Baaghi TV

Tag: روس

  • حالیہ جنگ:روس   ایران کو انسانی امداد بھیجنے والا پہلا ملک بن گیا

    حالیہ جنگ:روس ایران کو انسانی امداد بھیجنے والا پہلا ملک بن گیا

    روس حالیہ جنگ کے دوران ایران کو انسانی امداد بھیجنے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔

    کینیا میں روسی سفارت خانے کی جانب سے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ روس کا ایک Il-76 کارگو طیارہ 13 ٹن سے زیادہ طبی سامان لےکر آذربائیجان پہنچا، جہاں سے یہ امداد ایرانی حکام تک منتقل کی جائے گی۔

    روسی وزارت ہنگامی حالات کے مطابق یہ امدادی کھیپ ادویات اور طبی سامان پر مشتمل ہے، آذربائیجان سے امدادی سامان ٹرکوں کے ذریعے سرحد کے راستے ایران بھیجا جائےگا،یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے یہ امداد روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے احکامات پر بھیجی گئی ہے۔

    اسرائیل کی لبنان میں اسپتال پر بمباری، 12 ڈاکٹرز اور نرسیں جاں بحق

    ایرانی جزیرے پر امریکی حملے سے نقصان کی تفصیلات جاری

    محکمہ موسمیات کی عید کے چاند کے حوالے سے نئی پیشگوئی

  • روس انٹیلیجنس شیئر کر بھی رہا ہو تو ایران کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا،ٹرمپ

    روس انٹیلیجنس شیئر کر بھی رہا ہو تو ایران کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر روس ایران کو مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اہلکاروں اور تنصیبات کے بارے میں معلومات فراہم بھی کر رہا ہے تو اس کا ایران کی کارروائیوں پر زیادہ اثر نہیں پڑ رہا۔

    صدر ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہا کہ اگر ایران کو معلومات مل بھی رہی ہیں تو گزشتہ ہفتے کی صورتحال دیکھیں تو اس سے ایران کو زیادہ فائدہ نہیں ہوا ، ٹرمپ نے روس کے تعاون کے اثرات سے متعلق سوال پر بھی کہا کہ روس کہہ سکتا ہے کہ امریکا بھی اسی طرح کام کرتا ہے اور اس پر کچھ خاص فرق نہیں پڑتا۔

    بھارتیوں نے مودی اسٹیڈیم کو اپنی ٹیم کے لیے منحوس قرار دیا

    انہوں نے یوکرین کی مثال دی جہاں روسی حملوں کے بعد امریکا نے چار سال میں یوکرین کو دفاع اور ہدف نشانے کی معلومات فراہم کی ہیں وہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں دلچسپی نہیں رکھتے اور امکان ظاہر کیا ہے کہ جنگ اس وقت ختم ہو سکتی ہے جب ایران کی فوجی طاقت ختم ہو جائے یا ملک میں موجود ہ قیادت اقتدار میں نہ رہے اگر ایران کی فوج تباہ ہو جائے اور ممکنہ قیادت ختم ہو جائے تو بات چیت بے معنی ہو سکتی ہے کسی وقت شاید ایسا ہو کہ کوئی باقی ہی نہ بچے جو کہہ سکے کہ ہم ہتھیار ڈال دیتے ہیں۔

    ایران کے خلاف ٹرمپ کی دھمکیوں میں اضافے کی وجہ کیا؟سابق سی آئی اے افسر نےبتادیا

  • افغانستان میں عالمی دہشتگرد نیٹ ورکس کی موجودگی سے خطے کی سیکیورٹی کو لاحق خطرات برقرار ہیں، روس کا انتباہ

    افغانستان میں عالمی دہشتگرد نیٹ ورکس کی موجودگی سے خطے کی سیکیورٹی کو لاحق خطرات برقرار ہیں، روس کا انتباہ

    روسی وزارت خارجہ نے انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں عالمی دہشتگرد نیٹ ورکس کی موجودگی سے خطے کی سیکیورٹی کو لاحق خطرات برقرار ہیں۔

