Baaghi TV

Tag: روس

  • امریکا کے ساتھ میزائل مقابلے کےلیے تیار ہیں،روسی صدر

    امریکا کے ساتھ میزائل مقابلے کےلیے تیار ہیں،روسی صدر

    ماسکو: روسی صدر ولاد یمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ روس اور چین بین الاقوامی سطح پر اپنے تعلقات بڑھا رہے ہیں اور بڑھاتے رہیں گے، امر یکا کے ساتھ میزائل مقابلے کےلیے تیار ہیں۔

    باغی ٹی وی : صدر پیوٹن نے کہا کہ روسی افواج یوکرین میں بنیادی مقاصد حاصل کرنے کے قریب ہیں روس یوکرینی فوج کو روسی علاقے سے باہر نکال دے گا، امریکا کے ساتھ میزائل مقابلے کےلیے تیار ہیں، نیا روسی ہائپر سونک بیلسٹک میزائل کسی بھی امریکی میزائل دفاعی نظام کو شکست دے سکتا ہے، نیا میزائل اور شنیک جدید ہتھیار ہے۔

    پیوٹن نے کہا کہ شام کے بشارالاسد کے ساتھ گفتگو کا منصوبہ ہے ان سے شام میں لاپتا امریکی صحافی کے بارے میں دریافت کروں گا نو منتخب امریکی صدر ٹرمپ سے 4 سال سے بات نہیں کی،نو منتخب امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ بات کرنے کیلئے تیار ہوں، عملی طور پر تمام نیٹو ممالک روس کے خلاف لڑ رہے ہیں، چین سے تعلقات زیادہ بلند سطح پر پہنچ چکے ہیں روس اور چین بین الاقوامی سطح پر اپنے تعلقات بڑھا رہے ہیں اور بڑھاتے رہیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ روس کو شام میں شکست نہیں ہوئی، اپنے مقاصد حاصل کیے ہیں روس نے شام سے 4 ہزار ایرانی جنگجوؤں کا انخلا کرایا شام میں تمام گروپوں سے تعلقات ہیں شراکت داروں کو شام میں روسی ایئر، نیول بیس کو انسانی مقاصد کےلیے استعمال کرنے کی تجویز دی۔

    انہوں نے ماسکو میں روسی جنرل ایگو کے قتل کے معاملے پر بھی گفتگو کی اور کہا یوکرینی حکومت روسی شہریوں کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کا ارتکاب کررہی ہے یوکرین کے معاملےپر بات چیت کیلئےتیار ہیں، دوسری جانب کے تیار ہونےکی ضرورت ہے۔

  • بشار الاسد شام سے کیسے فرار ہوئے، تفصیلات آ گئیں

    بشار الاسد شام سے کیسے فرار ہوئے، تفصیلات آ گئیں

    شام کے سابق صدر بشارالاسد کا اقتدار ختم ہونے کے بعد ایران کی مشرق وسطیٰ میں پوزیشن مزید کمزور ہو گئی ہے، اور اسرائیل اس کا بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے۔ اس حوالے سے کئی اہم اور حیران کن تفصیلات سامنے آئی ہیں جن میں بشارالاسد کے شام سے فرار کی کہانی اور اس کے بعد اسرائیل کی سرگرمیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، بشارالاسد نے اپنے ملک چھوڑنے سے قبل اپنے معاونین، قریبی رشتہ داروں اور فوجی حکام کو بھی اپنی اصل صورتحال سے لاعلم رکھا۔ حتیٰ کہ اپنے چھوٹے بھائی ماہر الاسد اور فوجی کمانڈروں کو بھی ان کی روانگی کے بارے میں کچھ نہ بتایا۔ایک اہم رپورٹ کے مطابق، بشارالاسد نے ملک چھوڑنے سے کچھ گھنٹے پہلے اپنے فوجی افسران سے ملاقات کی اور روس سے فوجی مدد آنے کی یقین دہانی کرائی۔ اسی دوران، بشارالاسد نے اپنے دفتر کے منیجر کو بتایا کہ وہ اپنے گھر جا رہے ہیں، لیکن حقیقت میں وہ ہوائی اڈے کی طرف روانہ ہو گئے، جہاں سے وہ روسی ایئر بیس پہنچے اور وہاں سے ماسکو روانہ ہو گئے۔

