Baaghi TV

Tag: جنگ

  • چین خلا کا پرامن استعمال کرتا آرہا ہے،وزارت خارجہ

    چین خلا کا پرامن استعمال کرتا آرہا ہے،وزارت خارجہ

    بیجنگ :امریکی خلائی ادارے ناسا کے چیف آف اسٹاف بل نیلسن نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ چین کے خلائی منصوبے فوجی آپریشن کے تحت جاری ہیں جب کہ امریکہ پرامن،غیر فوجی خلائی منصوبے پر کام کر رہا ہے۔جمعرات کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق اس بیان کے حوالے سے چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان چاؤ لی جیان نے منعقدہ پریس کانفرنس میں کہا کہ بل نیلسن کا بیان حقائق کے منافی ہے۔خلا میں فوجی مشق امریکہ کرتا ہے جب کہ چین خلا کا پرامن استعمال کر رہا ہے اور اس میں عالمی تعاون کو بھی مثبت انداز میں فروغ دے رہا ہے۔

    ایک اور سوال کے جواب میں چاؤ لی جیان نے کہا کہ تین مشترکہ اعلامیے، چین -امریکہ تعلقات کا ” حفاظتی حصار” ہیں اور ان کی پاسداری کی جانی چاہیئے۔

    اس سے پہلے چائنا سینٹر فار انٹرنیشنل اکنامک ایکسچینج کے زیر اہتمام 7 ویں عالمی تھنک ٹینک سمٹ میں کئی سیمینار منعقد ہوئے۔ “عالمی معیشت کی متوازن بحالی” کے موضوع پر منعقدہ سمپوزیم میں شریک ملکی اور غیر ملکی ماہرین اور اسکالرز کا خیال تھا کہ اس حقیقت کے پیش نظر کہ عالمی اقتصادی بحالی کی بنیاد کمزور ہے اور ترقیاتی عدم توازن بڑھ رہا ہے، بین الاقوامی برادری کو عالمی معیشت کی متوازن بحالی کو فروغ دینے کے لیے اتفاق رائے کو بڑھانا چاہیے، تعاون کو مضبوط بنانا چاہیے اور عملی اقدامات کرنے چاہییں۔

    جمعرات کے روز چینی میڈ یا کےمطا بق کوریا انسٹی ٹیوٹ فار فارن اکنامک پالیسی کے ڈائریکٹر کم ہیونگ جونگ نے کہا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ چین کی جدت طرازی کی قیادت میں پیداوری قوت میں خوب اضافہ ہو رہا ہے۔ افراطِ زر کے دور میں، تخلیقی ٹیکنالوجیز کی زیادہ ضرورت ہے، اور بین الاقوامی تعاون اس طرح کی تکنیکی کامیابیاں حاصل کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔

    اس کے علاوہ گزشتہ روز ایک سمپوزیم بعنوان ’’عالمی تجارت کے لیے نئے قوانین بنانے کے لیے گفت و شنید کریں‘‘ کا انعقاد کیا گیا۔ اجلاس میں ماہرین کا خیال تھا کہ بین الاقوامی تجارت میں نئے حالات کے پیشِ نظر، موجودہ عالمی اقتصادی اور تجارتی ترقی کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے کثیر الجہتی تجارتی نظام کے قوانین میں بہتری کا عمل جاری رکھنا ضروری ہے۔

    چین کی ریاستی کونسل کے ترقیاتی تحقیقی مرکز کے ڈپٹی ڈائریکٹر لونگ گو چھیانگ نے کہا کہ چین کاربن میں کمی اور کم کاربن کی تبدیلی کو مؤثر طریقے سے فروغ دے گا، جو عالمی سبز اور کم کاربن کی تبدیلی کے لیے ایک اہم محرک ہوگا۔ ہم دیکھیں گے کہ سبز ترقی کا تصور بین الاقوامی تجارت پر زیادہ اثرات ڈالے گا۔
    آبنائے تائیوان کے دونوں کناروں سے تعلق رکھنے والے صحافیوں نے اپنے دورہ سنکیانگ میں ای لی قازق خوداختیار پریفیکچر کا دورہ کیا جو قدیم شاہراہ ریشم کے شمالی حصے کا اہم گڑھ تھا۔ای لی اپنے خوبصورت مناظر اور مختلف قومیتوں کی رنگا رنگ ثقافت کی بدولت سیاحوں کے لیے بے حد کشش رکھتا ہے۔

    جمعرات کےروزچینی میڈ یا کےمطابق آبنائے تائیوان کے دونوں کناروں سے تعلق رکھنے والے تقریباً 50 صحافی سنکیانگ میں اقتصادی ترقی، قومی اتحاد،سماجی ہم آہنگی ، ماحولیاتی تحفظ،دیہی احیاء اور ثقافتی ترقی کے حوالے سے کی جانے والی تبدیلیوں اور حاصل کردہ کامیابیوں کی شاندار کہانیاں جاننے کے لیےتین جولائی سے سنکیانگ کے مشترکہ دورے پر ہیں ۔ 1992 میں شروع ہونے والی یہ سرگرمی اب آبنائے تائیوان کے دونوں کناروں کے درمیان صحافیوں کے تبادلوں کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے۔

