Baaghi TV

Tag: حماس

  • ہم حماس کو غزہ میں دوبارہ اقتدار میں آنے سے روکیں گے،امریکا

    ہم حماس کو غزہ میں دوبارہ اقتدار میں آنے سے روکیں گے،امریکا

    واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نےکہا ہے کہ ہم ایک ایسی فلسطینی ریاست کے لیے راستہ بنانا چاہتے ہیں جو اسرائیل کے شانہ بشانہ رہے تاہم غزہ کے لوگوں کی جبری نقل مکانی کو بھی مسترد کرتے ہیں-

    باغی ٹی وی : جنگ بندی معاہدے کے تحت غزہ میں امریکی شہریت رکھنے والے یرغمالیوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی کی تیاری شروع کر دی گئی، امریکی وزیر خارجہ انٹونئی بلنکن نے بتایا کہ حماس کی قید میں اسرائیلی یرغمالیوں میں، سب سے پہلے امریکیوں کی رہائی سے غزہ جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کا آغاز ہوگا۔

    "العربیہ” کے مطابق حماس نے بھی جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کی تیاری کے لیے یرغمالیوں کو گروپوں میں تقسیم کرنا شروع کر دیا ہے حماس نے معاہدے کے ثالثوں سے اسرائیل کی جانب سے معاہدے پر مکمل عمل درآمد کی ضمانت مانگی ہےیرغمالیوں کی وصولی کے لیے ثالثوں اور ریڈ کراس کے درمیان بھی بات چیت شروع ہوگئی۔

    بھارت دہشتگردی میں اپنے ملوث ہونے کی دستاویزی حقیقتوں کو تسلیم کرے،دفتر خارجہ

    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ بالآخر حماس نے معاہدے کو مکمل کرنے کی ضرورت کو سمجھ لیا ہے ہم ایک ایسی فلسطینی ریاست کے لیے راستہ بنانا چاہتے ہیں جو اسرائیل کے شانہ بشانہ رہے تاہم غزہ کے لوگوں کی جبری نقل مکانی کو بھی مسترد کرتے ہیں۔

    امریکی وزیر خارجہ نے فلسطینیوں پر غزہ میں ایک عبوری حکومت کی تشکیل میں تعاون کرنے پر زور دیتے ہوئے فلسطینی اتھارٹی سے غزہ میں حکومت کے قیام میں حصہ لینے کا مطالبہ بھی کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ "ہم حماس کو غزہ میں دوبارہ اقتدار میں آنے سے روکیں گے،انہوں نے نشاندہی کی کہ واشنگٹن "غزہ میں سیکورٹی فورسز کو تربیت دینے اور تیار کرنے کے لیے ایک اقدام” شروع کرے گا۔

    لاس اینجلس آگ بابا وانگا کی 2025 کے حوالے سے تباہ کن پیشگوئیوں کا آغاز ہے؟

    ادھر قطری وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے بعد غزہ کی تعمیر نو کے لیے ایک منصوبہ پیش کر رہے ہیں۔

    اس سے قبل امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کا معاہدہ حقیقت بننے والا ہے پیر کے روز بائیڈن نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کا معاہدہ حقیقت بننے والا ہے۔ انہوں نے ایک تقریر میں مزید کہا کہ ثالث ایک معاہدے تک پہنچنے اور غزہ میں یرغمالیوں کی رہائی کے لیے تیزی سے کام کر رہے ہیں،اپنی طرف سے امریکی نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی کہ غزہ معاہدہ ہفتے کے آخر تک مکمل ہو سکتا ہے۔

