Baaghi TV

Tag: روس

  • شمالی کوریا کے صدر کی  یوکرین میں روس کی جنگ کی "بھرپور حمایت”

    شمالی کوریا کے صدر کی یوکرین میں روس کی جنگ کی "بھرپور حمایت”

    روسی وزیر دفاع آندرے بیلوسوف نے جمعے کے روز شمالی کوریا کے صدر کم یونگ اُن سے ملاقات کی۔

    باغی ٹی وی: سرکاری میڈیا کے مطابق ملاقات میں دونوں ملکوں کے بیچ فوجی تعاون بڑھانے پر اتفاق رائے ہوا، اس موقع پر شمالی کوریا کے سربراہ نے یہ عزم کیا کہ ان کا ملک یوکرین میں روس کی جنگ کی "بھرپور حمایت” کرے گا۔

    شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق بیلوسوف کا دورہ "دونوں ملکوں کی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے، دونوں ملکوں کے بیچ دوستانہ اور متبادل تعاون بڑھانے اور دونوں ملکوں کی افواج کے بیچ تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا”۔

    واضح رہے کہ شمالی کوریا نے یوکرین میں روس کی فوجی کارروائی کی حمایت کی تھی۔ ماسکو اور پیانگ یانگ دونوں ہی اسے مشرق میں نیٹو اتحاد کی "غیر ذمے دارانہ” پیش قدمی اور امریکا کے زیر قیادت اقدامات کے جواب میں دفاعی رد عمل قرار دے چکے ہیں۔ ان کے مطابق نیٹو اور امریکا کے اقدامات کا مقصد روس کی بطور ایک طاقت ور ریاست حیثیت ختم کرنا ہےمغرب یہ سمجھتا ہے کہ شمالی کوریا کے تقریبا 10 ہزار فوجی روس کے مغربی حصے میں یوکرین کی سرحد کے نزدیک واقع علاقے کورسک بھیجے گئے۔ ماسکو اور پیانگ یانگ کی جانب سے اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔

    فروری 2022 میں یوکرین پر ماسکو کے حملے کے بعد سے روس اور شمالی کوریا نے اپنے فوجی تعلقات میں اضافہ کیا ہے، دونوں ملکوں نے رواں سال جون میں تزویراتی شراکت داری کے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے اس معاہدے کے مطابق کسی بھی حملے کی صورت میں متبادل عسکری مدد کی جائے گی اور مغرب کی جانب سے پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے باہمی تعاون کیا جائے گا۔

    شمالی کوریا کی جانب سے اپنی افواج روس میں بھیجے جانے کے نتیجے میں جنوبی کوریا اب یوکرین کے ساتھ اپنے سیکورٹی تعلقات گہرے بنانے پر مجبور ہو گیا ہے۔

  • روس نے جاسوسی کے الزام میں برطانوی سفارت کار کو ملک بدر کر دیا

    روس نے جاسوسی کے الزام میں برطانوی سفارت کار کو ملک بدر کر دیا

    ماسکو: روس نے جاسوسی کے الزام میں برطانوی سفارت کار کو ملک سے نکال دیا۔

    باغی ٹی وی: روس کی سیکیورٹی سروس ایف ایس بی نے منگل کو جاری بیان میں کہا کہ مبینہ برطانوی سفارت کار نے ملک میں داخل ہونے کیلئے جان بوجھ کر غلط معلومات فراہم کی تھیں،کاؤنٹر انٹیلی جنس کی کارروائی کے دوران، روسی فیڈرل سیکورٹی سروس نے ماسکو میں برطانوی سفارت خانے کے احاطہ میں ایک غیر اعلانیہ برطانوی انٹیلی جنس اہلکار کی موجودگی کا پتہ لگایا ہے روسی ایف ایس بی نے مذکورہ سفارت کار کے انٹیلی جنس اور تخریبی کام کے آثار دریافت کیے ہیں جو روسی فیڈریشن کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

    روسی سیکیورٹی ادارے نے سفارت کار کا نام ایڈورڈ ولکس بتایا اور کہا کہ وہ سیکنڈ سیکرٹری تھا، جو نسبتاً جونیئر سفارتی عہدے پر فائز تھا، برطا نوی سفارت کار اس سال کے شروع میں جاسوسی کے الزام میں نکالے گئے چھ برطانوی سفارت کاروں میں سے ایک کا متباد ل تھا، برطا نوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کے ترجمان نے اس حوالے سے کہا ہے کہ وہ سفارتی اخراج کی اطلاع سے لاعلم ہیں۔

