Baaghi TV

Tag: جنگ

  • یوکرین کا تنازعہ طوالت اختیارکرے گا،ہم مغرب کے جھانسےمیں نہیں آئیں گے :روس

    یوکرین کا تنازعہ طوالت اختیارکرے گا،ہم مغرب کے جھانسےمیں نہیں آئیں گے :روس

    ماسکو:یوکرین کا تنازعہ طوالت اختیارکرے گا،ہم مغرب کے جھانسےمیں نہیں آئیں گے:،اطلاعات کے مطابق کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ یوکرین کا بحران ایک طویل تنازعہ ہوگا اور روس اب مغرب پر بھروسہ نہیں کرے گا۔

    کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے پیر کو نشر ہونے والے این بی سی انٹرویو میں کہا جب یہ پوچھا گیا کہ کیا یوکرین کا تنازعہ طویل عرصے تک چلے گا۔تو انہوں نے جواب دیا "ہاں، یہ ایک دیرپا بحران ہو گا، لیکن ہم اب کبھی بھی مغرب پر بھروسہ نہیں کریں گے،”

    اس سے قبل امریکہ میں روس کے سفیر اناتولی انتونوف نے کہا کہ واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان بات چیت تعطل کا شکار ہو چکی ہے۔ سفارت کار کے مطابق دوطرفہ تعلقات جو پہلے ہی گزشتہ چند سالوں سے گہرے بحران کا شکار تھے اب نازک موڑ پر پہنچ چکے ہیں۔

    امریکہ میں روس کے سفیر اناتولی انتونوف نے پہلے کہا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی بات چیت غیر معمولی نچلی سطح پر پہنچ گئی ہے، اور اس اعتماد کو مجروح کیا گیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اس وقت باہمی دلچسپی کے بہت سے معاملات پر بھی تعاون کا بہت زیادہ فقدان ہو رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ 24 فروری سے روس یوکرین کو غیر فوجی اور غیر فوجی بنانے کے لیے ایک خصوصی فوجی آپریشن کر رہا ہے۔ صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ اس آپریشن کا مقصد "ان لوگوں کا تحفظ ہے جو کییف حکومت کے ہاتھوں آٹھ سالوں سے بدسلوکی اور نسل کشی کا شکار ہیں”۔

    روسی وزارت دفاع کے مطابق، فوج نے آپریشن کے پہلے مرحلے کے اہم کام مکمل کر لیے ہیں، جس سے یوکرین کی جنگی صلاحیت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ دریں اثنا، پورے فوجی آپریشن کا بنیادی بیان کردہ مقصد ڈان باس کی مکمل آزادی ہے۔

  • عالمی جنگ؟روس سے جنگ کیلئے فوج تیار رہے، برطانوی آرمی چیف کا حکم

    عالمی جنگ؟روس سے جنگ کیلئے فوج تیار رہے، برطانوی آرمی چیف کا حکم

    لندن: برطانوی فوج کے آرمی چیف نے فوجیوں کو میدان جنگ میں روس کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہنے کا حکم دے دیا۔بی بی سی کے مطابق جنرل سر پیٹرک سینڈرز، جنہوں نے گزشتہ ہفتے ہی بحیثیت فوج کے سربراہ کے عہدہ سنبھالا ہے، نے کہا کہ وہ 1941 کے بعد سے پہلے چیف آف دی جنرل اسٹاف ہیں جنہوں نے یورپ میں ایک بڑی براعظمی طاقت پر مشتمل زمینی جنگ کے سائے میں فوج کی کمان سنبھالی۔

    مغرب ہمارے بارے میں کیا سوچتا ہے:ہمیں کوئی پرواہ نہیں: روس

    انہوں نے مزید کہا کہ روس کا یوکرین پر حملہ ہمارے بنیادی مقصد کی نشاندہی کرتا ہے؛ برطانیہ کی حفاظت کرنا اور زمین پر جنگ لڑنے اور جیتنے کے لیے تیار رہنا۔
    انہوں نے یہ بھی کہا کہ یوکرین جنگ طاقت کے ذریعے روسی جارحیت کو روکنے کے جذبے کو تقویت دیتا ہے۔

