Baaghi TV

Tag: حکومت

  • حکومت نے آتے ہی 1100 ارب روپے کے کیسز ختم کروائے،عمران خان

    حکومت نے آتے ہی 1100 ارب روپے کے کیسز ختم کروائے،عمران خان

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جن کے پاس طاقت تھی وہ کرپشن کو بُری چیز نہیں سمجھتے تھے، کون سی طاقت تھی اس ملک میں جو کرپٹ لوگوں کو سزا دینے سے روکتی تھی۔ضمنی الیکشن کے حوالے سے لودھراں میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی چیئر مین نے کہا کہ ملک پر دو ڈاکو آئے ہیں، ایک زرداری اور دوسرا شریف خاندان ہے، کراچی میں زیادہ بارش ہوئی ہے، قوم کی توجہ کراچی پر دینے لگا ہوں، کراچی پاکستان کا معاشی دارالحکومت ہے، 14 سال سے ڈاکو کراچی میں بیٹھا ہوا ہے، شہر کھنڈر بن گیا ہے، عثمان بزدار نے لاہور میں زیر زمین ٹینک بنائے، بارش کا پانی کھڑا نہیں ہوتا۔ زرداری اور مراد علی شاہ کے خلاف مقدمات تیار تھے، سندھ کا پیسہ چوری ہو کر دبئی جاتا ہے، انہوں نے کبھی نہیں سوچا، کراچی میں بارش کے پانی کے لیے کچھ کرنا ہے۔ جب تک زرداری ڈاکو سندھ پر قابض ہے صوبہ ترقی نہیں کر سکتا۔

    عوام کے تحفظ اور مدد کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے،وزیر اعظم

    انہوں نے کہا کہ ارسطو احسن اقبال کہتا ہے کرپشن ہوتی ہے، حق اور سچ کے ساتھ کھڑے ہونا چاہیے، جن کے پاس طاقت تھی وہ چوری کو اتنا برا نہیں سمجھتے تھے، کبھی وہ معاشرہ اوپر نہیں جا سکتا جو برائی کے ساتھ ہو، کون سی طاقت تھی جو آصف زرداری کو سزا دلوانے میں روکتی تھی، جاوید لطیف کہتا ہے اسمبلی کے ذریعے نواز شریف کے مقدمات ختم کر دو، اچھائی کے ساتھ یا برائی کے ساتھ، نیوٹرل آپ نہیں رہ سکتے، لودھراں والو! یہ الیکشن نہیں جہاد ہے، امریکی سازش سے ہم پر چور مسلط کیے گئے ہیں۔

    سابق وزیراعظم نے کہا کہ میرے خلاف مہنگائی پر مہم چلائی گئی، مہنگائی پر سارا وقت مہم چلانے والوں نے آتے ساتھ ہی اپنے کرپشن کے کیسز ختم کیے۔ موجودہ حکومت نے آتے ہی 1100 ارب روپے کے کیسز ختم کروائے، اس سے بڑا ڈاکا پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں پڑا، نیب قوانین ترمیم کر کے اپنے مقدمات ختم کروا دیئے گئے، احسن اقبال برگر کھانے گیا تو چور چور کے نعرے لگائے، ارسطو کہتا ہے عمران خان نے لوگو کو بدتمیزی سکھا دی، جھوٹے ارسطو ! یہ بدتمیزی نہیں حقیقت ہے تم چور ہو، امریکا کے ساتھ مل کر ہماری حکومت گرائی۔

    پٹرول کی قیمت جلد کم ہوگی: وزیراعظم شہباز شریف

     

    عمران خان نے کہا کہ دو ماہ میں ملک میں مہنگائی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، حمزہ ککڑی نے انڈوں کی قیمت میں 36 فیصد اضافہ کر دیا کیونکہ ان کا کاروبار مرغی اور انڈہ کا کاروبار ہے۔ شہباز شریف کا کمال ہے گورے کو دیکھتا ہے تو اس کے پاؤں میں گر جاتا ہے، شہباز شریف گورے سفیر کو دیکھ کر اس کے منہ میں کیک ڈالنا شروع کر دیتے ہیں، مریم بی بی کہتی ہے میری لندن تو کیا پاکستان میں بھی جائیداد نہیں، نوجوانوں سے کہتا ہوں الیکشن میں لوٹوں کو ہرانا، 17 جولائی کو حقیقی آزادی کی جنگ ہے، میں کسی کے سامنے جھکا ہوں نہ آپ کو کسی کے سامنے جھکنے دوں گا، یہ لوگ پیسے بانٹ رہے ہیں، چوروں سے پیسے لے لو اور ووٹ بلے کوڈالنا، الیکشن کمیشن کو ساتھ ملا کر الیکشن چوری کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، چیف الیکشن کمشنر حمزہ اور مریم کے قدموں میں بیٹھا ہوا ہے، مسٹر ایکس کوسب جانتے ہیں۔ لاہور میں مسٹر ایکس بیٹھا ہوا ہے وہ کون ہے؟ دھاندلی کی کوشش کے باوجود ان کو پھینٹا لگانا اورہرانا ہے، ضمنی الیکشن میں لوٹوں کو شکست دینی ہے، الیکشن کے دوران نوجوانوں گھر گھر جا کر عوام کو بتانا ہے کہ یہ جہاد ہے۔

