Baaghi TV

Tag: حماس

  • ڈیڈلاک ختم، اسرائیل نے 456 فلسطینی قیدی رہا کردیے، 97 مصر جلاوطن

    ڈیڈلاک ختم، اسرائیل نے 456 فلسطینی قیدی رہا کردیے، 97 مصر جلاوطن

    اسرائیل اور حماس میں قیدیوں کے تبادلے پر ایک ہفتے سے جاری ڈیڈ لاک ختم ہوگیا۔

    قطری نشریاتی ادارے کے مطابق حماس کی جانب سے 4 اسرائیلی قیدیوں کی میتیں اسرائیل کے حوالے کردی گئیں، بدلے میں اسرائیل کی جیلوں میں قید 456 فلسطینیوں کو رہا کر دیا گیا جو غزہ کے یورپی ہسپتال پہنچ گئے ہیں، 97 فلسطینی قیدیوں کو مصر جلا وطن کیا گیا ہے، اسرائیل نے مجموعی طور پر 642 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنا تھا۔مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی قید سے رہائی پانے والے فلسطینی شہریوں کے پہنچنے پر جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے، رہا ہونے والے درجنوں فلسطینی قیدی عمر قید اور طویل سزائیں کاٹ رہے تھے، جو اپنے اہل خانہ سے دوبارہ مل رہے ہیں۔ اسرائیل نے 97 فلسطینیوں کو مصر جلاوطن کر دیا۔

    اس سے قبل حماس نے ریڈ کراس کے ذریعے 4 قیدیوں کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کی تھیں، اسرائیل نے ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں شناخت کرنے کے بعد فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا ہے۔غزہ کی وزارت صحت نے 7 اکتوبر 2023 سے اسرائیل کی بمباری میں اب تک 48 ہزار 300 سے زائد فلسطینیوں کی شہادت کی تصدیق کی ہے، جب کہ ایک لاکھ 11 ہزار 761 فلسطینی زخمی قرار دیے ہیں، تاہم سرکاری میڈیا آفس نے شہادتوں کی تعداد کم از کم 61 ہزار 709 بتائی ہے اور کہا ہے کہ ملبے تلے دبے ہزاروں فلسطینیوں کو مردہ تصور کیا جا رہا ہے۔7 اکتوبر 2023 کو حماس کی زیر قیادت حملوں کے دوران اسرائیل میں کم از کم ایک ہزار 139 اسرائیلی شہری ہلاک ہوئے تھے اور 200 سے زائد کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔

    24 بچوں اور 2 بالغوں کی رہائی مؤخر
    فلسطینی قیدیوں کے میڈیا آفس نے خان یونس کے یورپی ہسپتال کے نرسنگ ڈپارٹمنٹ کے سربراہ صالح الحمس کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے کہ رہا ہونے والے 456 قیدی یورپی ہسپتال پہنچے ہیں، ہسپتال کا عملہ 24 بچوں اور 2 بالغ قیدیوں کی آمد کی توقع کر رہا تھا لیکن اسرائیلی حکام نے ان کی رہائی میں تاخیر کی ہے۔رہا کیے جانے والے قیدی انتہائی اذیت ناک حالت میں ہیں، ان میں سے کچھ مار پیٹ اور تشدد کی شدت کی وجہ سے چل بھی نہیں سکتے، زیادہ تر قیدی جلد کی بیماریوں میں مبتلا ہیں اور ایک کو پھیپھڑوں کے فائبروسِس میں مبتلا ہونے کی وجہ سے رات بھر نگہداشت میں رکھا گیا تھا۔

    انہوں نے بتایا کہ رہائی پانے والے تمام قیدیوں کو خارش کی دوا دی گئی، قیدیوں کو سینے کے حصے پر شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا، جس کی وجہ سے پسلیاں ٹوٹی ہوئی ہیں۔ایک سابق قیدی ذیابیطس کی وجہ سے کٹے ہوئے ہاتھ کے ساتھ اور دوسرا کٹے ہوئے پاؤں کے ساتھ ہسپتال آیا تھا۔

