Baaghi TV

Tag: حماس

  • اسرائیل،حماس جنگ بندی چند دنوں میں  ممکن، ٹرمپ کے ثالث کا دعویٰ

    اسرائیل،حماس جنگ بندی چند دنوں میں ممکن، ٹرمپ کے ثالث کا دعویٰ

    ٹرمپ کے ثالثی بشارہ بہبہ کا دعویٰ ہے کہ غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کا معاہدہ ’چند دنوں میں ممکن‘ ہے، جبکہ بشارہ بہبہ نے مصری اور قطری ثالثوں کے ساتھ مل کر یہ ثالثی کی ہے-

    مصری چینل ’الغد‘ کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد اب غزہ ایک بار پھر خطے کی ترجیح بن چکا ہے، جس سے معاہدے کے امکانات روشن ہوئے ہیں تاہم، ایک سینئر عرب سفارتکار نے ٹائمز آف اسرائیل سے بات کرتے ہوئے اتنی امید ظاہر نہیں کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل بدستور جنگ کے مستقل خاتمے سے متعلق واضح طور پر کوئی وعدہ نہیں کرنے سے انکار کررہا ہے، اسرائیل کی پیشکش یہ ہے کہ یرغمالیوں کی رہائی کو عارضی جنگ بندی کے دوران مرحلہ وار کیا جائے گا، اگرچہ ثالث بشارہ بہبہ نے واضح کیا کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کا اسرا ئیل اور حماس تنازع سے براہ راست تعلق نہیں ہے، تاہم قطری اور مصری ثالث اب اسرائیل-حماس تنازع کو ختم کرنے کے لیے زیادہ سنجیدہ اور پُرعزم ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان اختلافات بہت محدود رہ گئے ہیں اور اصل اختلاف صرف ایک بات پر رہ گیا ہے ، جو غالباً اس شق سے متعلق ہے کہ عارضی جنگ بندی کے اختتام پر اگر مستقل جنگ بندی پر اتفاق نہ ہوا تو کیا اسے خود بخود توسیع ملے گی یا نہیں، جیسا کہ حماس مطالبہ کر رہی ہے۔

    بشارہ بہبہ فی الحال مذاکرات کی پیشرفت کے حوالے سے مصر میں موجود ہیں، اس دوارن انہوں نے حماس کے سینئر رہنما غازی حمد سے ملاقات کی تاکہ باقی اختلافات پر بات چیت کی جاسکے یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق کئی تجاویز زیر غور ہیں جن میں کچھ مکمل اور کچھ جزوی نوعیت کی ہیں ایک اہم مقصد یہ بھی ہے کہ غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی میں تیزی لائی جائے، کیونکہ گزشتہ ماہ کے دوران اسرائیل روزانہ اوسطاً صرف 60 ٹرک داخل ہونے دے رہا ہے جو کہ اقوام متحدہ کے مطابق ضرورت سے کہیں کم ہے۔

  • غزہ :حماس کے حملے میں پلاٹون کمانڈر سمیت 7 اسرائیلی فوجی ہلاک

    غزہ :حماس کے حملے میں پلاٹون کمانڈر سمیت 7 اسرائیلی فوجی ہلاک

    غزہ کے علاقے خان یونس میں حماس کے حملے میں پلاٹون کمانڈر سمیت 7 اسرائیلی ہلاک ہوگئے جبکہ ایک جھڑپ میں ایک اسرائیلی فوجی شدید زخمی بھی ہوا۔

    برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اسرائیلی فوج نے بدھ کے روز بتایا کہ منگل کو جنوبی غزہ کی پٹی میں جھڑپ کے دوران اس کے پلاٹون کمانڈر سمیت 7 اہلکار ہلاک ہو گئے جبکہ ایک علیحدہ واقعے میں جنوبی غزہ ہی میں ایک اور اسرائیلی فوجی شدید زخمی بھی ہوا ہے یہ ساتوں فوجی خان یونس شہر میں اس وقت مارے گئے جب ان کی گاڑی کے نیچے نصب ایک دھماکہ خیز مواد پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں گاڑی میں آگ لگ گئی اسرائیلی فوج کے اعداد و شمار کے مطابق جون کے آغاز سے اب تک غزہ میں لڑائی کے دوران 19 اسرائیلی فوجی مارے جا چکے ہیں۔

