Baaghi TV

Tag: حکومت

  • پارلیمان کی خصوصی کمیٹی بنا کر ججز کو بلائیں گے۔ خواجہ محمد آصف

    پارلیمان کی خصوصی کمیٹی بنا کر ججز کو بلائیں گے۔ خواجہ محمد آصف

    پارلیمان کی خصوصی کمیٹی بنا کر ججز کو بلائیں گے۔ خواجہ محمد آصف

    وزیر داخلہ خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ ایمرجنسی نہیں لگا رہے ہیں، آرٹیکل 245 کافی ہے، پارلیمان کی خصوصی کمیٹی بنا کر ججز کو بلائیں گے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ پیر کو پارلیمان بڑے فیصلے کرے گی۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما خواجہ آصف نے کہا عمران خان کو خصوصی رعایت دی گئی، انصاف کے ترازو برابر نہیں ہیں۔

    انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ عدالت میں لاکھوں کیسز پڑے ہوئے ہیں، عمران خان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا عدالتوں کے احاطے سے پہلے بھی لوگوں کو گرفتار کیا گیا، عدالت کی جانب سے دیکھ کرخوشی کا اظہار کیا گیا۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا

    یاد رہے کہ اس سے قبل وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا تھا کہ پارلیمنٹ اور عدلیہ کے بحران میں پارلیمنٹ کا دفاع کریں گے۔لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ بحران کا سب سے اچھا حل یہ ہے کہ تمام ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کریں۔ مسلم لیگ (نواز) کے رہنما خواجہ محمد آصف نے مزید کہا تھا کہ نواز شریف کو سزا سنانے والے ججز کو پارلیمنٹ کے کٹہرے میں بلایا جائے گا۔

  • سپریم کورٹ رولز اینڈ پروسیجر کے خلاف حکم امتناع واپس لینے کی استدعا مسترد

    سپریم کورٹ رولز اینڈ پروسیجر کے خلاف حکم امتناع واپس لینے کی استدعا مسترد

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانوں 2023 کا معاملہ، سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ کے 8 رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی جس میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس سید حسن اظہر رضوی اور جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس شاہد وحید شامل ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے بیرسٹر صلاح الدین اور پیپلز پارٹی نے فاروق ایچ نائیک کو وکیل مقرر کیا ہے جبکہ پاکستان بار کونسل کی جانب سے حسن رضا پاشا عدالت میں پیش ہوئے۔ درخواست گزار کے وکیل امتیاز صدیقی روسٹرم پر آ گئے اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان بھی روسٹرم پر آگئے سماعت کے آغاز پر پاکستان تحریک انصاف کے وکیل طارق رحیم نے کہا کہ عدالتی اصلاحات بل قانون کا حصہ بن چکا ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ حکمنامہ عبوری نوعیت کا تھا جمہوریت آئین کے اہم خدوخال میں سے ہے،آزاد عدلیہ اور وفاق بھی آئین کے اہم خدوخال میں سے ہیں،دیکھنا ہے کیا عدلیہ کا جزو تبدیل ہوسکتا ہے؟عدلیہ کی آزادی بنیادی حق ہے،عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے یہ مقدمہ منفرد نوعیت کا ہے، مقدمے پر فریقین کی سنجیدہ بحث کی توقع ہے، لارجر بنج کو بہترین معاونت فراہم کرنی ہو گی

    سپریم کورٹ نے تمام فریقین سے تحریری جواب مانگ لیا ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا قانون ہے ،ریاست کے تیسرے ستون کے بارے میں یہ قانون ہے، قانون سازی کے اختیار سے متعلق کچھ حدود و قیود بھی ہیں،فیڈرل لسٹ کے سیکشن 55 کا بھی جائزہ لیں،یہ حقیقت تبدیل نہیں ہوسکتی کہ آذاد عدلیہ آئین کا بنیادی جزو ہے، الزام ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ آئین کے بنیادی جزو کی قانون سازی کے ذریعے خلاف ورزی کی گئی، سپریم کورٹ نے سیاسی جماعتوں اور وکلاء تنظیموں سے جواب طلب کرلیا،حسن رضا پاشا نے عدالت میں کہا کہ پاکستان بار نے ہمیشہ آئین اور عدلیہ کیلئے لڑائی لڑی ہے،

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل پر حکم امتناع ختم کرنے اور فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا فی الوقت مسترد کر دی گئی،سپریم کورٹ نے سینئر ترین 7 ججز پر مشتمل بنچ بنانے کی استدعا بھی فی الوقت مسترد کر دی ، اٹارنی جنرل نے کہا کہ قانون پر عملدرآمد روکنے سے اپیل اور نظرثانی سے متعلق امور بھی متاثر ہو رہے ہیں، جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے سمجھا تو دیں کہ قانون کیا ہے اور کیوں بنایا گیا، 7 سینیئر ججز اور فل کورٹ بنانا چیف جسٹس کا اختیار ہے،افتخار چوہدری کیس میں عدالت نے قرار دیا ریفرنس صرف صدر مملکت دائر کرسکتے ہیں،کسی جج کے خلاف ریفرنس اس کو کام کرنے سے نہیں روک سکتا،سپریم جوڈیشل کونسل کی رائے آنے تک جج کو کام کرنے سے نہیں روکا جاسکتا، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں بھی عدالت نے یہی فیصلہ دیا تھا،شکایات ججز کے خلاف آتی رہتی ہیں، مجھ سمیت سپریم کورٹ کے اکثر ججز کے خلاف شکایات اتی رہتی ہیں، سیاسی معاملات نے عدالت کا ماحول آلودہ کردیا ہے، سیاسی لوگ انصاف نہیں من پسند فیصلے چاہتے ہیں،انتخابات کے مقدمے میں بھی کچھ ججز کو نکال کر فل کورٹ بنانے کا مطالبہ کیا گیا تھا،سپریم کورٹ کے ججز کا فیصلہ عدالت کا فیصلہ ہوتا ہے، ہر ادارہ سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کا پابند ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پاشا صاحب آپ نفیس آدمی ہیں،اپنے ارد گرد سے معلوم کرائیں آپ کے لوگ کس کو فل کورٹ کہتے ہیں،حسن رضا پاشا نے کہا کہ وکلا کے تحفظات سے عدالت کو آگاہ کیا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ بار نے ادارے کا تحفظ کرنا ہے،ججز نے آنا ہے اور چلے جانا ہے ،اٹارنی جنرل کی حکم امتناع واپس لینے کی استدعا مسترد کر دی گئی، اٹارنی جنرل نے کہہ کہ عدالت بینچ بڑھانے پر غور کرے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پنچ کی تعداد کم بھی کی جا سکتی یے،سماعت پیر تک ملتوی کر دی گئی،سپریم کورٹ نے سیاسی جماعت اور وکلاء تنظیموں کو 8 مئی کو طلب کرلیا ۔