    انہوں نے کہا کہ قوم کا حال سری لنکا والا ہونے جا رہا ہے۔ امپورٹڈ حکومت نے آتے ہی بجلی 35 روپے فی یونٹ کر دی، چیری بلاسم کہتاہے میں بھیک تو نہیں آیا، شہباز شریف اسکا بھائی اور زرداری تم بے شرم ہو، بے شرمو! تم ایک عظیم ملک کے گیدڑ لیڈر ہو، قائداعظم ایک آزاد اور خوددار انسان تھے، یہ دو خاندان ارب کھرب پتی بن گئے، ملک مقروض ہو گیا۔ مرغی ہمارے دور میں300روپے تھی اب 600 پر پہنچ گئی، انہوں نے گیس45فیصد بڑھائی ہے، انہوں نے ڈیزل کی قیمت 130روپے بڑھا دی، گھی 22فیصد، پٹرول 100 روپیہ لیٹر بڑھایا ہے۔

  • پاکستان کرکٹ بورڈ اور حکومت پنجاب کے درمیان معاہدہ،پاکستان ہاکی ٹیم کا کیمپ جاری

    پاکستان کرکٹ بورڈ اور حکومت پنجاب کے درمیان معاہدہ،پاکستان ہاکی ٹیم کا کیمپ جاری

    پاکستان کرکٹ بورڈ اور حکومت پنجاب کے درمیان معاہدہ
    معاہدے کے تحت پنجاب کے 15 کرکٹ گراؤنڈز کے انتظامی امور پی سی بی سنبھالے گا،معاہدے سے صوبہ پنجاب میں گراس روٹ کرکٹ کو فروغ ملے گا، پی سی بی کا کہنا ہے کہ حکومت پنجاب کے تعاون پر ان کے شکرگزار ہیں، پی سی بی لوکل گورنمنٹ کے تعاون سے ملک بھر میں کرکٹ کے فروغ کے لئے پرعزم ہے.

    پاکستان ویسٹ انڈیز سیریز کا کامیاب انعقاد پی سی بی اور حکومت پنجاب کے مضبوط تعلقات کی تازہ مثال ہے
    ایڈیشنل چیف سیکرٹری عبداللہ سنبل سینٹرل پنجاب کرکٹ ایسوسی ایشن کے فرسٹ بورڈ کے سربراہ بھی ہیں
    سینٹرل پنجاب کرکٹ ایسوسی ایشن اب تک پنجاب میں کلب کرکٹ کی سطح پر متعدد سرگرمیوں کا انعقاد کرچکا ہے.

    دوسری طرف پاکستان ہاکی ٹیم کے ہیڈ کوچ سیگفرائیڈ ایکمین نیشنل ہاکی سٹیڈیم لاہور میں جاری کیمپ میں شرکت کیلئے لاہور پہنچ گئے.قومی ہاکی ٹیم کے ہیڈ کوچ سیگفرائیڈ ایکمین کی زیر نگرانی نیشنل ہاکی سٹیڈیم لاہور میں کیمپ جاری ہے اس موقع پر گول کیپر، کوچ باب ویلڈیف, فزیکل انسٹرکٹر ڈینیئر بیری ,کوچ اولمپیئن سمیر حسین کے علاوہ دیگر آفیشلز و کھلاڑیوں نے بھی کیمپ میں حصہ لیا.

    وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف نے نیشنل ہاکی سٹیڈیم میں کمشنر لاہور انڈر 13 ہاکی لیگ 2022 کا افتتاح کیا۔زیر اعلی نے ہاکی سے گیند کو شارٹ لگا کر ٹورنامنٹ کا باقاعدہ آغاز کیا اور ہاکی لیگ کی ٹرافی کی رونمائی کی۔ وزیراعلی حمزہ شہباز نے ٹورنامنٹ میں حصہ لینے والے تمام کھلاڑیوں کو مبارکباد دی اور کہا کہ کمشنر لاہور انڈر 13 ہاکی لیگ کے ٹرائل میں 1100 کھلاڑیوں نے شرکت کی اور 180 کھلاڑی میرٹ پر منتخب ہوئے۔امید ہے کہ اس ینگ ٹیلنٹ ہی میں سے کھلاڑی قومی ہاکی ٹیم کا حصہ بنیں گے اور ملک و قوم کا نام روشن کریں گے۔انہوں نے کہا کہ انڈر 13 ہاکی لیگ کی ٹیلنٹ ہنٹ سکیم کو پنجاب سپورٹس بورڈ کے سالانہ کیلنڈر میں شامل کر دیا گیا ہے اور ہر سال منعقد ہونے والے اس ہاکی لیگ کا یہ سلسلہ پورے پنجاب تک وسیع کیا جائے گا۔

  • حکومتی نمائیندوں کی عدم شرکت،پنجاب اسمبلی کی بزنس ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس نہیں ہو سکا

    حکومتی نمائیندوں کی عدم شرکت،پنجاب اسمبلی کی بزنس ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس نہیں ہو سکا

    پنجاب اسمبلی کی بزنس ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس نہیں ہو سکا، حکومتی نمائندے اجلاس میں شرکت کے لیے نہیں پہنچے۔اجلاس میں وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے ضابطہ اخلاق طے ہونا تھا، حکومت اور اپوزیشن کی بزنس ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس آج طلب کیا گیا تھا۔اجلاس اسپیکر پرویز الہٰی کی زیر صدارت پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ میں بلایا گیا تھا۔
    فواد چودھری نے پنجاب کی سیاسی صورتحال پر سپریم کورٹ کو خط لکھ دیا