    85سال پہلے آج کے دن چینیوں کے جزبہ کوسلام پیش کرتے ہیں :چین حکومت کا پیغام ،اطلاعات کے مطابق چینی میڈ یا کے مطا بق 7 جولائی کے سانحے کی 85 ویں برسی جمعرات کے روز منا ئی گئی ۔ اسی روز 7 جولائی 1937 کو جاپانی عسکریت پسندوں نے چین کے خلاف جارحیت کی ہمہ جہت جنگ کا آغاز کیا تھا۔جاپان مخالف آٹھ سالہ سخت اور کٹھن جنگ کے دوران، چینی فوج اور عوام نے خونریز لڑائیاں لڑیں، عظیم قومی قربانی کے ساتھ فسطائیت مخالف جنگ میں حتمی فتح حاصل کی، اور اپنے خون سے چینی تہذیب اور عالمی امن کا دفاع کیا۔ اسی وجہ سے ہر سال 7 جولائی کو چینی عوام اس دن کو مختلف طریقوں سے مناتے ہیں، کیونکہ صرف تاریخ کو ذہن میں رکھ کر اور ایک مضبوط ملک بنا کر ہی تاریخی سانحات کو دوبارہ رونما ہونے سے روکا جا سکتا ہے، کیونکہ ہم اپنی قومی تذلیل کو نہیں بھولیں گے، اس لئے ہم امن کو زیادہ قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، یہ چینی عوام کی امن سے محبت اور دفاع کے عزم کا اظہار ہے .

     

    تاہم، چین کے پرامن ابھرنے کے پیشِ نظر، مغربی ممالک میں کچھ لوگ ہمیشہ چین کو سمجھنے کے لیے مغربی طرز فکر اور منطق کا استعمال کرتے چلے آ رہے ہیں۔ وہ چین کے پرامن ابھرنے کی حقیقت کو تسلیم نہیں کرتے اور چین کو ایک مغربی طرز کا تسلط پسند ملک سمجھتے ہیں جو موجودہ ورلڈ آرڈر پر حملہ کرنے والا ہے۔ نام نہاد “تھوسیڈائڈز ٹریپ”تھیوری سے لے کر مختلف “چین کے خطرے کے نظریات” تک، ان غلط فہمیوں نے چین کے ترقی کے رجحان اور مشرق اور مغرب کے درمیان معقول تبادلے اور تعلقات کے بارے میں لوگوں کی عقلی سمجھ کو شدید متاثر کیا ہے۔

     

     

     

    اس حوالے سے چین کے صدر شی جن پھنگ نے 2015 میں اپنے دورہ امریکہ کے دوران ایک تقریر میں نشاندہی کی تھی کہ دنیا میں کوئی “تھوسیڈائڈز ٹریپ” نہیں ہے، لیکن بڑی طاقتوں کے درمیان بار بار ہونے والی تزویراتی غلط فہمیاں اپنے لیے “تھوسیڈائڈز ٹریپ” پیدا کر سکتی ہیں۔ ” بعد میں ایک انٹرویو میں، صدر شی نے دوبارہ زور دیا “ہم سب کو “تھوسیڈائڈز ٹریپ” میں پھنسنے سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ نظریہ کہ ایک طاقتور ملک ضرور تسلط حاصل کرنے کی کوشش کرےگا، چین پر لاگو نہیں ہوتا، اور چین کے پاس اس طرح کے اقدامات کرنے کے لئے جینز نہیں ہیں۔ ”

    غیر ملکیوں کے جارحیت کے تاریخی سانحے اور قومی مصائب کی دردناک یاد کے پیشِ نظر ،چینی عوام امن کی قدر کو اور بھی زیادہ عزیز رکھتے ہیں۔ 5000 سال سے زائد عرصے سے تہذیب کے عمل میں چینی قوم نے ہمیشہ امن اور ہم آہنگی کے تصور کی پیروی کی ہے ۔ چین کبھی تسلط کی کوشش نہیں کرے گا، چین کبھی توسیع میں مشغول نہیں ہو گا ، اور ہم کبھی بھی دوسرے لوگوں پر اس المناک تجربے کو مسلط نہیں کریں گے جس کا تجربہ ہم نے خود کیا ہے۔دوسری طرف ، بلاشبہ بالادست طاقتوں کی غنڈہ گردی کے سامنے چینی عوام کبھی سر نہیں جھکائیں گے، ہم قومی خودمختاری اور علاقائی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے سائنس اور ٹیکنالوجی اور جدیدیت پر انحصار کریں گے اور اس کے ساتھ ساتھ، ہم دنیا بھر کے امن پسند لوگوں کے ساتھ ہاتھ ملا کر عالمی امن اور استحکام کے لیے اپنا اپنا حصہ ڈالیں گے۔

     

     

    یہ لکھتے ہوئے مجھے ایک “موت کا جھنڈا” یاد آ رہا ہے جو میں نے جاپانی جارحیت کے خلاف چینی عوامی جنگ کے

  • چاند پرقبضہ نہیں کررہے:ناسا امریکی آلہ کارنہ بنے:چین

    چاند پرقبضہ نہیں کررہے:ناسا امریکی آلہ کارنہ بنے:چین

    بیجنگ : چین نے پیر کو ناسا کے سربراہ بل نیلسن کے اس انتباہ کو ایک غیر ذمہ دارانہ بیان کے طور پر مسترد کر دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بیجنگ فوجی پروگرام کے ایک حصے کے طور پر چاند پر ’قبضہ‘ کر سکتا ہے۔ روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق چین کا کہنا ہے کہ اس نے ہمیشہ خلا میں قوموں کی برادری کی تعمیر پر زور دیا ہے۔ چین نے گذشتہ دہائی میں اپنے خلائی پروگرام کی رفتار تیز کرتے ہوئے چاند پر سائنسی تحقیق پر توجہ مرکوز کی ہے۔ چین نے 2013 میں اپنی پہلی چاند پر بغیر عملے کے لینڈنگ کی تھی اور توقع ہے کہ اس دہائی کے آخر تک خلابازوں کو چاند پر بھیجنے کے لیے طاقت ور راکٹ لانچ کیے جائیں گے۔

