Baaghi TV

Tag: حکومت

  • پیٹرول اور ڈیزل کی تاریخی مہنگائی کو برداشت کرنا پڑے گا،شاہد خاقان عباسی

    پیٹرول اور ڈیزل کی تاریخی مہنگائی کو برداشت کرنا پڑے گا،شاہد خاقان عباسی

    پیٹرول اور ڈیزل کی تاریخی مہنگائی کو برداشت کرنا پڑے گا،شاہد خاقان عباسی

    سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ حکمران استعفیٰ دیں اورالیکشن کروائیں،

    شوکت ترین کا کہنا تھا کہ ہم آئی ایم ایف ان کی کارستانیوں کی وجہ سے گئے ،عوام کی خاطر آئی ایم ایف سے متعدد مطالبات تسلیم نہ کرنے پر اصرارکیا عوام کی خاطر آئی ایم ایف کے مطالبات پر اعتراضات اٹھائے تھے ،انہوں نے تو ہم پر الزام عائد کیا اور خود پیٹرول کی قیمت بڑھا کر بم گرا دیا گیا ،ہم سخت فیصلے کیے ،آئی ایم ایف جانے کےباوجود عوام کو ریلیف دیا، حکومت نے رات کو بجلی کی قیمت میں 47فیصد اضافہ کیا،حکومت کو ڈر ہے روس کے پاس گئے تو امریکہ ناراض ہوجائیگا ،مفتاح اسماعیل خود آئی ایم ایف گئے ہمارے پروگرامز کی تعریف کی گئی ،ہم نے کامیاب جوان، صحت کارڈ اور احساس پروگرام شروع کیے 2ماہ حکومت نے بہتر چلتی معیشت کو ختم کردیا ،

    سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ہم پیٹرولیم مصنوعات سے کچھ نہیں کما رہے،ملک کو 2018 کے حالات پر واپس لانے کےلیے وقت درکار ہے،سستے پیٹرول کو خریدنے کا کوئی معاہدے نہیں،معیشت کو استحکام دینے کے لیے مشکل فیصلے کرنے پڑیں گے،یہ فیصلے نہ کرنا ملک سے انصاف ہے نہ عوام سے ،پیٹرول اور ڈیزل کی تاریخی مہنگائی کو برداشت کرنا پڑے گا، روپے کی قدر میں کمی سے پیٹرول مہنگا ہوجاتا ہے،پیٹرول ہم ڈالرز میں خریدتے ہیں اضافی قرضے لے کر اگر ہم مصنوعی سبسڈی دے گے تو ملکی معیشت کمزور ہوگی،

    وزیر مملکت برائے پٹرولیم مصدق ملک کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی ضرورت کیوں پیش آئی ،عمران خان نے پیٹرول کی 10 روپے قیمت بڑھا کر کہااب یہی رہے گی ،ہمیں لگا شاید کابینہ کی منظوری سے ہوا ہو گا لیکن ایسا کچھ نہیں تھا،سابق وزیر اعظم عمران خان ملک کو تباہ کرنا چاہ رہے تھے، عمران خان کی سبسڈی کی قیمت 3 ماہ میں 300 ارب روپے تھی، عمران خان نےجوسبسڈی دی اس کی منظوری کسی فورم سےنہیں لی،عمران خان حکومت ختم ہونے سے پہلے سبسڈی کا اعلان کیوں کرکے گئے؟ آئی ایم ایف کیساتھ انہوں نےطےکیاکہ قیمتیں بڑھائیں گے،عمران خان نے کہا اگرمیں کھیل نہیں سکتا توکھیل ہی ختم کردوں گا،نواز شریف اور شہباز شریف نے کہا کہ غریب کو آسانی دینے تک تیل کی قیمت نہیں بڑھانی،پھر ہم نے تین لائحہ عمل وزیر اعظم کو پیش کیے، کچھ ماہ میں پہلے تکلیف پھر استحکام نظر آئے گا،کابینہ کا مجموعی بجٹ500 ارب اور عمران خان نے جاتے جاتے 800 ارب روپے کی سبسڈی دی عمران خان نے جاتے جاتے 800 ارب روپے کی سبسڈی دی ،چالیس ہزار کمانے والے شخص کو 2ہزار روپے کا وظیفہ دیا گیا،عمران خان ملک خزانے خالی کر گئے جس کی وجہ سے ہمیں سخت فیصلے کرنے پڑیں گے

    تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر کا کہنا تھا کہ کارٹون جو آج بیٹھے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے پاس پیسے نہیں ،روس کا سستا تیل خریدنے کے پیسے نہیں حکمران جب عیاشیوں میں مصروف تھے تو بھارت نے روس سے تیل خریدلیا،مفتاح اسماعیل کہتے ہیں اگر روس پر کوئی پابندیاں نہیں ہوں گی تو ہم خرید لیں گے،آپ کو پتا تھا یہ خریدنا ضروری ہے لیکن آپ کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں، یکم جنوری کو عمران خان نے 4 روپے پیٹرول بڑھایا پیٹرول کی قیمت بڑھنے پر شہباز شریف اور بلاول نے وزیراعظم سے استعفیٰ مانگا عمران خان نے روس سے سستا تیل لینے پر 2 اجلاس کیے روس میں سفیر نے مجھے ایس ایم ایس کیا کہا کہ تحریری طور پر معاہدہ کریں میں نے خط لکھا اور کہا اپریل میں پہلی کنسائنمنٹ لیں گے ،55 دن ہوگئے مفتاح اسماعیل کو یہ تک نہیں پتہ کہ روس پر کوئی پابندی عائد نہیں، جس لابی کی مدد سے حکومت اقتدار میں آئی وہ پاکستان کوغیر مستحکم کرناچاہتی ہے،

