Baaghi TV

Tag: حماس

  • سات اکتوبر،حماس کا ایک بار اسرائیل پر راکٹوں سے حملہ

    سات اکتوبر،حماس کا ایک بار اسرائیل پر راکٹوں سے حملہ

    حماس نے غزہ جنگ کو ایک سال مکمل ہونے پر ایک بار پھر اسرائیل پر راکٹوں سے حملہ کر دیا

    حماس کے القسام بریگیڈ نے سرائیلی شہر تل ابیب پر راکٹوں سے حملہ کیا،حماس کے حملوں میں اسرائیل کی دو خواتین زخمی ہوئی ہیں، اس دوران اسرائیلی میں سائرن بجے اور شہری محفوظ بینکروں میں چھپ گئے، اسرائیلی میڈیا کے مطابق خان یونس کے علاقے سے وسطی اسرائیل میں 5 راکٹ فائر کیے گئے،عرب میڈیا کے مطابق اگست کے بعدکسی بڑے اسرائیلی شہرپر فلسطینی گروپ کا یہ پہلاحملہ ہے،

    دوسری جانب حزب اللہ نے بھی شمالی اسرائیل میں اسرائیلی فوجی اورفوجی گاڑیوں کومیزائلوں سےنشانہ بنایا جب کہ حزب اللہ نے آج اسرائیل کے ساحلی شہر حیفا پر راکٹوں سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں 10 اسرائیلی زخمی ہوئے۔

    واضح رہے کہ غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کا ایک سال مکمل ہوچکا ہے اسرائیلی جنگ کی صورت غزہ میں گزرنے والے اس سال کا ہر لمحہ غزہ کے معصوم شہریوں کے لہو سے لا ل ہوتا رہا،شاید ہی اس ایک سا ل میں کوئی صبح یا کوئی شام ایسی گزری ہوجب معصوم فلسطینیوں کے خون سے اس سرزمین کو سیراب نہ کیا گیا ہو،غزہ جنگ نہتے اور زیر محاصرہ فلسطینیوں کے خلاف طویل ترین جنگ کا ریکارڈ بھی ہے اور اسرائیلی جنگی جرائم کی بدترین مثالوں کا حوالہ بھی،یہ جنگ نسل کشی کی جیتی جاگتی مثال بھی ہے ،غزہ کی جنگ کے حوالے سے اسرائیلی فوج کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس نے ایک سال کے اندر غزہ کی پٹی میں 40 ہزار سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا، راکٹ داغنے کے ایک ہزار مقامات تباہ کر دیے اور سرنگوں کے 4700 دہانے دریافت کر لیے۔سات اکتوبر 2023 سے اب تک 726 اسرائیلی فوج ہلاک ہو چکے ہیں، ان میں 380 فوجی سات اکتوبر کو شروع ہونے والی عسکری مہم میں اور 346 فوجی 27 اکتوبر 2023 کو غزہ کے اندر شروع ہونے والی لڑائی میں مارے گئے،ایک سال کے اندر 4576 فوجی زخمی بھی ہوئے ،

    اسرائیل کی وزارت خزانہ کی جانب سے جاری معلومات کے مطابق رواں سال اگست تک غزہ کی پٹی میں جاری جنگ کی براہ راست لاگت 100 ارب شیکل (26.3 ارب ڈالر) تک پہنچ چکی ہے۔ بینک آف اسرائیل کے اندازے کے مطابق 2025 کے اختتام تک اس لاگت کا حجم 250 ارب شیکل تک پہنچ جائے گا۔

    حماس کا حملہ اور اسرائیل کی کاروائی،ایک برس مکمل،یرغمالی رہا نہ ہو سکے

    اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

    تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

    ہر نئے ریلیف کے بعد اک نیا کیس،عمران خان کی رہائی ناممکن

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    اسرائیل کی عمران خان سے امیدیں ،گولڈسمتھ خاندان کااہم کردار

  • حماس کا حملہ اور اسرائیل کی کاروائی،ایک برس مکمل،یرغمالی رہا نہ ہو سکے

    حماس کا حملہ اور اسرائیل کی کاروائی،ایک برس مکمل،یرغمالی رہا نہ ہو سکے

    حماس کے اسرائیل پر تباہ کن حملے کو ایک سال بیت گیا، اسرائیل نے جوابی کاروائی کی، اسرائیل ایک سال گزرنے کے باوجود حماس سے اپنے یرغمالی رہا نہ کروا سکا، ایک برس کے عرصے میں اسرائیل نے حماس رہنماؤں کو نشانہ بنایا،

    حماس نے سات اکتوبر کو گزشتہ برس اسرائیل پر بڑا حملہ کیا تھا،اس حملے میں 12 سو سے زائد اسرائیلی ہلاک جبکہ 251 افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا،حماس نے سات اکتوبر کی صبح ساڑھے چھ بجے 5 ہزار سے زائد راکٹ فائر کئے تھے،راکٹ حملوں کے بعد حماس جنگجوؤں نے اسرائیل میں گھس کر اندھا دھند فائرنگ بھی کی تھی، اس روز اسرائیل میں ایک مذہبی تہوار منایاجا رہا تھا، حماس نے اس حملے کے دورا سرائیلیوں کو یرغمال بھی بنایا تھا،حماس نے اس حملے کو فلڈ آف الاقصیٰ کا نام دیا تھا