    اسرائیلی صدر کی لاشوں کی شناخت کی تصدیق
    اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ نے اسرائیلی قیدیوں کی چاروں لاشوں کی شناخت کی تصدیق کی گئی ہے۔شلومو منصور، اتزک ایلگارات اور احد یہلومی کی شناخت کی تصدیق ہو چکی تھی، اسرائیل نے اب ساچی عدن کی باقیات کی شناخت کی ہے۔اسرائیلی صدر نے کہا کہ قید سے ہمارے بھائیوں کی لاشوں کی واپسی اس ذمہ داری پر زور دیتی ہے کہ ہم غزہ میں قید سے اغوا ہونے والے تمام افراد کو فوری طور پر واپس لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں۔

    نیتن یاہو کا الیکشن سے بچنے کیلئے جنگ بندی سے گریز
    یونیورسٹی آف سان فرانسسکو میں مشرق وسطیٰ کے مطالعے کے ڈائریکٹر اسٹیفن زونس کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات پر اطمینان ہے کہ قیدیوں کا تبادلہ مکمل ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کا دوسرا مرحلہ بہت مشکل ہونے جا رہا ہے، خاص طور پر اسرائیلیوں کے ان علاقوں پر قبضہ کرنے کے رجحان کو دیکھتے ہوئے جنہیں انہوں نے فتح کیا ہے، مثال کے طور پر اسرائیل نے لبنان سے انخلا سے انکار کر دیا ہے، کیونکہ وہ اس بات پر متفق ہیں کہ وہ شام میں اپنے قبضے کو بڑھاتے رہیں۔

    اسٹیفن زونس نے کہا کہ اس بات کا احساس ہے کہ نیتن یاہو سیاسی دباؤ اور انتخابات سے بچنے کے لیے جنگ کے مکمل خاتمے میں تاخیر کر رہے ہیں، یقیناً یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے، اس بات کی کوئی توقع نہیں ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نیتن یاہو کو ’سمجھوتے‘ پر مجبور کرے گی۔ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک ٹرمپ کا تعلق ہے، وہ شاید احتجاج کے بغیر جنگ دوبارہ شروع کریں گے لہٰذا یہ اسرائیلی سول سوسائٹی اور عالمی دباؤ کے دیگر اقدامات پر منحصر ہوگا۔

  • اسرائیل کا خاتمہ کب ہوگا؟ حماس کے بانی شیخ احمد یاسین کی پیشگوئی وائرل

    اسرائیل کا خاتمہ کب ہوگا؟ حماس کے بانی شیخ احمد یاسین کی پیشگوئی وائرل

    غزہ: فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے بانی شیخ احمد یاسین شہید کا ایک پرانا انٹرویو دوبارہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے، جس میں انہوں نے اسرائیل کے خاتمے سے متعلق ایک پیشگوئی کی تھی۔

    باغی ٹی وی : 1999 میں ایک عرب میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے ان سے اسرائیل کے مستقبل کے بارے میں سوال کیا گیا، جس پر انہوں نے کہا کہ "اسرائیل کی بنیاد ظلم پر ہے، اور ظلم پر قائم کوئی چیز ہمیشہ نہیں رہتی، دنیا میں کوئی طاقت ہمیشہ نہیں رہتی، جیسے انسا ن بچپن، جوانی اور بڑھاپے کے مراحل سے گزرتا ہے، اسی طرح ممالک بھی ختم ہو جاتے ہیں۔

    شیخ احمد یاسین نے اس انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ 21ویں صدی کے پہلے 25 سالوں میں اسرائیل کا وجود ختم ہو جائے گا، اور سال 2027 میں اسرائیل نہیں رہے گا،جب ان سے اس مخصوص سال کی وضاحت پوچھی گئی، تو انہوں نے کہا کہ: "قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ 40 سال میں ایک نسل تبدیل ہوتی ہے۔”

    نیپرا نے این ٹی ڈی سی پر ایک کروڑ جرمانہ عائد کر دیا

    انہوں نے تاریخی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ: پہلے 40 سال (1948-1987) میں نکبہ ہوا، جب فلسطینیوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کیا گیا، اگلے 40 سال (1987-2027) میں انتفاضہ اور مسلح جھڑپوں کا دور رہا، اگلے 40 سال میں اسرائیل ختم ہو جائے گا۔

    واضح رہے کہ شیخ احمد یاسین نے 1987 میں حماس کی بنیاد رکھی 1982 اور 1991 میں اسرائیل نے انہیں قید میں رکھا، لیکن بعد میں قیدیوں کے تبادلے میں رہا کر دیا گیا، 22 مارچ 2004 کو اسرائیل نے غزہ میں فضائی حملہ کر کے نمازِ فجر کے دوران انہیں شہید کر دیا۔