    بھارتی آرمی چیف کی پریس کانفرنس پر پاک فوج کا ردعمل

  • حماس کے ساتھ جھڑپ میں  5 اسرائیلی فوجی ہلاک,10 زخمی

    حماس کے ساتھ جھڑپ میں 5 اسرائیلی فوجی ہلاک,10 زخمی

    غزہ کی شمالی پٹی میں حماس کے ساتھ جھڑپ کے دوران 5 اسرائیلی فوجی ہلاک ہوگئے، جس کی اسرائیل حکام نے بھی تصدیق کردی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق غزہ کی شمالی پٹی میں 5 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 10 زخمی ہوئے، جن میں سے 8 کی حالت تشویشناک قرار دی گئی ہےاسرائیلی فوج کے مطابق آج صبح غزہ کی شمالی پٹی میں ایک حملے میں 5 فوجی ہلاک اور 10 دیگر زخمی ہوگئے ہلاک ہونے والے فوجیوں میں ایک کیپٹن اور 4 سارجنٹ شامل ہیں، ہلاک ہونے والے تمام فوجی نحال بریگیڈ کے ریکی یونٹ میں تعینات تھے۔

    ہلاک ہونے والے اسرائیلی فوجیوں کی شناخت معلوت ترشیحہ سے 23 سالہ کیپٹن یائر یاکوو شوشان، 20 سالہ اسٹاف سارجنٹ یاہاو حدر، 20 سالہ اسٹاف سارجنٹ گائے کارمیل، گیڈرا سے 19 سالہ اسٹاف سارجنٹ یاؤو فیفر اور 20 سالہ اسٹاف سارجنٹ ایویل وائزمین کے ناموں سے ہوئی۔

    توشہ خانہ ٹو،عمران ،بشریٰ سے تحقیقات کیلیے جے آئی ٹی تشکیل

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق پیر کی شام اسرائیلی فوج نے اپنی ابتدائی تحقیقات کے نتائج ان 5 فوجیوں کے اہل خانہ کے ساتھ شیئر کیےتحقیقات کے مطابق نہال بریگیڈ کے ریکنسنس یونٹ کے فوجیوں کی ٹیم پیر کی صبح بیت ہنون کے علاقے میں ایک مشن پر روانہ ہوئی تھی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی حماس اور اسرائیلی فوج کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے دوران 4 اسرائیلی فوجی مارے گئے تھے۔

    ریٹائرمنٹ کا فیصلہ فرنچائزز اور دنیا کی خودغرضی کی وجہ سے کیا، احسان اللہ خان

  • غزہ جنگ بندی معاہدہ :قطر نے حتمی مسودہ حماس اور اسرائیل کو بھجوادیا

    غزہ جنگ بندی معاہدہ :قطر نے حتمی مسودہ حماس اور اسرائیل کو بھجوادیا

    دوحہ: قطر نے مذاکرات میں بریک تھرو کے بعد غزہ جنگ بندی کے معاہدے کا حتمی مسودہ حماس اور اسرائیل کو بھجوادیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق قطر کے دارالحکومت دوحہ میں غزہ جنگ بندی اور اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے جاری مذاکرات میں رات گئے مثبت پیش رفت ہوئی جس کے بعد قطر نے معاہدے کا فائنل ڈرافٹ اسرائیلی حکام اور حماس کے حوالے کردیا۔

    دوحہ میں جاری مذاکرات میں قطر کے وزیراعظم، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد اور شن بیٹ کے سربراہان اور نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی سمیت موجودہ امریکی حکومت کے نمائندے بھی شریک تھے۔

    دوسری جانب اسرائیلی حکام نے نیوز ایجنسی کی رپورٹ پر جاری بیان میں جنگ بندی معاہدے سے متعلق حتمی مسودہ ملنے کی نفی کردی،اسرائیلی حکام نے کہا کہ انہیں اب تک مسودہ نہیں ملا تاہم معاہدے کا خاکہ واضح ہے اور اگر حماس جلد جواب دیتی ہے تو باقی چیزیں بھی جلد فائنل ہوجائیں گی۔

    اس حوالے سے اسرائیلی وزیر خارجہ نے اپنے تازہ بیان میں کہا کہ جنگ بندی سے متعلق بات چیت میں پیش رفت ہوئی ہےجو پہلے سے بہتر ہےاور مجھے امید ہے جلد ہی ہم کچھ چیزیں ہوتے دیکھیں گے۔

    اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون ساعر نے تصدیق کی کہ قیدیوں کے معاہدے میں واقعی پیش رفت ہوئی ہےانہوں نے اپنے برطانوی ہم منصب ڈیوڈ لیمی سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ اسرائیل ایک معاہدے تک پہنچنے میں دلچسپی رکھتا ہے اور اسے حاصل کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ جلد ہی معلوم ہو جائے گا کہ آیا حماس بھی اس میں دلچسپی رکھتی ہے یا نہیں؟ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ رہائی کے معاہدے کو محفوظ بنانے کے لیے اب "گہری” کوششیں جاری ہیں۔

    برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے القدس میں اسرائیلی وزیر خارجہ سے ملاقات کی فریقین نے ایران، شام اور لبنان سمیت متعدد علاقائی مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔

    اس کے برعکس حماس نے آج پیر کو اعلان کیا کہ وہ جلد ہی قیدیوں کی آزادی کی تاریخ طے کرے گی۔

    دوسری جانب اسرائیلی وزیر خزانہ بزلیل سموٹرچ نے اس پیش رفت پر تنقید کی، جب یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ قطر میں غزہ میں لڑائی روکنے اور قیدیوں کی واپسی کے لیے کام ہو رہا ہے،اسرائیلی وزیر نے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے اسے "ہتھیار ڈالنے” کا سودا سمجھا جانا چاہیے،جس معاہدے پر کام کیا جا رہا ہے وہ اسرائیل کی قومی سلامتی کے لیے تباہی ہے۔

  • حماس کی 34 یرغمالیوں کی رہائی پر رضامندی

    حماس کی 34 یرغمالیوں کی رہائی پر رضامندی

    غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی امید، حماس نے 34 یرغمالیوں کی رہائی پر رضامندی ظاہر کر دی

    غیر ملکی خبر ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس نے ممکنہ جنگ بندی معاہدے کے تحت 34 یرغمالیوں کی رہائی پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ اس اہم پیشرفت کے بارے میں اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ دوحہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے بات چیت کا عمل دوبارہ شروع ہو چکا ہے، جس میں قطر، مصر اور امریکہ کی ثالثی میں کئی ماہ سے کوششیں جاری ہیں۔خبر ایجنسی کے مطابق حماس کے ایک رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اسرائیل کی جانب سے قیدیوں کے تبادلے کے لیے جو فہرست فراہم کی گئی ہے، اس میں سے 34 یرغمالیوں کی رہائی کے لیے حماس تیار ہے۔ حماس رہنما نے مزید کہا کہ ابتدائی تبادلے میں تمام خواتین، بچے، عمر رسیدہ اور بیمار افراد شامل ہو سکتے ہیں جو غزہ میں اسرائیلی فوج کے قبضے میں ہیں۔حماس رہنما نے یہ بھی کہا کہ یہ ممکن ہے کہ کچھ یرغمالی ہلاک ہو چکے ہوں، لیکن ان کی حالت کا تعین کرنے کے لیے حماس کو مزید وقت درکار ہے۔ ان کے مطابق غزہ میں موجود حماس کے جنگجوؤں سے رابطے اور زندہ یا ہلاک یرغمالیوں کی شناخت کے لیے کم از کم ایک ہفتے کا امن ضروری ہوگا۔

    خبر رساں ایجنسی کے مطابق دوحہ میں فریقین کے نمائندہ وفود کے درمیان بات چیت دوبارہ شروع ہونے کی توقع تھی، جو ہفتے کے اختتام تک جاری رہنی تھی۔ تاہم، حماس رہنما کے بیان کے سوا اس بات چیت کی مزید تفصیل سامنے نہیں آ سکی۔ فرانس کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ فریقین پر معاہدے پر پہنچنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے تاکہ جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کے لیے ایک معاہدہ طے پائے۔

