Baaghi TV

Tag: حکومت

  • سیاسی جماعتوں میں میر جعفر۔ تجزیہ، شہزاد قریشی

    سیاسی جماعتوں میں میر جعفر۔ تجزیہ، شہزاد قریشی

    سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی لندن سے واپسی کا اعلان ان کے بھائی سابق وزیراعظم اور (ن) لیگ کے صدر شہباز شریف نے کردیا ہے۔ میاں محمد نواز شریف نے بذات خود اس کا اعلان نہیں کیا وہ شہباز شریف کے اعلان کے وقت ساتھ کھڑے تھے۔ میاں محمد نواز شریف کو پاکستان آنے سے پہلے اپنے آس پاس کا جائزہ انتہائی دوربینی سے لینا چاہئے۔

    ملکی سیاسی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجئے سیاست میں اور سیاسی جماعتوں میں ایسے ایسے میر جعفر موجود ہیں جن کا کوئی دین مذہب نہیں بلکہ یہ بے غیرتی کے پیٹ میں جنم لیتے ہیں اور حرص و آز کی گلیوں میں پروان چڑھتے ہیں اور دارالعلوم چاپلوسیاں میں ماہر اسفل و ارزل کی ڈگریاں لے کر اس بازار سے ہوتے ہوئے کسی کونے کھدرے میں بیٹھ کر اپنے شکاری کے درہم و دینار پر نظریں گاڑے ہوئے ہر آنے جانے والے کی مونچھ کا بال بننے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    قاضی فائز عیسیٰ کیلئے سکیورٹی مقرر کردی گئی

    ایشین کرکٹ کونسل کے صدر جے شاہ شدید تنقید کے زد میں
    مریم نواز شریف سے پاکستان میں آسٹریلیا کے ہائی کمشنر نیل ہاکنز کی ملاقات
    شیخ رشید نے ایک بار پھر 20 ستمبر تک سیاست میں بڑی ہلچل کا دعوی کردیا/
    ملک کے کروڑوں عوام اور بالخصوص نوجوان نسل سے گزارش ہے کہ وہ ایسے پروپیگنڈوں سے دو ررہیں جو ہماری قومی سلامتی کے لئے نیک شگون نہیں دنیا میں کون سی قیادت ہے جو اپنے قومی سلامتی کے فیصلوں میں فوج اور جملہ اداروں کے مشوروں پر عمل نہیں کرتی۔ حقیقت یہ ہے کہ فوج اور اس کے جملہ ادارے قومی سلامتی کے ذمہ دار ہوتے ہیں عراق پر امریکی حملے کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں اس وقت کے صدر بش کے اپنے ذاتی ذرائع نہیں تھے سی آئی اے اور پینٹاگان کے مشوروں پر عمل ہوا۔ پاک فوج ملک کی نظریاتی سرحدوں کی محافظ تو ہے ہی اپنے کندھوں پر ان گنت افسروں اور جوانوں کے شہداء کے خون کی بھی بھاری ذمہ داری ہے جو ملک کی حفاظت اور ملک میں رہنے والوں کے کل کو محفوظ رکھنے کے لئے اپنا آج ہم پر قربان کرگئے۔ عالمی طاقتوں کے اس خطے میں اپنے مفادات ہیں عالمی سازشوں کے سامنے ہماری فوج اور جملہ ادارے سینہ سپر ہیں۔

  • پاکستان سے اولمپک کوالیفائر ایونٹ کی میزبانی واپس

    پاکستان سے اولمپک کوالیفائر ایونٹ کی میزبانی واپس

    انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن نے پاکستان سے اولمپک کوالیفائر ایونٹ کی میزبانی واپس لے لی
    ایف آئی ایچ نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کو اپنے فیصلہ سے مطلع کردیا،ایف آئی ایچ نےحکومت پاکستان اور سپورٹس بورڈ کی جانب سے عدم تعاون پر میزبانی واپس لی ،ایونٹس کی میزبانی کی واپسی کی بنیادی وجہ ہاکی فیڈریشن کے معاملات میں حکومتی مداخلت کو قرار دیا گیا

    انٹرنیشنل ایونٹ کے انعقاد کے لئے حکومت کے تعاون اور سپورٹ کی ضرورت ہوتی ھے,حکومت پاکستان ، وزارت بین الصوبائی رابطہ اور پاکستان سپورٹس بورڈ ایف آئی ایچ کو سپورٹ فراہم نہیں کررہا،اولمپک کوالیفائر جیسا بڑا ایونٹ حکومت پاکستان کے تعاون کے بغیر منعقد کرانا ممکن نہیں، ان تمام وجوہات کی بنا پرپاکستان سے اولمپک کوالئفائر ایونٹ کی میزبانی واپس لی جارہی ھے، پاکستان نے 1994 چیمپینز ٹرافی کے بعد عالمی سطح پر 2024 اولمپک کوالیفائر ایونٹ کی میزبانی کو حاصل کیا تھا

