Baaghi TV

Tag: حکومت

  • اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف

    اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف

    صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزاد امیدواروں کی اگر اکثریت ہے تو شوق سے حکومت بنا لیں، ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائیں گے

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ 2018 میں جیسے آر ٹی ایس بٹھا دیا گیا پہلی بار ہوا تھا کہ دیہاتوں کے رزلٹ پہلے آگئے اور شہروں کے رزلٹ رات دیرتک نہیں آئے،2013 میں سپریم کورٹ نے بول دیا تھا الیکشن صاف شفاف ہوئے ہیں کوئی دھاندلی نہیں ہوئی،پی ٹی آئی نے 2013 میں بھی 35 پنکچر کا ڈرامہ رچایا تھا۔انتخابات کے پامن انعقاد میں چیف جسٹس، افواج پاکستان اور الیکشن کمیشن کا کردار اہم ہے۔ چیف الیکشن کمشنر تحسین کے مستحق ہیں، آج میں گزارش کرنا چاہتا ہو ں کہ جس دن الیکشن ریزلٹ آ رہے تھے، اس رات کو دس بارہ فیصد نتائج آنے پر ایک ون سائیڈڈ شور ہوا، بتایا گیا کہ آزاد جیت رہے اور پارٹیاں ہار رہی ہیں، اس پر ایک رائے قائم کر لینا غیر مناسب بات تھی، اس الیکشن میں حقائق کا سامنا کریں تو جواب صاف مل جاتا ہے کہ اس الیکشن میں دھاندلی کا الزام لگایا گیا، اگر ایسی بات ہوتی تو خواجہ سعد رفیق نے کھلے دل سے شکست تسلیم کی،یہ کس طرح ہار گئے، فیصل آباد، شیخوپورہ ، ایبٹ آباد میں سینئر رہنما ہمارے ہار گئے، آزاد جیت رہے اور پھر بھی دھاندلی کا الزام لگایا جا رہا ہے،

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ الیکشن ہو گئے، ن لیگ کے نمبر زیادہ ہیں سیاسی جماعتوں میں ن لیگ نمبر ون ہے، اسکے بعد پیپلز پارٹی ہے، نتائج سامنے آ چکے، اب اگلا مرحلہ شروع ہوا چاہتا ہے، میں کہنا چاہتا ہوں کہ پارلیمان میں اب سارا عمل معرض وجود میں آئے گا، اگر آزاد اراکین حکومت بنا سکتے ہیں تو بڑے شوق سے بنائیں، صدر نے ان کو دعوت نہیں دینی، جس کی تعداد زیادہ ہے وہی حکومت بنائے گا،آزاد اگر اکثریت دکھا دیں گے تو ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائیں گے اور آئینی کردار ادا کریں گے، اگر آزاد حکومت نہیں بنا سکتے تو پھر دوسری پارٹیاں مشاورت سے بنائیں گی، اور کوئی دوسرا طریقہ نہیں ہے، ہمیں اب آگے بڑھنا ہو گا،یکسوئی کے ساتھ آنیوالا مرحلہ طے کرنا ہے، ہمیں جب ہروایا گیا تو ہم نے کوئی جلاؤ گھیراؤ نہیں کیا، پارلیمان میں جا کر کالی پٹیاں باندھ کر احتجاج کیا او ر حلف اٹھایا کون نہیں جانتا کہ بدترین دھاندلی سے الیکشن چرایا گیا تھا، ہم نے تو نہیں کہا تھا کہ پارلیمنٹ کو آگ لگائیں گے، ڈی چوک پر دھرنے دیں گے،نواز شریف کی قیادت میں کبھی ایسا نہیں ہوا، فیٹف کا بل ہم نے منظور کروایا،جب بھی موقع آیا کشمیر کا تنازع، مل بیٹھنے سے انکار کر دیا گیا،دوسرے مراحل کرونا میں مل بیٹھنے سے انکار کیا گیا،جب بھارتی جہازوں نے پاکستانی فضاؤں کو عبور کیا، اور جہاز گرایا گیا، اس رات میٹنگ تھی، ڈیڑھ گھنٹے کی تاخیر کے بعد سپہ سالار آئے لیکن وزیراعظم میٹنگ میں نہیں آئے، ہم نے پاکستان کے مفاد کو دیکھنا ہے، ماضی کی بھیانک داستان ہمارے سامنے ہے، میں کئی بار بات کر چکا ہوں،ہم نے ریاست بچائی، سیاست قربان کی ،پی ٹی آئی حکومت نے تو ملک کو ڈیفالٹ کر دیا تھا، ہم نے ریاست کو بچایا ہے

    شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن میں ایک دوسرے کے خلاف مقابلہ کر لیا، اب مہنگائی، غربت ،بے روزگاری کے خلاف مقابلہ ہے، امن قائم کرنا ہے، دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہے،نان سٹیٹ ایکٹر نے لوگوں کو پولنگ سٹیشن پر نہیں آنے دیا، مخصوص لوگوں کو آنے دیا گیا، یہ باتیں سننے میں آ رہی ہیں، پشاور سے برف پوش پہاڑوں تک دن دہاڑے پولنگ سٹیشن پر بندوق برداروں نے ووٹ ڈلوائے،اسکی بھی تحقیقات ہونی چاہئے ،وہ کونسی حکومت تھی جس نے دہشت گردوں کو دوبارہ پہاڑوں پر بٹھایا، جیلوں سے آزاد کروایا،قوم کو اسکا جواب ملنا چاہئے،قوم کے ہوش اڑ جائیں گے جب پتہ چلے گا کہ کون انکو واپس لایا، آج قوم کے زخم پر مرہم رکھنے کا وقت آ چکا ہے، نوا زشریف تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت میں ہیں، نواز شریف نے اعلان کیا کہ اس وقت قوم کو جتنی یکجہتی، یکسوئی، محبت پیار بانٹنے کی ضرورت ہے پہلے کبھی نہ تھی، ہمیں دکھوں کو خوشیوں میں بدلنا ہے، تلخیوں کو دفن کر نا ہو گا، مل بیٹھ کر ملک کا حل ڈھونڈنا ہو گا، خدا کے لئے ، دنیا کو دوبارہ جگ ہنسائی کا موقع دیں گے یا بتائیں گے کہ ہم ملکر چیلنجز کا مقابلہ کر رہے ہیں.

    شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب میں ہم حکومت بنائیں گے، ہمارے اراکین زیادہ ہیں، آزاد اگر وفاق میں حکومت بنا سکتے ہیں تو خوشی سے بنائیں ،ورنہ ہم اپنا آئینی کردار ادا کریں گے،مشاورت کا عمل جاری ہے، نواز شریف نے قوم کو بتایا کہ اکثریت ہونے کے باوجود مشاورت کریں گے، نواز شریف کی قیادت میں قوم کو متحد کریں گے،صدر کی انوائیٹ کرنے کی شق ختم ہو چکی، 2018 میں تو صدر نے انوائیٹ نہیں کیا تھا، ہاؤس خود اپنا فیصلہ کرے گا، جس پارٹی کی اکثریت ہے اسکا حق ہے حکومت بنائے،آئین کہتا ہے 21 دن میں پارلیمنٹ کا اجلاس بلایا جائے

    نومئی جیسا واقعہ دوہرانے کی تیاری، سخت ایکشن ہو گا، محسن نقوی کی وارننگ

    آر او کے دفاتر میں دھاندلی کی گئی، پولیس افسران معاون تھے،سلمان اکرم راجہ

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

    الیکشن کمیشن، اسلام آباد کے حتمی نتائج جاری، کئی حلقوں کے نتائج رک گئے

    الیکشن کمیشن ، ریحانہ ڈار کی درخواست پر آر آو کو نوٹس جاری،جواب طلب

    این اے 58، ایاز امیر کی درخواست، نوٹس جاری، آر او طلب، نتیجہ روک دیا گیا

  • آئی ایم ایف نے پی آئی اے کی نجکاری کا پلان منظور کر لیا

    آئی ایم ایف نے پی آئی اے کی نجکاری کا پلان منظور کر لیا

    آئی ایم ایف نے پی آئی اے کی نجکاری کیلئے قرض ری شیڈولنگ پلان کیلئے اصولی منظوری دے دی

    میڈیا رپورٹس کے مطابق پی آئی اے کے قرض ریشڈول پلان کیلئے حتمی منظوری وفاقی کابینہ اجلاس سے لی جائے گی ،نجکاری کمیشن اور وزارت خزانہ پلان کیمطابق آئی ایم ایف نے پی آئی اے کی نجکاری کا پلان منظور کر لیا ،آئی ایم ایف نے ایک سال کیلئے حکومت پاکستان کو پی آئی اے قرض پر سود ادا کرنے کیلئے اتفاق کیا،280 ارب قرض پر بینکوں کو حکومت پاکستان 12 فیصد شرح سود پر ایک سال کیلئے ادا کرے گی،آئی ایم ایف حکام کے ساتھ وزارت نجکاری اور وزارت خزانہ حکام کے مذاکرات کامیاب ہو گئے ،بینکوں کو پی آئی اے کے قرض پر سود کی ادائیگیوں کا بوجھ ایک سال سے زائد عرصے کیلئے نہ ہو ،پی آئی اے کی نجکاری ایک سال کے عرصے میں کر کے قرض ادائیگیوں کا پلان مرتب کیا جائے گا ،نجکاری کے بعد روزویلٹ ہوٹل اور پی آئی اے کے ڈیوڈنڈ سے قرض ادائیگیوں کا پلان مرتب کیے جانے کا امکان ہے،کابینہ سے منظوری پر کمرشل بینکوں کیجانب سے پی آئی اے پر ادائیگیوں کا چارج ختم ہونے سے نجکاری جلد ہو گی،پی آئی اے قرض ریشڈولنگ پلان پر رواں ہفتے کے دوران آئی ایم ایف سے مزید بھی بات چیت جاری رہے گی

    پی آئی اے کا ایک اور فضائی میزبان کینیڈا میں لاپتہ

    پی آئی اے،بوئنگ 777 طیارے کے انجن میں آگ،حادثے سے بچ گیا

    پی آئی اے اور گو لوٹ لو کی جانب سے قرعہ اندازی، گاڑیاں اور سمارٹ فون کے انعامات

    پی آئی اے ایک بار پھر مشکل کا شکار،اکاونٹس منجمد

    پرواز سے قبل پی آئی اے عملے کیلئے شراب نوشی کا ٹیسٹ لازمی قرار

     پی آئی اے کے دو مزید فضائی میزبان ٹورنٹو میں پراسرار طور پر لاپتہ 

     سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) مدد کیلئے سامنے آگئی

    پی آئی اے کی نجکاری کے عمل کو جلد از جلد تکمیل تک پہنچانے کی ہدایت

    پائلٹس کی ابتدائی 8 سے 10 ماہ کی تربیت پر 15000 سے 20000 ڈالر کا خرچ

    پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کو مجموعی طور پر 383 بلین کا خسارہ ہے 

