Baaghi TV

Tag: حکومت

  • ٹیرف میں اضافےکی بڑی وجہ روپے کی قدر میں کمی اورکیپسٹی پیمنٹس ہیں،نیپرا حکام

    ٹیرف میں اضافےکی بڑی وجہ روپے کی قدر میں کمی اورکیپسٹی پیمنٹس ہیں،نیپرا حکام

    اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کی قیمت میں ساڑھے 7 روپے اضافے کی حکومتی درخواست پر سماعت مکمل کرلی۔

    باغی ٹی وی : چیئرمین نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کی بنیادی قیمت میں ساڑھے 7 روپے فی یونٹ تک اضافے کی حکومتی درخواست پر سماعت کی جس سلسلے میں پاور ڈویژن نے نیپرا کو بریفنگ دی۔

    نیپرا حکام نے کہا کہ ٹیرف میں اضافے کی بڑی وجہ روپے کی قدر میں کمی اورکیپسٹی پیمنٹس ہیں، کس سلیب کے لیے کتنا اضافہ کرنا حکومت کا کام ہے، یہ سیاسی اور انتظامی فیصلہ ہے جو حکومت نے کرنا ہے۔

    یاسمین راشد،عمر سرفراز چیمہ اور اعجاز چوہدری کے جوڈیشل ریمانڈ میں بھی 14 روز …

    ممبر نیپرا رفیق شیخ نے سوال کیا کہ وہ کون سا قانون ہے جو حکومت کو سبسڈی دینے کا تعین کرتاہے؟ کس سلیب کو کتنی سبسڈی دینی ہےحکومت کو یہ اختیار کون سا قانون دیتا ہے؟ممبر نیپرا کے سوال پر پاور ڈویژن حکام نے بتایا کہ حکومت بجلی صارفین کو 158 ارب روپے کی سبسڈی دے گی اور 200 یونٹ تک کے صارفین کے لیے کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا۔

    اس پر چیئرمین نیپرا نے کہا کہ پروٹیکٹڈ کو سبسڈی دینے سے دیگر صارفین پر بوجھ پڑ رہاہے پاور ڈویژن حکام نے کہا کہ ملک میں 40 فیصد صارفین خط غربت سےنیچےرہ رہے ہیں، ان بجلی صارفین کو حکومت سبسڈی فراہم کررہی ہےحکومت 90 فیصد صارفین کو سبسڈی دے رہی ہے۔

    میں کیا کروں کہ ضبط تمنا کے باوجود، بے اختیار لب پہ ترا نام …

    ممبر نیپرا رفیق شیخ نے کہا کہ دنیا میں کیا ریٹس چل رہے ہیں اور پاکستان میں کیا صورتحال ہے، اس پر نمائندہ اپٹما نے کہا کہ ٹیرف میں صرف ایک فیصد اضافے سے بھی برآمدات پر منفی اثرات پڑتا ہے، کمرشل اور بل بورڈز کوکمرشل ٹیرف دیا جارہا ہے، اگر وہ متبادل پر جائیں تو ان کو 300 روپے فی یونٹ پڑتاہے، بجلی کمپنیاں اپنے نقصانات زیادہ ہونے یا ریکوریز کم ہونے پرلوڈشیڈنگ شروع کردیتی ہیں، حالیہ بارشوں کے دوران بجلی کے 22 ہزار میٹرز جل گئے، کیسے جل گئے؟

    ممبر نیپرا نے کہا کہ پاور ڈویژن بجلی صارفین کے لیے سبسڈی کا اکنامک کیس بنا کر بتائے، گھریلو صارفین کو سبسڈی دے رہے ہیں تو انڈسٹری کو بٹھا رہے ہیں۔

    خاتون جج دھمکی کیس:عمران خان کی عدالت میں حاضری کیلئےجوڈیشل کمپلیکس آمد،اوپر جانے سے انکار

    بعد ازاں نیپرا نے بجلی کی قیمت میں ساڑھے 7 روپے فی یونٹ اضافے کے معاملے پر سماعت مکمل کرکے فیصلہ محفوظ کرلیا جو تفصیلات کا جائزہ لے کر وفاقی حکومت کو بھجوایا جائے گا اور وفاقی حکومت بجلی کی قیمت میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کرے گی۔

