Baaghi TV

Tag: حماس

  • حماس غزہ میں 5 سالہ جنگ بندی کے بدلے اسرائیلی قیدیوں کی رہائی پر تیار

    حماس غزہ میں 5 سالہ جنگ بندی کے بدلے اسرائیلی قیدیوں کی رہائی پر تیار

    فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے کہا ہے کہ اگر غزہ میں 5 سال کے لیے وحشیانہ کارروائیاں روک دی جاتی ہیں تو اسرائیل کے تمام قیدیوں کو رہا کر دیا جائے گا۔

    غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق حماس کے ایک عہدیدار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حماس ایک ہی دفعہ قیدیوں کے تبادلے اور 5 سال کی جنگ بندی کے لیے تیار ہے، قبل ازیں فلسطینی تنظیم نے 17 اکتوبر کو جزوی جنگ بندی کی تجویز کی مخالفت کی تھی اور اسرائیل کی جانب سے 10 قیدیوں کے بدلے 45 روز کے لیے جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔

    ادھرغزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے اور اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے پر بات چیت کے لیے ہفتے کے روز قاہرہ میں حماس کے وفد اور مصری حکام کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہوگئے۔ اسی دوران اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی پر فوجی دباؤ بڑھانے کے اپنے ارادے کا اعلان کیا اور دھمکی دی ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو رفح ماڈل کو پٹی میں کسی اور جگہ پر بھی دہرایا جائے گا۔

    آرمی ریڈیو کے مطابق اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز کہا کہ ہم جلد از جلد غزہ کی پٹی پر فوجی دباؤ کو نمایاں طور پر بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں ہم نئے مقامات پر منتقل ہوں گے، اس دوران ریزرو فورسز کی بڑے پیمانے پر نقل و حرکت بھی کی جائے گی، اگر یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ہونے والی بات چیت کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا تو آپریشنل پلانز کے فریم ورک کے اندر تیار کردہ اضافی ٹولز کو جلد ہی فعال کر دیا جائے گا۔ صہیونی فوج نے مزید کہا کہ ہم غزہ کی پٹی کے دیگر مقامات پر رفح ماڈل کی نقل تیار کریں گے۔

    واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو جنگ شروع ہونے کے بعد حماس نے 251 اسرائیلیوں کو حراست میں لیا تھا جن میں سے درجنوں کو معاہدوں کے تحت رہا کیا گیا اور متعدد اسرائیلی حملوں میں مارے گئے تاہم اس وقت حماس کی قید میں 58 اسرائیلی موجود ہیں۔

    دریں اثنا غزہ کی وزارت صحت کے مطابق سات اکتوبر 2023 کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے غزہ کی پٹی میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد کم از کم 51,495 ہو گئی ہے۔

  • غزہ میں حماس کی حکومت کا برقرار رہنا اسرائیل کیلئے بہت بڑی شکست ہوگی،نیتن یاہو

    غزہ میں حماس کی حکومت کا برقرار رہنا اسرائیل کیلئے بہت بڑی شکست ہوگی،نیتن یاہو

    غزہ میں اسرائیلی فوج کی بمباری کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں 24 گھنٹوں میں مزید 60 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی بمباری کے دوران یرغمالی اسرائیلی نژاد امریکی فوجی عیدان الیگزینڈر لاپتہ ہوگیا،حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ نے بھی اسرائیلی فوج کےخلاف جوابی حملے کیے، گھات لگا کرکیے گئے حملے میں متعدد اسرائیلی فوجی ہلاک اور زخمی ہوگئے اسرائیلی فوج کے ٹینک اور ملٹری بلڈوزرکو بھی تباہ کردیا جب کہ شمالی غزہ میں اسرائیلی ڈرون تباہ ہوگیا۔

    ادھر مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی فوج کی جانب سے کارروائی کی گئی جس کے باعث مسیحیوں کو ان کے مقدس مقام پر جانے سے روک دیا گیا۔

    پنجاب:محکمہ صحت میں 6 ارب 23 کروڑ روپے کے اخراجات کا ریکارڈ غائب

    دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ہم فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے مطالبات کے سامنےجھک گئے تو غزہ میں دوبارہ جنگ نہیں کر سکیں گے ہم اس جنگ کا خاتمہ اس وقت تک نہیں کریں گے جب تک حماس کوختم نہ کردیں-

