روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف 2 روزہ سرکاری دورے پر منگل کو چین پہنچے، جہاں انہوں نے اپنے چینی ہم منصب وانگ ای کے ساتھ تفصیلی مذاکرات کیے۔
روس اور چین نے مغربی دباؤ کے مقابلے میں اپنی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کا عندیہ دیتے ہوئے عالمی و علاقائی امور پر قریبی تعاون جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے، جبکہ دونوں ممالک نے مغرب پر بیجنگ اور ماسکو کو محدود کرنے کی کوششوں کا الزام بھی عائد کیا ہے۔
ماسکو کے مطابق ان مذاکرات میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، یوکرین بحران سمیت متعدد اہم عالمی و علاقائی امور پر بات چیت کی گئی۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ، برکس، شنگھائی تعاون تنظیم (SCO)، جی 20 اور ایپیک جیسے عالمی فورمز میں مشترکہ تعاون کو بھی ایجنڈے میں شامل کیا گیا۔
ملاقات کے ابتدائی مرحلے میں دونوں وزرائے خارجہ نے کہا کہ حالیہ عرصے میں عالمی نظام کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔ سرگئی لاروف نے کہا کہ لاطینی امریکا، وینزویلا اور مشرقِ وسطیٰ میں پیش آنے والے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ موجودہ بحرانوں کی بڑی وجہ مغربی ممالک کی پالیسیاں ہیں۔
انہوں نے یوکرین جنگ کو ’مصنوعی طور پر پیدا کردہ تنازع‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مغرب کا مقصد روس کو اسٹریٹجک طور پر کمزور کرنا ہے یورپی ممالک اس تنازع کو استعمال کرتے ہوئے یوریشیا کے مغربی حصے میں ایک نیا جارحانہ اتحاد تشکیل دینے کی کوشش کر رہے ہیں یوریشیا کے مشرقی حصے میں بھی تائیوان، جنوبی بحیرۂ چین اور جزیرہ نما کوریا کے گرد ’خطرناک کھیل‘ کھیلے جا رہے ہیں، جن کا مقصد چین اور روس کو محدود کرنا ہے۔
چین نے آبنائے ہرمز سے جہاز رانی پر امریکی پابندیوں کو ’خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ اقدام‘ قرار دیا ہے، جس سے خطے میں پہلے سے موجود نازک جنگ بندی متاثر ہو سکتی ہے،چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی کا احترام کریں، مذاکرات کو آگے بڑھائیں اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں، جبکہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت جلد بحال کی جائے۔
روسی اور چینی وزرائے خارجہ نے 2026 کے لیے باہمی سفارتی رابطوں کا روڈ میپ بھی طے کیا، جسے روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے ممکنہ دورۂ چین کی تیاری کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے لاوروف نے عندیہ دیا کہ رواں سال دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان مزید ملاقاتوں کے مواقع موجود ہیں اور ان ملاقاتوں کی تفصیلات پر بات چیت جاری ہے۔
