائٹ ہاؤس کے کراس ہال میں اعلیٰ امریکی عسکری اور سیاسی قیادت بھی موجود رہی برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق خطاب کے دوران امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین ڈین کین اور پیٹ ہیگسیٹ نے بھی خطاب کو براہ راست سنا اس کے علاوہ وزیر خارجہ مارکو روبیو سمیت ٹرمپ کابینہ کے دیگر ارکان نے بھی اس موقع پر شرکت کی تقریب کے دوران اعلیٰ فوجی حکام کی موجودگی کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کی شب قوم سے خطاب میں امریکا کی معیشت، ایران کی صورتحال اور تیل سے متعلق کئی بڑے دعوے کیے، تاہم حقائق جانچنے والے تجزیوں میں ان کے کئی بیانات کو گمراہ کن یا مبالغہ آمیز قرار دیا گیا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ گزشتہ حکومت میں امریکا ایک مردہ اور تباہ حال ملک تھا جسے انہوں نے دنیا کی سب سے مضبوط معیشت میں تبدیل کردیا اور مہنگائی کا مکمل خاتمہ کردیا تاہم حقائق اس دعوے کی مکمل تائید نہیں کرتے۔ سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے آخری سال 2024 میں امریکی معیشت (جی ڈی پی) میں 2.8 فیصد اضافہ ہوا، جو دنیا کے امیر ممالک میں نمایاں تھا۔ 2021 سے 2023 کے دوران بھی امریکی معیشت مستحکم رہی۔

    خطاب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کا مقصد ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں تھا، تاہم جنگ کے نتیجے میں وہاں رجیم چینج ہوچکا اور نئی قیادت پہلے سے زیادہ معتدل ہےحقیقت میں یہ دعویٰ بھی متنازع قرار دیا جارہا ہے۔ جنگ کے آغاز پر 28 فروری کو اسرائیلی حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای شہید ہوگئے تھے، جس کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر بنایا گیا، جنہیں زیادہ سخت مؤقف رکھنے والا سمجھا جاتا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق اس جنگ کے دوران ایران کی پاسدارانِ انقلاب (ریولوشنری گارڈ) کا اثر و رسوخ مزید بڑھا ہے، جبکہ سویلین حکومت کا کنٹرول محدود بتایا جاتا ہےیہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایرانی عوام کو حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا اشارہ دیا گیا تھا، تاہم ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔

    ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی حکومت نے حالیہ مظاہروں میں اپنے ہی 45 ہزار شہریوں کو ہلاک کیا، تاہم اس تعداد کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

    امریکا میں قائم تنظیم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ نیوز ایجنسنی کے مطابق ملک گیر مظاہروں میں تقریباً 7 ہزار سے زائد ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ ہزاروں مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، تاہم ان کی تصدیق ممکن نہیں۔ اسی تنظیم کے مطابق 53 ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ایرانی حکومت نے 21 جنوری کو اپنی رپورٹ میں ہلاکتوں کی تعداد 3 ہزار 113 بتائی تھی اس سے قبل بھی ٹرمپ 32 ہزار ہلاکتوں کا دعویٰ کرچکے ہیں، تاہم اس کے لیے کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے۔