    یاد رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی جانب سے اسرائیل پر کیے گئے حملے کے نتیجے میں 251 افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا۔ بعد میں ایک عارضی معاہدے کے تحت 80 اسرائیلی یرغمالی اور 240 فلسطینی قیدیوں کو اسرائیلی جیلوں سے رہا کر دیا گیا تھا۔ تاہم، اس وقت بھی غزہ میں 96 یرغمالی حماس کے قبضے میں ہیں، جب کہ اسرائیلی فوج کے مطابق 34 یرغمالی ہلاک ہو چکے ہیں۔

    دوسری جانب، غزہ پٹی پر اسرائیلی حملے جاری ہیں اور صرف گزشتہ تین دنوں میں ہونے والے اسرائیلی حملوں میں تقریباً 100 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے غزہ پٹی پر اسرائیلی حملوں میں اب تک 45,805 فلسطینی شہید اور 98,000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

    دونوں فریقین کے درمیان جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیں، تاہم غزہ کی موجودہ صورتحال اور اسرائیلی حملوں کے باعث فوری طور پر امن قائم ہونے کی کوئی واضح امید نظر نہیں آ رہی۔ جنگ بندی کے معاہدے کے کامیاب ہونے کا انحصار فریقین کے درمیان مذاکرات اور عالمی دباؤ پر ہوگا۔

    بھارتی ہیلی کاپٹرز حادثات، فضائی عملے کی صلاحیتوں پر سنگین سوال

    کراچی،تاجر پر حملے کا مقدمہ ترجمان میئر کے خلاف درج

  • اسرائیل میں اتنا دم خم نہیں،وہ  حماس کا مقابلہ نہیں کرسکتا،حافظ نعیم

    اسرائیل میں اتنا دم خم نہیں،وہ حماس کا مقابلہ نہیں کرسکتا،حافظ نعیم

    اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحما ن کا کہنا ہے کہ اسرائیل میں اتنا دم خم نہیں ہے، وہ تو حماس کا مقابلہ نہیں کرسکتا،کل 25 دسمبر سے ہم کسانوں کی تحریک شروع کر رہے ہیں اور کسان مارچ منڈی بہاؤالدین سے شروع ہوگا-

    باغی ٹی وی: اسلام آباد کے میلوڈی دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ انٹرنیٹ کا مسئلہ سنگین ہے تو معیشت کیسے بہتر ہوگی، حکومت انٹرنیٹ سلو کرکے ملکی معیشت کو نقصان پہنچا رہی ہے، حکومت فارم 47 کی پیداوار ہے، معلوم نہیں کہ پی ٹی آئی نے مذاکرات میں اس پر کیا سوچا ، حکومت پی ٹی آئی مذاکرات مثبت پیش رفت ہے لیکن مذاکرات میں پی ٹی آئی وفد کو بااختیار ہونا چاہیے اور حکومت کو بھی۔

    انہوں نے کہا کہ کل 25 دسمبر سے ہم کسانوں کی تحریک شروع کر رہے ہیں اور کسان مارچ منڈی بہاؤالدین سے شروع ہوگا جس کے بعد لاہور میں کسان مارچ ہوگا پھر جنوبی پنجاب میں ہوگا، گنے کی قیمت کا تعین نہیں ہو رہا جبکہ شوگر مافیا من مرضی کے ریٹ لگا کر انہیں لوٹ رہے ہیں، اس وقت گنے کی فصل تیار ہےلیکن حکومت نے ابھی تک ریٹ مقرر نہیں کیے پچھلی مرتبہ گندم کی فصل میں ن لیگ کی حکومت نے بہت جھوٹ بولا تھا، چھوٹا کاشت کار پس رہا ہے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ 29 دسمبر کو اسلام آباد میں بہت بڑا غزہ مارچ کریں گے جس میں سیاست کو الگ رکھ کر سب شرکت کریں، اسرائیل میں اتنا دم خم نہیں ہے، وہ تو حماس کا مقابلہ نہیں کرسکتا، کل بھی حماس نے پانچ اسرائیلی جہنم واصل کیے، اسرائیل گریٹر گلف کی بات کر رہا ہے اور اسرائیل انسانیت کا دشمن ہے، سب کو فلسطینیوں کی حمایت میں اٹھنا چاہیے، امریکا سب سے بڑا ریاستی دہشتگرد ہے اور ہم چاہتے ہیں اس پر مسلسل آواز بلند کرنی چاہیے، پاکستان نے میزائل ٹیکنالوجی پر کام کیا تو امریکا کی چیخیں نکل رہی ہیں، ہمیں بھرپور ڈٹ کر کام کرنا چاہیے اور مضبوط موقف رکھنا چاہیے۔

    امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ کرم ایجنسی کی صورتحال بہت خراب ہے، جب حکومت اپنی پوری اتھارٹی کے ساتھ کام نہیں کرتی تو لوگوں کا اعتماد حاصل نہیں ہوتا کرم میں زمینوں سے مسئلہ شروع ہوا مگر لڑائی فرقہ واریت میں تبدیل ہوگئی، کرم میں شیعہ سنی لڑائی ہوئی بلوچستان میں بھی حالات ٹھیک نہیں جس کی حکومت ہی سب سے زیادہ ذمہ دار ہے-

  • ہاں اسماعیل ہنیہ کو ہم نے مارا،اسرائیل کا کھل کر اعتراف

    ہاں اسماعیل ہنیہ کو ہم نے مارا،اسرائیل کا کھل کر اعتراف

    اسرائیل نے پہلی بار عوامی طور پر یہ تسلیم کیا ہے کہ حماس کے سابق سربراہ اسماعیل ہنیہ کو مارنے کے پیچھے اس کا ہاتھ تھا۔

    اسرائیل کے وزیر دفاع، اسرائیل کاٹز، نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اسماعیل ہنیہ کو 31 جولائی 2023 کو ایران میں مارا گیا تھا۔ وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے اس کارروائی کو کامیابی کے طور پر دیکھا اور اس کے بعد یہ واضح پیغام دیا ہے کہ اسرائیل اپنے مخالفین کو ہدف بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا، چاہے وہ کہیں بھی ہوں۔کاٹز نے اس موقع پر مزید دھمکیاں بھی دیں اور کہا کہ اسرائیل یمن میں حوثی باغیوں کی قیادت کو بھی ختم کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا، "ہم حوثیوں پر سخت حملہ کریں گے اور ان کی قیادت کو پاش پاش کر ڈالیں گے، ٹھیک اسی طرح جیسے ہم نے حماس کے رہنماؤں جیسے اسماعیل ھنیہ، یحییٰ السنوار اور حسن نصراللہ کو تہران، غزہ اور لبنان میں ختم کیا۔” انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کے خلاف کوئی بھی دشمن اٹھنے کی کوشش کرے گا، اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔

    اسماعیل ھنیہ کی موت 31 جولائی 2023 کو ایران کے دارالحکومت تہران میں ہوئی تھی۔وہ ایک بم دھماکے کے نتیجے میں جاں بحق ہو گئے تھے جو ایک گیسٹ ہاؤس میں ہوا۔ وہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی حلف برداری تقریب میں شرکت کے لیے تہران آئے تھے،

    ایران کی جانب سے اس دھماکے کے بارے میں مختلف دعوے کیے گئے تھے۔ ایران کے "ویولوشنری گارڈ” نے کہا تھا کہ اسماعیل ھنیہ کو ان کے گھر کے باہر سے لانچ کیے گئے ‘شارٹ رینج پروجیکٹائل’ کے ذریعے مارا گیا۔ ایران نے اسرائیل کے اس آپریشن میں امریکہ کے کردار پر بھی الزامات عائد کیے تھے، اور یہ کہا تھا کہ امریکہ نے اسرائیل کی اس کارروائی کی حمایت کی تھی۔