    آج ہمیں سب کچھ بھول کر مستقبل کے بارے لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا،بیرسٹر گوہر

  • ٹرمپ کیجانب سے  اے آئی سے تیار کردہ ویڈیو پرحماس کا شدید ردعمل

    ٹرمپ کیجانب سے اے آئی سے تیار کردہ ویڈیو پرحماس کا شدید ردعمل

    فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نےسابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اے آئی سے تیار کردہ ویڈیو پوسٹ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : رپورٹ کے مطابق 33 سیکنڈ کے ویڈیو کلپ میں منگل کی رات ابتدائی پوسٹ کے چند گھنٹوں بعد بھی کسی تردید یا واپسی کے بغیر ٹرمپ کے اکاؤنٹس پر موجود رہا، سوشل میڈیا صارفین نے حمایت اور تنقید دونوں کے ساتھ رد عمل کا اظہار کیا، لیکن بہت سے لوگوں نے سوال کیا کہ کیا ٹرمپ نے خود مونٹاج پوسٹ کیا تھا؟

    ویڈیو میں غزہ کو ایک پرتعیش ریزورٹ کے طور پر دکھایا گیا، جس میں ٹرمپ کا سنہری مجسمہ، ایلون مسک کو غزہ کے بچوں میں ڈالرز نچھاور کرتے دکھایا گیا۔ اس کے علاوہ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم کو سوئمنگ پول کنارے کاک ٹیلز پیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

    یہ لطیفہ ہے کہ امریکا بانی پی ٹی آئی کو رہائی دلائے گا،احسن اقبال

    ویڈیو کا عنوان ’غزہ 2025 آگے کیا ہوگا؟‘ تھا جس کے آغاز میں ٹوٹی اور سڑکوں پر لوگوں کو ایک سرنگ سے نکل کر کھجور کے درختوں اور کشتیوں کے ساتھ ساحل سمندر پر نکلتے ہوئے دکھایا گیا ہے،تاہم اب ٹرمپ کی شئیر کردہ غزہ سے متعلق اے آئی پر مبنی ویڈیو پر حماس کا سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔

    حماس کے پولیٹیکل بیورو کے ترجمان اور رکن باسم نعیم نے ایک انٹرویو میں ویڈیو پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر کی طرف سے پیش کردہ غزہ کا خیال وہاں رہنے والے فلسطینی عوام کی ثقافت یا مفادات کی عکاسی ظاہر نہیں کرتا،افسوس کی بات ہے کہ ٹرمپ ایک بار پھر ایسے خیالات تجویز کر رہے ہیں جس نے غزہ کے لوگوں کی ثقافت اور مفادات کو نظر انداز کیا۔

    جنرل ساحر شمشاد مرزا کی ازبک نائب وزیرِ دفاع سے ملاقات

    حماس ترجمان نے کہا کہ غزہ کے لوگ اس دن کی امید رکھتے ہیں جب غزہ کی تعمیر نو ہو گی، اس کی معیشت بحال ہو گی، اور اس کے بچو ں کے لیے ایک بہتر مستقبل تخلیق کیا جائے گا لیکن غزہ ایک بڑی جیل بنا ہوا ہے جس میں یہ سب ابھی ممکن نہیں،ہم جیل کے حالات بہتر کرنے کے لیے نہیں لڑ رہے ہیں، بلکہ جیل اور اس کے محافظوں سے بچنے کے لیے لڑ رہے ہیں۔

    مصطفیٰ عامر قتل کیس :اہم گواہ نے ملزمان رمغان اور شیراز کو شناخت کرلیا

  • مولانا فضل الرحمان کی قطر میں حماس رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں

    مولانا فضل الرحمان کی قطر میں حماس رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں

    دوحہ: جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قطر میں حماس رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں کی ہیں۔

    باغی ٹی وی: ترجمان جے یو آئی اسلم غوری کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے حماس کے سابق سربراہ ڈاکٹر خالد مشعل سے ملاقات کی، ملاقات میں علامہ راشد محمود سومرو، مفتی ابرار احمد اورحماس رہنما ڈاکٹرظہیر ناجی بھی موجود تھے۔