    ایسےآثارمل رہےہیں کہ چین پہلےچاند پرقبضہ کرے گاپھردنیا پرحکمرانی:ناسا سربراہ

    نیلسن نے ہفتے کو جرمن اخبار بِلڈ میں شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’ہمیں بہت فکر مند ہونا چاہیے کہ چین چاند پر اتر رہا ہے اور کہہ رہا ہے اب یہ ہمارا ہے اور تم اس سے دور رہو۔

    امریکی خلائی ایجنسی کے سربراہ نے چین کے خلائی پروگرام کو ایک فوجی پروگرام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے دوسروں سے آئیڈیاز اور ٹیکنالوجی چرائی۔ تاہم چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ امریکی نیشنل ایروناٹکس اینڈ سپیس ایڈمنسٹریشن کے سربراہ نے حقائق کو نظر انداز کیا ہو اور چین کے بارے میں غیر ذمہ دارانہ بات کی ہو

     

    ناسا کی ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کی اب تک کی سب سے بڑی لی گئی تصویر

    انہوں نے چین کی عام اور معقول بیرونی خلا کی کوششوں کے خلاف مسلسل ایک مہم چلائی اور چین اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ تبصروں کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔‘

    انہوں نے کہا کہ چین نے ہمیشہ خلا میں انسانیت کے مشترکہ مستقبل کی تعمیر کو فروغ دیا اور اس کے ہتھیار بنانے اور خلا میں کسی بھی ہتھیار کی دوڑ کی مخالفت کی ہے۔ ناسا اپنے آرٹیمس پروگرام کے تحت 2024 میں چاند کے گرد چکر لگانے اور 2025 تک قمری جنوبی قطب کے قریب عملے کے ساتھ لینڈنگ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    ناسا نے مریخ پر سورج گرہن کی ویڈیو جاری کردی

    چین اس دہائی میں کسی وقت چاند کے قطب جنوبی پر بغیر عملے کے مشن بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

  • نظریہ ضرورت کی سیاست میں مسائل کیسے حل ہوں:تجزیہ:- شہزاد قریشی

    نظریہ ضرورت کی سیاست میں مسائل کیسے حل ہوں:تجزیہ:- شہزاد قریشی

    ملک اور عوام ایک نئے ہیجان خیز دور سے لرزتے ہوئے گزر رہے ہیں جو کسی آنے والے مارشل لاء سے بھی زیادہ خوفناک ہے۔ عوام غربت کی انتہا پر ہیں۔ ہمارے سیاستدان ، اعلی عہدوں پر تعینات سول وفوجی افسران امارت اور خوشحالی انتہا پر ہیں۔ عوام کو آڈیو اور ویڈیو کے پیچھے لگا دیا ہے یہ آڈیو اور ویڈیو کی ریکارڈنگ کون کر تا ہے ؟ عوام کو جن بنیادی مسائل کا سامنا ہے اس کی ذمہ داری کوئی نہیں لے رہا ۔

    عوام مہنگائی ،بے روزگارئی بدامنی سے ہلکان ہو رہے ہیں ۔ بجلی جیسی ہروقت کی ضرورت ختم ہو گئی چھوٹے بڑے کاروبار بجلی کے محتاج ہیں۔ جب سے جدید ٹیکنالوجی سوشل میڈیا نے ترقی کی ہے ہماری سیاسی جماعتوں نے بھی ترقی کے نام پر وہ گُل کھلانے شروع کردئیے ہیں کہ اب ان کی انچ سے کوئی بھی محفوظ نہیں۔ ملکی قومی اداروں کو گلی کوچوں چوراہوں جلسے جلوسوں میں تنقید کا نشانہ بنایا جار ہا ہے نہ پاک فوج محفوظ نہ عدلیہ محفوظ نہ غیر جانبدار صحافی محفوظ۔ سیاسی معیار بدل گئے سیاست کے آداب بدل گئے۔ سیاستدان بدل گئے۔ پارلیمنٹ تو موجودہے ۔

    پارلیمنٹ کی بالادستی نہیں رہی ۔ ارکان اسمبلی عوام کے لئے قانون سازی نہیں کرتے ۔ اپنی مراعات اپنی تنخواہ اور اپنی ضروریات کے لئے قانون سازی کی جاتی ہے ۔ پارلیمنٹ میں موجود قد آور سیاستدانوں کا فقدان ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پنجاب میں ووٹ نواز شریرف کا ہے وہ پنجاب میں مقبول ترین ہیں لیکن لوگ اب سوال کرنا شروع ہو گئے ہیں کہ نواز شریف کی غیر ائینی سزائوں کے خلاف اپیل کب دائر ہوگی ؟ مریم نواز کو پاسپورٹ کب ملے گا؟ سینیٹر اسحاق ڈار وطن واپس کب آئیں گے؟ ان سوالوں کا جواب مسلم لیگ (ن) کے پاس ہے میرے جیسے عام آدمی کے پاس نہیں ؟ تاہم یہ بات طے ہے کہ نواز شریف ایک شریف نیک نیت انسان ہیں اور شرم وحیا والے انسان ہیں آج اگر مسلم لیگ(ن) کو پنجاب میں مقبولیت حاصل ہے تو وہ نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کی وجہ سے ہے ۔