    دوسری جانب سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف ایک اور۔درخواست دائر کی گئی، جس میں کہا گیا کہ ایکٹ کو کالعدم قرار دیا جائے،درخواست مدثر حسن ایڈووکیٹ نے دائر کی ، درخواست میں کہا گیا کہ حکومت کے پاس دو تہائی اکثریت ہی نہیں ہے آرٹیکل 191کے تحت سپریم کورٹ اپنے رولز خود بناتی ہے،

    وزیراعظم سے اٹارنی جنرل کی ملاقات ہوئی،عدالتی اصلاحات بل کے حوالے سے مشاورت کی گئی، وزیراعظم نے اٹارنی جنرل کو کیس کے حوالے سے ہدایات دیں

    واضح رہے کہ حکومت کا پارلیمنٹ کی بالادستی پر سمجھوتے سے انکار ،عدالتی فیصلے کے باوجود سپریم کورٹ پریکٹس اور پروسیجر بل باقاعدہ قانون بن گیا، سپریم کورٹ نے عدالتی اصلاحاتی بل پر تاحکم ثانی عمل درآمد روک دیا تھا ،عدالت عظمی نے ایکٹ کو بادی النظر میں عدلیہ کی آزادی اور اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا تھا، عدالت نے تحریری حکمنامہ میں کہا تھا کہ صدر مملکت ایکٹ پر دستخط کریں یا نہ کریں، دونوں صورتوں میں یہ تا حکم ثانی نافذ العمل نہیں ہو گا،

    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج

  • پرویز الہیٰ کے گھر پر چھاپے کے باوجود پی ٹی آئی کا حکومت سے مذاکرات جاری رکھنے کا اعلان

    پرویز الہیٰ کے گھر پر چھاپے کے باوجود پی ٹی آئی کا حکومت سے مذاکرات جاری رکھنے کا اعلان

    لاہور: پاکستان تحریک انصاف نے پرویز الہیٰ کے گھر پر چھاپے کے باوجود حکومت سے مذاکرات جاری رکھنے کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چئیرمین عمران خان کی زیر صدارت اجلاس ہوا اجلاس میں عمران خان کو حکومت کے ساتھ مذکرات پر بریفنگ دی گئی اور پرویز الہیٰ کی رہائش گاہ پر آپریشن کی بھرپور مذمت کی گئی۔

    مفت آٹے کی تقسیم میں 20 ارب کی کرپشن ہوئی ہے،شاہد خاقان

    بیشتر پی ٹی آئی رہنماؤں نے رائے دی کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے جائیں، پرویز الہیٰ کے گھر آپریشن مذاکرات ختم کرانے کی سازش ہوسکتی ہے، ہماری طرف سے مذاکرات ختم کرنے پر انہیں موقع مل سکتا ہے جبکہ کچھ رہنماؤں نے تجویز کیا کہ مذاکرات کو مزید آگے نہیں جانا چاہئیے، ہماری تجویز پر عمل نہ ہو تو مذاکرات ختم کرنے چاہئیں۔

    اجلاس میں شاہ محمود قریشی، فواد چوہدری، شبلی فراز، اعظم سواتی، اعجازچوہدری، حماد اظہر اور محمود خان سمیت کئی دیگر رہنما بھی شریک تھے-

    پاکستان تحریک انصاف کےسینئر نائب صدر فواد چوہدری نےکہا کہ مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے تحریک انصاف نے سپریم کورٹ کے احکامات کو مدنظر رکھتے ہوئے مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے پی ٹی آئی نے فیصلہ کیا ہے کہ آئین کے دائرے میں انتخابات کے فریم ورک پر حکومت سے مذاکرات جاری رہیں گے اور منگل کو حتمی ایجنڈے پر بات ہوگی۔

    حکومت کو بڑا دھچکا،پاکستان ایل این جی عالمی ثالثی عدالت میں مقدمہ ہار گئی

    حماد اظہر نے کہا کہ حکومت سے مذاکرات جاری رہیں گے، اجلاس میں کسی نے بھی مذاکرات کرنے سے انکار نہیں کیا۔

    بیرسٹرعلی ظفر نے زمان پارک میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ پرویز الہیٰ کے گھر پر حملہ بہت عجیب بات ہے، مذاکرات بہت خوشگوار ماحول میں جاری ہیں، قدم آگےبڑھ رہےتھے اورمنزل قریب تھی، سمجھ نہیں آرہی اس آپریشن کا کیا مقصد ہےایک طرف مذاکرات اور دوسری جانب آپریشن کردیا جاتا ہے، مذاکرات کیلئے جائیں گے یا نہیں، فیصلہ تھوڑی دیرمیں ہوجائے گا۔

    شاہ محمودقریشی نے مظاہرین سے کہا کہ احتجاج آپ کا حق ہے،یہ طریقہ درست نہیں، مجھےایک ضروری کام سے ظہور الہیٰ روڈ جانا ہے جس کے بعد وہ مظاہرین کی بات سنے بغیر روانہ ہوگئے۔

    پاکستان میں گورنس کا نظام ناقص ،فرسودہ ہو چکا ہے،مفتاح اسماعیل

    بعد ازاں، شاہ محمود قریشی نے چوہدری پرویز الہیٰ کی رہائش گاہ پہنچ کر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نیک نیتی سے مذاکرات کیلئے بیٹھے ہیں، حکمرانوں کےدل میں کیا ہے ہم نہیں جانتے پرویز الہیٰ کے گھر چھاپے کے حوالے سے کہا کہ حکومتی طرز عمل سے ہمیں افسوس ہوا ہے، حکومت مذاکرات کیلئے تیار نہیں تو اسحاق ڈار کو روک لیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ زمان پارک میں عمران خان سے ملاقات کی، اور انہیں مذاکرات سے متعلق آگاہ کیا، مذاکرات پر عمران خان سے رہنمائی حاصل کی دیکھنا ہے حکومتی ٹیم کتنی بااختیار ہے۔

    قبل ازیں وفاقی وزرا نے پی ٹی آئی کے صدر پرویز الہیٰ کے گھر پر چھاپےسےلاتعلقی کا اظہا رکرتے ہوئے ملبہ پنجاب کی نگراں حکومت پر ڈال دیا جبکہ اینٹی کرپشن پنجاب نے عدالتی دستاویزات موصول ہونے کے بعد پرویز الہیٰ کی گرفتاری 6 مئی کو مؤخر کردی۔

    اینٹی کرپشن پنجاب کا چوہدری پرویز الہیٰ کو 6 مئی تک گرفتار نہ کرنے کا …

  • حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات ختم

    حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات ختم

    حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی مذاکراتی ٹیم کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: حکومت اور پی ٹی آئی میں مذاکرات کمیٹی روم نمبر 3 میں ہو رہےہیں جس میں تحریک انصاف کیجانب سےشاہ محمود قریشی ،فواد چودھری اور بیرسٹرعلی ظفر شامل ہیں جب کہ حکومتی وفد میں اسحاق ڈار،اعظم نذیرتارڑ،سعدرفیق، یوسف رضاگیلانی ،نویدقمر اور کشورزہرا شامل ہیں۔


