Baaghi TV

Tag: حماس

  • عالمی عدالت انصاف ، اسرائیلی وزیراعظم،وزیر دفاع،حماس رہنماؤں کے وارنٹ کی استدعا

    عالمی عدالت انصاف ، اسرائیلی وزیراعظم،وزیر دفاع،حماس رہنماؤں کے وارنٹ کی استدعا

    عالمی عدالت انصاف ، پراسیکیوٹر نے اسرائیلی وزیراعظم کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی درخواست کردی

    انٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں پراسیکیوشن نے اسرائیلی وزیراعظم، وزیرخارجہ اور حماس کے رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی درخواست کردی ہے،عالمی عدالت کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان نے غیر ملکی خبر ایجنسی کو انٹرویو میں بتایا کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں گرفتاری کے وارنٹ کی درخواست دی ہے،عالمی عدالت انصاف میں اسرائیل کے وزیر دفاع یوو گیلنٹ ،حماس کے سرکردہ رہنماؤں القاسم بریگیڈ کے رہنما محمد ضیف اور حماس کے اسماعیل ہنیہ،یحییٰ سنوار کے وارنٹ طلبی کی درخواست دائر کی ہے

    https://x.com/intlcrimcourt/status/1792511246769570084?s=46&t=UJzUvndbKkvbo4lbzD2Z9w&mx=2

    آئی سی سی کے ججوں کا ایک پینل اب پراسیکیوٹر کریم خان کی گرفتاری کے وارنٹ کی درخواست پر غور کرے گا۔کریم خان نے بتایا کہ یحیٰ سنوار، اسماعیل ہنیہ اور المصری کے خلاف الزامات میں "قتل، یرغمال بنانا، عصمت دری اور حراست میں جنسی زیادتی شامل ہیں، نیتن یاہو اور گیلنٹ کے خلاف الزامات میں جنگ کے طریقہ کار کے طور پر بھوکا مارنا، بشمول انسانی امداد کی فراہمی سے انکار، جان بوجھ کر تنازعات میں شہریوں کو نشانہ بنانا شامل ہیں۔

    پراسیکیوٹر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے، اگر اسرائیل آئی سی سی سے متفق نہیں ہے تو وہ ججوں کے سامنے اسے چیلنج کرنے میں آزاد ہے

    عالمی عدالت کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان کا کہنا ہے کہ آج میں ریاست فلسطین کی صورتحال میں بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پری ٹرائل چیمبر I کے سامنے وارنٹ گرفتاری کے لیے درخواستیں دائر کی ہیں۔یحیٰ سنوار،محمد دیاب ابراہیم المصری،اسماعیل ہنیہ کے بھی وارنٹ کی درخواست کی ہے،ان پر بھی جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی مجرمانہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے،انسانیت کے خلاف جرم کے طور پر قتل، یرغمال بنانا ایک جنگی جرم ؛عصمت دری اور جنسی تشدد کی دیگر کارروائیوں کو انسانیت کے خلاف جرائم کے طور پر؛تشدد کو انسانیت کے خلاف جرم کے طور پر،

    عالمی عدالت کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان کا کہنا ہے کہ ان درخواستوں میں جنگی جرائم کا ارتکاب اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ایک بین الاقوامی مسلح تصادم اور اسرائیل اور حماس کے درمیان متوازی طور پر چلنے والے ایک غیر بین الاقوامی مسلح تصادم کے تناظر میں کیا گیا تھا۔ ہم عرض کرتے ہیں کہ انسانیت کے خلاف جن جرائم کا الزام عائد کیا گیا ہے وہ تنظیمی پالیسیوں کے مطابق حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے ذریعہ اسرائیل کی شہری آبادی کے خلاف وسیع پیمانے پر اور منظم حملے کا حصہ تھے۔ ان میں سے کچھ جرائم آج تک جاری ہیں۔یحیٰ سنوار، ضٰف اور اسماعیل حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے حملوں میں،یہ سینکڑوں اسرائیلی شہریوں کی ہلاکت کے ذمہ دار ہیں۔ اکتوبر 2023 میں کم از کم 245 یرغمال بنائے۔ ہماری تحقیقات کے ایک حصے کے طور پر، میرے دفتر نے متاثرین اور بچ جانے والوں کا انٹرویو کیا ہے، بشمول سابق یرغمالیوں اور حملے کے چھ بڑے مقامات کے عینی شاہدین کا، ثبوتوں کے لئے آڈیو ، ویڈیوز، اراکین کے بیانات موجود ہیں،ان افراد نے 7 اکتوبر 2023 کو جرائم کی منصوبہ بندی کی اور اکسایا ،یہ جرائم ان کے اعمال کے بغیر سرزد نہیں ہو سکتے تھے۔ ان پر روم سٹیٹیوٹ کے آرٹیکل 25 اور 28 کے مطابق شریک مرتکب اور اعلیٰ افسر کے طور پر دونوں الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اسرائیل سے یرغمال بنائے گئے افراد کو غیر انسانی حالات میں رکھا گیا ہے، اور یہ کہ بعض کو قید میں رکھنے کے دوران عصمت دری سمیت جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ہم میڈیکل ریکارڈز، عصری ویڈیو اور دستاویزی ثبوتوں، اور متاثرین اور بچ جانے والوں کے انٹرویوز کی بنیاد پر اس نتیجے پر پہنچے ہیں۔ میرا دفتر 7 اکتوبر کو ہونے والے جنسی تشدد کی رپورٹوں کی تحقیقات بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔میں زندہ بچ جانے والوں، اور 7 اکتوبر کے حملوں کے متاثرین کے خاندانوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، جنہوں نے آگے آنے کی جرات کی۔ ہم ان حملوں کے ایک حصے کے طور پر کیے گئے تمام جرائم کی تحقیقات کو مزید گہرا کرنے پر مرکوز ہیں اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے تمام شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے۔میں ایک بار پھر سے تمام یرغمالیوں کی فوری رہائی کے اپنے مطالبے کا اعادہ کرتا ہوں۔

    اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو، یوو گیلنٹ
    عالمی عدالت کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان کا کہنا ہے کہ میرے دفتر کے ذریعے جمع کیے گئے اور جانچے گئے شواہد کی بنیاد پر، میرے پاس یہ ماننے کے لیے معقول بنیادیں ہیں کہ اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور اسرائیل کے وزیر دفاع یوو گیلنٹ، درج ذیل جنگی جرائم اور جرائم کے لیے مجرمانہ ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ جنگی جرم کے طور پر جنگ کے طریقہ کار کے طور پر شہریوں کا بھوکا رہنا؛ جان بوجھ کر شدید تکلیف پہنچانا، یا جسم یا صحت کو شدید چوٹ پہنچانا،ظالمانہ سلوک؛ جان بوجھ کر قتل، جنگی جرم کے طور پر جان بوجھ کر شہری آبادی کے خلاف حملوں کی ہدایت کرنا؛انسانیت کے خلاف جرم کے طور پر ظلم و ستم؛انسانیت کے خلاف جرائم کے طور پر دیگر غیر انسانی کارروائیاں۔

    میرا دفتر عرض کرتا ہے کہ ان درخواستوں میں جنگی جرائم کا ارتکاب اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ایک بین الاقوامی مسلح تصادم کے تناظر میں کیا گیا تھا، اور اسرائیل اور حماس کے درمیان ایک غیر بین الاقوامی مسلح تصادم (دوسرے فلسطینی مسلح گروپوں کے ساتھ) متوازی چل رہا تھا۔ ہم عرض کرتے ہیں کہ انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب ریاستی پالیسی کے مطابق فلسطینی شہری آبادی کے خلاف وسیع اور منظم حملے کے حصے کے طور پر کیا گیا تھا۔ یہ جرائم، ہماری تشخیص میں، آج تک جاری ہیں۔

    عالمی عدالت کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان کا کہنا ہے کہ ہم نے جو شواہد اکٹھے کیے ہیں، بشمول زندہ بچ جانے والوں اور عینی شاہدین کے انٹرویوز، تصدیق شدہ ویڈیو، تصویر اور آڈیو مواد، سیٹلائٹ کی تصاویر اور مبینہ مجرم گروپ کے بیانات، ظاہر کرتے ہیں کہ اسرائیل نے جان بوجھ کر اور منظم طریقے سے ملک کے تمام حصوں میں شہری آبادی غزہ کو اشیاء سے محروم رکھا ،یہ غزہ پر مکمل محاصر ہ تھا، 8 اکتوبر 2023 سے تین سرحدی کراسنگ پوائنٹس، رفح، کریم شالوم اور ایریز کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا اور پھر ضروری سامان کی منتقلی پر پابندی لگا دی گئی، بشمول خوراک اور ادویات۔ اسرائیل سے غزہ تک سرحد پار پانی کی پائپ لائنوں کو کاٹا گیا، غزہ کے شہریوں‌کو صاف پانی سے محروم کیا اور کم از کم 8 اکتوبر 2023 سے آج تک بجلی کی سپلائی کو منقطع کرنا اور اس میں رکاوٹ ڈالنا بھی شامل ہے۔ یہ عام شہریوں پر دوسرے حملوں کے ساتھ ہوا ، انسانی ہمدردی کے اداروں کی طرف سے امداد کی ترسیل میں رکاوٹ ڈالی گئی،اور امدادی کارکنوں پر حملے اور ان کا قتل کیا گیا جس کی وجہ سے بہت سے امداد ی ایجنسیوں کو غزہ میں اپنی کارروائیاں بند کرنے یا محدود کرنے پر مجبور کیا گیا، یہ کارروائیاں بھوک کو جنگ کے طریقہ کار کے طور پر استعمال کرنے اور غزہ کی شہری آبادی کے خلاف تشدد کی دیگر کارروائیوں کے ایک مشترکہ منصوبے کے حصے کے طور پر کی گئی تھیں (i) حماس کو ختم کرنے کے لیے؛ (ii) ان یرغمالیوں کی واپسی کو محفوظ بنانے جنہیں حماس نے اغوا کیا ہے، اور (iii) غزہ کی شہری آبادی کو اجتماعی طور پر سزا دینا، جنہیں وہ اسرائیل کے لیے خطرہ سمجھتے تھے۔

    اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے دو ماہ سے زیادہ پہلے خبردار کیا تھا، "غزہ میں 1.1 ملین لوگ تباہ کن بھوک کا سامنا کر رہے ہیں – ایک "مکمل طور پر انسان ساختہ تباہی” کے نتیجے میں – کہیں بھی، کسی بھی وقت ریکارڈ کیے گئے لوگوں کی سب سے زیادہ تعداد۔ آج، میرا دفتر ان سب سے زیادہ ذمہ داروں میں سے دو، NETANYAHU اور GALLANT پر فرد جرم عائد کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اسرائیل، تمام ریاستوں کی طرح، اپنی آبادی کے دفاع کے لیے کارروائی کرنے کا حق رکھتا ہے۔ تاہم یہ حق اسرائیل یا کسی بھی ریاست کو بین الاقوامی انسانی قانون کی تعمیل کرنے کی اپنی ذمہ داری سے بری نہیں کرتا۔ ان کے کسی بھی فوجی اہداف کے باوجود، اسرائیل نے غزہ میں ان کو حاصل کرنے کے لیے جن ذرائع کا انتخاب کیا ہے – یعنی جان بوجھ کر موت، بھوک، اور شہری آبادی کے جسم یا صحت کو شدید چوٹ پہنچانا – مجرمانہ ہیں۔

  • حماس کے  ایک ہزار سے زائد ممبران ترکیہ کے اسپتالوں میں زیر علاج ہیں،ترک صدر

    حماس کے ایک ہزار سے زائد ممبران ترکیہ کے اسپتالوں میں زیر علاج ہیں،ترک صدر

    استنبول: ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہےکہ فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے ایک ہزار سے زائد ممبران ترکیہ کے اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

    باغی ٹی وی : یونان کے وزیراعظم کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے طیب اردوان نے کہاکہ جب آپ حماس کو دہشتگرد تنظیم کہتے ہیں تو ہمیں دکھ ہوتا ہے، ہم حماس کو دہشتگرد تنظیم نہیں سمجھتے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق پریس کانفرنس کے بعد ترکیہ کے ایک حکومتی نمائندے نے نام نا ظاہر کرنے کی شرط پر صدر کے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ صدر طیب اردوان کی بات کا مطلب یہ تھا کہ غزہ سے تعلق رکھنے والے ایک ہزار فلسطینی شہریوں کا ترکیہ میں علاج کیا جارہا ہے، جن لوگوں کے علاج کے متعلق ترکیہ کے صدر نے بات کی وہ صرف حماس کے فائٹرز کے بارے میں نہیں تھی بلکہ وہ غزہ کے عام شہریوں سے متعلق تھی۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج کے غزہ میں حملے تیز کرنے کے ردعمل میں فلسطینی مزاحمتی گروپوں کی صیہونی فوج سے شدید جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہیں۔

    ہمیں اپنے دفاع کے لیے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں ہے،اسرائیل کاا مر یکا …

    فلسطینی مزاحمتی تنظیموں سے جھڑپوں میں 50 اسرائیلی فوجی زخمی ہوگئے جبکہ ڈرون حملے سے اسرائیلی ٹینک بھی تباہ کردیا گیا رفح میں اقوام متحدہ کی گاڑی پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے فلسطینی ڈرائیور شہید اور غیر ملکی امدادی اہلکار زخمی ہوگیا ادھر دنیا بھر میں مظلوم فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، ایمسٹرڈیم یونیورسٹی میں پولیس کی طلبہ مظاہرین کے خلاف کارروائی کے بعد جامعہ کا عملہ بھی طلبہ کی حمایت میں کھڑا ہوگیا مصر میں امریکی جامعہ کے طلبہ نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے اسرائیلی کمپنیوں کے بائیکاٹ کے نعرے لگادئیے۔

