Baaghi TV

Tag: جنگ

  • اسرائیلی حملے میں حزب اللہ کے سینیئر کمانڈر اسماعیل ہاشم شہید

    اسرائیلی حملے میں حزب اللہ کے سینیئر کمانڈر اسماعیل ہاشم شہید

    بیروت میں اسرائیلی حملے میں حزب اللہ کے سینیئر کمانڈر یوسف اسماعیل ہاشم شہید ہو گئے، جس کی تنظیم نے تصدیق کی ہے-

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ بیروت میں ایک حملے کے دوران حزب اللہ کے سینیئر کمانڈر الحاج یوسف اسماعیل ہاشم (الحاج صادق) کو شہید کر دیا ہے، جس کی بعد میں حزب اللہ نے بھی تصدیق کرتے ہوئے انہیں اسلامی مزاحمت کا چراغ قرار دیا۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان کے مطابق اسماعیل ہاشم حزب اللہ کے جنوبی محاذ کے کمانڈر تھے اور انہیں اسرائیلی بحریہ نے نشانہ بنایا، یہ حالیہ جنگ کے دوران حزب اللہ کو پہنچنے والے بڑے دھچکوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔

    لبنانی حکام کے مطابق اسماعیل ہاشم اس وقت دیگر کمانڈرز کے ساتھ ایک اجلاس میں موجود تھے جب حملہ کیا گیا، جس میں مزید کئی اہلکار بھی مارے گئے۔ اس حملے میں کم از کم سات افراد جاں بحق اور 26 بھی زخمی ہوئے ہیں-

    ادھر اسرائیلی فوج نے بتایا ہے کہ لبنان میں جاری جھڑپوں کے دوران گزشتہ 24 گھنٹوں میں 48 اہلکار زخمی ہوئے، جب کہ جنگ کے آغاز سے اب تک 10 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 309 زخمی ہو چکے ہیں۔

    دوسری جانب حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسرائیلی فوج کے ٹھکانوں پر متعدد حملے کیے، جن میں رباعہ ثلاثین کے علاقے میں ایک توپ خانے کے مرکز کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا جنگجوؤں نے عیناتا کے قریب ایک اسرائیلی ڈرون مار گرایا اور بفلے کے علاقے میں ایک جنگی طیارے کا بھی مقابلہ کیا۔

  • ایران نے ٹرمپ کے  جنگ بندی کے دعوے کو ایک بار پھر مسترد کردیا

    ایران نے ٹرمپ کے جنگ بندی کے دعوے کو ایک بار پھر مسترد کردیا

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ تہران نے جنگ بندی کی کوئی پیشکش نہیں کی اور نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیرِ غور ہے۔

    ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ’آئی آر آئی بی نیوز‘ کے مطابق وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران نے کسی بھی فریق کو جنگ بندی کی پیشکش نہیں کی، امریکا اور اسرائیل کو سزا اور ایران کو ہونے والے نقصانات کا مکمل معاوضہ نہ ملنے تک جنگ جاری رہے گی، میڈیا میں سامنے آنے والے مبینہ پانچ نکاتی پلان کی خبریں سچائی پر مبنی نہیں بلکہ قیاس آرائی ہیں۔

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایرانی عوام ابھی امریکا کے ساتھ مذاکرات یا سفارت کاری کے لیے تیار نہیں ہیں کیونکہ امریکا نے ماضی میں بھی مذاکرات کو اپنے مطالبات منوانے یا حملوں کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔

    مصر کے روزنامے ’المصری الیوم‘ کو دیے گئے انٹرویو اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای مکمل صحت مند ہیں اب کسی کو بھی امریکی سفارت کاری پر بھروسہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ طاقت کے استعمال سے پہلے دھیان بھٹکانے کے لیے مذاکرات کرتے ہیں۔

    ایران کی جانب سے یہ بیان صدر ٹرمپ کے اس دعوے کے ردعمل میں سامنے آئے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کے نئے رہنما نے جنگ بندی کی پیشکش کی ہے، تاہم وہ جنگ بندی پر تب ہی غور کریں گے جب آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھل جائے گااس شرط کے پورا نہ ہونے تک ایران پر امریکی حملے جاری رہیں گے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مرتبہ ایران کی جانب سے جنگ بندی کی پیشکش کے دعوے کرچکے ہیں تاہم ایرانی حکام مسلسل ان دعوؤں کو مسترد کرتے آئے ہیں۔

  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں کمی

    عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں کمی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ عنقریب ختم کرنے کے بیان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں کمی آگئی۔