    ذرائع کے مطابق بزنس ایڈوائرری کمیٹی اجلاس میں ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔صوبائی وزرا ملک احمد خان، اویس لغاری اور حسن مرتضیٰ کو اجلاس میں بلایا گیا تھا۔

    دوسری طرف پنجاب اسمبلی کااجلاس ایک گھنٹہ اکتیس منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا.پنجاب اسمبلی اجلاس کی صدارت سپیکر چوہدری پرویز الہی نے کی.ایوان میں اپوزیشن کے چالیس ارکان اسمبلی موجود تھے.سپیکر نے محکمہ آبپاشی کے سوالات ، تحاریک التوائے کار کو حکومت نہ ہونے پرملتوی کر دیا،

     

    ضمنی انتخابات مہم، قریشی کے سامنے حلقے میں "جعلی پیر” کے نعرے لگ گئے

     

    ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس نے کہاکہ حمزہ شہبازجمہوریت کا علمبردار ہیں اور غیر قانونی کام نہیں کریں گے، چیف جسٹس نے کہاکہ اگر درست جواب دینا ہوگا تو کوئی پری پول ریگینگ نہیں کریں گے، فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ وحشیانہ انداز اور بے ڈھنگے انداز سے آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری کو استعمال کیا، حمزہ شہباز نے سات جون کو چھ سیکرٹری کے تبادلے کئے، جب الیکشن شیڈول ہوجائے تو کوئی پوسٹنگ ٹرانسفر نہیں ہو سکتی، سپریم کورٹ سے مطالبہ کروں گا کہ حمزہ شہباز سپریم کورٹ کے وعدوں کی دھجیاں اڑا رہے ہیں، حمزہ شہباز نے راجہ ایندر بن کر غیر قانونی کام کئے،کوئی وزیر اعلی کیبنٹ سے اپروول نہ لے تو کوئی کام نہیں کر سکتا، کل حمزہ شہباز نے پری پول ریگینگ کا ڈرامہ کیا ہے، تیس فیصد عوام کو سو یونٹ کو بل آ گئے تو عہد کریں گے اس ہال میں حمزہ شہباز کو بولنے نہیں دیں گے اس پر عمل درآمد کرنا ہوگا.

    فیاض الحسن چوہان کا ہنا تھا کہ بدمعاشی غنڈہ گردی دھاندلئ عروج پر ہے پارلیمانی روایات کی بات کرتے ہیں ایڈوائزری کمیٹی میں نہیں آئے،سپریم کورٹ نے واضح کہا سپیکر اپنی ذمہ داریاں ادا کریں گے ایڈوائزری کمیٹی میں حکومت کا نہ آنا توہین عدالت ہے، مہر شرافت کارکن کو گرفتار کیا ضمانت کروا ئی ہی تھی کہ دوبارہ گرفتار کروا دیا، حمزہ شہباز کی زیر قیادت بیس ہزار بیلٹ پیپر اپنے امیدواروں کو دینےکا فیصلہ کیاہے اب الیکشن کمیشن کہاں ہے؟، الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کررہا سپریم کورٹ سے مطالبہ کرتاہوں بیس ضمنی الیکشن پر کردار کررہاہے یا نہیں.

    چودھری سمیع اللہ نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی ایم بنارسی ٹھگوں کا گروہ ہے،واپڈا پنجاب کے اختیارات میں نہیں آتا،یہ انتخابی الیکشن کمیشن اصولوں و ضابطہ اخلاق کئ خلاف ورزی کررہے ہیں، سو یونٹ والا ڈرامہ ہے ریڈنگ چالیس دن پر ہے جائیں گے تو کسی کا بھی سو یونٹ نہیں ہوگا،لوگوں کو سو یونٹ پر بے وقوف بنا رہی ہے، حکومت نےسپریم کورٹ میں جو حلف دیا اس کی مسلسل خلاف ورزی کررہی ہے، لوٹوں کےلئے فنڈز کے خزانے کھول دئیے ہیں،ہمیں سب کو ٹوکن احتجاج سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کرنا چاہیے کہ حکومت مسلسل خلاف ورزی کررہی ہے.

    راجہ بشارت نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بائیس تاریخ تک حمزہ شہباز کو وزیر اعلی تسلیم کیا ہے،جس شخص کو ہم نے بائیس تاریخ تک وزیر اعلی تسلیم کیا وہ سپریم کورٹ احکامات کے تحت فرائض سرانجام دے رہا ہے یا نہیں،ہائوس کی کارروائی کو حکومت نے چلانا ہے، سوالوں کے جوابات حکومت نے دینے ہیں جو ذمہ داری سے انحراف کر رہی ہے جو سپریم کورٹ احکامات کے خلاف ہے، ایڈوائزری کمیٹی میں نہ آکر سپریم کورٹ کے نوٹس میں فیصلہ لائیں، وکلاء کے ذریعے ایک درخواست سپریم کورٹ میں دیں گے،حکومت اپنے فرائض سرانجام دینے میں ناکام رہے ہیں ان کی حیثیت قابل سوال تھی، سپریم کورٹ نے اسمبلی دو اجلاس پر اچھے الفاظ استعمال نہیں کئے، حمزہ شہباز بطور وزیر اعلی فرائض سرانجام دینے میں ناکام رہا ہےجس کی پرزور مذمت کرتے ہیں.