    سیاست آج کل نظریہ ضرورت کے تابع ہو چکی ہے جب تک نظریہ ضرورت دفن نہیں ہوتا نہ جمہوریت مستحکم ہوگی نہ پارلیمنٹ کی بالادستی اور نہ ہی ملک میں قانون کی حکمرانی ہوگی۔ آج کے اقتدار اور سیاستدانوں کی اکثریت سرمائے کی تابع ہے اور یہی آج کل جمہوریت کا مسکن ہے آج کی نظریہ ضرورت کی سیاست میں عوام کے بنیادی مسائل حل ہوں تو کیسے ہوں ؟

  • منشیات کے خلاف جنگ پاک امریکہ ترجیحات ہیں، امریکی معاون وزیر خارجہ

    منشیات کے خلاف جنگ پاک امریکہ ترجیحات ہیں، امریکی معاون وزیر خارجہ

    پاکستان کے ساتھ شراکت کے چالیس سال مکمل ہونے پر آئی این ایل کے معاون وزیرخارجہ کا دورہ پاکستان۔ امریکی معاون وزیر خارجہ برائے انٹرنیشنل نارکوٹکس اینڈ لاء انفورسمینٹ آفیئرز ( آئی این ایل) ٹوڈ ڈی رابنسن نے 29 جون تا دو جولائی کے دوران اسلام آباد کا دورہ کیا جس کا مقصد امریکہ اور پاکستان کے باہمی تعلقات کے قیام کے 75 سال مکمل ہونے کے موقع کو اجاگر کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان شراکت پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔

    اپنے دورے کے موقع پر معاون وزیر خارجہ رابنسن نے پاکستان کے سینئر حکام کے ساتھ ملاقاتوں میں انسداد منشیات، صنفی اُمور، بین الاقوامی جرائم کی روک تھام اور سرحدی حفاظتی معاملات سمیت متعدد موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔

    معاون وزیر خارجہ رابنسن نے امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات کے قیام کی پچہترویں سالگرہ اور آئی این ایل کی پاکستان کے ساتھ شراکت کے چالیس سال مکمل ہونے کے موقع پر ’’انصاف، سلامتی اور خوشحالی‘‘ کے عنوان کے تحت منائی جانے والی تقریبات میں بھی شرکت کی۔ 30 جون کو معاون وزیر خارجہ اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) اکیڈمی کی تعمیر اور تربیتی سہولت کے منصوبہ کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں شریک ہوئے، جس کی مالیت 22 لاکھ ڈالر یعنی 45 کروڑ 18 لاکھ پاکستانی روپے ہے۔

    تقریب کی میزبانی اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام ( یو این ڈی پی) نے کی جو کہ منصوبہ پر عملدرآمد میں آئی این ایل کا شراکت دار ہے جبکہ انسداد منشیات کے وفاقی وزیر شاہ زین بگٹی اور اے این ایف کے ڈائریکٹر جنرل شبیر ناریجو نے بھی تقریب میں شرکت کی۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں معاون وزیر خارجہ رابنسن نے یو این ڈی پی اور اے این ایف کی کوششوں کو سراہا اور آئی این ایل کے ساتھ شراکت پر امریکی حکومت کی جانب سے اُن کا شکریہ ادا کیا۔

    انہوں نے کہا کہ اس مشترکہ منصوبہ کا مقصد پاکستان بھر میں منشیات کی نقل و حرکت کا خاتمہ اور پولیس فورس میں خواتین کی شمولیت، اُن کی برقراری، ترقی اورصنفی اُمور کی بہتری شامل ہے۔معاون وزیر خارجہ نے خیبر پختونخوا میں انسداد منشیات کے ذمہ دار صوبائی ادارے ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول کو 29 کروڑ 58 لاکھ روپے مالیت کا سازو سامان دینے کی تقریب میں بھی شرکت کی۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رابنسن نے کہا کہ منشیات اور ممنوعہ اشیاء کے خلاف جنگ کرنا پاکستان، امریکہ اور بین الاقوامی برادری کی ترجیحات میں شامل ہے جبکہ انہوں نے پاکستان کو اپنے پڑوس کی وجہ سے درپیش خصوصی مشکلات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب باہمی کوششوں کے ذریعہ شاندار کام سرانجام دے سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ یکم جولائی کو معاون وزیر خارجہ نے انسپکٹر جنرل شمالی فرنٹیئر کور میجر جنرل عادل یامین، انسپکٹر جنرل جنوبی فرنٹیئر کور میجر جنرل محمد منیر افسر اور سینئر ایف سی حکام کے ساتھ ایک افتتاحی تقریب اور 10 کروڑ پانچ لاکھ ڈالر مالیت (دو ارب دس کروڑ روپے) کےدو معاہدوں پر دستخط کرنے کی تقریب میں شرکت کی۔

