Baaghi TV

Tag: راولپنڈی

  • راولپنڈی میڈیکل کالج, قدیمی درخت کاٹ کر فروخت کرنے کا انکشاف

    راولپنڈی میڈیکل کالج, قدیمی درخت کاٹ کر فروخت کرنے کا انکشاف

    راولپنڈی :راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی میں تعینات وائس چانسلر نے وزیراعظم عمران خان کے احکامات ہوا میں اُڑا دئیے ہیں جبکہ کلین گرین پاکستان کی کامیاب کمپین کے باوجود پروفیسر عمر کے آشرباد سے یونیورسٹی کے سب انجینئر اکرام ستی اور آفیسر انچارج ایڈمنسٹریشن ڈاکٹر منور کی مبینہ ملی بھگت سے یونیورسٹی کے گارڈن میں لگے سینکڑوں قدیمی درخت کاٹنے کا انکشاف ہوا ہے جس کی قیمتی لکڑی کو مختلف مارکیٹوں میں غیر قانونی طور پر فروخت کردیا گیا ہے جبکہ ماضی میں بھی یونیورسٹی سے سینکڑوں درخت چوری ہو چکے ہیں جس کے خلاف آج تک کوئی بھی انکوائری عمل میں نہیں لائی گئی ہیں ۔ درختوں کی لکڑے بارے لے جاتے وقت سب انجینئر اکرام ستی کی گاڑی کو گیٹ پر کھڑے سیکورٹی گارڈ نے روک لیا جس نے اکرام ستی سے سامان باہر لے کر جانے کا پاس طلب کیا تاہم بعدازاں بحث تکرار کے بعد سیکورٹی گارڈ نے گاڑی باہر لیکر جانے کی اجازت دیدی جبکہ اگلے دن سیکورٹی انچارج نے اکرام ستی سے بحث و تکرار کی اور مستقبل میں بغیر انٹری پاس سامان یونیورسٹی سے باہر نہ لے کر جانے کی ہدایت کی ہے تاہم یونیورسٹی کے اعلیٰ حکام نے معاملے کو دبا دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی میں مبینہ طور پر عرصہ دراز سے لگے قیمتی درخت کاٹنے کا انکشاف ہوا ہے جس کی لکڑی کو شہر کی مختلف مارکیٹوں میں آنے پونے داموں فروخت کردیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ کئی سالوں سے یونیورسٹی میں بطور سب انجینئر تعینات اکرام ستی اور آفیسر انچارج ایڈمنسٹریشن ڈاکٹر منور نے مبینہ ملی بھگت کر کے درختو ں کو غیر قانونی طور پر کاٹ کر فروخت کیا ہے جبکہ ان دونوں کو یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی آشرباد بھی حاصل ہے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان دونوں افراد نے درخت کاٹ کر پیسے آپس میں تقسیم کر لیے ہیں تاہم ماضی میں بھی سینکڑوں درخت یونیورسٹی سے کٹ چکے ہیں جس پر تاحال کوئی کارروائی نہ ہونا سوالات کو جنم دیتا ہے۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عمرنے کہا کہ میرے علم میں نہیں ہے میں اس حوالے سے چیک کرتاہوں جبکہ آفیسر انچارج ایڈمنسٹریشن ڈاکٹر منور نے بتایا کہ کٹائی ضرور ہوئی ہے مگر وہ درختوں کی نہیں تھے چند پودے کاٹے گئے تھے تاہم جب ان سے درختوں کی تصویروں کے بارے میں پوچھا گیا تو وہ ٹال مٹول سے کام لینے لگے اور کوئی بھی مثبت جواب نہ دے سکیں تاہم رابطہ کرنے پر سب انجینئر اکرام ستی نے بتایاکہ میرا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے مجھے اس حوالے سے کوئی معلومات نہیں ہے میں نے درخت نہیں کاٹے ہیں۔