    روسی وزارت خارجہ اور اقوام متحدہ کی رپورٹس نے مشترکہ طور پر طالبان حکومت پر کڑی تنقید کی ہے ان کے مطابق طالبان کے زیرِ حکومت افغانستان میں دہشتگرد نیٹ ورکس کو روکا یا تحلیل نہیں کیا گیا، اور بار بار کیے گئے دعووں کے باوجود عملی اقدامات ناکافی ہیں۔

    روس کے مطابق بین الاقوامی نگرانی رپورٹس بشمول اقوام متحدہ، افغانستان میں القاعدہ اور متعلقہ دہشتگرد گروپس مختلف صوبوں بشمول غزنی، لغمان، کنڑ، ننگرہار، نورستان، پروان اور اورزگا ن میں تربیتی مراکز اور لاجسٹک نیٹ ورک چلا رہے ہیں، افغانستان نے خطے میں القاعدہ کے لیے تربیتی اور ہم آہنگی کا مرکز بن کر ترقی کی ہے، جبکہ داعش نے مشرقی اور شمالی علاقوں میں اپنی پائیدار موجودگی قائم کی ہے اور وسطی ایشیا میں توسیع کے طویل المدتی ارادے رکھتا ہے۔

    ڈچ ائیر لائن کا اسرائیل کیلئے پروازیں بند کرنے کا اعلان

    یہ تمام حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ افغانستان خطے میں مسلسل غیر یقینی صورتحال اور دہشتگردی کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے، اور طالبان کے دعوے کہ ملک میں استحکام ہے، بین الاقوامی تشخیص کے مطابق درست نہیں ہیں۔

    رحیم یار خان:ایک کروڑ روپے سر کی قیمت والے کچے کے خطرناک ڈاکو نے سرنڈر کر دیا

  • روس اور ایران کے درمیان خفیہ اسلحہ معاہدہ طے ہو گیا،برطانوی اخبار  کا دعویٰ

    روس اور ایران کے درمیان خفیہ اسلحہ معاہدہ طے ہو گیا،برطانوی اخبار کا دعویٰ

    برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے روس کے ساتھ 50 کروڑ یورو مالیت کا خفیہ اسلحہ معاہدہ کیا ہے-

    برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے روس کے ساتھ 50 کروڑ یورو مالیت کا خفیہ اسلحہ معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت ایران جدید کندھے پر رکھ کر فائر کیے جانے والے ہزاروں میزائل حاصل کرے گا یہ معاہدہ گزشتہ دسمبر میں ماسکو میں طے پایا،روس آئند ہ 3 برس میں 500 ’وربا‘ لانچر یونٹس اور 2,500 ’9 ایم 336‘میزائل ایران کو فراہم کرے گا۔

    اخبار کے مطابق یہ معلومات مبینہ طور پر روسی دستاویزات اور معاہدے سے واقف ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں، تاہم آزاد ذرائع سے فوری طور پر اس کی تصدیق نہیں ہوسکی یہ معاہدہ روس کی سرکاری اسلحہ برآمد کرنے والی کمپنی روس اوبورون ایکسپورٹ اور ایران کی وزارتِ دفاع و مسلح افواج لاجسٹکس کے ماسکو میں نمائندے کے درمیان طے پایا،ایران نے گزشتہ سال جولائی میں باضابطہ طور پر ان نظاموں کی درخواست کی تھی۔

    سابق اہلیہ کے الزامات: عماد وسیم نے قانونی نوٹس بھیج دیا

    واضح رہے کہ گزشتہ برس امریکی افواج نے ایران کی تین اہم جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا، جس کے بعد اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی اہم جوہری صلاحیت تباہ کر دی گئی ہے،تاہم ابتدائی امریکی انٹیلی جنس جائزے کے مطابق فضائی حملوں سے ایران کی جوہری صلاحیت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی بلکہ اسے چند ماہ پیچھے دھکیل دیا گیا۔