    سپریم کورٹ نے پی آئی اے کو نئی 205 پروفیشنل بھرتیوں کی اجازت دیدی

    قبل ازیں مشیر ہوابازی نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ 7اگست کوسابقہ کابینہ نےپی آئی اے کو نجکاری کمیشن کے حوالے کردیا تھا ،ستمبر کے آخرمیں پی آئی اے کو مکمل طور پر نجکاری کمیشن کے حوالے کردیا ہے ۔پی آئی اے کی 22ارب روپے ماہانہ آمدن تھی جو 10عشاریہ 5ارب قرض کی ادائیگی میں چلے جاتے تھے 1.4ارب روپے منافع ہوتا تھا ۔10ارب میں 5ارب سود اور باقی 5ارب اصل رقم۔واپس ہوتی تھی ۔پی ایس او سے کریڈٹ پر تیل پی آئی اے لیتا تھا جب پی ایس او کا اپنا مسئلہ ہوا تو تیل کا مسئلہ ہوا۔ 80سے 90فلائیٹ چلتی تھی جس کے بعد تیل کی وجہ سے آدھے 45فلائیٹس ہو گئے نومبر میں 76فلائیٹس بحال ہوگئیں ۔اکتوبر میں تیل کی وجہ سے ہمیں نقصان ہوا۔اب ہم اپنے اصل ٹارگٹ پر پہنچ گئے ہیں ۔جو فلائٹس نقصان میں چل رہی تھی ان کو بند کردیا ہے ۔سیکریٹری نجکاری کمیشن نے کمیٹی اجلاس میں کہاکہ 266ارب روپے نجی بینکوں کا قرض پی آئی اے نے لیا ہے ،سیکریٹری نجکاری کمیشن نے کہا کہ 95فیصد قرض کی گارنٹی حکومت نے دی ہے باقی 5فیصد پی آئی اے نے خود لی ہے ۔ نجکاری تک پی آئی اے کو مالی امداد کی ضرورت ہوگی ۔مارچ تک پی آئی اے کی نجکاری ہوجائے گی ۔

  • غریدہ فاروقی کیخلاف سوشل میڈیا پر مہم، حکومت کا نوٹس

    غریدہ فاروقی کیخلاف سوشل میڈیا پر مہم، حکومت کا نوٹس

    نگراں حکومت نے نجی چینل سے وابستہ صحافی کی مبینہ آن لائن ہراسانی کا نوٹس لے لیا

    نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نےٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ نگران حکومت نے ایک سیاسی جماعت کی ٹرول بریگیڈ کی جانب سے صحافی غریدہ فاروقی کو ہراساں کرنے کی بدنیتی پر مبنی مہم پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے، لوگوں کے گھروں کے پتہ جات اور پرائیویٹ فون نمبرز لیک کرنا تشدد اور ہراساں کرنے کے مترادف ہے،اس ہراسانی کو قطعی برداشت نہیں کیا جائے گا، متعلقہ حکام اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں، مجرمان اور ان کے ہینڈلرز قانون کے مطابق سزا سے نہیں بچ سکیں گے،

    واضح رہے کہ غریدہ فاروقی کے خلاف سوشل میڈیا پر گزشتہ روز مہم چلائی گئی تھی جس پر غریدہ نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ پی ٹی آئی اور اس سے منسلک لوگ ہر دس پندرہ دن بعد میرے خلاف منظم، سوچی سمجھی، اخلاق باختہ کیمپینز چلانا شروع کر دیتے ہیں کیونکہ میں انکے جھوٹ بےنقاب کرتی ہوں، سچ اور حقائق سامنے لاتی ہوں اور انکی گالم گلوچ ہراسانی کے دباؤ میں نہیں آتی۔ ایسی ہی ایک اور منظم کیمپین کل سے دوبارہ میرے خلاف شروع کروا دی گئی ہے۔ جس کیخلاف میں نے FIA میں شکایت درج کروا دی ہے۔ جو بھی اس کیمپین میں ملوث ہے اُسے قانون کے سامنے لازماً اب جوابدہ کروایا جائیگا۔ صحافیوں کو ہراساں کر کے انہیں خاموش کروانے کی پی ٹی آئی کی یہ واردات میرے خلاف 2014 سے مسلسل جاری ہے؛ لیکن میں ان ہتھکنڈوں سے خاموش ہونیوالی ڈرنے والی نہیں۔ خواتین صحافیوں اور خاص کر میرے خلاف ٹارگٹ کر کے پی ٹی آئی جو کیمپینز چلاتی ہے ان کا اب قلع قمع ہو گا۔ الیکشن کے نزدیک یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ صحافیوں کی کردارکُشی اور ہراساں کر کے دباؤ ڈال لینگے؛ یہ بھول ہے۔ افسوسناک اور شرمناک کہ ان کی خواتین کے ایماء پر اور انکی شمولیت کیساتھ یہ سب کچھ ہوتا ہے۔ یہ حالیہ کیمپین کس کے ایماء پر، کیوں اور کیسے شروع کی گئی سب معلوم ہو رہا ہے اور اس کا قانونی حل بھی ہو گا۔ اب قانون کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا۔ یہ جمہوریت کے نام پر فاشزم پھیلا کر معاشرے کو تباہ کر رہے ہیں؛ خواتین کی عزت اچھالتے ہیں؛ ریاست مخالف اقدامات کرتے ہیں؛ سب کا حساب اب ہونا چاہیئے اور ہو گا۔ ان شیطانوں کو اب جکڑا جانا چاہئیے اور ہونگے