    اس نے کہا کہ غزہ میں حماس کی حکومت کا برقرار رہنا اسرائیل کے لیے بہت بڑی شکست ہوگی، ایسی شرائط پرجنگ کا خاتمہ پیغام دےگا کہ اغوا کاری کے ذریعےاسرائیل کو جھکایا جا سکتا ہے،جب تک تمام مغویوں کو واپس نہ لے آئیں،جنگ کو ختم نہیں کریں گے، حماس کی شرائط پر جنگ ختم کرنےکا کہنے والے اسرائیلی دانشور حماس کا پروپیگنڈا دہرا رہے ہیں۔

    ایک بار پھر ہیڈ کوچ کی تلاش شروع،پی سی بی نے اشتہار دیدیا

    غزہ جنگ پر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف عوامی مخالفت میں اضافہ ہو رہا ہے، ایک لاکھ 40 ہزار سے زائد اسرائیلی شہریوں اور فوجیوں نے غزہ جنگ ختم کرنے اور یرغمالیوں کی واپسی کی قرارداد پر دستخط کر دیئے۔

  • اسرائیل کے غزہ پر حملے،حماس کے سیاسی بیورو کے رہنما اہلیہ سمیت شہید

    اسرائیل کے غزہ پر حملے،حماس کے سیاسی بیورو کے رہنما اہلیہ سمیت شہید

    غزہ: اسرائیل نے غزہ میں حملے کرکے حماس کے سیاسی بیورو کے رہنما صلاح البردویل کو اہلیہ سمیت شہید کردیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیل کی جانب سے غزہ کے مختلف حصوں میں شدید بمباری کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں ہفتے کو مزید 34 فلسطینی شہید ہو گئے اسرائیلی حملے میں حماس کے سیاسی بیورو کے رہنما صلاح البردویل اہلیہ سمیت شہید ہو گئے۔

    اس کے علاوہ اسرائیل نے جنوبی لبنان کی وادی بیقا میں بھی حملے کیے جس سے شہید لبنانیوں کی تعداد 7 ہوگئی جبکہ لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کا کہنا ہے جنگ بندی پر کاربند ہیں۔

    بھارتی اسٹار ہاکی اولمپئینز نے شادی کر لی

    دوسری جانب اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب میں اسرائیلی وزیراعظم کے خلاف مظاہرے میں ہزاروں افراد نے شرکت کی اور یرغمالیوں کی واپسی کا مطالبہ بھی کیا،ادھر یمن پر امریکی حملے جاری ہیں اور حدیدہ میں بندرگاہ کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

    26 نومبر احتجاج : وزیراعظم و دیگر کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست خارج کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری

  • حماس  کا اسرائیل پر میزائلوں سے حملہ

    حماس کا اسرائیل پر میزائلوں سے حملہ

    اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی معاہدہ توڑے جانے کے بعد حماس نے پہلی بار اسرائیل پر میزائلوں سے حملہ کردیا، جس کے بعد وسطی اسرائیل میں سائرن بج اٹھے۔

    باغی ٹی وی : اسرائیلی فوج کے مطابق جنوبی غزہ سے تین پروجیکٹائل گش دان اور حشفیلہ پر فائر کیے گئے حماس کی القسام بریگیڈ کا کہنا ہے کہ میزائل حملے صہیونی فوج کے ہاتھوں قتل عام کے جواب میں کیے گئے، اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ ایک میزائل کوروک دیا گیا، جبکہ دو کھلے علاقے میں گرے۔

    جمعرات کو حماس نے غزہ سے اسرائیل پر راکٹ داغے، جو اسرائیل کی جانب سے غزہ پر دوبارہ حملوں کے جواب میں کیے گئے۔ یہ حملے اس جنگ بندی کے خاتمے کے بعد پہلی بڑی کارروائی ہے جو دو ماہ سے جاری تھی۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق تین راکٹ فائر کیے گئے، جن میں سے ایک کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا جبکہ دو غیرآباد علاقے میں گرے، اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    حماس کے عسکری ونگ، القسام بریگیڈز نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ’گہرائی میں مقبوضہ علاقے، تل ابیب پر ایم 90 راکٹوں کی بارش‘ کی، جو اس ہفتے غزہ پر اسرائیلی حملوں کا ردعمل تھا، جس میں سیکڑوں فلسطینی شہید ہوئے۔