    25 روپے اضافے جیسے عوام دشمن اقدام کا دفاع کوئی منتخب وزیر نھیں کرسکتا یہ فریضہ باہر سے لائے گئے پراسرارمشیر ھی کر سکتے ، سلمان غنی

    ‏کچھ دن پہلے پٹرول سستا ھونے پر ذلیل ھو رھا تھا اب مہنگا ھونے پر ذلیل ھو گا، مشاہد اللہ خان

    پٹرول ذخیرہ کرنے والوں کوکس کی پشت پناہی حاصل ہے؟ قادر پٹیل

    ‏جیسا مافیا چاہتا تھا ویسا نہیں ملا ، وسیم بادامی کا پٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر تبصرہ

    ہارن بجاؤ، حکمران جگاؤ، وزیراعظم ہاؤس کے سامنے ہارن بجا کر احتجاج کا اعلان ہو گیا

    وزیراعظم نے مافیا کے آگے ہتھیار ڈال دیئے،مثبت اقدام نہیں کر سکتے تو گھر جانا ہو گا، قمر زمان کائرہ

    جنوری کے مقابلے میں پٹرول اب بھی 17 روپے سستا ہے،عمر ایوب کی انوکھی وضاحت

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عدالت میں چیلنج

  • قائد کے پاکستان میں لانگ مارچ، دھرنوں  اورمظاہروں کی دردناک تاریخ

    قائد کے پاکستان میں لانگ مارچ، دھرنوں اورمظاہروں کی دردناک تاریخ

    قیام پاکستان سے لیکراستحکام پاکستان تک ، احتجاجی دھرنوں کی تاریخ

    لاہور: قیام پاکستان سے لیکرابتک پاکستانی سیاست میں احتجاجی دھرنوں, مظاہروں اور مارچوں کی ایک لمبی تاریخ ہے ۔ پاکستان کے سیاسی حالات پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ پچھلی 5 دہائیوں میں دارالحکومت نے کئی سیاسی تحریکیں دیکھیں مگر یہ بھی طے ہے کہ دھرنوں سے مسائل کا حل نہیں نکلتا بلکہ دھرنوں سے حکومت وقت ہی ڈی ریل ہوا کرتی ہے۔ مسائل کا حل صرف پارلیمنٹ کے اندر رہ کر ہی نکا لا جاسکتاہے

    1980 میں زکوۃ عشرآرڈیننس کےخلاف دھرنا

    پاکستان میں پہلا بڑا مظاہرہ چار اور پانچ جولائی 1980ء کو تحریک نفاذ فقہ جعفریہ اور امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن (آئی ایس او) نے اپنے قائد مفتی جعفر حسین کی قیادت میں  جنرل ضیاء الحق کے متنازعہ زکٰوۃ اور عشر آرڈیننس کے خلاف پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دیا۔

    ضیاالحق کی برسی پرپی پی کا احتجاجی دھرنا

    دوسرا بڑا دھرنا یا احتجاج سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کے پہلے دور حکومت میں 17 اگست1989 ء کو میاں نواز شریف نے فیصل مسجد میں ضیاء الحق کی پہلی برسی منانے کے لئے اپوزیشن جماعتوں کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا۔ پھر 16 نومبر 1992ء کو ایک لانگ مارچ شروع کیا-16جولائی 1993ء کو بے نظیر بھٹو شہید نے ایک مرتبہ پھر لانگ مارچ کیا۔

    جماعت اسلامی کا قاضی حسین احمد کی قیادت میں دھرنا

    جماعت اسلامی نےپہلا مارچ ستمبر 1996ء میں قاضی حسین احمد کی قیادت میں ملین مارچ کی صورت میں کیا۔

     

    عدلیہ بحالی کی تحریک پروکلا کی جنرل پرویزمشرف کے خلاف دھرنا

     

    جنرل مشرف کےدورحکومت میں 9 مارچ 2007ء کواس وقت کے صدرجنرل پرویز مشرف کی جانب سے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو عہدے سے ہٹائے جانے پر وکلاء نے عدلیہ کی بحالی کے لئےتحریک چلائی۔

     

     

    ڈاکٹرطاہرالقادری کا لاہور سے اسلام آباد تک مارچ،پیپلرپارٹی کے‌خلاف احتجاج

     

    پاکستان عوامی تحریک کےسربراہ ڈاکٹر علامہ طاہر القادری نے2013 ء میں پیپلز پارٹی کےدور حکومت میں لاہور سےاسلام آباد تک مارچ کیا۔

    عمران خان نے14اگست 2014ء کو نون لیگ کی حکومت کےخلاف انتخابی نتائج دھاندلی کے الزام لانگ مارچ کیا،

     

     

    ٹی ایل پی کا دھرنے پردھرنا،نوازشریف کی طرف سے انتخابی فارم میں تبیلی پردھرنا

    نومبر2017میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے خلاف انتخابی فارم میں تبدیلی کےخلاف اور توہین مذہب کےخلاف، پھر ٹی ایل پی نے2018 میں پھرنومبر 2020 کا اپنا دھرنا فروری 2021میں فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے فیصلے نتیجے میں ایک اور دھرنا

     

    پی ڈی ایم کا عمران خاں کے خلاف ازادی مارچ

    پی ٹی آئی کی حکومت کے دوران مولانا فضل الرحمٰن اور پیپلز پارٹی نے بالترتیب دھرنا اور لانگ مارچ بھی کیا۔