    غریدہ فاروقی کو کسی بھی قسم کا جانی و مالی نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ دار پی ٹی آئی کی قیادت ہو گی،پی ایف یو جے
    پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے تحریک انصاف کی جانب سے جی ٹی وی کی اینکر غریدہ فاروقی کے گھر کا ایڈریس اور موبائل فون نمبر سوشل میڈیا پر ڈال کر کردار کشی اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کی منظم مہم پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے ۔ پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ و سیکرٹری جنرل ارشد انصاری نے اپنے مشترکہ بیان میں تحریک انصاف کی موجودہ قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس غیر قانونی اقدام میں ملوث پی ٹی آئی کے کارکنوں کیخلاف جماعت کے پلیٹ فارم سے تادیبی کارروائی کریں بصورت دیگر غریدہ فاروقی کو کسی بھی قسم کا جانی و مالی نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ دار پی ٹی آئی کی قیادت ہو گی۔ پی ایف یو جے کی قیادت نے مزید کہا کہ کسی بھی صحافی کی تحریر پر تبصرہ اور تنقید کو ہم جائز سمجھتے ہیں لیکن گالم گلوچ، کردار کشی اور سنگین نتائج و قتل کی دھمکیاں کسی صورت برداشت نہیں کی جائیں گی۔

    عمران خان کی ذہنی حالت،غریدہ فاروقی کا اہم انکشاف

    عمران خان کا فوج میں تقیسم کا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا 

    سپاہی کبھی غدار نہیں ہوتا،افواج اور قیادت کو نشانہ بنانے پر ریٹائرڈ فوجی برہم

    کس ویڈیو کی آمد ہے کہ بنی گالا کانپ رہا ہے،احمد جواد

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    اداروں کیخلاف ہرزہ سرائی کے پیچھے کرپشن اور فارن فنڈنگ کیس کا خوف ہے،آصف زرداری

  • لاپتہ افراد انکوائری کمیشن کی مدت میں توسیع

    لاپتہ افراد انکوائری کمیشن کی مدت میں توسیع

    وفاقی حکومت نے لاپتہ افراد انکوائری کمیشن کی مدت میں توسیع کردی ہے

    وفاقی حکومت کی جانب سے لاپتہ افراد کمیشن کی مدت میں توسیع کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے جس کے مطابق کمیشن کی مدت میں تاحکم ثانی توسیع کی گئی ہے،

    2011 میں پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں لاپتہ افراد کمیشن قائم کیا گیا تھا اور ماضی میں لاپتہ افراد کمیشن کی مدت میں 6 ماہ سے 3 سال تک کی توسیع کی جاتی تھی،لاپتہ افراد کمیشن تین افراد پر مشتمل ہیں جن میں کمیشن کے سربراہ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جسٹس جاوید اقبال ہیں جبکہ ممبران میں جسٹس (ر) ضیاء پرویز اور سابق آئی جی شریف ورک شامل ہیں

    طیبہ گل ہراسگی کیس؛ عمران خان اور جاوید اقبال کو ایک بار پھرطلبی کا نوٹس

    میرے کپڑے اتارے گئے،مجھے ننگا کیا گیا ،ویڈیو بنائی گئی،نیب کے پاس لیڈیز اسٹاف بھی نہیں،طیبہ گل کا انکشاف

    طیبہ گل ویڈیو اسکینڈل،میں خاتون سے نہیں ملا، اعظم خان مکر گئے

    عمران خان نے ویڈیو کے ذریعے چیئرمین نیب کو کیسے بلیک میل کیا؟ سلیم صافی کے ساتھ طیبہ کا بڑا انکشاف

