Baaghi TV

Tag: حکومت

  • کے پی حکومت کا ہیلی کاپٹر استعمال کرنیوالے 1800 افراد کی فہرست سامنے آگئی

    کے پی حکومت کا ہیلی کاپٹر استعمال کرنیوالے 1800 افراد کی فہرست سامنے آگئی

    عمران خان پرہیلی کاپٹراستعمال کرنےکے کیس کے معاملے پرنیب نےالیکشن کمیشن کوخط لکھ دیا،نیب نے پبلک اکاونٹس کمیٹی کی ہدایت پر الیکشن کمیشن کوخط لکھ دیا،نیب نے مراسلے میں عمران خان کے ہیلی کاپٹر استعمال کو اختیار ات سےتجاوز قرار دیدیا، مراسلے میں کہا گیا کہ عمران خان کےعلاوہ40سےزائدسیاسی شخصیات نےخیبرپختونخوا حکومت کاہیلی کاپٹراستعمال کیا،نیب نےہیلی کاپٹراستعمال کرنےوالوں سےریکوری کیلئےخیبر پختونخواحکومت کوکیس ریفرکردیا،نیب کے مطابق ہیلی کاپٹراستعمال کرنےوالی سیاسی شخصیات کےذمہ9کروڑ68لاکھ سےزائدرقم واجب الاداہے،عمران خان پرہیلی کاپٹراستعمال کرنےکی مدمیں6کروڑ39 لاکھ ہے،نیب نے ہیلی کاپٹرکاناجائزاستعمال کرنے پرسہولت کاروں کیخلاف بھی کارروائی کی سفارش کر دی.

    کے پی حکومت کا ہیلی کاپٹر استعمال کرنے والے 1800 افراد کی فہرست نیب نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) میں پیش کر دی۔

    رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی رہنما فیصل جاوید نے ہیلی کاپٹر پر 10 مفت وزٹ کیے جبکہ سابق وزیراعظم کی اہلیہ ریحام خان نے 2 بار ہیلی کاپٹر پر مفت سفر کیا، ابرار الحق نے بھی ہیلی کاپٹر پر 2 ٹرپ مفت کیے۔

    پی ٹی آئی رہنما شہر یار آفریدی، حفیظ اللہ اور امین اسلم بھی ہیلی کاپٹر استعمال کرتے رہے جبکہ صحافیوں میں فریحہ ادریس، ڈاکٹر شاہد مسعود اور ارشد شریف کا نام بھی شامل ہے۔
    رپورٹ پر چیئرمین پی اے سی نور عالم خان کا کہنا تھا کہ مفت ہیلی کاپٹر استعمال کرنے والوں سے ریکوری کرکے رقم نیب میں جمع ہوگی۔

    انہوں نے کہا کہ میری جان کو خطرہ ہے جس وجہ سےمجھے وزیراعظم نے دو گاڑیاں دی ہیں جس میں ایک بلٹ پروف ہے، مجھے ایک پارٹی لیڈر اور اس کے حواریوں نے نشانہ بنانے کی کوشش کی، لیکن بُلٹ پروف گاڑی واپس کر رہا ہوں کیونکہ میں اس کا پیٹرول نہیں برداشت کر سکتا۔

    چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ آج کل پنجاب کا ہیلی کاپٹر بھی بہت زیادہ استعمال ہو رہا ہے نیب اس کو بھی چیک کرے۔ پی اے سی کی جانب سے نیب کو 1800 افراد کی لسٹ پیش کرنے پر تعریفی خط بھی لکھا گیا۔

  • ملک پر امپورٹڈ حکومت مسلط کرنے والوں کا مقابلہ کروں گا، عمران خان

    ملک پر امپورٹڈ حکومت مسلط کرنے والوں کا مقابلہ کروں گا، عمران خان

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ لوگوں کو خرید کر ہماری حکومت گرائی گئی، ملک پر امپورٹڈ حکومت کو مسلط کیا گیا جو بھی ان کے پیچھے ہیں اور جب تک زندگی ہے مقابلہ کروں گا۔

    چشتیاں میں وکلاء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین کا کہنا تھا کہ مدینہ کی ریاست تاریخ کا سب سے بڑا انقلاب تھا،نوجوان مدینے کی ریاست کا مطالعہ کریں، ملک میں قانون، انصاف نہیں بڑے، بڑے مجرم اقتدارمیں بیٹھے ہیں،جب تک مجرم اوپر بیٹھے ہیں ملک کیسے بدلے گا،ہمیں اپنے حالات کو خود بدلنا ہو گا، جو لوگ پیسے لیکر یا خوف کی وجہ سے ضمیر بیچتے ہیں میری نظرمیں یہ شرک ہے، ہمیں اپنے نبی ﷺ کے بتائے ہوئے راستے پرچلنا چاہیے،مدینہ کی ریاست والے نبی ﷺ کی سنت کے مطابق چلے،مدینہ کی ریاست نے پوری دنیا پرامامت کی،افسوس سے کہتا ہوں ہم مدینہ کی ریاست کے اصولوں پرنہیں چل رہے۔

    انہوں نے کہا کہ 30 سال ملک لوٹنے والے بیرونی سازش کے تحت چور دروازے سے اقتدارمیں آئے، نواز شریف سزا یافتہ اور عدالتی مفرور ہیں، زرداری کی کرپشن پر عالمی سطح پر کتابیں لکھی گئیں، کیا یہ چور ہمارے مستقبل کا فیصلہ کریں گے اور ہم چپ کر کے بیٹھ جائیں، شہباز گل پر جیل میں ٹارچر کیا گیا، میں نے کہا جس نے شہباز گل پر ٹارچر کیا ان کو کٹہرے میں لائیں، میرے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کردیا گیا،ہم ملک میں قانون کی بالادستی چاہتے ہیں، قانون کی بالادستی کے لیے وکلا کا بھی امتحان ہے، اللہ نے انسان کودنیا میں انصاف کے لیے بھیجا ہے،یہ پاکستان کے لیے فیصلہ کن وقت ہے۔

    سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دوراستے ہوتے ہیں ایک راہ حق، دوسرا تباہی کا ہوتا ہے، لوگوں کو خرید کر ان لوگوں نے ہماری حکومت گرائی ملک پر امپورٹڈ حکومت کو مسلط کیا گیا جو بھی ان کے پیچھے ہیں اور جب تک زندگی ہے مقابلہ کروں گا، آزاد عدلیہ کی بحالی کے لیے جیل کاٹی، یہ مجھے جیل میں ڈالنا چاہتے ہیں یہ چھوٹی چیز ہے جان بھی دینے کو تیارہوں، باہرکی ڈکٹٹیشن سے ہم نے آزاد ہونا ہے، جس ملک میں طاقتور اور غریب کے لیے یکساں قانون نہ ہو تباہ ہو جاتے ہیں، چارماہ پہلے ملک ترقی کر رہا تھا ، اب تباہ ہورہا ہے کون ذمہ دارہے؟ اب یہ کوشش کررہے ہیں کہ کسی نہ کسی طریقے سے مجھے ڈس کوالیفائی کیا جائے، چشتیاں کے وکلا کوکہتا ہوں میری کال کا انتظارکریں۔

  • خیبر پختونخواہ حکومت نے مولانا فضل الرحمان کے قریبی ساتھی کو گرفتار کر لیا

    خیبر پختونخواہ حکومت نے مولانا فضل الرحمان کے قریبی ساتھی کو گرفتار کر لیا

    خیبر پختونخوا حکومت نے جمعیت علماء اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمان کے قریبی ساتھی مفتی کفایت اللہ کر گرفتار کر لیا.

    ضلعی انتظامیہ مانسہرہ کے آپریشن کے باعث مانسہرہ میں شاپر فروخت کرنے والے بچے کی ہلاکت کے معاملے پر خاتون اسسٹنٹ کمشنر کیخلاف احتجاج کیا گیا ،تاہم انتظامیہ نے احتجاج کرنے پر جمعیت علماء اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمان کےقریبی ساتھی مفتی کفایت اللہ سمیت 7افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے ۔

    نجی ٹی وی "سماء "کے مطابق مانسہرہ میں دوسرے روز مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال رہی جبکہ مین بازار میں احتجاج کیا گیا ، نجی ٹی وی کے مطابق مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ خاتون اسسٹنٹ کمشنر کیخلاف مقدمہ درج کیا جائے، 2روز قبل ضلعی انتظامیہ کی کارروائی کے دوران بچہ کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہو ا تھا جس پر انجمن تاجران کی جانب سے احتجاج کیا جا رہا ہے ۔

    واقعے پر احتجاج کرنے پر مانسہرہ کی ضلعی انتظامیہ نے جمعیت علماء اسلام کے رہنما مفتی کفایت اللہ کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے.

  • غریب عوام جینے کا حق مانگتی ہے!!! — حاجی فضل محمود انجم

    غریب عوام جینے کا حق مانگتی ہے!!! — حاجی فضل محمود انجم

    پیٹرول کی قیمت میں دوبارہ اضافے کا اعلان کیا ہوا کہ میرے لئے تو کمبختی آ گئی۔وہ یوں کہ رات گئے جونہی حکومت نے پندرہ دنوں بعد پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کا اعلان کیا تو "ماما بلو” جسے مجھ سے ملے ہوۓ کافی عرصہ ہو گیا تھا وہ آن دھمکا اور لگا ہاتھ اٹھا اٹھا کر صلواتیں سنانے-! یہ ہے تمہاری حکومت جس نے اب پھر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت بڑھا دی ہے۔کیسی ہے یہ حکومت ؟ جو دن کے اوقات میں قیمتیں بڑھانے کی سمری کو مسترد کرتی ہے اور جونہی رات کا اندھیرا چھا جاتا ہے۔اور لوگ سونے کی کوشش میں ہوتے ہیں تو ایسے میں تم قیمتیں بڑھانے کا اعلان کر دیتے ہو تاکہ سوۓ ہوۓ لوگ صبح بیدار ہوں تو ان کو یہ روح فرسا خبر ملے اور ان کے آنے والے پورے دن کا ستیاناس کر دے۔ آخر آپ چاہتے کیا ہیں-؟

    یہی کہ لوگ اب مر جائیں کیونکہ پہلے ہی اتنی مہنگائی ہو چکی ہے کہ اب یہی راستہ ان کے پاس رہ گیا ہے کہ وہ خودکشی کر لیں۔نہ صرف خود مر جائیں بلکہ اپنی "جیا جنت "کو بھی ساتھ لیکر ملک عدم کو سدھار جائیں۔

    آپ نے حکومت میں آتے وقت دعوے تو بہت بڑے بڑے کئے تھے۔اب وہ سب دعوے کیا ہوۓ۔؟عوام کو ریلیف دینے کا دعویٰ۔لوڈ شیڈنگ کو ختم کرنے کا دعویٰ۔عوام کو سہولیات دینے کا دعویٰ۔مہنگائی کو ختم کرنے کا دعویٰ- عوام میں ہائی جانے والی بے چینی کو کم کرنے کا دعویٰ۔ذخیرہ اندوز مافیا کو لگام دینے کا دعویٰ۔صحت اور تعلیم کی سہولیات کو عام کرنے کا دعویٰ۔

    معاشرے میں موجود نا انصافی اور استحصال کو جڑ سے اکھاڑنے کا دعویٰ۔یہ سب دعوے اب کیا ہوۓ۔لوگ تو اب مایوس ہونے لگے ہیں آپ سے بھی اور وہ بھی اتنی جلدی-! ۔لیکن جب کوئی آپ سے اس بارے میں پوچھتا ہے تو آپ اس بحران کو سابقہ حکومت کے کھاتے میں ڈالنا شروع کر دیتے ہو۔او بھائی-! یہ سابقہ حکومت کا گند تھا تو آپ نے کیوں اسے اپنے کندھوں پہ اٹھا لیا۔؟ کیوں ان کی برائیوں کو اپنی جھولی میں ڈال لیا۔؟ چلنے دیتے ان کو اور کچھ عرصہ اپنے ان کرتوتوں کیساتھ۔اگر ملک کی بھلائی اور عوام کی اشک سوئی ہی آپ کا مقصد تھا تو اب وہ مقصد کہاں گیا۔؟

    معلوم ہوا تمہارے پاس کوئی پالیسی کوئی پلان اور کوئی منصوبہ تھا ہی نہیں۔ایسا لگتا ہے کہ تم بھی بغیر کسی تیاری کے آۓ ہو ان سابقہ حکمرانوں کی طرح جنہیں حکومت کرنے کا تو کوئی تجربہ ہی نہ تھا سواۓ ملک کو لوٹنے کے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ تم صرف نے سابقہ حکمرانوں کے بغض میں اس بھاری پتھر کو چوما ہے۔