    روس کا دنیا کی ہر چیز اپنے ملک میں تیار کرنے کا بڑا اعلان

    جنرل سر پیٹرک نے “نیٹو کے دائرہ کار کو وسعت دینے اور روس کو یورپ پر مزید قبضے سے روکنے کے لیے برطانوی فوج کی نقل و حرکت اور اس میں جدت لانے کا اپنا ہدف بھی بیان کیا۔ انہوں نے کہا، ’ہم وہ نسل ہیں جو فوج کو یورپ میں ایک بار پھر لڑنے کے لیے تیار کرے گی‘۔

    امریکہ اوراتحادی روس کوطویل جنگ کی طرف دھکیلنا چاہتےہیں:فیصلہ ہوگیا

    واضح رہے کہ اس سے قبل نیٹو چیف اسٹولٹنبرگ نے بھی یوکرین کا دورہ کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ جنگ سالوں پر محیط ہوسکتی ہے۔دوسری جانب برطانوی وزیرِ اعظم اور نیٹو سربراہ جانز اسٹولٹنبرگ نے بھی یوکرین کو اپنی بھرپور مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔

  • روس یوکرین میں جنگ ہارچکا:برطانوی آرمی چیف کا اعلان

    روس یوکرین میں جنگ ہارچکا:برطانوی آرمی چیف کا اعلان

    لندن:برطانوی مسلح افواج کے سربراہ ٹونی ریڈیکن کا کہنا ہے کہ روس یوکرین میں جنگ ہار چکا ہے۔اطلاعات کے مطابق برطانوی مسلح افواج کے سربراہ ٹونی ریڈیکن نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ روس یوکرین کے خلاف جنگ اسٹریٹیجک سطح پر ہار چکا ہے۔روس کی یہ صریح غلطی تھی۔ روس کبھی یوکرین پر قبضہ نہیں کر سکتا۔ اس سے روس کی قوت مزید کم ہو گئی ہے۔اسٹریٹیجک حوالے سے دیکھیں، تو روس یہ جنگ ہار چکا ہے۔ اس جنگ کی وجہ سے نیٹو اتحاد مزید مضبوط ہوا ہے اور اب فن لینڈ اور سویڈن بھی نیٹو میں شمولیت کے خواہاں ہیں۔

    روس کےخلاف یورپی اتحادی سربراہوں کا یوکرین میں اہم اجلاس

    برطانوی مسلح افواج کے سربراہ ٹونی ریڈیکن کہتے ہیں کہ روسی صدر پیوٹن آئندہ چند ہفتوں میں کچھ ٹیکٹیکل کامیابیاں حاصل کرتو سکتے ہیں تاہم، ملک کی ایک چوتھائی فوجی طاقت استعمال کرنے کے بعد یہ کامیابیاں انتہائی چھوٹی ہیں کیوں کہ وہ ہائی ٹیک میزائل اور فوجی دستوں کی کمی کا شکار ہیں۔

    روس اپنےآپ کوتنہا نہ سمجھے،ہرمشکل میں ہمیں ساتھ پائےگا:چین کا اعلان

    ان کا مزید کہنا تھا کہ روس کی کمزوریاں ہمارے سامنے ہیں۔ روس افراد کی کمی ہائی ٹیک میزائلوں کا شکار ہے۔ روسی صدر ملک کی پچیس فیصد فوجی قوت استعمال کر کے فقط ایک چھوٹے سے علاقے پر ہی قبضہ کر پائے ہیں، جب کہ ان کے پچاس ہزار فوجی ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ واضح طور پر روس کی ناکامی ہے۔

    علاوہ ازیں، ریڈیکن نے یوکرینی عوام کے جذبے اور بہادری کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ برطانیہ طویل المدتی بنیادوں پر مزید ہتھیاروں کی فراہمی کے ذریعے کیف حکومت کی مدد کرتا رہے گا۔