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    واضح رہے کہ جبری گمشدگی کیس میں سپریم کورٹ میں چند دن قبل لاپتہ افراد کمیشن کا تذکرہ ہوا تھا جس میں لاپتہ افراد کے لواحقین نے لاپتہ افراد کمیشن پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ لاپتہ افراد کمیشن کے سربراہ کون ہیں، انکی کتنی عمر ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کمیشن کے سربراہ ہیں جن کی عمر 77سال ہے،وہ سپریم کورٹ کے جج کے عہدے سے 2011میں ریٹائرڈ ہوئے،رجسٹرار لاپتہ افراد کمیشن عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس نے لاپتہ افراد کمیشن کے رجسٹرار کو روسٹرم پر بلا لیا ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رجسٹر ار لاپتہ افراد کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ صرف تنخواہ ہی لے رہے ہیں یا کوئی کام بھی کرتے ہیں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کتنی مرتبہ کمیشن کا اجلاس ہوتا ہے، کتنی ریکوری ہوتی ہے، رجسٹرار لاپتہ افراد کمیشن نے کہا کہ اس ماہ 46 لوگ بازیاب ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آج کل لوگ لاپتہ ہو رہے ہیں یا نہیں ؟ آپکے پاس کیسز آ رہے ہیں ؟ رجسٹرار کمیشن نے کہا کہ جی کمیشن کے پاس کیسز آ رہے ہیں ، کیسز آنے کے بعد کمیشن جے آئی ٹی بناتی ہے ،آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ ہم لوگ لاپتہ کمیشن کے پاس گئے ، ہم ان سے مطمن نہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اعتزازاحسن صاحب آپ مطمئن ہیں اس کمیشن سے یا نہیں ؟ اعتزاز احسن نے کہا کہ میں بالکل مطمئن نہیں ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہاں اعتزاز احسن سمیت کوئی بھی لاپتہ افراد کیلیے قائم کمیشن سے مطمئن نہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے درخواست گزاروں سے استفسارکیا کہ جن کے مسنگ پرسنز کے مقدمات ہیں کیا وہ لاپتہ افراد کمیشن سے مطمئن ہیں یا نہیں، عدالت میں موجود درخواست گزاروں نے لاپتہ افراد کمیشن پر عدم اعتماد کا اظہار کردیا،لطیف کھوسہ نے کہا کہ سپریم کورٹ سے بڑی عمارت لاپتہ افراد کمیشن والوں کی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کمیشن کے لوگ کا تقرر کیسے ہوا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ وقت کے ساتھ ساتھ کمیشن کے نمائندگان کی معیاد میں توسیع ہوتی رہی،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا کمیشن ارکان کو تنخواہ ملتی ہے؟رجسٹرار نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ ججز کو عدالت عظمیٰ اور ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ ممبران کو عدالت عالیہ کے مطابق پیکج ملتا ہے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا کمیشن ممبران کو پنشن نہیں ملتی ؟ رجسٹرار نے کہا کہ پنشن الگ سے ملتی ہے اور بطور کمیشن تنخواہ الگ، اٹارنی جنرل نے کہا کہ لاپتہ افراد کمیشن 2011 میں بنا تھا اب تک اسے ہی توسیع دی جا رہی ہے،

  • حکومت نے پی سی بی کو پی ایس ایل کے میڈیا رائٹس کی فروخت سےروک دیا

    حکومت نے پی سی بی کو پی ایس ایل کے میڈیا رائٹس کی فروخت سےروک دیا

    لاہور: حکومت نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو پی ایس ایل کے میڈیا رائٹس کی فروخت سے روک دیا-

    باغی ٹی وی : حکومت نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو پی ایس ایل کے میڈیا رائٹس کی فروخت سے روکتے ہوئے ہر بڑے فیصلے سے قبل منظوری لینا لازمی قرار دے دیا پی سی بی کی مینجمنٹ کمیٹی کو حکومت کی جانب سے صرف روز مرہ کے امور انجام دینے کی اجازت دی گئی ہےحکومت کے اس اقدام سے کئی اہم معاملات تعطل کا شکار ہو گئے ہیں، پی ایس ایل کا انعقاد فروری میں ہونا ہے لیکن ابھی تک میڈیا و دیگر رائٹس کی فروخت نہیں ہو پائی ہے۔

    کرکٹ بورڈ کے پراسیس شروع ہونے کے بعد حکومت کی جانب سے خط موصول ہو گیا جس میں پہلے اجازت حاصل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ ذکا اشرف نے اس معاملے پر نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ سے ملاقات کی خاطر اپنا دورہ آسٹریلیا مؤخر کر دیا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ایس ایل کے میڈیا رائٹس فروخت کیے جانے ہیں، اس فروخت میں جتنی دیر ہوگی اس کی قیمت اتنی ہی کم ہوتی جائےگی، حکومت کو اصل اعتراض طویل المدتی معاہدوں پر ہے پی سی بی کو یاد دہانی کرا ئی گئی ہےکہ وہ انتہائی ضروری مختصر المیعاد کنٹریکٹ کرے جس کا اسے اختیار حاصل ہے، اب اس حوالے سے حکومت کو تمام طریقہ کار سے آگاہ کرتے ہوئے اجازت طلب کی جائےگی۔

    واضح رہے کہ براڈ کاسٹ سمیت پی ایس ایل 9 اور 10 یعنی دو سال کے لیے ٹینڈرز پر کام روک دیا گیا ہے، طریقہ کار کے مطابق بڈر کی پہلے ٹیکنیکل اور پھر فنانشل بڈ کا جائزہ لینے کے بعد معاہدہ کیا جاتا ہے۔

  • آڈیو لیکس کیس،شہریوں کی  گفتگو ریکارڈ کرنے کیلیے لیگل فریم ورک موجود ہے،جواب جمع

    آڈیو لیکس کیس،شہریوں کی گفتگو ریکارڈ کرنے کیلیے لیگل فریم ورک موجود ہے،جواب جمع

    آڈیو لیکس کیس ، وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری نے عدالتی سوالات پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں جواب جمع کرا دیا، جواب میں کہا گیا کہ شہریوں کی ٹیلی فونک گفتگو ریکارڈ کرنے کے لیے لیگل فریم ورک موجود ہے