    ستمبر میں اس سے پہلے کی بے دخلی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، برطانیہ نے اپنے سفارت کاروں کے خلاف جاسوسی کے الزامات کو ”بد نیتی پر مبنی اور مکمل طور پر بے بنیاد“ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا اور کہا تھا کہ روس کا رویہ مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔

    یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد سے برطانیہ اور روس کے تعلقات سرد جنگ کے بعد کی نچلی ترین سطح پر آ گئے ہیں برطانیہ روس کے خلاف پابندیوں کی پے در پے لہروں میں شامل ہوا ہے اور یوکرین کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے، تاہم اب روس کا یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے ہی چل رہے خراب تعلقات کو تازہ ترین دھچکا ہے۔

  • روس کا  یوکرین پر اب تک کا سب سے بڑا ڈرون حملہ

    روس کا یوکرین پر اب تک کا سب سے بڑا ڈرون حملہ

    کیف: روس نے گزشتہ رات یوکرین پر اب تک کا سب سے بڑا ڈرون حملہ کیا جس میں 188 ڈرون استعمال کیے گئے۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق روس نے مجموعی طور پر 188 ڈرونز سے حملہ کیا جن میں سے 76 ڈرونز یوکرینی فوج نے تباہ کردیئے جبکہ 96 ڈرونز کاکچھ پتا نہ لگ سکا، روسی حملے میں یوکرین کے مغربی علاقے ترنوپل میں بجلی کے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا جبکہ کیف میں رہائشی عمارتیں بھی متاثر ہوئیں۔

    یوکرینی فوج کا کہنا ہے کہ روس نے حملے میں خودکش ڈرونز سمیت کچھ نامعلوم ڈرونز بھی استعمال کیے روس کی جانب سے یوکرینی دفاعی نظام کو ناکام بنانے کےلیے ڈمی ڈرونز بھی استعمال کیے جاتے ہیں، دارالحکومت کیف پر حملہ آور ڈرونز میں سے 10 ڈرونز کو مارگرایا گیا جن کا ملبہ رہائشی عمارتوں پر گرا، ڈرون حملے میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا،پانچ ڈرون بیلاروس کی طرف بڑھے۔

  • ایرانی حکومت کا طلبہ کی گرفتاری پر روس سے احتجاج

    ایرانی حکومت کا طلبہ کی گرفتاری پر روس سے احتجاج

    ایران نے روس کے شہر کازان کی یونیورسٹی میں ایرانی طالبعلموں کی پرتشدد گرفتاریوں پر ماسکو سے احتجاج کیا ہے۔

    ایران کے سرکاری خبررساں ادارے ’ارنا‘ نے ایرانی قونصلیت سے جاری بیان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ جمعے کو کازان یونیورسٹی کے ویزا توسیع مرکز جانے والے 2 ایرانی طلبہ کو پولیس نے غیرپیشہ ورانہ اور غیرانسانی تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد گرفتار کرلیا۔ واقعے کے ردعمل میں ایران نے روسی وزارت خارجہ میں ایک احتجاجی نوٹ جمع کروایا ہے جس میں ایرانی طلبہ کے ساتھ پولیس کے پرتشدد سلوک کی مذمت کی گئی ہے۔روس کے قریبی اتحادی ایران نے واقعے پر وضاحت طلب کی ہے، گرفتار ایرانی طلبہ کو جمعے کو ایرانی قونصلیٹ کی مداخلت کے بعد رہا کردیا گیاتھا۔کازان پولیس کی پریس سروس نے ٹیلی گرام کے ذریعے جمعے کو جاری پیغام میں کہا ہے کہ طلبہ کے درمیان ایک تنازع ہاتھا پائی میں تبدیل ہوگیا جس پر پولیس نے لڑائی میں پہل کرنے والے طلبہ کو حراست میں لیا تھا، بیان میں گرفتار طلبہ کی قومیت کا حوالہ نہیں دیا گیا۔
    کازان کی علاقائی تحقیقاتی کمیٹی نے بھی جمعے کو بتایا کہ سرکاری نمائندے سے پرتشدد رویہ اپنانے کے الزام میں دو غیر ملکی طلبہ کو گرفتار کیا گیا تھا۔ماسکو میں روس کے سفیر کاظم جلالی نے ایکس پوسٹ میں بتایا کہ ایران کے سینئر سفارتکار عباس آراغچی مسلسل واقعے کی پیروی کرتے رہے، ایرانی سفیر نے ایک ایکس پوسٹ میں ایرانی طلبہ کے ساتھ کسی بھی قسم کی بدسلوکی کی مذمت کرتے ہوئے ملوث روسی حکام کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔واضح رہے کہ ایران اور روس قریبی اتحادی ہیں ، دونوں ممالک کے امریکا اور مغربی طاقتوں کے خلاف مشترکہ مفادات کے پیش نظر قریبی تعلقات ہیں جبکہ حالیہ تاریخ میں پہلی بار ایران کی جانب سے کسی مسئلے پر روس سے احتجاج کیا گیا ہے، رواں سال ستمبر میں امریکا نے ایران پر روس کو بیلسٹک میزائلوں کی فراہمی کا الزام عائد کرتے ہوئے تہران پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا عندیہ دیا تھا۔