    یاد رہے کہ روس اور ایران کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کا معاہدہ موجود ہے، تاہم اس میں باہمی دفاع کی شق شامل نہیں، حال ہی میں روسی بحریہ کے ایک جنگی جہاز نے خلیج عمان میں ایرانی بحریہ کے ساتھ مشترکہ مشقیں بھی کی ہیں، ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ملک نے جنگ کے دوران ہونے والے نقصان پر قابو پا لیا ہے اور اس کی دفاعی صلاحیت پہلے سے زیادہ مضبوط ہے-

    وزیراعظم شہباز آج دو روزہ دورے پر قطر جائیں گے

  • روس نے پابندیاں توڑنے کےلیے ایران کو ڈھائی ارب ڈالر نقد بھیجے،برطانوی اخبار  کا دعویٰ

    روس نے پابندیاں توڑنے کےلیے ایران کو ڈھائی ارب ڈالر نقد بھیجے،برطانوی اخبار کا دعویٰ

    برطانوی اخبار ٹیلیگراف نے اپنی رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ روس نے امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے 2018 میں ایران کو خفیہ طور پر تقریباً 2.5 ارب ڈالر نقد رقم منتقل کی۔

    رپورٹ کے مطابق یہ رقوم روسی سرکاری بینک پرومسویاز بینک کے ذریعے 34 بڑی ترسیلات میں تہران کے مرکزی بینک تک پہنچائی گئیں، جن کا مجموعی وزن تقریباً پانچ ٹن بتایا گیا ہے یہ رقم اُس وقت بھیجی گئی جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر سخت پابندیاں عائد کی تھیں ہر کھیپ کی مالیت 57 سے 115 ملین ڈالر کے درمیان تھی اور زیادہ تر نوٹ یورپی کرنسی کے بڑے مالیت والے بلوں پر مشتمل تھے۔

    رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ادائیگیاں روس اور ایران کے درمیان پہلے سے زیادہ گہرے تعلقات کی عکاس ہیں اور ممکنہ طور پر اسلحہ یا فوجی سازوسامان کے بدلے کی گئی ہوں امریکی سابق حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایسی ترسیلات آج بھی جاری ہوسکتی ہیں، خاص طور پر جب ایران یوکرین جنگ میں روس کو ڈرون اور میزائل فراہم کر رہا ہے مذکورہ روسی بینک کو 2017 میں دفاعی شعبے کی مالی معاونت اور پابندیوں سے بچنے کے لیے سرکاری تحویل میں لیا گیا تھا، جبکہ اس کے سابق سربراہ پر بعد میں امریکا اور برطانیہ نے پابندیاں بھی عائد کیں۔

    تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ نقد رقم کے ذریعے لین دین کا طریقہ ٹریس کرنا مشکل ہوتا ہے، اسی لیے روس ممکنہ طور پر مستقبل میں بھی اسی حکمتِ عملی پر انحصار کرتا رہے گا۔

  • روسی جنرل پر حملے کا ملزم دبئی سے گرفتار

    روسی جنرل پر حملے کا ملزم دبئی سے گرفتار

    روس نے ماسکو میں روسی انٹیلی جینس ایجنسی کے نائب سربراہ پر حملے کے مشتبہ ملزم کو دبئی سے گرفتار کر کے ماسکو منتقل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے متحدہ عرب امارات کے صدر کو فون کیا اور تعاون پر شکریہ ادا کیا ہے۔

    خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق روسی فیڈرل سیکیورٹی سروس (ایف ایس بی) نے ملٹری انٹیلی جنس (جی آر یو) کے نائب سربراہ لیفٹینیٹ جنرل ولادیمیر الیکسییف پر حملے کے مشتبہ ملزم کو متحدہ عرب امارات سے گرفتار کر کے روس منتقل کردیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق یوکرینی نژاد روسی شہری جمعے کی صبح ماسکو میں واقع ایک گھر میں جنرل الیکسییف پر فائرنگ کے بعد دبئی فرار ہوگیا تھا۔ جہاں اسے متحدہ عرب امارات کے حکام کے تعاون سے گرفتار کر کے روس کے حوالے کیا گیاتحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ 60 سالہ جو یوکرینی شہری لیوبومیر کوربا دسمبر کے آخر میں روس پہنچا اور یوکرین کی ایما پر ملک میں دہشت گردی کی کارروائیاں انجام دیں۔

