Baaghi TV

Tag: حکومت

  • چین سے 12ہزار میگاواٹ کے سولر پینل کی درآمد متوقع

    چین سے 12ہزار میگاواٹ کے سولر پینل کی درآمد متوقع

    اسلام آباد (محمد اویس) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی میں انکشاف ہوا ہے کہ اس مالی سال چین سے 12ہزار میگاواٹ کے سولر پینل کی درآمد متوقع ہے جبکہ گذشتہ مالی سال 5ہزار میگاواٹ کے سولر پینل درآمد ہوئے ہیں۔پاکستان میں درآمدی کوئلے کی کھپت کم جبکہ مقامی کوئلے کی کھپت میں اضافہ ہوا ہے ۔ کمیٹی نے سینیٹر شہادت اعوان کے بل پر وزارت موسمیاتی تبدیلی کے حکام کو سینیٹر کے ساتھ مشاورت کرنے کی ہدایت کردی،راول ڈیم میں پانی کی آلودگی کے معاملے پر سیکرٹری ایریگیشن پنجاب،اور وزارت منصوبہ بندی کے حکام کو اگلے اجلاس میں طلب کرلیا گیا ۔وزیراعظم کی کواڈینیٹر رومینہ خورشید عالم نے بتایا کہ کوپ 29کے لیے حکومت نے فنڈز کی منظوری دے دی ہے ۔

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کا اجلاس چیئرپرسن سینیٹر شیری رحمان کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا ۔اجلاس میں بشرہ انجم بٹ،شاہ زیب درانی اور شہادت اعوان،جبکہ ان لائن قرۃ العین مری اور تاج حیدر نے شرکت کی ۔اجلاس میں بل کے محرک شہادت اعوان نے پاکستان ٹریڈ کنٹرول آف وائلڈ فونا اینڈ فلورہ ترمیمی بل 2024 پیش کرتے ہوئے کہاکہ جو پودےلگائے جائیں وہ انسانوں کے لیے خطرناک نہ ہو۔اسلام آباد میں جنگلی شہتوت انسانی صحت کے لیے خطرناک ہے اس لیےیہ بل لے کرآیا ہوں۔حکام نے بتایا کہ یہ قانون عالمی معائدوں کے بعد بنایا گیا ہے ۔ یہ چیزیں ڈالیں گے تو کنونشن میں یہ چیزیں نہیں ہیں ۔ جو سپیزیز پاکستان درآمد کرنے سے پہلے دیکھتے ہیں کہ اس سے پاکستان میں مقامی سپیزیز کو نقصان تو نہیں ہوگا ۔ درآمد ہونے والے پودے کو تو ہمیں تحقیق کرتے ہیں مگر برآمد ہونے والے پودوں کے بارے میں درآمدمی ملک کی ذمہ داری ہے کہ ان کے ملک میں نقصان تو نہیں ہوگا۔شیری رحمان نے کہا کہ پاکستان میں بازاروں میں جائیں وہ جانور لائے جارہے ہیں جو پاکستان کے قانون کی بھی خلاف ورزی ہے۔چیئرپرسن نے سیکرٹری اور کوارڈینیٹر دونوں کے کمیٹی میں عدم شرکت پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اہم قانون سازی ہورہی ہے اور دونوں کمیٹی میں موجود نہیں ہیں ۔آج وفاقی سیکرٹری کو کمیٹی میں ہونا چاہیے تھا مجھے جانور درآمد کے حوالے سے تحفظات ہیں

    کچھ دیر بعد وزیراعظم کی کوارڈینیٹر رومینہ خورشید عالم کمیٹی میں پہنچ گئیں۔حکام نے بتایا کہ ہم جانوروں کی درآمد کو نہیں روک رہے ہیں تو پیتوجن (حشرات )کو کس طرح روک سکتے ہیں ۔شاہ زیب درانی نے کہاکہ صرف انسان کے لیے خطرناک جانوروں یا پودوں کی درآمد پر پابندی کے بجائے ماحول کے لیے خطرناک جانوروں اور پودوں کی درآمد پر پابندی ہونی چاہیے ۔حکام نے کہاکہ قانون میں کوئی سقم نہیں ہے قانون کے عمل درامد کروانے میں مسائل ہیں راولپنڈی میں جو جانور ہیں وہ سمگل ہوکر پاکستان آئے ہیں ۔ کمیٹی نے وزارت کو شہادت اعون کے ساتھ مل کر بل پر مشاورت کرنے کی ہدایت کردی ۔

    چیئرمین سی ڈی اے نے کہاکہ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کے لیے ہم نے ٹینڈر دے دیا ہے فنڈنگ وزارت منصوبہ بندی نے کرنی ہے اس لیے اگلے اجلاس میں وزارت منصوبہ بندی کو بلایا جائے راول ڈیم پنجاب حکومت کی ملکیت ہے ۔کمیٹی نے راول ڈیم ایجنڈے پر پنجاب ایریگیشن سیکرٹری اور وزارت منصوبہ بندی کے حکام کو اگلے اجلاس میں بلانے کی ہدایت کردی

    کمیٹی میں نیشنل ڈیٹرمنٹ کنٹریبوشن پر بحث کی گئی ۔چیئرپرسن نے کہا کہ این ڈی سی کا مطلب ہے کہ ہر ملک نے اپنی آلودگی(زہریلی گیسوں کا اخراج)کم کرنی ہے ۔ آلودگی کم ہونے کے بجائے بڑ رہی ہے پیسے ابھی بھی فاصل فیول کے منصوبوں کو دیا جارہاہے،چئیر پرسن کمیٹی نے کہاکہ بین الاقوامی دنیا نے جو ہم سے وعدے کیے وہ کہاں ہیں، پاکستان کو ری نیو ایبل انرجی کی طرف جانا ہوگا، حکام وزارت موسمیاتی تبدیلی نے بتایا کہ 2030 تک 60٪ انرجی ری نیو ایبل ہوگی، ملک میں 2030 تک 30٪ ای وہیکلز ہونگے،لوکل سطح کے کوئلہ کو فروغ دیں گے، 2018 سے 2023 تک 4652 میگا واٹ ایڈ کیے، 68 فیصد اس میں ری نیو ایبل انرجی ہے،چین سے 12 ہزار میگاواٹ کے سولر پینل پاکستان آنے کی امید ہے ۔گذشتہ سال 5ہزار میگاواٹ کے سولر پینل درآمد ہوئے تھے ۔چیئرپرسن کمیٹی نے کہاکہ بھارت نے 19 سولر پارک بنا لیے ہیں، مارے پاس ایک قائد اعظم سولر پارک ہے

    آئینی ترامیم میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

    عمران خان نے اشارہ کیا تو بنگلہ دیش کو بھول جاؤ گے،بیرسٹر گوہر کی دھمکی

    ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

    بل پیش کرنے سے پہلے کابینہ سے منظوری لازمی ہے،بیرسٹر گوہر

    وفاقی حکومت کا علیحدہ آئینی عدالت کے قیام کا منصوبہ

    پارلیمنٹ کو کوئی بھی آئینی ترمیم کرنے کا اختیار ہے،احسن بھون

    لاہور:پاکستان کوکلئیر ویلفیئر آرگنائزیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس،اہم فیصلے کئے گئے

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

  • پی ٹی آئی کو جلو پارک گراؤنڈ لاہور میں جلسہ کی اجازت مل گئی

    پی ٹی آئی کو جلو پارک گراؤنڈ لاہور میں جلسہ کی اجازت مل گئی

    پی ٹی آئی کو جلو پارک گراؤنڈ لاہور میں جلسہ کی اجازت مل گئی ہے

    ،پنجاب حکومت نےپی ٹی آئی کو جلسے کی مشروط اجازت دی ہے،پی ٹی آئی لاہور کی قیادت گارنٹی دے گی کہ امن و عامہ خراب نہیں ہوگا، جلسے میں پی ٹی آئی رہنماؤں سے تحریری حلف نامہ لیا جائیگا،جلسہ پانچ بجے ختم ہونا چاہئیے۔باہر سے کوئی جتھا آکر لاہور کے کاروبار زندگی کو متاثر نہیں کرے گا۔44 شرائط کی بنیاد ٔپر پی ٹی آئی کو جلسے کی اجازت دی گئی ہے،