  • بجلی کی قیمت میں ساڑھے 7 روپے فی یونٹ تک اضافہ

    بجلی کی قیمت میں ساڑھے 7 روپے فی یونٹ تک اضافہ

    حکومت نے عوام پر ایک اور بجلی بم گرا دیا ، بنیادی ٹیرف میں سے ساڑھے 7 روپے فی یونٹ تک اضافہ کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: ذرائع کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اضافے کا اطلاق یکم جولائی سے کرنے کی تجویز دی گئی ہے کابینہ نے سرکولیشن کے ذریعے سمری کی منظوری دے دی ہے، حکومت نے بنیادی قیمت میں اضافے کی درخواست نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں دائر کردی ہے، نیپرا اب وفاقی حکومت کی درخواست پر سماعت کے بعد فیصلہ دےگا-

    ترک شیف براق اوزدیمرنے والد کے خلاف مقدمہ درج کرا دیا

    ذرائع کے مطابق 100 یونٹ والے گھریلو صارفین کے لیے بجلی 3 روپے ، 101 سے 200 یونٹ کے لیے 4 روپے ، 201 سے 300 یونٹ تک والے کے لئے 5 روپے ، 301 یونٹ سے 400 تک 6 روپے 50 پیسے جبکہ 400 سے 700 یونٹ والے صارفین کے لیے 7 روپے 50 پیسے فی یونٹ اضافے کی تجویز دی گئی ہے نیپرا وفاقی حکومت کی درخواست پر سماعت کے بعد فیصلہ دے گا، حکومت نیپرا کے فیصلے کے بعد اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کرے گی قیمتوں میں اضافے سے صارفین پر 3 ہزار 495 ارب کا بوجھ پڑے گا۔

    واضح رہے کہ نیپرا رواں مالی سال کے لیے بجلی کے ٹیرف میں اضافےکی منظوری پہلے ہی دے چکا ہے سیکرٹری پاور ڈویژن کا کہنا ہےکہ بجلی کے 55 فیصد صارفین پر بجلی کی قیمتوں میں اضافےکا اطلاق نہیں ہوگا، اس کا اطلاق 45 فیصد صارفین پر ہوگا۔

    میرا خواب ہےکہ پاکستان بھارت کی سرزمین پر ورلڈکپ لفٹ کرے،عطا تارڑ

  • پیٹرول پمپس مالکان نے ہڑتال 48 گھنٹوں کیلئے موخر کردی

    پیٹرول پمپس مالکان نے ہڑتال 48 گھنٹوں کیلئے موخر کردی

    کراچی:پیٹرول پمپس مالکان نے ہڑتال دو دن کیلئے مؤخر کردی ہے۔

    باغی ٹی وی : وزیر مملکت برائے پیٹرولیم مصدق ملک کے پیٹرول پمپس مالکان سے مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے مذاکرات کے بعد پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دو دن بعد پھر مذاکرات کا امکان ہے۔

    اس بات کا اعلان کراچی میں وزیر مملکت پیٹرولیم مصدق ملک اورپاکستان پیٹرولیم ڈیلر کےچیئر مین عبدالسمیع نے مشترکہ نیوز کانفرنس سےخطاب کرتے ہوئےکیا وزیر مملکت نے کہا کہ ہم نے پیٹرولیم ڈیلر ز کے مسائل کے حل کمیٹی بنادی گئی ہے اور مذاکرات کادوبارہ آغاز پیر کو ہوگا ہم جو بھی فیصلہ کریں گے وہ عوام اور پیٹرول ڈیلزر کے مفاد میں ہوگا ، ہم چاہتےہیں کہ پیٹرولیم سے منسلک ڈیلرز اس کام میں بڑھیں اور مزید پیٹرول پمپس کھولے ۔۔

    کراچی میں ایک اورلڑکی کے ساتھ دن دیہاڑے نازیبا حرکت

    کانفرنس سے خطاب کرتے پیٹرولیم ڈیلر ایسوسی ایشن کے چیئر مین عبدالسمیع خان نے کہاکہ ہمارے ساتھ معاہدہ ہوا ہے جس کےتحت 48 گھنٹوں میں حکومت فیصلہ کرئےگی اور مسئلے کا حل نکل آئے گا ہم وزیر مملکت مصدق ملک کے مشکور ہیں جنہوں نے ہمارے مطالبات کو غور سے سنا اور حل کی یقین دہانی کرائی۔