    روس کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید النہیان کو فون کیا اور روسی جنرل پر حملے کے مشتبہ ملزم کی گرفتاری میں تعاون پر شکریہ ادا کیا۔

    روسی تفتیش کاروں کے مطابق جی آر یو کے نائب سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ولادیمیر الیکسییف کو جمعے کے روز شمالی ماسکو میں واقع ایک رہائشی عمارت میں سائلنسر لگی پستول سے تین گولیاں ماری گئیں 64 سالہ جنرل کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی سرجری کی گئی۔

    روسی حکام کے مطابق روسی جنرل پر حملے میں دو مزید روسی شہری بھی ملوث تھے۔ حملہ آور کے ایک مشتبہ ساتھی وکٹر واسن کو ماسکو میں گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ دوسری خاتون ساتھی ملزمہ زینائڈا سیری بریتسکایا یوکرین فرار ہونے میں کامیاب ہوگئی ہیں۔

    روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ حملہ یوکرین کی ایما پر کیا گیا تھا تاکہ امن مذاکرات کو سبوتاژ کیا جا سکے، تاہم یوکرین نے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے یوکرین کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ یوکرین کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں اور ممکن ہے کہ یہ واقعہ روس کے اندرونی اختلافات کا نتیجہ ہو۔

  • روس کا یوکرین کے توانائی نظام پر حملہ، 400 ڈرونز اور 40 میزائل داغ دیئے

    روس کا یوکرین کے توانائی نظام پر حملہ، 400 ڈرونز اور 40 میزائل داغ دیئے

    روس نے ہفتے کی شب یوکرین کے توانائی کے اہم ڈھانچے پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے ہیں جس میں بجلی پیدا اور ترسیل کرنے والے مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ روس نے رات کے وقت یوکرین کے توانائی کے نظام پر حملہ کیا جس میں 400 سے زائد ڈرونز اور مختلف اقسام کے تقریباً 40 میزائل استعمال کیے گئے روس سفارت کاری کا راستہ اختیار کر سکتا ہے لیکن وہ حملوں کو ترجیح دے رہا ہے، روس کو سرد موسم کو یوکرین کے خلاف دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،یوکرینی صدر نے روسی حملوں سے بچاؤ کے لیے ایک بار اتحادی ممالک سے دفاعی ٹیکنالوجی کی ضرورت پر زود دیا ہے۔

    رائٹرز کے مطابق یوکرین کے وزیرِ توانائی نے حملوں میں مغربی علاقوں میں واقع دو تھرمل پاور اسٹیشنز کے ساتھ ساتھ بجلی کی ترسیل کے مرکزی نظام، سب اسٹیشنز اور اہم لائنوں کو نقصان پہنچنے کی تصدیق کی ہےسیکیورٹی صورتحال بہتر ہوتے ہی توانائی کے شعبے کے کارکن مرمت کا کام شروع کر دیں گے۔

    واضح رہے کہ روس کی جانب سے یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب یوکرین میں درجہ حرارت تیزی سے گر رہا ہے اور آئندہ دنوں میں منفی 14 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے حکام کا کہنا ہے کہ شدید سردی اور مسلسل حملوں کے باعث توانائی کا نظام شدید متاثر ہوچکا ہے ملک بھر میں ہنگامی لوڈشیڈنگ نافذ کر دی گئی ہے وزیر توانائی کے مطابق حکومت نے بجلی کی قلت پر قابو پانے کے لیے پولینڈ سے ہنگامی بنیادوں پر بجلی درآمد کرنے کی درخواست کی ہے۔

    واضح رہے کہ یہ حملے امریکا کی ثالثی میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے چند دن بعد سامنے آئے ہیں تاہم اب تک سفارتی کوششوں سے اس جنگ کے خاتمے سے متعلق کوئی قابلِ عمل پیش رفت نہیں ہو سکی-