    حزب اللہ کے شمالی اسرائیل میں میزائل حملے،چار اسرائیلی فوجی زخمی

  • حماس یرغمالیوں کو رہاکرتا ہے توکل ہی جنگ بندی ہوجائےگی،امریکی صدر

    حماس یرغمالیوں کو رہاکرتا ہے توکل ہی جنگ بندی ہوجائےگی،امریکی صدر

    واشنگٹن: امریکی صدر نے غزہ جنگ بندی اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی سے مشروط کردی۔

    باغی ٹی وی : امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ حماس یرغمالیوں کو رہاکرتا ہے توکل ہی جنگ بندی ہوجائےگی اور اگر اسرائیل نے رفح پر چڑھائی کی تو اسے ہتھیار فراہم نہیں کریں گے،معصوم شہریوں کے قتل عام کے لیے توپ خانے اورگولہ بارود اسرائیل کو نہیں دیں گے۔

    دوسری جانب رفح سے جبری انخلا ور شمالی و وسطی غزہ پر شدید بمباری جاری ہے، اسرائیلی فوج نے رفح کےمشرقی اور وسطی علاقوں سے فلسطینیوں کو نکلنے کا حکم دیا ہے اور ساتھ ہی دعویٰ کیا کہ 3 لاکھ فلسطینیوں کا انخلا کرادیا رفح میں بڑا آپریشن روکنے کے لیے امریکا نے اسرائیل کو حماس رہنماؤں سے متعلق خفیہ معلومات فراہم کرنے کی پیشکش کردی، یورپی یونین نے رفح سے جبری انخلا ناقابل بردا شت قرار دے دیا جب کہ عرب ممالک نے غزہ پٹی کا انتظام سنبھالنےکی اسرائیلی تجویز مسترد کردی۔

    محکمہ موسمیات کی مختلف شہروں میں بارش کی پیشگوئی

    ادھر اسرائیلی فوج نے ہفتے کے رو ز حماس کی طرف سے کیے گئے راکٹ حملوں کے بارے میں کہا ہے کہ یہ راکٹ اسرائیلی اہداف پر رفح سے داغے گئے تھے، جن کا ہدف رفح سے جنوبی غزہ کی طرف کرم شالوم راہداری تھی۔

    شالوم راہداری کو پچھلے اتوار سے ہی اسرائیلی فوج عاضی بندش کے نام پر بند کر چکی ہے اس وقت کا جواز اسی نوعیت کے ایک حملے کو بنایا گیا تھا، اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز داغے گئے تازہ راکٹ حملوں کے بارے میں کہا ہے چار راکٹوں کی نشاندہی ہو گئی ہے کہ وہ رفح کے علاقے سے ہی داغے گئے تھے۔

    نان روٹی ایسوسی ایشن روٹی 15 روپے میں فروخت کرنے پر رضا مند

    تاہم فوج کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ان راکٹوں میں سے ایک راکٹ کو اسرائیلی دفاعی نظام راستے میں ہی روکنے میں کامیاب رہا، البتہ تین راکٹ راستے میں نہ روکے جا سکے اور یہ کرم شالوم راہداری کے آس پاس کے علاقے میں جا گرے۔

    اسراییلی فوج کے جاری کردہ بیان میں یہ بھی بتایا گیا ہے ‘کوئی اسرائیلی ان تازہ راکٹ حملوں سے ہلاک یا زخمی نہیں ہوا ہے۔’ اس سے قبل کرم شالوم پر راکٹ حملے کے نتیجے میں چار فوجیوں کے مرنے کی اطلاع دی گئی تھی۔

    اسرائیلی فوج نے یہ بھی کہا ہے کہ جمعہ کے روز بھی رفح کے اسی علاقے سے راکٹ داغا گیا تھا۔اس کا ہدف بھی وہی کرم شالوم کا وہ علاقہ تھا کہ جنوبی غزہ اور کرم شالوم کے درمیان کے علاقے کو نشانہ بنیا جائے۔۔جو ہفتے کے روز داغے گئے راکٹوں کا ہدف بھی رہا۔اسی کے بعد پچھلے اتوار کو اسرائیلی فوجی حکام نے شالوم راہداری بند کر دی تھی۔

