Baaghi TV

Tag: جنگ

  • ایران کا  500 امریکی فوجی ہلاک کرنے اور ایک ایف-16 طیارہ تباہ کرنے کا دعویٰ

    ایران کا 500 امریکی فوجی ہلاک کرنے اور ایک ایف-16 طیارہ تباہ کرنے کا دعویٰ

    ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ تازہ حملوں میں 500 امریکی فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں جبکہ جنوبی فارس میں ایک امریکی جنگی طیارہ ایف سکسٹین کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے-

    پاسداران انقلاب کاکہنا ہے کہ مذکورہ طیارہ سعودی عرب کے ایک ایئربیس تک پہنچنے سے قبل ہی کریش ہو گیا تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہےپاسداران انقلاب کے مطابق انہوں نے مقبوضہ فلسطین سمیت خطے میں امریکی اور اسرائیلی صنعتی مراکز کو نشانہ بنایا ہے یہ حملے جاری کشیدگی کے تناظر میں کیے گئے ہیں-

    دوسری جانب ختم الانبیاء ہیڈکوارٹر نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی شہر حیفا میں ایک اسٹریٹجک الیکٹرانک وارفیئر سینٹر کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ بن گوریون ایئرپورٹ کے قریب ایندھن کے ذخائر پر بھی حملہ کیا گیا، اگر ایرانی صنعتی تنصیبات پر مزید حملے کیے گئے تو اس کے نتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔

  • ایرانی حملوں میں امریکا کا جدید ترین ریڈار سسٹمز سے لیس سرویلنس طیارہ تباہ

    ایرانی حملوں میں امریکا کا جدید ترین ریڈار سسٹمز سے لیس سرویلنس طیارہ تباہ

    سعودی عرب میں واقع پرنس سلطان ایئر بیس پر ایرانی میزائل حملے کے نتیجے میں ایک امریکی سرویلنس طیارہ تباہ ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں-

    میڈیا رپورٹس کے مطابق حملے میں امریکی ایئربورن وارننگ اینڈ کنٹرول سسٹم طیارہ کو نشانہ بنایا گیا یہ طیارہ جدید ریڈار سسٹمز سے لیس ہوتا ہے اور سیکڑوں میل دور تک دشمن طیاروں اور ڈرونز کی نقل و حرکت کا پتا لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق امریکی فوج کی انوینٹری میں کل 16 AWACS ہیں۔ جن میں سے 1 یا ممکنہ طور پر 2 تباہ ہو چکے ہیں، امریکی فوج میں فی الحال کوئی دوسرا AWACS نہیں ہے، اس کا متبادل E7A ابھی بھی آرڈرز پر ہے ابھی تک ڈیلیور نہیں ہوا ہے۔

    دفاعی ماہرین کے مطابق ایسے طیارے کسی بھی جنگ میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ یہ فضائی نگرانی، کمانڈ اینڈ کنٹرول اور بروقت معلومات فراہم کرنے میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں،سابق امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ اگر ای تھری طیارے کی تباہی کی تصدیق ہو جاتی ہے تو اس سے خلیج فارس کے خطے میں امریکی نگرانی کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے، جس کے اثرات جاری کشیدگی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

    تاہم اس واقعے سے متعلق ابھی تک امریکی یا سعودی حکام کی جانب سے باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی، اور ماہرین اس خبر کی آزادانہ تصدیق کا انتظار کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

  • اسرائیل کا ایرانی بحریہ کے سربراہ  کو شہید کرنے کا دعویٰ

    اسرائیل کا ایرانی بحریہ کے سربراہ کو شہید کرنے کا دعویٰ

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نیوی کے کمانڈر علی رضا تنگسیری کو بندر عباس میں ایک فضائی حملے میں شہید کر دیا گیا ہے۔