    حماس کے اسرائیل پر بڑے حملے کے بعد اسرائیلی حکومت ،فوج ،سیکورٹی ادارے تنقید کا نشانہ بنتے رہے کہ اسرائیل حماس کے حملے سے بے خبر کیوں تھا؟ اسرائیل نے 8 اکتوبر کو حماس کے حملے کا جواب دیتے ہوئے فضائی حملہ کیا،اسرائیل نے آپریشن سورڈز آف آئرن شروع کیا اور غزہ کا مکمل محاصرہ شروع کر دیا اور غزہ کی پٹی کے شمالی حصے میں رہنے والے تقریباً 15 لاکھ لوگوں کو اپنے گھر خالی کرنے کا حکم دیا،اسرائیل نے غزہ پر تباہ کن بمباری کی، اسرائیل حملوں کا آج بھی سلسلہ جاری ہے، غزہ میں ایک برس میں قیامت برپا رہی،غزہ کے لوگ پانی، خوراک اور دیگر بنیادی سہولیات کی شدید قلت کا شکار ہیں،غزہ کی تقریباً 70 فیصد عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہیں،ہسپتالوں، سکولوں کو بھی اسرائیل نے نشانہ بنایا، غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اس حملے میں اب تک 42 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے 16,765 بچے ہیں، تقریباً 98 ہزار لوگ زخمی ہوئے ہیں، 10 ہزار سے زائد افراد لاپتہ ہیں ،تل ابیب میں 1200 سے زائد اسرائیلی ہلاک اور 8,730 زخمی ہو چکے ہیں ، اسرائیلی حملے کے باعث غزہ کی پٹی میں اب تک 80 فیصد تجارتی تنصیبات تباہ ہو چکی ہیں۔ 87 فیصد سکولوں کی عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں، غزہ کی پٹی میں 144,000 سے 175,000 عمارتوں کو نقصان پہنچا ، 36 میں سے صرف 17 ہسپتال کام کر رہے ہیں، سڑکوں کا 68 فیصد نیٹ ورک تباہ ہو چکا ہے اور کھیتی کے لیے موزوں 68 فیصد زمین بنجر ہو چکی ہے،غزہ کی جی ڈی پی میں 81 فیصد کمی آئی ہے۔ 2.01 لاکھ لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں،تقریباً 20 لاکھ لوگ بے گھر ہیں، 85 ہزار فلسطینی مزدور بے روزگار ہو چکے ہیں۔

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایک برس کے دوران حزب اللہ ، حوثی اور ایرانی حکومت سے بھی پنگا لے لیا، حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ ،حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی شہادت ہوئی،جس کے بعد ایران کی جانب سے حملوں نے ایک نیا محاذ کھول دیا ہے ،جنگ کے ایک سال مکمل ہونے پر اسرائیل آج بھی مغربی ممالک کی جانب مدد کے لئے دیکھ رہا ہے اور اتنے فلسطینوں کی ہلاکت کے باوجود اسرائیل اپنے تمام یرغمالی نہیں رہا کروا پایا ہے،اسرائیل گزشتہ ایک سال کے دوران ہزاروں ٹن بم برسانے اور ہزاروں فوجیوں کے ساتھ زمینی کارروائی کرنے کے باوجود غزہ سے حماس کا وجود ختم نہیں کرسکا اور اسے آج بھی غزہ میں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،غزہ جنگ اب لبنان سے آگے شام، عراق تک پہنچ چکی ہے،ایرانی حملوں کے بعد ممکنہ اسرائیلی ردعمل کے بعد اس جنگ کے مزید پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

    غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد اقوام متحدہ اور عالمی قوتوں نے جنگ بندی کی کئی کوششیں کیں مگر سب رائیگاں رہیں اور اسرائیل حماس کے وجود کو ختم کیے بغیر مستقل جنگ بندی پر راضی نہیں ہوا،نومبر 2023 میں جنگ شروع ہونے کے ایک ماہ بعد 4 روزہ جنگ بندی پر دونوں فریقین نے عالمی ثالثوں کی موجودگی میں اتفاق کیا اور اس دوران دونوں اطراف سے قیدیوں کا تبادلہ بھی کیا گیا مگر بعد ازاں جنگ دوبارہ شروع ہوگئی،بعد ازاں امریکی صدر جوبائیڈن اور دیگر ممالک کی جانب سے جنگ بندی کی کئی کوششیں کی گئیں اور ایک موقع پر اسرائیل اور حماس دونوں امریکی صدر کی پیش کی گئی جنگ بندی تجاویز اور اس کے نکات پر آمادہ بھی ہوئے مگر اسرائیل کے پیچھے ہٹ جانے اور مستقل جنگ بندی نہ کرنے کے باعث معاہدہ نہ ہوسکا۔