    یہ راکٹ حملے اس وقت ہوئے جب اسرائیل نے منگل کو فضائی حملے کرکے غزہ میں جنگ بندی کو توڑا، جس کے بعد بدھ کو زمینی آپریشن کا آغاز کیا گیا اسرائیل کو یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے بھی میزائل حملے کا سامنا کرنا پڑا، ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے اسرائیل پر ایک بیلسٹک میزائل داغنے کا دعویٰ کیا، جسے اسرائیلی فوج نے راستے میں ہی تباہ کر دیا۔

    بدھ کے روز یروشلم میں اسرائیلی پارلیمنٹ ”کنیسٹ“ کے باہر ہزاروں مظاہرین نے نیتن یاہو کے خلاف احتجاج کیا، جنہوں نے غزہ میں جنگ دوبارہ شروع کرنے کی مخالفت کی،سیاسی ماہرین کے مطابق، نیتن یاہو کو اپنی حکومت برقرار رکھنے کے لیے جنگ کا سہارا لینا پڑا، کیونکہ ان کی حکومت اندرونی اختلافات کے باعث خطرے میں تھی۔
    https://login.baaghitv.com/wp-admin/edit-comments.php
    منگل کو اسرائیلی حملوں کے بعد، جن میں غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 400 سے زائد افراد شہید ہوئے، دائیں بازو کے انتہا پسند وزیر اتمار بن گویر نے نیتن یاہو کی حکومت میں واپسی کا اعلان کر دیا۔

    بن گویر نے جنوری میں اس وقت حکومت چھوڑ دی تھی جب اسرائیل نے حماس کے ساتھ جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔ تاہم جمعرات کو قومی سلامتی کی وزارت میں ایک اجلاس کے دوران انہوں نے کہا کہ وہ ’دو ماہ کے وقفے کے بعد واپسی پر خوش ہیں، بن گویر کی واپسی نیتن یاہو کے لیے ایک بڑی سیاسی مدد ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ انہیں 31 مارچ تک اسرائیل کا بجٹ پاس کروانا ہے، بصورت دیگر نئے انتخابات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    رات بھر اسرائیل نے غزہ میں بمباری جاری رکھی، جس میں فلسطینی حکام کے مطابق کم از کم 85 افراد شہید ہوئے، جبکہ ملبے تلے مزید افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ہے،اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے نیتزاریم کوریڈور کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا ہے، جو غزہ کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتا ہے۔ اس راہداری کی مدد سے اسرائیل نے وسطی غزہ سٹی اور شمالی علاقوں کو جنوبی غزہ سے الگ کر دیا ہے، جو مصر کی سرحد سے متصل ہے۔

  • حماس سے شکست تسلیم کرنے والا اعلیٰ فوجی افسر  نوکری سے فارغ

    حماس سے شکست تسلیم کرنے والا اعلیٰ فوجی افسر نوکری سے فارغ

    تل ابیب: اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے حماس سے شکست تسلیم کرنے والے ملک کی داخلی سیکیورٹی ایجنسی شِن بیٹ کے سربراہ رونن بار کو عہدے سے فارغ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ سیکیورٹی ادارے کے سربراہ پر مکمل اعتماد ہونا ضروری ہے، اور اب انہیں رونن بار پر اعتماد نہیں رہا،اسرائیلی وزیراعظم کا یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب شِن بیٹ نے 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے کو روکنے میں ناکامی تسلیم کی تھی، جبکہ اسرائیلی حکومت کو بھی اس سانحے میں ملوث ہونے کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

    رپورٹ کے مطابق رونن بار کی جانب سے برطرف ہونے پر بیان سامنے آیا کہ وہ مکمل ایمانداری اور ملک کے مفاد میں کام کر رہے تھے، اور ان کی برطرفی سیاسی عزائم کے تحت کی جا رہی ہے، نیتن یاہو کے قریبی شخص کے مطابق، رونن بار کو برخاست کرنے کا فیصلہ بدھ کے روز حکومت کو پیش کیا جائے گا، تاہم اس فیصلے پر عدالت میں اختلاف کیا جا سکتا ہے۔

    سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا: پی ٹی آئی کے 16 ارکان کل دوبارہ طلب

    یہ تنازع اس وقت مزید پیچیدہ ہوگیا جب نیتن یاہو کے قریبی مشیروں کے خلاف ”قطر گیٹ“ اسکینڈل کی تحقیقات شروع ہوئیں، اس اسکینڈل میں قطر سے مبینہ مالی ادائیگیاں نیتن یاہو کے دفتر میں پہنچنے کا الزام ہےجس کے تحت قطر کی اسرائیل میں ساکھ بہتر بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔

    اداکارہ ریما خان کی اپیل،عدالت نے پنجاب حکومت سے جواب طلب کرلیا

    رپورٹ میں کہا گیاکہ اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لاپڈ نےنیتن یاہو پر الزام عائد کیا کہ وہ سیکیورٹی چیف کو ہٹا کر قطر گیٹ اسکینڈل کی تحقیقات کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، بار نے کہا کہ تحقیقات صرف فوج اور سیکورٹی ایجنسیوں پر نہیں بلکہ حکومت اور وزیر اعظم کو بھی دیکھنا چا ہئے ان کا خیال ہے کہ وزیر اعظم نے حملے سے ایک سال پہلے سیکورٹی ایجنسیوں کی جانب سے اہم انتباہات کو نظر انداز کیا تھا۔

    اداکارہ ریما خان کی اپیل،عدالت نے پنجاب حکومت سے جواب طلب کرلیا

  • ٹرمپ انتظامیہ کے حماس کے ساتھ خفیہ مذاکرات،اسرائیل میں شدید تشویش

    ٹرمپ انتظامیہ کے حماس کے ساتھ خفیہ مذاکرات،اسرائیل میں شدید تشویش

    امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اور حماس کے درمیان خفیہ مذاکرات پر اسرائیل کی شدید تشویش سامنے آئی ہے۔

    باغی ٹی وی: امریکی نیوز ویب سائٹ ”ایگزیوس“ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیا مین نیتن یاہو کے قریبی ساتھی اور امریکی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ کے درمیان ایک سخت گفتگو ہوئی، جس میں اسرائیل نے ان مذاکرات پر شدید اعتراض کیا۔

    ٹرمپ کے مشیروں نے فروری کے اوائل میں اسرائیلی حکام سے حماس سے براہ راست رابطے کے امکان پر بات کی تھی، جس پر اسرائیل نے انہیں ایسا کرنے سے منع کیا تھا، خاص طور پر بغیر کسی شرط کے تاہم، اسرائیل کو بعد میں معلوم ہوا کہ امریکہ ان مذاکرات کو آگے بڑھا رہا ہے۔

    خواتین کا عالمی دن، صبا قمر دیہی خواتین کے پاس پہنچ گئیں

    امریکی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ ایڈم بوہلر نے دوحہ میں حماس کے سینئر رہنما خلیل الحیۃ سے ملاقات کی ان مذاکرات کا بنیادی مقصد امریکی یرغمالی ایڈن الیگزینڈر اور چار دیگر امریکیوں کی باقیات کی واپسی تھا تاہم، امریکہ کی جانب سے عندیہ دیا گیا کہ اگر یہ معاہدہ طے پاتا ہے تو ٹرمپ اسرائیل پر مزید دباؤ ڈال سکتے ہیں، جس میں طویل مدتی جنگ بندی، حماس قیادت کے لیے محفوظ راستہ، اور تمام یرغما لیوں کی رہائی شامل ہو سکتی ہے۔

    اسرائیل نے ان مذاکرات میں فلسطینی قیدیوں کی رہائی جیسے نکات پر بھی اعتراض کیا، کیونکہ ان امور پر اس کی پیشگی منظوری نہیں لی گئی تھی نیتن یاہو نے ابتدا میں ان مذاکرات کو سنجیدگی سے نہیں لیا تھا، لیکن جب انہیں حقیقت کا روپ دھارتے دیکھا تو ان کی تشویش میں اضافہ ہوا۔