    اسرائیلی میڈیا نے ایک عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ علی رضا تنگسیری کو ساحلی شہر بندر عباس میں ایک کارروائی کے دوران شہید کیا گیا وہ آبنائے ہرمز کی بندش کے فیصلوں میں مرکزی کردار ادا کر رہے تھے۔

    رپورٹ کے مطابق تنگسیری ان چند اہم کمانڈرز میں شامل تھے جو اس سے قبل بھی حملوں میں محفوظ رہے تھ ۔ وہ 2018 سے اس عہدے پر فائز تھے اور ایران کی بحری حکمت عملی میں اہم کردار رکھتے تھے کمانڈر علی رضا آبنائے ہرمز کی بندش کے منصوبے کے مرکزی ذمہ دار سمجھے جاتے تھے تاہم ایران یا اسرائیلی فوج کی جانب سے اس خبر کی باضابطہ تصدیق ابھی تک نہیں کی گئی۔

    آبنائے ہرمز، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، اس پر ایران کے کنٹرول کے باعث شپنگ سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں، شپنگ ڈیٹا کے مطابق یکم مارچ سے 25 مارچ کے درمیان جہازوں کی آمدورفت میں تقریباً 95 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جہاں عام حالات میں روزانہ تقریباً 120 جہاز گزرتے تھے، وہیں اس عرصے میں صرف 155 جہازوں نے یہ راستہ استعمال کیا ایران نے اس اہم گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کرنے کے اقدامات شروع کر دیے ہیں، اور بعض جہازوں سے چینی کرنسی یوآن میں ادائیگی لی جا رہی ہے۔

  • خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی : یہودیوں کی حفاظت کیلئے یونان کے جزائر خریدنے کی تجویز

    خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی : یہودیوں کی حفاظت کیلئے یونان کے جزائر خریدنے کی تجویز

    اسرائیل کے ایک سیاستدان کی جانب سے یونان کے جزائر خریدنے کی تجویز دی گئی ہے، یہ تجویز خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ میزائل حملوں کے خدشات کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق اسرائیلی سیاسی شخصیت اوری اسٹینر نے تجویز پیش کی کہ یونان کے تقریباً 40 غیر آباد جزائر خرید کر انہیں اسرائیلی شہریوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے،اس تجویز کا مقصد ممکنہ جنگی صورتحال میں شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا بتایا گیا ہے۔

    اسٹینر نے دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس ہزاروں بیلسٹک میزائل موجود ہیں جو اسرائیل کو نشانہ بنا سکتے ہیں، اس لیے متبادل حفاظتی منصوبہ ضروری ہے، انہو ں نے اس تصور کو ایک ’متبادل آئرن ڈوم‘ قرار دیا تاہم اس تجویز کوجلد ہی مسترد کر دیا گیا جیوئش نیشنل فنڈ کی ذیلی کمپنی ہمنوتا کے بورڈ ممبران نے اس منصو بے کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ادارے کے بنیادی مقاصد کے خلاف ہے، بورڈ نے واضح کیا کہ ادارہ اسرائیل یا فلسطینی علاقوں سے با ہر زمین خریدنے کا مجاز نہیں، اس لیے یونان کے جزائر خریدنے کی تجویز قابل عمل نہیں ہے۔

  • وزیراعظم سے ملائیشین ہم منصب کی ٹیلیفونک گفتگو،سفارتی کوششوں کی تعریف

    وزیراعظم سے ملائیشین ہم منصب کی ٹیلیفونک گفتگو،سفارتی کوششوں کی تعریف

    وزیراعظم شہباز شریف سے ملائیشین ہم منصب نے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کی تعریف کی۔

    گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے عید الفطر کی مبارکباد کا تبادلہ کیا اور امت کے اتحاد و ترقی کے لیے دعا کی۔ ملائیشین وزیراعظم داتو سری انور ابراہیم نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی قیادت میں ثالثی کی کوششوں کی حمایت کے مضبوط پیغام پر خراج تحسین پیش کیا۔