    شام کے حکمران بشار الاسد کی اپنے ملک سے فرار کی تفصیلات اب منظر عام پر آچکی ہیں، جس کے مطابق ان کا یہ فرار روسی حمایت سے عمل میں آیا اور اس کی منصوبہ بندی مکمل طور پر خفیہ رکھی گئی تھی، یہاں تک کہ ان کے قریبی معاونین اور اہل خانہ بھی اس سے لاعلم تھے۔جب باغی فوجیں دمشق کے قریب پہنچنا شروع ہوئیں اور اس بات کا امکان بڑھا کہ بشار الاسد کا اقتدار ختم ہونے والا ہے، تو ماسکو نے مداخلت کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ انہیں شام سے باہر نکالا جا سکے۔اس منصوبے کے بارے میں کسی کو بھی اطلاع نہیں دی گئی، اور 8 دسمبر کی صبح جلدی بشار الاسد نے دمشق کے ایئرپورٹ سے اپنے نجی طیارے میں سوار ہو کر سفر شروع کیا۔ طیارہ سمندر کی سمت میں روانہ ہوا اور پھر اچانک غائب ہوگیا، امکان ہے کہ طیارے کے پائلٹس نے فلائٹ ٹریکنگ سسٹم کو بند کر دیا تھا تاکہ ان کی پوزیشن کا پتہ نہ چل سکے۔یہ طیارہ شام کے شہر حمص کے اوپر ایک یو ٹرن لینے کے بعد غائب ہوگیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ طیارہ روسی فضائی اڈے "حمیمیم” کی طرف جا رہا تھا، جو شمال مشرقی شام کے شہر لاذقیہ کے قریب واقع ہے۔یہ نجی طیارہ بعد ازاں حمیمیم ایئر بیس پر پہنچا، جہاں بشار الاسد کو روسی فوجی طیارے میں منتقل کیا گیا اور ماسکو کے لیے پرواز کی گئی۔

    اسد کا فوری خاندان، بشمول ان کی برطانوی نژاد بیوی اسماء اور تین بالغ بچے، پہلے ہی ماسکو پہنچ چکے تھے، جہاں انہیں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی طرف سے پناہ دی گئی تھی۔اس کے فوراً بعد، اسلامی گروہ "حیات تحریر الشام” کی قیادت میں باغیوں نے دمشق پر قبضہ کر لیا اور اسد کی حکومت کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی بشار الاسد اور ان کے خاندان کا 50 سالہ حکومتی دور اور 24 سالہ اقتدار کا خاتمہ ہوا، جس نے شام میں جاری خونریز 13 سالہ خانہ جنگی کو بھی ایک نیا موڑ دیا۔باغیوں نے اسد کے محلوں اور ذاتی گھروں پر دھاوا بول دیا، اور لوٹ مار کے دوران ان کے ذاتی سامان اور عیاشی کی زندگی کی تصاویر سامنے آئیں۔ ایک ویڈیو میں یہ بھی دکھایا گیا کہ اسد کے گھر میں پکایا ہوا کھانا چولہے پر رکھا تھا، جبکہ خاندانی فوٹو البمز اور دستاویزات بھی بکھری ہوئی تھیں۔

    سات دن بعد اسد نے اپنی خاموشی توڑی اور اپنے پریسیڈنشل ٹیلی گرام چینل پر ایک حیران کن بیان جاری کیا، جس میں انہوں نے شام چھوڑنے کے اپنے آخری لمحات کی تفصیلات دی۔انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ 8 دسمبر کی صبح دمشق سے حمیمیم کی طرف روانہ ہوئے، لیکن ان کا یہ کہنا تھا کہ وہ شام چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تھے کیونکہ روسی فضائی اڈہ ڈرون حملے کا شکار ہوا، جس کے نتیجے میں روس نے ان کی ایمرجنسی ایواکیوشن کا حکم دیا۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کے شام چھوڑنے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا اور نہ ہی کسی نے انہیں اقتدار چھوڑنے یا پناہ گزینی کی تجویز دی۔ "میں دمشق میں اپنے فرادی ذمہ داریوں کو پورا کر رہا تھا اور دہشت گردوں کے خلاف لڑائی جاری رکھنے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا”، اسد نے اپنے آپ کو ایک محب وطن رہنما اور خاندان کے فرد کے طور پر پیش کیا جو اپنے عوام کے ساتھ جنگ کے دوران موجود رہا، حالانکہ ان کی افواج، جو روس، حزب اللہ اور ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا کے ساتھ تھی، ہزاروں شہریوں کے قتل کی ذمہ دار تھیں۔