    سپیکرپنجاب اسمبلی نے کہا کہ لوکل الیکشن کمیشن کو پٹیشن بھیجتے رہیں تاکہ الیکشن میں دھاندلی سے حکومت کو روکا جائے، سپریم کورٹ کو بتایا جائے کہ حکومت الیکشن کمیشن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہے ہیں.

    نوابزادہ منصور علی خان نے کہا کہ چئیرمین ارسا جسے حال میں تعینات کیا ہیڈ تونسہ اور ہیڈ پنجند کے کوٹے کو جولائی سے ختم کر دیا ہے،کپاس گنے چاول سمیت بہت سے فصلیں پانی نہ ہونے سے پیدا ہی نہیں ہوں گی، ارسا نے نو اعشاریہ سات فیصد پانی جنوبی پنجاب کو نہیں دیا جس کی مذمت کرتے ہیں.

    سعدیہ سہیل رانا کا ایوان میں کہنا تھا کہ پولیس والے پی ٹی آئی کے ورکرز کی کارنر میٹنگ میں گھس جاتے ہیں موبائل سے ویڈیو بناتے ہیں،کارکن جو لوٹے ہوئے اگر وہ لوگ کام کررہے ہیں انہیں پولیس اسٹیشن کیں ایس ایچ او بلاکر کہتا ہے تمہیں زیادہ الیکشن کا شوق ہے، پولیس میرے بیٹے کو رات تین بجے تک تھانے میں بٹھاکر رکھا ہے، جس جگہ پر پی ٹی آئی ورکرز رہتے ہیں وہاں کی سڑک اکھاڑ دیتے ہیں، ہمیں الیکشن کیمپین اور حراساں کرنے پر موثر آواز اٹھانے کی ضرورت ہے.

    ڈاکٹر اختر علی ملک نے کہا کہ پہلی بار ہوا حکومت ایوان سے بھاگ گئی، باتیں جمہوریت کی کرتے ہیں ایسی کوئی بات نہیں، انکی چور راستوں کی تاریخ ہے چور راستے سے اب پاکستان اور پنجاب کو مقبوضہ بنادیا ہے، فیکٹریاں بند ہو گئیں کمر توڑ مہنگائی سے عوام خود کشیاں کررہے ہیں، جس طرح بجلی بلوں یوٹیلیٹی اشیائ پرائسز ڈیزل پیٹرول بم گرائے غریب عوام تاریخ کی بدترین وقت سے گزر رہے ہیں، کون کس کس سے ملا ہوا ہے بادہشات کانظام قائم ہے اداروں کا کردار ختم ہو چکا ہے، غریبوں کی مہنگائی اور ضمنی الیکشن پر دھاندلی غنڈہ گردی پر احتجاج کرنا چاہئیے، میرے حلقے کا موضعہ توڑ دیا گیا ہے ایسے لگتا ہے پتھروں کے زمانے میں رہتے ہیں، مہنگائی کے خلاف مہم شروع کرنی اور قرارداد پیش کرنی چاہئیے،

    راجہ بشارت نے الیکشن میں دھاندلی اور سپریم کورٹ کے واضح احکامات کی خلاف ورزی پر قرارداد پیش کر دی، اپوزیشن نے متفقہ طورپر قرارداد منظور کرلی، قرارداد کت متن میں کہا گیا کہ حمزہ شہباز عدالت عظمی کے فیصلوں کے تحت فرائض سرانجام دینے میں ناکام ہوگئےہیں، عدالت نے 22 جولائی تک وزیر اعلی رہنے تک اتفاق کیا ہےلیکن وہ مسلسل قانون کی خلاف ورزی کررہے ہیں، حکومت کی جانب سے ایڈوائزری کمیٹی میں عدم شرکت ، پنجاب اسمبلی اجلاس کا بائیکاٹ اور ضمنی حلقوں میں ترقیاتی کام نہ کروانے پر افسوس کااظہار کرتاہے ، حکومت کے دھاندلی کے پروگرام اور انتظامیہ کوُ دھاندلی کی ہدایات باعث تشویش ہے، صحافی برادری ارشد شریف، عمران ریاض ،ایاز میر ،سمیع ابراہیم پر تشدد کی مذمت کرتاہے ، ایجنڈا مکمل ہونے پر سپیکر پرویز الہی نے 13 جولائی دوپہر ایک بجے تک اجلاس ملتوی کر دیا

  • بلوچستان حکومت حادثے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کی مالی معاونت کرے،مصطفیٰ کمال

    بلوچستان حکومت حادثے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کی مالی معاونت کرے،مصطفیٰ کمال

    پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال اور مرکزی وائس چیئرمین عطاء الله کرد نے راولپنڈی سے کوئٹہ جانے والی بس کے حادثے کے نتیجے میں طالب علموں سمیت متعدد افراد کے جاں بحق اور زخمی ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    پاکستان ہاؤس سے جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان بھر میں شاہراہیں خستہ حال اور یک رویہ ہونے کے باعث ٹریفک حادثات اور انکے باعث قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع معمول بن چکا ہے لیکن بے حس حکمرانوں کے جان پہ جوں تک نہیں رینگتی۔ جب تک شاہراہوں کی معیاری تعمیر اور ڈبل کیرج یقینی نہیں بنایا جاتا بلوچستان کے لوگ لاشیں اٹھاتے رہیں گے۔