    ترک نشریاتی ادارے انادولو کی جانب سے رواں ماہ شائع کی گئی اسرائیلی اخبار یدیعوت احارونوت کی رپورٹ کے مطابق ایک سینئر فوجی افسر نےبتایا ہے کہ غزہ پر جاری جنگ کے آغاز سے اب تک 10 ہزار سے زائد اسرائیلی فوجی ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں اہلکار ایسے بھی ہیں جو بار بار ذہنی صدمے میں مبتلا ہو رہے ہیں جبکہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2023 سے جاری غزہ جنگ میں 861 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 5 ہزار921 زخمی ہوئے ہیں تاہم فوجی افسر کی طرف سے دی گئی مجموعی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے، جو کہ اسرائیلی فوجی نظام پر گہرے اثرات کی نشاندہی کرتی ہے۔

    اسرائیل نے اکتوبر 2023 میں حماس کے حملے کے جواب میں اسرائیلی حملوں میں اب تک 56 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جب کہ 20 لاکھ سے زائد کی آبادی میں سے بیشتر بے گھر ہو چکی ہے اور علاقے میں شدید غذائی بحران پیدا ہو گیا ہے۔

  • حماس کا امریکی جنگ بندی تجویز سے اتفاق، اسرائیل کی تردید

    حماس کا امریکی جنگ بندی تجویز سے اتفاق، اسرائیل کی تردید

    حماس نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے امریکہ کی جانب سے پیش کردہ مجوزہ معاہدے سے اتفاق کر لیا ہے، جس کے تحت 60 روزہ جنگ بندی کے دوران 10 اسرائیلی قیدیوں کی مرحلہ وار رہائی عمل میں لائی جائے گی۔

    ذرائع کے مطابق معاہدے کے تحت ابتدائی طور پر 5 قیدیوں کو رہا کیا جائے گا، جبکہ باقی 5 قیدی جنگ بندی کے 60ویں روز اسرائیل کے حوالے کیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ قیدیوں کے ہمراہ کچھ لاشیں بھی اسرائیلی حکام کے حوالے کی جائیں گی۔

    دوسری جانب اسرائیلی حکام نے مجوزہ معاہدے پر رضامندی کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ "مذاکرات ابھی جاری ہیں، اسرائیل نے کسی شق پر حتمی رضامندی ظاہر نہیں کی، اور نہ ہی حماس کی رضامندی کی کوئی باضابطہ اطلاع ملی ہے۔”

    عرب نیوز ایجنسی کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس معاہدے کی حمایت اور ضامن کے طور پر کردار ادا کریں گے۔ معاہدے میں اس بات کی ضمانت شامل کی گئی ہے کہ پہلے دن سے غزہ میں غیر مشروط انسانی امداد فراہم کی جائے گی، اور اسرائیلی فوج کا مرحلہ وار انخلا بھی ممکن ہو گا۔

    ذرائع کے مطابق معاہدے کا مسودہ امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف اور حماس نمائندوں کے درمیان دوحہ میں ہونے والی ملاقات میں طے پایا، جس کے بعد یہ مسودہ اسرائیلی حکومت کو پیش کر دیا گیا ہے۔مزید پیش رفت کے لیے عالمی برادری اور علاقائی قوتیں معاہدے کی تصدیق اور عمل درآمد کی منتظر ہیں۔

    کراچی میں گرمی کی شدت برقرار

    شہباز شریف کا بھارت سے مذاکرات اور ایران کے نیوکلیئر پروگرام کی حمایت کا اعلان

    بھارت سے بغیر علاج واپس آئے 9 سالہ عبداللّٰہ کی اوپن ہارٹ سرجری کامیابی سے مکمل

    عید الاضحی پر زائد کرایہ وصولی کے خلاف سندھ حکومت کی کریک ڈاؤن مہم

    عالمی اور مقامی منڈیوں میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی

  • حماس غزہ میں 5 سالہ جنگ بندی کے بدلے اسرائیلی قیدیوں کی رہائی پر تیار

    حماس غزہ میں 5 سالہ جنگ بندی کے بدلے اسرائیلی قیدیوں کی رہائی پر تیار

    فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے کہا ہے کہ اگر غزہ میں 5 سال کے لیے وحشیانہ کارروائیاں روک دی جاتی ہیں تو اسرائیل کے تمام قیدیوں کو رہا کر دیا جائے گا۔

    غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق حماس کے ایک عہدیدار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حماس ایک ہی دفعہ قیدیوں کے تبادلے اور 5 سال کی جنگ بندی کے لیے تیار ہے، قبل ازیں فلسطینی تنظیم نے 17 اکتوبر کو جزوی جنگ بندی کی تجویز کی مخالفت کی تھی اور اسرائیل کی جانب سے 10 قیدیوں کے بدلے 45 روز کے لیے جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔

    ادھرغزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے اور اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے پر بات چیت کے لیے ہفتے کے روز قاہرہ میں حماس کے وفد اور مصری حکام کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہوگئے۔ اسی دوران اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی پر فوجی دباؤ بڑھانے کے اپنے ارادے کا اعلان کیا اور دھمکی دی ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو رفح ماڈل کو پٹی میں کسی اور جگہ پر بھی دہرایا جائے گا۔

    آرمی ریڈیو کے مطابق اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز کہا کہ ہم جلد از جلد غزہ کی پٹی پر فوجی دباؤ کو نمایاں طور پر بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں ہم نئے مقامات پر منتقل ہوں گے، اس دوران ریزرو فورسز کی بڑے پیمانے پر نقل و حرکت بھی کی جائے گی، اگر یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ہونے والی بات چیت کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا تو آپریشنل پلانز کے فریم ورک کے اندر تیار کردہ اضافی ٹولز کو جلد ہی فعال کر دیا جائے گا۔ صہیونی فوج نے مزید کہا کہ ہم غزہ کی پٹی کے دیگر مقامات پر رفح ماڈل کی نقل تیار کریں گے۔

    واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو جنگ شروع ہونے کے بعد حماس نے 251 اسرائیلیوں کو حراست میں لیا تھا جن میں سے درجنوں کو معاہدوں کے تحت رہا کیا گیا اور متعدد اسرائیلی حملوں میں مارے گئے تاہم اس وقت حماس کی قید میں 58 اسرائیلی موجود ہیں۔

    دریں اثنا غزہ کی وزارت صحت کے مطابق سات اکتوبر 2023 کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے غزہ کی پٹی میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد کم از کم 51,495 ہو گئی ہے۔

  • غزہ میں حماس کی حکومت کا برقرار رہنا اسرائیل کیلئے بہت بڑی شکست ہوگی،نیتن یاہو

    غزہ میں حماس کی حکومت کا برقرار رہنا اسرائیل کیلئے بہت بڑی شکست ہوگی،نیتن یاہو

    غزہ میں اسرائیلی فوج کی بمباری کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں 24 گھنٹوں میں مزید 60 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی بمباری کے دوران یرغمالی اسرائیلی نژاد امریکی فوجی عیدان الیگزینڈر لاپتہ ہوگیا،حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ نے بھی اسرائیلی فوج کےخلاف جوابی حملے کیے، گھات لگا کرکیے گئے حملے میں متعدد اسرائیلی فوجی ہلاک اور زخمی ہوگئے اسرائیلی فوج کے ٹینک اور ملٹری بلڈوزرکو بھی تباہ کردیا جب کہ شمالی غزہ میں اسرائیلی ڈرون تباہ ہوگیا۔

    ادھر مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی فوج کی جانب سے کارروائی کی گئی جس کے باعث مسیحیوں کو ان کے مقدس مقام پر جانے سے روک دیا گیا۔