  • روسی جنگ میں 55 ہزار یوکرینی فوجی ہلاک ہوگئے، زیلنسکی کا  انکشاف

    روسی جنگ میں 55 ہزار یوکرینی فوجی ہلاک ہوگئے، زیلنسکی کا انکشاف

    یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے انکشاف کیا ہے کہ روس کے ساتھ جاری جنگ میں اب تک تقریباً 55 ہزار یوکرینی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں فوجی تاحال لاپتہ ہیں۔

    فرانسیسی ٹی وی چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر زیلنسکی نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں پیشہ ور فوجی اور جبری بھرتی کیے گئے اہلکار دونوں شامل ہیں انہوں نے لاپتہ فوجیوں کی درست تعداد بتانے سے گریز کیا۔

    صدر زیلنسکی اس سے قبل فروری 2025 میں ایک امریکی ٹی وی انٹرویو میں یوکرینی فوجی ہلاکتوں کی تعداد 46 ہزار سے زائد بتا چکے تھے دوسری جانب واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک یوکرین کے تقریباً چار لاکھ فوجی ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔

    بنگلادیش ٹیم کا ورلڈکپ میں نہ ہونا افسوس ناک ہے،سلمان علی آغا

    اقوام متحدہ کے مطابق صرف 2025 کے دوران روسی حملوں میں 2,500 سے زائد یوکرینی شہری ہلاک اور 12 ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔

    روس کو بھی بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے یوکرینی فوجی قیادت کے مطابق 2025 میں ہی روس کے تقریباً چار لاکھ 20 ہزار فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ برطانوی دفاعی انٹیلی جنس کے اندازے کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک روسی فوج کے مجموعی نقصانات 11 لاکھ سے تجاوز کر چکے ہیں۔

    کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس اس وقت تک جنگ جاری رکھے گا جب تک یوکرین وہ فیصلے نہیں کرتا جو جنگ کے خاتمے کا باعث بن سکیں، انہوں نے یہ بیان ایسے وقت دیا جب ابو ظہبی میں امریکا کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کا پہلا مرحلہ مکمل ہوا ہے۔

    نوشکی: احمد وال اسٹیشن پر مال بردار ٹرین پر راکٹ حملہ، انجن تباہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت دونوں ممالک پر زور دے رہی ہے کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی سمجھوتے پر پہنچیں، تاہم زمین کے کنٹرول، ڈونباس خطے اور زاپوریزیا نیوکلیئر پاور پلانٹ جیسے معاملات پر فریقین کے مؤقف میں اب بھی واضح فرق موجود ہےاس وقت روس یوکرین کے تقریباً 20 فیصد علاقے پر قابض ہے، جن میں کریمیا اور مشرقی ڈونباس کے بڑے حصے شامل ہیں۔

  • امریکا اور روس کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں پر پابندی کا معاہدہ ختم

    امریکا اور روس کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں پر پابندی کا معاہدہ ختم

    دنیا کی دو بڑی طاقتوں امریکا اور روس کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد کو محدود رکھنے والا آخری اہم معاہدہ ’نیو اسٹارٹ‘ 5 فروری کو اپنی مدت پوری ہونے کے بعد ختم ہو گیا ہے۔

    دونوں ممالک کے درمیان اس معاہدے میں توسیع یا کسی نئے متبادل منصوبے پر اتفاق نہیں ہو سکا جس کی وجہ سے اب عالمی سطح پر ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ دوبارہ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہےیہ معاہدہ 2010 میں ہوا تھا جس کا مقصد دنیا کو کسی بڑی ایٹمی جنگ سے بچانا تھا اس معاہدے کے تحت امریکا اور روس اس بات کے پابند تھے کہ وہ اپنے ایٹمی وار ہیڈز کی تعداد 1550 سے زیادہ نہیں بڑھائیں گے۔