    اسرائیل کاٹز نے اس موقع پر ایک اور سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ "جو بھی اسرائیل کے خلاف ہاتھ اٹھائے گا، اسے اس کے کیے کی سزا ضرور ملے گی۔” انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اسرائیلی فوج اپنے دشمنوں کی کسی بھی کارروائی سے بچنے نہیں دے گی اور ان کے خلاف بھرپور کارروائی کرے گی۔یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیل نے باضابطہ طور پر اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اسرائیل اسماعیل ھنیہ کی موت میں ملوث تھا، اس سے قبل اسرائیل کے حکام نے اس بات کو ہمیشہ مسترد کیا تھا اور اس کا انکار کیا تھا۔

    اسرائیل کے وزیر دفاع کی جانب سے اس اعتراف کے بعد عالمی سطح پر اسرائیل کی خارجہ پالیسی اور اس کی مشرق وسطیٰ میں مداخلت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اسرائیل کے اس اقدام کو کئی حلقوں میں تنقید کا سامنا ہے، خصوصاً ایران اور یمن میں موجود اتحادیوں کی طرف سے۔ اس کے باوجود اسرائیل نے اپنی پالیسی پر قائم رہنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ مستقبل میں بھی اپنے دشمنوں کو نشانہ بنائے گا۔اسرائیل کا یہ بیان عالمی سطح پر ایک نیا تنازعہ پیدا کر سکتا ہے کیونکہ اسرائیل کے دشمن ممالک جیسے ایران اور لبنان میں اس کی کارروائیوں کے بارے میں مزید شکوک و شبہات بڑھ سکتے ہیں۔ اس دوران اسرائیل کی طرف سے حوثی باغیوں کو بھی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اسرائیل مشرق وسطیٰ میں اپنی پوزیشن مزید مستحکم کرنے کے لیے اپنی حکمت عملی کو جاری رکھے گا۔

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بعد او آئی سی غیرمعمولی اجلاس”مذمت” پر ختم

    اسماعیل ہنیہ کا قتل ایرانی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی ہے،سعودی عرب

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت،عمارت میں مقیم حماس رہنما نے آنکھوں دیکھا حال بتادیا

    اسماعیل ہنیہ پر حملہ،ایران میں تحقیقات کے دوران گرفتاریاں

  • غزہ جنگی بندی معاہدہ، حماس 2 اہم شرائط سے دستبردار

    غزہ جنگی بندی معاہدہ، حماس 2 اہم شرائط سے دستبردار

    قاہرہ میں غزہ جنگ بندی مذاکرات کا سلسلہ جاری ،جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے حوالے سے اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔

    باغی ٹی وی: عرب میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس غزہ پٹی سے اسرائیلی فورسز کے مکمل انخلا اور مکمل جنگ بندی کی شرائط سے دستبردار ہوگئی ہے حماس بیمار، عمر رسیدہ اور خواتین فوجی یرغمالیوں کی رہائی پر رضامند ہوگئی اور حماس نے عمر رسیدہ فلسطینی قیدیوں کی قطر اور ترکیے منتقلی کی بھی حامی بھرلی ہے،حماس نے شمالی غزہ پٹی میں اسرائیلی چیک پوسٹوں کےقیام کی مخالفت کردی ہے۔

    دوسری جانب غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق حماس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اگر اسرائیل نئی شرائط عائد نہ کرے تو جنگ بندی معاہدہ ہوسکتا ہے،رپورٹ کے مطابق قاہرہ میں غزہ جنگ بندی مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے جبکہ چند دن میں جنگ بندی ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ غزہ میں 14 ماہ سے زائد عرصے سے جاری اسرائیلی جنگ رکوانے کے لیے مصر اور قطر کی کوششیں جاری ہیں ان دونوں ملکوں کی کوششوں کو اسرائیل کے سب سے بڑے اتحادی اور اسلحہ سپلائر امریکہ بھی حمایت حاصل ہےامریکہ کی مدد سے دونوں ملک جنگ کےآغاز سے ہی جنگ بندی کے لیے کوشش کر رہے ہیں، نئی مذاکراتی نشست دوحا میں جاری ہونے کی اطلاعات ہی جس کے اسرائیلی تکنیکی ٹیم کے دوحا پہنچنے کی ایک روز پہلے خبر آئی تھی۔