    خواتین کو آگے لانا پوری قوم کے مفاد میں ہے،صدر مملکت

    ٹرمپ اور ان کے مشیروں نے بدھ کو ایک طویل اجلاس میں ان مذاکرات پر بات کی اور فیصلہ کیا کہ حماس پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایک سخت عوامی بیان جاری کیا جائے بعد ازاں، ٹرمپ نے ایک بیان میں حماس کو آخری وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ تمام یرغمالیوں کو فوری رہا کیا جائے۔

    ٹرمپ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف آئندہ ہفتے خطے کا دورہ کریں گے اور ان کا کہنا ہے کہ ایڈن الیگزینڈر کی رہائی ان کی اولین ترجیح ہے ان کا کہنا تھا کہ اگر حماس مثبت رویہ اختیار کرتی ہے تو اسے ”سیاسی فوائد“ حاصل ہو سکتے ہیں، لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو اسرائیل کی جانب سے ”کارروائی“ متوقع ہے۔

    بھارت میں اسرائیلی خاتون سیاح کے ساتھ اجتماعی زیادتی

  • ٹرمپ انتظامیہ کاحماس کی حمایت کرنے والے طلبہ کے خلاف کارروائی کا اعلان

    ٹرمپ انتظامیہ کاحماس کی حمایت کرنے والے طلبہ کے خلاف کارروائی کا اعلان

    ٹرمپ انتظامیہ نے ان غیر ملکی طلبہ کے خلاف سخت اقدامات کا فیصلہ کیا ہے جو سوشل میڈیا پر حماس کی حمایت کرتے ہیں۔ اس پالیسی کے تحت انتظامیہ مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے طلبہ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی نگرانی کرے گی اور اگر ان کی سرگرمیاں حماس کی حمایت میں پائی گئیں تو ان کے ویزے منسوخ کر دیے جائیں گے۔

    امریکی میڈیا کے مطابق فلسطینیوں کے حق میں ہونے والے مظاہروں کے مرکز سمجھی جانے والی کولمبیا یونیورسٹی کی 400 ملین ڈالر کی وفاقی گرانٹ بھی منسوخ کر دی گئی ہے۔ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یونیورسٹی اپنی حدود میں موجود یہودی طلبہ کو ہراساں کیے جانے سے روکنے میں ناکام رہی ہے اور گرانٹ کی معطلی اسی تناظر میں کی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ گرانٹ منسوخی کے پہلے مرحلے کے طور پر کیا گیا ہے، اور مستقبل میں مزید اقدامات بھی متوقع ہیں۔

    یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کی مختلف جامعات میں اسرائیل-فلسطین تنازعے پر مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ پچھلے برس کولمبیا یونیورسٹی میں فلسطینیوں کے حق میں ہونے والے احتجاج نے امریکا بھر کی یونیورسٹیوں میں ایک تحریک کو جنم دیا تھا، جس کے بعد انتظامیہ اور حکومتی ادارے اس پر سخت اقدامات کے لیے دباؤ میں تھے۔طلبہ اور انسانی حقوق کے کارکنان نے ان اقدامات کو آزادی اظہار کے خلاف قرار دیا ہے، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہودی طلبہ کی حفاظت اور قومی سلامتی کے پیش نظر یہ پالیسیاں بنائی جا رہی ہیں۔

    متاثرہ طلبہ اور تعلیمی ادارے اس اقدام کے خلاف قانونی چارہ جوئی پر غور کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت کے ذریعے طلبہ کی نگرانی کا یہ عمل شروع ہو گیا تو اس کے دور رس اثرات ہوں گے اور یہ پالیسی دیگر جامعات اور ممالک تک بھی پھیل سکتی ہے۔

  • غزہ جنگ بندی کا دوسرا مرحلہ،اسرائیل کی شرط،حماس کا ردعمل

    غزہ جنگ بندی کا دوسرا مرحلہ،اسرائیل کی شرط،حماس کا ردعمل

    تل ابیب: اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈئین سار نے غزہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد کے لیے شرط رکھ دی،جسے حماس نے رد کر دیا-