    ترجمان جے یوآئی کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے حماس رہنماؤں کو پاکستانی عوام کے جذبات سے آگاہ کیا، انہوں نے شہدا کی تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی، مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستانی عوام کے دل اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں، اسرائیل جنگی مجرم اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

    حماس کے سابق سربراہ ڈاکٹرخالد مشعل نے کہا کہ فلسطینی مسلمان اپنے مسلمان بھائیوں کی امداد کے منتظر ہیں، فلسطینی مسلمانوں کودوائیوں،خیموں اورراشن کی اشد ضرورت ہے،ترجمان جے یو آئی نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے حماس رہنماؤں کو ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی۔

    حماس کی مجلس شوریٰ کے سربراہ ابوعمر نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان اور جے یو آئی امت مسلمہ کی طرف سے فرض کفایہ ادا کررہے ہیں گھروں کی تعمیر، خیموں، دواؤں اور سحر و افطار میں پاکستانی عوام اور امت مسلمہ سے تعاون کی اپیل کرتے ہیں۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستانی عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔

  • اسرائیل کی طرف سے فلسطینی قیدیوں کی رہائی روکنے پر حماس کا شدید ردعمل

    اسرائیل کی طرف سے فلسطینی قیدیوں کی رہائی روکنے پر حماس کا شدید ردعمل

    تل ابیب: اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی جانب سے حماس کے رہا کیے گئے 6 یرغمالیوں کے بدلے فلسطینی قیدیوں کی طے شدہ رہائی کو مؤخر کرنے پر حماس نے سخت ردعمل دیا ہے-

    باغی ٹی وی : اسرائیلی وزیراعظم آفس نے اپنے بیان میں کہا کہ حماس کی مسلسل خلاف ورزیوں اور قیدیوں کی رہائی کو پروپیگنڈا کے لیے استعمال کرنے کے باعث فلسطینی قیدیوں کی رہائی روک دی گئی ہے،تاہم حماس نے اس فیصلے کو جنگ بندی معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی سازش قرار دیا ہے حماس نے کہا کہ غزہ میں قیدیوں کی رہائی کا منظر دو اسرائیلی یرغمالیوں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا، جس کی ویڈیو بھی جاری کر دی گئی ہے، ان دونوں یرغمالیوں نے اپنی حکومت سے فوری رہائی کی اپیل کی ہے۔

    واضح رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے حماس کی جانب سے 6 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بعد 600 سے زائد فلسطینی قیدیوں کی طے شدہ رہائی کو موخر کر دیا ہے۔

    چیمپئنز ٹرافی: صدر مرکزی مسلم لیگ کا قومی ٹیم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار

    اسرائیلی وزیراعظم آفس کے مطابق حماس نے قیدیوں کی رہائی کے دوران سیاسی پروپیگنڈے کا سہارا لیا، جس کے باعث اسرائیلی حکومت نے فلسطینی قیدیوں کی رہائی مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے نیتن یاہو نے واضح کیا کہ جب تک یرغمالیوں کی رہائی کسی تقریب کے بغیر نہیں ہوتی، فلسطینی قیدیوں کو آزاد نہیں کیا جائے گا۔

    ادھر مغربی کنارے میں سینکڑوں فلسطینی خاندان اپنے پیاروں کی رہائی کے انتظار میں شدید اضطراب کا شکار ہیں۔ کئی فلسطینی سالوں سے اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں اور جنگ بندی معاہدے کے تحت ان کی رہائی کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔

    پی آئی اے کے طیارے سے پرندہ ٹکرانے سے لاکھوں روپے کا نقصان

  • رہائی کے وقت اسرائیلی یرغمالی کاحماس اہلکاروں کے ماتھے پر بوسہ

    رہائی کے وقت اسرائیلی یرغمالی کاحماس اہلکاروں کے ماتھے پر بوسہ

    فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس نے غزہ جنگ بندی معاہدے کے تحت 602 فلسطینی قیدیوں کے بدلے 6 اسرائیلی یرغمالیوں کو ریڈکراس کے حوالےکر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی: رہا کیےگئے 3 اسرائیلی یرغمالی نصیرات کیمپ میں ریڈکراس کے حوالےکیےگئے، تقریب کے دوران اسٹیج پر کھڑے تینوں اسرائیلیوں نے ہاتھ ہلاکر فلسطینیوں کا شکریہ ادا کیا، اس موقع پر ایک اسرائیلی عومر شیم توف نے 2 حماس کے اہلکاروں کے ماتھوں پر بوسہ بھی دیا جس کی ویڈیو وائرل ہوگئی ہے۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کو حماس اور اسلامی جہاد کی جانب سے یرغمال بنائےگئے ان تینوں افراد نے 505 دن غزہ میں گزارے اور اب وہ اسرائیل میں پہنچ چکے ہیں جہاں ان کا طبی معائنہ کیا جارہا ہے۔