  • پولیس ملازم قانون شکنی کرے گا تو وہ بھی سزا پائے گا, سی پی او

    پولیس ملازم قانون شکنی کرے گا تو وہ بھی سزا پائے گا, سی پی او

    راولپنڈی:سٹی پولیس آفیسر ڈی آئی جی محمد فیصل رانا نے کہا ہے کہ تھانہ ویسٹریج میں لاہور کے شہری کی درخواست پر چوکی انچارج و دیگر پولیس ملازمین کے خلاف مقدمہ ایس پی پوٹھوہار اور ڈی ایس پی کینٹ کی تحقیقاتی رپورٹ کے بعد درج کیاگیا،پولیس ملازمین جیسے ہی مقدمہ میں نامزد ہوئے انہیں معطل کر دیا گیا،چوکی انچارج کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی گئی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے اس مقدمہ کے حوالے سے بلائے گئے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،سی پی او نے کہا کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں ہے،جس طرح کی شکایت ملی اور اعلیٰ پولیس افسران نے ابتدائی تحقیقات میں جو رپورٹ دی اس کے بعد اغواء برائے تاوان کی دفعہ کے تحت مقدمہ کا اندراج اس بات کا ثبوت ہے کہ راولپنڈی پولیس صرف اور صرف قانون کی تابع ہے قانون شکنی کرنے والا اگر پولیس ملازم یا آفیسر بھی ہو گا تو اس کے خلاف قانون اسی طرح حرکت میں آئے گا جس طرح عام آدمی کے لئے قانون متحرک ہوتا ہے،انہوں نے کہا کہ قانون کے محافظ جب قانون شکنی پر اتر آئیں تو عام آدمی کا پولیس پر اعتماد ختم ہونا فطری امر بن جاتا ہے لیکن اگر قانون شکن پولیس ملازمین کے خلاف فوری کارروائی اور وہ بھی اسی دفعہ کے تحت مقدمہ درج ہو جس نوعیت کی قانون شکنی کا متاثرہ فریق کی درخواست میں تقاضا کیا گیا ہو تو پھر عوام کو پولیس پر اعتماد پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتا ہے،انہوں نے کہا کہ ہم نے پولیس ملازمین کی طرف سے بدترین قانون شکنی کی شکایت پر تھانہ ویسٹریج میں اغواء برائے تاوان کی دفعہ365اے کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے،ایس ایس پی انوسٹی گیشن اس مقدمہ کی تفتیش کی نگرانی کریں گے جبکہ میں خود روزانہ کی بنیاد پر فالو اپ لوں گا،سی پی او نے کہا کہ ایک طرف مقدمہ کی تفتیش ہو گی تو دوسری طرف ملزمان پولیس ملازمین کے خلاف محکمانہ احتساب کی کارروائی ہو گی،مقدمہ میں نامزد پولیس اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی ہو گی اگر جرم ثابت ہو گیا تو سب ملزمان ملازمین یقینی طور پر ملازمت سے برخاست ہوں گے،سی پی او نے کہا کہ قانون پر عمل در آمد کروانے والوں کو سب سے پہلے قانون پر عمل کرنا ہو گا،اس مقدمہ میں اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ اگر اس مقدمہ میں کوئی شخص پولیس ملازمین اور افسران کا سہولت کار ہے تو اسے بھی گرفتار کر کے ملزمان کے ساتھ چالان کیا جائے۔

  • راولپنڈی سلطان پورہ کے باسی کیوں سڑک پر آگئے جانیئے

    راولپنڈی سلطان پورہ کے باسی کیوں سڑک پر آگئے جانیئے

    راولپنڈی_ شہر کے ہر کونے سے پانی دوپانی دو کی سدا بلند ہو رہی ہیں واسا حکام اور منتخب نمائندے خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں شدید گرمی کے موسم میں شہری پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں ان خیالات کا اظہار ظہیراحمداعوان چئیرمین سٹیزن ایکشن کیمٹی وراہنما تحریک انصاف نے سلطان پورہ کے دورے کے موقع پر احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کیا. ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے شہر میں پانی کی شدید قلت کے مسئلے پر احتجاجی دستخطی مہم چلا رکھی ہے جس کا مقصد اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے حکمرانوں تک شہریوں کی آواز پہنچانا ہے۔