    بارش کے بعد پھسلن کے باعث حادثات پیش آنا معمول بن چکا ہے حکومت اس پہاڑی علاقے میں سڑک کو سفر کے قابل بنانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدمات کرے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے دلخراش واقعات سے بچا جاسکے۔ وفاقی اور صوبائی حکمرانوں کی بلوچستان سے محبت اخباری بیانات تک محدود ہے۔ اس المناک حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دلی دکھ ہے اور غم کی گھڑی میں سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    مصطفی کمال نے بلوچستان کی صوبائی حکومت سے حادثے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے مالی معاونت اور زخمیوں کے بہترین علاج معالجے کی سہولیات فراہم کر نے مطالبہ کیا ۔ سید مصطفی کمال اور عطاء الله کرد نے جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین سے دلی تعزیت و ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق ہونے افراد کی مغفرت اور زخمی افراد کے لیے جلد و مکمل صحتیابی کے لئے دعا کی۔

  • لاپتہ افراد کیس،حکومت ٹھوس اقدامات نہیں اٹھاتی تو 9 ستمبر کو وزیراعظم پیش ہوں،عدالت

    لاپتہ افراد کیس،حکومت ٹھوس اقدامات نہیں اٹھاتی تو 9 ستمبر کو وزیراعظم پیش ہوں،عدالت

    لاپتہ افراد کیس،حکومت ٹھوس اقدامات نہیں اٹھاتی تو 9 ستمبر کو وزیراعظم پیش ہوں،عدالت

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں مدثر نارو اور دیگر لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    رانا ثنا اللہ اور وزیر انسانی حقوق ریاض پیرزادہ کے انٹرویوز کا ٹرانسکرپٹ درخواست کے ساتھ منسلک کر دیا گیا،ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ وفاق کی جانب سے رپورٹ فائل کی ہے ابھی ساڑھے دس بجے کابینہ کی میٹنگ ہے،اٹارنی جنرل اسپتال میں ہیں، انکی استدعا ہے سماعت عید کے بعد تک ملتوی کردیں، جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ کورٹ کیا کرے کیا چیف ایگزیکٹو کو سمن کرے ؟دو فورمز نے ڈکلیئر کردیا یہ جبری گمشدگی کا کیس ہے پھر کیا ہوا ؟ جے آئی ٹی جس میں آئی ایس آئی اور دیگر ادارے ہیں انہوں نے کہا کہ یہ جبری گمشدگی کا کیس ہے ،یہ بڑا واضح ہے کہ موجودہ یا سابقہ حکومت نے لاپتہ افراد کے معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا، سب سے بہترین اینٹلی جنس ایجنسی نے یہ کیس جبری گمشدگی کا ڈکلیئر کیا ہے ، ارشد کیانی نے کہا کہ سابقہ حکومت کا تو پتہ نہیں اس حکومت نے معاملے کو بہت سنجیدگی سے لیا ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت صرف آئین کے مطابق جائے گی بنیادی حقوق کا تحفظ کرنا ہے یہ بہت سنجیدہ معاملہ ہے، یہ معاملہ تو قومی سلامتی سے متعلقہ ہے، ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ کابینہ کے سینئر اور متعلقہ لوگوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا 2013 کا فیصلہ موجود ہے. یہ تو تسلیم شدہ حقیقت ہے، یا تو کوئی شخص ذمہ داری لے کر ان تمام لوگوں کو بازیاب کرائے، ریاست کا جبری گمشدگی کے کیسز پر جو ردعمل ہونا چاہیے تھا وہ نہیں ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فرحت اللہ بابر صاحب نے منتخب حکومت اور پارلیمنٹ نے کیا کیا ہے، یہ تو آپ تسلیم کر رہے ہیں سویلین کنٹرول اور نگرانی نہیں ہے ، آئی ایس آئی صرف حکومت کا ایک ڈیپارٹمنٹ ہے، آئی ایس آئی وزیراعظم کے براہ راست کنٹرول میں ہے، عدالت پبلک آفس ہولڈرز کو اپنی ذمہ داری شفٹ کرنے کی اجازت نہیں دے گی،اگر وزیراعظم کسی بات سے منع کرے تو وہ اسے مانیں گے،جو آئین میں لکھا ہے یہ عدالت صرف اس کو تسلیم کریگی،آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ پارلیمنٹ اور حکومت بے بس ہیں؟ جس پر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ جی بالکل میں یہی کہنا چاہ رہا ہوں، جس پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھر وزیراعظم سے کہیں کہ عدالت کے سامنے آ کر یہ بیان دیں،یہ قومی سلامتی کا مسئلہ ہے، آئین کی کسی کو پرواہ نہیں تو لوگ متاثر ہو رہے ہیں،

    وزارت داخلہ کا نمائندہ عدالت کے سامنے پیش، وقت دینے کی استدعا کر دی، عدالت نے استفسار کیا کہ کون کون سے قانون نافذ کرنے والے ادارے آپکے ماتحت ہیں؟ نمائندہ وزارت داخلہ نے کہا کہ اسلام آباد پولیس، ایف آئی اے اور رینجرز ہمارے ماتحت ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ انٹیلی جنس بیورو کس کے ماتحت ہیں؟ نمائندہ وزارت داخلہ نے کہا کہ وہ وزیراعظم کے زیر کنٹرول ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ فرنٹیئر کانسٹبلری کس کے زیر کنٹرول ہے؟ نمائندہ وزارت داخلہ نے کہا کہ فرنٹیئر کانسٹبلری وزارت داخلہ کے ماتحت ہے، جس پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تو کیا آپ ان سے پوچھتے نہیں ہیں؟ نمائندہ وزارت داخلہ نے کہا کہ ہم پوچھتے ہیں ان سے رپورٹ طلب کی جاتی ہے، عدالت کے سامنے پیش کر سکتے ہیں،جس پر عدالت نے کہا کہ عدالت کے سامنے رسمی باتیں مت کریں،اگر حکومت ٹھوس اقدامات نہیں اٹھاتی تو 9 ستمبر کو وزیراعظم پیش ہوں، آخری موقع دے رہے ہیں اگر کچھ نہ ہوا تو چیف ایگزیکٹو کو طلب کرینگے،