    دوست ممالک کی طرف سے سرمایہ کاری کے حصول کیلئے منصوبوں کی منظوری

    واضح رہے کہ پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے 22 جولائی سے پیٹرول پمپس بند کرنے کا اعلان کر دیا پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ تحفظات پر وزیر پیٹرولیم کو آگاہ کیا لیکن کوئی جواب نہیں دیا گیا، حکومت نے منافع کی شرح 2 اعشاریہ 40 رکھی جو منظور نہیں ہے ایرانی اور اسمگل شدہ پیٹرول سے ہماری سیل 30 فیصد گر گئی ہے، تحفظات دور ہونے تک پیٹرول کی فراہمی کو بند رکھا جائے گا جس کے بعد وزیر مملکت برائے پیٹرولیم مصدق ملک پیٹرولیم ڈیلرز سے مذاکرات کیلئے کراچی آئے تھے۔

    بلاول بھٹو کا سیلاب متاثرین کو 20 لاکھ گھر بنا کر دینے کا اعلان

  • چیئرمین پی سی بی کا الیکشن 22 روز کے اندر کرانے کا حکم

    چیئرمین پی سی بی کا الیکشن 22 روز کے اندر کرانے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ نے چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کا الیکشن 22 روز کے اندر کرانے کا حکم دے دیا۔

    باغی ٹی وی: لاہور ہائیکورٹ نے نوید مشتاق کی درخواست پر 12 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا،فیصلے میں عدالت نے حکم دیا ہے کہ 15 دن کے اندر بورڈ آف گورنر کی تشکیل مکمل کی جائے اور بورڈ کی تشکیل کے بعد 7 روز میں چیئرمین پی سی بی کا الیکشن کرایا جائے۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ 5 جولائی کو مینجمنٹ کمیٹی کی تشکیل کا نوٹیفکیشن درست ہے، حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ہی پاکستان کرکٹ بورڈ کے ایشوز عدالتوں میں آجاتے ہیں، ریاستی اداروں کی سیاسی معاملات میں مداخلت کو اب دیکھنا چاہیئے،اداروں میں سیاسی مداخلت سے ملک میں عدم استحکام کی صورتحال پیدا ہوتی ہے، سیاسی پسند اور ناپسند پر آئین کو ترجیح دے کر استحکام یقینی بنا سکتے ہیں۔

    ہندی اور اردو ادب کی معروف افسانہ اور ناول نگار

    خیال رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پی سی بی کے بورڈ آف گورنرز کے نئے ممبران کی منظوری دیدی ہےوفاقی وزیر احسان مزاری کے نامزد کردہ چوہدری ذکا اشرف کا نام تجویزکیا ہے، گورننگ بورڈ کیلٸے مصطفیٰ رمدے کا نام بھی تجویز کیا گیا ہے،اپنے حتمی اجلاس کےدوران، مینجمنٹ کمیٹی موصول ہونے والی نامزدگیوں پرغور کرے گی اور پی سی بی کے نئے سربراہ کے انتخاب کے ایجنڈے پر مکمل توجہ مرکوز کرے گی۔

    ایئرپورٹس کو آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ

    نمائندگی اور شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے، چار محکموں اور چار صوبوں کے نمائندوں کو کرکٹ بورڈ آف گورنرز میں خدمات انجام دینے کے لیے مطلع کیا جائے گااس نوٹیفکیشن کے اجراء کے بعد کمیٹی غیر فعال ہو جائے گی، تمام اختیارات قائم مقام چیئرمین چیف الیکشن کمشنر رانا شہزاد کو منتقل ہو جائیں گےذمہ داری مکمل طور پر ہاتھ میں آںے کے بعد قائم مقام چیئرمین اس کے بعد اس عمل کو مکمل کرنے اور چیئرمین کے انتخاب کے لیے شیڈول مرتب کریں گے-

    جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کے خلاف ریفرنس فیصلے پر دوبارہ نظر ثانی کیس کا فیصلہ جاری

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے آئین کے مطابق یہ پورا عمل اگلے 21 دنوں میں اپنے اختتام کو پہنچنے کی امید ہے مؤثر طریقہ کار پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے الیکشن کمشنر نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تمام ضروری عمل دو سے تین دن کی مدت میں مکمل کیا جا سکتا ہے۔