    "ماما بلو” اپنی لمبی چوڑی اس تقریر کے بعد جب اپنے دل کی بھڑاس نکال چکا تو میں نے اسے کہا کہ تمہاری یہ باتیں بلکل سچ ہیں۔ نئی آنے والی موجودہ اتحادی حکومت نے بھی تحریک عدم اعتماد میں کامیابی کے ذریعے اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ  دعویٰ کیا تھا کہ اس کی پہلی ترجیح  یہ ہو گی کہ ملک کی معاشی اور اقتصادی کارکردگی کو بہتر بنایا جاۓ اور  اس کیساتھ   ساتھ افراط زر میں بڑھتی ہوئی شرح کو کم کیا جاۓ گا مگرحالیہ دو مہینوں میں روز مرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں جو  ہوشربا اضافہ ہوا ہے اور اس کیساتھ ساتھ  بجلی اور گیس کے نرخوں میں جو  اضافہ ہوا ہے اس نے  تو عوام کی کمر ہی توڑ کر رکھ  دی ہے بلکہ اس کی چیخیں ہی نکال دیں ہیں-

    اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ حکومت بظاہر صرف دعووں پر جی رہی ہے  اور وعدوں پر انحصارکر رہی ہے اور عوام کو سہولت پہنچانے اور مہنگائی ختم کرنے کے یہ دعوے اب دھوکہ سمجھے جانے لگے ہیں کیونکہ اب اس طرف کسی کی بھی کوئی نظر یا توجہ نہیں ہے۔صرف یہ کہہ دینا کہ اس مہنگائی کے ذمہ دار سابقہ حکمران ہیں کوئی جواب نہیں ہے۔وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف جنہیں حکومت کرنے کا وسیع تجربہ ہے وہ بھی بے بس دکھائی دیتے ہیں کیونکہ یہ حکومت اتحادیوں کے رحم و کرم پر ہونے کی وجہ سے کمزور وکٹ پر کھڑی ہے اور انہیں خوش کر کے اور ان کے مفادات پورے کر کے ہی حکومت کی جا سکتی ہے ۔

    اس اتحادی حکومت نے آتے ہی قرضہ لینے کی خاطر آئی ایم ایف کے مطالبے پر صرف پندرہ دنوں کے اندر اندر تیل کی قیمتوں میں چوراسی روپے کا خطیر اور ہوشربا اضافہ کیا تھا جس سے ہر وہ شخص بلبلاء کے رہ گیا جو کما کے کھاتا ہے۔جو مزدور ہے جو دیہاڑی دار ہے۔ جو ٹھیلے والا اور سبزی فروش ہے اور جو پینشنر ہے۔ مہنگائی کی یہ شرح اسی طرح بڑھتی رہی تو وہ وقت دور نہیں بلکہ اب وہ وقت آ چکا ہے اور کسی بھی وقت یہ لاوا پھٹنے کو ہے ۔ موجودہ حکومت نے آئے روز بجلی گیس پٹرول سمیت اشیائے خوردونوش میں اضافہ کرکے عوام کی پریشانیوں میں اضافہ کیا ہے۔

    اگرچہ حکومت کی طرف سے سرکاری یوٹیلیٹی سٹورز  پر  کئی اشیاء کم قیمت پر فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے لیکن آبادی کے تناسب سے انہتائی کم تعداد پر موجود ان سٹوروں پر ساری اشیائے خردو نوش دستیاب نہیں ہیں اور شومئی قسمت ان یوٹیلیٹی اسٹورز سے بھی لوگ مطمن نہیں ہیں اور اکثر لوگ ان کی انتظامیہ کے بارے میں یہ  شکائیت کرتے ہوۓ نظر آتے ہیں کہ بعض اشیاء جیسے چینی اور گھی باہر ہی باہر اپنے تعلق داروں یا دوکانداروں کو فروخت کر دیا جاتا ہے اور عوام اس سے محروم ہی رہتی ہے۔

    اس وقت یوٹیلیٹی سٹورز کے باہر لوگوں کی لمبی لمبی قطاریں نظر آ رہی ہیں اور لوگ ہاتھوں میں پیسے لئے آٹے گھی اور چینی کی تلاش میں جگہ جگہ مارے مارے پھرتے دکھائی دے رہے ہیں مگر ان کے ہاتھ کچھ نہیں آتا۔وہ سارا سارا دن ذلیل و خوار ہو کر شام کو بے نیل و مرام اپنے گھر واپس چلے جاتے ہیں۔

    اس بد نظمی ہی کی وجہ سے آج ہمارا ہر شعبہ زندگی انحطاط کا شکار ہے۔ہر جگہ کوئی نہ کوئی مافیا قبضہ جماۓ بیٹھا ہے۔بلکل اسی طرح سیاست کا شعبہ بھی بد ترین فرعونیت کا شکار ہے۔ ہر ایک خود کو ہی جمہوریت کا ٹھیکیدار اور چیمپین سمجھتا ہے اور کسی دوسرے کو برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتا۔موجودہ سیاسی بحران اس کی بہترین مثال ہے۔ آئین کو ایک کھلونا بنا کے رکھ دیا ہے۔

    بڑے بڑے آئینی عہدیدار ہی آئینی خلاف ورزیاں کر رہے ہیں۔اسی لئے ہماری عدلیہ پہ بھی بوجھ بڑھ گیا ہے۔عام لوگوں کے سالہا سال تک فیصلے نہیں ہوتے اور وہ انصاف کیلئے ترستے اور جیلوں میں بند رہتے ہیں دوسری طرف پوری دنیا میں قاعدہ یہ ہے کہ ٹیکس امیروں سے لیا جاتا ہے اور اسے غریبوں کی فلاح و بہبود پہ خرچ کیا جاتا ہے لیکن ہمارے ہاں اس کے بلکل برعکس ہے۔یہاں غریبوں سے ٹیکس لیا جاتا ہے اور امیروں پہ خرچ کیا جاتا ہے۔غریبوں سے بجلی کے بل اس پہ انواع و اقسام کے اضافی ٹیکس لگا کر لئے جاتے ہیں اور امیروں اور واپڈا اہلکاروں کو بجلی مفت مہیا کی جاتی ہے۔موجودہ ماہ کے بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ پرائس کے نام پر ہزاروں روپے ڈال دئے گئے ہیں ۔

    طرفہ تماشہ یہ ہے کہ اس پہ کسی قسم کا کوئی تاسف یا پریشانی کا اظہار بھی نہیں کیا جاتا اور بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اسے بلوں میں شامل کر دیا جاتا ہے۔یہ بہت بڑا ظلم ہے جو واپڈا نے غریب عوام پہ ڈھا رکھا ہے ۔ غریبوں کیلئے تیل مہنگا کیا جاتا ہے اور اہل ثروت اور اہل اقتدار کیلئے اس کے مفت کوٹے مقرر ہیں۔حکومت اگر کسی چیز پہ سبسڈی دیتی ہے تو اس سبسڈی کا بہت بڑا حصہ یہ بڑی بڑی توندوں اور پیٹوں والے کھا جاتے ہیں اور غریب بیچارا بھوکا رہ جاتا ہے۔

    ہماری تاریخ گواہ ہے کہ یہی وہ رویہ ہے جس نے ملک کو استحکام نصیب نہیں ہونے دیا۔جو بھی حکومت میں آتا ہے وہ فرعون بن بیٹھتا ہے اور دوسرا اس کی ٹانگیں کھینچنا شروع کر دیتا ہے ۔پولیس اور انتظامیہ کا مورال ڈاؤن کرنے کیلئے پروگرام بناۓ جاتے ہیں اور انہیں برسر اقتدار آنے کی صورت میں سزا کی دھمکیاں دی جاتی ہیں ۔ زیادہ دور کی بات نہیں جب نوے کی دہائی میں دو سیاسی پارٹیوں نے حکومت میں ہونے کے باوجود ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے وہ وہ جتن کئے جو آج بھی ریکارڈ پر ہیں اور یہی کچھ بعد میں آنے والوں نے بھی کیا اور کسی کو کام نہ کرنے دیا بلکہ احتجاج دھرنے اور لانگ مارچ کر کے ایک دوسرے کو زچ کرنے کی کوشش کی۔ نتیجے کے طور پر حکومتیں بر طرف ہوئیں اور ہر برطرفی کے پیچھے جمہوریت کے کسی نہ کسی دعویدار اور ٹھیکیدار کا ہاتھ ہی محسوس کیا گیا۔

    سوال یہ ہے اب شکائیت کس سے کریں کہ کب تک ایسا ہوتا رہیگا اور کب تک عوام مہنگائی نا انصافی اور ظلم کی چکی میں پستی رہے گی اور کب تک امیر اور غریب کے درمیان موجود یہ تقسیم باقی رہے گی۔؟ دنیا داروں نے تو جینے کا حق ہی چھین لیا۔لہذا اب شکائیت صرف اللہ سے ہے جو قادر مطلق ہے اور پالنے والا ہے سب جہانوں کا۔ اسلئے خدارا سوچو۔سوچو -! اس ملک کی بہتری کیلئے اس کی بقاء اور ترقی کیلئے اس کے استحکام اور حفاظت کیلئے کیونکہ یہ ملک ہی ہے جس کی بناء پر دنیا میں ہماری پہچان ہے۔

  • این اے 108کا ضمنی الیکشن،پنجاب حکومت ہمارے صبر کا امتحان نا لے،عابد شیر علی

    این اے 108کا ضمنی الیکشن،پنجاب حکومت ہمارے صبر کا امتحان نا لے،عابد شیر علی

    مسلم لیگ ن کے رہنما سابق وزیر مملکت عابد شیر علی اور طلال چوہدری نے کہا کہ این اے 108 ضمنی الیکشن ہورہا ہے، عمران نیازی کے خلاف لوگوں میں نفرت پائی جاتی ہے،عمران نیازی کی مہنگائی کے باوجود لوگ ہمارے ساتھ کھڑے ہیں، پرویز الہی کی سربراہی میں ایک فورس تیار کی ہوئی ہے، سرکاری محکموں پرویز الہی کے لیے کام کررہے ہیں.

    فیصل آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عابد شیر علی کا کہنا تھا کہ ہمارے لوگوں کو پرائیویٹ نمبروں سے کالز آرہی ہیں، پی ایچ اے ہمارے بینرز اتار رہا ہے، پولیس کارپوریشن پی ایچ اے سب مل کر ہمارے خلاف اقدامات کررہے ہیں، ایسا نہ کریں ہمارا صبر کا امتحان نہ لیں، آج سبزیاں بھی عمران نیازی کی وجہ سے مہنگی ہورہی ہیں، نواز شریف کی سخت ہدایت ہے کہ مہنگائی کو کنٹرول کیا جائے.

    طلال چوہدری نے کہا کہ عمران خان کا شکریہ کہ ہماری مسلم لیگ کے اختلافات دور کردیے، این اے 108 کے لوگ ان کے ٹکٹ ہولڈر سے پوچھتے ہیں،ہمارے سارے جلسوں میں سیلاب زدگان کے لئے فنڈ اکٹھا کیا جارہا ہے، سیلاب زدگان کے پاس صرف مسلم لیگ ن کی نظر آرہی ہے،جن کی صوبوں میں حکومت ہے وہ نظر نہیں آرہے، یہ ٹی وی پر شعبدہ بازی کرتے رہے، سیلاب زدگان کے نام پر شعبدہ بازی کرکے مذاق نہ کریں، آج عمران کی عدالت میں پیشی ہے، قانون سب کے لیے ایک ہونا چاہیے لاڈلے کے لیے علیحدہ نہیں ہونا چاہیے، توہین عدالت یہ تو عادی مجرم ہے اس کا،عدالت ،فوج الیکشن کمیشن یہ سب کے خلاف بات کرتا ہے.

    طلال چوہدریکا کہنا تھا کہ نہال ہاشمی، دانیال عزیز اور طلال پر براہ راست نوٹس لیے گئے، اس کو وارننگ نہیں بلکہ ایک قانون کے تحت فیصلہ دینا ہوگا، ہمارے کارکنوں کی لسٹیں بن رہی ہیں، اگر ہماری مہم میں خلل ڈالا گیا تو بتائیں گے غنڈہ گردی کس کو کہتے ہیں، عمران خان اپنے لوگوں کو سمجھائیں.

  • حکومت آئی ایم ایف سے بات کر کے ریلیف لے،عمران خان

    حکومت آئی ایم ایف سے بات کر کے ریلیف لے،عمران خان

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مفتاح اسماعیل کہتے ہیں تحریک انصاف آئی ایم ایف کا پروگرام منسوخ کرانا چاہتی ہے، وزیرخزانہ خیبرپختونخوا تیمورجھگڑا مفتاح اسماعیل سے دوماہ سے وقت مانگ رہا ہے، مفتاح کہتے ہیں صوبے سرپلس دینگے، سیلاب سے تباہی آئی ہے، صوبے کہاں سے سرپلس دیں گے، مفتاح اسماعیل سیلاب آیا ہے، دل بڑا کرو گوری چمڑی سے گھبرانے کے بجائے آئی ایم ایف سے بات کر کے ریلیف لیں، کورونا جب آیا تھا تومیں نے آئی ایم ایف سربراہ سے بات کرکے ریلیف لیا تھا۔ سیلاب سے اربوں کی تباہی ہوئی ہے، حکومت کو ہمت پکڑ کر آئی ایم ایف سے بات کرنی چاہیے۔

    جہلم میں پی ٹی آئی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ اللہ نے پاکستان کو بڑے امتحان میں ڈالا ہے،اللہ کبھی کبھی اپنی مخلوق کوآزماتا ہے،اللہ نے ہمیں ایک آزمائش دی ہے ہم سب وعدہ کرتے ہیں اللہ ہم اس امتحان میں فیل نہیں ہونگے،سوات، چترال سمیت ہر جگہ عذاب آیا ہوا ہے، موسم کی خرابی کی وجہ سے تونسہ، راجن پور،ڈی جی خان نہیں جا سکا، سیلاب سے فصلوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچا،بلوچستان، سندھ میں لوگوں کا برا حال ہے، اس امتحان سے ملکر قوم مل کر لڑتی ہے، ایسے امتحان سے ہم سب نے ملکرمقابلہ کرنا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 2010کے سیلاب میں ہر پاکستانی نے مل کر مقابلہ کیا تھا، آج بھی ہم سب نے مل کر اس امتحان کا مقابلہ کرنا ہے،نوجوانوں کی ٹائیگرفورس بنائی ہے،ٹائیگرفورس متاثرہ علاقوں میں جا کر حکومتوں کی مدد کرے گی،پیر کی شام کو ایک ٹیلی تھون کرونگا،پاکستان اوربیرون ملک پاکستانیوں سے پیسہ اکٹھا کرونگا،احساس پروگرام کی طرح اس پروگرام میں بھی ثانیہ نشترکوسربراہ بنائیں گے۔

    پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ یہ اللہ کا امتحان ہے،ہم ڈیمزبناسکتے ہیں،ہمیں فخرہے ہماری حکومت نے پاکستان میں 10 ڈیمزبنانا شروع کیے،50 سال بعد بھاشا، داسو، مہمند ڈیم بن رہے ہیں۔ جب ڈیم ہوتے ہیں تو بارش کے پانی کو قابو کیا جاسکتا ہے،وہی بارش کا پانی تباہی کے بجائے رحمت بن جاتا ہے،چین میں 80 ہزارٹوٹل ڈیم ہے،چین میں 5 ہزاربڑے ڈیم ہے،پاکستان میں ڈیم نہ بنا کربڑی کوتاہی کی گئی،جتنی بھی حکومتیں آئی سب سے سوال پوچھتا ہوں آپ لوگوں کوخیال کیوں نہ آیا،پچاس سال میں کسی حکومت نے ملک میں ڈیم بنانے کا نہیں سوچا،تحریک انصاف کی حکومت کوپہلی دفعہ ڈیم بنانے پرمبارکباد دیتا ہوں۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ نوشہرہ میں 2010ء میں سیلاب کے دوران ڈوب گیا تھا،ہماری حکومت نے نوشہرہ میں بند بنائے تھے، یہی بند نوشہرہ کو بچائیں گے، اگر عثمان بزدار اربوں روپے سے بند نہ بناتے تو تونسہ نے ڈوب جانا تھا، سندھ میں بارش آئے تو ڈوب جاتا ہے اوردوسری طرف پینے والا پانی نہیں ملتا،لاہورکے اندر ہم نے انڈر گراؤنڈ پانی کو اکٹھا کرنے کا پلان بنایا،اگر ڈیم بنا ہوتا تو ڈیرہ اسماعیل خان میں تباہی کو روکا جاسکتا تھا،پانی کوتباہی بنانے کے بجائے نعمت بنانا ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ اخبارات میں ہمارے خلاف کمپین چل رہی ہے، ایک میڈیا ہاؤس ہمیشہ پیسے لیکرچوروں کی حفاظت کرتا ہے،کمپین کررہے ہیں اس وقت جلسے نہیں کرنے چاہئیں، لفافوں کان کھول کرسن لو،میں سیاست نہیں کر رہا حقیقی آزادی کی جنگ لڑ رہا ہوں، 30 سال سے ملک لوٹنے والوں کے خلاف حقیقی آزادی کی جنگ لڑرہا ہوں،ملک میں قانون کی بالادستی کی جنگ لڑرہا ہوں۔ پاکستان نے اسلامی فلاحی ریاست بننا تھا، ہماری جدوجہد سیلاب اورجنگوں کے دوران بھی جاری رہے گی، جب تک حقیقی آزادی نہیں ملتی ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے پی ٹی آئی چیئر مین کاکہنا تھا کہ چوروں کا ٹولہ کان کھول کرسن لے تم جیسے چوروں سے آزادی تک جدوجہد جاری رہے گی، فکر نہ کرو، سیلاب کے دوران ہم وہ کام کریں گے جو تم ساری زندگی بھی نہیں کرسکتے، تم چوروں کو تو کوئی پیسے دینے کو بھی تیارنہیں، بھگوڑا لندن بیٹھ کرہمیں درس دے رہا ہے سیاست نہیں کرنی چاہیے،نوازشریف مفرور مجرم، شہبازشریف، ڈیزل، زرداری سن لو حقیقی آزادی تک جدوجہد جاری رہے گی، زرداری کوپیسوں کی بیماری ہے جب پیسہ دیکھتا ہے تواس کی مونچھیں اوپرنیچے ہوجاتی ہیں، سیلاب متاثرین کے لیے بھی جدوجہد کروں گا،سیلاب متاثرین کی ہرممکن مدد کروں گا لیکن تمہیں نہیں چھوڑنا،دو ڈاکو خاندانوں کے آنے سے پہلے پاکستان برصغیرمیں تیزی سے ترقی کررہا تھا۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ جب ڈاکو خاندان مسلط ہوئے توہم بھارت، بنگلادیش سے بھی پیچھے رہ گئے، شہبازشریف،مفتاح اسماعیل کہہ رہے ہیں ہماری وجہ سے آئی ایم ایف پروگرام فیل ہو جائے گا،شہبازشریف اوران کے اتحادیوں نے قرضے لوگوں پرچڑھائے،جب ہم نے اقتدارسنبھالا تواس وقت سب سے زیادہ بیرونی خسارہ تھا،موجودہ حکومت کے اکنامک سروے کے مطابق تحریک انصاف حکومت میں 6 فیصد گروتھ ہو رہی تھی، ہمارے دورمیں چارفصلوں کی ریکارڈ پیداوار ہوئی، ہم یہ پاکستان چھوڑ کر گئے تھے، ہماری حکومت نے پہلی دفعہ 10 لاکھ علاج کے لیے انشورنس دی، سازش کرکے ہماری حکومت گرائی اورچارماہ بعد ملک کا دیوالیہ نکال دیا،آج ملک میں مسلسل مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ ہمارے دور میں 16 فیصد اور آج مہنگائی 45 فیصد ہے، ان کا توسارا شور ہی مہنگائی کے خلاف تھا۔

    سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مفتاح اسماعیل کہہ رہا ہے آئی ایم ایف پروگرام ہم ناکام بنانا چاہتے ہیں،دوماہ سے تیمورجھگڑا میٹنگ کے لیے بلاتا رہا،سیلاب سے اربوں کی تباہی ہوئی کدھرسے سرپلس ہوگا، گوری چمڑی سے اتنا نہ گھبراؤآپ کوآئی ایم ایف سے بات کرنی چاہیے ملک میں سیلاب آیا ہوا ہے،دل بڑا کرو، ٹرانسپلانٹ کرالو، آئی ایم ایف سے بات کرو۔

    ان کا کہنا تھا کہ شہبازشریف کے بیانات سے شرمندگی ہوتی ہے، امپورٹڈ حکومت ایک غیرتمند قوم کو شرمندہ کررہی ہے،ان کا چوری کا پیسہ بیرون ملک پڑا ہے یہ ان کے غلام ہیں۔ایک طرف کہتے ہیں سیلاب آیا ہوا ہے، سیلاب کی وارننگ کے دوران سب سے بڑی پارٹی کو کیسز کر کے دیوار سے لگایا جا رہا ہے، 25مئی کوپرامن احتجاج کرنے والوں پر شیلنگ، مقدمات درج کیے گئے، ہمارے دورمیں انہوں نے دھرنے دیئے کسی کو نہیں روکا، 25 مئی کو ظلم کیا گیا، اس وقت جمہوریت اورہماری آزادی کو مسلط ٹولے سے خطرہ ہے، ضمنی الیکشن میں الیکشن کمیشن، پولیس کے ساتھ مل کربھی یہ بری طرح ہارے، اب یہ الیکشن سے ڈرے ہوئے ہیں ان کوپتا ہے الیکشن میں پھینٹا پڑے گا۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ اب یہ تکنیکی طریقے سے مجھے راستے سے ہٹانا چاہتے ہیں، آج تک آئین وقانون کے دائرے میں رہ کرسیاست کی، 25 مئی کو تشدد کیا گیا، انتشار کے ڈر کی وجہ سے دھرنا ختم کیا تھا، مجھ پردہشت گردی کا مقدمہ درج کیا گیا، میرے خلاف دہشت گردی کے مقدمے کی دنیا میں خبر پھیل گئی، شہبازگل کوعدالت میں پیش کرنے کے بجائے اسے برہنہ کر کے جنسی تشدد کیا گیا، میں نے کہا شہبازگل پرتشدد کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے، کیا قانونی کارروائی کا کہنا دہشت گردی ہے؟ دنیا میں دہشت گردی کا مقدمہ بننے پر مذاق اڑایا گیا، مسٹر ایکس کے بعد اب اسلام آباد میں ’مسٹروائی کو تحریک انصاف کو ڈرانے کے مشن پر بھیجا گیا ہے، مسٹروائی غور سے سن لو ہم ایک پُر امن سیاسی جماعت ہیں، ایک طرف کہتے ہیں سیلاب میں سب کواکٹھا ہونا چاہیے، چاروں صوبوں کواکٹھا رکھنے والی جماعت کے خلاف سازش اس ملک سے بھی غداری ہے، یہ ملک کی جمہوریت کو کمزور کرنے کی سازش ہے، جتنا میرے اندرسٹیمنا پوری جدوجہد کرونگا۔ ایک ہم نے سیلاب متاثرین کی ہرممکن مدد کرنی ہے،دوسرا سب حقیقی آزادی کی جدوجہد کے لیے تیار ہو جائیں کپتان سب سے آگے ہوگا۔

  • حکومت میری آخری کال سے پہلے الیکشن کا اعلان کر دے،عمران خان کی دھمکی

    حکومت میری آخری کال سے پہلے الیکشن کا اعلان کر دے،عمران خان کی دھمکی

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم اپنے اداروں کی کبھی تنقید نہیں کرتے، ہمارا ایک ہی مقصد ہے اس امپورٹڈ حکومت سے ہماری جان چھڑوا کر ملک میں صاف اور شفاف الیکشن کروائے جائیں، حکومت کو کہتا ہوں جب میں کال دوں گا تو وہ آخری کال ہو گی، اس سے پہلے الیکشن کا اعلان کر دیں۔

    ہری پور میں پی ٹی آئی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قائداعظمؒ کہتے تھے انگریزوں سے آزادی کے بعد ہم کسی کے غلام نہیں ہیں، پاکستان کی حقیقی طرح آزاد کیا جائے، ملکی فیصلے پاکستان میں ہوں، پاکستان کو کسی اور کی جنگ میں شرکت نہ کروائیں، میں یہ کسی صورت میں نہیں ہونے دوں گا، ہمیں دھمکی ملی اگر امریکہ کی جنگ میں آپ شامل نہیں ہوں گے تو آپ کو ختم کر دیا جائے گا۔ میں امریکا کو کہتا ہم آپ کو ہر طرح مدد کریں گے لیکن دہشتگردی میں ساتھ نہیں دیں گے، میں دہشت گردی کے خلاف کھڑا تھا مجھے دہشت گرد کہا گیا، میں کسی دہشت گردی کے ساتھ نہیں ہوں۔

    انہوں نے کہا کہ میری قوم جاگ گئی ہے، میری پوری کوشش تھی ہم روس سے سستا تیل لیں اور اپنی عوام کو سستا تیل دیں، پاکستان پر امپورٹڈ مسلط کر دی گئی، آصف زرداری 30 سال سے چوری کر رہا ہے، جیل گیا اور جب واپس آیا پھر چوری شروع کر دی، شہباز شریف پیسہ تم چوری کرو اور پیسہ عوام واپس کرے، ہم نے چوروں سے اس ملک کو آزاد کرنا ہے۔

    پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ ہمارا حقیقی آزادی کا جو جہاد ہے اس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہم کسی کی جنگ میں شامل نہیں ہوں گے، ہمارے فیصلے ہم خود کرینگے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ مجھے پتا چلا مجھے گرفتار کرنے آ رہے ہیں، میں تیار ہو گیا، چلو جیل بھی دیکھ لیں گے۔ ہمارا ایک خاص بندہ جو امریکا میں پروفیسر تھا، اس نے کہا میں پاکستان کے لیے کام کروں گا وہ ٹی وی پر کوئی بات کرتا ہے، اگر اس نے کوئی بات کی ہے تو اسے عدالت لے کر جایا جائے لیکن ایسا نہیں کیا گیا، کسی کو نہیں پتا اسے کہاں رکھا گیا ہے۔ اس پر ننگا کر کے تشدد کیا گیا، شہباز گل پر جنسی تشدد کیا گیا،کسی ملک میں ایسا نہیں ہوتا، اس تشدد سے اس کی ذہنی صورتحال ایسی تھی وہ بالکل ٹوٹ گیا۔ عدالت میں ثابت ہو گیا اس پر ذہنی اور جنسی تشدد کیا گیا۔جنہوں نے یہ کام کیا ہے ہم پولیس والوں کو نہیں چھوڑیں گے۔ ہم قانونی طور پر ان کے خلاف کارروائی کریں گے، یہ نہیں کہا ڈنڈا لے کر ان پیچھے جائیں گے۔

    سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ساری دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہوئی، 25 مئی کو پولیس کے ذریعے تشدد کروایا، جب انہوں نے تشدد کیا تو یہ سمجھے یہ ڈر جائیں گے، میری پارٹی کے لوگوں کو ممی ڈیڈی کہا گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 17 جولائی کو پنجاب میں ضمنی الیکشن آ گئے لیکن دھاندلی کے باوجود ایسا پھینٹا پڑا کہ ٹانگیں کانپنی شروع ہو گئی، 17 جولائی کو جب الیکشن میں ہار ملی تو انہوں نے کہا عمران خان کو تکنیکی طور پر شکست دیتے ہیں، جو مرضی کر لیں اب اس حقیقی آزادی کو کوئی نہیں روک سکتا، جب ہمیں ہٹایا گیا تو کہا مہنگائی بہت زیادہ ہو گئی ہے، ہمارے دور میں مہنگائی 16 فیصد تھی، اب 42 فیصد ہے۔ ہمارے دور میں جب تھوڑا سا بھی پٹرول بڑھتا تھا تو مہنگائی مارچ شروع ہو جاتا تھا۔ مجھے نکالنے کے لیے مہنگائی بہانہ تھا۔ آج ہماری ایکسپورٹس کم ہورہی ہیں۔

    پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ ہمارے پاکستانی بہت مشکلوں میں ہیں، میں اپنی پنجاب حکومت کو بھی کہتا ہوں ان کی مدد کریں، شہباز شریف قطر جانے کی بجائے اپنے لوگوں کی مدد کرو، کسی نے تمہیں پیسے نہیں دینے کیونکہ سب کو پتا ہے تم اور تمہارا بھائی چور ہیں، میں اپنی سوشل میڈیا کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے اداروں کی کبھی تنقید نہیں کرتے، ہمارا ایک ہی مقصد ہے اس امپورٹڈ سے ہماری جان چھڑوا کر ملک میں صاف اور شفاف الیکشن کروائیں، صاف اور شفاف الیکشن سے ملک میں استحکام آئے گا، باہر کے لوگ ان چوروں پر اعتبار کر تے ہیں اور نہ ہی پاکستانی قوم ان پر اعتبار کرتی ہے، ان کے ہوتے ہوئے ملک میں استحکام نہیں آئے گا۔ جب میں کال دوں گا تو آپ سب نے تیار رہنا ہے، میں امپورٹڈ حکومت کو کہتا ہوں جب میں کال دوں گا تو وہ آخری کال ہو گی، اس سے پہلے الیکشن کا اعلان کر دیں۔ ملکی قیادت کون کرے گا اس کا فیصلہ عوام کرے گی۔

  • پنجاب حکومت کا پی ٹی آئی کارکنان کے خلاف مقدمات خارج کرنے کا فیصلہ

    پنجاب حکومت کا پی ٹی آئی کارکنان کے خلاف مقدمات خارج کرنے کا فیصلہ

    پنجاب حکومت نے پی ٹی آئی کارکنان کے خلاف مقدمات خارج کرنے کا فیصلہ کرلیا.

    صوبائی وزیر داخلہ کرنل (ر) ہاشم ڈوگر نے محکمہ پراسیکیوشن اور پولیس کو پی ٹی آئی کارکنان پر قائم مقدمات کے بارے میں مکمل انکوائری رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے.

    وزیر داخلہ پنجاب کرنل (ر) ہاشم ڈوگر کا کہنا ہے کہ فاشسٹ حکومت نے 25 مئی کو ہمارے کارکنوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے جھوٹے مقدمات درج کیے۔ متعلقہ محکموں اور حکام سے جھوٹے مقدمات پر رپورٹ طلب کر لی ہے۔ 25 مئی کو پی ٹی آئی کارکنوں پر بنائے گئے تمام جھوٹے مقدمے خارج ہوں گے.

    وزیر داخلہ پنجاب نے کہا کہ جن افسران نے سیاسی لوگوں کے کہنے پر جھوٹے مقدمے درج کیے ان سے جواب طلبی جاری ہے۔ جھوٹے مقدمے درج کرانے پر فاشسٹ حکومت کے نمائندوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ فاشسٹ حکومت نے پہلے پنجاب میں اور اب اسلام آباد میں قانون کی دھجیاں اڑائی ہیں۔

    وزیر داخلہ پنجاب کا کہنا تھا کہ ن لیگ نے پنجاب اور اسلام آباد پولیس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ اب گرفتاریوں کے خوف سے کاغذی شیروں کو چھپنے کی جگہ نہیں مل رہی، خاطر جمع رکھیں، ہم آپ سے وہ سلوک نہیں کریں گے جو آپ ہمارے لوگوں سے کر رہے ہیں، آپ کتنے دن بلوں میں چھپیں گے، قانون کے مطابق اپنے کیے کا جواب دینا ہوگا.

  • حکومت نے عوام پر ایک مرتبہ پھر پٹرول بم گرادیا

    حکومت نے عوام پر ایک مرتبہ پھر پٹرول بم گرادیا

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مخلوط حکومت نے عوام پر ایک مرتبہ پھر پٹرول بم گرادیا۔

    حکومت کی جانب سے پٹرول کی قیمت میں 6 روپے 72 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 51 پیسے کمی کی گئی ہے جبکہ لائٹ ڈیزل 43 پیسے فی لٹر سستا ہوا ہے۔
    نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 1 روپے 67 پیسے فی لٹر کمی کی گئی ہے۔

    نئی قیمتوں کے مطابق پٹرول 233 روپے 91 پیسے، ہائی سپیڈ ڈیزل 244 روپے 44 پیسے کا فی لٹر ہوگیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی فی لٹر قیمت 199 روپے 40 پیسے جبکہ لائٹ ڈیزل آئل کی نئی قیمت 191 روپے 75 پیسے مقرر کی گئی ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے اس سے قبل اوگرا نے اگست کیلئے درآمدی ایل این جی کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا، قیمتوں میں کمی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔سوئی ناردرن سسٹم کیلئے ایل این جی کی فی یونٹ قیمت میں 0.5107 ڈالر کمی کی گئی، سوئی سدرن سسٹم پر ایل این جی کی قیمت میں 0.4792 ڈالر فی یونٹ کمی کی گئی۔سوئی ناردرن سسٹم پر ایل این جی کی نئی قیمت 16.9496 ڈالر فی یونٹ مقرر کی گئی ہے، سوئی سدرن سسٹم پر ایل این جی کی نئی قیمت 17.4783 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی ہے۔ سوئی ناردرن سسٹم پر جولائی میں ایل این جی کی قیمت 17.4603 ڈالر فی یونٹ تھی، سوئی سدرن سسٹم پر جون میں ایل این جی کی قیمت 17.9575 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تھی۔

  • حکومت اور سیاسی جماعتیں عمران خان کے خلاف فوری ایکشن لیں ،نواز شریف

    حکومت اور سیاسی جماعتیں عمران خان کے خلاف فوری ایکشن لیں ،نواز شریف

    مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ثاقب نثار صاحب چاہے ریٹائر ہو گئے ہیں لیکن وقت آئے گا اور ان کو ان سب باتوں کا جواب دینا پڑے گا.

    لندن میں میڈیا کے نمائیندوں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ عظمت شیخ صاحب جو جج تھے ان کو اس بات کا جواب دینا پڑے گا،انہوں نے وٹس ایپ پر کس طرح سے جے آئی ٹی بنائی؟،اب کھوسہ صاحب کو بھی اس بات کا جواب دینا پڑے گا کہ انہوں نے عمران خان کو کہا تم کیوں سڑکوں پر پھرتے ہو ؟ اؤ ہمارے پاس اپنا کیس لے کر آؤ،ہم فیصلہ سنائیں گے.

    نواز شریف نے کہا کہ حد ہوتی ہے نا انصافیوں کی ،ظلم کی، ذیادتیوں کی، میرے خلاف ظلم ،ذیادتی ،ناانصافی کرتے کرتے پاکستان کو ڈبو دیا.پاکستان کو نعوزوبلا تباہ وبرباد کر دیا.آج پاکستان کو ایسی جگہ پر پہنچا دیا ہے جہان آج پاکستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا مشکل ہو رہا ہے.پاکستان کی معیشت کا گزشتہ چار سال میں وہ حال کر دیا ہے کہ اس کو وینٹی لیٹر پر لے آئے ہیں،جس کی آج دوبارہ سانس بحال کرنا مشکل ہو رہا ہے.

    انہوں نے کہا کہ بے چارے لوگوں کی مہنگائی سے قمر ٹوٹ گئی ہے ، چار سال سے قمر توڑ مہنگائی کا تسلسل چل رہا ہے جو بند ہونے کا نام ہی نہیں لیتا.میں سمجھتا ہوں کہ یہ سب چیزیں پاکستان کے ساتھ زیادتی ہیں. نواز شریف نے کہا کہ میں بڑے پر زور الفاظ میں حکومت سے کہوں گا اور پاکستان کے سیاسی پارٹیوں کو بھی کہوں گا کہ اس میں کردار ادا کریں اس فتنے کی فتنہ بازی اور شرانگیزی کو اب ہمیشہ کیلئے ختم کریں ،آئین اور قانوں کے مطابق اس کے خلاف فوری ایکشن لیں.

    نوازشریف نے عمران خان کا نام لئے بغیر کہا کہ اس بندے نے پاکستان کے معاشرے کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے،ہمارے ملک کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے،ہماری قوم کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے،ہماری معیشت کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے. یہ کوئی خارجی ایجنڈا لے کر پاکستان میں آیا تھا جس کو یہ پاکستان میں امپلیمنٹ کر رہا تھا .انہوں نے کہا کہ صادق صاحب جو لندن کے میئر ہیں عمران خان الیکشن میں صادق صاحب کی مدد کرنے کی بجائے ان کے مخالف امیدوار زیک گولڈسمتھ کی مدد کر رہا ہے .