    دور قدیم میں لوگ پانی کی وجہ سے نقل مکانی کرتے تھے جہاں پانی قریب ہوتا وہاں ڈیرے ڈالے جاتے تھے اب شہری گھر کرایہ یا خریدنے سے پہلے معلومات لیتے ہیں کہ اس علاقے میں پانی کی قلت تو نہیں۔


    منتخب نمائندوں نے الیکشن میں بڑے بڑے حسین خواب دیکھائے تھے لیکن الیکشن جیتنے کے بعد زاتی کاموں میں مصروف عمل ہیں۔ہم چیف جسٹس آف پاکستان وزیراعظم پاکستان وزیراعلیٰ پنجاب سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ راولپنڈی کے شہریوں کو بنیادی حقوق دلوائے تاکہ شہری سکھ کا سانس لیں سکیں۔اس موقع پر حاجی اول خان صدر سلطان پورہ ویلفیر سوسائٹی،بابرزمان قریشی کونسلر،حاجی نصیر بھٹی کونسلر،اصلاح الدین خان صدر انصاف ورکرز اتحاد،حاجی منان خان،لیاقت خان شینواری نے بھی خطاب کیا۔

  • راولپنڈی منشیات فروشوں کے خلاف کاروائی

    راولپنڈی منشیات فروشوں کے خلاف کاروائی

    راولپنڈی :تھانہ پیر ودہائی پولیس کا منشیات فروشوں کے خلاف بھر پور کریک ڈاؤن جاری,منشیات فروش صداقت حسین کو گرفتار کرلیا گیا ,ملزم کے قبضہ سے 130 بوتل ادھیہ شراب برآمد ہوئی,ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی

  • سی پی او راولپنڈی کی ممبران پارلیمنٹ سے ملاقات

    سی پی او راولپنڈی کی ممبران پارلیمنٹ سے ملاقات

    راولپنڈی :سٹی پولیس آفیسر راولپنڈی ڈی آئی جی محمد فیصل رانا نے کہا ہے کہ معزز ممبران پارلیمینٹ قانون بنانے والے ہیں لہٰذا قانون بنانے والے سے زیادہ قانون کو فالو کرنے والا کوئی نہیں ہوتا، ممبران پارلیمینٹ کی کمیونٹی پولیسنگ کے فروغ،قانون کی بالادستی اور قانون کی طاقت سے کریمنلز کو قانون کے شکنجے میں لانے کے لئے جو قابل عمل تجاویز راولپنڈی پولیس کو دی جائیں گی ان پر فوری عمل کیا جائے گا راولپنڈی پولیس ممبران پارلیمینٹ کے استحقاقات کا مکمل خیال رکھتے ہوئے ان کے تمام عوامی نوعیت کے کام میرٹ اورقانون کے مطابق ترجیحی بنیادوں پر کرے گی،ممبران پارلیمینٹ کریمنلز سے مکس اپ پولیس میں موجود کالی بھیڑوں کی نشان دہی کریں غیر جانبدارانہ تحقیقات کے بعد اگر پولیس آفیسر یا ملازم کریمنلز کا کسی بھی حوالے سے سہولت کار ثابت ہوا تو اسے ملازمت سے برخاست کر دیا جائے گا،ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر میں ممبران پارلیمینٹ کے ساتھ ہونے والی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کیا،میٹنگ میں ممبر قومی اسمبلی شیخ راشد شفیق،ممبران پنجاب اسمبلی شفیق خاں،تیمور مسعود،حاجی امجد،عمر تنویر بٹ،راجہ صغیر،میجر (ر) لطاسب ستی،چودھری ساجد اور چودھری جاوید کوثر نے شرکت کی،اجلاس میں ایس پی راول،ایس پی صدر اور ایس پی پوٹھو ہار بھی موجود تھے،اجلاس میں ممبران پارلیمینٹ نے سی پی او محمد فیصل رانا کی کمانڈ میں راولپنڈی پولیس کے ان اقدامات کو سراہا جو یہاں پر قبضہ مافیا،منشیات فروشوں اور مختلف نوعیت کے قانون شکنوں کے خلاف اٹھائے گئے،ممبران پارلیمینٹ نے سی پی او کی طرف سے کھلی کچہریوں کے انعقاد کو خوش آئند اور انقلابی قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی کچہریوں سے راولپنڈی پولیس اور یہاں کی عوام کے مابین پائی جانے والی خلیج کم ہو گی یہاں کی قانون پسند عوام کے ساتھ راولپنڈی پولیس کی وہ فرینڈلی اور کمیونٹی پولیسنگ ہو گی جس کی مثال پورے پاکستان اور پنجاب میں دی جائے گی کیوں کہ ہماری اطلاعات کے مطابق فیصل رانا ایک پروفیشنل اور قانون کی بالادستی کے لئے ہر قسم کے دباؤ کا سامنا کرنے والے ایسے پولیس آفیسر ہیں جن کی تعیناتی یہاں کی عوام کے لئے جرائم کے خاتمے اور قانون کی بالادستی کے حوالے سے ایک یادگار دور ثابت ہو گی،اجلاس میں ممبران پارلیمینٹ کی طرف سے جن مسائل کی نشان دہی کی گئی سی پی او نے قانون کے مطابق فوری احکامات جاری کئے،سی پی او نے واضح اور دو ٹوک انداز میں کہا کہ شادی بیاہوں اور دیگر تقریبات میں ہوائی فائرنگ کی مکمل ممانعت ہے اس طرح کے واقعات ہوئے تو دولہا،شادی اور تقریبات کی انتظامیہ کے خلاف مقدمات درج ہوں گے جبکہ غفلت اور کوتاہی پر پولیس افسران کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی ہو گی جو محکمانہ احتساب کے علاوہ فوجداری مقدمات کا اندراج بھی ہو سکتا ہے،سی پی او نے ممبران پارلیمینٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپکا اور ہمارا مقصد ایک ہی ہے ہم نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے قانون کی بالادستی والے ویژن کے تحت راولپنڈی کی عوام کو کرائم فری ماحول فراہم کرنا ہے،انہوں نے کہا کہ خدا کا شکرہے راولپنڈی کے تمام مبران پارلیمینٹ قانون اور میرٹ پسند ہیں،پولیس اور ممبران پارلیمینٹ کا اشتراک یہاں کی عوام کو ایسا پر امن ماحول دستیاب ہو گا جس میں قانون کی بالادستی ہو گی قانون ہی سب سے طاقتور ہو گا،عام آدمی اور طاقتور کے لئے یکساں قانون ہو گا ویسے میری پولیس سروس میں صرف قانون ہی طاقتور ہے جن معاشروں میں قانون طاقتور ہو وہاں قانون شکن کمزور جبکہ قانون پسند عوام سب سے طاقتور ہوتے ہیں۔