    لاہور جلسے میں علی امین معافی مانگیں،افغان جتھوں کو لانے کی اجازت نہیں،اشتہاری مجرم آئے تو گرفتارہوں گے،نابالغ بچے نہیں آئیں گے،گاڑیوں کی تلاشی،کوئی ڈنڈا نہیں،پرچم،پتلے نہیں جلائے جائیں گے،جلسے کے لئے شرائط
    پی ٹی آئی کے جلسے کے لئے حکومتی شرائط کے نکات
    پارکس اور باغبانی کی انتظامیہ سے اجازت لینی ہو گی، تمام واجبات ادا کیے جائیں گے۔پی ایچ اے واجبات وصول کرے گا۔ اسٹیج کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے منتظمین ذمہ دار ہوں گے،خواتین و حضرات کے انکلوژرز الگ الگ ہوں‌گے، ہنگامی راستے بنائے جائیں گے،بھگدڑ سے بچنے،کنٹرول کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے،پارکینگ کے لئے نجی سیکیورٹی اور رضاکاروں کی خدمات لی جائیں گے، وزیر اعلیٰ، کے پی علی امین گنڈاپور کو چاہیے کہ آٹھ ستمبر کو اسلام آباد جلسے کے دوران جو انہوں نے کہا اس پر لاہور جلسے میں عوامی طور پر معافی مانگیں۔4) شہر سے باہر کے جتھے آکر روزمرہ کے معمولات میں خلل نہیں ڈالیں گے۔ریاست مخالف/ ادارہ مخالف نعرہ بازی اور بیان نہیں ہو گا، اسلام آباد جلسہ میں نفرت انگیز تقاریر کرنے والوں‌کو اسٹیج پر نہیں آنے دیا جائے گا، کوئی اشتہاری مجرم جلسہ میں شرکت نہیں کرے گا۔ اگر ایسا ہواتوان کی گرفتاری میں سہولت فراہم کرنا انتظامیہ کی ذمہ داری ہوگی۔جلسہ، ناکام ہونے کی صورت میں بھڑکانے کے جرم میں گرفتار یاں ہوں گی،کوئی افغان جھنڈا نہیں لہرایا جائے گا اور نہ ہی افغان تنخواہ دار افرادی قوت کو جلسہ میں لایا جائے گا۔منتظمین فوکل پرسن کو نامزد کریں گے جو کوآرڈینیٹ کریں گے۔تمام مقامات پر ٹریفک اور سیکورٹی کے انتظامات کو یقینی بنایا جائے گا،منتظمین ایس پی کینٹ اور ایس پی کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ٹریفک پولیس ایک تفصیلی ٹریفک پلان نافذ کرے گی۔ عوام کو پہنچنے والے نقصان کا ذمہ دار منتظم ہوگا۔پراپرٹی اور پی ایچ اے کی فراہمی کے ایک ماہ کے اندر ادائیگی کرنی ہو گی،16) ڈیک/ساؤنڈ سسٹم کے استعمال کو اس کے تحت ریگولیٹ کیا جائے گا۔جلسہ کے دوران گراؤنڈ کے اندر ساؤنڈ سسٹم کا استعمال کیا جائے۔ جلو پارک گراؤنڈ، لاہور میں کوئی مستقل سٹیج موجود نہیں۔اس لیے کنٹینرز رکھ کر اسٹیج بنایا جائے گا۔سٹیج کے چاروں طرف لوہے کے پائپ لگائے جائیں گے۔منتظم ذمہ داری لے گا کہ کوئی غیر متعلقہ شخص وی آئی پی ایریا میں داخل نہیں ہوگا نہ ہی اسٹیج کے قریب آئے گا، آرگنائزر کی طرف سے فراہم کردہ رضا کارجلسہ کے شرکاء کو کنٹرول کرنے کا ذمہ دار ہوں گے،قطاروں کی تشکیل کو یقینی بنائیں، اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ شرکاء داخلی دروازے پر پرامن اور نظم و ضبط کے ساتھ رہیں، منتظم جنریٹر کا انتظام کرے گا۔منتظمین اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ نابالغ بچوں کو نہ لایا جائے۔ کسی کو اپنا کاروبار بند کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔سڑکوں/گلیوں پر کوئی جلوس/ریلی نہیں نکالی جائے گی۔کسی کو بھی ڈنڈوں کے ساتھ پنڈال میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ایسی کوئی بات نہیں ہوگی جس سے کسی کا احساس کو مجروح کرنے کا امکان ہو۔ آتش گیر ہتھیاروں کی نمائش اور آتش بازی پر سختی سے پابندی ہوگی۔ منتظمین کی طرف سے کوئی استقبالیہ ڈیسک قائم نہیں کیا جائے گا۔شہر کے کسی بھی حصے میں وال چاکنگ نہیں ہوگی۔34) ہر وقت پرامن ماحول برقرار رکھا جائے گا۔ قابل اعتراض/ جارحانہ نعرے ممنوع ہوں گے۔کسی کو شہر کے اندر جلسہ میں شرکت کے لیے مجبور نہیں کیا جائے گا۔ جلسہ میں شرکت کے لیے آنے والی کسی بھی گاڑی/شخص کی پولیس تلاشی لے گی،اس سلسلے میں منتظمین کی طرف سے کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کی جائے گی۔ کسی سیاسی، مذہبی جماعت یا کسی شخص کا کوئی پتلا/جھنڈا نہیں جلایا جائے گا،

    دوسری جانب پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ افسران نے دو سے آٹھ بجے جلسے کا ٹائم دیا ہے، ہم کہ رہے ہیں کہ رات گیارہ یا بارہ تک ٹائم دیا جائے،

    لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے تحریک انصاف کو جلسے کی اجازت کی درخواست پر شام پانچ بجے تک فیصلے کا حکم ملنے کے بعد ڈی سی آفس میں اجلاس ہوا،ڈپٹی کمشنر لاہور کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی کے اجلاس میں پولیس رپورٹس اور اسلام آباد جلسے کے بعد کی صورتِ حال کا جائزہ لیا گیا اور پی ٹی آئی کو جلسے کی اجازت دینے یا نہ دینے کے حوالے سے تجاویز پر بھی غور کیا گیا،

    دوسری جانب لاہور پولیس نے تھری ایم پی او کے تحت تحریک انصاف کے 42 رہنماؤں اور کارکنوں کی نظر بندی کے احکامات جاری کرنے کے لیے مراسلہ لکھ دیا ،اقبال ٹاؤن ڈویژن پولیس کی جانب سے ایک مراسلہ ارسال کیا گیا تھا فہرست میں 42 رہنماؤں اور کارکنوں کی نظر بندی کے احکامات جاری کرنے کی استدعا کی گئی تھی جن میں میاں اسلم اقبال، میاں محمود الرشید کے بیٹے میاں حسن، مہر واجد کا بھی نام شامل ہے۔فہرست میں وقاص امجد، ندیم بارا سمیت خواتین ورکرز کے نام بھی شامل کیے گئے ہیں،پولیس نے مراسلے میں الزام عائد کیا کہ یہ افراد افواج پاکستان کیخلاف انتشار پھیلاتے ہیں، یہ لوگوں کو نجی وسرکاری املاک کو نقصان پہچانے کی ترغیب دیتے ہیں، لاء اینڈ آڈر کے مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے،تھری ایم پی او کے تحت نظر بندی کے احکامات جاری کیے جائیں۔

    لاہور جلسہ کی اجازت نہ ملنے پر عمران خان نے "پلان بی” بتا دیا

    لاہور جلسہ،پی ٹی آئی اجازت کی منتظر،علی امین گنڈاپور کی حکمت عملی تیار

    اجازت دیں یا نہ دیں ہم جلسہ کریں گے،شعیب شاہین

    پی ٹی آئی کا لاہور جلسہ روکنے کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست

    ہم پر کربلا بنا دیں جلسہ تو ہر صورت کریں گے،علیمہ خان

    لاہور میں ہونے والی پی ٹی آئی جلسہ کو ناکام بنانے کے لئے کنٹینرز اٹک پہنچادیئے گئے ہیں،اٹک خورد کے مقام پر درجنوں کنٹینرز کھڑے کردیے گئے ہیں،پنجاب اور خیبر پختونحوا کے بارڈر پر کل صبح روڈ بند کرنے کا امکان ہے،باخبر ذرائع کے مطابق رات کو سڑک بند کرنے کا حکم نہیں ملا ،پولیس کا کہنا تھا کہ اگر صبح حکم ملا تو خیبر پختونحوا کی طرف سے روڈ کو بند کریں گے

  • آئینی ترامیم، اسپیکر قومی اسمبلی کی حکومت و اپوزیشن کو مصالحت کی پیشکش

    آئینی ترامیم، اسپیکر قومی اسمبلی کی حکومت و اپوزیشن کو مصالحت کی پیشکش

    پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے وفد کی اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے خصوصی ملاقات ہوئی ہے
    اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے وفد کا خیر مقدم کیا،پارلیمنٹ کی کوریج کرنے والے صحافیوں کی درپیش مشکلات پر تفصیلی بات چیت ہوئی،اسپیکر نے پی آر اے پاکستان کی پارلیمانی کوریج میں کردار کو سراہا ،اسپیکر قومی اسمبلی نے آئینی ترامیم کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کو مصالحت کروانے کی پیشکش کردی،اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کا کہنا تھا کہ حکومت چاہے تو آئینی، قانونی اور پارلیمانی معاملات پر حزب اقتدار اور حزب اختلاف کو اکٹھا بیٹھا سکتا ہوں

    پی ٹی آئی کے گرفتار اراکین کو اپنی جیب سے کھانا بھجوایا،اسپیکر ایاز صادق کا انکشاف
    آئینی ترمیم کے مسودے سے اسپیکر قومی اسمبلی بھی لاعلم نکلے،اسپیکر ایاز صادق نے بھی آئینی ترمیم کے مکمل ڈرافٹ سے لاعلمی کا اظہار کردیا،اسیپکر قومی اسمبلی ایاز صادق کا کہنا تھا کہ اراکین گرفتاری کے معاملہ پر ابتدائی رپورٹ تیار ہوچکی ہے،جلد مکمل رپورٹ تیارہوجائے گی،کچھ سی سی ٹی وی فوٹیجز دیکھی ہیں،پی ٹی آئی اراکین کی گرفتاری کا واقعہ بدقسمتی پر مبنی ہے،میرے بطور رکن تین واقعات ہوئے جن میں 2014 کا واقعہ، پارلیمان لاجز کا واقعہ اور اب گرفتاری کا واقعہ شامل ہے،گرفتار اراکین کے پروڈکشن آرڈر کسی سے مشاورت کے بغیر خود جاری کئے، گرفتار اراکین کے لئیے پارلیمنٹ لاجز کو اب جیل قرار دیا،آئی جی کو تمام پارٹیوں کی قیادت کے ساتھ بٹھایا، گرفتار اراکین کے سامنے کردیا، وفاقی وزرا اعظم نزیر تارڑ اور محسن نقوی نے گرفتار اراکین کے معاملہ پر اچھا کردار ادا کیا، گرفتار اراکین کو میری کوشش سے لاک اپ کی بجائے باعزت کمروں میں رکھا گیا،گرفتار اراکین کو اپنی جیب سے کھانا بھجوایا، پروڈکشن آرڈر کے بعد گرفتار اراکین سیدھے میرے پاس آئے، پارلیمنٹ میں سابقہ حکومت کے چارسال میں ایسا کچھ نہیں ہوا،ہم رانا ثنااللہ، سعد رفیق، خواجہ آصف کے پروڈکشن آرڈرز کے لئے اسپیکر کے پیچھے پھرتے تھے،اپوزیشن کو ایوان کی کاروائی میں بھرپور وقت دے رہا ہوں،

    بہت سے لوگ میرے اسپیکر بننے پر خوش نہیں ہیں،ایاز صادق
    اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کا کہنا تھا کہ پی اے سی کی چیئرمین شپ کے لئے بار بار اپوزیشن کو کہتے رہے کہ پینل دیں،پی اے سی سب جماعتوں کی ہے، کسی ایک کی نہیں،اگر پی اے سی کا چیئرمین نے کوئی گڑبڑ کی تو اسے “واک آؤٹ” کیا جاسکتا ہے، حکومتی اراکین کی پی اے سی میں اکثریت ہوتی ہے، ووٹ آؤٹ کیا گیا تو اچھی روایت نہیں ہوگی،آئینی ترمیم کے مسودہ کا عمومی علم تھا، صرف ابتدائی ڈرافٹ تھا، حکومت چاہے تو آئینی ترمیم کے معاملہ پر حکومت اور اپوزیشن کو ساتھ بٹھاسکتا ہوں،آئینی عدالت بنانے کے معاملہ پر چارٹر آف ڈیموکریسی میں بانی پی ٹی آئی، مولانا فضل الرحمان سمیت سب کے دستخط موجود ہیں، قومی اسمبلی کا سیشن بلانے یا غیرمعینہ مدت تک ملتوی کرنے کا اختیار حکومت کا ہے،میں نے اپنی جماعت سے اسپیکرشپ کا نہیں کہا تھا، یہ پارٹی کے دوبڑوں کا فیصلہ تھا، بہت سے لوگ میرے اسپیکر بننے پر خوش نہیں ہیں،نوازشریف کی زیادہ توجہ پارٹی کی ری آرگنائزیشن پر ہے، سٹیٹسمین ہونے کے ناطے نوازشریف سوچ سمجھ کر بات کرتے ہیں،ملک میں اچھی خبریں آرہی ہیں، افراط زر کم ہوا، شرح سود میں کمی آئی، برآمدات میں اضافہ ہوا ہے،

    رپورٹ: محمد اویس، اسلام آباد

    مجوزہ آئینی ترامیم کیخلاف درخواست پر اعتراض عائد

    آئینی ترامیم کی منظوری میں ناکامی، حکومت کا مولانا فضل الرحمان سے مزید مشاورت کا فیصلہ، رانا ثناء اللہ

    میڈیا میں شائع ہونے والا ڈرافٹ اصل نہیں ہے۔

    تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے آئینی ترمیم کے مسودے پر کوئی رضامندی ظاہر نہیں کی

    آئینی ترامیم جمہوریت پر حملہ،سیاسی جماعتوں کو شرم آنی چاہیے،علی امین گنڈا پور

    آئینی عدالتیں عالمی ضرورت ہیں، انوکھا کام نہیں کر رہے: بیرسٹر عقیل ملک

    آئینی ترمیم کی ناکام کوشش: حکومت اور اتحادیوں میں اختلافات نمایاں، بیر سٹر علی ظفر

    پیپلز پارٹی اور مولانا فضل الرحمان کی آئینی ترمیم پر بات چیت جاری ہے،خورشید شاہ

    سپریم کورٹ میں مجوزہ آئینی ترامیم کو کالعدم قرار دینے کی درخواست دائر

    آئینی ترامیم میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

    لاہور:پاکستان کوکلئیر ویلفیئر آرگنائزیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس،اہم فیصلے کئے گئے