    ایف آئی ایچ کے خط میں کہا گیا ہے کہ پی ایچ ایف کی اندرونی اور ارد گرد کی غیریقینی صورتحال کی وجہ سے میزبانی واپس لے رہے ہیں فی الحال پی ایچ ایف اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ اس ایونٹس کی میزبانی کرسکے ،ایف آئی ایچ میزبان ملک نے براڈکاسٹنگ،آپریشنل پلان،سکیورٹی جیسے اہم معاملات پرکچھ اپ ڈیٹ نہیں کیا، ایف آئی ایچ نےانتظامات کے حوالے سے پی ایچ ایف کو خط لکھے جس کا جواب تک نہ دیا گیا

    واضح رہے کہ اولمپکس ہاکی کوالیفائنگ راؤنڈ 13 سے 21 جنوری 2024 لاہورمیں ہونا تھی پاکستان کو پہلی بار اولمپکس کوالیفائنگ راؤنڈ کی میزبانی ملی تھی، کوالیفائنگ راؤنڈ میں آٹھ غیر ملکی ٹیموں کو شرکت کرنا تھی

    شاہین شاہ اور انشا کی شادی کی تاریخ سامنے آ گئی

    آئی سی سی رینکنگ بابر اعظم کی پہلی پوزیشن برقرار

    ایشیا کپ 2023 ،نسیم شاہ زخمی ہو گئے

    بابراعظم کی شادی کب تک؟

  • بجلی بلوں میں ریلیف پلان مسترد

    بجلی بلوں میں ریلیف پلان مسترد

    عالمی مالیاتی فنڈز نے نگران حکومت کی طرف سے بھیجا گیا بجلی کے بلوں میں ریلیف کا پلان مسترد کردیا ہے جبکہ وزارت خزانہ کے ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے پلان مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے چھ ارب روپے کی بجائے پندرہ ارب روپے سے زائد کا اثر پڑے گا جبکہ پاکستان کی جانب سے بھیجی جانے والی سفارش میں بتایا گیا تھا کہ اس سے ساڑھے چھ ارب روپے کا اثر پڑے گا۔

    نجی ٹی وی کے مطابق وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے پندرہ ارب کی مالیاتی گنجائش پوری کرنے کا پلان بھی مانگ لیا ہے، آئی ایم ایف کے ساتھ دوبارہ پلان شیئر کیا جانا ہے جس کے باعث تاخیر ہو رہی ہے، نیا پلان شیئر ہونے پر آئی ایم ایف حکام اور وزارت خزانہ دوبارہ بات ہوگی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سی ٹی ڈی کی کاروائی،سات مبینہ دہشتگرد گرفتار
    ہیلی کاپٹر حادثے پر بہت دکھ ہوا،اللہ تعالی شہدا کے درجات بلند کرے، نواز شریف
    اگلے 10 دن اہم،بازی پلٹ گئی،نواز شریف،مریم پر ریڈ لائن ختم، بڑی تیاریاں شروع
    اوپن مارکیٹ؛ ڈالر 331 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا
    تاہم ذرائع نے بتایا کہ بجلی کے بلوں میں ریلیف دینے کے لیے بجٹ سے آؤٹ نہ ہونےکی آئی ایم ایف کویقین دہانی کرائی گئی ہے، بلوں کو 4 ماہ میں وصول کرنےکے لیے بھی آئی ایم ایف سے درخواست کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق بلوں کی اقساط میں وصولی کے پلان پر آئی ایم ایف سے دوبارہ بات کی جائے گی۔

  • عدلیہ اور قانون کا احترام کریں. مرتضیٰ سولنگی

    عدلیہ اور قانون کا احترام کریں. مرتضیٰ سولنگی

    نگران وزیر اطلاعات و نشریات مرتضیٰ سولنگی کا کہنا ہے کہ پرویز الٰہی کی گرفتاری کا معاملہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدلیہ کے درمیان ہے جبکہ نجی ٹی وی کو انٹرویو میں مرتضیٰ سولنگی نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور تحریک انصاف کے صدر چودھری پرویزالٰہی کی گرفتار پرردعل میں کہا کہ ایک ذمہ دار نگراں حکومت ہونے کے ناطے ہمارا فرض ہے کہ ہم عدلیہ اور قانون کا احترام کریں، پرویز الٰہی کی گرفتاری کا معاملہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدلیہ کے درمیان ہے۔