    پاکستانی ائیرلائن پر یورپی ملکوں میں عائد پابندی ختم کرنے کا فیصلہ

    ہفتے کے روز داغے گئے حملے اسرایجلی فوج کی طرف سے مشرقی رفح میں کرائے گئے جبری انخلا کے فوری بعد کی کارروائی ہیں۔ واضح رہے رفح اس وقت 14 لاکھ سے زیادہ پناہ گزینوں کو اپنے ہاں پناہ دیے ہوئے ہے۔ جو سات اکتوبر سے جاری اسرائیلی جنگ کی تباہی کے بعد غزہ کی پٹی سے نکل کر یہاں آئے ہیں ۔

    اسرائیل کے فوجی ترجمان نے ہفتے کے روز کہا کہ شمالی غزہ کی پٹی میں جبالیا میں کارروائی کرنے والی اسرائیلی افواج حماس کو وہاں اس کی فوجی صلاحیتیں دوبارہ قائم کرنے سے روک رہی ہیں۔

    ریئر ایڈمرل ڈینیئل ہاگاری نے رپورٹرز کو بریفنگ کے دوران کہا کہ ہم نے گذشتہ ہفتوں میں جبالیا میں حماس کی فوجی صلاحیتوں کی بحالی کی کوششوں کی نشاندہی کی، ہم ان کوششوں کو ختم کرنے کے لئے وہاں کارروائی کر رہے ہیں غزہ شہر کے زیتون ضلع میں کام کرنے والی اسرائیلی افواج نے تقریبا 30 فلسطینی مزاحمت کاروں کو ہلاک کر دیا۔

    آزاد کشمیر میں کشیدہ صورتحال، متعدد شہروں میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس معطل

  • حماس نے اسرائیل کیساتھ جنگ بندی کی تجاویز قبول کر لیں؟

    حماس نے اسرائیل کیساتھ جنگ بندی کی تجاویز قبول کر لیں؟

    غزہ: عرب خبررساں ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس نے قطر اور مصر کی جانب سے جنگ بندی کی تجاویز کو قبول کرلیا ہے۔

    باغی ٹی وی: عرب خبر رساں ادارے ”الجزیرہ“ نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس نے جنگ بندی کی تجاویز کرلی ہیں،حماس نے اس حوالے سے قطری اور مصری مصالحت کاروں کو آگاہ کردیا ہے۔

    حماس نے اپنی سرکاری ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ تحریک حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی اور مصری انٹیلی جنس کے وزیر عباس کامل کے ساتھ ٹیلی فون پر بات کی اور انہیں حماس کی جانب سے جنگ بندی کے معاہدے کے متعلق تجویز کی منظوری سے آگاہ کیا۔

    اسرائیلی فوج کے رفح میں فضائی حملے شروع، 8 بچوں سمیت 26 فلسطینی شہید

    ابتدائی طور پر یہ سامنے نہیں آیا کہ جنگ بندی کے معاہدے میں کیا تجاویز شامل ہیں یہ اعلان اسرائیل کی جانب سے ملٹری آپریشن سے قبل فلسطینیوں کو غزہ کے جنوبی قصبے رفح کو خالی کرنے کی ہدایت کے بعد سامنے آیا ہے-

    واضح رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے تصدیق کی کہ ان کی حکومت حماس کے ساتھ جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے پر پہنچنے کے لیے تیار ہے لیکن انہوں نے حماس پر الزام لگایا کہ اس نے ناقابل قبول مطالبات پیش کئے ہیں۔

    حماس کے مطالبات تسلیم کرنا اسرائیلی ریاست کے لیے ایک بدترین شکست ہوگی،نیتن یاہو

  • حماس کے مطالبات تسلیم کرنا اسرائیلی ریاست کے لیے ایک بدترین شکست ہوگی،نیتن یاہو

    حماس کے مطالبات تسلیم کرنا اسرائیلی ریاست کے لیے ایک بدترین شکست ہوگی،نیتن یاہو

    تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے حماس کے ساتھ جنگ بندی کیلئے کسی بھی ڈیل کو مسترد کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق نیتن یاہو نے اپنی کابینہ کی ایک میٹنگ میں کہا کہ حماس کے مطالبات تسلیم کرنا اسرائیلی ریاست کے لیے ایک بدترین شکست ہوگی،یہ حماس، ایران اور شیطانی قوتوں کے لیے ایک بہت بڑی فتح ہوگی، اس لیے اسرائیل حماس کے مطالبات کبھی تسلیم نہیں کرے گا اور لڑائی جاری رکھے گا جب تک کہ اس کے اہداف حاصل نہیں کر لیے جاتے-