    پنجاب:محکمہ صحت میں 6 ارب 23 کروڑ روپے کے اخراجات کا ریکارڈ غائب

    دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ہم فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے مطالبات کے سامنےجھک گئے تو غزہ میں دوبارہ جنگ نہیں کر سکیں گے ہم اس جنگ کا خاتمہ اس وقت تک نہیں کریں گے جب تک حماس کوختم نہ کردیں-

    اس نے کہا کہ غزہ میں حماس کی حکومت کا برقرار رہنا اسرائیل کے لیے بہت بڑی شکست ہوگی، ایسی شرائط پرجنگ کا خاتمہ پیغام دےگا کہ اغوا کاری کے ذریعےاسرائیل کو جھکایا جا سکتا ہے،جب تک تمام مغویوں کو واپس نہ لے آئیں،جنگ کو ختم نہیں کریں گے، حماس کی شرائط پر جنگ ختم کرنےکا کہنے والے اسرائیلی دانشور حماس کا پروپیگنڈا دہرا رہے ہیں۔

    ایک بار پھر ہیڈ کوچ کی تلاش شروع،پی سی بی نے اشتہار دیدیا

    غزہ جنگ پر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف عوامی مخالفت میں اضافہ ہو رہا ہے، ایک لاکھ 40 ہزار سے زائد اسرائیلی شہریوں اور فوجیوں نے غزہ جنگ ختم کرنے اور یرغمالیوں کی واپسی کی قرارداد پر دستخط کر دیئے۔

  • اسرائیل کے غزہ پر حملے،حماس کے سیاسی بیورو کے رہنما اہلیہ سمیت شہید

    اسرائیل کے غزہ پر حملے،حماس کے سیاسی بیورو کے رہنما اہلیہ سمیت شہید

    غزہ: اسرائیل نے غزہ میں حملے کرکے حماس کے سیاسی بیورو کے رہنما صلاح البردویل کو اہلیہ سمیت شہید کردیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیل کی جانب سے غزہ کے مختلف حصوں میں شدید بمباری کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں ہفتے کو مزید 34 فلسطینی شہید ہو گئے اسرائیلی حملے میں حماس کے سیاسی بیورو کے رہنما صلاح البردویل اہلیہ سمیت شہید ہو گئے۔

    اس کے علاوہ اسرائیل نے جنوبی لبنان کی وادی بیقا میں بھی حملے کیے جس سے شہید لبنانیوں کی تعداد 7 ہوگئی جبکہ لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کا کہنا ہے جنگ بندی پر کاربند ہیں۔

    بھارتی اسٹار ہاکی اولمپئینز نے شادی کر لی

    دوسری جانب اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب میں اسرائیلی وزیراعظم کے خلاف مظاہرے میں ہزاروں افراد نے شرکت کی اور یرغمالیوں کی واپسی کا مطالبہ بھی کیا،ادھر یمن پر امریکی حملے جاری ہیں اور حدیدہ میں بندرگاہ کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

    26 نومبر احتجاج : وزیراعظم و دیگر کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست خارج کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری

  • حماس  کا اسرائیل پر میزائلوں سے حملہ

    حماس کا اسرائیل پر میزائلوں سے حملہ

    اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی معاہدہ توڑے جانے کے بعد حماس نے پہلی بار اسرائیل پر میزائلوں سے حملہ کردیا، جس کے بعد وسطی اسرائیل میں سائرن بج اٹھے۔

    باغی ٹی وی : اسرائیلی فوج کے مطابق جنوبی غزہ سے تین پروجیکٹائل گش دان اور حشفیلہ پر فائر کیے گئے حماس کی القسام بریگیڈ کا کہنا ہے کہ میزائل حملے صہیونی فوج کے ہاتھوں قتل عام کے جواب میں کیے گئے، اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ ایک میزائل کوروک دیا گیا، جبکہ دو کھلے علاقے میں گرے۔