    بدھ کے روز عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تین فی صد کمی کے بعد 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہیں تیل کی قیمتوں میں یہ کمی گزشتہ شب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بیان کے بعد واقع ہوئی ہےامریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا ’بہت جلد‘ ایران سے نکل جائے گا اور فوجی کارروائیاں دو یا تین ہفتوں میں ختم ہو سکتی ہیں۔

    تاہم، برینٹ خام تیل کی قیمتیں ایران جنگ کے آغاز سے پہلے کے مقابلے میں اب بھی 39 فی صد زیادہ ہیں جنگ کے آغاز کے بعد سے ایران نے عالمی تیل اور گیس کی سپلائی کے لیے استعمال کیے جانے والے ایک اہم راستے آبنائے ہرمز کو مؤثر طریقے سے بند کیا ہوا ہے عالمی تیل کی تجارت کا 20 فی صد آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔

  • ایران کیساتھ جنگ پرانا منصوبہ؟صدر ٹرمپ نے1987 میں اپنے انٹرویو کا ویڈیو کلپ  شئیر کردیا

    ایران کیساتھ جنگ پرانا منصوبہ؟صدر ٹرمپ نے1987 میں اپنے انٹرویو کا ویڈیو کلپ شئیر کردیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنا ایک 38 سال پرانا انٹرویو شیئر کیا ہے، انٹرویو میں ٹرمپ کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ وہاں جائیں، تیل پر قبضہ کریں اور ایران کو اپنی جنگ خود لڑنے دیں، اس طرح ہم اپنی تمام کسر نکال سکتے ہیں-

    یہ ویڈیو کلپ 1987 کا ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ محض ایک کاروباری شخصیت تھے، لیکن اس وقت بھی ان کی سوچ ایران کے حوالے سے انتہائی سخت تھی، 1987 میں معروف صحافی باربرا والٹرز کو دیے گئے اس انٹرویو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس سے خطرات نہیں بڑھیں گے، تو ٹرمپ کا جواب تھا کہ ہمیں ایرانی سمندروں میں داخل ہو کر ان کے تیل پر قبضہ کر لینا چاہیے، آپ وہاں جائیں اور تیل لے لیں، کمزوری دکھانے سے ہی مسائل پیدا ہوتے ہیں،اگر ایران دوبارہ حملہ کرے تو ہمیں ان کی تیل کی تنصیبات پر قبضہ کر کے اسے اپنے پاس رکھ لینا چاہیے-

    صدر ٹرمپ نے یہ کلپ ایک ایسے وقت میں خود شیئر کیا ہے جب امریکی افواج ایران کے ساتھ ایک فعال جنگ میں مصروف ہیں موجودہ حالات میں اس ویڈیو کو شیئر کرنا صدر ٹرمپ کی جانب سے ایک واضح پیغام سمجھا جا رہا ہے،ایک طرف صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی نئی قیادت کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور وہ لوگ پہلے کے مقابلے میں زیادہ معقول نظر آتے ہیں، لیکن دوسری طرف انہوں نے ایک سنگین دھمکی بھی دی ہے۔

    ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر جلد ہی کوئی معاہدہ طے نہ پایا اور تیل کی تجارت کے لیے اہم راستہ آبنائے ہرمز نہ کھولا گیا تو امریکا ایران کے بجلی گھروں، تیل کے کنوؤں اور خاص طور پر ان کی سب سے بڑی بندرگاہ خارگ آئی لینڈ کو مکمل طور پر تباہ کر دے گا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کا یہ انداز ظاہر کرتا ہے کہ چار دہائیاں گزرنے کے باوجود ایران کے بارے میں ان کا بنیادی نظریہ تبدیل نہیں ہوا جہاں وہ ایک طرف مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنے کی بات کر رہے ہیں، وہیں دوسری طرف وہ ایرانی تیل پر براہِ راست حملے کی دھمکی دے کر تہران پر دباؤ بڑھانا چاہتے ہیں۔

  • امریکا کا ایران میں 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بنکر بسٹر بم سے حملہ

    امریکا کا ایران میں 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بنکر بسٹر بم سے حملہ

    امریکا نے 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بم سے اصفہاں پر حملہ کردیا ہے۔

    عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا نے اصفہان میں ایک بڑے اسلحہ ڈپو کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس حملے میں 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بنکر بسٹر بم استعمال کیے گئے،اس حملے کا ہدف اصفہان میں اسلحہ ڈپو تھا حملے کے بعد زوردار دھماکے ہوئے اور دھماکوں کی ویڈیوز سامنے آئیں،ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حملے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر شیئر کی جس کا مقصد ایران کو مزید سخت پیغام بھی دینا تھا۔