    دوسری جانب ماسکو حکومت نے مغربی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی سے باز رہیں۔

    ہتھیارڈال دیں ورنہ !! روس کی یوکرینی فوج کو آخری وارننگ:سیورو دونیسک شہرمیں لڑائی…

    کریملن ترجمان دیمتری پیسکوف نے یورپی رہنماؤں کے دورہ یوکرین کے تناظر میں کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ یوکرین کو ہتھیاروں کے ذریعے مزید معاونت فراہم کرنے پر توجہ نہیں دی جائے گی کیوں کہ یہ بالکل فضول اقدام ہو گا اور اس سے اس ملک کو مزید نقصان ہو گا۔

  • ہتھیارڈال دیں ورنہ !! روس کی یوکرینی فوج کو آخری وارننگ:سیورو دونیسک شہرمیں لڑائی جاری

    ہتھیارڈال دیں ورنہ !! روس کی یوکرینی فوج کو آخری وارننگ:سیورو دونیسک شہرمیں لڑائی جاری

    ماسکو :روسی افواج بڑی حکمت عملی سے آگے بڑھ رہی ہیں اور اب تو روس یوکرین کے ایک بڑے شہرپرقبضہ کرنے کی پوزیشن میں آگیا ہے ، اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں یوکرین کے ایک شہر میں فوجی پسپا پوگئے جن کو روسی فوج کی جانب سے آخری وارننگ دی گئی ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق روسی فوج نے سیورو دونیسک شہر میں محصور یوکرینی فوجیوں کو آخری انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہتھیار ڈال دیں۔روسی افواج بڑے بڑے اسپیکروں کے ذریعے شہر کے مختلف حصوں میں آوازیں دے رہے ہیں ، ادھر یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ روسی افواج نے سیورو دونیسک کے صنعتی مرکز میں بچ جانے والے یوکرینی فوجیوں کا رابطہ منقطع کرنے کیلئے شہر کے تینوں پلوں کو تباہ کردیا ہے۔

    یوکرینی حکام نے بھی تصدیق کی ہے کہ اس علاقے میں روس کی فوج نے یوکرین کے فوجیوں کو آخری انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہتھیار ڈال کر دیں۔

    یوکرین کی فوج نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ کے پیج میں بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اس کے فوجی سیورو دونیسک شہر سے پسپا ہوگئے ہیں اور تقریبا 500 سے زائد یوکرینی شہری آزوت کیمیائی کارخانے میں محصور ہوگئے ہیں۔علاوہ ازیں روسی افواج نے سیورو دونیسک کے صنعتی مرکز میں بچ جانے والے یوکرینی فوجیوں کا رابطہ منقطع کرنے کی کوششیں تیز کرتے ہوئے شہر کے تینوں پلوں کو تباہ کردیا ہے۔

    دوسری طرف عالمی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ایک ویڈیو بیان میں قوم سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ وہ روس کے تباہ کن حملوں کے سامنے ڈٹے رہیں گے اورکبھی بھی ہتھیار نہیں‌ڈالیں گے ۔یوکرینی صدر نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ مشرقی خطے میں ہونے والی لڑائی آنے والے چند ہفتوں میں باقاعدہ جنگ کا رخ طے کرے گی۔

  • پاکستان اور چین کےخلاف بھارتی عزائم بےنقاب :بھارتی فضائیہ میں مزید114 جنگی طیاروں کا اضافہ

    پاکستان اور چین کےخلاف بھارتی عزائم بےنقاب :بھارتی فضائیہ میں مزید114 جنگی طیاروں کا اضافہ

    لاہور: پاکستان اور چین کے خلاف بھارتی عزائم بے نقاب ہوگئے:بھارتی فضائیہ میں مزید114 جنگی طیاروں کا اضافہ ،اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت کی طرف سے آتمنیر بھر بھارت اسکیم کے تحت ہندوستانی فضائیہ 114 لڑاکا طیارے حاصل کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے جن میں سے 96 ہندوستان میں بنائے جائیں گے، اور باقی 18 غیر ملکی وینڈر سے درآمد کیے جائیں گے۔