  • راولپنڈی بحریہ ٹاؤن چوری کی واردات میں ملوث ملزمان گرفتار

    راولپنڈی بحریہ ٹاؤن چوری کی واردات میں ملوث ملزمان گرفتار

    راولپنڈی :بحریہ ٹاون فیز 8 گھروں میں نقب زنی اور چوری کی وارداتیں کرنے والے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا,ملزمان سے دوران نقب زنی چوری کی گئی رقم 5 لاکھ روپے برآمد,تفصیلات کے مطابق تھانہ روات کے علاقے بحریہ ٹاون فیز 8 میں نقب زنی اور چوری کی وارداتوں کے انسداد کے لیے سٹی پولیس آفیسر راولپنڈی کپٹین (ر) محمد فیصل رانا نے ایس پی صدر ڈویژن رائے مظہر اقبال کو خصوصی ٹاسک دیا ۔ ایس پی صدر ڈویژن نے ایس ڈی پی او صدر سرکل فرحان اسلم، ایس ایچ او روات راجہ سلیم اور محمد اکرم ایس آئی پر مشتمل خصوصی ٹیم تشکیل دی۔ مزید ایس پی صدر ڈویژن نے نقب زنی ،چوری و دیگر واردات کے روک تھام کے لیے بحریہ ٹاون کے مختلف علاقوں میں گشت اور پکٹنگ کے نظام کو مزید موثر بنانے کی ہدایات جاری کیں جس پر شب روز محنت کر کے ایس ایچ او روات اور اس کی ٹیم نے نقب زنی اور چوری کرنے والے دو ملزمان محمد طارق ولد محمد یسین سکنہ ٹوبہ ٹیک سنگھ اور محمد عامر ولد محمد بشیر سکنہ چاکرہ کو حسب ضابطہ گرفتار کر لیا۔ ملزمان سے دوران نقب زنی چوری کی گئی رقم 500000 لاکھ روپے برآمد کر لی گئی ۔روات پولیس کی ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے جس میں مفید طلب انکشافات متوقع ہیں۔

  • راولپنڈی اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنرز کا سبزی و فروٹ منڈی کا دورہ

    راولپنڈی اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنرز کا سبزی و فروٹ منڈی کا دورہ

    راولپنڈی سٹی پولیس آفیسر راولپنڈی کیپٹن (ر)محمد فیصل رانا کاڈپٹی کمشنر راولپنڈی محمد علی رندھاوا اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات کے ہمراہ سبزی منڈی کا دورہ۔ تفصیلات کے مطابق سی پی او راولپنڈی نے ڈپٹی کمشنر راولپنڈی و اسلام آباد کے ہمراہ سبزی منڈی اسلام آباد کادورہ کیا۔ دورے کے دوران دیگر افسران بھی ان کے ہمرا ہ تھے، سی پی اور اوراولپنڈی اور ڈی سی راولپنڈی و اسلام آباد نے اشیاء خوردونوش کی قیمتوں کا جائزہ لیا اور ان کے معیار کو چیک کیا۔اور سبزیوں کی قیمتوں کو مقرر کرنے کی بولیوں کی نگرانی کی۔