    بیلاروس کا 75 رکنی وفد اسلام آباد،محسن نقوی نے استقبال کیا

    یو اے ای، مغوی اسرائیلی ربی کی لاش مل گئی

    کرم تصادم، فریقین نے 7 دن کے لئے سیز فائر پر اتفاق کر لیا

    پی ٹی آئی سیاسی سے زیادہ انتشاری جماعت بن گئی ہے، سعید غنی

  • امریکی سفیر کا استقبالیہ، پیپلز پارٹی رہنما سحر کامران کی شرکت

    امریکی سفیر کا استقبالیہ، پیپلز پارٹی رہنما سحر کامران کی شرکت

    پاکستان میں امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے اپنے رہائش گاہ پر پاکستان-امریکہ پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کے اراکین کے اعزاز میں ایک استقبالیہ دیا۔

    اس موقع پر پاکستان کی پارلیمنٹ کی رکن،پیپلز پارٹی کی رہنما سحر کامران بھی موجود تھیں۔ امریکی سفیر کی جانب سے دیئے گئے استقبالیہ میں باہمی تعلقات کو فروغ دینے اور پارلیمانی روابط کو مضبوط بنانے پر گفتگو ہوئی۔تقریب میں دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات کی اہمیت اور انہیں مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ اس موقع پر سحر کامران نے کہا کہ ایسے مواقع دونوں قوموں کو قریب لانے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔

    تقریب میں موجود دیگر مہمانوں میں پارلیمنٹ کے معزز اراکین، سفارتی اہلکار، اور دونوں ممالک کے دیگر اہم نمائندے شامل تھے۔ اس موقع پر پاکستانی سفارت خانہ واشنگٹن کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

    یہ استقبالیہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے کے لیے پارلیمانی ڈائیلاگ کتنی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس تقریب میں پاکستانی اور امریکی جھنڈے کی موجودگی نے دونوں ممالک کے درمیان گہری دوستی کی علامت کو اجاگر کیا۔امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے اس تقریب کو کامیاب قرار دیا۔ تقریب کا اختتام دوطرفہ تعاون کی امید اور خیرسگالی کے پیغام کے ساتھ ہوا۔

    سحر کامران کی پاکستان اور روس کے مابین تعلقات کو مزید بہتر بنانے پر بات چیت
    دوسری جانب پیپلز پارٹی کی رہنما سحر کامران نے ‘سی ای او ٹوڈے میگزین’ کے اجرا کی تقریب میں شرکت کی ہے اور اسے ایک اعزاز قرار دیا، یہ تقریب روسی فیڈریشن کے سفیر ایچ ای البرٹ پی خوریو کے حوالے سے ایک خصوصی کیس اسٹڈی پر مبنی تھی۔اس موقع پر پاکستان اور روس کے مابین تعلقات کو مزید بہتر بنانے پر گفتگو ہوئی، جس میں تجارت، توانائی، دفاع، اور علاقائی سلامتی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر زور دیا گیا۔ تقریب میں 50 سے زائد سی ای اوز، کاروباری رہنماؤں، سفارت کاروں اور کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔پیپلز پارٹی کی رہنما سحر کامران نے دونوں ممالک کے مابین شراکت داری کو وسعت دینے کے لیے اس طرح کے مواقع کی اہمیت پر زور دیا اور اسے خوش آئند قدم قرار دیا۔

    پیپلز پارٹی رہنما سحر کامران کا ملائیشیاکے ہائی کمیشن کا دورہ
    علاوہ ازیں پیپلز پارٹی کی رہنما سحر کامران نے اسلام آباد میں ملائیشیا کے ہائی کمیشن کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ہائی کمشنر عزت مآب محمد اظہر مزلان سے ملاقات کی۔سحر کامران نے اس ملاقات کو ایک اعزاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ "ملائیشیا کے ہائی کمیشن کا دورہ اور ہائی کمشنر سے ملاقات کرنا میرے لیے بہت خوشی کا باعث تھا۔ عزت مآب محمد اظہر مزلان کی مہمان نوازی اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اور تجارتی تعاون کو فروغ دینے کے امکانات پر بصیرت افروز گفتگو پر شکرگزار ہوں۔”