    واضح رہے کہ کچھ رپورٹس میں اصفہان کو جوہری تنصیبات کا حامل علاقہ بتایا گیا ہے تاہم اس مخصوص حملے کا ہدف زیادہ تر اسلحہ ڈپو اور فوجی انفراسٹرکچر بتایا جا رہا ہے۔

  • ایرانی حملوں میں 261 فوجی اور 6000 شہری زخمی ہوئے،اسرائیلی فوج

    ایرانی حملوں میں 261 فوجی اور 6000 شہری زخمی ہوئے،اسرائیلی فوج

    اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری حالیہ جنگ کے دوران اسرائیلی فوج نے اپنے جانی نقصان کے اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔

    اسرائیل کی جانب سے جاری سرکاری بیان کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 261 اسرائیلی فوجی اور6000 سے زائد سویلین زخمی ہوئے ہیں جن میں سے121 افراد اب بھی زیر علاج ہیں،اسرائیلی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 232 افراد زخمی ہونے کے باعث اسپتال منتقل کیے گئے، جس کے بعد جنگ کے دوران ہسپتالوں میں داخل شدگان کی تعداد 6000 سے تجاوز کر گئی ہے۔

    ان زخمیوں میں سے 2 افراد کی حالت تشویشناک،8افراد کی حالت تسلی بخش اور 215 افراد کی حالت بہتر بتائی گئی ہےجبکہ 7 افراد کو گھبراہٹ کے علاج کے لیے اسپتال لایا گیاوزارت صحت نے زخمی ہونے کی وجوہات کی تفصیل نہیں بتائی، تاہم کہا گیا ہے کہ بعض افراد کو پناہ گاہ تک پہنچنے کی کوشش کے دوران بھی چوٹیں لگی ہیں۔

    علاوہ ازیں، اسرائیل نے بتایا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ میں اس کے 261 اسرائیلی فوجی زخمی ہو چکے ہیں، تاہم فوج نے اب تک ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی تعداد ظاہر نہیں کی ہےدوسری جانب اسرائیل نے اپنے ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا دفاعی بجٹ منظور کیا ہے جو 271 ارب ڈالر پر مشتمل ہےماہرین کا خیال ہے کہ اتنا بڑا بجٹ اس بات کی علامت ہے کہ اسرائیل خود کو کسی ایک مختصر کارروائی کے بجائے ایک طویل اور کثیر الجہتی جنگ کے لیے تیار کر رہا ہے۔

    دوحہ انسٹی ٹیوٹ فار گریجویٹ اسٹڈیز کے ماہر محمد المصری نے الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اس صورتحال کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا کہا کہ اسرائیل کا یہ تاریخی بجٹ اُس کی اِس نیت کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ مختلف محاذوں پر کئی جنگیں لڑنے کا ارادہ رکھتا ہے تاریخی طور پر امریکا اسرائیل کو ہر سال 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا رہا ہے اور جنگ کے دوران یہ رقم مزید بڑھ جاتی ہے، لیکن اب اسرائیل کے اندر یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ شاید حالات ہمیشہ ایسے نہ رہیں۔

    انہوں نے کہا کہ امریکا کا سیاسی منظرنامہ بدل رہا ہے اور وہاں کے عوام نہ صرف اسرائیل بلکہ اسے ملنے والی امریکی امداد پر بھی تنقید کر رہے ہیں اس بجٹ سے یہ پیغام ملتا ہے کہ اسرائیل خود کو جنگ کے خاتمے پر نہیں دیکھ رہا، بلکہ وہ شاید ابھی جنگ کے وسط یا محض آغاز میں ہے سرائیلی قیادت یہ سمجھ چکی ہے کہ شام، لبنان، فلسطینی علاقوں اور ایران کے ساتھ ایک طویل المدتی جنگ کی ضرورت ہوگی تاکہ وہ اپنے ’گریٹر اسرائیل‘ کے خواب کو حقیقت بنا سکیں۔

  • ٹرمپ کے مذاکرات جنگ کا اشارہ ہیں،ایران

    ٹرمپ کے مذاکرات جنگ کا اشارہ ہیں،ایران

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ امن مذاکرات کے دعوؤں پر ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جب بھی امریکی صدر قریب الوقوع امن کی بات کرتے ہیں، تو اس کا مطلب درحقیقت جنگ کے مزید قریب ہونے سے لیا جاتا ہے۔