    جمعرات کو حماس نے غزہ سے اسرائیل پر راکٹ داغے، جو اسرائیل کی جانب سے غزہ پر دوبارہ حملوں کے جواب میں کیے گئے۔ یہ حملے اس جنگ بندی کے خاتمے کے بعد پہلی بڑی کارروائی ہے جو دو ماہ سے جاری تھی۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق تین راکٹ فائر کیے گئے، جن میں سے ایک کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا جبکہ دو غیرآباد علاقے میں گرے، اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    حماس کے عسکری ونگ، القسام بریگیڈز نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ’گہرائی میں مقبوضہ علاقے، تل ابیب پر ایم 90 راکٹوں کی بارش‘ کی، جو اس ہفتے غزہ پر اسرائیلی حملوں کا ردعمل تھا، جس میں سیکڑوں فلسطینی شہید ہوئے۔

    یہ راکٹ حملے اس وقت ہوئے جب اسرائیل نے منگل کو فضائی حملے کرکے غزہ میں جنگ بندی کو توڑا، جس کے بعد بدھ کو زمینی آپریشن کا آغاز کیا گیا اسرائیل کو یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے بھی میزائل حملے کا سامنا کرنا پڑا، ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے اسرائیل پر ایک بیلسٹک میزائل داغنے کا دعویٰ کیا، جسے اسرائیلی فوج نے راستے میں ہی تباہ کر دیا۔

    بدھ کے روز یروشلم میں اسرائیلی پارلیمنٹ ”کنیسٹ“ کے باہر ہزاروں مظاہرین نے نیتن یاہو کے خلاف احتجاج کیا، جنہوں نے غزہ میں جنگ دوبارہ شروع کرنے کی مخالفت کی،سیاسی ماہرین کے مطابق، نیتن یاہو کو اپنی حکومت برقرار رکھنے کے لیے جنگ کا سہارا لینا پڑا، کیونکہ ان کی حکومت اندرونی اختلافات کے باعث خطرے میں تھی۔
    https://login.baaghitv.com/wp-admin/edit-comments.php
    منگل کو اسرائیلی حملوں کے بعد، جن میں غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 400 سے زائد افراد شہید ہوئے، دائیں بازو کے انتہا پسند وزیر اتمار بن گویر نے نیتن یاہو کی حکومت میں واپسی کا اعلان کر دیا۔

    بن گویر نے جنوری میں اس وقت حکومت چھوڑ دی تھی جب اسرائیل نے حماس کے ساتھ جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔ تاہم جمعرات کو قومی سلامتی کی وزارت میں ایک اجلاس کے دوران انہوں نے کہا کہ وہ ’دو ماہ کے وقفے کے بعد واپسی پر خوش ہیں، بن گویر کی واپسی نیتن یاہو کے لیے ایک بڑی سیاسی مدد ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ انہیں 31 مارچ تک اسرائیل کا بجٹ پاس کروانا ہے، بصورت دیگر نئے انتخابات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    رات بھر اسرائیل نے غزہ میں بمباری جاری رکھی، جس میں فلسطینی حکام کے مطابق کم از کم 85 افراد شہید ہوئے، جبکہ ملبے تلے مزید افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ہے،اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے نیتزاریم کوریڈور کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا ہے، جو غزہ کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتا ہے۔ اس راہداری کی مدد سے اسرائیل نے وسطی غزہ سٹی اور شمالی علاقوں کو جنوبی غزہ سے الگ کر دیا ہے، جو مصر کی سرحد سے متصل ہے۔

  • حماس سے شکست تسلیم کرنے والا اعلیٰ فوجی افسر  نوکری سے فارغ

    حماس سے شکست تسلیم کرنے والا اعلیٰ فوجی افسر نوکری سے فارغ

    تل ابیب: اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے حماس سے شکست تسلیم کرنے والے ملک کی داخلی سیکیورٹی ایجنسی شِن بیٹ کے سربراہ رونن بار کو عہدے سے فارغ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ سیکیورٹی ادارے کے سربراہ پر مکمل اعتماد ہونا ضروری ہے، اور اب انہیں رونن بار پر اعتماد نہیں رہا،اسرائیلی وزیراعظم کا یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب شِن بیٹ نے 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے کو روکنے میں ناکامی تسلیم کی تھی، جبکہ اسرائیلی حکومت کو بھی اس سانحے میں ملوث ہونے کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