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    پریس کلب پر اخباری مالکان کا قبضہ، کارکن صحافیوں نے پریس کلب سیل کروا دیا

    صحافیوں کو کرونا ویکسین پروگرام کے پہلے مرحلے میں شامل کیا جائے، کے یو جے

    کیا آپ شہریوں کو لاپتہ کرنے والوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں؟ قاضی فائز عیسیٰ برہم

    2016 سے اسلام آباد سے اٹھائے گئے کیس تو واضح ہیں کیا بنا اسکا؟ 

  • حکومت ملک نہیں چلا سکتی،عمران خان عوام کی آواز ہے،شیخ رشید

    حکومت ملک نہیں چلا سکتی،عمران خان عوام کی آواز ہے،شیخ رشید

    سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت کیلئے جولائی کا مہینہ بہت اہم ہے۔ پریڈ گراؤنڈ میں پی ٹی آئی جلسے سے خطاب میں شیخ رشید نے مقتدر حلقوں اور حکومت کو بھی مخاطب کیا اور کہا کہ یہ ملک نہیں چلا سکتے ہیں۔انہوں نےکہا کہ عمران خان عوام کی آواز ہے، ڈیزل اپنے بھائی کو خیبر پختونخوا میں گورنر لگانا چاہتا ہے۔

    شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ایک چور نے اپنے بیٹے کو وزیر داخلہ تو دوسرے نے وزیر مواصلات بنوایا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر مواصلات بھی اُسے بنادیا گیا ہے، جس نے مسجد کا غسل خانہ تک نہیں بنوایا ہے۔ سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ مقتدر حلقوں اور حکومت سے کہتا ہوں، یہ ملک نہیں چلا سکتے، امپورٹڈ حکومت کے لیے جولائی بہت اہم مہینہ ہے۔

    قبل ازیں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وائس چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہم سپریم کورٹ کی تشریح کے منتظر ہیں۔ ملتان میں کارکنوں سے خطاب میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ کیا ہمیں پُرامن احتجاج کا حق ہے؟ اس حوالے سے سپریم کورٹ کی تشریح کے منتظر ہیں۔انہوں نے کہا کہ جیسے ہی عدالتِ عظمیٰ سے تشریح آتی ہے، پارٹی قائد عمران خان کی احتجاج کی کال بھی آئے گی۔پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا کہ پُرامن احتجاج کر کے حکمرانوں کو گھر تک چھوڑ کر آئیں گے، حمزہ شہباز کی کرسی بچانے کے لیے نظام کو داؤ پر لگایا جا رہا ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ عمران خان اتوار کو لاہور اور 14 جولائی کو ملتان کا دورہ کریں گے۔

  • توانائی کی بچت کیلئے سرکاری عمارتوں کو سولر انرجی پر منتقل کرنے کا فیصلہ

    توانائی کی بچت کیلئے سرکاری عمارتوں کو سولر انرجی پر منتقل کرنے کا فیصلہ

    اسلام آباد:حکومت نے توانائی کی بچت کے لئے سرکاری عمارتوں کو سولر انرجی پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔شاہد خاقان عباسی کی سربراہی میں حکومت کی انرجی ٹاسک فورس کا اجلاس ہوا جس میں وزیر توانائی خرم دستگیر اور وزیر مملکت برائے پانی و توانائی مصدق ملک اور وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب سمیت دیگر ارکان نے شرکت کی۔

    اجلاس کے دوران ایندھن کی بچت کے لئے سرکاری عمارتوں کو سولر انرجی پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ، متعلقہ اداروں کو سرکاری عمارتوں کی شمسی توانائی پر منتقلی کیلئے فزیبلٹی رپورٹ بنانے کی ہدایت کی گئی۔

    اجلاس کے دوران ٹاسک فورس نے سولر انرجی کی پیداوار بڑھانے کے لئے مختلف اقدامات کا جائزہ لیا، اس سلسلے میں چھوٹے صارفین کو سولر انرجی پر منتقلی کیلئے سبسڈی اور رعایتی قرضے دینے پر غور کیا گیا۔اجلاس کے بعد مریم اورنگزیب نے میڈیا کو بتایا کہ گزشتہ برس سولر سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 600 میگاواٹ رہی، جلد 4 سے 5 ہزار میگاواٹ کے منصوبوں پر کام شروع ہوگا۔

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمارتوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے لئے سولر پینلز کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، سولر پینلز کے استعمال سے اضافی بجلی گرڈ اسٹیشنز کو فروخت بھی کی جا سکے گی، جہاں بجلی پر سبسڈی دی جا رہی ہے، وہاں بھی سولر پلانٹس لگائے جائیں گے۔

    وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ گھروں میں سولر پینلز سے عام بجلی کے استعمال میں بچت اور لائن لاسز بھی کم ہوں گے، سولر انرجی کے کاروبار پر مراعات دی جائیں گی، اجارہ داری قائم نہیں ہونے دیں گے، ٹاسک فورس سفارشات مرتب کر کے وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کرے گی۔

  • وزیراعظم اور وزیرخارجہ میں ون ٹو ون ملاقات، ملک کے اہم معاملات زیر بحث

    وزیراعظم اور وزیرخارجہ میں ون ٹو ون ملاقات، ملک کے اہم معاملات زیر بحث

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف کی درمیان ایک ون ٹو ون ملاقات ہوئی جس میں ملک اہم معاملات پر ایک دوسرے سے اظہار خیال کیا گیا.