    باغی ٹی وی: یروشلم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر خارجہ نے کہا کہ اسرائیل غزہ کو ہتھیاروں سے پاک کرنے اور مغو یوں کی واپسی کی شرط پر جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کا آغاز کرسکتا ہےہمارا مطالبہ ہے کہ غزہ کو مکمل طور پر ہتھیاروں سے پاک کیا جائے، حماس اور اسلامی جہاد غزہ سے نکل جائیں اور مغویوں کو رہا کیا جائے، اگر وہ اس پر تیار ہوجائیں تو کل ہی دوسرے مرحلے کا آغاز ہوسکتا ہے۔

    حماس کے رہنما سامی ابو ظہری نے اسرائیلی وزیر خارجہ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ مزاحمتی گروہوں کے ہتھیار حماس اور دیگر فلسطینی مزاحمتی گروہوں کے لیے سرخ لکیر ہیں اور ان پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا۔

    امریکی اور یوکرینی صدر گتھم گتھا ہو گئے،ویڈیو وائرل

    گزشتہ روز اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کو خبردار کیا ہے کہ اگر غزہ میں موجود ہمارے یرغمالیوں کو رہا نہ کیا تو اسے ناقابل تصور نتائج بھگتنا ہوں گے وزیر اعظم نیتن یاہو نے پیر کو اسرائیلی پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں حماس سے کہتا ہوں اگر تم نےہمارے یرغمالیوں کو رہانہ کیا تو تمہیں ایسے نتائج بھگتنے پڑیں گےجنکاتم تصوربھی نہیں کر سکتےغزہ کی پٹی میں جنگ کی بحالی زیر غور ہےجنگ کے آئندہ اور نہ رکنے والے مرحلے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔

    دہشتگردوں کے ہاتھوں خواتین کے استعمال کی گھناؤنی حقیقت بے نقاب

  • اسرائیل نے غزہ کو فوڈ سپلائی مکمل بند کر دی

    اسرائیل نے غزہ کو فوڈ سپلائی مکمل بند کر دی

    مقبوضہ بیت المقدس:اسرائیل نے فلسطینی تنظیم حماس کی جانب سے جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں توسیع کو قبول کرنے سے انکار کے بعد امداد لے جانے والے ٹرکوں اور گاڑیوں کو غزہ جانے سے روک دیا ہے۔

    باغی ٹی وی: اسرائیل نے اعلان کیا کہ غزہ پٹی کے لیے ہر قسم کی اشیائے خورد و نوش اور ضروری سامان کی ترسیل فوری طور پر معطل کر دی گئی ہے ساتھ ہی اسرائیلی حکومت نے حماس کو خبردار کیا کہ اگر اس نے عبوری فائر بندی میں توسیع قبول نہ کی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

    اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر کے مطابق، امریکہ کے مشرق وسطیٰ کے لیے مندوب اسٹیو وٹکوف نے تجویز دی ہے کہ غزہ میں رمضان اور یہودی تہوار پاس اوور کے دوران ایک عبوری جنگ بندی ہونی چاہیے اس تجویز کے تحت جنگ بندی کے پہلے ہی روز حماس کو اسرائیلی یرغمالیوں میں سے نصف کو رہا کرنا ہوگا باقی یرغمالیوں کی رہائی مستقل جنگ بندی معاہدے سے مشروط ہوگی۔

    ملک میں مہنگائی کی شرح 3 فیصد پر آ گئی ہے،رانا ثنا اللہ

    اسرائیلی اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے حماس نے اسرائیل پر وعدہ خلافی کا الزام لگایا حماس کے سینیئر عہدیدار محمود مرداوی نے کہا کہ یہ اسرائیل کی ایک اور چال ہے، جو یرغمالیوں کی رہائی میں مزید تاخیر پیدا کرے گی اس طرح یرغمالیوں کی زندگیاں مزید خطرے میں پڑ جائیں گی اور ان کے اہل خانہ کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔

    حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ جنگ بندی کے اصل معاہدے کے مطابق سیز فائر کے دوسرے مرحلے کے لیے کوئی بات چیت نہیں ہو رہی ہے، جب کہ پہلا مرحلہ ہفتے کو ختم ہو چکا ہے اسرائیل دوسرے مرحلے کے مذاکرات شروع نہ کرنے کا ذمہ دار ہے، اور الزام عائد کیا کہ اسرائیل غزہ سے باقی قیدیوں کی بازیابی چاہتا ہے، جب کہ جنگ دوبارہ شروع کرنے کے امکانات کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