    پاکستان میں بیرونی سازش کے خلاف حقیقی آزادی مارچ،عمران خان کا اعلان

    حکومت سے بے دخلی کےبعد پی ٹی آئی نے احتجاج کا اعلان کی اور پھرآزادی مارچ کے نام پر 25 مئی کو اسلام آباد کی طرف مارچ کیا،

  • شہباز گِل حکومت کےخلاف نفرت کی فصل بونےلگے،مرنےمارنےکی دھمکیوں پر اتر آئے

    شہباز گِل حکومت کےخلاف نفرت کی فصل بونےلگے،مرنےمارنےکی دھمکیوں پر اتر آئے

    خیبر پختونخوا: سابق وزیراعظم عمران خان کے سابق معاون خصوصی شہباز گِل ملک میں لسانیت کی آگ بھڑکانے لگے۔

    باغی ٹی وی : خیبر پختونخوا میں شہباز گِل حکومت کے خلاف نفرت کی فصل بونے لگے اور مرنے مارنے کی دھمکیاں دینے پر اتر آئے۔

    شہباز گل نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں وہ لوگ رہتے ہیں جو ایک تھپڑ کا جواب دس نسلوں تک دینا جانتے ہیں، حکومتی کارروائی کے جواب میں جو ہتھیار یہ نکال کر لائیں گے اس کا تو حکومت کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔

    دوسری جانب چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ قیصر رشید نے ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی مواد کےکیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیےکہ اب تو سیاسی رہنماؤں کی تقاریر میں وہ شائستگی نہیں رہی جو پہلے ہوا کرتی تھی، حکومت اسے روکنےکے لیے بھی ضروری اقدامات کرے۔

    ملک بھر میں یوٹیلیٹی اسٹورز پرگھی اورکوکنگ آئل مزید مہنگا

    پشاور ہائی کورٹ میں ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی مواد شیئر ہونے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، سماعت چیف جسٹس قیصر رشید اور محمد ابراہیم خان نےکی چیف جسٹس قیصر رشید نے ریمارکس دیےکہ بعض چیزیں پی ٹی اے کے دائرہ اختیار میں نہیں، عدالتی احکامات پر اب کافی حد تک عمل درآمدکیا گیا ہے اور لاکھوں کی تعداد میں ویڈیوز ختم کی گئی ہیں اور ہزاروں ایسے افرادکے اکاؤنٹس بلاک کیےگئے ہیں۔

    چیف جسٹس نے مزیدکہا کہ آج کل ٹاک ٹاک ایک طرف، اب تو سیاسی لیڈر شپ بھی ناشائستہ زبان استعمال کر رہی ہے، ان کی تقاریرمیں وہ شائستگی نہیں رہی جو پہلے ہوتی تھی، حکومت کو اس حوالے سے ضروری اقدامات کرنے چاہئیں

  • پی ٹی آئی لانگ مارچ: امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کیلئے حکومت کو کتنا خرچہ برداشت کرنا پڑا؟

    پی ٹی آئی لانگ مارچ: امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کیلئے حکومت کو کتنا خرچہ برداشت کرنا پڑا؟

    25 مارچ کو پاکستان تحریک انصاف کے آزادی مارچ کے دوران وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں امن کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے حکومت کے کروڑوں روپے خرچ ہوئے۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق عمران خان کے حقیقی لانگ مارچ کے دوران حکومت کا 14 کروڑ 90 لاکھ روپے کا خرچہ ہوا ذرائع کے مطابق لانگ مارچ کے پیشِ نظر پولیس حکام نے حکومت کو ایک درخواست دی جس میں رقم کا مطالبہ کیا گیا بعدازاں حکومت کی جانب سے تحریری درخواست کے بعد 14 کروڑ 90 لاکھ روپے پولیس کو جاری کیے گئے تھے۔

    پی ٹی آئی لانگ مارچ: دھرنے کی صورت میں یومیہ کتنا خرچ ہو سکتا ہے؟ رپورٹ میں حیران…

    اس سے قبل ایک رپورٹ سامنے آئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ اگر عمران خان کا حقیقی لانگ مارچ 5 روز تک جاری رہا تو پی ٹی آئی دھرنے کے ممکنہ اخراجات 20 کروڑ روپے تک ہوسکتے ہیں۔

    برطانوی نشریاتی ادارے ” بی بی سی ” نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ 2014 میں جب پی ٹی آئی دھرنے کے شرکا اسلام آباد پہنچے تھے تو ان کی تعداد 35 سے 40 ہزار کے درمیان تک تھی اُس وقت دھرنےمیں کھانے پینے کا بندوبست کرنے والے پی ٹی آئی رہنما خان بہادر ڈوگر کا کہنا ہے کہ ابتدائی دنوں میں صرف کھانے کا خرچہ 20 لاکھ روپے یومیہ تھا جبکہ دھرنے میں صرف ساؤنڈ سسٹم پر 14 کروڑ روپے خرچ ہوئے تھے۔

    پاکستان کو ایٹمی طاقت بنے 24 برس مکمل،وزیراعظم کا یوم تکبیر پرخصوصی پیغام

    یہ دھرنا 126 دن جاری رہا تھا جس کا آغاز بھی ایک لانگ مارچ کی صورت میں لاہور سے 14 اگست کو ہوا اور 15 اگست اسلام آباد پہنچنے کے بعد 18 اگست کو عمران خان نے وفاقی دارالحکومت کے ریڈ زون میں داخل ہونے کا اعلان کیا تھا-