    یہ ملاقات پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون کے مواقع پر تبادلہ خیال کے لیے اہم قدم قرار دی جا رہی ہے۔ سحر کامران نے ملائیشیا کے دفتر خارجہ اور اسلام آباد میں ہائی کمیشن کا شکریہ ادا کیا۔

    خواتین قانون سازوں کا فیصلوں میں کردار اب بھی محدود ہے،سحر کامران

    احتجاج اور انتشار میں تفریق کرنی ہو گی، سحر کامران

    کم عمری کی شادیاں بچوں کو ذہنی اور جسمانی نقصان پہنچاتی ہیں،سحر کامران

    پیپلز پارٹی کسانوں ،محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ کر رہی ہے،سحر کامران

    ایوان میں وزرا کی مسلسل غیر حاضری،غلط جوابات،سحر کامران پھٹ پڑیں

    پاک عراق پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کا سحرکامران کی زیر صدارت اجلاس

    پاکستان اور روس کے کثیرالجہتی تعلقات مثبت راستے پر گامزن ہیں: سحرکامران

  • روس کا یوکرین کے فوجی صنعتی کمپلیکس پر حملہ

    روس کا یوکرین کے فوجی صنعتی کمپلیکس پر حملہ

    روس نے یوکرین کے فوجی صنعتی کمپلیکس پر جدید ترین میزائل ’اوریشنک‘ سے حملہ کیا ہے۔

    روسی میڈیا کے مطابق، اس صنعتی کمپلیکس میں یوکرین بیلسٹک میزائل نظام تیار کر رہا تھا،حملے کے بعد صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایک ہنگامی خطاب میں بتایا کہ اس کارروائی کے لیے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والا بیلسٹک میزائل استعمال کیا گیا، جس پر ہائپرسونک ہتھیار نصب تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ میزائل ایک سیکنڈ میں 3 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتا ہے اور دنیا میں کوئی دفاعی نظام اسے روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ پیوٹن نے یوکرین کے اتحادیوں کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکی دی۔

    دوسری جانب، یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے عالمی برادری سے سخت ردعمل کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ روس نے یوکرینی سرزمین کو ہتھیاروں کی تجربہ گاہ میں تبدیل کر دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ روسی میزائل حملہ جنگ کو مزید بڑھا دے گا،نئے بیلسٹک میزائل کا استعمال اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ماسکو امن نہیں چاہتا۔

    قبل ازیں یوکرین نے برطانوی فراہم کردہ اسٹارم شیڈو میزائلز روس کے اندر اہداف پر داغے ہیں،اگرچہ برطانیہ اور یوکرین نے ان طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کے روس میں استعمال کی تصدیق نہیں کی، لیکن برطانوی میڈیا میں ان کے استعمال کی وسیع پیمانے پر رپورٹیں گردش کر رہی ہیں۔ٹیلیگرام پر ایسی ویڈیوز پوسٹ کی گئی ہیں جن میں روس کے کورِسک علاقے میں ان میزائلوں کے ملبے کو دکھایا گیا ہے۔ کورِسک یوکرین کی سرحد سے متصل روس کا علاقہ ہے۔برطانیہ پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ برطانوی ٹینک، اینٹی ٹینک میزائلز اور دیگر فوجی سازوسامان یوکرین کی دفاعی حکمت عملی کے تحت روس کے اندر استعمال ہو سکتے ہیں۔تاہم، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے استعمال پر پابندیاں عائد تھیں۔

  • روس کا شمالی کوریا کے چڑیا گھر کے لیے 70 جانوروں کا تحفہ

    روس کا شمالی کوریا کے چڑیا گھر کے لیے 70 جانوروں کا تحفہ

    روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ کے چڑیا گھر کے لیے 70 جانوروں کا تحفہ بھیجا ہے۔ ان میں افریقی شیر، 2 بھورے ریچھ، 45 تیتر، بطخیں اور چند بڑی کلغی والے طوطے شامل ہیں۔

    باغی ٹی وی :عالمی میڈیا کے مطابق ماسکو کے چڑیا گھر سے منتقل کیے جانے والے اِن جانوروں کو صدر ولادیمیر پیوٹن کی طرف سے شمالی کوریا کے عوام کے لیے تحفہ قرار دیا جارہا ہے،قدرتی وسائل کے روسی وزیر الیگزینڈر کوزلوف جانوروں کی منتقلی کی نگرانی کی یہ جانور کارگو طیارے کے ساتھ پیانگ یانگ بھیجے گئے ان کے ساتھ چند ڈاکٹرز بھی پیانگ یانگ گئے۔