    علاوہ ازیں انہوں نےکہا کہ ملک میں ہر ایک کو اظہار رائے اور تنقید کا حق ہے، ہم کسی سے ان کا یہ حق چھین نہیں سکتے لیکن ہمارا بھی حق ہے کہ جس چیز کو درست سمجھیں وہ بلا خوف و خطر سامنے رکھیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان ہاکی فیڈریشن ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس 5 ستمبر کو ہو گا
    اپر چترال میں چکن پاکس پھیلنے لگا،درجنوں افراد متاثر
    مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگیا
    سی پیک مکمل ہونے کے بعد ملک میں ترقی اور خوشحالی کا دور آئے گا،پرویز خٹک
    اوپن مارکیٹ میں ڈالر 328 روپے کی تاریخی سطح پر پہنچ گیا
    ہمیں مہنگائی کا احساس ہے، کوشش کر رہے ہیں کہ عوام کو ریلیف دیں۔ کے پی کے نگران وزیر اطلاعات

    ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بجلی کے بلوں میں ریلیف کے حوالے سے کوششیں جاری ہیں، اس بارے تفصیلات فیصلوں کی شکل میں سامنے آئیں گی۔ آئین، قانون اور ہماری محدود مدت ہمیں فیصلے کرنے کی اجازت دیتے ہیں، آئین اور قانون کی روشنی میں ملک کے بہتر مفاد میں فیصلے کریں گے اور ان پر ڈٹ کر کھڑے رہیں گے۔

  • عوام کے مسائل کا حل نگران حکومت کے پاس نہیں،قرۃ العین مری

    عوام کے مسائل کا حل نگران حکومت کے پاس نہیں،قرۃ العین مری

    پیپلزپارٹی کی رہنما سینیٹر قرت العین مری نے کہا ہے کہ عوام کے مسائل کا حل نگران حکومت کے پاس نہیں بلکہ عوام کی منتخب کردہ حکومت کے پاس ہے، جلد از جلد انتخابات ملکی مسائل کا حل ہے۔

    سنیٹر سحر کامران اور میڈیا کوارڈینیٹر نذیر ڈھوکی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سینیٹر قرۃ العین مری کا کہنا تھا کہ اپنی کوتاہی اور اپنی نااہلی کسی بھی بین الاقوامی ادارے پر ڈالنا زیادتی ہے، آئی ایم ایف یہ نہیں کہتا کہ دو بار ایک تنخواہ پر انکم ٹیکس وصول کیا جائے، آئی ایم ایف یہ نہیں کہتا کہ گھر بند ہونے کے باوجود بجلی کے یونٹس میں اضافہ ہوتا رہے۔ بجلی کے بحران کا فوری حل یہ ہی ہو سکتا ہے کہ جو مفت بجلی استعمال کررہے ہیں ان سے یہ سہولت واپس لی جائے۔ ایک تخواہ پر دو بار انکم ٹیکس وصول کرنا سراسر ناانصافی ہے۔تھر کول آج کے دور میں بجلی پیدا کرنے کا سب سے سستا ذریعہ ہے مگر اس جانب کوئی توجہ نہیں دے رہا۔ "بجلی کے بلوں کی وجہ سے عوام پریشانی میں مبتلا ہیں کہ بجلی کا بل کیسے دیں اور کیسے اپنے دیگر اخراجات پورے کریں

    سینیٹر قرۃ العین مری کا کہنا تھا کہ ایف بی آر اپنا ٹارگٹ تو پورا کرلے گی لیکن بوجھ عوام پرپڑےگا۔ 47 فیصد بجلی امپورٹڈ پراڈکٹ سے پیدا ہورہی ہےتھرکول کو صرف دو فیصد استعمال کررہے ہیں،تھرکول پاکستان کے لیےکالا سونا ہے، پی پی نے سندھ میں دو لاکھ گھروں کو سولر سسٹم مہیا کیا ہے,2010 میں پی پی نے متبادل انرجی بورڈ بنایا مگر کسی نے اسے استعمال نہیں کیا،پاکستان بجلی ان سورسز سے پیدا کریں جو اس کے پاس ہیں،تھرکول بجلی بنانے کا سب سے سستا ذریعہ ہے،ہمارا فوکس صرف یہ ہے کہ بل دیں،حکومت کا غصہ غریب مزدوروں پر اتر رہا ہے،مفت کے یونٹ ہم میں سے کوئی استعمال نہیں کررہا،ہمارے نگران وزیر اعظم کہتے ہیں ججز کو مفت بجلی نہیں ملتی۔انہوں نے کہا کہ ججز کو ایک ہزار یونٹ بجلی فری ملتی ہے،عوام آپکی نااہلی کا ازالہ نہیں کرسکتے