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

  • 9 مئی کے حملوں میں عمران خان کا کردار،حکومت تفصیلات دے،بلاول

    9 مئی کے حملوں میں عمران خان کا کردار،حکومت تفصیلات دے،بلاول

    الگ الگ نجی ٹیلی ویژن چینلز پرانٹرویو دیتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آئینی ترامیم کا مبینہ مسودہ اصل مسودہ نہیں ہے ، پیپلز پارٹی اپنے منشور میں جن اصلاحات کا وعدہ کیا ہے اسے آگے بڑھانا چاہتی ہے۔ آرٹیکل 63-A کے غیر آئینی فیصلے نے ارکان پارلیمنٹ کو اپنی مرضی کے مطابق ووٹ دینے کے حق سے محروم کر دیا ہے۔ وہ اگر پارٹی پالیسی کے خلاف اپنا ووٹ دیں گے تو وہ نہ صرف اپنی رکنیت کھو دیں گے بلکہ ان کا ووٹ بھی نہیں گنا جائے گا۔ ضروری ہے کہ کم از کم اتفاق رائے ہو، جس کے لیے مولانا فضل الرحمان کی حمایت بہت ضروری ہے۔

    چیئرمین پی پی پی بلاول زرداری نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے وعدوں کے لیے اتفاق رائے پیدا کرنے کی خواہش کا اظہار کیا اور کہا کہ اس وقت جو مسودہ زیر بحث ہے وہ عارضی یعنی کچا مسودہ ہے اور مولانا فضل الرحمان یا دیگر اتحادیوں کی حمایت کے بغیر منظور نہیں ہو سکتا۔ اسے سب کی رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے، اتفاق رائے پیدا کرنے، کابینہ سے منظوری حاصل کرنے اور اسے قومی اسمبلی میں پیش کرنے کے بعد ہی پیش کیا جا سکتا ہے۔ پی پی پی کا شروع ہی سے موقف اصولی رہا ہے اور وہ ایک جامع مسودہ پیش کرنا چاہتی ہے۔ ماضی میں، ہمیں اسی طرح کی تبدیلیوں کی کوشش میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اب پی پی پی آئینی اصلاحات سے متعلق اپنا اصل مسودہ جے یو آئی کے ساتھ شیئر کرنے پر کام کر رہی ہے۔ پی ٹی آئی کو شامل کرنے کی کوششیں کی گئیں، لیکن ان کے بعد چیف آف آرمی سٹاف اور چیف جسٹس پر خطرناک اور اشتعال انگیز حملہ کیا گیا، جس سے مذاکرات کا موقع ختم ہوگیا۔ دو تہائی اکثریت کے بغیر ترامیم منظور نہیں ہوں گی۔ ہر پاکستانی اس بات سے واقف ہے کہ ہماری سیاست، پارلیمنٹ اور عدالتی نظام ٹوٹ چکا ہے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے خاندان اور پارٹی کو انصاف کے حصول کے لیے پچاس سال انتظار کرنا پڑا اور عام آدمی کی صورت حال اب اور بھی سنگین ہے۔ اصولی طور پر ملک میں عدالتی اصلاحات کی ضرورت پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ آئینی ترامیم کے لیے حکومت کی خواہشات کے حوالے سے، وہ جتنا چاہیں پرجوش ہو سکتے ہیں، لیکن پیپلز پارٹی کا مفاد، اپنے منشور اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے 2006 کے وعدے کے مطابق، میثاق جمہوریت میں تجویز کردہ بقیہ اصلاحات سے جڑا ہوا ہے۔ پی پی پی کا موقف ہے کہ ان وعدوں کو پورا کرنے سے نہ صرف عام لوگوں کو انصاف مل سکتا ہے بلکہ ہمارے عدالتی نظام کے مسائل کو بھی حل کیا جا سکتا ہے۔دنیا میں کوئی ایس مثال نہیں ملتی کہ کسی عدالت نے ڈیم بنائے ہوں یا کسی چیف جسٹس نے اپنے بچپن کے تصورات کے مطابق شہر کو تبدیل کر دیا ہواور عمارتوں کو گرا کر، یا پھلوں اور سبزیوں کی قیمتیں مقرر کیں۔ اس لیے ملک کے لیے عدالتی اصلاحات کی ضرورت پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

    وقت اور طریقہ کارسے متعلق سوال کے جواب میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ دو تہائی اکثریت ہونے کے باوجود 1973 کا آئین اتفاق رائے سے منظور کیا گیا۔ 18ویں ترمیم میں پیپلز پارٹی کے پاس سادہ اکثریت نہیں تھی پھر بھی ہم نے اتفاق رائے کرکے اٹھارہویں ترمیم منظور کی۔ موجودہ سیاسی صورتحال انتہائی پولرائزیشن میں سے ایک ہے، سیاست دان ہاتھ ملانے کو تیار نہیں۔ ہم نے ایک کمیٹی بنانے کے لیے پہل کی جو تمام سیاستدانوں کو شامل کرے گی، جیسا کہ ہماری خواہش تھی کہ پی ٹی آئی مثبت کردار ادا کرے۔ تاہم اس کوشش کے اگلے ہی روز پی ٹی آئی رہنما نے ایک خطرناک بیان دیا جس نے پیش رفت کو سبوتاژ کر دیا۔ یہ بیان نہ صرف توہین عدالت بلکہ بغاوت تھی۔ پی ٹی آئی نے ابھی بھی یہ واضح نہیں کیا کہ آیا یہ بیان ان کے رہنما کی طرف سے آیا ہے۔اس طرح پی پی پی اور مسلم لیگ ن کے لیے پی ٹی آئی کی شمولیت سے اس ترمیم کو پاس کرنا مشکل ہے۔ مثالی طور پر، ہم اپوزیشن کے ان پٹ کا خیرمقدم کریں گے، لیکن موجودہ حالات ایسا نہیں کرنے دیتے۔

    چیئرمین پیپلز پارٹی نے زور دے کر کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی تصدیق کے بغیر آئینی ترمیم کا پاس ہونا ناممکن ہے۔ اس سے ایک رات پہلے مولانا فضل الرحمان اور ان کی جماعت کو خاصے اعتراضات تھے۔ پیپلز پارٹی نے بھی واضح اور جامع عدالتی اصلاحات کے لیے اپنے تحفظات کے حوالے سے حکومت کے ساتھ بات چیت کی۔ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ مشاورت کا مقصد اسی طرز پر عمل کرنا تھا، عارضی مسودے کے حوالے سے کمیٹی کے تمام اراکین کے ان پٹ پر غور کیا جا رہا تھا۔ تب ہی ترمیم منظور ہونی تھی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ بہر حال، انتظار کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں، کیونکہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ اتفاق رائے بہت ضروری ہے۔گزشتہ روز مولانا فضل الرحمان اور ان کی جماعت کے ساتھ اس بات پر اتفاق کیا گیا تھا کہ پیپلز پارٹی کا اصل مسودہ جے یو آئی کے ساتھ شیئر کیا جائے گا، جب کہ جے یو آئی اپنے مسودے پر کام کرے گی۔ اگران مسودوں پر اتفاق رائے ہو جائے تو آئینی ترامیم کو دو تہائی سے منظور کرانا ممکن ہو جائے گا۔ اگرچہ ہم چاہتے ہیں کہ یہ عمل تیزی سے آگے بڑھے، لیکن ہماری ترجیح اپنے مقاصد کو حاصل کرنا ہے۔ اس میں ایک یا دو ماہ سے زیادہ کا وقت لگ سکتا ہے، لیکن مولانا کی خواہش ہے کہ پی ٹی آئی بھی اس عمل میں شامل ہو۔