    عسکری کارروائیوں میں ملوث بلوچ ریپبلکن آرمی کا انتہائی مطلوب دہشتگرد گرفتار

    ایک روز قبل بھی حماس نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ معاہدے کے دوسرے مرحلے میں داخل ہو جائے، ہم معاہدے کی تمام شرائط، تمام مراحل اور تفصیلات پر عمل درآمد کے لیے اپنے مکمل عزم کا اظہار کرتے ہیں۔

    یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ جنگ بندی معاہدے کا پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اور فریقین کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل اور حماس کے درمیان مستقل جنگ بندی پر اتفاق نہ ہوا تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔

    قصور:انتظامیہ کی نا اہلی ،شہباز شریف سپورٹس کمپلیکس گندگی کے ڈھیر میں تبدیل،ویڈیو

  • غزہ جنگ بندی معاہدہ:اسرائیل نے امریکی تجویز منظور کر لی،حماس کا توسیع سے انکار

    غزہ جنگ بندی معاہدہ:اسرائیل نے امریکی تجویز منظور کر لی،حماس کا توسیع سے انکار

    تل ابیب: اسرائیل نے غزہ میں جاری جنگ بندی معاہدے میں عارضی توسیع کی امریکی تجویز کو منظور کرلیا ہے-

    باغی ٹی وی : وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سےبیان کے مطابق، جنگ بندی میں توسیع رمضان المبارک اور اپریل کے وسط میں یہودی تہوار کے دوران کی جائے گی، تاکہ حالات میں کچھ بہتری آسکےجنگ بندی کے پہلے روز زندہ یا مردہ یرغمالیوں کی نصف تعداد کو اسرائیل کے حوالے کر دیا جائے گا،وٹکوف نے محسوس کیا کہ مستقل جنگ بندی کے مذاکرات کے لیے مزید وقت درکار ہے، اسی لیے انہوں نے موجودہ جنگ بندی میں توسیع کی تجویز پیش کی۔

    دوسری جانب جہاں اسرائیلی حکومت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے لیے ایلچی اسٹیو وٹکوف کی تجویز کو اپناتے ہوئے غزہ میں جنگ بندی کو رمضان اور یہودی تہوار پاس اوور کے دوران توسیع دینے پر اتفاق کر لیا ہے وہیں اسرائیلی شرائط پر حماس نے اعتراض عائد کر دیا-

    خفیہ دستاویزات کیس،ایف بی آئی نےقبضہ میں لیا سامان ٹرمپ کو واپس کردیا

    حماس کے ترجمان حازم قاسم نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ تنظیم غزہ میں جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں توسیع کی اسرائیلی ”تشریح“ کو مسترد کرتی ہے، تاہم وٹکوف کے منصوبے کا کوئی واضح ذکر نہیں کیا گیا۔

    دو فلسطینی حکام نے خبر رساں ادارے ”روئٹرز“ کو بتایا کہ اسرائیل نے جنگ بندی کے دوسرے مرحلے میں داخل ہونے یا اس پر بات چیت شروع کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ جبکہ حماس نے پہلے مرحلے کی توسیع کو مسترد کرتے ہوئے معاہدے کے مطابق دوسرے مرحلے پر مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے، جس کا مقصد غزہ میں جنگ کے خاتمے اور تمام یرغمالیوں کی رہائی کو یقینی بنانا ہے۔

    لاؤڈ اسپیکر کا غیر ضروری استعمال، عبادات میں خلل یا دینی خدمت؟

    جنوری کے جنگ بندی معاہدے کے مطابق، جب تک دوسرے مرحلے پر مذاکرات جاری رہیں، لڑائی دوبارہ شروع نہیں ہونی چاہیے تاہم، اسرائیل کے نئے بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر وہ مذاکرات کو غیر مؤثر سمجھے تو 42 دن بعد دوبارہ کارروائی شروع کر سکتا ہے۔

    یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ روز اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدے کا پہلا مرحلہ مکمل ہوا تھا۔

    مرے لہو کو چھڑک دو تمام گلشن میں.تحریر: مبشر حسن شاہ