    افتتاحی تقریب میں ایف سی شمالی کے وارسک تربیتی مرکز میں 500 مرد اور 128 خواتین کے لیے رہائشی بیرکس، کمرہ جماعت اور جسمانی تربیت کی سہولیات سمیت 45 نئی سہولیات کا افتتاح کیا گیا۔ مزید برآں حکام نے ایف سی جنوبی کے آٹھ موجودہ ہیڈ کوارٹرز میں خواتین اہلکاروں کے لیے سہولیات کی تعمیر کے معاہدہ پر بھی دستخط کیے۔

    امریکی حکومت کی اعانت سے شروع کیے جانے والے اس منصوبہ کے تحت بیرکس، ڈائننگ ہال، باورچی خانے اور دیگر سہولیات فراہم کی جائیں گی جس کے نتیجہ میں ہر مقام پر ایک سو اٹھائیس خواتین ایف سی اہلکاروں کی تعیناتی میں معاونت میسر ہو گی۔ خواتین اہلکاروں کے لیے سہولیات کی تعمیر کے حوالہ سے رابنسن نے کہا کہ امریکہ کے لیے یہ امر باعث مسرت ہے کہ وہ خواتین کو انصاف تک رسائی کے مواقع میں اضافہ اور انصاف کی فراہمی کے عمل میں اُن کی شمولیت یقینی بنا رہا ہے۔

  • مغرب کی دشمنی: روسی کھلاڑی کھیل سے محروم کردیئے گئے

    مغرب کی دشمنی: روسی کھلاڑی کھیل سے محروم کردیئے گئے

    ماسکو:مغرب کی دشمنی: روسی کھلاڑی کھیل سے محروم کردیئے گئے،اطلاعات کے مطابق 90 سے زائد کھیل کے عالمی اداروں نے روس کے کھلاڑیوں پر پابندی عائد کر کے انہیں فی الحال کھیل سے محروم کر دیا ہے۔

    ماسکو اسٹیٹ یونیورسٹی کی فیکلٹی آف لاء کے ڈین نے جمعے کی شب یہ خبر دیتے ہوئے کہا کہ یوکرین جنگ کے آغاز سے اب تک کھیل سے متعلق ستانوے عالمی ادارے روس کے کھلاڑیوں پر پابندیاں عائد کر چکے ہیں۔

    روس کے لیے پیغام ہےکہ21 ویں صدی میں کوئی جنگ قابل قبول نہیں:یو این سیکریٹری جنرل

    یوکرین پر روس کی چڑھائی کے اب اسکے اثرات کا دائرہ سیاسی و اقتصادی شعبوں سے بڑھ کر کھیل کے میدان تک بھی جا پہنچا ہے۔ اُن اداروں میں فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا، یورپی فوٹبال کی تنظیم یوفا اور اولمپک کی بین الاقوامی کمیٹی آئی او سی بھی اُن اداروں میں شامل ہیں جنہوں نے یوکرین جنگ کے باعث روسی کھلاڑیوں کو اپنے عتاب کا نشانہ بنایا ہے۔

    روس ، یوکرین جنگ : کِک باکسنگ کا عالمی چیمپئن ملک کا دفاع کرتے ہوئے ہلاک

    ماسکو اسٹیٹ یونیورسٹی کی فیکلٹی آف لاء کے ڈین ویکٹر بلاجیف کا کہنا تھا کہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق اولمپک اور پیرالمپک کی عالمی کمیٹیوں کے علاوہ پچانوے دیگر کھیل تنظیموں نے روسی کھلاڑیوں کو کھیل کے میدان سے محروم کر دیا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ پہلے اولمپک کی بین الاقوامی کمیٹی آئی اور سی نے پابندیاں عائد کیں اور پھر اسکے بعد دیگر عالمی تنظیمیں بھی پابندیاں عائد کرنے والوں کی فہرست میں شامل ہو گئیں۔

    اقوام متحدہ میں یوکرین پر روس کے حملے کے خلاف قرارداد منظور

    یاد رہے کہ روس نے چوبیس فروری کو مغربی ممالک بالخصوص نیٹو کی اشتعال انگیزیوں کو وجہ بتا کر یوکرین کے خلاف فوجی آپریشن شروع کیا تھا جو بدستور جاری ہے اور اس کے باعث اب تک روس کے خلاف سیاسی و اقتصادی سمیت مختلف شعبوں میں وسیع پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔

  • شام میں دس سالوں میں3لاکھ سے زائد شہری جاںبحق ہوگئے

    شام میں دس سالوں میں3لاکھ سے زائد شہری جاںبحق ہوگئے

    نیویارک:شام میں دس سالوں میں3لاکھ سے زائد شہری جاںبحق ہوگئے،اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نےاپنی تازہ رپورٹ میں کہا کہ 1 مارچ 2011 سے31 مارچ 2021 کےدرمیان تقریباً 307,000 شہری مارے گئے،جو شام میں تنازعات سے متعلق شہریوں کی ہلاکتوں کا سب سے زیادہ تخمینہ ہے۔

    شام میں جنگوں اورباہمی لڑائی میں مارے جانے شہریوں کے اعدادوشمارجاری کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے کہا کہ اس کی رپورٹ میں شہری ہلاکتوں پر دستیاب اعداد و شمارجمع کرتے وقت تمام ٹیکنیکل پہلووں کی پاسداری کی گئی اور اندازہ لگایا گیا ہے کہ 10 سال کی مدت میں 306,887 شہری مارے گئے۔

    اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ہائی کمشنر مشیل بیچلیٹ کہتے ہیں کہ "اس رپورٹ میں تنازعات سے متعلقہ ہلاکتوں کے اعداد و شمار محض جسمانی تریخی اعداد کا مجموعہ نہیں ہیں، بلکہ انفرادی انسانوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔”

    "ان 306,887 شہریوں میں سے ہر ایک کی ہلاکت کے ان خاندانوں اور برادری پر گہرے، دہرانے والے اثرات مرتب ہوئے جس سے وہ تعلق رکھتے تھے۔”اقوام متحدہ کے حقوق کے سربراہ نے کہا کہ رپورٹ کے تجزیے سے تنازع کی شدت اور پیمانے کا بھی واضح اندازہ ہو جائے گا، اور اس میں جنگجوؤں کی ہلاکتیں شامل نہیں ہیں۔

    اس رپورٹ کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نےحتمی قرار دیا تھا اور اس میں 143,350 شہریوں کی ہلاکتوں کا حوالہ دیا گیا تھا جن کی تفصیلی معلومات کے ساتھ مختلف ذرائع نے انفرادی طور پر دستاویزات فراہم کی تھیں

    اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کا کہنا ہے کہ ان میں کم از کم ان کا پورا نام، تاریخ اور موت کا مقام شامل ہے جس میں نقاط کو مربوط کرنے کے لیے شماریاتی تخمینہ لگانے کی تکنیک اور متعدد نظاموں کا تخمینہ استعمال کیا جاتا ہے جہاں معلومات حاصل کرنے کے حوالے سے کچھ اہم پہلوغائب تھے

    اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ نئی تکنیکوں کا استعمال کرتے ہوئے، مزید 163,537 شہری ہلاکتوں کا تخمینہ لگایا گیا، جس سے مجموعی طور پر شہری ہلاکتوں کی تعداد 306,887 ہو گئی۔

    "ااقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ہائی کمشنر مشیل بیچلیٹ کہتے ہیں کہس میں وہ بہت سے، بہت سے شہری شامل نہیں ہیں جو صحت کی دیکھ بھال، خوراک، صاف پانی اور دیگر ضروری انسانی حقوق تک رسائی نہ ملنے کی وجہ سے مر گئے، جن کا جائزہ لیناابھی باقی ہے۔”رپورٹ میں کہا گیا کہ 306,887 کے تخمینے کا مطلب ہے کہ اوسطاً، ہر روز، پچھلے 10 سالوں میں، 83 شہری تنازعات کی وجہ سے پرتشدد موت کا شکار ہوئے۔رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ "گذشتہ 10 سالوں میں 1.5 فیصد شہری کل آبادی کا ان تنازعات میں مارے گئے

  • یوکرینی افواج کو سیویروڈونٹسک سےانخلا کا حکم:روسی افواج فاتح بن کرشہرمیں داخل ہونے لگیں

    یوکرینی افواج کو سیویروڈونٹسک سےانخلا کا حکم:روسی افواج فاتح بن کرشہرمیں داخل ہونے لگیں

    کیف: یوکرین نے افواج کو سیویروڈونٹسک سے انخلا کا حکم دیا ،اطلاعات کے مطابق یوکرین سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ یوکرین کی افواج کو سیویروڈونٹسک سے انخلاء کا حکم دیا گیا ہے۔جس کے بعد روسی افواج فاتح کی حیثیت سے اس علاقے میں داخل ہورہی ہیں

    یاد رہےکہ مشرقی شہر کئی ہفتوں سے بمباری کا شکار ہے، جب کہ روسی افواج علاقے پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

    یوکرین کی پسپائی اس لیے اہم ہوگی کیونکہ اس سے لیسی چنسک کےدفاع کے لیے لوہانسک کو روس کے کنٹرول میں چھوڑ دیا جائے گا،
    مشرقی یوکرین میں بنیادی طور پر روسی بولنے والا علاقہ لوہانسک صدر ولادیمیر پوتن کے لیے ایک اہم ترجیح ہے۔جغرافیائی لحاظ سے یہ وہ علاقہ ہے جسے اجتماعی طور پر ڈونباس کے نام سے جانا جاتا ہے – ایک بڑا، صنعتی علاقہ جو 2014 سے روسی حمایت یافتہ علیحدگی پسند تحریک کا مرکز بنا ہوا ہے۔

    روسی افواج نے حالیہ دنوں میں تقریباً سیوروڈونٹسک کو گھیرے میں لے لیا ہے اور اس کے جڑواں شہر لائسیچانسک کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔لوہانسک کے علاقائی سربراہ سرہی ہائیڈائی نے یوکرائنی ٹیلی ویژن کو بتایا کہ "مہینوں سے مسلسل گولہ باری کی جانے والی پوزیشنوں پر رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔”

    "انہیں نئی پوزیشنوں پر پیچھے ہٹنے کے احکامات موصول ہوئے ہیں اور وہاں سے اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔”سیویروڈونٹسک کے ضلعی سربراہ رومن ولاسینکو نے جمعہ کو ریڈیو لبرٹی کو بتایا کہ یوکرین کے فوجی اب بھی شہر میں موجود ہیں کہ انخلاء میں ابھی کچھ وقت لگ سکتا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ شہر کا پورا انفراسٹرکچر مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، 90 فیصد سے زیادہ مکانات پر گولہ باری ہوئی اور ان میں سے 80 فیصد کو شدید نقصان پہنچا۔خیال کیا جاتا ہے کہ سینکڑوں عام شہری سیویروڈونٹسک میں موجود ہیں، بہت سے لوگ وسیع و عریض ایزوٹ کیمیکل پلانٹ میں پناہ کی تلاش میں ہیں۔ جنگ سے پہلے اس کی آبادی 100,000 کے لگ بھگ تھی۔