    شہباز شریف نے ملائیشیا کے وزیر اعظم کو امریکا اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے برادر خلیجی ممالک اور ایرانی رہنماؤں کے ساتھ ان کی بات چیت سمیت تازہ ترین سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی شاندار قیادت کی تعریف کرتے ہوئے ملائیشیا کے وزیراعظم نے انہیں مختلف عالمی رہنماؤں کے ساتھ اپنی گفتگو سے بھی آگاہ کیا، جس میں انہوں نے مشرق وسطیٰ کی جنگ کے فوری خاتمے کی ضرورت پر زور دیا انہوں نے پاکستان کی خطے میں امن کے لیے جاری کوششوں میں ملائیشیا کی مکمل حمایت کی پیشکش بھی کی۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے ملائیشیا کے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور انہیں یقین دلایا کہ پاکستان خطے کی موجودہ صورتحال میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مخلصانہ اور حقیقی کوششیں جاری رکھے گا، دونوں رہنماؤں نے باہمی رابطے بحال رکھنے پر اتفاق کیا۔

  • اقوام متحدہ  میں ایرانی حملوں کیخلاف قرارداد منظور، 100 سے زائد ممالک کی حمایت

    اقوام متحدہ میں ایرانی حملوں کیخلاف قرارداد منظور، 100 سے زائد ممالک کی حمایت

    اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کے خلاف ایک اہم قرارداد منظور کر لی گئی ہے، جس کی 100 سے زائد ممالک نے حمایت کی۔

    یہ قرارداد خلیجی ممالک اور اردن کی درخواست پر بلائے گئے ہنگامی اجلاس کے بعد منظور کی گئی، قرارداد میں ایران کے حملوں کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ان کی شدید مذمت کی گئی ہے،اس موقع پر امارات کی وزارت خارجہ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور توانائی کے مراکز کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے، خاص طور پر ایسے ممالک میں جو اس تنازع کا حصہ نہیں ہیں۔

    قرارداد میں آبنائے ہرمز اور باب المندب میں جہازرانی میں مداخلت کو عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ موجودہ کشیدگی عالمی تجارت، توانائی کے تحفظ اور سپلائی چین کو متاثر کر رہی ہے قرارداد میں متاثرہ ممالک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور آزادی کی حمایت کا اعادہ کیا گیا ہے ، ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر حملے بند کرے، اشتعال انگیزی سے گریز کرے اور متاثرہ فریقین کو مکمل معاوضہ ادا کرے۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں ممالک کی جانب سے اس قرارداد کی حمایت ایران پر بڑھتے ہوئے بین الاقوامی سفارتی دباؤ کی عکاسی کرتی ہے۔

  • تل ابیب کے آسمان پر کوؤں کے بڑے جھنڈ منڈلانے لگے،شہری  خوفزدہ  ہو گئے

    تل ابیب کے آسمان پر کوؤں کے بڑے جھنڈ منڈلانے لگے،شہری خوفزدہ ہو گئے

    اسرائیل کے شہر تل ابیب کے آسمان پر کوؤں کے بڑے جھنڈ کے منڈلانے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی ہے-

    رپورٹس کے مطابق یہ ویڈیو ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور حالیہ دنوں میں اسرائیل پر میزائل حملوں کے باعث صورتحال پہلے ہی حساس بنی ہوئی ہے ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کوؤں کا ایک بڑا غول غیر معمولی انداز میں شہر کے اوپر چکر لگا رہا ہے۔

    سوشل میڈیا پر بعض صارفین اس منظر کو بدشگونی سے تعبیر کر رہے ہیں اور اسے آنے والے کسی بڑے واقعے یا تباہی کی علامت قرار دے رہے ہیں،جبکہ کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ اس قسم کی پرواز کو متعدد ثقافتوں میں ایک شگون اور کچھ ہونے والی چیز کی نشاندہی کرنے کے لیے سمجھا جاتا ہے،جبکہ کچھ افراد نے تاریخی حوالوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی پرندوں کی غیر معمولی حرکات کو جنگوں یا سلطنتوں کے زوال سے جوڑا جاتا رہا ہے۔