    حماس،اسرائیل مذاکرات ختم، جنگ بندی نہ ہو سکی

     حماس نے نئے سربراہ کا اعلان کر دیا

    اسماعیل ہنیہ پر حملہ،ایران میں تحقیقات کے دوران گرفتاریاں

    حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ ایران میں قاتلانہ حملے میں شہید

    سراج الحق کی قطر میں حماس کے رہنماؤں اسماعیل ہنیہ اور خالد مشعل سے ملاقات

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    مولانا فضل الرحمان سے حماس رہنماء کی ملاقات

    مفتی تقی کی دوحہ میں حماس کے رہنماؤں سے ملاقات

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت تہران کے گیسٹ ہاؤس میں نصب ریموٹ کنٹرول بم سے ہوئی، نیو یارک ٹائمز کا دعویٰ

  • یحیٰ سنوار  کی شہادت کی  خبریں،حماس کا بیان جاری

    یحیٰ سنوار کی شہادت کی خبریں،حماس کا بیان جاری

    غزہ: فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے یحیٰی السنوار سے متعلق اسرائیلی پراپیگنڈے کو جھوٹا قرار دیا-

    باغی ٹی وی: اپنے ایک بیان میں حماس کے ترجمان ڈاکٹر خالد قدومی نے کہا کہ حماس کے سربراہ یحیٰی السنوار غزہ میں خیریت سے ہیں اور غزہ میں حماس کی سیاسی اور عسکری قیادت پوری طرح رابطے میں ہے یحیی السنوارغزہ میں اسرائیل کے خلاف مزاحمت کی قیادت کر رہے ہیں، یحیی السنوار سے رابطہ منقطع ہونے کا اسرائیلی پروپیگنڈا جھوٹا ہے،اسرائیل جھوٹی خبریں پھیلا کر فلسطینی عوام کے حوصلے توڑنا چاہتا ہے لیکن وہ ثابت قدم عظیم فلسطینی عوام کے حوصلوں کو کبھی شکست نہیں دے سکے گا۔

    واضح رہے کہ مقامی عبرانی میڈیا کان پبلک براڈکاسٹر اور ہاریٹز سائٹس سمیت متعدد غیر ملکی نیوز چینل نے غزہ میں ایک فضائی حملے میں یحییٰ السنوار کی شہادت کا دعویٰ کیا ،جس کے بعد اسرائیلی انٹیلی جنس نے غیر ملکی میڈیا کے دعوؤں اور یحییٰ السنوار کی اپنی تنظیم حماس سے رابطہ منقطع ہونے پر تحقیقات کا آغاز کردیا-

    اسرائیل نے لبنان کے موبائل فون نیٹ ورکس ہیک کر لیے

    حماس سربراہ یحییٰ سنوار کی شہادت کی خبریں وائرل، اسرائیلی انٹیلی جنس نے تحقیقات شروع کردیں

    قصور:چور گینگ کا سرغنہ گرفتار، 40 چوری شدہ موٹر سائیکلیں برآمد

  • حماس سربراہ  یحییٰ سنوار کی شہادت کی خبریں وائرل، اسرائیلی انٹیلی جنس نے تحقیقات شروع کردیں

    حماس سربراہ یحییٰ سنوار کی شہادت کی خبریں وائرل، اسرائیلی انٹیلی جنس نے تحقیقات شروع کردیں

    تل ابیب: حماس کے نئے سربراہ یحییٰ سنوار کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ غزہ میں ایک فضائی حملے میں شہید ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق یروشلم پوسٹ،مقامی عبرانی میڈیا کان پبلک براڈکاسٹر اور ہاریٹز سائٹس سمیت متعدد غیر ملکی نیوز چینل نے غزہ میں ایک فضائی حملے میں یحییٰ السنوار کی شہادت کا دعویٰ کیا ہے،جس کے بعد اسرائیلی انٹیلی جنس نے غیر ملکی میڈیا کے دعوؤں اور یحییٰ السنوار کی اپنی تنظیم حماس سے رابطہ منقطع ہونے پر تحقیقات کا آغاز کردیا،تاہم ابتدائی تحقیقات میں اب تک یحییٰ السنوار کے مارے جانے کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا۔

    دوسری جانب ایک اور خبر رساں ادارے شن بیٹ ایجنسی نے ذرائع سے دعویٰ کیا کہ حماس رہنما یحییٰ السنوار خیریت سے ہیں تاہم انھوں نے خود کو محفوظ بنانے کے لیے رابطے مختصر کردئیے ہیں کچھ رپورٹس میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حماس رہنما یحییٰ السنوار 7 اکتوبر کے حملے کے بعد سے غزہ کی زیر زمین سرنگوں میں چھپ جانے کے باعث اسرائیلی ریڈار سے دور ہو گئے تھے، بعد ازاں جنگ بندی کے لیے مذاکرات سے متعلق پیغامات جاری کرنے پر یحییٰ السنوار دوبارہ اسرائیلی ریڈار میں آگئے تھے تاہم اب متعدد روز سے وہ ریڈار سے باہر ہیں جس سے ان کے مارے جانے کا شک گہرا ہوتا جا رہا ہے۔