    الجزیرہ کے مطابق ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ لڑائی پہلے ہی جاری ہے، تاہم ٹرمپ کی جانب سے ایران کو معقول قرار دینے اور مذاکرات کے قریب ہونے کے بیانات کے بعد انہیں خدشہ ہے کہ جنگ مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، یہ امریکی پالیسی، خصوصاً ٹرمپ کے دور میں، ایک مخصوص طرزِ عمل کی عکاسی کرتی ہے۔

    ایرانی حکام اس وقت اسلام آباد میں ہونے والی سرگرمیوں کے بجائے ممکنہ زمینی حملے کے خدشے پر زیادہ توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، ان کے بیانات کا مرکز بھی زیادہ تر ایران کی دفاعی تیاریوں اور زمینی جنگ کے لیے آمادگی پر ہے، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ امن معاہدے کے بجائے یہی صورتحال زیادہ متوقع ہے۔

    ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکی افواج نے زمینی کارروائی کی تو یہ ایک طویل اور پیچیدہ جنگ میں بدل جائے گی،صورتحال ٹرمپ کے لیے بدترین ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب وسط مدتی انتخابات قریب ہیں اور جنگ پہلے ہی امریکی عوام میں غیر مقبول ہو چکی ہے۔ مزید یہ کہ امریکی کانگریس نے بھی تاحال اس جنگ کی باقاعدہ منظوری نہیں دی۔

    ایرانی حکام اس صورتحال سے بخوبی آگاہ ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اگر امریکی افواج ایران میں داخل ہوئیں تو یہ ایک براہِ راست اور برابر کی لڑائی ہوگی ایران کے پاس لاکھوں کی تعداد میں فوجی اہلکار اور بڑی تعداد میں بسیج نیم فوجی فورس موجود ہے، جو ملک کے دفاع کے لیے تیار ہیں، ایسی کسی بھی زمینی جنگ کی صورت میں امریکی فوج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے، جو نہ صرف جنگ کو طول دے گا بلکہ اسے امریکی قیادت، خصوصاً ٹرمپ کے لیے سیا سی طور پر نقصان دہ بھی بنا دے گا۔

  • ایرانی تیل پر قبضہ کرنا میرا پسندیدہ آپشن ہے،ٹرمپ

    ایرانی تیل پر قبضہ کرنا میرا پسندیدہ آپشن ہے،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی تیل پر قبضےاور اہم تنصیبات کو آسانی سے حاصل کرنے کا دعویٰ کر دیا جس سے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایرانی تیل پر قبضہ کرنا میرا پسندیدہ آپشن ہے امریکہ ایران کے تیل پر کنٹرول حاصل کر سکتا ہے اور خارگ جزیرہ جیسے اہم برآمدی مرکز کو بہت آسانی سے اپنے قبضے میں لے سکتا ہے ایران اس مقام پر مؤثر دفاع نہیں رکھتا، آبنائے ہرمز سے گزرنے والے پاکستانی پرچم بردار آئل ٹینکرز کی تعداد جنہیں ایران نے اجازت دی اب بڑھا کر 20 کر دی گئی ہے جو خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال کی نشاندہی کرتی ہے۔

    امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ ایران کے افزودہ یورینیم ذخائر پر قبضے کے لیے ایک براہ راست فوجی آپریشن پر بھی غور کر رہے ہیں یہ حساس ذخائر اصفہان اور نطنز جیسے اہم مقامات پر موجود ہیں جنہیں حاصل کرنے کے لیے امریکی افواج کو کئی دنوں تک ایرانی سرزمین پر موجود رہنا پڑ سکتا ہے۔

    تاہم امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ پس پردہ سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں اور ثالثوں کے ذریعے ایران سے بات چیت میں پیش رفت ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق ایک معاہدہ جلد ممکن ہو سکتا ہے لیکن ساتھ ہی فوجی آپشن بھی زیر غور ہے۔

    دوسری جانب ایران کے شہر تبریز میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس میں ایک اہم پیٹروکیمیکل پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حملے میں تبریز پیٹروکیمیکل کمپنی کے ایک یونٹ کو نشانہ بنایا گیا جس کے بعد علاقے میں ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی ریسکیو اور آپریشنل ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور صورتحال کو کنٹرول میں لینے کی کوششیں جاری ہیں، حملے کے باوجود کسی خطرناک یا زہریلے مادے کے اخراج کی اطلاع نہیں ملی، جس سے بڑے ماحولیاتی نقصان کا خدشہ ٹل گیا ہے۔

  • ایران میں محدود زمینی کارروائی خطرناک نتائج کا باعث بھی بن سکتی ہے،برطانوی اخبار