    رپورٹ کے مطابق رونن بار کی جانب سے برطرف ہونے پر بیان سامنے آیا کہ وہ مکمل ایمانداری اور ملک کے مفاد میں کام کر رہے تھے، اور ان کی برطرفی سیاسی عزائم کے تحت کی جا رہی ہے، نیتن یاہو کے قریبی شخص کے مطابق، رونن بار کو برخاست کرنے کا فیصلہ بدھ کے روز حکومت کو پیش کیا جائے گا، تاہم اس فیصلے پر عدالت میں اختلاف کیا جا سکتا ہے۔

    سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا: پی ٹی آئی کے 16 ارکان کل دوبارہ طلب

    یہ تنازع اس وقت مزید پیچیدہ ہوگیا جب نیتن یاہو کے قریبی مشیروں کے خلاف ”قطر گیٹ“ اسکینڈل کی تحقیقات شروع ہوئیں، اس اسکینڈل میں قطر سے مبینہ مالی ادائیگیاں نیتن یاہو کے دفتر میں پہنچنے کا الزام ہےجس کے تحت قطر کی اسرائیل میں ساکھ بہتر بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔

    اداکارہ ریما خان کی اپیل،عدالت نے پنجاب حکومت سے جواب طلب کرلیا

    رپورٹ میں کہا گیاکہ اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لاپڈ نےنیتن یاہو پر الزام عائد کیا کہ وہ سیکیورٹی چیف کو ہٹا کر قطر گیٹ اسکینڈل کی تحقیقات کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، بار نے کہا کہ تحقیقات صرف فوج اور سیکورٹی ایجنسیوں پر نہیں بلکہ حکومت اور وزیر اعظم کو بھی دیکھنا چا ہئے ان کا خیال ہے کہ وزیر اعظم نے حملے سے ایک سال پہلے سیکورٹی ایجنسیوں کی جانب سے اہم انتباہات کو نظر انداز کیا تھا۔

    اداکارہ ریما خان کی اپیل،عدالت نے پنجاب حکومت سے جواب طلب کرلیا

  • ٹرمپ انتظامیہ کے حماس کے ساتھ خفیہ مذاکرات،اسرائیل میں شدید تشویش

    ٹرمپ انتظامیہ کے حماس کے ساتھ خفیہ مذاکرات،اسرائیل میں شدید تشویش

    امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اور حماس کے درمیان خفیہ مذاکرات پر اسرائیل کی شدید تشویش سامنے آئی ہے۔

    باغی ٹی وی: امریکی نیوز ویب سائٹ ”ایگزیوس“ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیا مین نیتن یاہو کے قریبی ساتھی اور امریکی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ کے درمیان ایک سخت گفتگو ہوئی، جس میں اسرائیل نے ان مذاکرات پر شدید اعتراض کیا۔

    ٹرمپ کے مشیروں نے فروری کے اوائل میں اسرائیلی حکام سے حماس سے براہ راست رابطے کے امکان پر بات کی تھی، جس پر اسرائیل نے انہیں ایسا کرنے سے منع کیا تھا، خاص طور پر بغیر کسی شرط کے تاہم، اسرائیل کو بعد میں معلوم ہوا کہ امریکہ ان مذاکرات کو آگے بڑھا رہا ہے۔

    خواتین کا عالمی دن، صبا قمر دیہی خواتین کے پاس پہنچ گئیں

    امریکی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ ایڈم بوہلر نے دوحہ میں حماس کے سینئر رہنما خلیل الحیۃ سے ملاقات کی ان مذاکرات کا بنیادی مقصد امریکی یرغمالی ایڈن الیگزینڈر اور چار دیگر امریکیوں کی باقیات کی واپسی تھا تاہم، امریکہ کی جانب سے عندیہ دیا گیا کہ اگر یہ معاہدہ طے پاتا ہے تو ٹرمپ اسرائیل پر مزید دباؤ ڈال سکتے ہیں، جس میں طویل مدتی جنگ بندی، حماس قیادت کے لیے محفوظ راستہ، اور تمام یرغما لیوں کی رہائی شامل ہو سکتی ہے۔