    اسرائیل اور لبنان کے درمیان لڑائی کا دائرہ مزید پھیل گیا، عراقی گروہ بھی شامل

    واضح رہے کہ سربراہ حماس اسماعیل ہنیہ کی جولائی میں تہران میں ایک حملے میں شہادت کے بعد یحییٰ السنوار کو نیا سربراہ بنایا گیا تھا۔

    جرمنی :فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کرنےوالوں کا کریک ڈاؤن،10 سالہ بچہ بھی زیر حراست

  • حماس کے حملے میں  اسرائیل کی خاتون فوجی سمیت 4 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی

    حماس کے حملے میں اسرائیل کی خاتون فوجی سمیت 4 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی

    تل ابیب: غزہ میں حماس کے ساتھ جھڑپ میں اسرائیلی فوج کے 4 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے،ہلاک ہونے والوں میں ایک خاتون فوجی بھی شامل ہے۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوجی کے ترجمان نے ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس واقعے میں ایک افسر اور 4 سپاہی شدید زخمی ہوگئے جن میں سے افسر اور دو سپاہیوں کی حالت نازک ہے، ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے،23 سالہ ڈپٹی کمانڈر ڈینیئل میمون ٹواف، 20 سالہ اسٹاف سارجنٹ اگم نعیم، 21 سالہ امیت بکری اور 21 سالہ دوتن شمعون ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔

    بیان کے مطابق حماس نے ایسا ظاہر کیا کہ وہ بھاری اسلحے کے ساتھ ایک عمارت میں چھپے ہوئے ہیں جن کی گرفتاری کے لیے جانے والی ٹیم جیسے ہی عمارت میں داخل ہوئی، حماس نے عمارت کو دھماکے سے اُڑا دیا ممکنہ طور پرحماس نے اس عمارت میں بارودی مواد چھپایا ہوا تھا اور جیسے ہی اسرائیلی فوجی اندر داخل ہوئے حماس نے دھماکا کردیا۔

    بلومبرگ نے تازہ ترین ارب پتیوں کی فہرست جاری کردی

    اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آج ہونے والی ہلاکتوں میں غزہ میں دو بدو لڑائی میں ماری جانے والی پہلی خاتون فوجی بھی شامل ہے جو طبی امداد کی فراہمی کے لیے ٹیم میں شامل تھیں۔

    واضح رہے کہ 7 اکتوبر سے اسرائیل نے غزہ میں وحشیانہ بمباری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جس میں 41 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور 92 ہزار کے قریب زخمی ہوچکے ہیں،اسرائیلی بمباری میں شہید اور زخمی ہونے والوں میں نصف تعداد خواتین اور بچوں کی ہے جب کہ نصف آبادی بے گھر ہوگئی اور پناہ گزین کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

    ملالہ یوسفزئی کی دستاویزی فلم نےبہترین ایشین فلم کا ایوارڈ جیت لیا

  • حماس   امریکی مذاکرات میں نئے شرائط کے بغیر فوری جنگ بندی کیلئے تیار

    حماس امریکی مذاکرات میں نئے شرائط کے بغیر فوری جنگ بندی کیلئے تیار

    فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس غزہ میں جنگ بندی کیلئے ہونے والے مذاکرات کے نتیجے وہ نئے شرائط کے بغیر فوری جنگ بندی کی رضا مندی کیلئے تیار ہے-

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق حماس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے تجویز کیے گئے پچھلے پرپوزل کے تحت کسی بھی نئے شرائط کے بغیر غزہ میں فوری جنگ بندی کیلئے تیار ہیں،حماس کی جانب سے مذاکراتی ٹیم کے سربراہ خلیل الحیا نے دوحا میں قطر کے وزیراعظم سمیت دیگر ثالثوں سے ملاقات میں غزہ میں جنگ بندی معاہدے سے متعلق پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا اور جنگ بندی کیلئے اپنی رضامندی سے آگاہ کردیا ہے،حماس رہنما اسامہ حمدان کا کہنا تھا کہ امریکا کواسرائیل پر اپنےمطالبات کو واپس لینے کیلئےدباؤ ڈالناچاہیے۔

    امریکا کا کہنا تھا کہ حماس کے نئے مطالبات کی وجہ کسی معاہدے تک پہنچنا مشکل نظرآتاہے، وائٹ ہاؤس کے ترجمان جان کربی کے مطابق ابھی تک یہ واضح نہیں کہ حماس مذاکرات کی میز پر آئےگایا نہیں،اسرائیلی حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت حماس کے ساتھ مذاکرات معطل ہیں، رواں ہفتے پیشرفت کی امید کم ہے۔