    اینٹلی جنس ایجنسیز جو اندرونی و بیرونی محاذ پر ملکی دفاع میں مصروف ہیں وزیراعظم آفس کا حساس اداروں کے آپریشنز اور ان کردار کی تفصیل میں جانا قومی مفاد میں نہیں وزیراعظم آفس حساس اداروں سے آئین اور ملکی قانون کے مطابق عوامی مفاد میں کام کی امید رکھتا ہے . آڈیو لیکس کیس میں وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری نے تحریری جواب اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دیا

    جواب میں کہا گیا کہ عدالت نے پوچھا ہے کہ کس ایجنسی کے پاس شہریوں کی فون کالز ریکارڈ کی صلاحیت موجود ہے ؟ وزیراعظم آفس اینٹلی جنس ایجنسیز کے روز مرہ کے حساس کاموں میں مداخلت نہیں کرتا ، وزیراعظم آفس اینٹلی جنس ایجنسیز کے کلیدی ورکنگ میں مداخلت نہیں کرتا ، شہریوں کی ٹیلی فونٹ گفتگو ریکارڈ کرنے کے لیے لیگل فریم ورک موجود ہے، فیئر ٹرائل ایکٹ 2013 قانون نافذ کرنے والے اور اینٹلی جنس اداروں کو ریگولیٹ کرنے کا فریم ورک فراہم کرتا ہے

    جواب میں کہا گیا کہ عدالت نے سوال پوچھا کہ قانون کے مطابق ریکارڈ کی گئی ٹیلی فونک گفتگو کو خفیہ رکھنے کے کیا سیف گارڈز ہیں ؟ انوسٹی گیشن فار فیئر ٹرائل ایکٹ 2013 شہریوں کی گفتگو ریکارڈ کرنے کی اجازت دینے کا میکنزم فراہم کرتا ہے شہریوں کی قانون کے مطابق ریکارڈ کی گئی گفتگو کو خفیہ رکھنا اور لیک ہونے سے روکنے کو یقینی بنانا ضروری ہے اس بات کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے کہ ریکارڈ کی گئی گفتگو کو کسی اور مقصد کے لیے استعمال نا کیا جا سکے ، ٹیلی گراف ایکٹ 1885 میں بھی پیغامات پڑھنے کے لیے وفاقی یا صوبائی حکومت سے اجازت کو لازم قرار دیا گیا ہے ، پیکا آرڈی نینس اور رولز کے تحت بھی حاصل کیے گئے ڈیٹا یا ریکارڈ کو خفیہ رکھنا لازم ہے ،

    جواب میں کہا گیا کہ عدالت نے سوال پوچھا کہ شہریوں کی گفتگو کس نے ریکارڈ اور لیک کیں؟ تحقیقات کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ؟شہریوں کی ٹیلی فون پر کی گئی گفتگو ریکارڈ کر کے لیک کرنے کا معاملہ وفاقی حکومت کے علم میں ہے ، وفاقی حکومت نے سینئر ججز پر مشتمل اعلی سطح کا انکوائری کمیشن قائم کیا ، انکوائری کمیشن لیک کی گئی آڈیوز کے مصدقہ ہونے کی انکوائری کرے گا

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

  • حکومت کا ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ

    حکومت کا ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ

    کراچی : یہ فیصلہ حکومت نے ملکی معیشت کو بہتر بنانے، کالے دھن کو روکنے، روپے کی قدر کو بہتر بنانے اور مختلف قسم کی ادائیگیوں کے لیے ہے۔

    باغی ٹی وی: نجی اخبار "جنگ” میں شائع رپورٹ کے مطابق ڈیجیٹل کرنسی کی قدر پاکستانی روپے کے برابر ہی ہوگی جیسے چین کی ڈیجیٹل کرنسی کا ایک یونٹ چینی یوآن کے برابر ہے اور اس کو اسٹیٹ بینک کی مکمل حمایت حاصل ہوگی یہ پیپر کرنسی کی طرح یعنی حکومتی ضمانت کی بنیاد پر جاری ہوں گے ڈیجیٹل کرنسی کی تیاری کے لیے اسٹیٹ بینک نے کام شروع کردیا ہے اور اس ضمن میں ماہرین کی خدمات بھی حاصل کی جا رہی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق اس کیلئے سینٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسی (سی بی ڈی سی) کے نام سے ایک ادارہ کام کررہا ہے جو اس کی لاگت اور دیگر عوامل کاجائزہ لے رہا ہے تاکہ ہرقسم کی باریکی کو مد نظر رکھا جائے اور ڈیجیٹل کرنسی شروع کرنے کے بعد کسی قسم کی کمی یا خرابی نہ رہ جائے آہستہ آہستہ اس کو جاری کیا جائے گا اور کاغذی نوٹوں کو کم کیا جائے گا، آخر میں 90 فیصد ڈیجیٹل کرنسی کا استعمال ہوگا اور کاغذی نوٹوں کا صرف 10 فیصد تک رہ جائے گا وہ بھی صرف اس لیے کہ اگر کوئی بڑا مسئلہ ہوجائے تو متبادل کرنسی موجود ہو، سسٹم بالکل رک نہ ہوجائے۔