    بھارتی فضائیہ کا ایک اور ہیلی کاپٹر گر کر تباہ

    ہندوستانی فضائیہ کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ ‘بائے گلوبل اینڈ میک ان انڈیا’ اسکیم کے تحت 114 ملٹی رول فائٹر ایئر کرافٹ (ایم آر ایف اے) حاصل کرنے کا منصوبہ ہے جس کے تحت ہندوستانی کمپنیوں کو غیر ملکی وینڈر کے ساتھ شراکت کی اجازت ہوگی۔

    اس حوالے سے بھارتی وزارت دفاع کی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ "حال ہی میں، ہندوستانی فضائیہ نے غیر ملکی دکانداروں کے ساتھ میٹنگیں کیں اور ان سے میک ان انڈیا پروجیکٹ کو پروموٹ کرنے کےلیے طریقہ کے بارے میں مشاورت کی گئی

    ہیلی کاپٹر حادثہ، پائلٹ کا آخری پیغام کیا تھا؟ بھارتی فضائیہ نے روٹ کلیئر کیا تھا…

    بھارتی وزارت دفاع کی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ اس منصوبے کے تحت ابتدائی 18 طیارے درآمد کرنے کے بعد اگلے 36 طیارے ملک کے اندر تیار کیے جائیں گے اور ادائیگیاں جزوی طور پر غیر ملکی کرنسی اور ہندوستانی کرنسی میں کی جائیں گی۔

    ذرائع نےبتایا کہ آخری 60 طیارے ہندوستانی پارٹنرکی اہم ذمہ داری ہوں گےاورحکومت صرف ہندوستانی کرنسی میں ادائیگی کرے گی۔ہندوستانی کرنسی میں ادائیگی سے دکانداروں کو پروجیکٹ میں 60 فیصد سے زیادہ ‘میک ان انڈیا’ ہدف حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

     

    ڈرون کا خوف، بھارتی فضائیہ نے دی اینٹی ڈرون سسٹم خریدنے کی منظوری

    عالمی طیارہ ساز کمپنیاں بشمول بوئنگ، لاک ہیڈ مارٹن، ساب، ایم آئی جی، ارکٹ کارپوریشن اور ڈسالٹ ایوی ایشن کی طرف سے بھارت میں ٹینڈرشامل ہونے کا قوی امکان ہےبھارتی دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ بھارت کے دو حریفوں پاکستان اور چین پر اپنی برتری برقرار رکھنے کے لیے ان 114 لڑاکا طیاروں پر بہت زیادہ انحصار کرنا پڑتا ہے۔

    ہنگامی احکامات کے تحت خریدے گئے 36 رافیل طیاروں نے 2020 میں شروع ہونے والے لداخ بحران کے دوران چینیوں پر برتری برقرار رکھنے میں بے حد مدد کی لیکن یہ تعداد کافی نہیں ہے اور اس کے لیے اس طرح کی مزید صلاحیت کی ضرورت ہوگی۔

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بھارتی فضائیہ پہلے ہی LCA Mk 1A طیاروں کے 83 کے آرڈر دے چکی ہے لیکن اسے اب بھی زیادہ تعداد میں قابل طیاروں کی ضرورت ہے کیونکہ بڑی تعداد میں MiG سیریز کے طیارے یا تو مرحلہ وار ختم ہو چکے ہیں یا اپنے آخری سانسوں پر ہیں۔

    شاید یہی وجہ ہے کہ بھارت کا پانچویں جنریشن کا ایڈوانس میڈیم کمبیٹ ایئر کرافٹ کا منصوبہ تسلی بخش رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے لیکن آپریشنل کارروائیوں میں شامل ہونے میں کافی وقت لگے گا۔