    اسرائیل نے ان مذاکرات میں فلسطینی قیدیوں کی رہائی جیسے نکات پر بھی اعتراض کیا، کیونکہ ان امور پر اس کی پیشگی منظوری نہیں لی گئی تھی نیتن یاہو نے ابتدا میں ان مذاکرات کو سنجیدگی سے نہیں لیا تھا، لیکن جب انہیں حقیقت کا روپ دھارتے دیکھا تو ان کی تشویش میں اضافہ ہوا۔

    خواتین کو آگے لانا پوری قوم کے مفاد میں ہے،صدر مملکت

    ٹرمپ اور ان کے مشیروں نے بدھ کو ایک طویل اجلاس میں ان مذاکرات پر بات کی اور فیصلہ کیا کہ حماس پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایک سخت عوامی بیان جاری کیا جائے بعد ازاں، ٹرمپ نے ایک بیان میں حماس کو آخری وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ تمام یرغمالیوں کو فوری رہا کیا جائے۔

    ٹرمپ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف آئندہ ہفتے خطے کا دورہ کریں گے اور ان کا کہنا ہے کہ ایڈن الیگزینڈر کی رہائی ان کی اولین ترجیح ہے ان کا کہنا تھا کہ اگر حماس مثبت رویہ اختیار کرتی ہے تو اسے ”سیاسی فوائد“ حاصل ہو سکتے ہیں، لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو اسرائیل کی جانب سے ”کارروائی“ متوقع ہے۔

    بھارت میں اسرائیلی خاتون سیاح کے ساتھ اجتماعی زیادتی

  • ٹرمپ انتظامیہ کاحماس کی حمایت کرنے والے طلبہ کے خلاف کارروائی کا اعلان

    ٹرمپ انتظامیہ کاحماس کی حمایت کرنے والے طلبہ کے خلاف کارروائی کا اعلان

    ٹرمپ انتظامیہ نے ان غیر ملکی طلبہ کے خلاف سخت اقدامات کا فیصلہ کیا ہے جو سوشل میڈیا پر حماس کی حمایت کرتے ہیں۔ اس پالیسی کے تحت انتظامیہ مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے طلبہ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی نگرانی کرے گی اور اگر ان کی سرگرمیاں حماس کی حمایت میں پائی گئیں تو ان کے ویزے منسوخ کر دیے جائیں گے۔

    امریکی میڈیا کے مطابق فلسطینیوں کے حق میں ہونے والے مظاہروں کے مرکز سمجھی جانے والی کولمبیا یونیورسٹی کی 400 ملین ڈالر کی وفاقی گرانٹ بھی منسوخ کر دی گئی ہے۔ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یونیورسٹی اپنی حدود میں موجود یہودی طلبہ کو ہراساں کیے جانے سے روکنے میں ناکام رہی ہے اور گرانٹ کی معطلی اسی تناظر میں کی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ گرانٹ منسوخی کے پہلے مرحلے کے طور پر کیا گیا ہے، اور مستقبل میں مزید اقدامات بھی متوقع ہیں۔

    یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کی مختلف جامعات میں اسرائیل-فلسطین تنازعے پر مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ پچھلے برس کولمبیا یونیورسٹی میں فلسطینیوں کے حق میں ہونے والے احتجاج نے امریکا بھر کی یونیورسٹیوں میں ایک تحریک کو جنم دیا تھا، جس کے بعد انتظامیہ اور حکومتی ادارے اس پر سخت اقدامات کے لیے دباؤ میں تھے۔طلبہ اور انسانی حقوق کے کارکنان نے ان اقدامات کو آزادی اظہار کے خلاف قرار دیا ہے، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہودی طلبہ کی حفاظت اور قومی سلامتی کے پیش نظر یہ پالیسیاں بنائی جا رہی ہیں۔

    متاثرہ طلبہ اور تعلیمی ادارے اس اقدام کے خلاف قانونی چارہ جوئی پر غور کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت کے ذریعے طلبہ کی نگرانی کا یہ عمل شروع ہو گیا تو اس کے دور رس اثرات ہوں گے اور یہ پالیسی دیگر جامعات اور ممالک تک بھی پھیل سکتی ہے۔