    مارچ کے انتظامات سنبھالنے والوں میں سے ایک رہنما کا کہنا تھا کہ اگر 50 ہزار لوگ جمع ہوگئے اور دھرنا پانچ روز تک جاری رہا تو صرف پڑاؤ ڈالنے کا خرچہ 20 کروڑ روپے تک ہوسکتا ہے جبکہ مارچ اور دھرنے کے لیے ابتدائی پانچ دن کے انتظامات میں محض ساؤنڈ سسٹم پر جو خرچہ آرہا ہے وہ یومیہ ایک کروڑ 73 لاکھ بنتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی مارچ میں ہونے والے بہت سے خرچے ایسے ہیں جن پر عوام کی نظر کم ہی جاتی ہے ، جن میں جنریٹر ،جھنڈے ،لیبر ،ٹرانسپور ٹیشن ،انٹرنیٹ ڈیوائسز، ٹینٹ،کنٹینرز بھی شامل ہیں ٹرکوں پر ساؤنڈ سسٹم انسٹال ہوتا ہے اور ہر ٹرک پر لائٹس لگائی جاتی ہے اور ایک جنریٹر بھی موجود ہوتا ہے پی ٹی آئی کے اسلام آباد مارچ کے لیے لگ بھگ ایسے 122 ٹرک تیار کیے گئے ہیں اور ایک ٹرک کا خرچہ روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 24 ہزار روپے بنتا ہے۔

    ایسے حالات نہ بنائے جائیں کہ ہم کوئی سخت فیصلہ کر لیں،وزیراعلیٰ گلگت بلتستان

  • لانگ مارچ میں فیاض الحسن چوہان کتنے بندے لے کر نکلے،ویڈیو وائرل

    لانگ مارچ میں فیاض الحسن چوہان کتنے بندے لے کر نکلے،ویڈیو وائرل

    لانگ مارچ میں فیاض الحسن چوہان کتنے بندے لے کر نکلے،ویڈیو وائرل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے لانگ مارچ کی کال پر تحریک انصاف کے رہنما اپنے اپنے حلقوں سے عوام کو نہ نکال سکے ،پی ٹی آئی اراکین اسمبلی چند افراد کے ساتھ نکلے ،مارچ کے شرکاء کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے عمران خان پارٹی رہنماؤں پر نالاں ہیں، کم تعداد کی وجہ سے ہی عمران خان کو واپس جانا پڑا

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان شیخ رشید پر بھی ناراض ہیں کیونکہ انہون نے پنڈی سے اپنے حلقے سے عوام کو نکالنا تھا لیکن وہ عوام کو نہ نکال سکے، بلکہ لانگ مارچ کے بارے میں خونی مارچ جیسے بیانات دے کر حکومت کو مارچ کے خلاف کاروائی کا موقع دیتے رہے

    لانگ مارچ کے حوالہ سے سابق صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہےکہ فیاض الحسن چوہان لانگ مارچ میں شرکت کے لئے نکلے ہیں اور فیاض الحسن چوہان کے ساتھ نعرے لگانے والے کارکنان اور کل شرکاء کی تعداد دس افراد سے بھی کم ہے، ویڈیو میں دیکھا جا سکتاہے کہ فیاض الحسن چوہان پریشان دکھائی دیتے ہیں کیونکہ وہ لانگ مارچ میں شہریوں کو نہیں نکال سکے، ویڈیو میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ جس طرف شرکاء جا رہے ہیں اسکے دوسری جانب روڈ بالکل خالی ہے اور ٹریفک رواں دواں ہے

    لاہور میں بھی کچھ ایسا ہی منظر دیکھنے کو ملا تھا،تحریک انصاف لاہور کی قیادت میں تین قافلوں نے لاہور سے نکلنے کی کوشش کی مرکزی قافلہ صدر تحریک انصاف پنجاب شفقت محمود کی قیادت میں روانہ ہوا قافلہ میں چھ اے سی بسیں اور درجن بھر چھوٹی بڑی گاڑیاں شامل تھیں جبکہ عمران خان کے بھانجے ایڈوکیٹ احسان نیازی کی سربراہی میں دو درجن وکلا کا ایگ گروپ بھی شفقت محمود کے قافلے میں شامل تھا ،

    حماد اظہر کی سربراہی میں درجن بھر کارکنوں کا قافلہ نکلا جو تو پولیس کی جانب سے راوی پل کے قریب حماد اظہر کے قافلے کو روکا گیا اور انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی تاہم کارکنوں کی جانب سے مزاحمت کی گئی جس پر پولیس انہیں حراست میں لینے میں کامیاب نہ ہو سکی۔ڈاکٹر یاسمین راشد بھی چند خواتین کو لے کر نکلی تھیں ،انکے قافلے میں شرکاء کی تعداد بیس سے کم تھی،

    دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمود پر پی ٹی آئی کارکنان ہی اعتراض عائد کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ پنجاب میں انہوں نے کارکنان کو متحرک نہیں کیا، جب کارکنان پر شیل برسائے جا رہے تھے شفقت محمود کسی کے گھرگوجرانوالہ میں کھانا کھا رہے تھے جب انکو پتہ چلا کہ حماد اظہر آگے نکل گئے تو شفقت محمود آگے جانے کی بجائے لاہور واپس آ گئے

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    پاکستان کی سیاسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کیلئے مودی کے دفتر میں خصوصی سیل قائم

    درخواستیں دائر کرکےآپ بھی اپناغصہ ہی نکال رہے ہیں،عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    کیا آپ کو علم ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین بھی نہیں پہنچ سکے،عدالت