    سینٹر سحر کامران نے کہا کہ میں نگران حکومت سے کوئی امید نہیں رکھتی ،پارلیمنٹیریئنز مفت بجلی نہیں لیتے،مفت بجلی کے صارفین کی فری بجلی ختم کردی جائے،وزیر اعظم کرسی پر ہو نہ ہو انہیں بجلی مفت دی جاتی ہے ،ریٹائرمنٹ کے بعد بجلی فری کیوں دی جاتی ہے؟ بجلی کے بلوں کا حل قسطوں میں بل کی ادائیگی نہیں ہے،اگلے ماہ کا بل کون دیگا؟ بجلی کے بلوں پر بات ہورہی تھی کہ پیٹرولیم قیمتیں بڑھا دی گئیں،بجلی چوری میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی کریں،سب سے زیادہ نقصان بجلی چوری پر ہورہا ہے،عوام کے مسائل نگران حکومت کے پاس نہیں بلکہ عوام کی منتخب کردہ حکومت کے پاس ہے،

    خاتون کے ساتھ زیادتی ،عدالت کا چھ ماہ تک گاؤں کی خواتین کے کپڑے مفت دھونے کا حکم

    نرسری وارڈ میں 4 بچوں کے جاں بحق ہونے پر وزیراعلیٰ کا نوٹس

    پسند کی شادی جرم بن گئی، سفاک ملزمان نے بچوں،خواتین سمیت سات افراد کو زندہ جلا ڈالا

    طالبعلم کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا قاری گرفتار،قبرستان میں گورکن کی بچے سے زیادتی

    حاملہ خواتین کو سموگ سیزن میں خصوصی احتیاط کی ضرورت

    بیرونی سازش ہو اور فوج خاموشی سے بیٹھی رہے، یہ گناہ کبیرہ ہے،آرمی چیف

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    بنوں آپریشن کے بعد سپہ سالار جنرل عاصم منیر کا وزیرستان،ایس ایس جی ہیڈکوارٹر کا دورہ بھی اہمیت کا حامل 

  • بجلی کے بل میں ریلیف کے لیے موثر اقدامات کی ضرورت

    بجلی کے بل میں ریلیف کے لیے موثر اقدامات کی ضرورت

    ڈان اخبار میں حالیہ شائع ہونے والے ایک مضمون میں، وزیراعظم کی جانب سے طلب کیے گئے ہنگامی اجلاس میں بجلی کے بلوں میں ریلیف فراہم کرنے کے لیے متعدد تجاویز پر غور کیا گیا۔ ایک قابل ذکر تجویز میں قسطوں میں بل ادا کرنے کا اختیار شامل تھا۔ اگرچہ یہ خیال پہلی نظر میں قابل فہم معلوم ہو سکتا ہے، لیکن بغور جائزہ لینے سے بعض چیلنجوں اور پیچیدگیوں کا پتہ چلتا ہے جو اسے ناقابل عمل بنا دیتے ہیں۔

    اس کی وضاحت کے لیے، آئیے فرض کریں: 30,000 روپے ماہانہ آمدنی اور 12,000 روپے کا بل۔ اس صورت میں، بل کی ادائیگی کا %50 اگلے مہینے تک موخر کر دیا جاتا ہے۔ اگلے مہینے میں 10,000 روپے کا بل آتا ہے، جس میں مزید 50 فیصد تاخیر ہوتی ہے۔ نتیجے کے طور پر، اس مہینے میں ادا کرنے کے لیے 11,000 روپے کا بل آتا ہے۔ یہ سلسلہ جاری رہتا ہے، اور ممکنہ طور پر مالی دباؤ کا باعث بنتا ہے۔ تجویز اس کی طویل مدتی پائیداری، فرد کے مالی استحکام اور ادائیگی کی صلاحیت پر اس کے ممکنہ اثرات کے بارے میں سوالات اٹھاتی ہے۔

    فی الحال، سالانہ 12 لاکھ روپے تک کی آمدنی ٹیکس سے مستثنیٰ ہے۔ نان فائلرز کے لیے شرح کا مطلب بجلی کے بل میں شامل اضافی ٹیکس ہیڈ ہے۔ تاہم، ہر سال 12 لاکھ سے کم آمدنی والے افراد اور سالانہ 12 لاکھ سے زیادہ کمانے والے، پر ٹیکس ادا کرنے کے اہل ہونے کے درمیان فرق کرنے کا طریقہ کار ابھی تک واضح نہیں ہے۔ وضاحت کی یہ کمی ایک مزید بہتر طریقہ کار کی ضرورت پر زور دیتی ہے جو ٹیکس کی پالیسیوں کو بجلی کے بلنگ کے ساتھ ہم آہنگ کرے۔