    ایم کیو ایم کا وفد بھی مذاکرات کیلئے کمیٹی روم نمبر 3 میں موجود ہے ذرائع کےمطابق پی ٹی آئی وفد نے عمران خان کا مؤقف پی ڈی ایم اتحاد کے اراکین کو پہنچادیا، پی ٹی آئی وفد نےانتخابات کے طریقہ کار اور پارٹی مؤقف کو پی ڈی ایم اتحاد کے سامنے رکھا۔

    ذرائع کے مطابق مذاکرات میں پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی تحلیل کرنےکی تاریخ دینے پر زور دیا کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان جولائی تک قومی اسمبلی کی تحلیل چاہتے ہیں،عمران خان الیکشن کی تاریخ کوجولائی میں اسمبلی تحلیل کے ساتھ طے کرنا چاہتے ہیں-

    ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان نےمذاکرات سے پہلے فون پراپنی ٹیم کو آگاہ کیا،جولائی کے بعداسمبلی کی تحلیل پی ٹی آئی کو قبول نہیں ہوگی-

    مذاکرات میں تحریک انصاف کی جانب سے تین شرائط پیش کی گئیں:

    1. مئی میں قومی اسمبلی اور دونوں صوبائی اسملیاں تحلیل کی جائیں-

    2. مئی 14 سے آگے تاریخ کے لیئے. آئین میں ترمیم کی جائے، آئینی ترمیم کے لیئے تحریک انصاف کے استعفی واپس لینے ہوں گے۔

    3.جولائی میں ملک بھر میں انتخابات کرائیں جائیں-

    مذاکراتی کمیٹی کے رکن یوسف رضا گیلانی نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ بات چیت چل رہی ہے، حل سیاستدانوں نے نکالنا ہے پی ٹی آئی کل اپنے مطالبات حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کے سامنے رکھے گی، آج بہت اچھے ماحول میں بات ہوئی اور امید ہے یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے کوئی بھی ڈیمانڈ نہیں کی گئی، پی ٹی آئی کے مطالبات پر اپنی اپنی قیادت کے سامنے رکھیں گے اور پھر مشاورت کے بعد اپنا فیصلہ کریں گے۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ ٹی و آر پر بات ہوئی جس کے لیے کل پھر دوبارہ بیٹھیں گے۔ اصولی فیصلہ ہے آئین کے اندر رہ کر معاملے کو ہینڈل کرنا ہے، ہم ریاست اور عوام کے مفاد کو مدنظر رکھنا ہے، دونوں کمیٹیاں اپنی قیادت کو بات چیت سے آگاہ کرنے کے بعد کل دوپہر تین بجے دوبارہ بیٹھیں گی۔

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مذاکرات کی پہلی نشست دو گھنٹے بعد ختم ہوگئی، سیاسی جماعتیں سیاسی مسئلوں کو حل بات چیت سے نکالتی ہیں، ہم جس جذبے سے بیٹھے ہیں وہ حل نکالنا ہے، مذاکرات کو تاخیری حربےکےطور پر استعمال نہیں ہونے دینا، ہم نے اپنا نقطہ نظر پیش کردیا اگلی نشست کل ہوگی ہمارا جذبہ ان مزاکرات کے زریعے حل نکالنے کا ہے، ہم سمجھتے ہیں ہم جو بھی حل تجویز کریں گے وہ آئین کے مطابق ہوگا، ہم آئین کے ماورا کوئی کام نہیں کریں گے، تحریک انصاف پاکستان کی عوام کی فلاح کو ترجیح دینا چاہتے ہیں-

    شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ مذاکرات میں ہونے والی بات چیت کے حوالے سے ہماری عمران خان سے مشاورت ہوئی جبکہ حکومتی کمیٹی نے بھی اپنے قائدین سے مشاورت کرنی ہےہم نے حکومتی کمیٹی پر واضح کیا ہے کہ آپ ایک سفارش لے کر آئیں اگر وہ آئین کے مطابق ہو تو ہم ضرور بات کریں گے۔

    گزشتہ روز چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نےمذاکرات کیلئےتین رکنی کمیٹی کا اعلان کیا تھاجبکہ آج قومی اسمبلی سے خطاب میں وزیرا عظم شہباز شریف نے واضح کر دیا ہے کہ بات چیت کا ون پوائنٹ ایجنڈا یعنی پورے ملک میں ایک دن اور شفاف انتخابات ہوگا۔

    دوسری جانب بجمعیت العلمائے اسلام (ف) نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ کسی بھی فورم پرمذاکرات نہیں کیے جائیں گے جے یو آئی (ف) نے منعقدہ اجلاس میں کیے جانے والے فیصلے کے تحت پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرت کرنے والی کسی بھی مذاکراتی ٹیم کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اس حوالے سے ذرائع نے بتایا ہے کہ جے یو آئی (ف) نے منعقدہ اجلاس میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ پی ٹی آئی کو تسلیم نہیں کرتے ہیں نہ باہر اور نہ پارلیمان کے اندر، اس لیے پی ٹی آئی سے کہیں پر بھی مذاکرات نہیں ہوں گے،جے یو آئی (ف) نے فیصلہ کیا ہے کہ پارلیمنٹ اور آئین پاکستان کے دفاع میں جلسے منعقد کیے جائیں گے۔