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عدالت میں چیلنج

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عدالت میں چیلنج

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عدالت میں چیلنج

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا

    لاہور ہائیکورٹ میں ایڈووکیٹ اظہر صدیق کی جانب سے دائرکی گئی ہے، درخواست گزار نے وفاقی حکومت اور اوگرا سمیت دیگر کو فریق بنایا ہے، لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کابینہ کی کی منظوری کے بغیر کیا گیا وفاقی کابینہ کی منظوری کے بغیر حکومتی اقدام غیر قانونی ہے لہذا عدالت سے استدعا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ کالعدم قرار دیا جائے

    دوسری جانب قومی اسمبلی اجلاس میں پٹرول مہنگا ہونے کی باز گشت سنائی دی، رکن اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی کا کہنا تھا کہ وزرا جب بیرونی ملک جاتے ہیں تو اسپیکر کو اطلاع دینی چاہیے 8لاکھ روپے تک حج اخراجات کیوں جمع کیے جا رہے ہیں ؟رات کو 30 روپے کا پیٹرول بم کیوں گرایا گیا ہے یہاں عیاشیوں کا سامان درآمد کیا جارہا ہے

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ٹرانسپورٹرز نے عوام پر کرایوں کا بم گرا دیا گیا پبلک ٹرانسپورٹرز کی جانب سے 300 روپے تک کرائے میں اضافہ کر دیا گیا مختلف ٹرانسپورٹرز کی جانب سے مختلف کرایوں میں اضافہ کیا گیا،کراچی کا کرایہ 3700 روپے بڑھا کر 4000 روپے کر دیا گیا صادق آباد کا کرایہ 1750 روپے سے بڑھا کر 2000 روپے کر دیا گیا راولپنڈی کا کرایہ 1750 سے 1850 کر دیا گیا فیصل آباد کا کرایہ 850 سے بڑھا کر 950 کر دیا گیا سرگودھا کا کرایہ 720 سے بڑھا کر 850 روپے کر دیا پشاور کا کرایہ 2100 روپے سے بڑھا کر 2200 روپے کر دیا گیا مری کا کرایہ 2100 روپے سے بڑھا کر 2200 روپے کر دیا گیا ساہیوال کا کرایہ 550 روپے کی بجائے 650 روپے کرد یا گیا خانیوال کا کرایہ 1180 سے 1280 روپے کردیاگیا مظفر گڑھ کا کرایہ 1330 سے بڑھا کر 1430 روپےکردیا گیا ملتان کا کرایہ 1300 روپے سے بڑھا کر 1400 روپے کر دیا گیا، ٹرانسپورٹر کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد کرائے بڑھانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے ،کرایوں میں اضافہ نہ کیا تو کارروبار بند کرنا پڑا گا

    علاوہ ازیں سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشروباء اضافہ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ چودھری پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی شکل میں عوام پر ایک نہیں دو بم گرائے گئے۔ پہلے مہنگائی کیا کم تھی اب ٹرانسپورٹ کی وجہ سے مہنگائی میں 50 فیصد سے زائد اضافہ ہوگیاہے۔نا اہل حکمرانوں نے عوام کو مہنگائی کی چکی میں پسنے کیلئے بے یارو مدد گار چھوڑ دیا ہے۔ عمران خان نے لانگ مارچ ختم نہیں کیا صرف 6 روز کیلئے حکومت کو مزید مہلت دی ہے۔ گرفتار کارکنوں کو فوری رہا کیا جائے اعلیٰ عدلیہ نے بھی فوری رہائی کا حکم دیا ہے۔
    حکمران سستا تیل روس سے کیوں نہیں لیتے۔ عمران خان نے روس سے سستے تیل کی ڈیل مکمل کر لی تھی۔ بھارت نے روس سے سستا تیل لے کر اپنی عوام کو ریلیف فراہم کیا۔ شہباز شریف اور حمزہ شہباز نے ملک میں وحشت و درندگی کا جو کھیل کھیلا ہے اس پر پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہوئی ہے۔

    جماعت اسلامی نے وحدت روڈ پر پٹرول مصنوعات کی قیمتوں میں ظالمانہ اضافہ پر احتجاج کیا،رہنما جماعت اسلامی احمد سلمان بلوچ نے بھی شرکت کی مظاہرین نے بند گاڑی پر نعرے چسپاں کر کے دھکہ لگایا احمد سلمان بلوچ کا کہنا تھا کہ کپڑے بیچ کرعوام کو آٹا دینے والے وزیراعظم کپڑے نہیں لندن کے فلیٹ بیچ کر سستا پڑول دیں وزیر خزانہ سابق حکومت اور آئی ایم ایف کے معاہدوں کا بھاشن سناتے ہیں مہنگائی نا اہل سابقہ حکمران اوربوسیدہ مکس اچارحکومت کی وجہ سے ہے مہنگا پٹرول ، مہنگائی سودی معاشی نظام کی وجہ سے ہے سودی معیشت کے خاتمہ کیلئے جماعت اسلامی بھرپور مہم چلا رہی ہے

    قبل ازیں اینکر کامران خان نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیٹرول ڈیزل قیمتوں میں پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا تقریباً 18 فیصداضافہ غریب متوسط خاندانوں کے ماہانہ اخراجات میں قیامت بپا کردے گا ایک محتاط اندازے کے مطابق 30 رپے لیٹر پیٹرول قیمت اضافے کا مطلب ان خاندانوں کے اخراجات راتوں رات کم ازکم 10 سے 25 ہزار ماہانہ بڑھ جائیں گے

    سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے پیٹرول مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا، ہمیں نااہل اور سلیکٹڈ کہتے تھے ،ثابت ہوگیا یہ خود نااہل ہیںہم مہنگائی کنٹرول کرنے کے لیے ہر روز اجلاس بلاتے تھے ،نااہل حکمرانوں نے ایک بھی اجلاس نہیں کیا،اچانک سے پیٹرول مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیاگیا ، پیٹرول مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے لگتاہے کچھ ضرور ہوا ہے

    دوسری جانب سیکریٹری اطلاعات جماعت اسلامی قیصر شریف نے کہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ مسترد کرتے ہیں حکومت آئی ایم ایف کے ایما پرمہنگائی کے کوڑ ے برسا رہی ہے اتحادی حکومت بھی پی ٹی آئی حکومت کا تسلسل ثابت ہوئی ہے آئی ایم ایف سے معاہدے کی تفصیلات قوم کے سامنے لائی جائیں،پٹرولیم مصنوعات پر ڈیوٹی ختم کرکے سبسڈی بحال کی جائے

    قبل ازیں وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ عمران صاحب نے مہنگائی کی فصل بوئی،سخت شرائط پر جو معاہدے کئے،کرپشن کے ریکارڈ بنائے،آج قوم اسے مہنگائی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی شکل میں کاٹنے پر مجبور ہے۔ سبسڈی کا اعلان تو کرگئے لیکن قومی خزانہ لوٹ کر ساتھ لے گئے۔اِس جرم کا جواب دینا ہوگا

    25 روپے اضافے جیسے عوام دشمن اقدام کا دفاع کوئی منتخب وزیر نھیں کرسکتا یہ فریضہ باہر سے لائے گئے پراسرارمشیر ھی کر سکتے ، سلمان غنی

    ‏کچھ دن پہلے پٹرول سستا ھونے پر ذلیل ھو رھا تھا اب مہنگا ھونے پر ذلیل ھو گا، مشاہد اللہ خان

    پٹرول ذخیرہ کرنے والوں کوکس کی پشت پناہی حاصل ہے؟ قادر پٹیل

    ‏جیسا مافیا چاہتا تھا ویسا نہیں ملا ، وسیم بادامی کا پٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر تبصرہ

    ہارن بجاؤ، حکمران جگاؤ، وزیراعظم ہاؤس کے سامنے ہارن بجا کر احتجاج کا اعلان ہو گیا

    وزیراعظم نے مافیا کے آگے ہتھیار ڈال دیئے،مثبت اقدام نہیں کر سکتے تو گھر جانا ہو گا، قمر زمان کائرہ

    جنوری کے مقابلے میں پٹرول اب بھی 17 روپے سستا ہے،عمر ایوب کی انوکھی وضاحت

  • پٹرول کے بعد آٹا بھی مہنگا کر دیا گیا

    پٹرول کے بعد آٹا بھی مہنگا کر دیا گیا

    پٹرول کے بعد آٹا بھی مہنگا کر دیا گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکومتی اتحاد نے عوام کو مہنگائی کے جھٹکے دینا شروع کر دیئے ہیں

    عوام پر مہنگائی کے پہاڑ توڑ دئیے گئے پٹرول کے بعد 20 کلو آٹے کا تھیلا 180 روپے مہنگا کر دیا گیا ،یوٹیلیٹی اسٹورز 10 کلو آٹا 90 روپے مہنگا کر دیا گیا یوٹیلیٹی اسٹورز پر 20 کلو آٹے کا تھیلا 980 روپے ہو گیا 10 کلو آٹے کا تھیلا 490 روپے کا گیا ۔ وزارت صنعت و پیداوار نے آٹے کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا

    پنجاب حکومت نے آٹے کی قیمت دس کلو تھیلے کی 490 مقرر کر رکھی ہے تا ہم پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں اکثر مقامات پر حکومت پنجاب کی جانب سے سستے نرخوں پر آٹا نہیں مل رہا، دکانداروں کا کہنا ہے کہ آٹا دس کلو والا 650 کا ملے گا، گندم مہنگی ہو گئی ہے،حکومت ہمیں سستا آٹا نہیں دے رہی تو ہم کہاں سے دیں

    قبل ازیں حکومت نے بجلی کے نرخوں میں بھی اضافہ کیا تھا، گزشتہ شب پٹرول کی قیمت میں 30 روپے کا اضافہ کیا گیا

    اینکر حامد میر نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ پٹرول اور آٹا مہنگا ، ڈالر سستا ہو گیا ، سٹاک مارکیٹ میں بھی استحکام آنے لگا لیکن عام آدمی کو ریلیف کیسے ملے گا؟

    پٹرول کی قیمت میں اضافے کے بعد وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ سابق حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے آج مہنگائی ہے ماضی کی حکومت کے فارمولے پر جاتے تو پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 205 روپے ہوتی پیٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے سے تھوڑی سی مہنگائی بڑھتی ہے البتہ پیٹرول کی قیمت میں اضافہ سے روپے کو استحکام ملے گا آئی ایم ایف نے بھی پیٹرول کی قیمت بڑھانے تک ریلیف دینے سے انکار کیا ہے

    نواز شریف کی نئی میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع، نواز ذہنی دباؤ کا شکار،جہاز کا سفر خطرناک قرار

    جس ڈاکٹر کا سرٹیفیکٹ لگایا وہ امریکہ میں اور نواز شریف لندن میں،عدالت کے ریمارکس

    نشہ نہ ملا تو سفاک باپ نے چھ ماہ کی بیٹی کے ساتھ ایسا کام کر دیا کہ سن کر روح کانپ اٹھے

    شادی شدہ خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے بعد ملزمان نے ویڈیو وائرل کر دی