    کوزلوف کے دفتر نے بدھ کو اپنے سرکاری ٹیلیگرام چینل پر بتایا کہ پیوٹن کے وزیر ماحولیات الیگزینڈر کوزلوف ان جانوروں کو ایک کارگو طیارے میں شمالی کوریا کے دارالحکومت لائے،ماسکو سے جانوروں کی کھیپ میں دو یاک، پانچ کاکاٹو اور درجنوں تیتر کے ساتھ ساتھ مینڈارن بطخیں بھی شامل تھیں۔

    کوزلوف کا کہنا تھا کہ تاریخ کے ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ بین الریاستی تعلقات بہتر بنانے میں جانوروں کے تبادلے نے ہمیشہ اچھا کردار ادا کیا ہے۔

    یہ تحفہ امریکہ اور جنوبی کوریا کے اس انکشاف کے چند ہفتوں بعد آیا ہے جب شمالی کوریا نے یوکرین میں روس کے ساتھ مل کر لڑنے کے لیے ہزاروں فوجی بھیجے تھے،یوکرین جنگ میں شدت آجانے پر روس نے حملے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے ساتھ ہی ساتھ انہوں نے شمالی کوریا کے 10 ہزار فوجیوں کو یوکرین کے محاذوں پر تعینات کرنے کی منصوبہ سازی کی ہے-

    روس اور شمالی کوریا نے جون میں ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت وہ ایک دوسرے کے دفاع کے لیے تعاون کریں گے شمالی کوریا کا روس کو 10 ہزار فوجیوں کی خدمات فراہم کرنا اِسی سلسلے کی کڑی ہے۔

  • روس کے بڑے حملے کا خطرہ،امریکا کا یوکرین میں سفارتخانہ بند کرنے کا اعلان

    روس کے بڑے حملے کا خطرہ،امریکا کا یوکرین میں سفارتخانہ بند کرنے کا اعلان

    کیف: امریکا نے یوکرین کے دارالحکومت کیف پر بڑے حملے کے خطرے کے پیش نظر اپنا سفارت خانہ بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: امریکا سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے استعمال کی اجازت ملنے کے بعد ایک طرف روس نے اپنی نیوکلئیر ڈاکٹر ا ئن تبدیل کرلی ہے تو دوسری جانب اجازت ملتے ہی یوکرین نے روس پر امریکی ساختہ میزائلوں سے حملہ کردیا، روس نے چھ میزائلوں میں سے پانچ کو تباہ کردیا۔

    روس کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ جنگ کے ایک ہزار دن پورے ہونے پر یوکرین نے روس کے برائنسک علاقے میں امریکی ساختہ ATACMS میزائل داغے ہیں،یہ حملہ بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے کیف کو روس کے اندر اہداف کے خلاف طویل فاصلے تک مار کرنے والے امریکی ہتھیاروں کے استعمال کے لیے گرین لائٹ دیے جانے کے صرف دو دن بعد ہوا۔

    پاکستان اور چین کی مشترکہ تربیتی فوجی مشقوں کا آغاز ہوگیا

    یہ پہلا موقع ہے جب یوکرین نے روس کے اندر گہرائی میں اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے طویل فاصلے تک مار کرنے والے امریکی ہتھیاروں کا استعمال کیا، روسی وزارت دفاع نے بتایا کہ منگل کو مقامی وقت کے مطابق رات 3:25 بجے یوکرین نے برائنسک میں ایک تنصیب پر چھ بیلسٹک میزائل فائر کیے، حملے میں امریکی ساختہ ATACMS میزائل استعمال کیے گئے تھے۔

    روسی فضائی دفاع نے کہا کہ انہوں نے پانچ میزائلوں کو مار گرایا اور ایک سے معمولی نقصان پہنچا، تباہ شدہ میزائل کے ٹکڑے فوجی تنصیب کی سرزمین پر گرے، جس سے آگ لگ گئی جسے اب تک بجھا دیا گیا ہے اور کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔

    یوکرین کا روس پر امریکی ساختی میزائل سے پہلا حملہ، تیسری جنگ عظیم کا خدشہ

    یوکرین کو طویل فاصلے تک وار کرنےوالے امریکی میزائل روس پر داغنے کی اجازت دیئےجانے کے بعد اب روس کی طرف سے بھی بھرپور کارروائی کا امکان ظاہر کیا جارہا ہےروس کے صدر ولادیمیر پوٹن کہہ چکے ہیں کہ اگر امریکا اور فرانس کے جدید ترین ہتھیاروں سے روس میں بہت اندر تک حملے کیے گئے تو بھرپور جوابی کارروائیاں کی جائیں گی۔