  • انتخابات کے حوالے سے کیس کی سماعت ملتوی، مناسب حکم جاری کریں گے، چیف جسٹس

    انتخابات کے حوالے سے کیس کی سماعت ملتوی، مناسب حکم جاری کریں گے، چیف جسٹس

    انتخابات کے حوالہ سے سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے، سیاسی جماعتوں کے رہنما بھی عدالت میں موجود تھے، بیرسٹر علی ظفر بھی عدالت میں پیش ہوئے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ‏اٹارنی جنرل! ہمیں آپ کا اعتماد چاہئے، ‏شاہ محمود قریشی نے روسٹرم پر آنے کی کوشش کی جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ قریشی صاحب! آپ بیٹھ جائیں،آپ کو سنتے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ‏اٹارنی جنرل آپ یہ ذہن میں رکھیں کہ ایک تاریخ جو ہم نے دی ہے اس پر ایک پارٹی کے علاوہ سب متفق ہیں مذاکرات کرانا آپ کا کام ہے،ہم اس پر کوئی وضاحت نہیں چاہتے، ہم یہاں پر اس لئے ہیں کہ آپ ہمیں اس کا حل نکال کر بتائیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہمیں مذاکرات کے لئے وقت دیں، 19 اپریل کو حکومت اوڑ اپوزیشن میں پہلا رابطہ ہوا،26 اپریل کو ملاقات پر اتفاق ہوا تھا، 25 اپریل کو ایاز صادق اور خواجہ سعد رفیق کی اسد قیصر سے ملاقات ہوئی،اسد قیصر نے بتایا کہ وہ مذاکرات کیلئے با اختیار نہیں ہیں،گزشتہ روزحکومتی اتحاد کی ملاقاتیں ہوئیں، دو جماعتوں کو مذاکرات پر اعتراض تھا لیکن راستہ نکالا گیا، چیئرمین سینیٹ نے ایوان بالا میں حکومت اور اپوزیشن کو خطوط لکھے ہیں،چیئرمین سینیٹ نے حکومت اور اپوزیشن سے چار چار نام مانگے ہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسد قیصرکے بعد کیا کوشش کی گئی کہ کون مذاکرات کیلئے با اختیار ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ منگل کو میڈیا سے معلوم ہوا کہ شاہ محمود قریشی مذاکرات کیلئے با اختیار ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کو کس حیثیت سے رابطہ کیا گیا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ سینیٹ وفاقی کی علامت ہے اس لیے چیئرمین سینیٹ کو کہا گیا، چیئرمین سینیٹ نے مذاکرات کا عمل شروع کیا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے فاروق نائیک سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ 19 اپریل کو چیمبر میں آپ سے ملاقات ہوئی ، ہمارے ایک ساتھی کی عدم دستیابی کے باعث چار بجے سماعت نہیں ہوئی تھی ، فاروق نائیک نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ سہولت کاری کریں گے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین سینیٹ نہ حکومت کے نمائندے ہیں نہ اپوزیشن کے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین سینٹ اجلاس بلائیں گے اس میں بھی وقت لگے گا ، فاروق ایچ نائیک نے عدالت میں کہا کہ تمام حکومتی اتحادی جماعتیں پی ٹی آئی سے مذاکرات پر آمادہ ہیں،سینٹ واحد ادارہ ہے جہاں تمام جماعتوں کی نمائندگی موجود ہے، ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت صرف آئین پر عمل چاہتی ہے تا کہ تنازعات کا حل نکلے، عدالت کو کوئی وضاحت نہیں چاہیئے صرف حل بتائیں،

    شاہ محمود قریشی روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ ‏پی ڈی ایم میں مذاکرات کے معاملے پر اختلافات ہیں،انگریزی نہیں اردو میں بات کروں گا، اس وقت تک جب میں عدالت میں کھڑا ہوں، پی ڈی ایم نے مذاکرات کے لئے ہم سے کوئی رابطہ نہیں کیا، حکومت کے اسرار پر عدالت نے سیاسی اتفاق رائے کے لیے موقع دیا تھا۔ تمام جماعتوں کی سیاسی قیادت عدالت میں پیش ہوئی تھی،پی ڈی ایم میں آج بھی مزاکرات پر اتفاق رائے نہیں ہے۔عدالتی حکم کو پی ٹی آئی نے سنجیدگی سے لیا ،سپریم کورٹ کا 14 مئی کا فیصلہ حتمی ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے صرف سینیٹرز کے نام مانگے ہیں،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ چیئرمین سینٹ کا کردار صرف سہولت فراہم کرنا ہے۔مذاکرات سیاسی جماعتوں کمیٹیوں نے ہی کرنے ہیںسیاسی ایشو ہے اس لیے سیاسی قائدین کو ہی مسئلہ حل کرنے دیا جائے۔ سیاست کا مستقبل سیاستدانوں کو ہی طے کرنے دیا جائے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے مذاکرات میں نیک نیتی دکھانے کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں؟ لگتا ہے حکومت صرف پاس پاس کھیل رہی ہے، ہم آئین سے ہٹ کر کچھ نہیں کر سکتے، شاہ محمود قریشی نے عدالت میں کہا کہ پارلیمان میں کہا گیا کہ ججز کو استحقاق کمیٹی میں بلایا جائیگا ،جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ سیاسی باتیں نہ کریں،ان کو چھوڑ دیں،ان سے پوچھتے ہیں کہ یہ اب کیا چاہتے ہیں،عوام کی فلاح وبہبود اور ان کے ووٹ کے حق کے لئے کسی حل پر پہنچتے ہیں تو بہتر ہے، اگر کسی حل پر نہیں پہنچتے تو جیسا چل رہا ہے ویسے چلے گا،شاہ محمود قریشی نے عدالت میں کہا کہ عدالت نے موقع دیا، ہم نے اتفاق رائے کیلئے ایک صفحے پر جواب تیار کیا، وہ میڈیا کو نہیں دوں گا، عدالت چاہے تو اُسے دے دوں گا، سینٹ کمیٹی صرف تاخیری حربہ ہے ، قومی اسمبلی کا اجلاس بلا کر رولز کی خلاف ورزی کی گئی ، دھرنے کے دوران کہا تھا پارلیمان میرا سیاسی کعبہ ہے، زیر سماعت معاملے کو پارلیمان میں زیر بحث نہیں لایا جا سکتا، پارلیمان میں دھمکی آمیز لہجے اور زبان سن کر شرمندگی ہوئی،

    فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ مذاکرات کے لئے ایک ماحول بنانا پڑتا ہے،ایسی باتیں نہ کی جائیں جس سے ماحول خراب ہوں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کام میں صبر اور تحمل چاہئے،اِن کو بھی یہی تلقین کرینگے کہ صبر و تحمل ہو،گزشتہ سماعت پر یہ اتفاق رائے ہوا تھا کہ ایک دن الیکشن ہوں،مذاکرات کے معاملے میں صبر اور تحمل سے کام لینا ہوگا، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو سینیٹ نے مذاکرات پر آمادہ کیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کا کوئی حکم نہیں صرف تجویز ہے،تحریک انصاف والے چاہتے ہیں آج ہی مذاکرات ہوں ، ہم نے حکومت کو دیکھنا ہے کہ وہ مذاکرات کیلئے کیا کر رہی ہے، مذاکرات کیلئے نام دینے میں کیا سائنس ہے؟ کیا حکومت نے اپنے 5 نام دئیے ہیں؟ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ پی ٹی آئی چاہے تو 3 نام دے دے،پانچ لازمی دیں ،حکومت کے نام تین چار گھنٹے میں فائنل ہو جائیں گے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آج توقع تھی کہ دونوں فریقین کی ملاقات ہوگی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ کوشش ہوگی کہ دونوں کمیٹیوں کی آج پہلی ملاقات ہوجائے،وکیل شاہ خاور نے کہا کہ دونوں فریقین متفق تو حل نکل آئے گا، فواد چودھری ے کہا کہ سپریم کورٹ بھی آئین تبدیل نہیں کرسکتی،سیاسی جماعتوں کو الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار نہیں ملنا چاہیے،ایسے ہوا تو کوئی بھی حکومت الیکشن کیلئے فنڈز جاری نہیں کرے گی، پارلیمان اور عدالت نہیں سپریم صرف آئین ہے، سیاسی جماعتوں کا اتفاق رائے بھی آئین تبدیل نہیں کرسکتا،