    مالی نے خاتون کے ساتھ زیادتی کے بعد دوستوں کو بلا لیا،اجتماعی درندگی کا ایک اور واقعہ

  • حکومت کا پی ٹی آئی قائدین اور ورکرز سمیت 700 لوگوں کو گرفتار کرنے کا منصوبہ ہے،فواد چوہدری

    حکومت کا پی ٹی آئی قائدین اور ورکرز سمیت 700 لوگوں کو گرفتار کرنے کا منصوبہ ہے،فواد چوہدری

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ 25 مئی کو اسلام آباد کی جانب مارچ سے قبل ہی حکومت نے پی ٹی آئی قائدین اور ورکرز سمیت 700 لوگوں کو گرفتار کرنے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔

    باغی ٹی وی : میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےفواد چوہدری نے کہا کہ ہم گرفتاریوں کیلئے تیار ہیں، مارچ ہر صورت ہو گا، لاٹھی اور گولی سے معاملہ نہیں رکے گا، حکومت کو عقل کے ناخن لینے چاہئیں حکومت نے چناب، جہلم اور اٹک کا پل بند کرنے کا بھی منصوبہ بنایا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ خیبر پختون خوا اور پنجاب سے شہری اسلام آباد پہنچیں گے، کراچی، کوئٹہ، حیدر آباد، سکھر اور لاڑکانہ کو بھی اسلام آباد بنائیں گے، ملک کا سیاسی بحران حل ہوا تو ہی معاشی بحران حل ہو گا۔

    فواد چوہدری نےکہاکہ عوام کوسہولیات کےبجائے وزیراعظم ہاؤس میں جیم اورسوئمنگ پول بنائے جارہے ہیں، اس وقت ملک کا وزیراعظم ضمانت کے اوپر ہے، سب سے بڑے صوبے کا وزیر اعلی ضمانت کے اوپر ہے

    انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کو حکومت کی وجہ سے ہزیمت کا سامنا ہے، ہندوستان روس کے ساتھ ڈیل کردی، یہی ڈیل ہمیں نہیں کرنے دی اور ہماری حکومت فارغ کردی گئی، یہ کچھ بھی ہوسکتا ہے آزادی نہیں ہوسکتی، سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم اپنی آزادی واپس حاصل کرلیں۔

    فواد چوہدری نے کہا کہ عوام کو اختیار دیا جائے کہ وہ اپنا فیصلہ خود کریں، اگر ہم آزادی مارچ نہ کرتے تو ہمیں خدشہ ہے کہ ہماری آزادی ہمیشہ کیلئے ختم ہوجائے گی، وزیر داخلہ پر درجنوں مقدمات درج ہیں۔

  • مشکلات درپیش ہیں، حالات پر قابو پانے کی کوشش کررہی ہے،شاہد خاقان عباسی

    مشکلات درپیش ہیں، حالات پر قابو پانے کی کوشش کررہی ہے،شاہد خاقان عباسی

    اسلام آباد:حکومت اس وقت سخت مشکل صورت حال سے دوچار ہے، ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ حکومت کو بہت سی مشکلات کا سامنا ہے۔احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ احتساب کا حال دیکھنا ہے تو عدالتوں میں آ کر دیکھیں ، لوگوں کی تذلیل کیلئے جھوٹے کیسز بنائےگئے۔

    شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ملک میں احتساب کا نیا ادارہ بنانا ہوگا ، اتحادی حکومت کے درمیان اس حوالے سے مشاورت جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے کیسز بے شک چلتے رہے، عمران خان بھی اپنے کیسز کا سامنا کریں اور چیئرمین نیب بھی عدالتوں کے سامنے پیش ہوں۔

    سابق وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت بنے تین ہفتے ہو گئے ہیں، حکومت کو بہت سی مشکلات کا سامنا ہے ،ملک کی معاشی صورتحال نے سیاست کو ثانوی حیثیت دیدی ہے ۔انہوں نے کہا کہ معاشی حالات کو ٹھیک کرنے کیلئے ایک ٹیبل پر تمام اداروں کو بیٹھنا ہوگا ، چار سالوں میں ملکی معشیت کی تباہی کی گئی۔
    انہوں نے کہا کہ ایک سال میں اس تباہ شدہ معشیت کو ٹھیک نہیں کیا جا سکتا ہے ، اسمبلیاں توڑنا کسی چیز کا حل نہیں ہے۔

    شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ عوام چاہتی ہے کہ جنھوں نے یہ حشر کیا ملک کا ان کا بھی احتساب ہو، عمران خان نے کرپشن کی ہے ان کا بھی احتساب ہو۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی سیاست میں مداخلت ہوتی رہی ہے، یہ ہو نہیں سکتا کہ آپ مداخلت کرتے رہے ہوں اور آج ذمہ دار سیاستدان قرار پائیں۔سابق وزیر اعظم نے مزید کہا کہ اب جو فیصلے ہو رہے ہیں وہ پاکستان کے مستقبل کے لیے ہیں۔

  • تمام گریڈ کی آسامیوں پر اقلیتی کوٹہ کا خیال رکھا جانا چاہیے،سینیٹ قائمہ کمیٹی میں مطالبہ

    تمام گریڈ کی آسامیوں پر اقلیتی کوٹہ کا خیال رکھا جانا چاہیے،سینیٹ قائمہ کمیٹی میں مطالبہ

    تمام گریڈ کی آسامیوں پر اقلیتی کوٹہ کا خیال رکھا جانا چاہیے،سینیٹ قائمہ کمیٹی میں مطالبہ