    چیئرمین پی پی پی نے واضح کیا کہ پی پی پی کے مسودے میں ججوں کی عمر کے متعلق نہ کوئی بات کی اور نہ ہی پارٹی نے اس پر کوئی توجہ مرکوز کی جبکہ حکومت ججوں کی عمر کے متعلق تبدیلیاں چاہتی تھی۔ پیپلز پارٹی نے ججوں کی ملازمت کی ابتدا کی عمر کی حد کم کرنے کی حمایت کی جس پر حکومت نے اتفاق کیا اور اسے مسودے میں شامل کر لیا۔ حکومت نے چیف جسٹس کی زیادہ سے زیادہ عمر 3 سال کے ساتھ 67 سال کرنے کی تجویز دی تھی۔ جے یو آئی نے موجودہ عمر کی حد 65 سال برقرار رکھنے کی تجویز دی۔ ہماری جماعت کا خیال ہے کہ عمر کی حد مقرر کرنا، چاہے 65 ہو یا 67، کو انفرادی طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جس کا مقصد کسی کوکسی عہدے سے باہر رکھنا نہیں۔ اس لیے پی پی پی کے مسودے میں عمر کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا، بجائے اس کے کہ آئینی عدالتوں کے لیے مدت پر مبنی حدیں تجویز کی جائیں۔آئینی عدالتوں کا مقصد عام آدمی کے لیے انصاف کی فراہمی میں تیزی لانے اور ہمارے نظام کو جدید دور کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور جے یو آئی کی تجاویز کی بنیاد پر اب اتفاق رائے ہونا ہے۔ موجودہ عدالتی تقرری کے طریقہ کار کو "ججوں کا، ججوں کے لیے، ججوں کے ذریعے” کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے۔ عدلیہ کی جانب سے اپنے ارکان کی تقرری کی عالمی نظیر نہیں ملتی۔

    چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ عدلیہ میں اصلاحات کی سابقہ کوششوں کو چیف جسٹس افتخار چوہدری نے ناکام بنایا، جنہوں نے آئین کوختم کرنے کی دھمکیاں دے کر حکومت کو بلیک میل کیا۔ اس کے بعد سے پیپلز پارٹی مسلسل ان تبدیلیوں کی وکالت کرتی رہی ہے۔ میرا آج کا مشورہ یہ ہے کہ 18ویں ترمیم کی طرف واپس آو ۔ مولانا فضل الرحمان کی جماعت نے تقرری کمیٹی میں عدلیہ کو پارلیمنٹ کے نمائندوں کے ساتھ ضم کرنے کی تجویز دی تھی۔ پیپلز پارٹی کو اس تجویز پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔چیئرمین پی پی پی نے یہ بھی نوٹ کیا کہ مسودے میں پی پی پی کا ان پٹ اس تفہیم کے ساتھ دیا گیا تھا کہ مولانا فضل الرحمان پہلے ہی حکومت کے ساتھ منسلک ہیں۔ پیپلز پارٹی کی طرح مولانا فضل الرحمان نے عارضی مسودے پر اہم اعتراضات اٹھائے تھے۔ پیپلز پارٹی اب جے یو آئی کے ساتھ متفقہ دستاویز تیار کرنے کے لیے مسودوں کا تبادلہ کرے گی۔ چیف جسٹس کی ابتدائی تقرری ایک وقتی عمل کی ضرورت ہوگی۔ اس کے بعد نئے چیف جسٹس دیگر سینئر ججوں کے ساتھ مل کر مستقبل کا طریقہ کار وضع کر سکتے ہیں۔ 1996 سے پہلے، وزیر اعظم کے پاس چیف جسٹس کی تقرری کا اختیار تھا، جو بعد میں سپریم کورٹ میں چلا گیا۔ ایک تجویز یہ ہے کہ یہ اختیار وزیر اعظم کو واپس کیا جائے لیکن پیپلز پارٹی کا خیال ہے کہ موجودہ تناظر میں یہ فیصلہ صدر اور عدلیہ یا جوڈیشل کمیشن کی مشاورت سے ہونا چاہیے۔چیئرمین پی پی پی نے یہ کہتے ہوئے نتیجہ اخذ کیا کہ اگرچہ سیاسی ارادے مختلف ہوسکتے ہیں، پی پی پی اور جے یو آئی کے درمیان اتفاق رائے اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ دونوں جماعتیں پی ٹی آئی یا مسلم لیگ (ن) کے مقابلے میں کم متعصب ہیں، آئینی ترامیم پر معاہدہ کرنے کے لیے زیادہ جگہ فراہم کرتی ہیں۔ ترامیم فرد یا عمر کے لحاظ سے نہیں ہونی چاہئیں۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور منصور علی شاہ قابل احترام شخصیات ہیں، دونوں شہید ذوالفقار علی بھٹو کیس کے بینچ کا حصہ تھے، انہیں متنازعہ نہ بنایا جائے۔ چیئرمین بلاول نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ جسٹس منصور علی شاہ اگلے چیف جسٹس ہوں گے۔ قاضی فائز عیسیٰ پہلے چیف جسٹس ہیں جنہوں نے اپنے اختیارات میں کمی کی اور پریکٹس اینڈ پروسیجرز ایکٹ پر اتفاق کیا کیونکہ یہ پارلیمنٹ کی مرضی تھی، جیسا کہ صدر زرداری نے اپنے اختیارات پارلیمنٹ کو منتقل کیے تھے۔ جہاں تک عام شہریوں کے لیے فوجی ٹرائلز کا تعلق ہے، اس سلسلے میں دو تجاویز تھیں۔ پیپلز پارٹی فوجی عدالتوں کے حوالے سے اصولی موقف رکھتی ہے اور ان کی حمایت نہیں کرتی۔ تاہم، ایسی مثالیں موجود ہیں جب پیپلز پارٹی نے ایسے اقدامات کی حمایت کی ہے۔ پیپلز پارٹی اس وقت ایسے اقدامات کی حمایت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے، اس لیے جہاں تک فوجی عدالتوں کا تعلق ہے، حکومت کے پاس آئینی ترمیم کے لیے ضروری اکثریت نہیں ہے۔ جہاں تک فوجی تنصیبات پر حملوں کا تعلق ہے، ہم ان تحفظات پر غور کرنے کے لیے تیار تھے جن کا اطلاق کیا جا سکتا ہے۔ تاہم جے یو آئی سے بات کرنے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ آرٹیکل 8 میں ترمیم کے لیے سیاسی موقع کی کمی ہے۔ اگر حکومت واقعی اس حوالے سے قانون سازی ضروری سمجھتی ہے تو پیپلز پارٹی مطالبہ کرے گی کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کا مشترکہ قومی سلامتی اجلاس بلایا جائے۔ تاہم ایسی تبدیلیوں کو موجودہ عدالتی اصلاحات کے ساتھ جوڑنا پیپلز پارٹی کے خیال میں ممکن نہیں۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ حکومت 9 مئی کے حملوں میں عمران خان کے کردار کی تفصیلات پیش کرے۔

    آئینی ترامیم کی منظوری میں ناکامی، حکومت کا مولانا فضل الرحمان سے مزید مشاورت کا فیصلہ، رانا ثناء اللہ

    میڈیا میں شائع ہونے والا ڈرافٹ اصل نہیں ہے۔

    تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے آئینی ترمیم کے مسودے پر کوئی رضامندی ظاہر نہیں کی

    آئینی ترامیم جمہوریت پر حملہ،سیاسی جماعتوں کو شرم آنی چاہیے،علی امین گنڈا پور

    آئینی عدالتیں عالمی ضرورت ہیں، انوکھا کام نہیں کر رہے: بیرسٹر عقیل ملک

    آئینی ترمیم کی ناکام کوشش: حکومت اور اتحادیوں میں اختلافات نمایاں، بیر سٹر علی ظفر

    پیپلز پارٹی اور مولانا فضل الرحمان کی آئینی ترمیم پر بات چیت جاری ہے،خورشید شاہ

    سپریم کورٹ میں مجوزہ آئینی ترامیم کو کالعدم قرار دینے کی درخواست دائر

    آئینی ترامیم میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

  • آئینی ترامیم،حکومت کا پی ٹی آئی سے رابطہ،تفصیلات سامنے آ گئیں

    آئینی ترامیم،حکومت کا پی ٹی آئی سے رابطہ،تفصیلات سامنے آ گئیں

    آئینی ترمیم سے متعلق اتفاق رائے کا معاملہ،حکومت نے پی ٹی آئی سے آئینی ترامیم بارے رابطہ کیا ہے