    یاد رہے کہ غزہ میں گزشتہ 11 ماہ سے جاری حماس اسرائیل لڑائی میں جنگ بندی کیلئے ہونے والے مذاکرات کسی ڈیل پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے تھے امریکی ڈیل کے تحت حماس کی جانب سے فوری جنگ بندی کیلئے پہلے ہی رضامندی ظاہر کردی گئی تھی تاہم مذاکرات کے دوران آخری لمحے میں اسرائیلی وفد نے اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے مصر سے ملحقہ غزہ کے بارڈر فلاڈیلفی کوریڈور کا کنٹرول اپنے پاس رکھنے کی شرط پیش کردی تھی، جسے قبول کرنے سے حماس نے انکار کردیا تھا۔

    امریکی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ اور سی آئی اے کے ڈائریکٹڑ ولیم برنز کا کہنا تھا کہ اگلے ایک چند روز میں جنگ بندی کی مذاکرات کیلئے تفصیلی تجاویز تیار کر لی جائیں گی تاکہ کسی معاہدے تک پہنچا جا سکے،امریکا کی جانب سے تجویز کیے گئے پچھلے پرپوزل میں اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے میں تین مراحل میں جنگ بندی جیسے شرائط پر اتفاق ہو چکا تھا۔

  • اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے سربراہ حماس حملے کے 10 ماہ بعد مستعفی

    اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے سربراہ حماس حملے کے 10 ماہ بعد مستعفی

    حماس کے گزشتہ برس 7 اکتوبر کے حملوں کو روکنے میں ناکامی پر 10 ماہ بعد اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے چیف مستعفی ہو گئے ہیں

    اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے مستعفی میجر جنرل اہرن ہالیوا نے سات اکتوبر کے واقعات کی ریاستی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے،اسرائیل کی خفیہ ایجنسی کے نئے سربراہ میجر جنرل شیلومی ہوں گے جن کا کہنا ہے کہ یرغمالیوں کی رہائی کو ترجیح ہو گی،اسرائیلی فوج میں یہ تبدیلیاں ایسے وقت آئی ہیں جب اسرائیل پر ایران کے حملے کا خطرہ بڑھ رہا ہے اور مشرق وسطیٰ میں صورتحال سے نمٹنے کے لیے امریکی طیارہ بردار یو ایس ایس ابراہام لنکن مشرق وسطیٰ پہنچ گیا ہے،امریکی طیارہ بردار یو ایس ایس تھیوڈور روز ویلٹ پہلے ہی مشرق وسطیٰ میں موجود ہے جبکہ جنوبی لبنان اور غزہ پر اسرائیلی حملے بھی جاری ہیں۔

    گزشتہ 10 ماہ سے حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد سے اسرائیل کے غزہ پر حملے جاری ہیں حماس کا اسرائیل پر سات اکتوبر کا حملہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی کی ناکامی تھی اب اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے چیف نے استعفیٰ دیا اور کہا کہ 7 اکتوبر کو حملے سے سرحد کا تحفظ نہیں کر سکے،حملے کو نہ روک سکنا ہماری ناکامی تھا، اسرائیل کی تاریخ میں سب سے بڑے حملے کا پتہ لگانے اور اسے روکنے میں ہم ناکام رہے،

    دوسری طرف اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے چیف کے استعفیٰ کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے صحیح فیصلہ قرار دیا ، 38 برس سے بھی زیادہ وقت تک فوج سے جڑے رہنے والے اسرائیل کی ملٹری انٹلیجنس کے سربراہ اہرون ہالیوا حماس کے حملے کا پتہ لگانے میں ناکام رہنے کے سبب عہدہ چھوڑنے والے پہلے سینئر اسرائیلی افسر بن گئے ہیں

    گزشتہ برس 7 اکتوبر کو حماس نے اسرائیل پر زوردار حملے کرکے پورے علاقے میں تباہی پھیلا دی تھی، اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق اس حملے میں تقریباً 1200 اسرائیلی اور غیر ملکی مارے گئے تھے،حماس نے 250 لوگوں کو یرغمال بنا لیا تھا اور ساتھ لے گئے تھے،

    بنوں واقعہ،تحقیقات کر کے ذمہ داران کو سز ا دی جائیگی،بیرسٹر سیف

    بنوں حملہ،ایک اور دہشت گرد کی شناخت،افغان شہری نکلا

    دہشت گرد عثمان اللہ عرف کامران کا تعلق افغانستان کے صوبہ لوگر سے تھا۔

     بنوں میں دہشت گردی کی گھناؤنی کارروائی حافظ گل بہادر گروپ نے کی ہے،

    بونیر،سیکورٹی فورسز کا آپریشن،دہشتگردوں کا سرغنہ جہنم واصل،دو جوان شہید

    ڈی آئی خان، سیکورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد جہنم واصل