    کیس کی سماعت ملتوی کر دی گئی، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مناسب حکم جاری کرینگے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سب کو علم ہے آئین کی خلاف ورزی ہورہی ہے، خدا کے واسطے آئین کے لئے اکٹھے بیٹھ جائیں،ہم اس کے بعد ایک آرڈر جاری کرینگے، عدالت کوئی ٹائم لائن نہیں دے گی، مناسب حکم جاری کریں گے،

    پاکستان تحریک انصاف کے مذاکراتی کمیٹی کے ارکان شاہ محمود قریشی ، فواد چوہدری اور بیرسٹر علی ظفر سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں، اس موقع پر شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہم مزاکرات کے لیے ہر طرح سے تیار ہیں، یہ لوگ مزاکرات میں سنجیدہ نظر نہیں آرہے یہ عوام سے بھاگے ہوئے لوگ ہیں ،سینٹ کمیٹی کو تحریک انصاف نے مسترد کردیا ہے یہ معاملہ سینیٹ کا نہیں ہے اسلیئے ہمارا واضح موقف ہے کہ آج سپریم کورٹ جو فیصلہ کرے گی وہ دیکھنا ہے۔

    اس موقع پر سپریم کورٹ کے باہر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں،ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات کیس: سپریم کورٹ کا 3 رکنی بینچ آج ساڑھے 11 بجے سماعت کرے گا۔ سماعت سے قبل وزیراعظم شہباز شریف سے اٹارنی جنرل کی ملاقات ہوئی ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے اٹارنی جنرل کو اہم ہدایات جاری کیں، اٹارنی جنرل عدالت میں حکومتی موقف پیش کریں گے،

    دوسری جانب وفاقی حکومت نے 14 مئی کو انتخابات کے فیصلے پر نظرثانی کی تجویز مسترد کر دی ہے ، میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع کے مطابق انتخابات کے فیصلے پر نظرثانی درخواست دائر کرنے کی تجویز گزشتہ روز کابینہ اجلاس میں اٹارنی جنرل نے دی تھی کابینہ کی رائے میں نظرثانی دائر کرنے کا مطلب فیصلہ تسلیم کرنا ہوگا نظرثانی دائر کردی تو یہ فیصلہ 3-4 کا ہونے کے موقف کی نفی ہوگی ذرائع نے بتایا کہ کابینہ ارکان کی رائے کے مطابق اکثریتی فیصلے میں انتخابات کا حکم ہی نہیں تو نظرثانی کس بات کی؟

    علاوہ اذیں سپریم کورٹ میں پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون 2023 کے خلاف درخواست دائر کردی گئی ،درخواست میں وفاقی حکومت، اسپیکر قومی اسمبلی، وزیر قانون، وزیراعظم اور صدر کے پرنسپل سیکرٹری کو فریق بنایا گیا ہے ،درخواست تحریک انصاف کے وکیل ایڈووکیٹ اظہرصدیق کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ہے ، دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون غیرآئینی و غیر قانونی ہے درخواست میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کوعدالتی فیصلہ تک معطل کرنے کی استدعا کی گئی ہے ،درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی کو گزٹ نوٹیفکیشن کے لئے قانون پر دستخط سے روکا جائے، قانون کو کالعدم قراردیا جائے ،

    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج

    تحریک انصاف کے رہنما فیصل جاوید کا کہنا ہے کہ پوری قوم کی نظریں سپریم کورٹ پر لگی ہیں ،یہ لوگ زاتی مفادات کے لیئے عدالتوں پر حملہ آور ہیں آج توہین عدالت کی کاروائی شروع نہیں ہوئی تو بہت حیران کن بات ہوگیعمران خان کے خوف سے یہ لوگ انتخابات سے بھاگ رہے ہیں کل اسمبلی میں غیر آئینی اجلاس ہوا

    واضح رہے کہ چار اپریل کو تین رکنی بینچ نے حکومت کو 27 اپریل تک انتخابات کے لیے 21 ارب روپےکے فنڈز فراہم کرنےکی رپورٹ جمع کرانےکا حکم دیا تھا الیکشن کے لیے 21 ارب روپے جاری کرنے کی تیسری مہلت بھی گزر گئی، سپریم کورٹ نے حکومت سے فنڈز جاری کرنےکی رپورٹ آج طلب کر رکھی ہے

  • اناج دشمن عناصر کے خلاف عید کی چھٹیوں میں بھی آپریشن جاری

    اناج دشمن عناصر کے خلاف عید کی چھٹیوں میں بھی آپریشن جاری

    وزیراعلی پنجاب محسن نقوی کی ہدایت پر صوبے کے طول وعرض میں گندم کی غیر قانونی منتقلی اور چینی کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف اپریشن عید الفطر کی تعطیلات کے باوجود بھر پور طریقے سے جاری ہے۔اناج دشمن عناصر کے خلاف جاری آپریشن میں درجنوں گندم سمگلرز دھر لئے گئے جبکہ غیر قانونی طور پر منتقل کی جانے والی گندم کی ہزاروں بوریاں برآمد، چینی کے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔

    ٹوبہ ٹیک سنگھ میں اینٹی سمگلنگ کی ٹیم نے کاروائی کرتے ہوئے480 تھیلے چینی کے کمالیہ سے ساھیوال لے جانے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے ضبط کر لیئے جبکہ 300 بوریاں یوریا پیر محل سے چیچہ وطنی لے جانے کی کوشش کرنے پر راوی پل پر اینٹی سمگلنگ کی ٹیم نے کاروائی کرتے ہوئے ضبط کر کے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ بہاو نگر میں بھی حکومت پنجاب کی ہدایات پر ضلع بھر ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈاؤن جاری ہے اور ضلعی انتظامیہ نے یکم رمضان المبارک سے ابتک کارروائیوں کے دوران ضلع بھر میں ذخیرہ کی گئی چینی کی 3ہزار 840بوریاں اور گندم کے 7ہزار 80بیگز برآمد کیے ہیں۔اب تک ذخیرہ اندوزی کیخلاف 889انسپیکشنز کی گئیں اور 9 مقامات کو سربمہر اور 60 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔فیصل آباد ڈویژن کے تین اضلاع میں گذشتہ روز270.7میٹرک ٹن گندم ذخیرہ اندوزوں سے قبضہ میں لی گئی جبکہ گندم خریداری مہم کے دوران اب تک ضبط کی گئی 3606.75 میٹرک ٹن گندم سنٹر پر منتقل کرائی جاچکی ہے۔کمشنر سلوت سعید نے اس بارے بتایا کہ ضلع فیصل آباد میں 1256.050 میٹرک ٹن،جھنگ، میں 1138.850،چنیوٹ میں 783.35 اور ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں 428.5میٹرک ٹن گندم قبضہ میں لی جاچکی ہے۔