    غور طلب ایک اہم نکتہ بجلی کی کھپت کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین کا نظام ہے۔ یہ نظام ایک ایسا طریقہ استعمال کرتا ہے، جس کے نتیجے میں بڑھتی ہوئی کھپت کی شرح میں اضافہ ہے۔ منصفانہ اور شفافیت کو فروغ دینے کے لیے، ابتدائی یونٹس کے استعمال پر بجلی کے استعمال کے لیے فلیٹ ریٹ متعارف کرانا سمجھداری کا کام ہے۔ یہ ایڈجسٹمنٹ نہ صرف بلنگ کو آسان بناتی ہے بلکہ صارفین کے لیے ٹیکسوں میں کمی کا باعث بھی بنتی ہے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا پہلے دن معطل ہو جانا چاہئے تھی ،

    توشہ خانہ کیس میں رہائی کے حکم کے بعد سائفر مقدمے میں دوبارہ گرفتاری

     لاڈلے کی سزا معطل ہوئی ہے ختم نہیں ہوئی

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    واپڈا ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (XWDISCOs) کی طرف سے ہونے والے نقصانات کے مسئلے کو حل کرنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ان کمپنیوں کو بجلی چوری، لائن لاسز اور ناکافی وصولیوں کی وجہ سے 150 ارب روپے کے سالانہ نقصانات کا سامنا ہے۔ ان نقصانات کو ادائیگی کرنے کے لئے اسے صارفین پر مستقل طور پر منتقل کرنے کے بجائے، حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایسے حل کو ترجیح دے جو ان بنیادی مسائل کو براہ راست نشانہ بناتے ہوں۔ روک تھام اور احتساب پر توجہ دے کر، قانون کی پابندی کرنے والے صارفین پر بوجھ کو کم کیا جا سکتا ہے۔ (ایکسپریس ٹریبیون، 2022) ان مسائل کے حل کو روایتی طور پر نظر انداز کیا گیا ہے، خسارہ کو بل ادا کرنے والوں تک پہنچایا جاتا رہا ہے۔

    آخر کار یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ بجلی کے شعبے میں ہونے والے نقصانات کی بنیادی وجوہات کو حل کرے اور ایسے ٹھوس اقدامات پیش کرے جو صارفین پر سے واقعی بوجھ کو کم کریں۔ بامعنی اور موثر حل کے بغیر، یہ مسئلہ برقرار رہے گا، جس سے شہریوں کو حقیقی ریلیف کے بغیر انہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

  • ہمارا فوکس عوام کو ریلیف دینے پر ہے. وزیر اطلاعات

    ہمارا فوکس عوام کو ریلیف دینے پر ہے. وزیر اطلاعات

    نگران وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مرتضیٰ سولنگی کا کہنا ہے کہ اس بحث میں نہیں جانا چاہتے کہ بجلی کے بلوں میں اضافے کا ذمہ دار کون ہے، ہمارا فوکس عوام کو ریلیف دینے پر ہے، کل وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اس مسئلے پر بات ہوگی، امید ہے عوام کو ریلیف ملے گا جبکہ نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے نگران مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ عوام کو جو بل موصول ہوئے یہ جولائی کے ہیں، نگران حکومت نے 17 اگست کو حلف اٹھایا، عوام کا غصہ جائز ہے لیکن احتجاج کی بجائے ہمیں اس مسئلے کے حل کی طرف آنا چاہئے۔

    علاوہ ازیں انہوں نے مزید کہا کہ نگران وزیراعظم نے دو روز پہلے بجلی کے بلوں میں اضافے کا نوٹس لیا، آج بھی بجلی کے بلوں کے حوالے سے متعلقہ سٹیک ہولڈرز کے ساتھ اجلاس منعقد کیا، اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام میں رہتے ہوئے لوگوں کو کیا ریلیف دیا جا سکتا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    انٹربینک میں ڈالر 302 روپے کا ہوگیا
    بجلی بحران کے فوری حل کیلیے نگران وزیراعظم پاکستان کو پانج نکاتی مشورہ
    نوازشریف ہی عوام کومہنگائی، بجلی کے بلوں میں اضافے سے بچائیں گے،مریم نواز
    جبکہ نگران وقاقی وزیر نے کہا کہ تمام جماعتوں کے ساتھ مل کر انتخابات کو یقینی، پرامن اور منصفانہ بنانا ہے،نگران حکومت کی مدت کا تعین الیکشن کمیشن نے کرنا ہے، الیکشن کمیشن نے مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس کے فیصلوں کی روشنی میں آئین کے آرٹیکل 51 کے تحت انتخابات کے حوالے سے پورا نظام الاوقات اپنی ویب سائیٹ پر جاری کیا ہے، مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ ہم الیکشن کمیشن کی اعلان کردہ تاریخ پر پرامن، شفاف، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات کو یقینی بنائیں گے اور اس سلسلے میں الیکشن کمیشن کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔

  • بجلی بلوں کی کڑک: کن مدوں میں عوام ٹیکس دیتی ہے، ایک تجزیہ!تحریر: ملک شفقت اللہ

    بجلی بلوں کی کڑک: کن مدوں میں عوام ٹیکس دیتی ہے، ایک تجزیہ!تحریر: ملک شفقت اللہ

    پاکستان کے موجودہ سیاسی منظر نامے پر ایک نگراں حکومت کی جانب سے بجلی کے بلوں میں اضافے اور بے تحاشا ٹیکسوں کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہروں کے درمیان ملک کے داخلی معاملات پر توجہ کی ضرورت ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے تکنیکی حل نکالنے کی کوششوں کے بجائے ٹیکسوں کی بھرمار عوام کا معاشی قتل کر رہے ہیں، ملک کا معاشی عدم استحکام برقرار ہے اور بدتر ہوتا جا رہا ہے۔ مہنگائی اور قیمتوں میں اضافے کے ساتھ حالیہ برسوں میں حکومتی تبدیلیوں کا ایک سلسلہ شہریوں کے لیے ایک سنگین صورتحال کا باعث بنا ہے۔

    گزشتہ چند سالوں میں پاکستان کی سیاسی قیادت میں تبدیلیوں کا ایک سلسلہ دیکھا گیا ہے، جس میں منتخب حکومتوں کی جگہ اتحادیوں اور اب نگراں انتظامیہ نے لے لی ہے۔ بدقسمتی سے، اس سیاسی ہنگامے نے معاشی عدم استحکام میں حصہ ڈالا ہے، جس میں افراط زر کی شرح میں مزید اضافہ ہوا ہے۔خاص طور پر خوراک اور توانائی جیسے ضروری شعبوں سے منسلک ضروریات زندگی کی قیمتوں میں ٹیکسوں کی بھرمار سے ہوشربا اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے عوام پر اہم مالی بوجھ پڑا ہے۔ الیکٹرک بل، جو کہ بہت سے شہریوں کے لیے بنیادی تشویش ہے، میں سو گنا تک اضافہ ہوا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ ٹیکس کا پیچیدہ نظام ہے۔

    پاکستان میں بجلی کے بلوں میں موجود یونٹس پر آنے والے بل کا تعین اس کے استعمال کے مطابق یونٹوں کی تعداد کرتی ہے۔ سو یونٹس سے کم بجلی ٹیرف میں فی یونٹ قیمت پانچ سو یونٹ والے بل سے نسبتاً کم ہو گی۔ لیکن اسی بل میں حکومت ٹیکسوں کی مد میں جو صارفین کی جیب پر ڈاکہ ڈالتی ہے اس پر سوال اٹھانا ضروری ہے۔ سب سے پہلے تو فی یونٹ فنانسنگ کاسٹ چارج .43 پیسہ وصول کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد شروع ہوتی ہے ٹیکسوں کی لمبی قطار۔ جنرل سیلز ٹیکس کی مد میں دس فیصد سے لے کر پچیس فیصد تک، آمدنی ٹیکس بھی پانچ فیصد سے بیس فیصد، سہہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ یا ڈی ایم سی 1.86 سے آٹھ فیصد، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ پر ای ڈی023. سے 23. فیصد ، الیکٹریسٹی ڈیوٹی 87. سے 2 فیصد، ایکسٹرا ٹیکس 3فیصد سے دس فیصد، گھریلو صارفین سے ٹی وی فیس 35 روپے، Further tax دو سے پانچ فیصد، آر ایس ٹیکس تین سے پانچ فیصد، ایف پی اے کا آر ایس ٹیکس 0.08 سے دو فیصد، ایف پی اے پر جی ایس ٹی0.3 سے 1 فیصد، ایف پی اے پر 0.05 فیصد Further tax, پراگ آئی ٹی پیڈ ایفوائے ٹیکس پانچ سے پندرہ فیصد، پراگ جی ایس ٹی پیڈ ایفوائے ٹیکس پانچ فیصد سے اٹھارہ فیصد، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ ایک فیصد سے پندرہ فیصد، ایف سی سرچارج چار سے دس فیصد، بل ایڈجسٹمنٹ پانچ سے پندرہ فیصد، ٹوٹل فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ دو فیصد سے دس فیصد تک ٹیکس وصول کئے جاتے ہیں۔ اگر ہم ان سب ٹیکسوں کو اکٹھا کریں تو یونٹوں کے استعمال کے حساب سے ٹوٹل پچاس فیصد سے سڑسٹھ فیصد کے درمیان ٹیکس وصول کئے جاتے ہیں۔ ان کو اگر ہم مزید مختصر کریں تو ‏آسان الفاظ میں گھریلو صارفین سے 51 روپے فی یونٹ قیمت میں، ایندھن 6 روپے، 15 روپے بجلی گھر کرایہ، 16 روپے حکومت کا ٹیکس، 6.5 روپے دوسروں کو مفت یا سستا دینے کی مد میں اور آخر میں 6.5 روپے فی یونٹ بجلی چوری ہونے کا نقصان وصول کیا جاتا ہے۔ اسی شرح سے کمرشل صارف سے 66 سے اسی روپے فی یونٹ تک قیمت وصول کی جاتی ہے۔