    دوسری طرف اسرائیل کی طرف سے غزہ کے شہر رفح میں جنگی آپریشن کا عزم ظاہر کیا جا رہا ہےامریکا اور عالمی برادری کو تحفظات ہیں کہ ایسی صورت میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہو سکتی ہیں کیونکہ جنگ کے سبب بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی ایک بڑی تعداد رفح میں پناہ لیے ہوئے ہے-

    آسٹریلیا پولیس نے چاقو سے حملہ کرنیوالے نوجوان لڑکے کو گولی مار دی

    حماس کی طرف سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے غزہ میں جنگ ختم کی جائے اور اسرائیلی فورسز غزہ سے واپس چلی جائیں،حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ نے آج اتوار کو اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ جنگ بندی کے لیے جاری مذاکرات میں ثالثوں کی کوششوں کو سبوتاژ کر رہے ہیں، اسرائیلی وزیر اعظم جارحیت جاری رکھنے، تنازعات کے دائرے کو وسعت دینے اور مختلف ثالثوں اور فریقوں کے ذریعے کی جانے والی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے مستقل جواز تلاش کرنا چاہتے ہیں-

    فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن نے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی

  • اسرائیل غزہ سے انخلا کے بارے میں سنجیدگی سے بات نہیں کر رہا،حماس

    اسرائیل غزہ سے انخلا کے بارے میں سنجیدگی سے بات نہیں کر رہا،حماس

    غزہ: حماس رہنما اُسامہ حمدان کا کہنا ہے کہ اسرائیل غزہ میں مکمل جنگ بندی نہیں چاہتا۔

    باغی ٹی وی : غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے لیے اسرائیلی تجاویز پر حماس رہنما اُسامہ حمدان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی تجاویز میں دو اہم مسائل پر مسلسل اصرار کیا جارہا ہے، اسرائیل غزہ میں مکمل جنگ بندی نہیں چاہتا اور غزہ سے انخلا کے بارے میں سنجیدگی سے بات نہیں کر رہا، اسرائیل غزہ پر تسلط برقرار رکھنا چاہتا ہے، ثالث کاروں سے ہمارے سنجیدہ سوالات ہیں جن کا مثبت جواب ملا تو آگے بڑھ سکتے ہیں۔

    اسامہ حمدان نے امریکی وزیر خارجہ کے بیان پر کہا کہ فلسطینیوں کے خلاف حملے روکنا فراخ دلی نہیں ہے، حملے بذات خود ایک جرم ہیں اور جرم کرنا بند کیا جائے تو اسے اسرائیل کی فراخ دلی نہیں کہا جاسکتا۔

    واضح رہے کہ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے ریاض میں عالمی اقتصادی فورم کے مباحثے میں کہا تھا کہ اسرائیل نے حماس کو بےحد غیرمعمولی اور فراخدلانہ تجاویز دی ہیں۔

    گرپتونت سنگھ پنوں کے قتل کی منظوری ‘را’ نے دی تھی،امریکی میڈیا

    دوسری جانب غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی کوششیں جاری ہیں، برطانوی وزیرخارجہ ڈیوڈ کیمرون کے مطابق اسرائیل نے حماس کو غزہ میں 40 روز کی جنگ بندی کی پیشکش کی ہے،یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے ممکنہ طورپر ہزاروں فلسطینی قیدیوں کی رہائی کی پیشکش بھی شامل ہے۔

    ڈیوڈ کیمرون نے اُمید ظاہر کی کہ حماس ان تجاویز پر اتفاق کرے گی کیونکہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی تک جنگ نہیں رکے گی اور یہ کہ دو ریاستی حل کے سیاسی ماحول کے لیے حماس قیادت اور7 اکتوبر کے ذمہ داروں کو غزہ چھوڑنا ہوگا،حماس کا وفد آج قاہرہ میں مصری اور قطری ثالث کاروں سے ملاقات میں اسرائیل کی جنگ بندی تجاویز پر اپنا جواب دے گا۔

    دستورِ پاکستان میں نائب وزیر اعظم کا کوئی عہدہ موجود نہیں،ترجمان پی ٹی آئی

    ترجمان حماس عبدالطیف الکانو کا کہنا ہے کہ مستقل جنگ بندی کو یقینی بنانا مذاکرات کی پیشرفت کی لازمی بنیاد ہے، ہم جنگ بندی اورغزہ سے اسرائیلی افواج کا انخلا چاہتے ہیں، ہمارے مطالبات جائز ہیں، اِن پر تمام دھڑوں نے اتفاق کیا ہے، ہم بے گھر افراد کی ان کے گھروں کو واپسی چاہتے ہیں، ان مطالبات کی منظوری کے بغیر کوئی بھی معاہدہ کامیاب نہیں ہوگا۔