  • عام انتخابات کیلئے ساڑھے بیالیس ارب روپے کی گرانٹ منظور

    عام انتخابات کیلئے ساڑھے بیالیس ارب روپے کی گرانٹ منظور

    اقتصادی رابطہ کمیٹی نے الیکشن کمیشن کی سمری منظورکرتے ہوئےعام انتخابات کیلئے ساڑھے بیالیس ارب روپے کی گرانٹ کی منظوری دے دی ہے جبکہ وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی زیرصدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا ہے، جس میں عام انتخابات کیلئے 42.5 ارب روپے کی گرانٹ کی منظوری دے دی گئی تاہم ذرائع کے مطابق عام انتخابات کیلئے فنڈزکی حتمی منظوری وفاقی کابینہ سے لی جائے گی، الیکشن کمیشن کو ابتدائی طور پر 10 ارب روپے جاری کئے جائیں گے۔

    جبکہ دوسری جانب قومی اسمبلی کی پارلیمانی انتخابی اصلاحات کمیٹی نےمجوزہ ترامیم کوحتمی شکل دے دی ہے جس کےمطابق حلقہ بندیاں رجسٹرڈ ووٹرز کی مساوی تعداد کی بنیاد پر کی جائیں گی ،رکن قومی اسمبلی یا سینیٹر ساٹھ روز میں حلف نہیں اٹھاتا تورکنیت ختم کرنےکی تجویزدیدی گئی ۔ مجوزہ ترامیم کے مطابق رکن قومی اسمبلی یا سینیٹر ساٹھ روز میں حلف نہیں اٹھاتا تورکنیت ختم کرنےکی تجویزدیدی گئی۔انتخابی حلقوں میں ووٹرز کی تعدادمیں پانچ فیصد سے زیادہ فرق نہیں ہو گا ، حلقہ بندیوں کیخلاف شکایت تیس روزمیں کی جا سکے گی ، حلقہ بندیوں کاعمل انتخابی شیڈول کے اعلان سے چار ماہ قبل مکمل ہو گا ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بھارت،خواتین کی برہنہ پریڈ کروانے والا گرفتار،سپریم کورٹ کا نوٹس
    روپے کی قدر میں 0.47 فیصد کی تنزلی ریکارڈ
    عمران خان کی مشکلات میں کمی نہ ہو سکی، ایک اور جے آئی ٹی نے 21 جولائی کو طلب کر لیا۔
    عراق؛ سویڈن سفارتخانہ نذرآتش، قرآن کی بے حرمتی پر سفیر کو نکلنے کا حکم
    عالمگیر ترین کی موت بارے فرانزک رپورٹ جاری

    کمیٹی کی مجوزہ ترامیم کے مطابق الیکشن کمیشن پولنگ عملے کی تفصیلات ویب سائٹس پر جاری کرے گا ، پولنگ عملہ انتخابات کے دوران اپنی تحصیل میں ڈیوٹی نہیں دے گا ، پولنگ اسٹیشن میں کیمروں کی تنصیب میں ووٹ کی رازداری یقینی بنائی جائے گی ۔ زہ ترامیم کے مطابق کاعذات نامزدگی مسترد یا واپس لینے پرامیدوار کو فیس واپس کی جائے گی ، امیدوار ٹھوس وجوہات پر پولنگ اسٹیشن کے قیام پراعتراض کر سکے گا ، حتمی نتائج کے تین روز میں سیاسی جماعتیں حتمی ترجیحی فہرست فراہم کریں گی ۔ مجوزہ ترامیم کی قومی اسمبلی اورسینیٹ سےمنظوری لی جائے گی ۔

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،اربوں روپے کے سپر ٹیکس کا نفاذ غیر آئینی قرار

    اسلام آباد ہائیکورٹ،اربوں روپے کے سپر ٹیکس کا نفاذ غیر آئینی قرار

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے اربوں روپے کے سپر ٹیکس کا نفاذ غیر آئینی قرار دے دیا

    عدالت نے حکومت کی جانب سے سپر ٹیکس اکٹھا کرنا غیر قانونی قرار دے دیا ،عدالت نے انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق فور سی کو بھی غیر آئینی قرار دے دیا ،سیکشن فور سی کے حوالے سے عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں وضاحت بھی کردی،جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے محفوظ فیصلہ سنا دیا

    عدالت نے مختلف کمپنیز اور اداروں کی جانب سے دائر درخواستیں منظور کر لیں ،درخواست گزاروں کی جانب سے سلمان اکرم راجہ ، عدنان حیدر رندھاوا ایڈوکیٹ و دیگر نے کیسز کی پیروی کی ،سپر ٹیکس کے ڈیمانڈ اور ریکوری کے تمام نوٹسز عدالت نے کالعدم قرار دے دئیے