    یاد رہے کہ کل یعنی جمعرات کے روز، روسی افواج نے سیوروڈونٹسک اور لائسیچانسک کے جنوب میں مزید علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا، جس سے یہ خدشہ پیدا ہو گیا کہ یوکرینی افواج جلد ہی وہاں گھیرے میں آ سکتی ہیں۔

  • یوکرین جنگ،آفات اورغلط حکمت عملی:ڈر ہے کہ کہیں دنیا بھوک سے ہی نہ مرجائے:عالمی ادارے

    یوکرین جنگ،آفات اورغلط حکمت عملی:ڈر ہے کہ کہیں دنیا بھوک سے ہی نہ مرجائے:عالمی ادارے

    نیویارک:چند دن پہلےاقوام متحدہ کی 2 فوڈ ایجنسیوں فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) اور ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے پوری دنیا میں خوراک کے متعدد بحرانوں کے بارے میں سخت انتباہ جاری کیا تھا

    ذرائع کے مطابق اس حوالےسے ‘ہنگر ہاٹ اسپاٹس: شدید غذائی عدم تحفظ پر ایف اے او-ڈبلیو ایف پی کے ابتدائی انتباہات’ کے عنوان سے اپنی مشترکہ رپورٹ میں فوڈ ایجنسیوں نے غذائی بحران سے شدید متاثرہ علاقوں کی مدد کے لیے فوری انسانی بنیادوں پر کارروائی کا مطالبہ کیا تھا جہاں اگلے چند ماہ میں صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔

    رپورٹ میں ایتھوپیا، نائیجیریا، جنوبی سوڈان، یمن، افغانستان اور صومالیہ کو سنگین صورتحال کا سامنا کرنے والے ممالک میں شمار کیا گیا، اس میں کہا گیا ہے کہ ان ممالک میں تقریباً ساڑھے 7 لاکھ افراد کو بھوک اور اموات کا سامنا ہے۔

    جبکہ دوسری طرف یوکرین کی صورتحال نے دنیا کی زندگی اور بھی مشکل میں ڈال دی ، اس وقت ایک ہنگامی صورت حال کا سامنا ہے اور وہ صورتحال غذائی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یوکرین جنگ کی وجہ سر اٹھانے والا غذائی بحران لاکھوں جانیں نگل سکتا ہے۔گلوبل فنڈز ٹو فائٹ ایڈز، ٹی بی اینڈ ملیریا کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر پیٹر سینڈز کا جی 20 وزرائے صحت کے اجلاس کے موقع پر ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ صحت کے بحران کا آغاز ہو چکا ہے مگر یہ کسی نئے جرثومے کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے ہے کہ لوگ خوراک کی کمی کے باعث بیماریوں کا زیادہ شکار ہوں گے۔ متعدی امراض، خوراک کی کمی اور توانائی کے بحران کے مجموعی اثرات کے باعث لاکھوں اموات معمول کی اموات کے علاوہ ہیں۔

     

    پیٹر سینڈز کا یہ بھی کہنا تھا کہ عالمی حکومتوں کو چاہیے کہ خوراک کے بحران کے اثرات کو کم سے کم رکھنے کے لیے صحت کی سہولتوں پر توجہ دیں، خصوصاً کم آمدنی والے افراد کے لیے، ایسے افراد کو طبی مسائل کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ بنیادی صحت خصوصاً دیہات کے نظامِ صحت پر توجہ مرکوز کی جائے۔ ہسپتال بھی اہمیت کے حامل ہیں تاہم جب اس قسم کے چیلنج کا سامنا ہو تو بنیادی صحت کو برقرار رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔

    پیٹر سینڈز کا یہ بھی کہنا تھا کہ کورونا کے خلاف جدوجہد کے دوران وہ وسائل بھی صرف ہو گئے جو تپ دق سے بچانے کے لیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس مرض کے باعث 2020ء میں 15 لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ 2020ء میں دیکھا گیا کہ عالمی سطح پر 15 لاکھ افراد نے ٹی بی کا کم علاج کرایا جس کا مطلب ہے کہ ہزاروں لوگ نہ صرف مریں گے بلکہ دوسروں کو بھی متاثر کریں گے۔

    مغرب اور یوکرین روس پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ یوکرین سے اجناس کی برآمد روکنے کے لیے رکاوٹیں ڈال رہا ہے جس سے عالمی سطح پر قحط کے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں جبکہ روس کا کہنا ہے کہ مغربی پابندیوں کی وجہ سے اجناس کی برآمد میں مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔

    اسی لاکھ کم سن بچے موت کے خطرے کا شکار

    پانچ برس تک کی عمر کے قریب 80 لاکھ بچے غذا کی قلت کے سبب موت کے خطرے سے دو چار ہیں۔ یہ بات بچوں کی فلاح و بہبود سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے کہی ہے۔ سب سے زیادہ خطرے کا شکار ان 15 ممالک کے بچے ہیں جہاں اس وقت خوراک کی قلت ہے۔ ان میں افغانستان، یمن، ایتھوپیا اور ہیٹی بھی شامل ہیں۔ یونیسف کے مطابق موت کے خطرے سے دوچار ایسے بچوں کی تعداد ہر منٹ بڑھ رہی ہے۔ اس بگڑتی صورتحال کی ایک وجہ روس کے یوکرین پر حملے کے سبب عالمی سطح پر اشیائے خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتیں بھی ہیں۔