  • محرم الحرام کی آمد,سی پی او راولپنڈی نے سیکورٹی پلان تشکیل دے دیا

    محرم الحرام کی آمد,سی پی او راولپنڈی نے سیکورٹی پلان تشکیل دے دیا

    راولپنڈی :سٹی پولیس آفیسر ڈی آئی جی محمد فیصل رانا نے محرم الحرام کے لئے سیکورٹی پلان بنانے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذہبی تقریبات میں معمولی سی قانون شکنی بھی ناقابل برداشت ہے،وفاقی دار الحکومت کے ساتھ جڑواں شہر ہونے کی وجہ سے راولپنڈی کی بہت حساسیت ہے،ماضی میں یوم عاشور جو ناخوشگوار واقعہ پیش آیا ہم اس طرح کے واقعہ کو سوچنے کے بھی متحمل نہیں،ایس ایچ اوز،ڈی ایس پیز اور ایس پیز امن کمیٹی سمیت قانون پسند سماجی،تجارتی اور صاحب الرائے حلقوں سے مشاورت کرکے سیکورٹی برانچ کو محرم پلان کے لئے تجاویز بھجوائیں،ان کی روشنی میں حتمی سیکورٹی پلان ترتیب دیا جائے گا،ان خیالات کا اظہار انہوں نے پولیس افسران کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،سی پی او فیصل رانا نے کہا کہ مذہبی،فرقہ وارانہ اور مسلکی شر ا نگیزی محض شر انگیزی نہیں ہوتی بلکہ بدتمیزیوں اور قانون شکنیوں کا وہ طوفان ہوتا ہے جو خدا نخواستہ آ جائے تو وہ سارے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے کر تباہی کرتا ہے،پولیس نے قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے ساتھ مل کر ایسی حکمت عملی اختیار کرنی ہے کہ جو بھی حالات ہوں فرقہ وارانہ اور مسلکی شرانگیزی کی چنگاری کو نہ صرف سلگنے سے پہلے بجھانا ہے بلکہ سلگانے والوں کو جیل بھجوا کر نشان عبرت بنانا ہے،انہوں نے کہا کہ ”اپنے عقیدے کو چھوڑو نہیں،کسی کے عقیدے کو چھیڑو نہیں“ کا فارمولہ پرہرمکتب فکر کو ہر حال میں عمل کرنا ہو گا،انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ نفرت آمیز تقاریر،شر انگیزی والے لٹریچر اور اکسانے والے نعروں پر مبنی وال چاکنگ کسی بھی صورت قابل برداشت نہیں،وزارت داخلہ نے جن تنظیموں کو کالعدم قرار دیا ہے وہ کسی بھی عنوان سے کوئی بھی سرگرمی نہیں کر سکتیں،فورتھ شیڈول میں شامل افراد اگر کسی بھی عنوان سے کوئی سرگرمی کریں گے یا اپنے مسکن سے غائب ہوں گے تو ان کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے مقدمات درج ہوں گے،سی پی او نے کہا کہ مذہبی جلوسوں کے حوالے سے واضح احکامات ہیں کہ روائتی اور لائسنسی جلوسوں کے علاوہ کوئی جلوس نکل نہیں سکے گا،روائتی اور لائسنسی جلوس اپنے روٹ سے ایک انچ ادھر ادھر نہیں ہو سکیں گے،مقر رہ وقت سے پہلے نہ کوئی جلوس نکل سکے گا اور نہ ہی مقررہ وقت کے بعد ایک سیکنڈ بھی جاری رہ سکے گاجبکہ لاؤڈ سپیکر کے استعمال پر پابندی سمیت نیشنل ایکشن پلان کی ایک ایک شق پر سختی اور قانون کی طاقت سے عمل کروایا جائے گاسی پی او نے کہا کہ محرم سے2ماہ قبل اسی لئے سیکورٹی پلان کی ایکسرسائیز شروع کی گئی ہے کہ اس میں امن کمیٹی سمیت تمام طبقات کی مثبت تجاویز کو شامل کر کے ایساسیکورٹی پلان ترتیب دیا جائے جس پر تمام مکاتب فکر اور راولپنڈی ضلع کے تمام حلقوں کو اطمینان ہو کیوں کہ راولپنڈی پولیس نے کمیونٹی پولیسنگ کے ذریعے خدا کے فضل و کرم سے اس سال محرم الحرام کے پروگراموں کوتاریخی حوالے سے پرامن طور پر ہر حوالے سے قانون کے دائرے میں مکمل کروانا ہے،سی پی او نے کہا تھانوں سے لے کر ضلع کی سطح تک امن کمیٹیوں کو فعال کیا جائے اگر اس میں ردو بدل ناگیز ہو تو متعلقہ اتھارٹیز کو تجاویز دی جائیں تاکہ قانون اور ضابطے کے تحت از سر نو مربوط حکمت عملی ترتیب دی جا سکے،سی پی او نے کہا کہ ایس ایچ او ز،ڈی ایس پیز اور ایس پیز کی طرف سے امن کمیٹیوں کے اجلاس مکمل ہونے کے بعد میں خود بھی امن کمیٹی کے معززقانون پسند مذہبی سماجی راہنماؤں سے ملوں گا ان کا کہنا تھا کہ اس تجویز پر بھی غور کیا جا رہا ہے کہ امن کمیٹی کے اجلاس کو ماہانہ بنیادوں پر باقاعدہ کیا جائے تاکہ مذہبی رواداری اور ہم آہنگی اس قدر فروغ پائے کہ لوگ راولپنڈی ضلع کی مثال دیا کریں،سی پی او نے کہا کہ اس نیک کام کے لئے پولیس کو جو بھی وسائل درکار ہوں گی وہ ون ونڈو آپریشن کے تحت فوری طور پر میں خود مہیا کروں گا۔