  • یوکرین کا روس پر امریکی ساختی میزائل سے پہلا حملہ، تیسری جنگ عظیم کا خدشہ

    یوکرین کا روس پر امریکی ساختی میزائل سے پہلا حملہ، تیسری جنگ عظیم کا خدشہ

    کیف: یوکرین نے روس کے برائنسک علاقے میں یوکرائنی سرحد سے 75 میل کے فاصلے پر کاراچیف میں گولہ بارود کے ایک ڈپو کو نشانہ بنایا-

    باغی ٹی وی: روس کے سرکاری میڈیا نے منگل کو رپورٹ کیا کہ روس کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ یوکرین نے ملک کو امریکہ کی طرف سے فراہم کردہ ATACMS میزائلوں سے نشانہ بنایا،پانچ میزائلوں کو مار گرایا گیا اور ایک کو نقصان پہنچا، جس کے ٹکڑوں کی وجہ سے خطے میں ایک فوجی تنصیب میں آگ لگ گئی یہ فوجی مرکز کاراچیف میں واقع تھا، جو وسطی کرسک سے تقریباً 100 میل شمال میں تھا۔

    یہ بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے ATACMS میزائلوں کے استعمال کی اجازت دینے کے چند دن بعد آیا ہے اس خدشے کے باوجود کہ یہ تنازعہ کو قابو سے باہر کر سکتا ہے۔

    تاس نیوز ایجنسی کے مطابق روسی وزارت دفاع نے بتایا کہ ماسکو وقت کے مطابق 03:25 پر، یوکرین کی مسلح افواج نے برائنسک کے علاقے میں چھ ATACMS بیلسٹک میزائلوں سے ایک ہدف کو نشانہ بنایا "فضائی دفاعی نظام نے برائنسک کے علاقے میں پانچ ATACMS میزائلوں کو مار گرایا، ایک کو نقصان پہنچا ، اے ٹی اے سی ایم ایس کے ٹکڑے برائنسک کے علاقے میں ایک فوجی سہولت کے تکنیکی علاقے پر گرے، آگ لگ گئی، اسے بجھا دیا گیا –

    منگل کو یہ اطلاع ملی تھی کہ روسی صدر نے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی حد کو کم کرتے ہوئے ایک نئے نظریے پر دستخط کیے ہیں اگر یوکرین روس کے اندر اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے مغربی فراہم کردہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کا استعمال کرے۔

    کریملن کے پریس سکریٹری دمتری پیسکوف نے کہا کہ روسی فیڈریشن جارحیت کی صورت میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا حق محفوظ رکھتی ہے، یوکرین کو روس کے اندرونی علاقوں پر حملہ کرنے کے لیے امریکی ساختہ ہتھیاروں کے استعمال کی اجازت دینے کے امریکہ کے فیصلے سے کشیدگی میں اضافہ ہو گا اور تنازع میں امریکہ کی شمولیت مزید گہری ہو جائے گی، سبکدوش ہونے والی جو بائیڈن انتظامیہ یوکرین میں تنازع کو بڑھانا چاہتی ہے۔

    منگل کو روسی صدر ولادیمیر پوتین نے ایک حکم نامے پر دستخط کیے جس میں ملک کے لیے ایک تازہ ترین جوہری نظریے کی منظوری دی گئی جو کہ موجودہ سیاسی صورتحال سے ہم آہنگ نقطہ نظرہے۔

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے منظور کی گئی نئی نیوکلئیر ڈاکٹرائن میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی غیر جوہری ملک کا روس پر حملہ، اگر کسی جوہری طاقت کی حمایت سے ہو تو وہ دونوں ممالک کا روس پر مشترکہ حملہ تصور کیا جائے گا روس یا اس کے اتحادی بیلا روس پر اگر روایتی ہتھیاروں سے ایسا حملہ کیا گیا جو اس کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے کسی بڑے خطرے کا سبب بنے تو اس صورت میں بھی روس جوہری ہتھیار استعمال کرسکتا ہےکسی فوجی اتحاد یا بلاک کے رکن کیجانب سے روس پر جارحیت پورے اتحاد کی جار حیت تصور کی جائے گی۔

    نئی ڈاکٹرائن کے تحت روس پر کسی بڑے فضائی حملے کی صورت میں جوہری ردعمل دیا جا سکتا ہے روس کی یہ نئی جوہری ڈاکٹرائن ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر جو بائیڈن نے یوکرین کو امریکا کے فراہم کردہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے ذریعے روس کے اندر حملے کی اجازت دی ہے۔

    کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے واضح کیا کہ اس دستاویز کی اشاعت کا وقت پہلے سے طے شدہ تھا اور پیوٹن نے رواں سال کے آغاز میں اس ڈاکٹرائن کو موجودہ صورتحال کے مطابق تبدیل کرنے کی ہدایت دی تھی۔

    دوسری جانب یورپی یونین کے خارجہ اور سکیورٹی پالیسی کے اہلکار جوزپ بوریل نے اعتراف کیا ہے کہ یورپی یونین کے کچھ ممالک نے چپکے سے اپنے ہتھیاروں کو یوکرین کی سرزمین سے روس میں گہرائی میں حملہ کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

    بوریل نے کہا کہ "امریکہ نے روسی سرزمین کے اندر 300 کلومیٹر کی گہرائی میں اپنے ہتھیاروں کے ساتھ حملوں کی اجازت دینے کا ایک اہم فیصلہ کیا۔ دیگر ممالک نے اس کا اعلان کیے بغیر روس کے اندر حملوں پر پابندیاں ہٹا دیں۔ یہ یورپی یونین میں قومی طور پر (ہر ملک کے لیے) ایک اعزاز سمجھا جاتا ہے۔

    اس سے قبل’نیویارک ٹائمز‘ نے اپنے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے ’اٹاکمز‘ میزائل کا استعمال کرتے ہوئے روسی علاقے کو نشانہ بنانے کی اجازت دی تھی۔ اخبار نے بتایا تھا کہ فرانس اور برطانیہ نے بھی اسکالپ اور سٹارم شیڈو کے ذریعے حملوں کی اجازت دی تھی، اس خبر کی سرکاری تصدیق جاری کر دی گئی ہے۔

  • روس پر یوکرائنی حملوں کی امریکی منظوری  تیسری عالمی جنگ کا باعث بن سکتی ہے،تجزیہ نگار

    روس پر یوکرائنی حملوں کی امریکی منظوری تیسری عالمی جنگ کا باعث بن سکتی ہے،تجزیہ نگار

    واشنگٹن: ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر نے بائیڈن انتظامیہ کو تناؤ میں اضافے کا ذمہ دار ٹھہرایا جو روس پر یوکرائنی حملوں کی امریکی منظوری کے بعد تیسری عالمی جنگ کا باعث بن سکتی ہے۔

    باغی ٹی وی : ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر بائیڈن انتظامیہ پر تناؤ پھیلانے کا الزام لگا رہے ہیں جو جنوری میں ان کے والد کی وائٹ ہاؤس واپسی سے پہلے "عالمی جنگ 3” کا باعث بن سکتی ہے۔ یہ دعویٰ اس وقت سامنے آیا ہے جب صدر جو بائیڈن نے یوکرین کی فوج کو روسی سرزمین کو نشانہ بنانے کے لیے امریکی فراہم کردہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے استعمال کی اجازت دی تھی، یہ ایک ایسا اقدام ہے جو امریکہ اور روس کے درمیان تناؤ کو بڑھا سکتا ہے، یوکرین آنے والے دنوں میں اپنے پہلے طویل فاصلے تک حملے کرنے کا ارادہ رکھتا ہے-

    امریکہ کا یہ اقدام نو منتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے 20 جنوری کو اقتدار سنبھالنے سے محض دو ماہ قبل سامنے آیا ہے۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کی طرف سے کئی مہینوں کی درخواستوں کے بعد امریکہ نے یوکرین کی فوج کو روسی فوج کو نشانہ بنانے کے لیے امریکی ہتھیاروں کے استعمال کی اجازت دی-

    ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر نے اتوار کو کہا کہ یوکرین کے لیے امریکی حمایت بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے جنوری میں ریپبلکن ڈونلڈ ٹرمپ کے صدارت سنبھالنے سے پہلے ایک بڑا تنازعہ شروع کرنے کی کوشش ہے46 سالہ ٹرمپ جونیئر نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا کہ دفاعی اسٹیبلشمنٹ کا مقصد تنازعہ کو بڑھا کر ان کے والد کی آئندہ صدارت کو غیر مستحکم کرنا ہے،”ایسا لگتا ہے کہ ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس
    اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ وہ تیسری عالمی جنگ شروع کر دیں اس سے پہلے کہ میرے والد کو امن قائم کرنے کا موقع ملے-