     

  • امریکی فوجیوں کو سزائے موت:روس اور امریکہ میں دشنی انتہاکوپہچ گئی

    امریکی فوجیوں کو سزائے موت:روس اور امریکہ میں دشنی انتہاکوپہچ گئی

    ماسکو:امریکی فوجیوں کو سزائے موت:روس اور امریکہ میں دشنی انتہاکوپہچ گئی،اطلاعات کے مطابق روسی صدارتی ترجمان نے یوکرین میں پکڑے جانے والے سابق امریکی فوجیوں کی سزائے موت کا عندیہ دے دیا۔دوسری طرف امریکی حکام روس کے اس فیصلے پرکڑی نظررکھے ہوئے ہیں

    مقامی میڈیا رپورٹ کے مطابق کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے ایک انٹرویو میں کہا کہ روس اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتا کہ یوکرین میں پکڑے گئے سابق امریکی فوجیوں کو سزائے موت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

    روسی صدارتی ترجمان نے کہا کہ میں کسی چیز کی ضمانت نہیں دے سکتا، یہ تحقیقات پر منحصر ہے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ دنوں 2 سابق امریکی فوجی الیگزینڈر ڈروک اور اینڈی ہیون کو خارکیو کے قریب سے پکڑا گیا تھا، امریکی محکمہ خارجہ نے 16 جون کو کہا کہ وہ یوکرین میں جنگ میں حصہ لینے والے امریکی شہریوں کے حوالے سے روس کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

    اس سے قبل یوکرین میں 2 برطانوی اور ایک شامی فوجی کو بھی گرفتار کیا گیا تھا جنہیں عدالت نے سزائے موت سنائی ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بار پھر امریکی شہریوں کو یوکرین جانے کے خلاف سختی سے روکا ہے۔

    ادھریورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزیپ بوریل نے کہا ہے کہ روس کی طرف سے اناج کی یوکرین سے برآمدات کا راستہ روکنا ایک حقیقی جنگی جرم ہے۔

    جوزیپ بوریل کا یہ بیان یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے لکسمبرگ پہنچنے پر جاری کیا گیا۔ انہوں نے روس پر الزام عائد کیا کہ وہ لوگوں کی بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے اور روسی حکومت کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔

    یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شریک جرمن وزیر خارجہ انالینا بیئربوک نے کہا ہے کہ جرمن حکومت ریل نیٹ ورک کو بہتر بنانے کے لیے پولینڈ اور رومانیہ کی مدد کرے گی تاکہ یوکرین سے کئی ملین ٹن اناج کی درآمدات کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • روسی فوجی آپریشن میں اب تک 10ہزارہمارے فوجی ہلاک ،30ہزارزخمی ہوچکے:یوکرین

    روسی فوجی آپریشن میں اب تک 10ہزارہمارے فوجی ہلاک ،30ہزارزخمی ہوچکے:یوکرین

    کیف:روسی فوجی آپریشن کے آغاز سے لے کر اب تک 10,000 یوکرائنی فوجی ہلاک اور 30,000 کے قریب زخمی ہوچکے ہیں، یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے دفتر کے مشیر الیکسی آریسٹووچ نے پیر کو تصدیق کرتے ہوئے یوکرین کے اتنے بڑے نقصان کی تفصیلات بتائیں

    "تقریباً 10,000 مارے گئے۔اور ہر تین مین سے ایک فوجی زخمی ہورہا ہے ، اس حوالے سے یہ تفصیلات بتاتے ہوئے اریستووچ نے یوکرین کے صحافی دمتری گورڈن کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا اریستووچ نے نشاندہی کی کہ 96 سے 98 فیصد زخمی فوجی واپس فوج میں واپس آ جاتے ہیں۔

    اس سے قبل یوکرائنی وزارت دفاع الیکسی ریزنیکوف نے کہا تھا کہ یوکرین کے ایک دن میں 100 فوجیوں کو ہلاک اور 500 کو زخمی ہورہے ہیں۔ اس کے بعد، یوکرین کے صدر کے دفتر کے سربراہ کے مشیر میخائل پوڈولیاک نے کہا کہ روزانہ 100 سے 200 یوکرائنی فوجی لڑائی میں مارے جا رہے ہیں۔جبکہ حکمران جماعت کے دھڑے کے سرونٹ آف پیپلز کے سربراہ ڈیوڈ اراکامیا نے یوکرین کی مسلح افواج کے روزانہ 200 سے 500 افراد کے نقصانات کا تخمینہ لگایا۔ 10 جون کو، اریستووچ نے پہلی بار یوکرائنی فوجیوں میں ہونے والے کل نقصانات کی تفصیلات بتائیں

    یاد رہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے 24 فروری کو ڈونباس جمہوریہ کے سربراہوں کی درخواست کے جواب میں، ایک خصوصی فوجی آپریشن کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ماسکو کے منصوبوں میں یوکرین کے علاقوں پر قبضہ شامل نہیں ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اس کا مقصد مشرقی یوروپی ملک کو غیر فوجی بنانا اور اسے ختم کرنا ہے۔