    ذرائع نے بتایا کہ انڈین ایئرفورس اپنے لڑاکا جیٹ کی ضرورت کے لیے ایک ایسا حل اورسرمایہ کاری چاہتا ہے کہ جس میں بننے والے جنگی طیارے جو آپریشنل لاگت پر کم ہو اور بہترخدمات سرانجام دے سکیں

  • دنیا کے ساتھ اچھے روابط چاہتے ہیں،بلاول بھٹو

    دنیا کے ساتھ اچھے روابط چاہتے ہیں،بلاول بھٹو

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بھارت میں بڑھتے اسلامو فوبیا واقعات پر تشویش ہے،گستاخانہ بیان سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے، ہماری ترجیح دنیا کے ساتھ اچھے روابط ہیں۔

    جرمن وزیر خارجہ انالینا بیئربوک کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا کہ جرمنی کی وزیر خارجہ کو دورۂ پاکستان پر خوش آمدید کہتے ہیں، جرمنی پاکستان کا یورپی یونین میں سب سے بڑا شراکت دار ہے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان اور خود میں دہشت گردی کا شکار ہوا ہوں، امید ہے افغان حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اقدامات کرے گی، ہمیں افغانستان سے مزید مہاجرین کی آمد کا خطرہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ افغانستان میں 97 فیصد لوگ خط غربت کے نیچے جا رہے ہیں، افغان حکومت کو عالمی برادری کی توقعات پر پورا اترنا ہوگا، افغانستان سے انہیں نکالنے کی کوشش کررہے ہیں جن کی زندگیوں کو خطرہ ہے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ میری ترجیح پاکستان کی معاشی سفارتکاری کا فروغ ہے، ہماری توجہ ٹریڈ، ناٹ ایڈ پر مرکوز ہے۔

    وزیر خارجہ نے بتایا کہ یوکرین پر پاکستان کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، ہم یوکرین میں جنگ کا فوری خاتمہ چاہتے ہیں، تمام تنازعات کو بالآخر بات چیت سے ہی حل ہونا ہوتا ہے، ہم روس یوکرین جنگ کے مذاکراتی حل پر زور دیتے رہیں گے۔

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان نے چین اور دنیا کے درمیان سفارتی تعلقات شروع کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

    بلاول کا کہنا تھا کہ بھارت کے یک طرفہ اقدامات کے باعث دو طرفہ بات چیت کا عمل متاثر ہوا ہے، بھارت اب ایک ہندوتوا انڈیا ہے، بھارت کی طرف سے اشتعال انگیز بیانات بات چیت کے راستے میں رکاوٹ ہیں۔

    نیوز بریفنگ میں جرمن وزیر خارجہ انالینا بیئربوک نے کہا کہ افغان صورت حال سے سب سے زیادہ پاکستان متاثر ہوا، خواتین کی حقوق معاشرے میں اہمیت کے حامل ہیں، افغانستان کو انسانی بحران کا سامنا ہے۔

    جرمن وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے باہمی تجارت کے فروغ پر بات چیت کی ہے، مقبوضہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی حمایت کرتے ہیں، مسئلہ کشمیر کا حل بات چیت کے ذریعے ہونا چاہیے۔

    واضح رہے کہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی دعوت پر جرمن وزیر خارجہ انالینا بیئربوک پاکستان آئی ہیں، انہیں وزیر خارجہ نے دفتر خارجہ آمد پر خوش آمدید کہا، اس موقع پر دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات بھی ہوئی ۔

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو کے ساتھ جرمن وزیر خارجہ نے وزارت خارجہ کے احاطے میں پودا بھی لگایا۔

  • امریکہ نے یوکرین کو جدید ترین راکٹ سسٹم فراہم کےفیصلہ کرلیا

    امریکہ نے یوکرین کو جدید ترین راکٹ سسٹم فراہم کےفیصلہ کرلیا

    امریکی صدر جو بائیڈن نے یوکرین کو جدید راکٹ سسٹم فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے جو لمبے فاصلے تک مار کرنے والے روسی اہداف پر کامیابی کے ساتھ حملہ کر سکتے ہیں جس کے ایک حصے کے طور پر 700 ملین ڈالر کے ہتھیاروں کے پیکیج کی بدھ کو ایک تقریب کے ذریعے متوقع ہے۔