    ایران میں محدود زمینی کارروائی خطرناک نتائج کا باعث بھی بن سکتی ہے،برطانوی اخبار

    ایک برطانوی اخبار میں شائع ہونے والے مضمون میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکا ایران پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا چاہے تو اسے کم از کم 10 لاکھ فوجیوں کی ضرورت ہوگی، جبکہ چند ہزار یا محدود فوجی تعیناتی اس مقصد کے لیے ناکافی ثابت ہوگی۔

    معروف دفاعی تجزیہ کار سیم کیلی نے اپنے مضمون میں لکھا کہ ماضی کی جنگیں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ایران جیسے بڑے اور مضبوط ملک میں محدود زمینی کارروائی نہ صرف غیر حقیقت پسندانہ ہے بلکہ خطرناک نتائج کا باعث بھی بن سکتی ہےامریکی صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں مزید 10 ہزار فوجی بھیجنے پر غور کر رہے ہیں، تاکہ وہ پہلے سے موجود تقریباً 8 ہزار امریکی فوجیوں کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لے سکیں تاہم ماہرین کے مطا بق یہ تعداد کسی بڑی کامیابی کے لیے ناکافی ہے۔

    رپورٹ میں عراق اور افغانستان کی جنگوں کی مثال دیتے ہوئے بتایا گیا کہ عراق میں 2007-2008 کے دوران تقریباً 1 لاکھ 85 ہزار امریکی اور اتحادی فوجی تعینات تھے، جبکہ لاکھوں مقامی فورسز بھی موجود تھیں، اس کے باوجود مکمل استحکام حاصل نہ ہو سکا اسی طرح افغانستان کے صوبہ ہلمند میں بھی ہزاروں فوجیوں کی موجودگی کے باوجود حالات مکمل طور پر قابو میں نہ آ سکے۔

    تجزیہ کار کے مطابق ایران کا رقبہ اور آبادی دونوں بہت بڑے ہیں، اور وہاں کی فوجی طاقت بھی خاصی مضبوط ہے، جس میں پاسداران انقلاب، باقاعدہ فوج اور بسیج ملیشیا شامل ہیں ایسے میں کسی بھی زمینی جنگ کے لیے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو لاکھوں فوجیوں کی ضرورت ہوگی ابتدائی حملوں میں امریکا کچھ اہم اہداف حاصل کر سکتا ہے، جیسے تیل کی تنصیبات یا اہم جزائر پر کنٹرول، تاہم بعد میں شدید مزاحمت، گوریلا جنگ اور جدید ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو جنگ کو طویل اور مہنگا بنا دے گا۔

    برطانوی فوج کے سابق سینئر افسران کا بھی کہنا ہے کہ اگر جنگ کا مقصد واضح نہ ہو تو ایسی کارروائی ناکامی پر ختم ہو سکتی ہے ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں ایران کے خلاف کسی بڑی زمینی جنگ کا فیصلہ عالمی سطح پر سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔

  • کراچی بندرگاہ ایران جنگ کی وجہ سے محفوظ ترین مقام بن گیا

    کراچی بندرگاہ ایران جنگ کی وجہ سے محفوظ ترین مقام بن گیا

    کراچی بندرگاہ پر شپنگ کنٹینرز کی لمبی قطاریں، کیونکہ یہ ایران جنگ کی وجہ سے محفوظ ترین مقام بن گیا ہے۔

    مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں خطرات کے باعث کراچی پورٹ شپنگ کمپنیوں کے لیے محفوظ ترین متبادل ٹرانس شپمنٹ حب بن گئی ہے، جس سے بندرگاہ پر کنٹینرز کی لمبی قطاریں لگ گئیں، یہ صورتحال پاکستانی بندرگاہوں کی سٹریٹجک اہمیت کو بڑھا رہی ہے، جہاں مال بردار جہاز غیر یقینی صورتحال سے بچنے کے لیے یہاں لنگر انداز ہو رہے ہیں-

    ایران اور دیگر علاقائی ممالک میں جنگی کشیدگی کی وجہ سے سمندری راستے غیر محفوظ ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں کراچی پورٹ کو ایک محفوظ پناہ گاہ سمجھا جا رہا ہے، مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال نے کراچی بندرگاہ پر ٹرانس شپمنٹ، کنٹینرز اور بلک کارگو کی نقل و حمل میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے کراچی بندرگاہ کے باہر لنگر انداز جہازوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں، جو اس خطے میں سمندری تجارت کے لیے ایک نیا مرکز بن رہا ہےیہ تبدیلی پاکستانی بندرگاہوں کے لیے بین الاقوامی شپنگ میں اپنا کردار بڑھانے کا ایک اہم موقع ہے۔