    کمشنر گوجرانوالہ ڈویژن میں ضلعی و تحصیل انتظامیہ، پولیس محکمہ خوراک اور دیگر اداروں کی جانب سے اب تک کی جانے والی 59 کارروائیوں میں 132 گاڑیوں اور گوداموں میں چھپائی گئی 2080.615 میٹرک ٹن گندم کو سرکاری قبضہ میں لیا جاچکاہے جبکہ سمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف 10 ایف آئی آر درج کرنے کے ساتھ بھاری جرمانے بھی عائد کئے گئے ہیں۔ گوجرانوالہ میں اب تک کی جانے والی کارروائیوں میں 372.290 میٹرک ٹن، گجرات میں 221.975 میٹرک ٹن،منڈی بہاؤالدین میں 348.800 سیالکو ٹ میں 176.150 میٹرک ٹن جبکہ نارووال میں 759.250 میٹرک ٹن گندم محکمہ خوارک کے قبضہ میں لی گئی ہے جبکہ 202.150 میٹرک ٹن گندم کو ضبط کر لیا گیا ہے۔

    ڈیرہ غازی خان میں عیدالفطر تعطیلات کے باوجود کسانوں سے گندم کی خریداری کاسلسلہ جاری ہے،ضلع کے سرحدی علاقوں میں گندم کی غیرقانونی ترسیل روکنے کیلئے بی ایم پی،رینجرز،محکمہ خوراک،زراعت اور الائیڈ محکموں کا سٹاف الرٹ ہے،وہوا میں ایک ٹریکٹر ٹرالی سے200گندم کی بوریاں برآمد کرلی گئی ہیں،غیر قانونی ترسیل کے دوران پکڑی گئیں 12 گندم کی بوریاں پی آر سنٹر ٹبی قیصرانی منتقل کردی گئی ہیں،وہوا جنوبی سے7لوڈر رکشوں پر گندم کی400بوریاں ضبط کرلی گئی ہیں،ذمہ داروں کے خلاف مقدمات درج کرکے گندم کا سٹاک فوڈ سنٹر پر پہنچا دیا گیا ہے،وہوا جنوبی میں ہی 3500بوریوں کا سٹاک بھی پکڑا گیا ہے،سٹاک فوڈ سنٹر پر پہنچا کر ملزمان کیخلاف مقامی پولیس سٹیشن میں ایف آئی آر درج کروادی گئی یے،شاہ صدر دین میں گزشتہ روز پکڑی جانیوالی گندم کی بوریاں پرچیز سنٹرز پر شفٹ کردی گئی ہیں۔

    ساہیوال ڈویژن میں تحصیل چیچہ وطنی میں گزشتہ روز غیر قانونی طور پر منتقل کی جانے والی گندم کی 200بوریاں قبضے میں لے کر پی آر سنٹر کماند منتقل کر دی گئیں۔ایک اور کارروائی میں محکمہ خوراک کی ٹیم نے 1400 بوری گندم باردانہ قبضے میں لے لیا۔ ڈویژن بھر میں 43 چیک پوسٹیں قائم کی گئی ہیں۔

  • عیدالفطر کی چھٹیوں میں عمران خان کو ہراساں نہ کرنے کا حکم

    عیدالفطر کی چھٹیوں میں عمران خان کو ہراساں نہ کرنے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے عیدالفطر کی چھٹیوں میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو ہراساں نہ کرنے کا حکم دے دیا-

    باغی ٹی وی: چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامرفاروق نے سابق وزیراعظم عمران خان کی عید کے دوران گرفتاری روکنے اور کیسز کی تفصیلات فراہم کرنے کی درخواست پر سماعت کی عمران خان کی جانب سے ایڈووکیٹ فیصل چوہدری عدالت میں پیش ہوئے۔

    ایک ہی دن انتخابات پر مشاورت کیلئےحکمراں جماعتوں کاعید کے بعد سربراہی اجلاس بلانے کا …

    عمران خان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سراج الحق زمان پارک آئے مذاکرات کی اچھی کاوش ہوئی،اگلی صبح ہم نے دیکھا کہ سندھ کے ہمارے صدر کو اٹھا لیا گیاچیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ اس واقعے سے ظاہر ہے ایک ”بیڈ ٹیسٹ“ پیدا ہوا۔

    وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ ہمیں خدشہ ہےعید کی 5 چھٹیوں میں پھر یہ کوئی آپریشن کریں گے چیف جسٹس عامر فاروق نےکہا کہ مقد مات کی تفصیلات تو طلب کر سکتا ہوں، میں اور کوئی خالی آرڈر کیسے کروں؟۔

    علی زیدی کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی استدعا مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے عید کی چھٹیوں میں عمران خان کو ہراساں نہ کرنے کا حکم دیا اورعمران خان کی درخواست پر حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی درخواست عید کے بعد تک زیر التوا ہی رکھنے کی استدعا منظور کرتے ہوئے وفاق اور پولیس سے 27 اپریل تک عمران خان کے خلاف کیسز کی تفصیل طلب کرلی۔

    شوال کا چاند دیکھنے کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس آج ہو گا

  • حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات پر آمادہ

    حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات پر آمادہ

    لاہور: امیر جماعت اسلامی سراج الحق کی حکومت اور اپوزیشن جماعت تحریک انصاف کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں دونوں فریقین نے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

    باغی ٹی وی: امیر جماعت اسلامی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کرنے کے لیے سرگرم ہیں انہوں ںے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی اور آج عمران خان سے ملاقات کرکے انہیں حکومت سے مذاکرات کی تجویز دی ہے-

    ہر شعبے میں مداخلت ہوگی تو اسے عدالتی مارشل لا کہیں گے،مولانا فضل الرحمٰن

    جماعتِ اسلامی کے امیر سراج الحق آج پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان سے ملنے زمان پارک لاہور پہنچے ان کے ساتھ نائب امیرِ جماعت لیاقت بلوچ اور مرکزی سیکیرٹری جنرل امیر العظیم بھی موجود تھے ملاقات میں پی ٹی آئی کی جانب سے مرکزی نائب صدر سینیٹر اعجاز احمد چودھری، چیئرمین کے چیف آف اسٹاف سینیٹر شبلی فراز اور معاون سیاسی امور حافظ فرحت عباس بھی موجود تھے۔

    وفد نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے خصوصی تفصیلی ملاقات کی۔ اس اہم ترین ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا امیر جماعت اسلامی کی جانب سے انتخابات کے انعقاد کے لیے وسیع اتفاقِ رائے کے لیے کمیٹی کی تشکیل کی تجویز دی گئی۔

    سوڈانی فوج اورریپڈ ایکشن فورسز کے درمیان جھڑپیں،دونوں کا صدارتی محل پر قبضہ کرنے کا …

    سراج الحق نے کہا کہ ملک میں الیکشن ایک ہی وقت پر موضوع ہیں، سیاسی صورت حال کو سیاسی طریقے سے ہی مل بیٹھ کر حل کرنا ہوگا کیونکہ پاکستان کسی غیر یقینی صورت حال کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

    اس تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ تحریک انصاف آئین کے دائرہ و حدود کے اندر بات چیت کیلئے تیار ہے۔

    دریں اثنا سراج الحق نے شہباز شریف سے بھی ملاقات کی تھی ،وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ عمران خان سے مذاکرات آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے کیے جائیں گے جبکہ عمران خان نے بھی مذاکرات کی پیش کش پر مثبت جواب دیا۔