    وزیر اعظم آفس زرائع کے مطابق: شہباز شریف نے وزیر خارجہ سے منگل کو ون ٹو ون ملاقات ہوئی ہے جس میں ملک اہم عمور پر گفتگو کی گئی.

    انہوں نے مزید بتایا کہ: وزیراعظم نے وزیر خارجہ بلاول زرداری کے اقدامات کو سراہا اور دونوں نے مل جل ملکی معیشت اور فارن پالیسی کو بہتر بنانے کی ایک دوسرے کو یقین دہانی کروائی،

    ان کے مطابق: اس ون ٹو ون ملاقات میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال بالخصوص اتحادی جماعتوں کی جانب سے منظرعام پر آنے والے تحفظات کے معاملات پر بھی دونوں نے ایک دوسرے سے بحث کی اور تمام اتحادیوں کو ساتھ ملا کر حکومت کو چلانے پر اتفاق کیا.

    اس اہم ملاقات میں دونوں نے ملکی معیشت کو بہتر بنانے پر بالخصوص زور دیا

  • پی ٹی ائی کو5مخصوص نشستوں کے باوجود پنجاب حکومت کو کوئی خطرہ نہیں

    پی ٹی ائی کو5مخصوص نشستوں کے باوجود پنجاب حکومت کو کوئی خطرہ نہیں

    لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب اسمبلی کی مخصوص نشستوں پر ارکان کا نوٹیفکیشن نہ کرنےکے خلاف تحریک انصاف کی درخواست منظور کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو مخصوص نشستوں پرنوٹیفکیشن جاری کرنےکی ہدایت کردی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کی الیکشن کمیشن کو ہدایت کے بعد اگر پانچ مخصوص نشستیں پاکستان تحریک انصاف کو مل جائیں تو بھی پیجاب اسمبلی میں مسلم لیگ ن کی حکومت کی عددی اکثریت برقرار رہے گی اور حمزہ شہباز کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہو گا.

    لاہور ہائیکورٹ کا الیکشن کمیشن کو مخصوص نشستوں کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا حکم

    مسلم لیگ ن کے وزیراعلی پنجاب کے لئے امیدوارحمزہ شہباز 16 اپریل 2022کو پنجاب کے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے تھے انہیں پنجاب اسمبلی کے 371 کے ایوان میں سے197 ووٹ ملے تھےتاہم حمزہ شہباز کو ووٹ دینے والے 25 ارکان اسمبلی کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے تھا جس بنا پر انہیں ڈی سیٹ کر دیا گیا ،25 ارکان کے ڈی سیٹ ہونے کے بعد پنجاب اسمبلی ممبران کی تعداد 346 رہ گئی۔

    پنجاب اسمبلی کی موجودہ صورتحال کے مطابق پنجاب اسمبلی میں حکومتی جماعت (ن) لیگ کے پاس 166 سیٹیں ہیں. پنجاب اسمبلی میں پیپلزپارٹی کی حمایت بھی مسلم لیگ ن کو حاصل ہے اورپنجاب کے ایون میں پیپلزپارٹی کے ارکان کی تعداد7ہے جبکہ پنجاب اسمبلی کے تین آزاد ارکان اور راہ حق پارٹی کا ایک ووٹ بھی (ن) لیگ کے پاس ہے.انہیں جمع کر کے پنجاب اسمبلی میں (ن) لیگ کے حکومتی اتحاد کے ووٹوں کی تعداد 177 ہے۔

    وپنجاب اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کو183 نشستیں ملی تھیں لیکن پی ٹی ائی کے 25 ارکان پارٹی کی پالیسیوں کے باعث منحرف ہو گئے اور انہوں نے وزارت اعلی کیلئے مسلم لیگ ن کے امیدوار حمزہ شہباز کو ووٹ دیا جس پر انہیں ڈی سیٹ کر دیا گیا. ڈی سیٹ ہونے کے بعد پی ٹی آئی کی پنجاب اسمبلی میں نشستیں 158 رہ گئیں۔

    پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے 158جبکہ تحریک انصاف کی اتحادی (ق) لیگ کے 10 ارکان ہیں انہیں ملا کر اپوزیشن کے 168 ارکان بنتے ہیں ، رپورت کے مطابق اگر عدالتی فیصلے کے بعد پاکستان تحریک انساف کو 5 مخصوص نشستیں مل بھی جائیں تو اپوزیشن اتحادکی تعداد173بنتی ہے یعنی مخصوص نشستوں کے بعد بھی حکومتی اتحاد کو اپوزیشن پر 4 ووٹوں کی برتری حاصل رہے گی۔

    اس صورتحال میں مسلم لیگ ن کی حکومت کو اپوزیشن اتحاد سے کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہے، تاہم اپوزیشن اتحاد کی کوشش ہے کہ وہ وہ حکومت کو ٹف ٹائم دینے کیلئے ضمنی الیکشن میں ذیادہ سے ذیادہ نشستیں حاصل کرے.تاہم دوسری جانب حکومت بھی پرعزم ہے کہ وہ ضمنی الیکشن میں کلین سوئپ کرے کرے گی.