    ٹرائبل یونین آف جرنلسٹس کے انتخابات مکمل، حسبان اللہ صدر منتخب

    دوسری جانب حماس کا کہنا ہے کہ یرغمالیوں کی رہائی کا منظر فلسطینی عوام، مزاحمتی دھڑوں کے اتحاد کا عکاس ہے، فلسطینی عوام اور مزاحمتی دھڑوں کے درمیان ہم آہنگی گہری اور مضبوط ہے، آج یرغمالیوں کی حوالگی کے دوران عوام کی بڑی تعداد دشمن اور اس کے حامیوں کے لیے نیا پیغام ہے۔

    واضح رہے کہ جنگ بندی کے آغاز کے بعد سے اب تک 22 یرغمالیوں کو اسرائیل کے حوالے کیا جا چکا ہے جن میں تین لاشیں شامل ہیں، اس کے مقابل 1100 سے زیادہ فلسطینی گرفتار شدگان کو رہا کیا گیا ہےفائر بندی معاہدے کے پہلے مرحلے میں جو یکم مارچ کو اختتام پذیر ہو گا، حماس کی جانب سے 33 یرغمالیوں کی رہائی مذکور ہے جن میں آٹھ لاشیں شامل ہیں، اس کے مقابل اسرائیل کی جیلوں سے 1900 فلسطینی رہا کیے جائیں گے-

    افریقہ-1 سب میرین انٹرنیٹ کیبل پی ٹی سی ایل سے منسلک کردی گئی

  • حماس نے اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں حوالے کرتے وقت اسٹیج پر امریکی ساختہ بم کیوں رکھے؟

    حماس نے اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں حوالے کرتے وقت اسٹیج پر امریکی ساختہ بم کیوں رکھے؟

    غزہ: فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے آج غزہ جنگ بندی معاہدے کے تحت 4 اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں ریڈ کراس کے حوالے کیں اور اس دوران اسٹیج پر لاشوں کے ساتھ امریکی ساختہ بم بھی رکھے نظر آئے۔

    باغی ٹی وی: عرب میڈیا کے مطابق حماس نےغزہ جنگ بندی معاہدے کے تحت آج 4 اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں ریڈ کراس کے حوالےکیں حماس کی قید میں چاروں اسرائیلی یرغمالی اسرائیل کی غزہ میں بمباری میں مارے گئے تھےحماس نے چاروں فلسطینیوں کی لاشیں خان یو نس میں ریڈ کراس کے حوالے کیں-

    یرغمالیوں کی لاشیں ریڈ کراس کے حوالے کرنے کی تقریب میں اسٹیج پر رکھے امریکی بم فضا سے زمین پر مار کرنے والے جی بی یو 39 بم تھے،حماس کی جانب سے ان امریکی ساختہ بموں پر ایک تحریر بھی درج تھی جس میں ہلاک ہو نے والے اسرائیلی یرغمالیوں کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ یہ امریکی بموں سے ہلاک ہوئے۔

    ہیکرز نےونڈوز اور مائیکروسافٹ آفس مفت میں ایکٹیویٹ کرنے کا ٹول جاری کردیا

    واضح رہے کہ حماس کی جانب سے متعدد مرتبہ اسرائیلی بمباری میں غزہ میں موجود اسرائیلی یرغمالیوں کو نشانہ بنائے جانے کا اعلان کیا جاتا رہا ہےمغربی میڈیا بھی اسرائیلی کی جانب سے غزہ میں بمباری کے لیے امریکی ساختہ جی بی یو 39 بموں کے استعمال کے بارے میں بتایا جاتا رہا ہے۔