    یوکرین کے حوالے سے ہونے والے اس فیصلے کے بارے میں انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں نے کہا کہ یوکرین کی طرف سے "یقین دہانی” دینے کے بعد امریکہ یوکرین کو ہائی موبلٹی آرٹلری راکٹ سسٹم فراہم کر رہا ہے جو 80 کلومیٹر (50 میل) تک کے اہداف کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنا سکتا ہے۔اسی حوالے سے کل منگل کو شائع ہونے والے نیویارک ٹائمز کے ایک آپشن ایڈ میں، بائیڈن نے کہا کہ یوکرین پر روس کا حملہ سفارت کاری کے ذریعے ختم ہو جائے گا لیکن یوکرین کو مذاکرات کی میز پر سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے امریکہ کو اہم ہتھیار اور گولہ بارود فراہم کرنا چاہیے۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے یوکرین کے حوالےسے کہا ہےکہ، ’’اسی لیے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم یوکرین کے باشندوں کو مزید جدید راکٹ سسٹم اور جنگی سازوسامان فراہم کریں گے جو انہیں یوکرین میں میدان جنگ میں اہم اہداف کو زیادہ درست طریقے سے نشانہ بنانے کے قابل بنائیں گے۔‘‘

    حکام نے بتایا کہ پیکج میں گولہ بارود، کاؤنٹر فائر ریڈار، متعدد فضائی نگرانی کے ریڈار، اضافی جیولن اینٹی ٹینک میزائل کے ساتھ ساتھ اینٹی آرمر ہتھیار بھی شامل ہیں۔یوکرین کے حکام اتحادیوں سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل سسٹم کے لیے کہہ رہے ہیں جو کہ سینکڑوں میل دور راکٹوں کے ایک بیراج کو فائر کر سکتے ہیں، اس امید میں کہ تین ماہ سے جاری جنگ کا رخ موڑ دے گا۔

    اس نے ہتھیاروں کا کوئی مخصوص نظام فراہم کرنے سے انکار نہیں کیا، بلکہ اس کے بجائے یہ شرائط پیش کرتے دکھائی دیے کہ انہیں کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بائیڈن اپنے دفاع میں یوکرین کی مدد کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ ایسے ہتھیار فراہم کرنے کے مخالف رہے ہیں جنہیں یوکرین روس پر حملہ کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

    پنجاب سے ڈی سیٹ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کا سپریم کورٹ میں اپیل کا فیصلہ

    خواتین پر تشدد کروانے پر عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے:عمران خان

    عمران خان کی سی پی این ای کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد

    مریم نواز کی ایک اور آڈیو لیک

  • روس یوکرین جنگ چوتھا مہینہ شروع:جنگ تیز

    روس یوکرین جنگ چوتھا مہینہ شروع:جنگ تیز

    لندن :روس یوکرین جنگ چوتھا مہینہ شروع:جنگ تیز،اطلاعات کے مطابق روس کے یوکرین پر حملے کو اب تک تین ماہ کا عرصہ مکمل ہوچکا ہے، دوسری طرف امریکہ کی جانب سے روس پر مغربی پابندیاں عائد کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

    تازہ ترین رپورٹ کے مطابق يوکرين پر روسی حملے کو چوتھا ماہ لگ گيا، ڈونباس پر حملے تيز کردیے گئے، روس نے يوکرين کے مشرقی ڈونباس خطے ميں لوہانسک پر بمباری اور حملے تيز کرديے ہيں۔