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ریاستی و سرحدی امور کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر ہلال الرحمن کی زیر صدارت آج پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

    سیکریٹری لوکل گورنمنٹ خیبرپختونخواہ نےکمیٹی کو نئے ضم شدہ اضلاع کے لوکل گورنمنٹ دفاتر میں خالی اسامیوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔ کمیٹی ممبران اور چیئرمین کمیٹی نے بڑے پیمانے پر آسامیاں خالی ہونے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ خالی آسامیوں پر جولائی تک تقرریوں کا عمل مکمل ہو جائے گا۔ سینیٹر ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ تمام تقرریاں چاہے کسی بھی درجے کی ہوں ایک ضابطے، ضرورت اور میرٹ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کی جائیں۔ تقرریوں میں سیاسی عمل دخل انتہائی تشویش ناک ہے۔ سینیٹر دوست محمد خان نے تجویز دی کہ بارودی سرنگوں کے دھماکوں کی وجہ سے سابقہ فاٹا میں زخمی یا شھيد ہونےوالے افراد کے ورثاء کو ان آسامیوں پر بھرتی کے لیے ترجیح دی جائے۔ سینیٹر دنیش کمار نے اقلیتی کوٹہ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتوں کو صرف درجہ چہارم کی آسامیوں پر بھرتی کرنا نا انصافی ہے۔ تمام گریڈ کی آسامیوں پر اقلیتی کوٹہ کا خیال رکھا جانا چاہیے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر ہلال الرحمن نے ہدایت دی کہ تمام خالی آسامیوں پر جلد از جلد تقرریاں کی جائیں۔ چیرمین کمیٹی نے سابقہ فاٹا کے مسائل کو یکسو کرنے کے لیے سینیٹر ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی زیر قیادت ایک ذیلی کمیٹی قائم کردی۔ سینیٹر ہدایت اللہ ، سینیٹر حاجی ہدایت اللہ خان، اور سینیٹر دوست محمد خان کمیٹی کا حصہ ہونگے۔

    وفاقی وزیر برائے ریاستی و سرحدی امور سینیٹر طلحہ محمود نے کمیٹی کو طالبان حکومت کے آنے کے بعد افغانستان سے مہاجرینِ کی پاکستان میں آمد کے حوالے سے بتاتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے پاکستانی حکومت کی پالیسی واضع ہے۔ حکومت پاکستان کسی طور بھی غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہونے والے افغان شہریوں کو مہاجرینِ کا درجہ دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اُنکا کہنا تھا افغان ہمارے بھائی ہیں ہم نے اپنے افغان بھائیوں کے لیے بہت کچھ کیا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ افغان مہاجرینِ کو باعزت افغانستان واپس جانا چاہیے۔ سینیٹر طلحہ محمود کا کہنا تھا کہ افغانستان سے پاکستان داخلے کے تمام پوائنٹس کو ریگولیٹ کریں گے۔ افغان مہاجرین کی آڑ میں پاکستان مخالف تخریبی عناصر امن امان خراب کرنے کی نیت سے پاکستان میں داخل ہوتے رہے ہیں۔ پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کی تعداد معلوم کرنے کے لیے نادرا اور دیگر اداروں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ سینیٹر طلحہ محمود نے تشویش کا اظہار کیا کہ ماضی میں بہت سے افغان مہاجرین غیر قانونی طور پر پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے جس کا تدارک انتہائی ضروری ہے۔

    پاک پی ڈبلیو ڈی کے حکام نے کمیٹی کو سال ۲۲-۲۰۲۱ کے لیے قبائلی ضلع مہمند اور قبائلی ضلع باجوڑ میں ایس ڈی جی ترقیاتی سکیموں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ کمیٹی کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق 475 ملین کی لاگت سے گیارہ منصوبوں پر کام جاری ہے جس میں سے 384 ملین کی رقم استعمال کی جا چکی ہے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر ہلال الرحمن نے استفسار کیا کہ کس طرح صرف چالیس دن میں اندر اتنی رقم استعمال کر لی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع مہمند جیسے علاقے میں ایسا کر پانا ناممکن ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے تمام منصوبہ جات میں پیپرا رولز کی سنگین خلاف ورزی پر شدید تحفظات كا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سابقہ فاٹا کے غریب عوام کا پیسہ ہے ہم اسکو اس طرح چوری نہیں ہونے دیں گے۔ "جب کوئی منصوبہ مکمل ہی نہیں ہوا تو کیسے کنٹیکٹرز کو پیشگی ادائیگی کر دی گئی؟” پاک پی ڈبلیو ڈی کے حکام اس حوالے سے کوئی تسلی بخش جواب دینے سے قاصر رہے۔ جس پر چیئرمین کمیٹی نے ۱۷ مئی کو آئندہ اجلاس میں ڈی جی نیب خیبرپختونخواہ، ڈی جی ایف آئی اے اور ڈی سی ضلع مہمند کو طلب کر لیا۔ چیئرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ اس معاملے کی جامع تحقیقات کرتے ہوئے ذمےداران کے خلاف کارروائی کی جائیگی۔

    کمیٹی اجلاس میں سینیٹرز، انور لال دین، بہرامند خان تنگی، دنیش کمار، دوست محمد خان، گردیپ سنگھ، ہدایت اللہ، حاجی ہدایت اللہ خان، ڈاکٹر ثانیہ نشتر، شمیم آفریدی، فدا محمد، وفاقی وزیر برائے ریاستی و سرحدی امور سینیٹر طلحہ محمود، متعلقہ وزارت اور پی ڈبلیو ڈی کے حکام نے شرکت کی۔