    حکومت نے تحریک انصاف سے ڈرافٹ پر غور کرنے کی درخواست کی ہے، باخبر ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے تحریک انصاف سے ڈرافٹ کا جائزہ لینے پر غور کی استدعا کی، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے پیر کے روز گرفتار اراکین کے اعزاز میں ظہرانہ دیا تھا، ظہرانے میں رانا ثناء اللہ نے پی ٹی آئی اراکین سے ڈرافٹ پر لیگل ٹیم سے مشاورت کا کہا،رانا ثناء اللہ نے ظہرانے میں ڈرافٹ کیلئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ سے ٹیلیفونک رابطے میں اپوزیشن کو ڈرافٹ دینے کا کہا،رانا ثناء اللہ نے پی ٹی آئی اراکین سے ڈرافٹ بارے بانی پی ٹی آئی سے مشاورت کا کہا،پی ٹی آئی اراکین نے حکومت کو مجوزہ آئینی ترمیم پر پی ٹی آئی قیادت سے رابطے کی تجویز دی،

    آئینی ترامیم کی منظوری میں ناکامی، حکومت کا مولانا فضل الرحمان سے مزید مشاورت کا فیصلہ، رانا ثناء اللہ

    میڈیا میں شائع ہونے والا ڈرافٹ اصل نہیں ہے۔

    تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے آئینی ترمیم کے مسودے پر کوئی رضامندی ظاہر نہیں کی

    آئینی ترامیم جمہوریت پر حملہ،سیاسی جماعتوں کو شرم آنی چاہیے،علی امین گنڈا پور

    آئینی عدالتیں عالمی ضرورت ہیں، انوکھا کام نہیں کر رہے: بیرسٹر عقیل ملک

    آئینی ترمیم کی ناکام کوشش: حکومت اور اتحادیوں میں اختلافات نمایاں، بیر سٹر علی ظفر

    پیپلز پارٹی اور مولانا فضل الرحمان کی آئینی ترمیم پر بات چیت جاری ہے،خورشید شاہ

    سپریم کورٹ میں مجوزہ آئینی ترامیم کو کالعدم قرار دینے کی درخواست دائر

    آئینی ترامیم میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

  • عارف علوی بھی مولانا فضل الرحمان کے گھر پہنچ گئے

    عارف علوی بھی مولانا فضل الرحمان کے گھر پہنچ گئے

    جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان سے تحریک انصاف کا وفد ملنے پہنچ گیا

    جے یو آئی قائد مولانا فضل الرحمان سے سابق صدر عارف علوی کی ملاقات ہوئی ہے،ملاقات میں پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ بھی موجود تھے،ملاقات میں آئینی ترمیم کے حوالے سے مجوزہ تجاویز کا جائزہ لیا گیا،ملاقات مولانا فضل الرحمان کی رہائشگاہ پر ہوئی،ملاقات میں اہم سیاسی امور پر بھی حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا،اس موقع پر مرکزی ناظم انتخاب مولاناعطاءالحق درویش اور مفتی اسعدمحمود بھی موجود تھے.

    واضح رہے کہ آئینی ترامیم کو لے کر مولانا فضل الرحمان اس وقت اہمیت اختیار کر چکے ہیں، گزشتہ روز پیپلز پارٹی کے وفد نے بھی بلاول زرداری کی قیادت میں مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی تھی، اس سے قبل بھی بلاو ل کی مولانا سے ملاقات ہو چکی ہے، محسن نقوی، وزیر قانون کی بھی مولانا فضل الرحمان سے ملاقاتیں ہو چکی ہیں، گزشتہ تین دنوں میں پی ٹی آئی وفد کی بھی مولانا فضل الرحمان سے یہ تیسری ملاقات ہے.

    آئینی ترامیم جمہوریت پر حملہ،سیاسی جماعتوں کو شرم آنی چاہیے،علی امین گنڈا پور

    آئینی عدالتیں عالمی ضرورت ہیں، انوکھا کام نہیں کر رہے: بیرسٹر عقیل ملک

    آئینی ترمیم کی ناکام کوشش: حکومت اور اتحادیوں میں اختلافات نمایاں، بیر سٹر علی ظفر

    پیپلز پارٹی اور مولانا فضل الرحمان کی آئینی ترمیم پر بات چیت جاری ہے،خورشید شاہ

    سپریم کورٹ میں مجوزہ آئینی ترامیم کو کالعدم قرار دینے کی درخواست دائر

    واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی، سینیٹ میں آئینی ترامیم پیش کی جانی تھیں تا ہم اتحادی جماعتوں کی جانب سے مزید مشاورت کے لئے وقت مانگا گیا جس پر حکومت نے آئینی ترامیمی بل پیش نہ کیا، قومی اسمبلی،سینیٹ کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی ہو چکا ہے، حکومت کو نمبر پورے کرنے کے لئے مولانا فضل الرحمان کی مدد درکار ہے، دو دنوں میں نصف درجن سے زائد حکومتی نمائندوں کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقاتیں ہوئیں تاہم مولانا فضل الرحمان اس بات پر ڈٹے رہے کہ آئینی ترامیم کا مسودہ دیکھ کر وہ مشاورت کریں گے، تا ہم وہ ایکسٹینشن والی ترامیم کی مخالفت کریں گے،

    آئینی ترامیم میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

    آئینی ترامیم،قومی اسمبلی،سینیٹ اجلاس آج،مولانا فضل الرحمان اہمیت اختیار کر گئے

    عمران خان نے اشارہ کیا تو بنگلہ دیش کو بھول جاؤ گے،بیرسٹر گوہر کی دھمکی

    ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

    بل پیش کرنے سے پہلے کابینہ سے منظوری لازمی ہے،بیرسٹر گوہر

    وفاقی حکومت کا علیحدہ آئینی عدالت کے قیام کا منصوبہ

    پارلیمنٹ کو کوئی بھی آئینی ترمیم کرنے کا اختیار ہے،احسن بھون

    لاہور:پاکستان کوکلئیر ویلفیئر آرگنائزیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس،اہم فیصلے کئے گئے

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

  • سپریم کورٹ میں مجوزہ آئینی ترامیم کو کالعدم قرار دینے کی درخواست دائر

    سپریم کورٹ میں مجوزہ آئینی ترامیم کو کالعدم قرار دینے کی درخواست دائر

    سپریم کورٹ میں مجوزہ آئینی ترامیم کو کالعدم قرار دینے کی درخواست دائر کر دی گئی

    درخواست عابد زبیری، شفقت محمود، شہاب سرکی اور اشتیاق احمد کی جانب سے دائر کی گئی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ مجوزہ آئینی ترامیم کو اختیارات کی تقسیم اور عدلیہ کی آزادی کیخلاف قرار دیا جائے، وفاقی حکومت کو آئینی ترامیم سے روکا جائےاور بل پیش کرنے کاعمل بھی روکا جائے، پارلیمنٹ اگر آئینی ترمیم کرلے تو صدر مملکت کو دستخط کرنے سے روکا جائے،عدلیہ کی آزادی، اختیارات اور عدالتی امور کو مقدس قرار دیا جائے،

    واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی، سینیٹ میں آئینی ترامیم پیش کی جانی تھیں تا ہم اتحادی جماعتوں کی جانب سے مزید مشاورت کے لئے وقت مانگا گیا جس پر حکومت نے آئینی ترامیمی بل پیش نہ کیا، قومی اسمبلی،سینیٹ کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی ہو چکا ہے، حکومت کو نمبر پورے کرنے کے لئے مولانا فضل الرحمان کی مدد درکار ہے، دو دنوں میں نصف درجن سے زائد حکومتی نمائندوں کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقاتیں ہوئیں تاہم مولانا فضل الرحمان اس بات پر ڈٹے رہے کہ آئینی ترامیم کا مسودہ دیکھ کر وہ مشاورت کریں گے، تا ہم وہ ایکسٹینشن والی ترامیم کی مخالفت کریں گے،

    آئینی ترامیم میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

    آئینی ترامیم،قومی اسمبلی،سینیٹ اجلاس آج،مولانا فضل الرحمان اہمیت اختیار کر گئے

    عمران خان نے اشارہ کیا تو بنگلہ دیش کو بھول جاؤ گے،بیرسٹر گوہر کی دھمکی

    ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

    بل پیش کرنے سے پہلے کابینہ سے منظوری لازمی ہے،بیرسٹر گوہر

    وفاقی حکومت کا علیحدہ آئینی عدالت کے قیام کا منصوبہ

    پارلیمنٹ کو کوئی بھی آئینی ترمیم کرنے کا اختیار ہے،احسن بھون

    لاہور:پاکستان کوکلئیر ویلفیئر آرگنائزیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس،اہم فیصلے کئے گئے

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

  • سینیٹ اجلاس ملتوی،7 ستمبر کو سرکاری چھٹی کی قرارداد منظور

    سینیٹ اجلاس ملتوی،7 ستمبر کو سرکاری چھٹی کی قرارداد منظور

    اسلام آباد (محمد اویس) سینیٹ نے 7ستمبر کو یوم ختم نبوت کے طور پر سرکاری سطح پر منانے اور سرکاری چھٹی کرنے کی قرار داد متفقہ طور پر منظور کرلی،سینیٹ اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا ۔

    سینیٹ کا اجلاس ڈپٹی چیئرمین سیدال خان کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا اجلاس مقررہ وقت سے 8منٹ تاخیر سے شروع ہوا۔سینیٹر عطاالرحمن نے قرارداد پیش کی کہ 7ستمبر 1974کا تاریخی دن جس دن جس دن پاکستان کی پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا کی یاد میں مناتے ہوئے: یہ دیکھتے ہوئے یہ دن بلاشبہ نہ صرف پاکستان کے لیے بلکہ پوری مسلم دنیا کے لیے تاریخی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس دن مسلمانوان کی طویل جدوجہد بالآخر کامیابی سے ہمکنار ہوئی یہ احساس کرتے کہ ان تاریخی لمحات کو اجاگر کرنا ناگزیر ہے لہذا سینیٹ آف پاکستان حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ یہ دن سرکاری سطح پر نایا جائے اور اس دن کو قومی سطح پر چھٹی کا اعلان کیا جائے ۔قرار متفقہ طور پر منظور کرلی گئی ۔ ڈپٹی چیئرمین نے سینیٹ کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا

    واضح رہے کہ سینیٹ میں آج آئینی ترامیم کا مسودہ پیش نہ کیا جا سکا، سینیٹ اجلاس اب دوبارہ کب ہو گا؟ اس بارے حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا تاہم حکومت جب آئینی ترمیم کے حوالہ سے ہوم ورک مکمل کر لے گی، مطلوبہ نمبرز پورے ہو جائیں گے تو سینیٹ اجلاس پھر بلایا جائے گا.

    آئینی ترامیم میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

    آئینی ترامیم،قومی اسمبلی،سینیٹ اجلاس آج،مولانا فضل الرحمان اہمیت اختیار کر گئے

    عمران خان نے اشارہ کیا تو بنگلہ دیش کو بھول جاؤ گے،بیرسٹر گوہر کی دھمکی

    ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

    بل پیش کرنے سے پہلے کابینہ سے منظوری لازمی ہے،بیرسٹر گوہر

    وفاقی حکومت کا علیحدہ آئینی عدالت کے قیام کا منصوبہ

    پارلیمنٹ کو کوئی بھی آئینی ترمیم کرنے کا اختیار ہے،احسن بھون

    لاہور:پاکستان کوکلئیر ویلفیئر آرگنائزیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس،اہم فیصلے کئے گئے

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

    معذوری کا شکار طالبات کی ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ آمد،خصوصی تقریب

  • حکومت نے مولانا فضل الرحمان کے تحفظات دور کردئیے

    حکومت نے مولانا فضل الرحمان کے تحفظات دور کردئیے

    اسلام آباد: قومی اسمبلی اور سینیٹ سے آج ہی آئینی ترمیمی بل منظور کرانے کا فیصلہ ہوگیا ہے-

    باغی ٹی وی :ذرائع کے مطابق حکومت نے مولانا فضل الرحمان کی حمایت حاصل کرلی اور جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے تحفظات دور کردیے جبکہ پارلیمان کی خصوصی کمیٹی، قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں کے وقت تبدیل کردیے گئے، وفاقی کابینہ کا اجلاس کچھ دیر میں شروع ہوگا، آئینی بل کے مسودے کی منظوری دی جائے گی۔

    ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان آئینی ترمیم سے متعلق حکومت کا ساتھ دیں گے، آئینی ترمیم ایک جامع پیکج ہے جس میں آئینی عدالت بنائی جائے گی، آئینی عدالت کے لیے ججز کی تقرری کا بھی طریقہ کار وضع کیا جا رہا ہے آئینی عدالت کے لیے نئے سرے سے ججز کی تقرری ہو گی، آئینی عدالت بنانے کا مقصد عام سائلین کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان بلاول بھٹوزرداری نے ثالث کا کردار ادا کیا، گزشتہ رات ہونے والی ملاقات میں بلاول بھٹو زرداری اور مولانا فضل الرحمان نے اختلافی معاملات کو سلجھایا جس کے بعد قومی اسمبلی اور سینیٹ میں آئینی ترمیم آج پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

    حکومتی ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی اور سینیٹ میں حکومت کے نمبر پورے ہیں، منحرف ارکان کے ووٹ سے متعلق بھی ترامیم کی جا رہی ہیں جبکہ آئین کے آرٹیکل 63 اے میں ترمیم کے لیے بھی مسودہ تیار ہے حکومتی ذرائع نے سینیٹ میں بھی آئینی ترامیم کے لیے نمبر گیم مکمل ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

    اس سے قبل مسلم لیگ ن کے رہنما اور ممبر قومی اسمبلی طارق فضل چوہدری نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ آئینی ترمیم کے لیے حکومت کے نمبر پورے ہیں۔

    دوسری جانب حکومت اور جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) ف کے درمیان معاملات طے نہ پاسکے، حکومت کی جانب سے آئینی ترمیم سے متعلق آج بل پیش نہ کیے جانے کا بھی امکان ہے پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس سید خورشید شاہ نے طلب کرلیا، سید خورشید شاہ کی زیر صدارت خصوصی کمیٹی کا اجلاس 2 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوگا-

  • آپکے نمبر پورے نہیں ، نکاح بالجبر کررہے ہیں،شبلی فراز کا سینیٹ میں خطاب

    آپکے نمبر پورے نہیں ، نکاح بالجبر کررہے ہیں،شبلی فراز کا سینیٹ میں خطاب

    سینیٹ کا اجلاس چیئرمین یوسف رضاگیلانی کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔

    ضلع خیرپور کو گیس نہ دینے کے حوالے سے توجہ دلاؤ نواٹس ضمیر حسین نے پیش کرتے ہوئے کہاکہ سپیشل اکنامک زون کو گیس دی جائے ۔ اس وجہ سے اکنامک مکمل فعال نہیں ہے ۔وزیر پیٹرولیم مصدق ملک نے کہا کہ خیرپور میں 7 سے 8سال کی ذخائر باقی رہ گئے ہیں جہاں سے گیس نکل رہی ہے وہاں نہیں دی جاتی بلکہ مین پول میں گیس شامل ہوتی ہے ۔اکنامک زون کے لیے30فیصد ایل این جی اور 70فیصد قدرتی گیس دی جاتی ہے ۔

    سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ آج اور کل بھی اجلاس بلایا گیا ہے سارے ملک میں باز گشت ہے کہ آئینی ترامیم لائی جارہی ہے آئین میں ترمیم جمہوری نظام میں نارمل ہے وہ قوانین جو اس ملک کو چلانے میں مدد دہتے ہیں عوام کی بہتری کے لیے ہوتے ہیں وہ اس ایوان کی بنیادی ذمہ داری ہے ۔ کسی بھی قانون سازی کے لیے جلدی میں پکڑا جاتا ہے کہ اس کو پاس کردیں کبھی آئی ایم ایف اور باقیوں کہاجاتا ہے قانون سازی کو بلڈوز کیا جارہا ہے ۔ممبران کو توڑا جارہاہے رحیم یار خان کا الیکشن ہوا اور فورا اس کی کامیابی کا نوٹیفکیشن کردیا ہے کیوں کہ ان کو ممبران چاہیے ۔ آئینی ترمیم اتحادیوں اور اپنے لوگوں کے ساتھ بھی شیئر نہیں کیا گیا ہے 9ستمبر کا واقع نہ دہرایا جائے ۔ ایوان میں مکمل بحث ہونی چاہیے ۔ آئین کی ترمیم کو معمولی ترمیم نہیں سمجھ سکتے ہیں ترمیم کو مکمل مسٹری بنایا ہواہے تیار نہیں تھے تو ایوان کیوں بلایا گیا ۔ ترمیم کے لیے آپ کے نمبر پورے نہیں ہیں آپ نکاح بالجبر کررہے ہیں ۔ وزیرقانون کو ایوان کو بتانا چاہیے کہ وہ کیا کررہے ہیں ترمیم جب لائی جاتی ہے تو عوام کو قائل کیا جاتا ہے ترمیم کو شروع سے ہی متنازعہ بنادیا گیا ہے پارٹی کی شناخت نظریہ سے ہوتی ہے ۔ ذولفقار علی بھٹو نے اس ملک کو متفقہ آئین دیا تھا آج پیپلزپارٹی جمہوری اقتدار کو پسے پشت ڈال رہی ہے ۔ پارٹی نظریہ کو چھوڑ دے تو وہ سکڑجاتی ہیں ۔ پارٹی اصول کے بجائے مفادات کی سیاست کریں تو اس کا حجم سکڑ جاتا ہے ان کو پارلیمنٹ میں آنے کے لیے بیساکھیوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔پاکستان میں غیر یقینی کی صورتحال ہے یہاں ہم نے کبھی نہیں دیکھا۔ بلوچستان میں امن وامان کی خطرناک صورتحال ہے خیبرپختونخوا ایک تجربہ سے گزر رہاہے اصل قربانیاں کے پی کے کے عوام نے دی ہے ان کا کلچر تاریخ تباہ ہوئی ہے جن قوتوں نے 40سال پہلے جس جنگ میں مبتلا کیا تھا آج بھی وہی کررہے ہیں عبدولی خان نے اس وقت کہاتھا کہ یہ جہاد نہیں فساد ہے ،اگر ملک کے مفاد میں قانون سازی کررہے ہیں تو چیئرمین صاحب آپ ہمارے ساتھ شیئر کریں خاص طبقے کی مفادات کے لیے قانون سازی ہورہی ہے ۔ پارلیمان ہر قسم کی قانون سازی کرسکتا ہے اگر ان کے پاس مطلوبہ ارکان ہوں ۔ آپ آئین کی بنیاد کو تبدیل کررہے ہیں 8فروری کا الیکشن ٹھیک تھا جب الیکشن ہی ٹھیک نہیں تو آئین میں ترمیم کیوں کررہے ہیں اچھا کام سامنے اور برا کام رات کے اندھیروں میں کیا جاتا ہے ۔حکومت کی نیت ٹھیک نہیں ہے اس لیے جلدی میں کام کئے جارہے ہیں۔ آئین کی حفاظت کی ذمہ داری پیپلزپارٹی اور ان کے نوسہ بلاول پر بھی ہے ۔ گیلانی کے خلاف عدالت میں نواز شریف گئے تھے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نے ایک دوسرے کو جیلوں میں ڈالا مقدمے بنائے ۔ ایک دوسروں کا چور آپ کہتے تھے ہم نے شہبازشریف پر ایک کیس منی لانڈرنگ کا کیا تھا ۔آپ ملک میں این آر او ون اور ٹو کیا تھا ۔ جس سے جمہوریت کو نقصان ہوا۔ اس کی وجہ سے ایماندار لوگ بھی کرپشن کرنے لگے۔وزیراعلیٰ کے پی کے کے خلاف باتوں مذمت کرتے ہیں ۔خیبرپختونخوا کے عوام وزیراعلیٰ کے پی کے کی سپورٹ کرتے ہیں۔ کل فکس میچ کے ذریعے ایوان کو ڈسٹرب کیا گیا ۔ میں نے چیئرمین صاحب آپ کو درخواست کی ہے کہ اپوزیشن میں جو لوگ بیٹھے ہیں ان کو حکومتی بنچوں پر بیٹھایا جائے اس کا غلط تاثر جاتا ہے

    حکومت کی ذمہ داری ہے کہ مرضی کا قانون لائیں۔اسحاق ڈار
    چیئرمین سینیٹ یوسف رضاگیلانی نے کہاکہ مجھے ابھی بھی بل کا نہیں پتہ ہے ۔قائد ایوان سینیٹر اسحاق ڈار نے کہاکہ قومی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی میں کافی چیزیں زیر بحث آئی ہیں وہ اپنے چیئرمین سے پوچھ لیں کہ کیا چیزیں زیر بحث آئی ہیں۔ آج اجلاس اس لیے بلایا ہے کہ آپ کے دس ارکان قید ہیں وہ گھومیں پھریں ۔حکومت کی ذمہ داری ہے کہ مرضی کا قانون لائیں۔ انہوں نے ماضی میں تیز ترین قانون سازی کی ۔ ہم حکمت علمی کے ساتھ کام کررہے ہیں کوئی چھپ کرکام نہیں کررہے ہیں ۔ میثاق جمہوریت میں تھا کہ آئینی عدالت ہونی چاہیے میثاق جمہوریت پر عمران خان نے بھی دستخط کئے ہیں۔ 18ویں ترمیم میں ہم جو ترمیم نہیں کر سکے وہ اب کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ سول بیوروکریسی کی مدت ملازمت نہیں بڑھائی جارہی ہے ۔18ویں ترمیم میں جو مسائل ہیں ان کو ٹھیک کیا جائے گا ۔عجیب فیصلہ آیا کہ پارٹی کے خلاف ووٹ دیں گےتو ووٹ بھی نہیں گنا جائے گا اور نااہلی بھی ہوگی ۔عوام کو انصاف نہیں ملتا ہے 11سال پہلے فوج داری ریٹ دی ہیں ابھی تک نہیں لگی ہیں ۔ہمارے حکومت میں ایک بھی نیب کا کیس اپوزیشن پر نہیں بنایا گیا ہے ۔اگر کوئی بنایا ہے تو مجھے بتائیں ۔ سیاسی بیان پر عمران خان نے 126دن کا دھرنا دیا ۔ اکانومی کا بیڑا غرق کیا گیا ۔ قائد حزبِ اختلاف کو یقین دہانی کراتا ہوں کہ کوئی سرپرائز نہیں ہے ۔پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر بنایا ہے ہم نے میزائل پروگرام شروع کیا پابندیوں کا دور بھی گزارا ہے ۔

    سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہاکہ سپریم کورٹ کا اپنے پارٹی کے احکامات کے خلاف ووٹ دینے والا صرف نااہل ہوگا اس کا ووٹ نہ گننے کا فیصلہ آئین کے خلاف تھا ۔سینیٹر ایمل ولی خان نے کہاکہ سپریم کورٹ ایک پارٹی کو آؤٹ آف دی وے جاکر ریلیف دے رہی ہے ۔ ہم عوام کی مفاد میں آئینی ترمیم لارہے ہیں ۔ خارجہ پالیسی عوامی مفاد میں بنے گی،سینیٹر سرمد علی نے کورم کی نشاندہی کردی ۔ جس پر پانچ منٹ گھنٹیاں بجائی گئی۔ جس پر اجلاس اتوار 4بجے تک اجلاس ملتوی کردیا گیا

    عمران خان نے اشارہ کیا تو بنگلہ دیش کو بھول جاؤ گے،بیرسٹر گوہر کی دھمکی

    ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

    آئینی ترمیم کے لیے نمبر پورے نہیں، مخالفت کریں گے،عمر ایوب

    قومی اسمبلی اجلاس شروع،بلاول کا خطاب،اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی

    بل پیش کرنے سے پہلے کابینہ سے منظوری لازمی ہے،بیرسٹر گوہر