    سپر ٹیکس کیا ہے؟
    یہ ایک خاص ٹیکس ہوتا ہے اور عمومی ٹیکس کے اوپر لگایا جاتا ہے،یہ ٹیکس حالات کو دیکھ کر لگایا جاتا ہے اور ایمرجنسی کی صورت میں کوئی بھی حکومت ہنگامی اقدامات کے تحت اسے عائد کر سکتی ہے،پاکستان میں اس سے پہلے 2010 میں بھی سپر ٹیکس عائد کیا گیا تھا جب سیلاب آیا تھا تاہم حالیہ سپر ٹیکس کا زیادہ فائدہ نہیں ہو گا۔‘

    معاشی ماہرین کے مطابق سپر ٹیکس ایک ایسا ٹیکس ہوتا ہے جو حکومتیں اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے آمدن پر ایک اضافی طور پر لگاتی ہیں۔ شہریوں یا ایک خاص طبقے پر لگائے جانے والے اضافی ٹیکسوں کے بعد ان کی ٹیکس کی مد میں آنے والی آمدن کے اوپر کچھ فیصد کا مزید ٹیکس سپر ٹیکس کے زمرے میں آتا ہے۔

    اس سے قبل وزیر اعظم شہباز شریف نے معاشی ٹیم کے اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ عام آدمی کو ٹیکس سےبچانے کے لیے صنعتوں پرٹیکس لگایا ہے، سیمنٹ، اسٹیل، شوگرانڈسٹری، آئل اینڈگیس، ایل این جی ٹرمینل، فرٹیلائزر، بینکنگ، ٹیکسٹائل، آٹوموبائل، کیمیکل، بیوریجز اور سگریٹ انڈسٹری پر بھی 10 فیصد سپر ٹیکس لگے گا۔

    انہوں نے کہا تھا کہ سالانہ 15کروڑ روپے سے زائد آمدن کمانے والے پر ایک فیصد، 20 کروڑ روپے سالانہ سے زائد آمدن والے پر2 فیصد، 25 کروڑ روپے سالانہ سے زائد آمدن والے پر3 فیصد اور 30 کروڑ روپے سالانہ سے زائد آمدن والے پر4 فیصد ٹیکس لگایا جائے گا جو غربت میں کمی کا ٹیکس ہے

    سپرٹیکس 15کروڑ سے زائد کی سالانہ آمدنی پر لگے گا۔

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

    ہولی کا تہوار سندھ کی ثقافت کا حصہ ہے،شاہدہ رحمانی

    پیپلز پارٹی آپ کے دفاع میں سامنے نہیں آئے گی،بلاول کا عمران کو پیغام

  • حکومت عوام پر ظلم کی بجائے اپنی مراعات ختم کرے،سراج الحق

    حکومت عوام پر ظلم کی بجائے اپنی مراعات ختم کرے،سراج الحق

    لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ غریب طبقہ کیلئے قیامت سے کم نہیں-

    باغی ٹی وی: لاہور میں تقریب سے خطاب کے دوران سراج الحق نے کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کو مسترد کرتے ہیں، ٹیرف بڑھا کر عوام کی جیبوں پر 500 ارب کا ڈاکہ ڈالا گیا، ٹیکسز شامل کر کے فی یونٹ قیمت 56 روپے تک پہنچ گئی ہے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ غریب طبقہ کیلئے قیامت سے کم نہیں حکومت عوام پر ظلم کی بجائے اپنی مراعات ختم کرے۔

    سراج الحق نے کہا کہ عوام کے حق کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے، حکومت آئی ایم ایف معاہدہ قوم کے سامنے لائے، حکمران قرض خود ہڑپ کرتے ہیں، ادائیگی کے لیے عوام کو قربانی کا بکرا بنایا جاتا ہے پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی نے مہنگائی کے خلاف لانگ مارچز کیے لیکن اب مجرمانہ خاموشی اختیار کرلی ہے۔

    توشہ خانہ کیس:عمران خان کی درخواست سماعت کیلئے مقرر

    واضح رہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف معاہدے کے بعد عوام پر بجلی بم گرا دیا ہے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے بعد فی یونٹ کا بنیادی ٹیرف 24 روپے 82 پیسے سے بڑھا کر 29 روپے 78 پیسے کر دیا گیا ہے بجلی کے 100 یونٹ استعمال کرنے پر 500 روپے بڑھائے گئے ہیں ، اگر پرانا بل 1340 روپے ہے تو نیا بل 1826 روپے ادا کرنا ہوگا ، 200 یونٹ استعمال کرنے پر ایک ہزار روپے اضافہ لگے گا، 200 یونٹ پر پرانا بل 3700 روپے ہونے کی صورت میں نیا بل 4700 روپے ادا کرنا پڑے گا۔