    لوہانسک کے گورنر نے دعویٰ کيا ہے کہ روس نے پورے خطے پر قبضہ کرنے کے مقصد سے مزيد ہزاروں فوجی طلب کرليے ہيں اور شہريوں کے ليے انخلاء کا وقت اب گزر چکا ہے۔

    يوکرين پر روسی حملے کو شروع ہوئے اب چوتھا ماہ شروع ہوگيا ہے۔ يوکرينی صدر وولودمير زيلنسکی نے بتايا کہ تين ماہ ميں روس نے پندرہ سو ميزائل حملے اور تين ہزار سے زائد فضائی حملے کيے ہيں۔ اس جنگ کی وجہ سے اب تک چھ ملين سے زائد يوکرينی شہری بے گھر ہوچکے ہيں۔

    عالمی اداروں کا کہنا ہے کہ روس پر عائد کی جانے والی پابندیوں سے صرف روس ہی نہیں بلکہ دیگر ممالک بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔

    دوسری جانب یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے کہا ہے کہ روس کے ساتھ امن مذاکرات حقیقت پسند‘ لگنے لگے ہیں مگر نتیجے پر پہنچنے کے لیے اب بھی وقت چاہیے۔

  • روس اورجرمنی میں اختلافات شدت اختیارکرگئے:   40جرمن سفارت کاروں کوملک چھوڑنےکاحکم

    روس اورجرمنی میں اختلافات شدت اختیارکرگئے: 40جرمن سفارت کاروں کوملک چھوڑنےکاحکم

    روس نے جوابی اقدام کے طور پر جرمنی کے 40 سفارت کاروں کو ناپسندیدہ شخصیات قرار دیتے ہوئے ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ یہ تعداد روس میں تعینات جرمن سفارت کاروں کی ایک تہائی بنتی ہے۔

    اِس سے قبل روس یوکرین جنگ کے تناظر میں جرمنی نے روسی سفارت کاروں کو جرمنی سے نکل جانے کا کہا تھا جس پر روس کی وزارتِ خارجہ نے ملک میں متعین جرمن سفارت کار کو طلب کر کے جرمن حکومت کے اس فیصلے پر شدید احتجاج کیا تھا۔

    اب روس نے اپنے ردعمل میں 40 جرمن سفارت کاروں کو ناپسندیدہ شخصیات قرار دے کر ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے تاہم جرمنی کی وزیر خارجہ انالینا بیئربوک نے الزام عائد کیا ہے کہ جرمنی سے بے دخل کیا گیا روس کا سفارتی عملہ سفارت کاروں کی بجائے جاسوسوں پر مشتمل تھا۔

    جرمن وزیر خارجہ انالینا بیئربوک نے مزید کہا ہے کہ روس سے بے دخل کیے جانے والے سفارت ک‍اروں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ انہوں نے روسی حکومت کے اِس اقدام کو نا انصافی پر مبنی فیصلہ قرار دیا ہے۔روس نے کہا ہے کہ دنیا سنگین جوہری جنگ کے خطرے کو سنجیدگی سے دیکھے، یہ قابل غور ہے۔

    روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے سرکاری ٹی وی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ نیٹو یوکرین کو ہتھیاروں کی سپلائی کرکے دراصل روس کے ساتھ بالواسطہ جنگ میں مصروف ہے۔ اِن ہتھیاروں سے یقینی طور پر روسی افواج کو نشانہ بنایا جائے گا۔

    وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ روس جوہری تصادم کے بڑھا چڑھا کر پیش کیے جانے والے مصنوعی خطرات کے امکانات کو کم کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہمارا اصولی مؤقف ہے جس پر تمام کارروائیاں ہورہی ہیں۔

    وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کا کہنا تھا یوکرین کے ساتھ امن مذاکرات جاری رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ یہ جنگ روس اور یوکرین کے مابین ایک معاہدے پر دستخط ہونے کے ساتھ ہی ختم ہو جائے تاہم اس معاہدے کی شرائط اس وقت ملک میں فوجی صورتحال پر منحصر ہوں گی۔

    روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے انٹرویو کے بعد یوکرین کے وزیر خارجہ دیمترو کولیبا نے ٹویٹ کیا کہ روس دنیا کو ڈرانے کا آخری موقع بھی کھو چکا ہے اور اس کا صرف ایک ہی مطلب ہے کہ اُسے اپنی شکست کا اندازہ ہو گیا ہے۔

    یوکرین کے خلاف روس کی فوجی کارروائی کے تین ماہ گزر جانے کے باوجود اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسیاں مشرقی یوکرین کے محصور علاقوں میں شہریوں تک پہنچنے کی جدوجہد کر رہی ہیں۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس آج سے روس کا تین روزہ دورہ شروع کر رہے ہیں جس کے بعد وہ یوکرین کا دورہ بھی کریں گے۔ یوکرین بحران سے نمٹنے میں اقوام متحدہ کے محدود کردار پر سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس بھی تنقید کی زد میں ہیں۔

  • یوکرین جنگ:ایک ماہ میں روس کے15ہزارفوجی ہلاک ہوئے،نیٹو:حقائق درست نہیں:روس

    یوکرین جنگ:ایک ماہ میں روس کے15ہزارفوجی ہلاک ہوئے،نیٹو:حقائق درست نہیں:روس

    برسلز:یوکرین جنگ:ایک ماہ میں روس کے15ہزارفوجی ہلاک ہوئے،اطلاعات کے مطابق مغربی دفاعی اتحاد نیٹو نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین جنگ کے ایک ماہ کے دوران روس کے 15 ہزار تک فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

    ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ میں یوکرین میں روسی فوجیوں کی ہلاکتوں کا موازنہ افغانستان کے ساتھ کیا گیا ہے جہاں 10 سال میں تقریباً 15 ہزار فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

     

    نیٹو کے ایک سینیئر فوجی افسر نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرتے ہوئے بتایا کہ فوجیوں کی ہلاکتوں کا اندازہ یوکرین کے حکام کی جانب سے دی جانے والی اطلاعات پر مبنی ہے۔یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے دو ہفتے قبل کہا تھا کہ ان کے تقریباً 13 سو فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

    یوکرینی صدر روسی حملے کے بعد مسلسل متحرک ہیں اور دنیا کی توجہ حاصل کیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے دنیا بھر کے ممالک کے عوام سے اپیل کی کہ وہ آج یوکرین کی حمایت میں باہر نکلیں۔

    نیٹو کے فوجی افسر کا مزید کہنا تھا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ روسی فوجیں اب دارالحکومت کیف میں آگے نہیں بڑھنا نہیں چاہتیں جبکہ کیف کے مشرقی علاقوں میں یوکرین کی فوجوں نے روسی فوج کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ روسی فوجوں کی ترجیح ڈونباس کے علاقے لوہانسک، ڈونیسک ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ یوکرینی فوجوں کو ان کی طرف بڑھنے سے روکا جائے۔

     

    انہوں نے یہ بھی بتایا کہ امریکا کو بحیرہ ازوف میں روس کے بحری جہاز بھی متحرک دکھائی دیے ہیں جن کے ذریعے مختلف سامانِ رسد فوجوں کو پہنچایا جا رہا ہے۔

    نیٹو کے پراپیگنڈے کا جواب دیتے ہوئے روس کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی بات نہیں‌ ہلاکتیں ہوئی ہیں لیکن ہزاروں میں نہیں سیکڑوں میں ہوئی ہیں ، مغربی میڈیا جان بوجھ کرحقائق توڑمروڑ کر پیش کررہا ہے

    دوسری جانب مغربی ممالک روس پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایک اور قدم اٹھانے جا رہے ہیں۔ برسلز میں آج پہلی بار ایک سربراہی اجلاس منعقد ہو رہا ہے جس میں نیٹو، جی سیون اور یورپی یونین کے رکن ممالک شریک ہوں گے جبکہ امریکی صدد جو بائیڈن بھی اس میں شرکت کریں گے۔