    کراچی: سفاری پارک کی دو ہتھنیوں میں ٹی بی کی تشخیص

    گزشتہ برس مئی میں امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کیجانب سےانکشاف کیاگیاتھا اسرائیلی فوج نےغزہ کےعلاقےرفح میں بے گھر فلسطینیوں کے کیمپ کو امریکی ساختہ جی بی یو 39 بموں سے نشانہ بنایا، اس اسرائیلی حملے کے باعث کیمپ میں آگ بھڑک اٹھی تھی جس کے نتیجے میں 40 سے زائد فلسطینی شہید اور 249 زخمی ہوگئے تھے۔

    ایف آئی اے کی انسانی اسمگلنگ کیخلاف 2 ماہ کی کارکردگی رپورٹ جاری

    امریکی نیوز چینل سی این این نے بھی گزشتہ سال اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ اسرائیلی فوج نے غزہ کے علاقے خان یونس میں ایک اسکول پر امریکی ساختہ جی بی یو 39 بموں کے ذریعے بمباری کی جس میں کم از کم 27 فلسطینی شہید اور 57 زخمی ہوگئے تھے

  • حماس نے اسرائیلی بمباری میں ہلاک 4 یرغمالیوں کی لاشیں ریڈ کراس کے حوالے کردیں

    حماس نے اسرائیلی بمباری میں ہلاک 4 یرغمالیوں کی لاشیں ریڈ کراس کے حوالے کردیں

    غزہ:فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس نے غزہ جنگ بندی معاہدے کے تحت 4 اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں ریڈ کراس کے حوالے کر دیں۔

    باغی ٹی وی : حماس کی قید میں موجود چاروں اسرائیلی یرغمالی اسرائیل کی غزہ میں بمباری میں مارے گئے تھے حماس نے چاروں فلسطینیوں کی لاشیں خان یونس میں ریڈ کراس کے حوالے کیں،اس دوران حماس کی جانب سے بینر بھی آویزاں کیے گئے تھے جن پر درج تھا جنگی مجرم نیتن یاہو اور اس کی نازی فوج نے صیہونی لڑاکا طیاروں سے میزائل برسائے، صیہونی لڑاکا طیاروں سے برسائے گئے میزائلو ں سے یرغمالی مارے گئے، جنگ بندی معاہدے پر دستخط کر کے ہم نے لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔

    واضح رہے کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے تحت دونوں جانب سے قیدیوں کی رہائی کا سلسلہ جاری ہے۔

    کلائمیٹ رسک انڈیکس 2025 کی رپورٹ جاری

    دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یایو نے آج جمعرات کے روز کو اسرائیل کے لیے انتہائی تکلیف دہ اور دل دہلا دینے والا دن قرار دیا کہا کہ یہ دن اسرائیل کے لیے سوگ اور رنج کا دن ہے اس موقع پر ہمارا دل ٹوٹ رہا ہے کہ آج ہم اپنے چار ہیروز کی لاشیں غزہ سے رہائی کے ملنے کے بعد وصول کریں گے، اسرائیلی فوج کے نمائندوں کے ذریعے ان خاندانوں کو آگاہ کر دیا ہے جن کے پیار وں کی لاشیں آج حماس سے ملیں گی،اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے بھی اطلاع دی ہے کہ اسے موصول ہونے والی چار اسرا ئیلی لاشوں کے نام مل چکے ہیں۔

    چیمپئنز ٹرافی دوسرا میچ:بنگلادیش کی بھارت کیخلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ

    یاد رہے اسرائیل نے ساڑھے پندرہ ماہ تک اپنے تباہ کن جنگ کے جاری رکھنے کے ہمیشہ تین بڑے اہداف بتائے تھے پہلا یہ کہ غزہ میں قید اسرائیلیوں کو چھڑوا لے جانا، دوسرا یہ کہ حماس کا خاتمہ کرنا اور تیسرا یہ کہ غزہ سے حماس کی مزاحمتی قوت سمیت اسرائیل کے لیے کسی بھی قسم کے خطرے کا امکان باقی نہ رہنے دینا ہے۔