    اس کے علاوہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ایٹمی مراکز کا معائنہ بھی کر سکتے تھے تاکہ شفافیت برقرار رہے اور کوئی دھوکہ نہ دے سکے1991 میں جب پہلی بار ایسا معاہدہ ہوا تھا تو ایٹمی ہتھیاروں کی حد 6ہزار رکھی گئی تھی جسے وقت کے ساتھ کم کیا گیا۔

    امریکا کے ساتھ نیوکلیئر مذاکرات جمعہ کو مسقط میں ہوں گے، ایرانی وزیر خارجہ

    روسی صدر کے معاون یوری اوشاکوف کا کہنا ہے کہ ان کا ملک سفارتی ذرائع سے امن برقرار رکھنے کی کوشش کرتا رہے گا، تاہم، روسی وزارت خارجہ نے واضح کر دیا ہے کہ اب وہ معاہدے کی کسی پابندی کے پابند نہیں رہے اور اپنے اگلے اقدامات کا فیصلہ کرنے کے لیے آزاد ہیں۔

    اگرچہ دونوں ممالک نے حالیہ سالوں میں ہتھیاروں کی مقررہ حد سے تجاوز نہیں کیا لیکن اب معاہدہ نہ ہونے سے یہ صورتحال بدل سکتی ہے اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سپری) کی ایئر بُک 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق روس کے پاس اس وقت تقریباً 5459 اور امریکا کے پاس 5177 ایٹمی وار ہیڈز موجود ہیں۔

    واشنگٹن پوسٹ سے اچانک 300 سے زائد صحافی برطرف

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے ختم ہونے سے اب دونوں ممالک ایک دوسرے کی نیتوں کا درست اندازہ نہیں لگا سکیں گے جس سے غلط فہمی کی بنیاد پر جنگ چھڑنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے عالمی امن کے لیے ایک سنگین لمحہ قرار دیا ہے اور دونوں طاقتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بلا تاخیر کسی نئے معاہدے پر بات چیت کریں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی دونوں ممالک کے درمیان کئی اہم دفاعی معاہدے ختم ہو چکے ہیں جن میں یورپ میں ٹینکوں اور فوج کی تعداد محدود رکھنے کا معاہدہ بھی شامل ہےاب دنیا کی نظریں اپریل اور مئی میں ہونے والی عالمی کانفرنس پر ہیں جہاں ایٹمی طاقتوں کو یہ بتانا ہوگا کہ وہ دنیا کو تباہی سے بچانے کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہیں۔

    بھارت : تین بہنوں کی خودکشی کی وجہ کوریائی پاپ کلچر سے جنونی لگاؤ تھا،پولیس

  • ایران، روس اور چین کا مشترکہ بحری مشقوں کا اعلان

    ایران، روس اور چین کا مشترکہ بحری مشقوں کا اعلان

    تہران: ایران، روس اور چین نے شمالی بحرِ ہند میں مشترکہ بحری مشقیں کرنے کا اعلان کر دیا ہے یہ مشقیں رواں ماہ منعقد کی جائیں گی جن میں تینوں ممالک کی بحری افواج حصہ لیں گی۔

    ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ان بحری مشقوں کو ’میری ٹائم سکیورٹی بیلٹ‘ کا نام دیا گیا ہےمشقوں میں ایرانی بحریہ، پاسدارانِ انقلاب کی بحری یونٹس، چین اور روس کی بحری افواج شریک ہوں گی، ان مشقوں کا مقصد سمندری سلامتی کو مضبوط بنانا، کسی بھی ممکنہ خطرے یا حملے سے نمٹنے کی پیشگی تیاری کرنا اور تینوں ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو فروغ دینا ہے، ان مشترکہ بحری مشقوں کا باقاعدہ آغاز 2019 میں ایران کی بحریہ نے کیا تھا، جبکہ اب تک یہ مشقیں سات مرتبہ منعقد کی جا چکی ہیں۔

    یہ مشقیں ایسے وقت میں کی جا رہی ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنا بحری بیڑہ بھی تعینات کر رکھا ہے۔