  • ہمارے شہریوں کو قتل اور یرغمال بنانے میں ملوث حماس رہنما ہمارے حوالے کئے جائیں،امریکا

    ہمارے شہریوں کو قتل اور یرغمال بنانے میں ملوث حماس رہنما ہمارے حوالے کئے جائیں،امریکا

    واشنگٹن:امریکی ترجمان میتھیو ملر نے کہا ہے کہ حماس امریکی شہریوں کے قتل اور یرغمال بنانے کے جرم میں ملوث ہے اس لیے یہ رہنما جہاں بھی ہوں، ہمارے حوالے کیے جائیں۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی ترجمان میتھیو ملر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ حماس کے رہنماؤں کی قطر سے ترکیہ منتقلی کی تردید کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں،تاہم امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے حماس رہنماؤں کی قطر سے ترکیہ منتقل ہونے کی خبر کی تصدیق سے بھی گریز کیا۔

    میتھیو ملر نے مزید کہا کہ حماس ایک دہشتگرد تنظیم ہے جس نے کئی امریکیوں کو قتل کیا اور اب بھی 7 امریکیوں کو یرغمال بنایا ہوا ہے تو جہاں تک یہ بات ہے کہ حماس کے رہنما ترکی میں ہیں یا کسی اور ملک میں ہیں تو دیکھیں ان میں سے کئی لوگوں پر امریکا نے فرد جرم عائد کر رکھی ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ ان لوگوں کو امریکا کے حوالے کیا جانا چاہئیے، امریکا نے ترک حکومت پر واضح کر دیا ہے کہ حماس کے ساتھ مزید اس طرح معاملات نہیں چل سکتے، جیسے چل رہے تھے ہم اس پر یقین نہیں رکھتے کہ ایک دہشتگرد تنظیم کے رہنما کہیں بھی آرام سے رہ رہے ہوں۔

    ہم نے مل کر پولیو جیسے چیلنج کو شکست دینی ہے، وزیراعظم

    دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے غزہ میں حماس کی فوجی طاقت ختم کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں حماس کی فوجی طاقت ختم کردی، جنگ ختم ہونے کے بعد غزہ میں حماس کی حکمرانی نہیں ہوگی ہمارے یرغمالیوں کو نقصان پہنچانے والوں سے بدلہ ضرور لیں گے،نیتن یاہو نے یرغمالیوں کو بحفاظت نکال لانے پر ہر یرغمالی کے عوض 50 لاکھ ڈالر دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔

    جو بائیڈن کا یوکرین کو روس کیخلاف اینٹی پرسنل لینڈ مائنز استعمال …

  • امریکی سینیٹ،اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت روکنے کی قرارداد ،ووٹنگ رواں ہفتے

    امریکی سینیٹ،اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت روکنے کی قرارداد ،ووٹنگ رواں ہفتے

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل بدھ کو ایک قرارداد پر ووٹ دینے والی ہے، جس میں غزہ میں فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے، اور اس جنگ بندی کو حماس کے زیر حراست یرغمالیوں کی رہائی سے مشروط نہیں کیا گیا۔ امکان ہے کہ امریکہ اس قرارداد کو ویٹو کر دے گا۔

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ مشرق وسطیٰ کے موجودہ بحران نے عالمی طاقتوں کی پالیسیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو غیر جانبداری کے ساتھ انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، ورنہ صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔امریکہ کی ممکنہ ویٹو پالیسی نہ صرف خطے میں امن قائم کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچائے گی بلکہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو بھی جاری رکھنے کا سبب بن سکتی ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ "غزہ میں انسانی بحران عروج پر ہے۔ بچے، خواتین، اور عام شہری جنگ کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں، اور عالمی برادری اس ظلم پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ اگر امریکہ اس قرارداد کو ویٹو کرتا ہے، تو یہ ایک واضح پیغام ہوگا کہ طاقتور ممالک انسانی حقوق کو صرف اپنے مفادات کے تحت دیکھتے ہیں۔”