    300 یونٹ استعمال کرنے والوں کیلئے 2 ہزار روپے کا اضافہ کر دیا گیا ہے، 300 یونٹ کا پرانا بل 6 ہزار ہے تو نیا بل 8 ہزار روپے ہوگا ، 400 یونٹ والے صارف کو 2300 روپے اضافی جمع کرانا پڑیں گے، پرانا بل 10 ہزار ہونے کی صورت میں نیا بل 12300 روپے آئے گا۔

    جنوبی کوریا میں طوفانی بارشیں،24 افراد ہلاک، ہزاروں افراد کا انخلا

    500 یونٹ خرچ کرنے والوں کیلئے 3 ہزار روپے بجلی مہنگی کر دی گئی ہے، اب وہ 13 ہزار کے بجائے 16 ہزار روپے کا بل جمع کرائیں گے، 700 یونٹ پر 4 ہزار روپے اضافہ لگایا گیا ہے، اگر پرانا بل 24 ہزار ہے تو نیا بل 28 ہزارروپے آئے گا۔

  • اگست 2023 کو ہماری مدت پوری ہورہی. وزیراعظم کا قوم سے خطاب

    اگست 2023 کو ہماری مدت پوری ہورہی. وزیراعظم کا قوم سے خطاب

    قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اپریل 2022 کو ملک کی اہم ترین ذمہ داری سنبھالی تھی جو اب اگست 2023 کو پوری ہورہی ہے اور ہم اگست میں معاملات نگراں حکومت کوسونپ دیں گے، 15 ماہ میں 4 سال کی بربادی کا ملبہ صاف کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے پاکستان کے مفادات کی راہ میں بچھائی گئی بارودی سرنگیں صاف کی ہیں، سازشوں کے باوجود ملک کو بحرانوں سے نکالا، 15ماہ میں ایک ناامیدی سے امیدی کی طرف سفر تھا، سب ختم ہوجانے سے کچھ حاصل ہونے کا سفر تھا، 15ماہ کا سفرعوام کو کچھ ریلیف فراہم کرنے کا سفر تھا۔

    وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ موجودہ اتحادی حکومت محدود ترین مدت کی حکومت تھی اور مختلف سازشوں کے باوجود ملک کو بحرانوں سے نکالا ہے، سابق حکومت نے آئی ایم ایف شرائط توڑی تھیں اور ملک کو دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچا دیا تھا لیکن ہم نے سابق حکومت کی ناپاک خواہشات کو مٹی میں ملا دیا ہے، میں دوست ممالک کا خلوص دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں، دوست ممالک نے مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا،آرمی چیف جنرل عاصم منیر، وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری اور وزیرخزانہ اسحاق ڈار کا مشکورہوں۔

    شہباز شریف نے کہا کہ ہم قرض مانگ مانگ کر اپنی ساکھ مجروح کرچکے ہیں، ہمیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہے، ہم نے معاشی پروگرام ترتیب دے دیا ہے، بیرون ممالک سے سرمایہ کاری کی راہیں ہموار ہورہی ہیں، ہم اجتماعی دانش سے منصوبے کو کامیابی سے ہمکنار کرائیں گے۔ قوم سے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ پاکستان کی عالمی ریٹنگ بھی بہتر ہوئی ہے، پاکستانی روپے کی قدر میں بتدریج بہتری آرہی ہے، زراعت کے لیے کسانوں کے لیے پیکج لارہے ہیں، 80 ارب روپے کی لاگت سے نوجوانوں کے لیے پروگرام کا آغاز کیا ہے، بلاسود قرض اور لیپ ٹاپ تقسیم کیے جارہے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کبری خان اور میں شادی نہیں کررہے گوہر رشید
    فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
    علی امین گنڈاپور کے گھر کی بجلی واجبات کی عدم ادائیگی پر کاٹ دی گئی
    ڈالر کے مقابلہ میں روپے کی قدر میں مزید بہتری
    شہر یار آفریدی کی ہمشیرہ انتقال کر گئیں
    انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ ہم کشکول توڑ دیں، ہمیں محتاجی کی زنجیریں توڑنا ہوں گی، محنت سے ہی محتاجی کی زنجیریں کاٹی جاسکتی ہیں، دعا کرتے ہیں کہ 9 مئی جیسا یوم سیاہ پھر نہ ہو۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نوازشریف ملک کو ترقی کی راہ پر لائے تھے، پھر ملک کو ترقی کی راہ پر لائیں گے، پہلے کی طرح مہنگائی کم کریں گے اور امن وامان بحال کریں گے، آئیں نفرتیں مٹائیں اور ایک ہوجائیں۔