    کفایت شعاری مہم: رواں مالی سال کے ترقیاتی بجٹ سے 100 ارب روپے کی کٹوتی

    تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات عموماً قدرتی وجوہات کی بنا پر ہوتے ہیں، جیسے موسم میں تبدیلی، خوراک کی تلاش یا ماحولیاتی عوامل۔ ان کے مطابق اس قسم کی ویڈیوز کو محض سائنسی تناظر میں دیکھنا چاہیے اور غیر ضروری خوف یا افواہوں سے گریز کرنا چاہیے۔

    ایران کا امریکی لڑاکا طیارہ تباہ کرنے کا دعویٰ

  • امریکا کے ساتھ جنگ کا اختتام کیا ہو گا؟ایران کی جانب سے جاری اے آئی ویڈیو نے انٹر نیٹ پر ہلچل مچا دی

    امریکا کے ساتھ جنگ کا اختتام کیا ہو گا؟ایران کی جانب سے جاری اے آئی ویڈیو نے انٹر نیٹ پر ہلچل مچا دی

    ایران کی جانب سے جاری کی گئی مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی مدد سے تیار کردہ ایک ویڈیو نے انٹر نیٹ پر ہلچل مچا دی ہے-

    53 سیکنڈ کی اس ویڈیو میں امریکا سے بدلہ لینے کے مناظر دکھائے گئے ہیں ویڈیو کا اختتام ایک میزائل حملے پر ہوتا ہے جو نیویارک میں نصب مشہورِ زمانہ مجسمہ آزادی سے ٹکراتا ہے اور اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے ویڈیو میں مجسمہ آزادی کا سر بدل کر اس کی جگہ ایک قدیم شیطانی دیوتا ’بعل‘ کا سر لگا دکھایا گیا ہے، جسے مذ ہبی اور تاریخی حوالے سے طاقت اور برائی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

    روسی خبر رساں ادارے ’آر ٹی‘ نے ایرانی میڈیا کے حوالے سے یہ کلپ شیئر کیا ہے جس کا عنوان ’سب کی طرف سے ایک ہی انتقام‘ رکھا گیا ہے، ویڈیو دراصل امریکا کی جانب سے جاری طویل مظالم اور ماضی کے مختلف تنازعات کو ایک کہانی کی شکل میں پیش کرتی ہے،ویڈیو کا آغاز شمالی امریکا کے مقا می قبائل کی زمینوں سے ہوتا ہے جس کے بعد جاپان کے شہر ہیروشیما کے مناظر دکھائے جاتے ہیں جہاں دوسری عالمی جنگ کے دوران امریکا نے ایٹمی بمباری کی تھی۔

    اس کے بعد کہانی ویتنام کے جنگ زدہ کھیتوں، یمن کی تباہی اور غزہ کے پناہ گزین کیمپوں تک پہنچتی ہے ہر منظر میں وہاں موجود کردار آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں، جو ان ممالک میں امریکی فوجی مداخلت یا مدد سے ہونے والی مبینہ تباہی کی طرف اشارہ ہےاس ویڈیو میں ایپسٹین جزیرے میں کھڑی ایک بچی کو بھی دکھایا گیا ہے جو آسمان کی جانب دیکھ رہی ہے، اس کا مقصد امریکی اشرافیہ اور عالمی رہنماؤں کے غلیظ کارناموں کی طرف اشارہ دلانا تھا۔