    نامورمیڈیا گروپ کا مالک جعلی ہاؤسنگ سوسائٹی اور منی لانڈرنگ میں ملوث،7 ارب روپے برآمد

    ڈیجیٹل کرنسی شروع کرنے سے کاغذی نوٹ چھاپنے، ان کو مختلف شہروں اور دیہاتوں تک حفاظت سے پہنچانے پر اٹھنے والے اخراجات میں کمی آئے گی اور ساتھ ساتھ پرانے نوٹوں کو تلف کرنے کے عمل پر اُٹھنے والے اخراجات میں بھی کم ہوں گے دوسری طرف نوٹ چھپ کر تقسیم ہو جاتے ہیں لیکن کہاں اور کس مقصد میں استعمال ہوتے ہیں یہ معلوم نہیں ہو پاتا لیکن ڈیجیٹل کرنسی نظام میں کرنسی سے کی جانے والی ہر ٹرانزیکشن کا ریکارڈ ہوگا جیسے صرف کریڈٹ اور ڈیبٹ کی ڈبل انٹری ریکاڑڈ کیپنگ نہیں ہوگی بلکہ ایک تیسری مکمل ریکارڈ maintaining ہوگی یوں مانیٹری پالیسی بہتر اور موثر طریقہ سے نافذ العمل عمل ہوسکے گی۔

    وزارت خزانہ کا پی آئی اے کے قرض پرسود اور خسارہ برداشت کرنےسےانکار

  • نئی مردم شماری کی بنیاد پر ہی انتخابات ہونے ہیں. خرم دستگیر

    نئی مردم شماری کی بنیاد پر ہی انتخابات ہونے ہیں. خرم دستگیر

    پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ پر پاکستان بار کا رد عمل تاریخ کا حصہ بن جائےگا۔ پاکستان بار کونسل کےرہنما حسن رضا پاشا نے کہا ہے کہ چیف جسٹس کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس عدلیہ کی تقسیم اور بار کے ردعمل کی وجہ سے نہ ہوسکا جبکہ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خرم دستگیر نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی ریٹائرمنٹ اور ان کے دور میں کیے گئے کیسز پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سینئر ججز کو اہم کیسزمیں شامل نہیں کیا جاتا تھا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ پنجاب اسمبلی کے کیس میں یوٹرن لیا گیا، پہلے ووٹ دینا، پھر ووٹ کی گنتی کو غیر آئینی قرار دیا گیا، فیصلے سے 12 کروڑ عوام کی حکومت تبدیل ہوگئی جبکہ ان کا کہنا تھا کہ ظلم تو ظلم ہے، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے، عدالت کو سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے۔

    خرم دستگیر نے کہا کہ نئی مردم شماری کی بنیاد پر ہی انتخابات ہونے ہیں، الیکشن کیلئے نئی حلقہ بندیاں لازمی ہیں، علاوہ ازیں پاکستان بار کونسل کے رہنما حسن رضا پاشا نے کہا کہ معزز ججز کی ریٹائرمنٹ پر فل کورٹ ریفرنس ہوتا ہے، چیف جسٹس عمرعطا بندیال بھی ریٹائر ہو رہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی ریٹائرمنٹ پر بھی امید تھی کہ فل کورٹ ریفرنس ہوگا، ہم اظہار خیال کریں گے، بینچ اور بار کے درمیان رشتہ اہم ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نئی مردم شماری کی بنیاد پر ہی انتخابات ہونے ہیں. خرم دستگیر
    انتخابی عمل کو پاکستان کے قوانین کے مطابق آگے بڑھایا جائے،امریکا
    پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد ہے،نگران وزیر داخلہ
    ڈیفالٹرز سے ریکوری مہم ،لیسکو نے دوسرے روز21.26ملین کی وصولی کرلی
    اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا
    حسن رضا پاشا کے مطابق پاکستان بار کونسل نے 4 بار فل کورٹ بینچ بنانے کا مطالبہ کیا، لیکن پاکستان بار کونسل کی درخواست کو مسترد کیا گیا، پاکستان بار کونسل کے رہنما نے فیصلے کو آئین کو دوبارہ تحریر کرنے کے مترادف قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ 25 ارکان اسمبلی کا ووٹ شمار نہ کرنے کا حکم دیا گیا، ہم نے آئین و قانون کے مطابق اپنا کردار ادا کیا۔

  • سیاسی جماعتوں میں میر جعفر۔ تجزیہ، شہزاد قریشی

    سیاسی جماعتوں میں میر جعفر۔ تجزیہ، شہزاد قریشی

    سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی لندن سے واپسی کا اعلان ان کے بھائی سابق وزیراعظم اور (ن) لیگ کے صدر شہباز شریف نے کردیا ہے۔ میاں محمد نواز شریف نے بذات خود اس کا اعلان نہیں کیا وہ شہباز شریف کے اعلان کے وقت ساتھ کھڑے تھے۔ میاں محمد نواز شریف کو پاکستان آنے سے پہلے اپنے آس پاس کا جائزہ انتہائی دوربینی سے لینا چاہئے۔