    ڈی آئی خان ،دھماکے میں دو جوان شہید،پنجگور،ایک دہشتگرد جہنم واصل

    شمالی وزیرستان، دہشتگردوں کیخلاف آپریشن،کمانڈر سمیت 8 جہنم واصل

    شمالی وزیرستان ، چوکی پر حملہ، لیفٹیننٹ کرنل اور کیپٹن سمیت 7 جوان شہید

    بنوں،امن مارچ کو انتشاری ٹولے نے پرتشدد بنایا،عوام شرپسندوں سے رہیں ہوشیار

  • تل ابیب میں ہونے والا حملہ ہم نے کیا،القسام بریگیڈ

    تل ابیب میں ہونے والا حملہ ہم نے کیا،القسام بریگیڈ

    حماس کے مسلح ونگ القسام بریگیڈ نے گزشتہ روز اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب میں ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے

    القسام بریگیڈ کا کہنا ہے کہ تل ابیب میں آپریشن اسلامی جہاد کے مسلح ونگ القدس بریگیڈ کے ساتھ مل کر کیا ہے، حملے میں ایک شخص ہلاک ایک زخمی ہوا تھا، اسرائیلی حکام نے تل ابیب پر حملے کو دہشت گردانہ حملہ کہا ہے،اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ تل ابیب میں ہونے والے دھماکے میں مارا جانے والا شخص بم بار ہے جس نے بیگ میں بم رکھا ہوا تھا ، تل ابیب میں بم دھماکے کے واقعے کے پیچھے تمام امکانات کی چھان بین کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن اسرائیل غزہ جنگ بندی کے لئے متحرک ہو چکے ہیں، انہوں نے حالیہ غزہ جنگ بندی مذاکرات کو فیصلہ کن لمحہ قرار دیا ہے،اسرائیل کے دورے پر آئے امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے امریکا کی حالیہ سفارتی کوششیں ممکنہ طور پر آخری موقع ہیں جن کے ذریعے مغویوں کو رہا کرایا جا سکتا ہے،امریکا یقینی بنانے کی کوشش کر رہا ہے کہ علاقائی کشیدگی میں اضافہ نہ ہو،بلنکن آج اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو سمیت سینئر اسرائیلی رہنماؤں سے ملاقات کریں گے،امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن تل ابیب سے مصر کا دورہ بھی کریں گے.

  • غزہ،اسرائیلی حملے میں سکول میں ٹھہرے بچوں ،خواتین سمیت 100 شہید

    غزہ،اسرائیلی حملے میں سکول میں ٹھہرے بچوں ،خواتین سمیت 100 شہید

    غزہ شہر کے علاقے الدرج میں التبین اسکول پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں 100 سے زائد فلسطینی شہید ہو گئے ہیں، صہیونی فورسز نے حملہ صبح فجر کے وقت کیا، جب لوگ نماز پڑھ رہے تھے، بمباری کے باعث اسکول کے مختلف حصوں میں آگ لگ گئی، اسکول میں بے گھر افراد نے پناہ لے رکھی تھی

    اسرائیل اور حماس کے مابین گزشتہ برس سات اکتوبر کو شروع ہونے والی جنگ رکنے کا نام نہیں لے رہی،اسرائیل مسلسل غزہ پر حملے کر رہا ہے، اسرائیل نے اب ایک تازہ حملہ کیا ہے جس میں 100 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں،درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں، اسرائیل نے حملہ سکول میں کیا جس میں بے گھر افراد ٹھہرے ہوئے تھے،تین اسرائیلی جہازوں نے فجر کے وقت حملہ کیا جس کے بعد سکول میں آگ لگ گئی، موجود لوگوں میں افرا تفری مچ گئی، حملے میں بچوں، خواتین سمیت 100 افراد جان کی بازی ہار گئے،

    غزہ پر فضائی حملے کے بعد اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس کے جنگجوؤں کو مارنے کے لیے ایئر اسٹرائک کی گئی ہے، عام شہریوں کو نقصانے پہنچانے کا ارادہ نہیں تھا بلکہ شہریوں کو کم سے کم نقصان ہو سکے اس کے لیے قدم اٹھائے گئے تھے.

    سعودی عرب نے غزہ میں سکول پر حملے کی مذمت کی ہے، سعودی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم غزہ شہر کے مشرق میں واقع الدراج ضلع میں اسرائیلی قابض افواج کی جانب سے التابین اسکول، جہاں بے گھر افراد نے پناہ لی تھی، کو نشانہ بنانے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔اردن نے بھی غزہ میں ایک اسکول پر اسرائیل کی بمباری کی شدید مذمت کی، جس میں 100 سے زائد شہری جاں بحق ہوگئےتھے۔

  • یحییٰ السنوار حماس کے نئے سربراہ مقرر

    یحییٰ السنوار حماس کے نئے سربراہ مقرر

    حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بعد حماس نے نئے سربراہ کا اعلان کر دیا ہے

    حماس کی جانب سے نئے سربراہ کے حوالہ سے اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یحییٰ السنوار حماس کے سیاسی دفتر کے نئے سربراہ ہوں‌گے،ہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بعد اب یحییٰ السنوار حماس کے سیاسی دفتر کی سربراہی کریں گے،یحییٰ السنوار اس سے قبل غزہ میں حماس کی سربراہی کررہے تھے۔

    یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر ہے، ایران اور اس کے حامیوں نے ہنیہ کے قتل کا بدلہ لینے کی دھمکی دی ہے، جس کا الزام وہ اسرائیل پر لگاتے ہیں۔ اسرائیل نے کوئی جواب نہیں دیا۔یحییٰ سنوار اس وقت اسرائیل کو مطلوب ترین فہرست میں پہلے نمبر پر ہے۔ اسرائیل کی سکیورٹی فورسز کا خیال ہے کہ اس نے 7 اکتوبر کے حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔یحییٰ سنوار کو اکتوبر کے حملوں کے بعد سے عوام میں نہیں دیکھا گیا اور خیال کیا جاتا ہے کہ وہ غزہ میں "10 منزلہ زیر زمین” چھپا ہوا ہے،

    واضح رہے کہ اسماعیل ہنیہ 31 جولائی کو تہران میں ہونے والے اسرائیلی حملے میں شہید ہوگئے تھے،اسماعیل ہنیہ نومنتخب ایرانی صدر کی تقریب حلف برداری کے لیے تہران میں موجود تھے جب ان پر رات کو حملہ کیا گیا، اس حملے میں اسماعیل ہنیہ اور انکا محافظ شہید ہو گیا تھا، اسماعیل ہنیہ کی تہران میں نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد دوحہ میں نماز جنازہ ادا کی گئی اور دوحہ میں ہی تدفین کی گئی

    نئے حماس سربراہ یحییٰ السنوار کون ہیں؟
    یحییٰ السنوار 19 اکتوبر 1962 کو خان یونس کے ایک کیمپ میں پیدا ہوے، انہوں نے ابتدائی تعلیم خان یونس کے ہی اسکول میں حاصل کی، اس کے بعد غزہ کی اسلامک یونیورسٹی سے عربی میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی، یحییٰ السنوارنے 5 برس تک یونیورسٹی کی اسٹوڈنٹ کونسل میں خدمات انجام دیں اور پھر کونسل کے چیئرمین اور وائس چیئرمین بھی رہے،یحیٰ النسوار طویل عرصہ تک تقریبا 22 برس گرفتار بھی رہے،اسرائیل نے سنوار کو 1988 میں اس نیٹ ورک کے پاس ہتھیار رکھنے کا انکشاف کرنے کے بعد کئی ہفتوں کے لیے جیل بھیج دیا تھا،اگلے سال، اسے اسرائیل کے ساتھ کام کرنے کے الزام میں فلسطینیوں کے قتل کا مجرم قرار دیا گیا اور اسے چار عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ 2011 میں شالت ،اسرائیلی فوجی کے رہائی، ڈیل کے بدلے اسرائیل کی جیل سے انہی رہائی ملی تو اسکے بعد غزہ کی ایک مسجد میں انکا نکاح ہوا، اسکے بعد یحییٰ السنوار کا شما رحماس کے سرکردہ رہنماؤں میں ہونے لگا،یحیٰ السنوار کو حماس کے سیاسی ونگ اور عزالدین القسام بریگیڈ کی لیڈرشپ کے درمیان روابط قائم رکھنے کا ٹاسک دیا گیا اور پھر 2014 میں اسرائیلی جارحیت کے اختتام پر انہوں نے حماس کے فیلڈ کمانڈرز کی کاکردگی کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے تحقیقات کروائیں جس کے نتیجے میں حماس کے کئی بڑے رہنماؤں کو عہدوں سے بھی ہٹایا گیا،ستمبر 2015 میں امریکا نے القسام بریگیڈ کے کمانڈر انچیف محمد الضیف اور سیاسی ونگ کے رہنما راہی مشتہا سمیت یحیٰ السنوارکا نام بھی بین الاقوامی دہشتگردوں کی بلیک لسٹ میں شامل کر دیا تھا.

    13 فروری 2017 کو یحیٰ النسوار اسماعیل ہنیہ کی جگہ غزہ پٹی میں حماس کے سیاسی ونگ کے سربراہ منتخب ہوئے تھے اور انہوں نے خلیل الحیا کو اپنا نائب مقرر کیا تھا،بعد ازاں یحیٰ النسوار کو پارٹی انتخابات کے ذریعے غزہ پٹی میں حماس کا سربراہ مقرر کر دیا گیا اور اسماعیل ہنیہ کو خالد مشعال کا جانشین بنا دیا گیا تھا،