    ویڈیو میں جنوبی ایران کے شہر میناب کے ایک اسکول کی بچی کو دکھایا جاتا ہےیہ منظر اس اسکول پر ہونے والے اس ٹوما ہاک میزائل حملے کی یاد دلاتا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ 160 سے زائد بچیاں جاں بحق ہوئیں اور اس کا الزام امریکا پر لگایا گیا تھا ویڈیو میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصاویر بھی دکھائی گئی ہیں، جو بالترتیب 2020 اور فروری 2026 میں امریکی و اسرائیلی کارروائیوں میں شہید ہوگئے تھےویڈیو کے آخر میں ایک میزائل بادلوں کو چیرتا ہوا مجسمہ آزادی سے ٹکراتا ہے اور اسے تباہ کر دیتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق اس میں ’بعل‘ کا سر دکھانا ایک گہرا علامتی پیغام ہے، کیونکہ یہ کردار تاریخی طور پر بت پرستی اور اخلاقی بگاڑ سے منسوب کیا جاتا ہے۔

  • اسلامی دنیا کے درمیان اختلافات سے صرف صہیونی ریاست فائدہ اٹھا رہی ہے،ایرانی صدر

    اسلامی دنیا کے درمیان اختلافات سے صرف صہیونی ریاست فائدہ اٹھا رہی ہے،ایرانی صدر

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے عیدالفطر کے موقع پر اسلامی اور ہمسایہ ممالک کے نام پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کا کسی بھی برادر ملک سے کوئی تنازع نہیں۔

    اپنے پیغام میں ایرانی صدر نے کہا کہ اسلامی دنیا کے درمیان اختلافات سے صرف صہیونی ریاست فائدہ اٹھا رہی ہے، اس لیے اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے،انہوں نے عید کے موقع پر دعا کی کہ مسلم ممالک کے درمیان یکجہتی پیدا ہو اور سب مل کر امن و استحکام کے لیے کام کریں۔

    دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ موجودہ جنگ ایران پر مسلط کی گئی ہے اور ملک صرف دفاعی اقدامات کر رہا ہے ایران اس وقت تک اپنی دفاعی کارروائیاں جاری رکھے گا جب تک ضرورت محسوس ہوگی، جبکہ امریکا اور اسرائیل کے اقدامات کو غیر قانونی اور بلاجواز قرار دیا، ایرا ن مذاکرات کے عمل میں شامل تھا، لیکن اسی دوران حملے کیے گئے، جس کے باعث صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔

    ایران کا ڈیاگو گارشیا فوجی اڈے پر میزائل حملوں کی تردید

    امریکی ویب سائٹ کا جنگ کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان خفیہ رابطوں کا انکشاف

    سعود ی عرب کی ایرانی سفارتکاروں کو 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کی ہدایت

  • امریکی ویب سائٹ کا جنگ کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان خفیہ رابطوں کا انکشاف

    امریکی ویب سائٹ کا جنگ کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان خفیہ رابطوں کا انکشاف

    ایک امریکی ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باوجود بالواسطہ رابطے اب بھی جاری ہیں۔

    ویب سائٹ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان براہ راست مذاکرات تو ختم ہو چکے ہیں، تاہم قطر، مصر اور برطانیہ ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں امریکا ایران سے یورینیم افزودگی کے پروگرام کے خاتمے کے ساتھ ساتھ پانچ سال کے لیے میزائل پروگرام محدود کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے، دوسری جانب ایران جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کا ہرجانہ طلب کر رہا ہے،ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکا ایران کے منجمد اثاثے واپس کر دے تو ہرجانے کے مطالبے پر پیش رفت ممکن ہو سکتی ہے۔

    ماہرین کے مطابق بالواسطہ سفارتکاری اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں ممالک کشیدگی کم کرنے کے لیے کسی نہ کسی سطح پر رابطے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

    قطر میں ہیلی کاپٹر سمندر میں گر کر تباہ

    سعود ی عرب کی ایرانی سفارتکاروں کو 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کی ہدایت

    عالمی یومِ آب:صدر مملکت کا بھارت کا مشترکہ آبی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنے پر تشویش