    سعودی عرب کی فضائی کمپنی نے سوڈان کیلئے تمام پروازیں معطل کر دیں

  • سستی روٹی  سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

    سستی روٹی سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

    لاہور: سوشل میڈیا پر سستی روٹی ٹاپ ٹرینڈ بن گیا-

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی سوشل میڈیا ٹیم کی جانب سے #سستی-روٹی کے نام سے ٹرینڈ لانچ کیا گیا،جس میں ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے سوشل میڈیا صارفین نے حصہ لیا –

    اس موقع پرسوشل میدیا صارفین نے مختلف خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ باقی سیاسی جماعتوں کی طرح مہنگائی کے خلاف احتجاج کرنے کی بجائے عملی اقدامات کر رہی ہے-

    صج پورے پاکستان میں مرکزی مسلم لیگ کے تحت سستی روٹی کے تندور لگا کر بغیر منافع کے سستی روٹی فراہم کی جارہی ہے ۔جو سفید پوش گھرانوں کے لیے یہ ایک بہت بڑا قدم ہے-

    سوشل میڈیا پر ایک عبداللہ نامی صارف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر سستی روٹی ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے لکھا کہ اگر مرکزی مسلم لیگ جیسی ایک نئی سیاسی جماعت یہ کام کر سکتی ہے تو پھر سالوں پرانی سیاسی جماعتوں کیلئے عوام کیلئے ایسا کچھ کرنا تو کوئی مشکل ہی نہیں-جس کے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ #سستی-روٹی ٹاپ ٹرینڈ بنا رہا-


    https://twitter.com/AmraButt11/status/1634940770166915075?s=20

  • سینیٹ اجلاس،بہرا مند تنگی اور سیف اللہ ابڑو میں تلخ کلامی

    سینیٹ اجلاس،بہرا مند تنگی اور سیف اللہ ابڑو میں تلخ کلامی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس ہوا

    قائد حزب اختلاف شہزاد وسیم نے وقفہ سوالات میں بات کرنے کے لئے وقت مانگ لیا ۔ چئیرمین سینیٹ نے اجازت دے دی ،قائد حزب اختلاف سینیٹ ڈاکٹر شہزاد وسیم نے نقطہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ گزشتہ دنوں پارلیمنٹ اندھیروں میں ڈوبی تھی وجہ معلوم نہیں ہوسکی رجیم چینج کے بعد بہت کچھ ہوا ،ڈاکٹر شہزاد وسیم کی تقریر کے دوران بہرہ مند تنگی نے شورشرابہ کیا سیف اللہ ابڑو اور بہرہ مند تنگی کے دوران تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، بہرہ مند تنگی نے کہا کہ میں کسی کو بولنے نہیں دوں گا،ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ شہباز گل، اعظم سواتی کے بعد فواد چوہدری کو گرفتار کیا گیا الیکشن کمیشن کی جانبداری واضح نظر آ رہی ہے جب الیکشن کا وقت ہو تو وہ تیار نہیں ہوتا جب الیکشن کا وقت نہ ہو تو وہ الیکشن کمیشن کہتا ہے کہ ہم تیار ہیں، الیکشن کمیشن ایسا کام نہ کرے کہ جانبداری نظر آئے پنجاب میں نگران وزیر اعلی غیر جانبدار ہونا چاہئیے الیکشن کمیشن نے جانبدار کا نام چنا،محسن نقوی غیر جانبدار نہیں یے محسن نقوی نیب کا بینیفشری ہونے کی وجہ سے وزیر پنجاب کا اہل نہیں محسن نقوی رجیم چینج کا حصہ رہا ہے فواد چوہدری جو چادر میں ڈھانپ کر ہتھکڑیاں لگا کر پیش کیا فواد چودھری کو ایسے پیش کیا کیا گیا جیسے وہ بہت بڑا دہشت گرد ہو ہمیں اپنی تاریخ سے سبق سیکھنا ہوگا،

    سینیٹ اجلاس ،بہرا مند تنگی اور سیف اللہ ابڑو میں پھر تلخ کلامی ہوئی، سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ تم ہوکون ؟ کسی کا آدھا نام لینے سے عزت نہیں بڑھے گی،بہرا مند تنگی اپنی نشست پر کھڑے ہوگئے، چیئرمین سینیٹ نے بیٹھنے کا کہہ دیا کہا کہ آپ لوگ کیوں وقت ضائع کررہے ہیں، سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ جناب چیئرمین ا س کو خاموش کرائیں، اپنی نشست پر بٹھائیں، اب میں سندھ اور بلدیاتی انتخابات کی بات کرونگا پھر یہ غصہ کھاجائےگا،

    سینیٹ اجلاس میں سینیٹر آصف کرمانی اپنی ہی حکومت پر برس پڑے ،بولے وزرء کہاں ہیں ،وزراء کی پوری لائن خالی ہے، وزراء کو پابند بنایا جائے کہ وقت پر آیا کریں اور روز آیا کریں ہم جب اپوزیشن میں تھے تو اعتراض کرتے تھے ایک ہی پارلیمانی وزیر سارے جواب دیتا ہے آج بھی صورتحال مختلف نہیں آج بھی ایک وزیر مملکت سارے سوالات کے جوابات دیتے ہیں آج بھی وزراء کی لائن خالی نظر آتی ہے اگر وزراء نہیں آسکتے تو اس ایوان کو تالا لگا دیں مانتا ہوں اسلام آباد میں ٹھنڈ ہے لیکن ممبرز بھی تو پہنچ جاتے ہیں،

    ہم نہیں چاہتے کہ سرحدوں پر کشیدگی سے دونوں سائیڈ پر لاشیں گریں،حناربانی کھر
    سینیٹ اجلاس وقفہ سوالات کے دوران وزیر مملکت برائے خارجہ حناربانی کھر نے کہا کہ پاکستان میں اقلیتیوں کو مکمل مذہبی تحفظ حاصل ہے بھارت میں اقلیتیوں کے ساتھ بہت برا سلوک ہوریا ہے، مودی سے متعلق بی بی سی کی ڈاکومینٹری ثبوت ہے، بھارت کے منفی روئیے کے باوجود پاکستان امن کی راہ پر چلتا رہے گا، ایل او سی پر پاکستان بھارت کے مابین کشیدگی میں کمی آئی ہے، ہم خطے میں خون نہیں بہانا چاہتے،ہماری پالیسی بہت واضح ہے کہ ہم خطے میں امن اور استحکام چاہتے ہیں،ہم سرحدوں پر کشیدگی کے حق میں ہرگز نہیں،ہم نہیں چاہتے کہ سرحدوں پر کشیدگی سے دونوں سائیڈ پر لاشیں گریں،ہمیں سیاست کی بجائے ریاستی پالیسی کو اپنانا ہو گی،