    خواتین کیساتھ جنسی استحصال کے الزامات،جنتا دل سیکولر کا رکن پارلیمنٹ جرمنی فرار

  • حماس قطر میں اپنا دفتر بند کرنے  پر غور کر رہی ہے،امریکی اخبار

    حماس قطر میں اپنا دفتر بند کرنے پر غور کر رہی ہے،امریکی اخبار

    امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس قطر میں اپنا دفتر بند کرنے پر غور کر رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : امریکی اخبار کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہےکہ حماس نے قطر چھوڑنے پر غور مذاکرات میں شدید دباؤ کے بعدکیا ہے حما س نے اپنے سیاسی دفتر کے قیام کے لیے عمان سمیت خطے کے 2 ممالک سے رابطہ کیا ہے۔

    دوسری جانب پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور بی بی آصفہ بھٹو زرداری سے ملاقات کیلئے فلسطین کے سفیر بلاول ہاؤس پہنچے،دوران ملاقات چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، بی بی آصفہ بھٹو زرداری اور فلسطین کے سفیر احمد جواد امین ربیعی نے پاک فلسطین تعلقات پر تبادلہ خیال کیا، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور بی بی آصفہ بھٹو ز رداری کو فلسطین کے سفیر احمد جواد امین ربیعی نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو اور یاسرعرفات کی یادگار تصاویر کا فریم اور مسجد اقصی کی یادگار تصویر اور یادگاری شیلڈ بھی پیش کی-

    جبکہ حماس رہنما اسماعیل ہنیہ نے ترک صدر اردوان سے ملاقات کی ہے ترک میڈیا کے مطابق دونوں رہنماؤں کی ملاقات استنبول کے صدارتی دفتر کے بند کمرے میں ہوئی ہے ملاقات میں فلسطینی سرزمین بالخصوص غزہ پٹی میں اسرائیلی وحشیانہ حملوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    صدر اردوان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں فلسطینیوں کے درمیان اتحاد اور اتفاق رائے ناگزیر ہے، ترکیے نے اسرائیل کے خلاف تجارتی سمیت متعدد پابندیاں عائد کی ہیں اسرائیل ایک دن فلسطینیوں پر کیے جانے والے مظالم کی بھاری قیمت ادا کرےگا ترکیے فلسطینی عوام کو انسانی امداد بھیجنے کا سلسلہ جاری رکھے گا، غزہ پٹی کے لیے اب تک 45 ہزار ٹن سے زیادہ امدادی سامان بھیج چکے ہیں۔

  • ہمارے دل اور روح اہل فلسطین کے ساتھ ہیں،طاہر اشرفی کا اسماعیل ہنیہ سے رابطہ

    ہمارے دل اور روح اہل فلسطین کے ساتھ ہیں،طاہر اشرفی کا اسماعیل ہنیہ سے رابطہ

    پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر محمود اشرفی نے حماس رہنما اسماعیل ہنیہ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے

    حافظ طاہر محمود اشرفی نے اسماعیل ہنیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے صاحبزادوں اور فیملی نے دیگر شہدا کی طرح عظیم قربانی دی ہے، رب کریم آپ کو اور شہدا کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے،شہدا کی قربانیاں رنگ لائیں گی اور الاقصیٰ اور فلسطین آزاد ہوگا، ہم جسمانی طور پر فلسطین سے دور مگر ہمارے دل اور روح اہل فلسطین کے ساتھ ہیں ، اللہ نے ہمارے خاندان اور اہل فلسطین کو شہادتوں سے نوازا جس پر اللہ کے شکر گزارہیں، رب كریم شہدا کا خون کبھی ضائع نہیں ہونے دینگے، یہ خون عظیم مقصد کیلئے ہے۔