    ماہرین کی رائے میں ان حالات پر قابو پانے کے مختلف حل ہیں۔ جن میں سے چند نقاط پیش کئے گئے ہیں۔ ٹیکس کے نظام کو ہموار کرنے سے صارفین پر بوجھ کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔ بجلی کے بلوں پر ٹیکسوں اور محصولات کی وسیع رینج پر دوبارہ غور کرنا، اور معقولیت کے لیے اختیارات تلاش کرنا، مجموعی اخراجات کو کم کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔
    قابل تجدید توانائی کے ذرائع میں سرمایہ کاری مہنگے جیواشم ایندھن پر انحصار کو کم کر سکتی ہے، بالآخر بجلی کی قیمتوں کو روک سکتی ہے۔ اس منتقلی کے مثبت ماحولیاتی اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔ کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈیز فوری ریلیف فراہم کر سکتی ہیں۔ تاہم، اس رعایتی عمل کو اچھی طرح سے ترتیب دیا جانا چاہیے اور مؤثر طریقے سے تقسیم کیا جانا چاہیے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ ان لوگوں تک پہنچیں جنہیں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

    معاشی بحالی کے لیے مستحکم سیاسی ماحول کا قیام بہت ضروری ہے۔ شفاف طرز حکمرانی اور پالیسیاں جو شہریوں کی فلاح و بہبود کو ترجیح دیتی ہیں اعتماد پیدا کر سکتی ہیں اور سرمایہ کاری کو راغب کر سکتی ہیں، جو بالآخر ترقی کا باعث بنتی ہیں۔

    توانائی کی تقسیم کی کارکردگی کو بہتر بنانا اور چوری کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کو کم کرنا لاگت کو روکنے پر براہ راست اثر ڈال سکتا ہے۔ بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں سرمایہ کاری اس مقصد کے حصول میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔پاکستان کے معاشی چیلنجز کثیر جہتی ہیں، جو سیاسی عدم استحکام، مہنگائی، اور ٹیکس کے پیچیدہ نظام سے پیدا ہوئے ہیں۔ شہریوں پر پڑنے والا بوجھ، خاص طور پر بجلی کے بے تحاشا بلوں سے، فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ٹیکس اصلاحات، توانائی کے تنوع، سبسڈی کی معقولیت، عوامی بیداری، سیاسی استحکام اور کارکردگی میں اضافہ پر مشتمل ایک جامع نقطہ نظر ضروری ہے۔ جیسے ہی قوم اس بحران سے گزر رہی ہے، پالیسی سازوں، ماہرین اقتصادیات اور شہریوں کی مشترکہ کوششیں مزید مستحکم اور خوشحال مستقبل کی جانب راہ ہموار کر سکتی ہیں

  • بجلی بلوں کے خلاف مظاہرے،کنٹرول روم قائم کرنے کیلئے حکم نامہ جاری

    بجلی بلوں کے خلاف مظاہرے،کنٹرول روم قائم کرنے کیلئے حکم نامہ جاری

    اسلام آباد: بجلی بلوں کے خلاف مظاہروں پر پاور ڈویژن نے جوابی حکمت عملی بنا لی-

    باغی ٹی وی: پاور ڈویژن نے کنٹرول روم قائم کرنے کیلئے حکم نامہ جاری کردیا گیا، ملک بھر میں بجلی کی تمام تقسیم کار کمپنیوں سے مربوط کوارڈینیشن کیلئے پاور ڈویژن میں مرکزی کنٹرول روم قائم کیا جائے گا،کنٹرول روم میں تعینات افسرن تقسیم کار کمپنیوں اور متعلقہ صوبوں کے آئی جیز اور چیف سیکرٹری سے امن و امان کی صورتحال بگڑنے پر رابطہ کرے گا کنٹرول روم میں تعینات افسران عوامی رد عمل کے نتیجے میں بجلی دفاتر کو ہونے والے نقصانات کی تفصیلی رپورٹ بھی مرتب کرکے اعلیٰ حکام کو پیش کریں گے۔