    مئی 2018 میں یحیٰ النسوار نے الجزیرہ پر آکر غیر متوقع اعلان کر دیا کہ حماس پرامن عوامی مزاحمت کی پالیسی اپنائے گی جس کا مقصد ممکنہ طور پر حماس پر بہت سے مملک کی جانب سے لگا دہشتگرد تنظیم کا ٹیگ اتارنا اور اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کیلئے کردار ادا کرنا تھا، اس اعلان سے ایک ہفتہ قبل یحیٰ النسوار نے غزہ کے شہریوں سے کہا تھا کہ اسرائیلی زنجیریں توڑ دیں، ہم دب کر مرنے سے شہید ہونے کو ترجیح دیں گے، ہم مرنے کے لیے تیار ہیں اور ہزاروں لوگ ہمارے ساتھ مریں گے،مارچ 2021 میں یحیٰ النسوار دوسری مدت کے لیے غزہ میں حماس کے سربراہ منتخب ہوئے اور انہیں غزہ کا ڈی فیکٹو حکمران تصور کیا جانے لگا اور انہیں حماس میں اسماعیل ہنیہ کے بعد دوسرا طاقتور ترین شخص تصور کیا جاتا تھا،

    مئی 2021 میں اسرائیلی فورسز کی جانب سے خان یونس میں یحیٰ السنوارکے گھر پر بمباری کی گئی تاہم اس حملے میں کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی اور پھر حملے کے اگلے ہفتے یحیٰ النسوارکئی بار عوام میں دیکھے گئے اور پھر 27 مئی 2021 کو انہوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینتز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے قدموں پر چل کر اپنے گھر جاؤں گا، تمھارے پاس مجھے قتل کرنے کے لیے 60 منٹ ہیں اور پھر وہ اگلے گھنٹے غزہ کی گلیوں میں گھومتے رہے اور سلیفیاں لیتے رہے،

    غزہ میں حماس کے رہنما یحییٰ سنوار کو 7 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل پر حملے اور قتل عام کے پیچھے ماسٹر مائنڈ سمجھا جاتا ہے، جس میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک اور 251 کو یرغمال بنا لیا گیا تھا،حماس کے اس حملے کے بعد غزہ میں جاری جنگ شروع ہوئی،فلسطین میں ہزاروں شہادتوں کے باوجود حماس اسرائیل کی تباہی کے لیے پرعزم ہے۔حملے کی منصوبہ بندی کے بعد سے یحییٰ سنوار غزہ میں روپوش ہے۔ اسرائیل ڈیفنس فورسز نے فروری میں فوٹیج جاری کی تھی جس میں مبینہ طور پر سنوار کو 10 اکتوبر کو غزہ کی ایک سرنگ میں اس کے اہل خانہ کے ساتھ دکھایا گیا تھا۔ یکم اگست کو، آئی ڈی ایف نے حماس کے عسکری ونگ کے کمانڈر محمد الضیف کی گزشتہ ماہ جنوبی غزہ میں ایک فضائی حملے میں شہادت کی تصدیق کی تھی تا ہم حماس نے اس کی تردید کی ہے،غزہ میں جاری حالیہ جنگ کے ابتدائی تین ہفتوں کے بعد یحیٰ السنوارنے اسرائیل کو پیشکش کی تھی کہ یرغمال بنائے گئے تمام اسرائیلیوں کے بدلے قید بنائے گئے تمام فلسطینیوں کو رہا کر دیا جائےلیکن اسرائیلی وزیراعظم نے حماس کی پیشکش قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے زمینی کارروائی کا فیصلہ کیا جس کا نقصان انہیں مزید اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت اور فوجی گاڑیوں کی تباہی کی صورت میں برداشت کرنا پڑا

    اسماعیل ہنیہ پر حملہ،ایران میں تحقیقات کے دوران گرفتاریاں

    واضح رہے کہ اسماعیل ہنیہ، جو ایران میں ایک حملے میں شہید ہوئے، کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں دفن کیا گیا۔ ان کی نمازِ جنازہ میں امیر قطر شیخ تمیم بن حمد، حماس کے سابق رہنما خالد مشعل، اسماعیل ہنیہ کے بیٹے، اور فلسطینی تنظیموں کے اعلیٰ رہنماؤں نے شرکت کی۔ پاکستان سے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے بھی نماز جنازہ میں شرکت کی، اسماعیل ہنیہ کو دوحہ کے لوسیل قبرستان میں علامہ یوسف القرضاوی کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا۔ ان کی وفات نے عالمی سطح پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، اور ان کے جنازے میں شرکت کرنے والے لوگوں کی تعداد نے ان کے عالمی مقام اور فلسطین کی جدوجہد میں ان کے کردار کو اجاگر کیا۔

    حافظ نعیم الرحمان کی اسماعیل ہنیہ کے بیٹوں سے ملاقات، تعزیت کا اظہار

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت،عمران خان کی پراسرار خاموشی،56 گھنٹے بعد دیا ردعمل

    حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ تہران میں ادا

    حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ ایران میں قاتلانہ حملے میں شہید

    سراج الحق کی قطر میں حماس کے رہنماؤں اسماعیل ہنیہ اور خالد مشعل سے ملاقات

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    مولانا فضل الرحمان سے حماس رہنماء کی ملاقات

    مفتی تقی کی دوحہ میں حماس کے رہنماؤں سے ملاقات

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت تہران کے گیسٹ ہاؤس میں نصب ریموٹ کنٹرول بم سے ہوئی، نیو یارک ٹائمز کا دعویٰ