  • عملی طور پر سیکورٹی چیکنگ با کرنے والے اہلکاروں کے خلاف سی پی او راولپنڈی نے سخت حکم جاری کردیا

    عملی طور پر سیکورٹی چیکنگ با کرنے والے اہلکاروں کے خلاف سی پی او راولپنڈی نے سخت حکم جاری کردیا

    راولپنڈی: سٹی پولیس آفیسر ڈی آئی جی محمد فیصل رانا نے ائیر پورٹ،ریلوے اسٹیشن سمیت حساس مقامات پر پولیس سیکورٹی مذید سخت کرنے کے احکامات دے دئیے،اقلیتوں کی عباد ت گاہوں پر سیکورٹی کو روزانہ کی بنیاد پر چیک کیا جائے،جن مقامات پر سیکورٹی کے ایس او پیز کے تحت سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہیں ان کے فنگشنل ہونے کو یقینی بنایا جائے،جو پولیس افسران سیکورٹی معاملات کی چیکنگ عملی طور پر کرنے کی بجائے کاغذوں میں کریں گے انہیں قانون کے مطابق محکمانہ احتسابی کارروائی کے بعد برخاستگی کا کاغذ تھما کر گھر بھیج دیا جائے گا،ان خیالات کا اظہار انہوں نے سی پی او آفس میں سیکورٹی معاملات کے حوالے سے بلائے گئے پولیس افسران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں ایس ایس پی،ایس پیز اور ڈی ایس پیز سمیت متعلقہ پولیس افسران کی بڑی تعداد نے شرکت کی،سی پی او فیصل رانا نے کہا کہ ائیر پورٹ،ریلوے اسٹیشن،عوامی پارکس،ٹرانسپورٹ کے اڈے اور اس جیسے کئی مقامات ایسے ہیں جہاں پر عوام کی آمد و رفت راؤنڈ دی کلاک24/7ہوتی رہتی ہے،جن مقامات کی اندرونی سیکورٹی پولیس کی بجائے متعلقہ اداروں کے پاس ہے ان مقامات کی بیرونی سیکورٹی کی ذمہ دار تو پولیس ہی ہے،ایئر پورٹ کے باہر پولیس کو سیکورٹی کے ایسے انتظامات کرنا ہوں گے کہ اندر جانے والے مسافر کے پا س کوئی ایسی چیز نہ ہو جو قانون شکنی یا سنگین واردات کے وقوع پذیر ہونے کا باعث بن سکتی ہو،انہوں نے کہا کہ ائیر پورٹ،ریلوے اسٹیشن سمیت اس جیسے پبلک مقامات پر سیکورٹی کا متعلقہ ایس پی اپنے ایس ڈی پی او ز اور ایس ایچ اوز کے ساتھ مل کر از سر نو جائزہ لے،سیکورٹی کے حوالے سے پولیس کو جن وسائل کی ضرورت ہو گی میں مہیا کروں گا،انہوں نے کہا کہ سی سی ٹی کیمرہ جات ایسی ٹیکنالوجی ہے خدانخواستہ کسی سنگین واردات ہونے کی صورت میں وہاں سے کئی ایسے شواہد مل جاتے ہیں جو واردات کو فوری طور پر ٹریس کرنے میں ممد معاون ہو تے ہیں ضرورت اس امر کی ہے ان کیمروں کو 24/7فنگشنل رکھا جائے،پولیس روزانہ کی بنیاد پر ان کیمروں کے فنگشنل ہونے کو چیک کرے،بینکوں اور مالیاتی اداروں میں سی سی ٹی کیمروں کا فریش اور فنگشنل رہنا اور بھی ناگزیر ہو،پولیس افسران کان کھول کر سن لیں کہ بینکوں میں کسی قسم کی ڈکیتی یا چھینا چھپٹی کی واردات ناقابل برداشت ہے پولیس ایسے انتظامات کرے کہ کسی کو مالیاتی اداروں میں بدنیتی کے ساتھ داخل ہونے کی ہمت نہ ہو،سی پی او نے کہا کہ اقلیتوں کی عبادت گاہوں کا تحفظ ہماری اولین ذمہ داری ہے،ایس پیز،ڈی ایس پیز اور ایس ایچ اوز مسیحی برادری کے چرچز سمیت تمام اقلیتوں کی عبادت گاہوں میں سیکورٹی چیکنگ کو معمول بنا لیں بالخصوص جن ایام اور اوقات میں ان عبادت گاہوں میں اقلیتی برادری اپنی عبادات کے لئے آئے یہاں پرایسے فول پروف سیکورٹی انتظامات ہوں کہ اقلیتی برادری اس سے مطمئن ہو،سی پی او نے کہا کہ مشاہدے میں آیا ہے کہ پولیس افسران سیکورٹی چیکنگ عملی طور پر نہیں کرتے بلکہ کاغذوں میں سیکورٹی چیکنگ کرتے ہیں،میں خود تمام مقامات کی سیکورٹی چیکنگ کروں گا اگر عملی طور پر چیکنگ نہ پائی گئی تو قانون کے مطابق محکمانہ احتسابی عمل کے بعدذمہ داروں کو برخاستگی کا کاغذ تھما کر گھر بھیج دیا جائے گا۔