    دوسری جانب سابق امریکی فوجی سربراہوں اور تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کا یوکرین کو روس کے اندر اہداف کو امریکی فراہم کردہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے استعمال کی اجازت دینے کا فیصلہ ایک وسیع جنگ کو جنم دے سکتا ہے اور مزید خونریزی کا باعث بن سکتا ہے۔

    ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کرنل رابرٹ میگنیس نے کل خبردار کیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس آمد سے چند ہفتے قبل کیف کو امریکہ کے ATACMS راکٹوں کو محدود صلاحیت میں بھی استعمال کرنے کی اجازت دینا ‘پیوٹن کو مشتعل اور ممکنہ طور پر جنگ کو وسیع کر دے گا’۔

    انہوں نے کہا کہ ‘مجھے لگتا ہے کہ یہ پیوٹن کو مشتعل کرنے والا ہے، جو کہ پریشانی کا باعث ہے اے ٹی اے سی ایم ایس واضح طور پر کوئی بڑا فرق نہیں ڈالنے والا ہے، لیکن یہ کیا کرے گا مسٹر ٹرمپ کو جب وہ صدر کا عہدہ سنبھال رہے ہیں تو بہت خراب صورتحال میں ہے،بائیڈن انتظامیہ ایک انتہائی خراب صورتحال کو بڑھا رہی ہے-

    بائیڈن کا فیصلہ، جو امریکی پالیسی میں ڈرامائی یو ٹرن کا اشارہ دیتا ہے، اس وقت سامنے آیا ہے جب روسی اور یوکرائنی افواج ٹرمپ کی اوول آفس واپسی سے قبل زیادہ سے زیادہ علاقہ حاصل کرنے کے لیے لڑ رہی ہیں، اس خدشے کے درمیان کہ منتخب صدر جنگ بندی پر مجبور ہو سکتے ہیں۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے طویل عرصے سے اپنے مغربی اتحادیوں پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ اپنے ملک کو روس کے اندر گہرائی تک فوجی اہداف پر حملہ کرنے کی اجازت دیں، یہ کہتے ہوئے کہ پابندی نے کیف کے لیے اپنے شہروں اور بجلی کے گرڈ پر روسی حملوں کو روکنے کی کوشش کرنا ناممکن بنا دیا ہے، لیکن کیف کے مغربی حمایتیوں نے اس خدشے کے درمیان ان کی درخواستوں کی مزاحمت کی تھی کہ ایسا کرنے سے پوٹن کی جانب سے طے کردہ ‘سرخ لکیر’ کو عبور کر لیا جائے گا۔

    فروری کو روس کے حملے کے تین سال مکمل ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں یوکرائنی شہریوں کی متعدد ہلاکتیں ہوئیں۔ 78 سالہ ٹرمپ نے تنازع ختم کرنے کا عہد کیا ہے۔ اس ماہ اپنی انتخابی کامیابی کے بعد، نو منتخب صدر نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور روسی رہنما ولادیمیر پوٹن دونوں سے بات چیت کی۔

    میل آن لائن کی وار آن ٹیپ یوٹیوب سیریز کے میزبان کرس پلیزنس نے کہا: ‘بائیڈن کا فیصلہ یوکرین کے باشندوں کی مدد کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ وہ پوٹن کی فوج کو بھاری جانی نقصان پہنچا سکیں۔

    ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے اور امن کو نافذ کرنے کی کوشش کرنے سے پہلے یہ دونوں طرف خونریزی کا باعث بن سکتا ہے۔ اتنا خون بہنے کے بعد دونوں فریق مذاکرات پر آمادہ ہوں گے یا نہیں یہ دیکھنا باقی ہے۔’

    امریکی صدارتی انتخابات میں کامیابی کے بعد اپنی پہلی بڑی تقریر میں ٹرمپ نے روس اور یوکرین جنگ کو ختم کرنے کے اپنے عزم کا دوبارہ اعادہ کیا ٹرمپ نے کہا کہ "ہم مشرق وسطیٰ پر کام کرنے جا رہے ہیں، اور ہم روس اور یوکرین پر بہت محنت کرنے جا رہے ہیں، اسے روکنا ہو گا۔”

    صدر ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران کہا ہے، وہ واحد شخص ہیں جو امن مذاکرات کے لیے دونوں فریقوں کو اکٹھا کر سکتے ہیں، اور جنگ کے خاتمے اور قتل و غارت کو روکنے کے لیے کام کر سکتے ہیں،ٹرمپ نے ابھی تک جنگ کو ختم کرنے کے لیے اپنی حکمت عملی کے حوالے سے مخصوص تفصیلات ظاہر نہیں کی ہیں۔