  • پی ٹی آئی کی حکومت نے تمام ادارے تباہ کئے،رانا ثناءاللہ

    پی ٹی آئی کی حکومت نے تمام ادارے تباہ کئے،رانا ثناءاللہ

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہاہے کہ ساڑھے3 سال ملک پر مسلط رہنے والے نااہل اور نالائق ٹولہ نے ملکی ترقی و بہتری کیلئے کوئی کام نہیں کیااور اپنی ساری توجہ اپوزیشن کی کردار کشی اور بلاجواز الزام تراشیوں سمیت انتقامی کاروائیوں پر مرکوز رکھی جس سے ملکی معیشت کا جنازہ نکل گیا اور ملک ڈیفالٹ کے قریب پہنچ گیا جس پر ہمیں مجبوراً اقتدار سنبھالنا پڑا اوراپنی سیاست داؤ پر لگاتے ہوئے ریاست بچانے کیلئے نہ چاہنے کے باوجود مشکل فیصلے کرنا پڑے کیونکہ اگر ہم مشکل فیصلے نہ کرتے تو ملک ڈیفالٹ کے قریب پہنچ جاتا۔

    فیصل آباد میں مہر حامد رشید کے ڈیرہ پر پارٹی ورکرز سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ہم تمام ملکی اداروں کا احترام کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ملک و قوم کے بہترین مفاد میں تمام ادارے اپنی اپنی حدود میں رہتے ہوئے اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ نااہل اور نالائق ٹولہ نے اپنے دور اقتدار میں اپنے انتخابی نعروں اور وعدوں پر عمل کی بجائے صرف اپنے مخالفین کے خلاف جھوٹے و بے بنیاد مقدمات درج کروائے اور یہی کہتا رہا کہ میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔

    انہوں نے کہا کہ نیازی اپنی انتقامی کارروائیوں میں اتنا آگے چلا گیا کہ امریکہ جا کر بھی ایسی ہی باتیں کرتا رہالیکن اسے جب مخالفیں کے خلاف کچھ نہیں ملا تو اس نے ان کے خلاف جھوٹا ہیروئن کی برآمدگی کا مقدمہ بنوادیا۔رانا ثناللہ نے کہا کہ انہی انتقامی کارروائیوں کی وجہ سے ملک ڈیفالٹ کی طرف پہنچ گیا کیونکہ انہوں نے ملکی معیشت کی طرف کوئی توجہ ہی نہیں دی۔

    انہوں نے کہا کہ نیازی حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ ایسا معاہدہ کیا جس کے اثرات مشکل فیصلوں کی صورت میں ہماری حکومت پر پڑ رہے ہیں لیکن اگر ہم یہ مشکل فیصلے نہ کرتے تو ملک ڈیفالٹ کے قریب پہنچ جاتا اور سب جانتے ہیں کہ جب کوئی ملک ڈیفالٹ کرجا ئے تو اس ملک کا غریب اور متوسط طبقہ پس جاتا ہے۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ ہمارے قائد شہباز شریف اور ہماری جماعت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہرگز نہیں بڑھانا چاہتی تھی اسلئے ہم نے دوسرے ملکوں کو بھی آئی ایم ایف کے ساتھ بٹھایا کہ ہم کسی اور طرح سے آپ کے پیسے پورے کردیتے ہیں لیکن آئی ایم ایف نہیں مانااور اس نے کہاکہ جوپہلی حکومت نے معاہدہ کیا ہوا ہے اسے ہی پورا کرنا ہوگا تب جا کر یہ مشکل فیصلے کرنا پڑے اور ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایالیکن ہم اب بھی اپنی پوری کوشش کررہے ہیں کہ معیشت میں بہتری آئے اور پاکستان 2018سے پہلے والی ترقی کی راہ پر گامزن ہو جس میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف مل سکے۔

    انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے دہشت گردی پر قابو پایا،لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا جبکہ اب جو لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے وہ وقت پر گیس نہ لینے کی وجہ سے ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے دور میں ڈی سی اور اے سی بھی رشوت دے کر لگتے تھے اس طرح تمام ادارے تباہ کئے گئے لہٰذا ایسے حالات میں عدم اعتماد کا فیصلہ کیا گیا۔

    انہوں نے کہا کہ جنہوں نے دھرنوں اور جلاؤ گھیراؤ کے ارادے بنائے تھے 25مئی کو ان کا شافی علاج کردیاگیا جبکہ پورے ملک کو ڈندے کے زور پراپنی صوابدید کے تحت چلانے کے ارادوں کو ہم نے ایساروکا کہ اب مارچ کا نام نہیں لیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ ان کے کسی علاقے میں بھی17یا 18سو سے زائد لوگ باہر نہیں نکلے ۔رانا ثنااللہ نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ نے پریڈ گراؤنڈ کو پر امن احتجاج کیلئے مختص کیا ہوا ہے اور چونکہ پرامن جلسہ و احتجاج ہر کسی کا حق ہے اسلئے کسی کو نہیں روکا جائے گالیکن کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے یا افراتفری پھیلانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