    غزہ میں بمباری اور مسلح جھڑپوں کے نتیجے میں ہزاروں جانیں ضائع ہو چکی ہیں، جن میں اکثریت معصوم شہریوں کی ہے۔ اقوام متحدہ کے اداروں کے مطابق، خطے میں انسانی ضروریات کی شدید کمی ہو رہی ہے، اور فوری امداد کی ضرورت ہے۔یورپی ممالک سمیت کئی دیگر طاقتوں نے غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے، لیکن اس قرارداد کے متن پر اختلافات موجود ہیں۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ حماس کے یرغمالیوں کی رہائی کو مذاکرات کا حصہ بنانا ضروری ہے۔ دوسری طرف، مسلم ممالک نے اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کے لیے فوری اقدامات کرے۔

    دوسری جانب امریکی سینیٹ میں اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت روکنے کی قرارداد پر ووٹنگ رواں ہفتے ہوگی،عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق اسرائیل کو 20 ارب ڈالر کے امریکی ہتھیاروں کی فروخت روکنے کی قرارداد امریکی سینیٹ میں پیش کی گئی، امریکی سینیٹر برنی سینڈرز کی قرارداد پر امریکی سینیٹ میں ووٹنگ رواں ہفتے کے آخر میں ہوگی،میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی سینیٹ میں اسرائیلی حمایت کی اکثریت کے باعث قرارداد منظور ہونے کا امکان کم ہے

    علاوہ ازیں اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو ایک سال کی کوشش کے باوجود حماس کے ہاتھوں یرغمالیوں کو چھڑانےمیں کامیاب نہ ہوئے جس کے بعد اب اسرائیلی وزیرِ اعظم نے یرغمالیوں کو رہا کرانے والوں کو 50 لاکھ ڈالرز کا لالچ دے ڈالا، نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ غزہ سے یرغمالیوں کو بحفاظت نکال لانے پر ہر یرغمالی کے عوض 50 لاکھ ڈالرز دیں گے،یرغمالیوں کو رہا کرانے والوں کو اہلِ خانہ سمیت غزہ سے انخلاء کرائیں گے

  • یرغمالیوں کی رہائی کا واحد رستہ جنگ بندی،فوج نے اسرائیلی وزیراعظم کو بتا دیا

    یرغمالیوں کی رہائی کا واحد رستہ جنگ بندی،فوج نے اسرائیلی وزیراعظم کو بتا دیا

    اسرائیلی فوج کے سینئر افسران نے وزیراعظم نیتن یاہو کو خبردار کیا ہے کہ حماس کے قبضے میں موجود یرغمالیوں کی رہائی کے لیے جنگ بندی کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق انٹیلی جنس اور سکیورٹی حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ یرغمالیوں کی حالت انتہائی نازک ہے۔ غذائی قلت کے باعث ان کے وزن میں واضح کمی ہو چکی ہے، اور موسم سرما کے پیش نظر ان کی زندگی کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔اسرائیلی فوج کے جنرلز نے نشاندہی کی کہ یرغمالیوں کے حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے، جس کے باعث جنگ بندی کی ضرورت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔

    اسی دوران اسرائیل میں یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مظاہرے شدت اختیار کرگئے ہیں۔ مظاہرین نے وزیراعظم نیتن یاہو کے گھر پر دھاوا بول دیا، جہاں قیصریہ میں واقع ان کے گھر کے باغ میں دو فلیش بم گرنے کی اطلاعات موصول ہوئیں، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا کیونکہ نیتن یاہو اور ان کا خاندان اس وقت گھر میں موجود نہیں تھا۔پولیس نے واقعے کے بعد تین افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے اس واقعے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ تمام حدود پار کر لی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ناقابل قبول ہے کہ وزیراعظم، جو پہلے ہی ایران اور دیگر مزاحمتی قوتوں کی جانب سے خطرات کا سامنا کر رہے ہیں، انہیں اپنے گھر پر بھی ایسے واقعات کا سامنا کرنا پڑے۔