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں قائم مرکزی کنٹرول روم آج 25 اگست سے 31 اگست تک قائم کیا گیا ہے، مرکزی کنٹرول روم میں روزانہ پاور ڈویژن کا ایک جوائنٹ سیکرٹری، ڈپٹی سیکرٹری اور سیکشن افسران شفٹوں میں 24 گھنٹے کام کریں گے، اس حوالے سے پاور ڈویژن نے آفس آرڈر جاری کردیا ہے۔

    مڈغاسکراسٹیڈیم میں بھگڈر مچنے سے12 افراد ہلاک جبکہ 80 زخمی

    واضح رہے کہ بجلی کے بل زیادہ آنے کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں دوسرے روز بھی احتجاجی مظاہرے جاری ہیں،سرگودھا میں تاجروں نے بجلی کے زائد بلوں کے خلاف احتجاجاً بجلی کے بل ادا نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے بلز جلا دیے، تاجروں نے احتجاج کرتے ہوئے سڑک بلاک کردی جس کی وجہ سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی راولپنڈی، پشاور، چھانگا مانگا روڈ، دربار شیخ علم دین اور مستووال میں بھی شہریوں نے احتجاج کیا جب کہ شیخوپورہ میں وکیلوں نے احتجاج کے دوران بجلی کے بل جلادیئے مظاہرین کا کہنا تھا کہ بلوں میں اضافہ کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔

    لائیو نشریات کے دوران بی بی سی اینکر کی زبان پھسل گئی


    دوسری جانب نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے بجلی کے بھاری بلوں کے معاملے کا نوٹس لے لیا،وزیراعظم آفس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے بجلی کے بھاری بِلوں کے معاملے پر کل وزیراعظم ہاؤس میں ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے اجلاس میں وزارت بجلی اور تقسیم کار کمپنیوں سے بریفنگ لی جائے گی، صارفین کو بجلی بِلوں سے متعلق زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے پر مشاورت کی جائے گی۔

    سربراہ بی این پی عوامی اور سابق صوبائی وزیر اسد بلوچ کے گھر پر …

  • وزیراعظم کا وسائل کے مؤثر ترین استعمال اور کم سے کم ضیاع پر زور

    وزیراعظم کا وسائل کے مؤثر ترین استعمال اور کم سے کم ضیاع پر زور

    نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی زیر صدارت کوئٹہ میں ترقیاتی منصوبوں سے متعلق اجلاس ہوا،

    وزیراعظم نے بلوچستان میں آمدنی و روزگار کے ذرائع بڑھانے کیلئے مؤثر حکمت عملی کے نفاذ پر زور دیا ،وزیراعظم نے اجلاس کو مستقبل میں بہتر منصوبہ بندی کے لیے بجٹ اور اخراجات میں بہتر توازن قائم کرنے کی ہدایت کی، وزیراعظم نے وسائل کے مؤثر ترین استعمال اور کم سے کم ضیاع پر زور دیا ،نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ پاکستان بالخصوص بلوچستان میں معدنیات کی کان کنی کی وسیع استعداد ہے جس کو ملکی معیشت کی ترقی کے لیے بروئے کار لایا جا سکتا ہے، بلوچستان کی معدنیات سے اسی وقت بہتر طریقے سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے جب ان علاقوں میں بہترین مواصلاتی انفراسٹرکچر موجود ہو.

    اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان نے وزیراعظم کو مجوزہ و جاری ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ دی ،اجلاس میں نگران وزیر اعلیٰ بلوچستان، نگران وزیر داخلہ، وزیر مواصلات، وزیر منصوبہ بندی و ترقی اور متعلقہ افسران موجود تھے.

    دوسری جانب نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی زیر صدارت بلوچستان میں سیکیورٹی کی صورتحال سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا،وزیراعظم نے اس سلسلے میں صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار کو سراہا۔ نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ ملک و قوم کا تحفظ اور ملک میں عوام کے لیے محفوظ ماحول کو برقرار رکھنا ہماری اولین ترجیح ہے۔ تحفظاتی معاملات میں ریاستی ردعمل کو مضبوط بنانے کے لئے قانونی ڈھانچے کو مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔

    بجلی کے بلوں میں اضافہ پرشہری سڑکوں پرنکل آئے

    بجلی کے نرخوں کے حوالے سے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا

     عابد شیر علی پریس کانفرنس کرتے ہوئے بجلی کے بھاری بلوں پر پھٹ پڑے ،

     پاکستان چاہے تو ہم پاکستان کو سستی بجلی، گیس اور تیل دے سکتے ہیں

    حکومت نے پاک ایران، پاک روس بارٹر تجارت کی اجازت دے دی

     اپنی صنعتوں کو تالے لگا دیں گے اور چابیاں حکومت کے حوالے کردیں گے۔