    پاکستان کو گندم کی کمی کا سامنا ،اعدادوشمار نے گندم کے مزید بحران کا خدشہ ظاہر کردیا
    پاکستان کو گندم کی کمی کا سامنا ،اعدادوشمار نے گندم کے مزید بحران کا خدشہ ظاہر کردیا رواں مالی سال کے دوران ملک میں گندم کی پیداوار کھپت اور قلت کی تفصیلات ایوان بالا میں پیش کر دی گئی، ایوان میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال پاکستان کو 23لاکھ میٹرک ٹن گندم کی قلت کا سامنا ہے رواں مالی سال گندم کی کل کھپت کا 3کروڑ میٹرک ٹن لگایا گیا رواں مالی سال گندم کی پیدوار کا تخمینہ 2کروڑ 63لاکھ میٹرک ٹن لگایا گیا کیری فارورڈ اسٹاک 20لاکھ میٹرک ٹن گندم ہے،گندم کی کل پیدوار کا مجموعی تخمینہ 2کروڑ 84لاکھ میٹرک ٹن لگایا گیا

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

    سینیٹ اجلاس وقفہ سوالات کے دوران پاکستان کے کثیر الجہتی معاہدے جن میں بھارت بھی فریق ہے،تفصیلات ایوان میں پیش کر دی گئیں، تحریری جواب میں بتایا گیا کہ پاکستان نے 16 جون 2022 کو فارن پبلک ڈاکومنٹس ہیک کنونشن پر دستخط کئے،فارن پبلک ڈاکومنٹس برائے 1961 قانون سازی کیلئے ضرورت ختم کیلئے تھا،26 اکتوبر 2004 کو ہیک کنونشن پر بھارت نے بھی دستخط کئے،پاکستان نے کنونشن آن دی پروٹیکشن اینڈ پروموشن آف دی ڈائیورسٹی آف کلچرل ایکسپریشن پر دستخط کئے کنونشن آن دی پروٹیکشن اینڈ پروموشن آف دی ڈائیورسٹی آف کلچرل ایکسپریشن (2005) 4 جون 2022 سے رائج ہے،بھارت نے کنونشن آن دی پروٹیکشن اینڈ پروموشن پر15 دسمبر 2006کو دستخط کئےپاکستان نے 5 نومبر 2022 کو ٹی آئی پی پروٹوکول -2000 پر دستخط کئے،بھارت جے ٹی آئی پی پروٹوکول -2000 پر 5 مئی 2011 کو دستخط کئے،

    وزراء کی گاڑیوں پر جھنڈے کے استعمال پر اعتراض
    حکومتی اتحادی فاروق ایچ نائیک نے وزراء کی گاڑیوں پر جھنڈے کے استعمال پر اعتراض کیا، فاروق ایچ نائیک نے گاڑی پر جھنڈے کے استعمال پر چیئرمین سے رولنگ مانگ لی ،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اس ملک میں وزرا، وزرائے مملکت اور ایسے مشیر ہیں جو وزرا کا سٹیٹس استعمال کررہے ہیں ہر گاڑی پر جھنڈا لگایا جاتا ہے اور صوابدید کے تحت یہ سب کچھ ہورہا ہے اس معاملے پر چیئرمین سینیٹ رولز اور قانون کے مطابق رولنگ دیں ، سینیٹر یوسف رضا گیلانی نے فاروق ایچ نائیک کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ 85ء میں پاکستان کے جھنڈے لگانے کی اجازت نہیں تھی ایک تحریک تھی جس کے باعث جھنڈے لگانے پر پابندی تھی اس معاملے میں میں بھی کابینہ کا حصہ تھا تو اس وقت کے وزیراعظم کے سامنے معاملہ اٹھایا تھا وزیراعظم جونیجو نے اپنے دور میں وزرا اور وزرائے مملکت کی گاڑیوں پر جھنڈے کی اجازت دیجب وزراء، وزرائے مملکت یا وہ مشیر جنہیں وزرا کا سٹیٹس دیا جائیگا تو پھر جھنڈا بھی دیا جائیگا ، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ہم قانون کی بالادستی کی بات کررہے ہیں ، اس وقت ہم جس جگہ پہنچے ہیں وہ صوابدید کی ہی وجہ ہے اس حوالے سے چیئرمین سینیٹ کو رولز کے تحت اور قانون کے تحت رولنگ دینی چاہیئے ، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے کہا کہ اس معاملے کو دیکھا جائیگا اور کل جھنڈے کے استعمال سے متعلق رولنگ دونگا

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    خیبرپختونخوا حکومت کا ہیلی کاپٹر جلسوں میں استعمال کیا جا رہا ہے،وفاقی وزیر اطلاعات

    وہ کون ہے جس نے احسان فراموش عمران خان کیلیے ملک کی بقا کی خاطر سب کچھ کیا؟

    سابقہ حکومت نے جاتے جاتے ایسے اقدامات کئے کہ ہمیں ڈیفالٹ کے دہانے پرملا ،عائشہ غوث پاشا
    سینیٹ اجلاس میں وزیر مملکت خزانہ عائشہ غوث پاشا نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی ، معاشی عدم استحکام ہے توقع کرنا کہ کاروبار روٹین کے مطابق ہو گا ہم نے پاکستان کو اس نہج تک پہنچا دیا ہے سابقہ حکومت نے جاتے جاتے ایسے اقدامات کئے کہ ہمیں ڈیفالٹ کے دہانے پرملا آئی ایم ایف پروگرام معطل تھا لوگ ہماری بات ماننے کو تیار نہیں تھے یوکرائن کی جنگ کے باعث بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا عالمی ماحول نے پاکستان کو بڑا دھچکا دیا ہم جس حد تک کر سکتے تھے ہم نے کیا ،آئی ایم ایف پروگرام کے لئے مشکل اقدامات کرنا پڑے ،ہم درست اقدام کر رہے تھے جس کو دوسرے سیاست کی نظر کر رہے تھے ملکی مفاد میں سیاست کو ترجیح دی جاتی ہے تو یہی حال ہوتا ہے جو پاکستان کا آج ہے آئی ایم ایف کے پاس جانے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا جتنا بڑا سیلاب آیا اس سے پہلے وہ کبھی نہیں آیا

    سینیٹ اجلاس میں سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ فواد چوہدری کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ درست نہیں، یہ کوئی دلیل نہیں کہ وہ دوسروں کے ساتھ کیا کرتے تھے، اس وقت فواد چوہدری جو کرتا تھا وہ غلط تھا لیکن آج جو فواد چوہدری کے ساتھ جو ہو رہا ہے وہ بھی غلط ہے،ہمیں اصولوں کے ساتھ رہنا چاہئے افراد کے ساتھ نہیں، منشی کہنا کون سی بڑی بات ہے؟ یہاں تو پرویز مشرف کے خلاف ہائی کورٹ کا فیصلہ موجود ہے کہ انہیں پھانسی دی جائے، مشرف سے متعلق تو یہاں کوئی بات نہیں کرتا، توہین پارلیمنٹ اور توہین عوام پر کبھی بات نہیں ہوئی،