    دوسری جانب وزیراعظم شہبازشریف کے قوم سے خطاب پر ترجمان تحریک انصاف نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کا خطاب کارکردگی پر پردہ پوشی کی مایوس کن کوشش ہے، 15 ماہ کے بعد قوم جان چکی کہ شہباز شریف شعبدہ باز ہے، انہوں نے ترقی کرتی معیشت کو 0.3 فیصد پر پہنچادیا۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ملک کو دہشت گردی اور بدامنی کے سپرد کیا، موجودہ حکومت میں ساڑھے 8 لاکھ افراد ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے، 15 ماہ میں آئین پامال اورنیب سمیت قومی اداروں کوتباہ کیا گیا۔ پی ٹی آئی ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان کو آئی ایم ایف ڈیل پی ٹی آئی کی حمایت سے میسر ہوسکی، سیاست اور ریاست کوعوام کی منشاء کے تابع کیا جائے۔

  • پٹرولیم مصنوعات سستی ہونے کا امکان

    پٹرولیم مصنوعات سستی ہونے کا امکان

    ڈالر کی قدر گرنے اور روپیہ مظبوط ہونے سے پاکستان کے بیرونی قرضوں کے بوجھ میں کمی کے ساتھ ساتھ اربوں ڈالرز کی پیٹرولیم مصنوعات سمیت دیگر درآمدات بھی سستی ہوں گی۔ صحافی رضوان عالم کے مطابق معاشی ماہر خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ پاکستان پر ایک سو پچیس ارب ڈالر کا بیرونی قرض ہے اور جب ڈالر کی قیمت صرف ایک روپے بڑھے تو ملک پر بیرونی قرض کے مالی بوجھ میں بیٹھے بٹھائے ایک سو پچیس ارب کا اضافہ ہوجاتا ہے تاہم اب جبکہ ڈالر کو ریورس گیئر لگ گیا ہے اور روپیہ مضبوط ہورہا ہے تو اس بوجھ میں نا صرف اضافے کا سلسلہ رکے گا بلکہ اس میں کمی بھی آئے گی۔

    معاشی ماہرین کے مطابق منگل کو ڈالر کا سرکاری ریٹ 10 روپے گرا اور یہ کمی برقرار رہی تو اس سے ملکی بیرونی قرض میں 1250 ارب روپے کی کمی آئے گی۔ درآمدکنندگان کے مطابق ڈالر سستا ہونے سے سینکڑوں درآمدی اشیا کی قیمتیں بھی نیچے آئیں گی جو پہلے ڈالر مہنگا ہونے سے مسلسل بڑھ رہی تھیں جس سے مہنگائی میں بھی کمی آئے گی۔ جبکہ تاجروں کے مطابق پاکستان ایک ماہ میں پانچ ارب ڈالر کی اشیا درآمد کرتا ہے اور اگر ڈالر کی قدر گرنے کا رجحان برقرار رہا تو تمام درمدات سستی ہوں گی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    صفائی کی مد میں کروڑوں روپے خورد برد کر لیے گئے، میر صادق عمرانی
    عمرانی دورحکومت میں 29 افراد کو فوجی عدالتوں سے سزا سنائی گئی،درخواست دائر
    بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے سے دریائے ستلج میں پانی کا بہاؤ بڑھ سکتا ہےمسجد نبوی میں 4.2 ملین نمازی اور زائرین کی آمد ریکارڈ
    اسٹاک ایکسچینج میں مندی کا رجحان
    گلگت بلتستان میں تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اہم ترین اجلاس طلب
    عمرانی دورحکومت میں 29 افراد کو فوجی عدالتوں سے سزا سنائی گئی،درخواست دائر
    درآمدی مشینری،پرزہ جات، طبی و صنعتی آلات سستے ہونے سے انڈسٹریز کو فائدہ ہوگا۔پیٹرولیم مصنوعات، غذائی اشیاء،کپڑے، کاسمیٹک،ادویات، الیکٹرانک اور الیکٹرک کی مصنوعات،بیٹریز اور سولر پلیٹیں اور پینلز سمیت کھلونے،کھیلوں کا سامان،استعمال شدہ چیزوں سمیت سینکڑوں اشیا کی قیمت نیچے آئیں گی۔