    امریکا کی مقابلہ حسن جیتنے والی 18 سالہ دوشیزہ حادثے میں ہلاک

    لیکن اسرائیل کی اس سب سے طویل جنگ کے لڑے جانے کے بعد بھی کوئی مقصد حاصل نہ ہو سکا وہ ساڑھے پندرہ ماہ تک اسرائیل کی اپنے اتحادیوں کی غیر معمولی مدد سے جاری رکھی گئی جنگ کے باو جود اپنے یرغمالیوں کو رہا نہ کرا سکے زندہ تو در کنار مردہ حالت میں بھی اسرائیل کی فوج انہیں حماس سے نہ چھڑا سکی ،یہاں تک کہ اسرائیل کو حماس کے ساتھ ہی سمجھوتہ کرکے 19 جنوری سے جنگ بندی کرنا پڑی اس جنگ بندی کا پہلا مرحلہ یکم مارچ تک جاری رہے گا اور وعدے کے مطابق 33 اسرائیلیوں کو رہا کرے گا ان 33 میں کئی ہلاک شدہ اسرائیلی قیدی بھی ہیں جن کی پہلی کھیپ آج چار لاشوں کی صورت اسرائیل کو مل گئی ہے۔

    مصطفیٰ عامر کیس:مرکزی ملزم ارمغان کے سنسنی خیز انکشافات،آلہ قتل برآمد

  • حماس رواں ہفتے  4  یرغمالیوں کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کرے گا

    حماس رواں ہفتے 4 یرغمالیوں کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کرے گا

    غزہ: فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس رواں ہفتے 4 اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کرے گا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق حماس رواں ہفتے جمعرات کو 4 یرغمالیوں کی لاشیں ریڈ کراس کے ذریعے اسرائیلی حکام کے حوالے کرے گی جب کہ حماس ہفتے کے دن 3 یرغمالی بھی رہا کرے گا جنگ بندی معاہدے کے بعد یہ پہلا مرحلہ ہوگا جب حماس اسرائیلی یرغمالی جو جنگ کےدوران بیماریوں سے ہلاک ہوئے یا اسرائیلی بمباری سے مارے گئے ان کی لاشیں اسرائیلی کو واپس کرے گا۔

    اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس 27 فروری کو بھی مزید 4 یرغمالیوں کی لاشیں واپس کرے گا اور لاشوں کے بدلے اسرائیل 7 اکتوبر کے بعد غزہ سے گرفتار کیے گئے تمام خواتین اور بچوں کو رہا کرے گا۔

    دوسری جانب خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک اسرائیلی سکیورٹی اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیل جمعرات کو غزہ سے چار قیدیوں کی لاشیں وصول کرنے کی تیاری کر رہا ہے اور وہ ہفتے کے روز 6 زندہ قیدیوں کی واپسی کے لیے کام کر رہا ہے اگر یہ مکمل ہو جاتا ہے تو غزہ میں صرف 4 قیدی رہ جائیں گے جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے پہلے مرحلے میں رہا کیے جانے والے 33 قیدیوں میں شامل ہوں گے۔

    غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے دوسرے مرحلے کے لیے ہونے والے مذاکرات پر بات چیت کے لیے پیر کی شام کو اسرائیلی سکیورٹی کابینہ کا اجلاس ہوا ہے جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کا پہلا مرحلہ 19 جنوری کو شروع ہوا تھا اور اسے تین مرحلوں میں تقسیم کیا گیا ہے ہر ایک مرحلہ 42 دن تک جاری رہے گا، اس دوران اگلے مرحلے کے مذاکرات شروع کیے جائیں گے۔

    یہ بات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیلی وزیر خزانہ بزلئیل سموٹریچ اور مستعفی قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گوریر نے پیر کے روز وزیر اعظم نیتن یاہو سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ کی پٹی پر فوری طور پر جنگ دوبارہ شروع کریں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کے مطابق وہاں سے فلسطینیوں کو بے گھر کریں-

    سموٹریچ نے کہا کہ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ وزیر اعظم فوری طور پر جنگ کے لیے اسرائیلی فوج کی واپسی کا اعلان کریں ہم غزہ کی پٹی کے 10 فیصد حصے پر قابض ہیں اور اس پر خودمختاری نافذ کریں۔

    دوسری طرف اخبار "اسرائیل ٹوڈے” نے سموٹریچ کے حوالے سے کہا کہ آج میں حکومت سے ووٹ دینے اور صدر ٹرمپ کے منصوبے کو اپنانے کا مطالبہ کروں گا اسرائیل کو حماس کو واضح انتباہ جاری کرنا چاہیے اسے اب تمام قیدیوں کو ہمارے پاس واپس کرنا چاہیے، غزہ چھوڑ کر دوسرے ممالک کو جانا چاہیے، اور غیر مسلح کرنا چاہیے”۔