  • کسی کو این آر او میں چھوٹ نہیں ملے گی چاہے کسی بھی بادشاہ کے پاس چلے جائیں, وزیراعظم کا سرسید ایکسپریس کی افتتاحی تقریب سے خطاب

    کسی کو این آر او میں چھوٹ نہیں ملے گی چاہے کسی بھی بادشاہ کے پاس چلے جائیں, وزیراعظم کا سرسید ایکسپریس کی افتتاحی تقریب سے خطاب

    راولپنڈی :وزیر اعظم عمران خان نے سر سید ایکسپریس کے افتتاح کے موقع پر کہا کہ میں شیخ رشید ان کی ٹیم اور سر سید ایکسپریس کے پیچھے لوگوں کا مشکور ہوں اور شیخ صاحب نے جو میانوالی سے لاہور ایک لمبا سفر ہے ٹرین کا آغاز کیا میں ان کا مشکور ہیں انہوں نے کہا کہ شیخ صاحب نے کہا کہ ریلوے کے اوپر 36 ارب کا خسارا تھا ہم ہر مشکلات کے باوجود 32 ارب پر لے کر آئے اگر سب دیانتداری سے کام کرتے تو اس وقت کامیاب ہوتے انہوں نے کہا کہ ہر شعبے میں خسارہ کے پیچھے کرپشن ہے انہوں نے کہا ملک کرپشن کی وجہ سے غریب ہوتا ہے اور یہ غریب کو غریب چھوٹے سے طبقے کو بھی غریب کردیتی ہے انہوں نے کہا کہ یہ جو حالات ہیں دس سال میں پاکستان کا قرضہ تیس ہزار پر لے گئے تھے انہوں نے کہا کہ دس سالوں میں شریف اور زرداری خاندان کے لوگ اپنے بچوں کے لیے پیسہ جمع کررہے تھے اور جب ہم ان کا پیچھا کریں تو کہتے ہیں کہ انتقامی کارروائی اور جب میں نے پانامہ کی بات کہ تو انہوں نے مجھ پر کیسز شروع کئے اس کو انتقامی کارروائی کہتے انہوں نے کہا جمہوریت میں لیڈر جواب دہ ہوتا ہے میں لندن نہیں بھاگا اور ہر کیس کا سپریم کورٹ کو جواب دیا اور میں نے رونا دھونا نہیں کیا اور نہ جلسے نکالے انہوں نے کہا کہ ہم ان سے جواب مانگیں گے انہوں نے کہا کہ جنہوں نے قوم کو کنگال کیا میں ان سے حساب لوں گا یہ میرا وعدہ اور نا ہی این آر او کی چھوٹ دوں گا چاہے جس مرضی بادشاہ کے پاس چلے جائیں