    ملکی سیاسی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجئے سیاست میں اور سیاسی جماعتوں میں ایسے ایسے میر جعفر موجود ہیں جن کا کوئی دین مذہب نہیں بلکہ یہ بے غیرتی کے پیٹ میں جنم لیتے ہیں اور حرص و آز کی گلیوں میں پروان چڑھتے ہیں اور دارالعلوم چاپلوسیاں میں ماہر اسفل و ارزل کی ڈگریاں لے کر اس بازار سے ہوتے ہوئے کسی کونے کھدرے میں بیٹھ کر اپنے شکاری کے درہم و دینار پر نظریں گاڑے ہوئے ہر آنے جانے والے کی مونچھ کا بال بننے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    قاضی فائز عیسیٰ کیلئے سکیورٹی مقرر کردی گئی

    ایشین کرکٹ کونسل کے صدر جے شاہ شدید تنقید کے زد میں
    مریم نواز شریف سے پاکستان میں آسٹریلیا کے ہائی کمشنر نیل ہاکنز کی ملاقات
    شیخ رشید نے ایک بار پھر 20 ستمبر تک سیاست میں بڑی ہلچل کا دعوی کردیا/
    ملک کے کروڑوں عوام اور بالخصوص نوجوان نسل سے گزارش ہے کہ وہ ایسے پروپیگنڈوں سے دو ررہیں جو ہماری قومی سلامتی کے لئے نیک شگون نہیں دنیا میں کون سی قیادت ہے جو اپنے قومی سلامتی کے فیصلوں میں فوج اور جملہ اداروں کے مشوروں پر عمل نہیں کرتی۔ حقیقت یہ ہے کہ فوج اور اس کے جملہ ادارے قومی سلامتی کے ذمہ دار ہوتے ہیں عراق پر امریکی حملے کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں اس وقت کے صدر بش کے اپنے ذاتی ذرائع نہیں تھے سی آئی اے اور پینٹاگان کے مشوروں پر عمل ہوا۔ پاک فوج ملک کی نظریاتی سرحدوں کی محافظ تو ہے ہی اپنے کندھوں پر ان گنت افسروں اور جوانوں کے شہداء کے خون کی بھی بھاری ذمہ داری ہے جو ملک کی حفاظت اور ملک میں رہنے والوں کے کل کو محفوظ رکھنے کے لئے اپنا آج ہم پر قربان کرگئے۔ عالمی طاقتوں کے اس خطے میں اپنے مفادات ہیں عالمی سازشوں کے سامنے ہماری فوج اور جملہ ادارے سینہ سپر ہیں۔

  • پاکستان سے اولمپک کوالیفائر ایونٹ کی میزبانی واپس

    پاکستان سے اولمپک کوالیفائر ایونٹ کی میزبانی واپس

    انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن نے پاکستان سے اولمپک کوالیفائر ایونٹ کی میزبانی واپس لے لی
    ایف آئی ایچ نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کو اپنے فیصلہ سے مطلع کردیا،ایف آئی ایچ نےحکومت پاکستان اور سپورٹس بورڈ کی جانب سے عدم تعاون پر میزبانی واپس لی ،ایونٹس کی میزبانی کی واپسی کی بنیادی وجہ ہاکی فیڈریشن کے معاملات میں حکومتی مداخلت کو قرار دیا گیا

    انٹرنیشنل ایونٹ کے انعقاد کے لئے حکومت کے تعاون اور سپورٹ کی ضرورت ہوتی ھے,حکومت پاکستان ، وزارت بین الصوبائی رابطہ اور پاکستان سپورٹس بورڈ ایف آئی ایچ کو سپورٹ فراہم نہیں کررہا،اولمپک کوالیفائر جیسا بڑا ایونٹ حکومت پاکستان کے تعاون کے بغیر منعقد کرانا ممکن نہیں، ان تمام وجوہات کی بنا پرپاکستان سے اولمپک کوالئفائر ایونٹ کی میزبانی واپس لی جارہی ھے، پاکستان نے 1994 چیمپینز ٹرافی کے بعد عالمی سطح پر 2024 اولمپک کوالیفائر ایونٹ کی میزبانی کو حاصل کیا تھا

    ایف آئی ایچ کے خط میں کہا گیا ہے کہ پی ایچ ایف کی اندرونی اور ارد گرد کی غیریقینی صورتحال کی وجہ سے میزبانی واپس لے رہے ہیں فی الحال پی ایچ ایف اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ اس ایونٹس کی میزبانی کرسکے ،ایف آئی ایچ میزبان ملک نے براڈکاسٹنگ،آپریشنل پلان،سکیورٹی جیسے اہم معاملات پرکچھ اپ ڈیٹ نہیں کیا، ایف آئی ایچ نےانتظامات کے حوالے سے پی ایچ ایف کو خط لکھے جس کا جواب تک نہ دیا گیا

    واضح رہے کہ اولمپکس ہاکی کوالیفائنگ راؤنڈ 13 سے 21 جنوری 2024 لاہورمیں ہونا تھی پاکستان کو پہلی بار اولمپکس کوالیفائنگ راؤنڈ کی میزبانی ملی تھی، کوالیفائنگ راؤنڈ میں آٹھ غیر ملکی ٹیموں کو شرکت کرنا تھی

    شاہین شاہ اور انشا کی شادی کی تاریخ سامنے آ گئی

    آئی سی سی رینکنگ بابر اعظم کی پہلی پوزیشن برقرار

    ایشیا کپ 2023 ،نسیم شاہ زخمی ہو گئے

    بابراعظم کی شادی کب تک؟