  • آئی ایم ایف کی ایک اور شرط تسلیم، گیس اور بجلی کی قیمت میں اضافہ

    آئی ایم ایف کی ایک اور شرط تسلیم، گیس اور بجلی کی قیمت میں اضافہ

    پاکستان نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی ایک اور شرط تسلیم کرلی،پاکستان کو آئندہ مالی سال کے لیے 12 جولائی کو آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ اجلاس سے قبل گیس کی قیمت فروخت میں 45 تا 50 فیصد اور بجلی کےنرخ میں ساڑھے3 سے 4 روپےفی یونٹ تک اضافہ کرنا ہوگا۔

    اوگرا نے گزشتہ 2 جون کو سوئی ناردرن گیس پائپ لائن (ایس این جی پی ایل) کے صارفین کے لیے قیمت میں 50 فیصد اضافے (415 روپے 11 پیسے فی ایم ایم بی ٹی یو) کا اعلان کیا تھا جس سے قیمت بڑھ کر 1238.68روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہوگئی جب کہ سوئی سدرن گیس (ایس ایس جی سی ایل) کے صارفین کے لیے قیمت میں 45 فیصد اضافہ (417.23) فی ایم ایم بی ٹی یو طے کیا گیا۔

    پاکستانی پاسپورٹ پر بغیر ویزہ کتنے ممالک کا سفر ممکن؟

    تاہم حکومت کی جانب سے اس اضافے کی توثیق ابھی باقی ہے۔ سوئی ناردرن گیس کو اب بھی 560 ارب 37 کروڑ روپے سے زائدخسارے کا سامنا ہے، توقع ہے حکومت اپنی گزشتہ پالیسی کوجاری رکھتے ہوئے زیادہ گیس استعمال کرنےو الے صارفین کوزیادہ قیمت ادا کرنا پڑے گی جس کا یکم جولائی سے اطلاق طے ہے۔

    وزارت توانائی کے اعلیٰ افسرکے مطابق قیمتیں بڑھانے سے اسٹاف سطح پر آئی ایم ایف سے متفقہ تین ارب ڈالرز کے اسٹینڈ بائی ایگریمنٹ کی راہ ہموار ہوگی مذکورہ افسر کا کہنا ہے کہ توانائی کے شعبے کے گردشی قرضے کا حجم 4300 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے جس میں 1700 ارب روپے تیل و گیس اور 2600 ارب روپے بجلی کے شعبے کے ہیں۔

    آئی ایم ایف کی شرط پر نیپرا کی جانب سے قیمتوں میں اضافے کا اعلان جلد متوقع ہے تاہم ٹیرف میں پریشان کن بات بیس ٹیرف میں استعدادی چارجز میں گزشتہ مالی سال کے 57 کے مقابلے میں 63 فیصد اضافہ ہے۔ اس طرح صارفین پر اس مد میں 1.3 سے 1.5 ٹریلین روپےکا اضافی بوجھ پڑے گا۔

    ہیلتھ کارڈ کا غلط استعمال بند کیا ہے،نگران وزیراعلیٰ پنجاب

    دوسری جانب آئی ایم ایف) اور پاکستان کے درمیان معاہدے کے بعد کاروباری ہفتے کے پہلے ہی روز زبردست تیزی دیکھنے میں آئی عید کی تعطیلات کے بعد اسٹاک ایکس چینج کے 100 انڈیکس میں 2436 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد 100 انڈیکس 43 ہزار 889 کی سطح پر ٹریڈ ہورہا ہے آئی ایم ایف سے 3 ارب ڈالر کی اسٹینڈ بائے اریجمنٹ کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کاروبار کا 2 ہزار 231 پوائنٹس اضافے کے ساتھ آغاز ہوا۔

    معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اسٹاک مارکیٹ 2 ہزار 231 پوائنٹس کے ریکارڈ اضافے پر کھلی ہے۔ آج کا دن ہنڈریڈ انڈیکس کے ریکارڈ ساز اضافے کا دن ہو سکتا ہے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 100 انڈیکس 2 ہزار 400 پوائنٹس کے تاریخی اضافے کے بعد 43 ہزار 853 پر آ گیا ہے۔ عید الاضحیٰ کی تعطیلات سے قبل 100 انڈیکس 41 ہزار 452 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔

    پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی