Baaghi TV

Tag: حکومت

  • بندوق کی نالی سے معیشت ٹھیک نہیں ہو گی ،شاہد خاقان عباسی

    بندوق کی نالی سے معیشت ٹھیک نہیں ہو گی ،شاہد خاقان عباسی

    عوام پاکستان پارٹی کے کنوینئر شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ اکٹھے بیٹھ کر مسائل کا حل نکلے گا،بندوق کی نالی سے معیشت ٹھیک نہیں ہو گی

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ آج اکٹھے بیٹھ کر ملکی معاملات حل کرنے کی ضرورت ہے،کیوں گولی چلی، کیوں مظاہرین آئے،؟کیونکہ آپ نے اپوزیشن کو دیوار سے لگایا ہوا ہے۔عمران خان نے بھی اپوزیشن کو دیوار سے لگایا۔میرے دور میں جو ہوا اس کا ذمہ دار ہوں۔دھرنا صحیح ہوا یا غلط لیکن گولی نہیں چلی۔کسی کو قتل نہیں کیا۔عمران خان کے دور میں ہم نے بھی مشکل وقت گزارا ،سیاست میں دشمنی اب خونی ہو گئی ہے صدر اور وزیراعظم کی ذمہ داری ہے ،تمام جماعتوں کو بیٹھ کر ملکی مفاد کو دیکھتے ہوئے مذاکرات کرنا ہونگے.اسلام آباد میں پٹھانوں کوگرفتارکیاجارہا ہے، ملک میں قانون نام کی چیزنہیں، رات کی تاریکی میں 26ویں آئینی ترمیم کی گئی، یہ سمجھتے ہیں بندوق کےزورپرترقی کرینگے، یہ درست نہیں، ہم نہ حکومت میں نہ اپوزیشن میں ۔ہم ملک کی بات کر رہے ہیں، حکومت بات کرے، ہم اسکے ساتھ ہیں،جو ملک کی بات کرے ہم اس کے ساتھ ہیں۔یہ کسی ایک کے بس کی بات نہیں ہے،

    اڈیالہ میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے تیار ہوں،شاہد خاقان عباسی
    شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ اڈیالہ میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے تیار ہوں اگر سسٹم ملنے دے۔ ن لیگ کاووٹ کوعزت دو کا بیانیہ دفن ہو چکا ہے، نوجوان مایوس ہوکرملک چھوڑ کر باہر جا رہے ہیں۔ میاں صاحب آٹھ فروری کویہ کہہ دیتے ہم الیکشن ہار گئے ہیں، آج ملک کی سیاست کچھ اور ہوتی، آج بھی فیصلے ان کے ہاتھ میں ہیں، جوملک کے حالات کو بہتر کرسکتے ہیں،جو پارلیمان ساری رات بیٹھ کر بغیر پڑھے ترمیم کردے اس سے کوئی امید نہیں۔مجھے کوئی امید نہیں، جو حکومت یہ کام کرے اس سے بھی مجھےکوئی امید نہیں ہے،ہماری سوچ یہ ہے کہ سب ایک جگہ بیٹھیں، بات ملک کی کریں، آگے بڑھنے کی بات کریں،ہم ہر ایک سے ملنے کو تیار ہیں،حکومت اپوزیشن جنگ میں مصروف ہیں،پورا ملک تماش بین ہے۔جن کو حکومت و اپوزیشن ہونا چاہئے وہ متحارب ہیں، یہ خرابی کو ہم نے دور کرنا ہے، کم از کم چھ آٹھ لوگ ایسے ہوں جو بات کر سکیں، دوری کو ختم کرنے کی کوشش کریں،مہنگائی بڑھ گئی ہے،سٹاک مارکیٹ کا اوپرجانا حکومت کی ناکامی کی دلیل ہے، لوگ اپنا پیسہ باہر بھیج رہے ہیں سٹاک خرید رہے ہیں،

    ہر پاکستانی گزرتے سال کے ساتھ غریب ہو رہا ہے،مفتاح اسماعیل
    دوسری جانب عوام پاکستان پارٹی کے رہنما مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ حکومت کا کارنامہ یہی ہے کہ ہر چیز مہنگی کر دی گئی ہے،پاکستان میں 40 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے ہیں، آج بھی ملک میں لاکھوں بچے بھوکے سوئیں گے، ہر پاکستانی گزرتے سال کے ساتھ غریب ہو رہا ہے، اس حکومت نے اپنا پورا سال ضائع کر دیا، حکومت نے ایک سال میں صرف اپنی کرسی مضبوط کی ہے،سب سے مہنگی بجلی اور گیس پاکستان میں ہے۔ڈیڑھ لاکھ سٹاک مارکیٹ میں کام کر رہے انکے لئے اچھی بات ہےلیکن اس سے عوام کو کیا فائدہ، عوام کے پاس تو بل بھرنے، راشن کے پیسے ہونے چاہئے، دوائی کے پیسے ہونے چاہئے، دس سال پہلے جو تین بچوں کی کفالت کرتا تھا کیا آج وہ کر سکتا ہے، اسٹاک مارکیٹ کا اوپر جانا اچھی بات ہے لیکن غربت کتنی ہے، معیشت کی بات کرتے ہوئے غریب عوام کو بھی دیکھنا چاہئے،لوگوں کی آمدن کم ہوئی، عوام غریب ہوئے، تنخواہیں کٹ رہی ہیں،کہیں ایک تنخواہ،کہیں آدھی دی جا رہی، حکومت نے صرف قانون سازی کر کے خود کو مضبوط کیا،عوام کے لئے کچھ نہیں کیا، صوبوں کو وزارتیں نہیں دیں، زراعت پر ٹیکس نہیں لگایا، اپنے خرچے کم نہیں کئے لیکن تنخواہ دار پر ٹیکس حکومت نے لگا دیا، حکومت اپنے ان کارناموں پر خوش ہے کہ زیادہ ٹیکس لے رہے ہیں مہنگی بجلی گیس بیچ رہے ہیں تو اس پر شہباز شریف کو مبارکباد دیتے ہیں.

  • پی ٹی آئی نے پریڈگراؤنڈ یا پشاور موڑ پر دھرنے کی حکومتی پیشکش مسترد کردی

    پی ٹی آئی نے پریڈگراؤنڈ یا پشاور موڑ پر دھرنے کی حکومتی پیشکش مسترد کردی

    اسلام آباد: پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات بے نتیجہ ختم ہو گئے-

    باغی ٹی وی:میڈیا ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے امیر مقام، ایاز صادق، محسن نقوی اور رانا ثنا اللہ مذاکرات میں شریک ہیں جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے اسد قیصر، شبلی فراز اور بیرسٹر گوہر مذاکرات کر رہے ہیں،یہ مذاکرات منسٹر انکلیو میں جاری ہیں –

    ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی رہنماؤں کو اسلام آباد نہ آنے کی درخواست کی گئی اور مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بیلاروس کے سرمایہ کاروں کے ساتھ کل اسلام آباد میں بزنس کانفرنس ہورہی ہے،پی ٹی آئی کو دھرنے کے لیے پریڈ گراؤنڈ یا پشاور موڑپر جگہ دینے کی پیش کش کی گئی ہے، جس کو پی ٹی آئی نے مسترد کردیا، پی ٹی آئی رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو فوری رہا کیا جائے پھر ہی بات آگے ہوسکتی ہے۔

    ذرائع کے مطابق مذاکرات میں متفقہ طور پر دھرنا پوائنٹ فائنل کیا جائے گا، ممکنہ طور پر پشاور موڑ کو دھرنا پوائنٹ ڈکلیئر کیاجائے گا دھرنا پوائنٹ ڈکلئیر ہونے کے بعد حکومت مظاہرین کی راہ میں رکاوٹیں نہیں کھڑی کرے گی، مظاہرین بھی پشاور موڑ سے آگے ریڈ زون کی جانب پیش قدمی نہیں کریں گے۔

    واضح رہے کہ بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈاپور کی قیادت میں احتجاجی قافلہ اسلام آباد میں داخل ہوچکا ہے،جبکہ تحریک انصاف پر پابندی عائد کرنے کے مطالبے کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دی گئی، قرارداد مسلم لیگ ن کی رکن حنا پرویز بٹ کی جانب سے جمع کروائی گئی-

    قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ یہ ایوان تحریک انصاف کی جانب سے فیڈریشن پر جتھوں کے ساتھ حملہ کرنے کی شدید مذمت کرتا ہے، ایک صوبے کا چیف ایگزیکٹو اور سابق خاتون اول فیڈریشن پر جتھوں کے ساتھ حملہ آور ہو رہے ہیں،شر پسندوں اور بلوائیوں نے پولیس اہلکاروں کو زخمی کیا اور گاڑیوں کو نذرِ آتش کر دیا ہے،ایک مخصوص ٹولے نے سوچی سمجھی سازش کے تحت عوام کے جان و مال کو نقصان پہنچایا ہے، تحریک انصاف کے ایک دن کے احتجاج کے باعث پاکستان کو 190 ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے، تحریک انصاف ایک شدت پسند جماعت ہے اس پر فوری پابندی عائد کی جائے.

  • ّپارا چنار کا واقعہ حکومت اور اداروں کی ناکامی ہے: حافظ نعیم

    ّپارا چنار کا واقعہ حکومت اور اداروں کی ناکامی ہے: حافظ نعیم

    امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پارا چنار کا انتہائی افسوسناک اور سفاکانہ واقعہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی ہے.

    باغی ٹی وی کے مطابق ادارہ نورحق میں جماعت اسلامی کے ٹاؤن چیئر مینوں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامیکا کہنا تھا کہ ملک دشمن قوتیں عوام کے درمیان لسانی اور فرقی وارانہ بنیادوں پر تفریق اور تقسیم پیدا کرکے فساد کرانا اور ملک کو کمزور کرنا چاہتی ہیں، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ مسئلے کا حل نکالنے کے لیے سب کو جمع کر ے، ہمارا مطالبہ ہے کہ پارا چنار کے حوالے سے فوری طور پر گرینڈ جرگہ تشکیل دیا جائے، جماعت اسلامی اس سلسلے میں اپنی خدمات پیش کرنے کے لیے تیار ہے، جس طرح جنوبی اضلاع میں بعض جگہوں پرجماعت اسلامی کے صوبائی امیر و سابق سینیٹر پروفیسر ابراہیم نے آگے بڑھ کر کام کیا ہے اور اس کے نتیجے میں لوگوں کو ریلیف ملا ہے،پاکستان اور افغانستان اپنی پالیسی ری وزٹ کریں اور مل بیٹھ کر مسائل حل کریں تاکہ ان قوتوں کو بھی واضح پیغام جائے جو خطے میں بد امنی چاہتی ہیں، بلوچستان اور کے پی ایک طویل عرصے سے آگ میں جل رہے ہیں، باجوڑ میں جماعت اسلامی کے مقامی جنرل سیکریٹری ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوئے، مسائل طاقت سے نہیں مذاکرات سے حل ہوں گے، حکومت اور اداروں کی ذمہ داری ہے کہ فوج اور عوام کے درمیان دوریاں ختم ہوں۔حکومت جعلی ونٹر پیکیج کے بجائے عوام کو حقیقی معنوں میں بجلی کے بھاری بلوں کے لیے ریلیف دے، آئی پی پیز سے بات چیت اور معاملات تیزی سے حل کیے جائیں، عام کسان کے بجائے بڑے بڑے جاگیرداروں پر ٹیکس لگایا جائے، تنخواہ دار طبقے کا ٹیکس سلیب اور پیٹرولیم لیوی کم کی جائے، 26ویں آئینی ترمیم کو اسلامی ٹچ دینے کے لیے سود سے متعلق ایک دفعہ شامل کر دی گئی ہے،ضروری ہے کہ سود کا مکمل خاتمہ ہو نا چاہیئے اور فوری طور پر سود کی شرح سنگل ڈیجٹ میں لائی جائے، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے مل کر کراچی کا بیڑہ غرق کیا ہوا ہے، پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے پورے بلدیاتی نظام اور اداروں پر قبضہ کیا ہوا ہے، ٹاؤن چیئر مینوں کے پاس کچرا اُٹھانے، پانی اور سیوریج کی لائنیں بچھانے تک کا اختیار نہیں ہے، پیپلز پارٹی نے ضمنی بلدیاتی انتخاب میں ایک بار پھر سندھ حکومت کی مشنری اور الیکشن کمیشن کے ساتھ مل کر بدترین دھاندلی کی اور ہمارے جیتے ہوئے نمائندوں کو ہروا دیا اس کے باوجود جماعت اسلامی کراچی کے عوام کی خدمت اور حقوق کی جنگ جاری رکھے گی.اس موقع پرجنرل سیکرٹری جماعت اسلامی سندھ محمد یوسف،امیرکراچی منعم ظفرخان، نائب امیرکراچی راجہ عارف سلطان،ٹاؤن چیئر مین گلشن اقبال ڈاکٹر فواد، ٹاؤن چیئر مین لیاقت آباد فراز حسیب، ٹاؤن چیئر مین جناح ٹاؤن رضوان عبد السمیع،ماڈل ٹاؤن چیئر مین ظفر احمد خان، ٹاؤن چیئر مین نارتھ ناظم آباد عاطف علی خان، ٹاؤن چیئر مین گلبرگ نصرت اللہ،ڈپٹی پارلیمانی لیڈرسٹی کونسل قاضی صدرالدین، سیکریٹری اطلاعات کراچی زاہد عسکری و دیگر بھی موجود تھے۔حافظ نعیم الرحمن نے جمعہ کی شب اورنگی ٹاؤن میں آفاق خان شاہد پارک میں الخدمت بنو قابل مفت آئی ٹی کورسز کے ایپٹی ٹیوٹ ٹیسٹ میں شرک ہزاروں طلبہ و طالبات سے بھی خطاب کیا۔ امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان، الخدمت کے سی ای او نوید علی بیگ، امیر ضلع غربی اورنگی مدثر حسین انصاری اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جعلی فارم 47کے ذریعے سندھ حکومت نے اندرون سندھ میں بھی بیڑہ غرق کیا ہوا ہے، عوام کو تعلیم،انصاف،صحت کچھ فراہم نہیں، کراچی میں اربوں روپے سے استرکاری کی جاتی ہے اور وہ اگلے دن ہی بہہ جاتی ہے،کراچی میں بائیس قومی اسمبلی کی سیٹوں میں سے پندرہ ایم کیوایم کو دے دیں جس نے کراچی سے ایک پولنگ اسٹیشن بھی نہیں جیتا، کراچی میں پیپلز پارٹی نے انتخابی دہشت گردی مچا رکھی ہے،ضمنی بلدیاتی الیکشن میں بھی بدترین دھاندلی کی، اس طرح عوام کا انتخابات سے اعتماد اُٹھ رہا ہے،جماعت اسلامی کے منتخب بلدیاتی نمائندے اختیارات نہ ہونے کے باوجو د کراچی کی بھرپور خدمت کررہے ہیں، دہشت گردی کو روکنے کے لیے صرف فوجی آپریشن نہیں، بلکہ جمہوری قدروں کو بھی آگے بڑھانا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی کی صورتحال بہت افسوسناک ہے اور حکومت کہتی ہے کہ مہنگائی کی شرح کم ہوگئی ہے، حکومت بتائے کہ کھانے پینے کی کون سی چیز سستی ہوگئی ہے، کیا پٹرول سستا ہوگیا ہی سب کو پتہ ہے کہ مصنوعی طریقے سے چیزوں کو اوپر نیچے کیا جاتا ہے، اگر گیس ٹھیک وقت پر امپورٹ کرلی جائے تو ہمیں بلین ڈالرز کا فائدہ ہوسکتا ہے،انہوں نے مزید کہا کہ پاراچنار طویل عرصے سے بدامنی کا شکار ہے، کرم ایجنسی میں زمین کاچھوٹا سا تنازعہ اس قدر بڑھ گیا ہے کہ بے شمار جانیں اس میں چلی گئیں،اس طرح کے واقعات کو بنیاد بناکر بہت ساری قوتیں ہماری سوسائٹی کو تقسیم کرتی ہیں، کہیں لسانی اور کہیں فرقہ ورانہ بنیادوں پرفساد کرانے کی کوشش کی جاتی ہے،اس میں حکومت کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے، پارا چنار میں دو قافلے آمنے سامنے جارہے تھے، ان کو روک کرباقاعدہ فائرنگ کی گئی ہے اور انتہائی سفاکیت کا مظاہرہ کیاگیا ہے،44افراد کے شہیداور 34 کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے، وہاں جماعت اسلامی کے ذمہ داران نے بتایا ہے کہ اصل مسئلہ شیعہ سنی فساد کا نہیں، بلکہ ان قوتوں کا ہے جو یہ فساد کروانا چاہتی ہیں، اور ملک کو کمزور کرنا چاہتی ہیں،یہ قبائل ہماری سرحدوں کا تحفظ کرنے والے قبائل ہیں، انہوں نے ہمیشہ پاکستان کے لیے ایک قسم کی فوج کا کردار اداکیا ہے، لیکن جب سے پرویزمشرف نے قوم اور پوری فوج کو امریکی جنگ میں پھینکا، لاجسٹک سپورٹ فراہم کی تو ملک میں سی آئی اے گھس گئی اور راء کے ایجنٹ اندر داخل ہوگئے، قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کو امریکہ کے حوالے کردیا گیا، کتنے ہی افغان طالبان جو سفارتکا رکا کردار اداکررہے تھے ان کو پکڑ کر امریکہ کے حوالے کردیا گیا، نفرتوں کے بیج بوئے گئے،پاکستان کواس جنگ میں تقریباًً ڈیڑھ دو ارب ڈالر کانقصان ہواہے، جو امریکہ کے کہنے پر پاکستان پر لڑی گئی ہے، ایک لاکھ کے قریب لوگ شہید ہوچکے ہیں، دو روز قبل بنوں میں فوج کے جوان شہید ہوئے ہیں،افغانستان سے بامعنی مذاکرات کیوں نہیں کیے جارہی افغان حکومت کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ پاکستان نی1978-79سے لے کر آج تک افغانوں کی میزبانی کی، اپنے دل کھول دیے، پاکستان کے عوام افغانستانی عوام کو اپنے سے دور نہیں سمجھتے،افغانستان کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مسئلے کو ٹھیک طریقے سے ہینڈل کرے، پاکستان اور افغانستان کے لوگ بیٹھیں اور وہ قوتیں جو ہمیں لڑواکر اس پورے خطے کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہیں ان کو ناکام بنائیں، اس لیے مسئلہ صرف چند اقدامات کا نہیں ہے بلکہ پوری پالیسی کو ری ویزٹ کرنا ہوگا۔

    سیالکوٹ کے بعد ساہیوال میں ظالم سسرالیوں نے بہو کو زندہ جلا دیا

    آئیڈیاز 2024 میں پہلی بار نادرا کی شرکت

    رینجرز،پولیس کی کارروائی، ڈکیتی میں ملوث 3 ملزما ن گرفتار

  • 18 ماہ میں پی ٹی آئی کے دھرنوں پر سرکارکے  اربوں روپے خرچ ہونے کا انکشاف

    18 ماہ میں پی ٹی آئی کے دھرنوں پر سرکارکے اربوں روپے خرچ ہونے کا انکشاف

    اسلام آباد: 18 ماہ میں تحریک انصاف کے دھرنوں اوراحتجاج سے نمٹنے پرسرکارکے 2ارب 70کروڑ روپے خرچ ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔

    باغی ٹی وی : سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پچھلے چھ ماہ کے دھرنوں اوراحتجاج پرخرچ لگ بھگ ایک ارب20 کروڑآیا،ایک ارب 50 کروڑ روپے کی مالیت کی سرکاری و غیرسرکاری املاک کونقصان پہنچا تحریک انصاف نے پنجاب، خیبرپختونخواہ اوراسلام آباد میں چھوٹے بڑے 120 احتجاج کیے،4سیکورٹی اہلکارشہید،220 سے زائد اہلکارزخمی ہوئے۔

    80 کروڑروپے کرایے پر لیے گئے 3000 کنٹینرزکے مالکان کو ادا کئے گئے،راولپنڈی، اٹک، لاہوراور اسلام آباد احتجاجوں کا مرکز رہے، 30 ہزارسے زائد سیکورٹی اہلکارتعنیات رہے،وفاقی دارالحکومت، لاہور اور راولپنڈی میں 28 کروڑکی قیمت کے سیف سٹی کے370کیمروں کونقصان پہنچا،220 چھوٹی،بڑی پولیس کی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا۔

  • پی ٹی آئی کو بڑا دھچکا،احتجاج کیلئے سرکاری مشینری،افراد،وسائل پر پابندی

    پی ٹی آئی کو بڑا دھچکا،احتجاج کیلئے سرکاری مشینری،افراد،وسائل پر پابندی

    پاکستان تحریک انصاف کو 24 نومبر کو ہونے والے احتجاجی مارچ کے لیے ایک بڑا دھچکا لگا ہے،  وفاقی وزارت داخلہ نے سخت اقدامات کرتے ہوئے سرکاری مشینری، سرکاری افرادی قوت، اور عوامی وسائل کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔

    وزارت داخلہ نے اس حوالے سے چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا کو ایک باضابطہ مراسلہ جاری کیا ہے۔ مراسلے میں واضح طور پر ہدایت دی گئی ہے کہ کسی بھی قسم کے سرکاری وسائل کو احتجاجی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی، احتجاج کے دوران امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت اپنی مشینری، گاڑیاں، اور دیگر وسائل کو لانگ مارچ کے لیے فراہم نہ کریں۔ کسی بھی سرکاری ملازم کو احتجاجی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کو متحرک رہنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بروقت نمٹا جا سکے۔

    تحریک انصاف اپنے احتجاجی مظاہروں کے لیے خیبرپختونخوا اور دیگر علاقوں سے کارکنوں کی بڑی تعداد کو متحرک کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے، اس حکومتی اقدام کے بعد مشکلات کا شکار ہو سکتی ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ماضی کی طرح اب بھی سرکاری وسائل کا استعمال کرتے ہوئے اسلام آباد پر لشکر کشی کا ارادہ رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وفاقی وزارت داخلہ نے خیبر پختونخوا حکومت کو خط لکھا ہے،اب سوال یہ ہے کہ کیا تحریک انصاف اس پابندی کے باوجود اپنے احتجاج کو کامیاب بنا سکے گی؟ یا حکومت کے اقدامات اسے کمزور کر دیں گے؟ آنے والے دنوں میں صورتحال واضح ہو جائے گی۔

    پی ٹی آئی احتجاج، انٹرنیٹ،موبائل سروس بند کرنے کا فیصلہ

    پولیس چھاپے کے دوران چھت سے گرنے والے پی ٹی آئی کارکن کی موت

    احتجاج کی کال،پی ٹی آئی کی گرفتاریوں کی حقیقت فرمائشی گرفتاری نے کی بے نقاب

    دہشتگردی کی نئی لہر،ذمہ دار کون؟فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت

    ضمانت تو مل گئی پر عمران کی رہائی کا دور دور تک امکان نہیں

  • وفاقی حکومت سے مذاکرات،بلاول نے کمیٹی تشکیل دے دی

    وفاقی حکومت سے مذاکرات،بلاول نے کمیٹی تشکیل دے دی

    پیپلزپارٹی نے وفاقی حکومت سے بات چیت کےلیے کمیٹی تشکیل دے دی
    مذاکراتی کمیٹی چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے تشکیل دی، پیپلز پارٹی کی جانب سے بنائی گئی مذاکراتی کمیٹی میں راجہ پرویز اشرف، نوید قمر، شیری رحمان اورمخدوم احمد محمود شامل ہیں،وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی، گورنر پنجاب اور فیصل کریم کنڈی بھی کمیٹی کا حصہ ہیں، ترجمان بلاول زرداری کے مطابق کمیٹی وفاقی حکومت کے ساتھ معاملات اٹھائے گی،کمیٹی رپورٹ اگلے ماہ سینٹرل ایکزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں پیش کرے گی

    واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے تحفظات دور کرنے کی ہدایت کی تھی اس ضمن میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو ٹاسک دیا گیا تھا

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھاکہ وفاق میں نہ عزت دی جاتی ہے، نہ سیاست کی جاتی ہے، نہ معاہدے پر عمل ہورہا ہے، وہ 26 ویں ترمیم میں مصروف تھے اور حکومت نے پیچھے کینالز کی منظوری دے دی، وفاقی حکومت نے آئین سازی کے وقت برابری کی باتیں کیں، لیکن آئین سازی کے وقت حکومت اپنی باتوں سے پیچھے ہٹ گئی، دیہی سندھ سے ججز ہوتے تو برا بری کی بات کرتا، جوڈیشل کمیشن میں ہوتا تو آئینی بینچ میں فرق پر بات کرتا، میں جوڈیشل کمیشن سے احتجاجاً الگ ہوا۔

  • بلاول حکومت سے ناراض،ساتھ چلیں گے یا نہیں فیصلہ کریگی سنٹرل ایگویکٹو کمیٹی

    بلاول حکومت سے ناراض،ساتھ چلیں گے یا نہیں فیصلہ کریگی سنٹرل ایگویکٹو کمیٹی

    پیپلز پارٹی حکومت سے ناراض ہو گئی،بلاول بھٹو نے بطور احتجاج گزشتہ ہفتے جوڈیشل کمیشن سے اپنا نام واپس لیا،

    ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو زرداری کا کہناہے کہ حکومت نے جوڈیشل کمیٹی میں مسلم لیگ ن اور پی پی پی کی مساوی نمائندگی کے وعدے کو پورا نہیں کیا، حکومت کے ساتھ پی پی پی کے مستقبل کا فیصلہ اب پاکستان پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کرے گی،ذرائع کےمطابق بلاول بھٹو وطن واپسی پر سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس بلائیں گے جس میں اہم فیصلے ہوں گے، بلاول زرداری ان دنوں دبئی ہے، صدر مملکت آصف زرداری بھی دبئی گئے تو انکےپاؤں پر چوٹ آئی، صدر مملکت اور بلاول زرداری دونوں دبئی میں ہیں، بلاول کی پاکستان واپسی پر پیپلز پارٹی سی ای ای کا اجلاس ہو گا جس میں اہم فیصلے ہوں گے.

    سروسز چیفس کی مدت،پریکٹس اینڈ پروسیجر سمیت اہم بلز کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری

    قومی سلامتی ،عدالتی نظام میں بہتری کیلئے حکومت کے شانداراصلاحاتی فیصلے

    آرمی ایکٹ بل، مختلف ممالک میں سروسز چیفس کی مدت ملازمت کا دورانیہ

    سروسز چیف کی مدت ملازمت تین سے پانچ سال بڑھانے کا خوش آئند فیصلہ

  • حکومت میں جاؤں گا یا نہیں؟ مولانا فضل الرحمان نے اعلان کر دیا

    حکومت میں جاؤں گا یا نہیں؟ مولانا فضل الرحمان نے اعلان کر دیا

    جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ 27ویں ترمیم نہیں آئے گی، بھرپور مزاحمت کریں گے، اپوزیشن میں ہوں،حکومت میں جانے کا کوئی ارادہ نہیں،

    مولانا فضل الرحمان سالانہ ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کے لیے چناب نگر پہنچ گئے ہیں، اس دوران میڈیا سے مختصر بات چیت کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ گنڈاپور کے پنجاب پر چڑھائی کی باتیں درست نہیں،یہ غیر سیاسی لوگ ہیں،ہم نے مارچ کیے تو ایک گملا بھی نہیں ٹوٹا، عام انتخابات دوبارہ ہونے چاہیے،ملک میں سیاسی استحکام بہت ضروری ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اچھا وقت گزارا،26 ویں آئینی ترمیم کا اصل ڈرافٹ کچھ اور فائنل جو ہوا فرق تھا ،مختلف ناموں سے تنظیمیں بنتی ہیں اور سب کہتے کہ یہ میری ہے،یہ میری ہے یہ کونسا طریقہ ہے،تنظیموں میں تشدد نہیں، ہر تنظیم کو میرا کہنا یہ ہرجائیت ہے یکجائیت نہیں، اضطراب کے سوا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا، ایک جماعت کا تصور ہی اہم ہے، لازم ہے کہ جماعت سے وابستہ رہو،جماعت کی اطاعت عقیدے،نظریئے کی بنیاد پر ہے، جماعت کے فیصلوں کی پیروی کرو، اختلاف ہو تو بھی جماعتی فیصلہ پر عمل لازم ہے،تبھی جماعتی زندگی منظم ہو سکتی ہے

    جسٹس منصور علی شاہ کا چیف جسٹس کو خط،مخصوص بنچ میں بیٹھنے سے معذرت

    رجسٹرار آفس کو آئینی بنچ کے حوالے سے پالیسی دے دی ہے،نامزد چیف جسٹس

    پی ٹی آئی کو جسٹس یحییٰ آفریدی کی تقرری پر نہیں، آئینی ترامیم پر تحفظات ہے: شعیب شاہین

    سپریم کورٹ،برطرف ملازمین بحالی کی درخواست آئینی بینچز کو بھیج دی گئی

    40 فیصد مقدمات آئینی بنچوں کو منتقل کئے جائیں گے

    ٹک ٹاکر مناہل ملک کی انتہائی نازیبا،جسمانی تعلق،بوس و کنارکی ویڈیو وائرل

    پانچویں کلاس کی طالبہ کے ساتھ اجتماعی زیادتی،بنائی گئی نازیبا ویڈیو

    بچوں کی دینی تعلیم کے نام پر نازیبا ویڈیو بنانے والا گرفتار ، 497 ویڈیوز برآمد

    خواتین اداکاروں کی کپڑے بدلنے کے دوران نازیبا ویڈیو بنائے جانے کا انکشاف

  • ادائیگی کے طریقہ کار میں تبدیلی : حکومت نے آئندہ ہفتے 18 آئی پی پیز  کو طلب کرلیا

    ادائیگی کے طریقہ کار میں تبدیلی : حکومت نے آئندہ ہفتے 18 آئی پی پیز کو طلب کرلیا

    اسلام آباد: حکومت پاور جنریشن پالیسیز 1994 اور 2002 کے تحت قائم 18 انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے اعلیٰ حکام کو اگلے ہفتے طلب کرنا شروع کر دے گی-

    باغی ٹی وی: بزنس ریکارڈر نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ توقع ہے حکومت پاور جنریشن پالیسیز 1994 اور 2002 کے تحت قائم 18 انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے اعلیٰ حکام کو اگلے ہفتے طلب کرنا شروع کر دے گی تاکہ ان کے پلانٹس کو ”ٹیک یا پے“ سے ”ٹیک اینڈ پے“ موڈ میں تبدیل کرنے کا آپشن پیش کیا جاسکے۔

    بزنس ریکارڈر کے مطابق حکومت نے پانچ آئی پی پیز کے پاور پرچیز ایگریمنٹ (پی پی اے) ختم کرکے 411 ارب روپے کی بچت کا دعویٰ کیا ہے کابینہ نے 10 اکتوبر 2024 کو پی پی اے کے خاتمے اور حتمی تصفیے کے معاہدے کی منظوری دی تھی لیکن حتمی دستاویزات پر ابھی تک دستخط نہیں ہوئے ہیں۔

    وہ آئی پی پیز (انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز) جنہیں ”ٹیک اینڈ پے“ موڈ میں تبدیل کیا جانا ہے، وہ ممکنہ مالیاتی اثرات سے متعلق اپنی اندرونی تیاری مکمل کر چکے ہیں اور اس پوزیشن کو حتمی شکل دے رہے ہیں جو وہ وزیر برائے توانائی کی سربراہی میں قائم ٹاسک فورس کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران اختیار کریں گے۔ لیکن حقیقت میں کچھ دیگر کلیدی افراد معاملات کو کنٹرول کر رہے ہیں۔

    کچھ آئی پی پیز (انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز) کے پاور پرچیز ایگریمنٹس (پی پی ایز) کی میعاد، جنہیں ’باہمی اور باعزت مشاورت‘ کے بعد ”ٹیک اینڈ پے“ موڈ میں منتقل کرنے کا ہدف ہے، 15 سال سے زیادہ باقی ہے۔

    بزنس ریکارڈر کے مطابق مختلف پلانٹس کے ساتھ مذاکرات کے مالی اثرات 3 سے 3.50 روپے فی یونٹ ہوں گے، ری پروفائلنگ کا اثر 3.75 روپے فی یونٹ ہوگا، الیکٹریسٹی ڈیوٹی سے چھوٹ یعنی صوبائی لیوی 0.65 روپے فی یونٹ، پی ٹی وی فری 0.16 روپے فی یونٹ اور سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس میں کمی سے ٹیرف میں 8 سے 10 روپے فی یونٹ قلیل مدتی ریلیف ملے گا۔

    وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کے مطابق ریٹرن آن ایکویٹی (آر او ای) میں کمی اور حکومت کے اپنے پاور پلانٹس کے منافع میں کمی کا اثر ڈیڑھ روپے فی یونٹ تک ہوگا۔

    2002ء کی پالیسی کے تحت قائم آئی پی پیز اور ان کے پی پی اے کی میعاد ختم ہونے کی تاریخوں کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

    (1) اینگرو پاورجن 215.516 میگاواٹ، بقیہ مدت 10.6 سال

    (2) فاؤنڈیشن پاور کمپنی ڈہرکی لمیٹڈ، 173.772 میگاواٹ، بقیہ مدت 11.8 سال

    (3) اوچ ٹو پاور (پرائیوٹ) لمیٹڈ 359.34 میگاواٹ، بقیہ مدت 14.7 سال

    (4) ہالمور پاور جنریشن کمپنی لمیٹڈ 200.021 میگاواٹ، بقیہ مدت 17.6 سال

    (5) اورینٹ پاور کمپنی (پرائیویٹ لمیٹڈ) 208.453 میگاواٹ، بقیہ مدت 16.4 سال

    (6) سیف پاور لمیٹڈ، 204.369 میگاواٹ، بقیہ مدت 15.8 سال

    (7) سفیر الیکٹرک کمپنی لمیٹڈ، 206.48 میگاواٹ، بقیہ مدت 16.3 سال

    (8) لبرٹی پاور ٹیک لمیٹڈ 196. 139 میگاواٹ، باقی 9.6 میگاواٹ سال

    (9) حبکو نارووال انرجی لمیٹڈ 213.82 میگاواٹ، بقیہ مدت 11.9 میگاواٹ

    (10) اٹک جین لمیٹڈ 156.181 میگاواٹ، بقیہ مدت 9.6 سال

    (11) نشاط چونیاں پاور لمیٹڈ، 196.722 میگاواٹ، بقیہ مدت، 11.2 سال

    (12) نشاط پاور لمیٹڈ 195.305 میگاواٹ، 11 سال

    (13) نیو بونگ لاریب ہائیڈرو 84 میگاواٹ ریمنگ ٹرم 14 سال

    (14) اوچ ٹو پاور 404 میگاواٹ، بقیہ مدت 6 سال

    (15) فوجی کبیر والا 170 میگاواٹ، باقی 6 سال

    (16) کوہ نور انرجی، 124 میگاواٹ، بقیہ مدت 3 سال

    (17) پاکجن پاور 365 میگاواٹ، بقیہ مدت 4 سال

    (18) اور لبرٹی ڈہرکی پاور 235 میگاواٹ، بقیہ مدت 2 سال ہے

    پاور جنریشن پالیسی 2002 کے تحت قائم ہونے والے آئی پی پیز کے معاہدوں پر ڈیڑھ روپے فی یونٹ کا اثر پڑے گا۔

    10 اکتوبر 2024 کو وزیر اعظم شہباز شریف نے پانچ آئی پی پیز معاہدوں کو ختم کرنے کی منظوری دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ پوری حکومتی ٹیم کی سخت اجتماعی کاوشوں کا نتیجہ ہےانہوں نے اس سلسلے میں اتحادی جماعتوں کی حمایت کو بھی تسلیم کیا اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا ذکر کیا جنہوں نے اس پورے معاملے میں ذاتی دلچسپی لی، وزیر اعظم نے ترقی کو ایک سفر کا آغاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ترقی عوام کی ترقی اور خوشحالی میں تبدیل ہوگی۔

  • سپریم کورٹ کا ڈیم فنڈ اکاؤنٹ بند کرنے کا حکم

    سپریم کورٹ کا ڈیم فنڈ اکاؤنٹ بند کرنے کا حکم

    سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے اپنے دیامر بھاشا اور مہمند ڈیمز فنڈ اکائونٹ بند کرنے کا حکم دیتے ہوئے تمام رقم حکومت کو منتقل کرنے کا حکم دے دیا

    سپریم کورٹ نے ڈیمز فنڈ کیلئے قائم اپنا ہی اکائونٹ بند کرنے کی ہدایت کر دی ،سپریم کورٹ نے ڈیمز فنڈ کی منتقلی کیلئے حکومت کے پبلک اکائونٹ کا ذیلی اکائونٹ کھولنے کی ہدایت کردی،سپریم کورٹ نے حکمنامہ میں کہا کہ حکومت ایسے اقدامات کرے کہ نجی بنکوں سے ڈیمز فنڈ کی رقم پر مارک اپ لیا جا سکے، ڈیمز کی تعمیر کیلئے جب بھی رقم درکار ہو متعلقہ اکائونٹ سے استعمال کی جا سکتی ہے،ڈیمز فنڈ کیس میں دائر تمام درخواستیں نمٹائی جاتی ہیں،واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے حکم دیا تھا کہ ڈیمز فنڈ میں موجود رقم لارجر بنچ کے حکم کے بغیر نہیں نکالی جا سکتی.

    گزشتہ سماعت پر ،دوران سماعت ایڈیشل اٹارنی آڈیٹر جنرل نے بتایا کہ سپریم کورٹ ڈیمز فنڈز کی رقم اپنے پاس نہیں رکھ سکتی، سپریم کورٹ کے حکم نامے کے تحت وزیراعظم چیف جسٹس ڈیمز فنڈز اکاؤنٹ کھولا گیا، رجسٹرار سپریم کورٹ اکاؤنٹ کی دیکھ بھال کرتا تھا، تحقیقات سے علم ہوا کہ ڈیمز فنڈز اور مارک اپ میں بے قاعدگی نہیں ہوئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا اکاؤنٹ کا عنوان نامناسب ہے، ہمیشہ پریکٹس رہی آئین و قانون کے بجائے عدالتی فیصلوں کو فوقیت نہیں دینی چاہیے .

    واضح رہے کہ جولائی 2018 میں اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے ملک بھر میں پانی کی قلت پر از خود نوٹس لیتے ہوئے مختلف ڈیمز کی تعمیر کے لیے ڈیم فنڈز کے قیام کا اعلان کیا، اس ضمن میں انہوں نے چیف جسٹس اور پرائم منسٹر ڈیم فنڈ کے نام سے ایک بینک اکاؤنٹ بھی بنایا تھا، جس میں پاکستان سمیت دنیا بھرسے پاکستانیوں نے عطیات جمع کرائے تھے۔

    ایک نمبر کا بدمعاش اور تلنگا ڈاکٹر ریاض،دہشتگردوں سے تعلق،ایجنسیوں پر الزام

    پی آئی اے کا جنازہ ہے،ذرا دھوم سے نکلے،مرحوم کیلیے بہت دعائیں

    ثابت ہو گیا حسنہ واجد بھارت کی "کٹھ پتلی” تھی.مبشر لقمان

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    فیض حمید جیو نیوز کو بند کرنا چاہتے تھے،پی ٹی آئی ٹوٹ پھوٹ کا شکار،اگلا چیئرمین کون

    ماہ رنگ بلوچ کون،دو نمبر انقلاب اور بھیانک چہرہ

    پاکستان کی بدترین شکست،ڈریسنگ روم میں لڑائی،محسن نقوی ناکام ترین چیئرمین

    جنرل عاصم منیرنے ڈنڈا اٹھا لیا، فیض حمید گواہ،اب باری خان کی