    سموٹریچ نے دھمکی دی کہ اگر حماس نے الٹی میٹم کا جواب نہ دیا تو اسرائیل جہنم کے دروازے کھول دے گا غزہ کی پٹی پر مکمل قبضہ، امداد کی مکمل بندش، پانی، ن بجلی، ایندھن سمیت ہر چیز بند کردی جائے گی”۔

  • اسرائیل کی معاہدے کی خلاف ورزیاں ، حماس نے  یرغمالیوں کی رہائی روک دی

    اسرائیل کی معاہدے کی خلاف ورزیاں ، حماس نے یرغمالیوں کی رہائی روک دی

    اسرائیل کی جانب سے غزہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں پر حماس نے یرغمالیوں کی رہائی غیر معینہ مدت تک روک دی۔

    فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے اپنے بیان میں یرغمالیوں کی رہائی روکنے کا اعلان کیا۔ابو عبیدہ نے بیان میں کہا کہ گزشتہ 3 ہفتوں کے دوران مزاحمتی گروہوں نے اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی متعدد خلاف ورزیوں کو نوٹ کیا جن میں بے گھر فلسطینیوں کی شمالی غزہ واپسی میں تاخیر کرنا اور ان پر بمباری کرنا بھی شامل تھا۔

    انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی کے متعدد علاقوں میں طے شدہ طریقے کے مطابق امداد بھی نہیں پہنچائی گئی جبکہ مزاحمتی گروہوں نے معاہدے کی مکمل پاسداری کی۔ابو عبیدہ نے کہا کہ ان وجوہات کے باعث ہفتے کے روز یعنی 15 فروری 2025 کو اسرائیلی یرغمالیوں کی ہونے والی رہائی کو اگلے احکامات تک روک دیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ رہائی اس وقت تک نہیں ہوگی جب تک اسرائیل معاہدے میں طے شدہ نکات پر عمل نہیں کرتا اور اس حوالے سے ہونے والے نقصان کی تلافی نہیں کرتا۔

    ابو عبیدہ نے مزید کہا جب تک اسرائیل جنگ بندی معاہدے پر عمل کرتا رہے گا تب تک وہ بھی معاہدے پر عمل درآمد کریں گے۔واضح رہے کہ حماس نے اس سے قبل بھی اسرائیل کی جانب سے معاہدے کی پاسداری نہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔حماس نے کہا تھا کہ اسرائیل نے غزہ میں طے شدہ تعداد کے مطابق خمیے اور پہلے سے تیار گھر داخل ہونے نہیں دیے جبکہ اسرائیل سڑکیں کھولنے اور ملبہ ہٹانے کے لیے بھاری مشینری بھی غزہ میں داخل نہیں ہونے دے رہا۔ اسرائیل تعمیراتی سامان بھی غزہ میں داخل ہونے سے روک رہا ہے۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہتے ہیں غزہ منصوبے کے تحت فلسطینیوں کو غزہ واپس آنے کا حق حاصل نہیں ہو گا۔فلسطینیوں کو غزہ کی نسبت کہیں بہتر رہائش مل جائے گی ،میں فلسطینیوں کیلئے ایک مستقل جگہ بنانے کی بات کر رہا ہوں ،فلسطینیوں کو واپس بھی آنا ہو تو کئی سال لگ جائیں گے کیونکہ غزہ ابھی رہنے کے قابل نہیں۔غزہ کے 20لاکھ سے زائد فلسطینیوں کیلئے خوبصورت رہائشی علاقے بنائیں گے ،اردن اور مصر کے ساتھ معاہدہ کر کے فلسطینیوں کو وہاں بسانے کا منصوبہ بنا سکتے ہیں۔

    انسٹاگرام پر پرانے فیچر واپس آنے شروع

    پاکستان میں دہشتگردی بیرونی سازش کے تحت کروائی جا رہی ہے، وزیراعلی سندھ

    اسلام آباد ہائیکورٹ: تین ججز سے ذمہ داری واپس لے لی گئی

    نجی بجلی گھروں کو سینکڑوں ارب کی ٹیکس چھوٹ کا انکشاف

    صدر زرداری کی پرنس رحیم سے ملاقات، پرنس کریم کے انتقال پر تعزیت