    مولانا فضل الرحمان کا اسماعیل ہنیہ کو بیٹوں اور پوتوں کی شہادت پر تعزیتی خط

    واضح رہے کہ گزشتہ روز غزہ میں اسرائیلی حملے میں اسماعیل ہنیہ کے 3 بیٹے اور 3 پوتے شہید ہوگئے تھے،انہوں نے بیٹوں کی شہادت کی خبر کو صبر کے ساتھ سنا اور کہا کہ ’اللہ ان کیلئے آسانیاں پیدا کرے‘۔ ان کی بیٹوں اور پوتوں کی شہادت کی اطلاع صبر کے ساتھ سننے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ بعدازاں الجزیرہ کو انٹرویو کہا کہ میرے بیٹے غزہ ہمارے لوگوں کے ساتھ رہے اور علاقہ نہیں چھوڑا، میرے بیٹوں کا خون غزہ میں شہید ہونے والے ہمارے لوگوں کے خون سے زیادہ قیمتی نہیں اور وہ قبلہ اول کو آزاد کرانے کی راہ میں قربانیوں کے سوا کچھ نہیں،ہمارے تمام لوگوں اور غزہ کے رہائشیوں کے تمام خاندانوں نے اپنے بچوں کے خون کی بھاری قیمت ادا کی ہے اور میں ان میں سے ایک ہوں۔

    ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے تعزیتی پیغام جاری کیاہے

    قونصل خانے پر حملہ ہماری سرزمین پر حملہ ،اسرائیل کو سزا ملے گی، آیت اللہ خامنہ ای

     فلسطینی مسلمان بھی اسرائیلی مظالم کےہوتے ہوئے بھی عید منا رہے ہیں

    مریم نوازشریف بے سہارا، بےگھر اور بے نوا لوگوں کے درمیان پہنچ گئیں

    حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے تین بیٹوں اور پوتوں سمیت مزید 125 فلسطینی شہید 

  • اسرائیلی فوج  کے چار فوجی  حماس کے حملے میں مارے گئے

    اسرائیلی فوج کے چار فوجی حماس کے حملے میں مارے گئے

    اسرائیل فوج کے چار فوجی جنوبی غزہ میں حماس کے حملے میں مارے گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی: ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق یہ ہلاکتیں ہفتے کو ہلاک ہونے والے اسرائیلی فوجیوں میں کمانڈو بریگیڈ کے ٹریننگ بیس کا کمانڈر 21 سالہ کیپٹن ایڈو بارروچ، 20 سالہ سارجنٹ ایمتائی ایون شوشان، 20 سالہ سارجنٹ الائی زائر اور 20 سالہ سارجنٹ ریف ہاروش شامل ہیں، ان ہلاکتوں سے حماس کے خلاف زمینی لڑائی میں ہلاک ہونے والے اسرائیلی فوجیوں کی تعداد 260 ہوگئی ہے۔

    یہ چاروں فوجی اس وقت ہلاک ہوئے جب ایک تباہ ہونے والی عمارت کی سرنگ سے نکلنے والے حماس کے کارکنوں نے گشت کرنے والے فوجیوں پر فائر کھول دیا حملے کے بعد حماس کے کارکن دوبارہ سرنگ میں چلے گئے خان یونس ہی میں اسرائیلی فوج کے ایک ٹینک پر بھی حملہ کیا گیا۔

    دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر اسرائیلی میزائل حملے،سفارتکاروں سمیت 8 ا فراد ہلاک

    اسرائیلی فوج نے الشفا اسپتال کو قبرستان میں تبدیل کرنے کے بعد دو ہفتوں …

    دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر اسرائیلی میزائل حملے،سفارتکاروں سمیت 8 ا فراد ہلاک

  • مولانا فضل الرحمان سے حماس رہنماء  کی ملاقات

    مولانا فضل الرحمان سے حماس رہنماء کی ملاقات

    اسلام آباد: جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان سے حماس رہنماء ڈاکٹر ناجی زہیر نے ملاقات کی-

    باغی ٹی وی : جے یو آئی ترجمان کے مطابق حماس رہنماء وفد کے ہمراہ جے یو آئی سربراہ کی رہائش گاہ پر پہنچے اور غزہ کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا ،حماس رہنماء نے کہا کہ اسرائیل نے ظلم و بربریت کے ریکارڈ توڑ دئیے ہیں-

    https://x.com/juipakofficial/status/1774128799388483835?s=20

    ترجمان کے مطابق ڈاکٹر ناجی زہیر نے کہا کہ رابطہ عالم اسلامی کے اجلاس کے موقع پر مولانا فضل الرحمان کی جانب سے فلسطینی بھائیوں بارے دوٹوک موقف اختیار کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہیں ،اس موقع پر جے یو آئی رہنما مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہر موقع پر فلسطین پر ہونے والے مظالم کے خلاف احتجاج کرتے رہیں گے ۔

    اسرائیلی فضائی حملے میں اقوام متحدہ کے 4 نمائندے زخمی

    حماس کے حملے میں اسرائیلی کمانڈو ہلاک،16 فوجی زخمی

    پاکستان کو آئی ایم ایف سے 8 ا رب ڈالر کا نیا قرض پروگرام ملنے …