    ہفتہ کے روز، جب بشار الاسد ماسکو کے لیے روانہ ہو رہے تھے، انہوں نے دفاعی وزارت میں تقریباً 30 فوجی اور سیکیورٹی افسران سے ملاقات کی اور ان سے کہا کہ روسی فوجی مدد جلد پہنچنے والی ہے اور فورسز کو دباؤ کا سامنا کر کے لڑنے کی ہدایت دی۔ ایک افسر کے مطابق اس ملاقات کے دوران اسد نے اپنی فوجیوں کو ہمت دی تھی۔اسد کے دفتر کے اسٹاف کو بھی ان کے فرار کے منصوبے کی خبر نہیں تھی۔ اس کے ایک معاون نے بتایا کہ اسی رات اسد نے اپنے میڈیا مشیر بثینہ شعبان کو گھر آنے اور ان کے لیے خطاب لکھنے کو کہا، لیکن جب وہ پہنچیں تو وہاں کوئی نہیں تھا۔اسد کے آخری وزیر اعظم، محمد جلالی نے اس ہفتے سعودی ٹی وی "العربیہ” کو بتایا کہ انہوں نے 8 دسمبر کی رات اسد سے بات کی تھی، اور اسد نے ان سے کہا تھا: "کل ہم دیکھیں گے، کل، کل۔”جلالی کے مطابق، اسد کا آخری جملہ یہی تھا، اور جب انہوں نے اگلے دن صبح اسد کو دوبارہ کال کرنے کی کوشش کی، تو ان کا فون بند تھا۔

    بشارالاسد کے فرار کے بعد یہ بات واضح ہو گئی کہ ان کا اقتدار اب ختم ہو چکا تھا۔ شامی حکومت کے اہم عہدے داروں اور ایرانی حکام سے مل کر بشارالاسد نے اپنا بچاؤ کرنے کی کوشش کی، لیکن جب روس نے ان کی فوجی مداخلت کی درخواست کو نظرانداز کیا، تو وہ مجبور ہو گئے کہ ملک چھوڑ کر روس چلے جائیں۔اسرائیل کی فوج نے شام میں اپنے اثر و رسوخ کو مزید مستحکم کیا اور اس نے شام کی اہم دفاعی تنصیبات کو تباہ کرنا شروع کر دیا۔ اسرائیل کی فضائیہ نے شام کے فضائی دفاع کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا اور اس کے بعد اسرائیلی فورسز نے شامی سرحد کے بفر زون کو پار کر لیا، جس کے نتیجے میں اسرائیل نے اہم اسٹریجک پہاڑی "ماؤنٹ حرمن” کو بھی اپنے قبضے میں لے لیا۔اسرائیل کی دفاعی افواج کا خیال ہے کہ شام میں بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے اور ایران کے پراکسیز کی کمزوری کے بعد ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کرنے کا موقع میسر آ چکا ہے۔ اسرائیل کی فضائیہ اس وقت ایران پر حملوں کے لیے اپنی تیاریوں کو مزید مستحکم کر رہی ہے، اور اس کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو نقصان پہنچانا ہے۔

    بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد ایران کو سب سے بڑا نقصان پہنچا ہے کیونکہ شام ایران کا اہم اتحادی تھا اور اس کی حکومت کے تحت ایران کی حمایت یافتہ تنظیموں کا اہم نیٹ ورک قائم تھا۔ ایران کی حمایت یافتہ تنظیموں میں حزب اللہ، حماس اور یمن کے حوثی باغی شامل ہیں جو اسرائیل اور دیگر عرب ممالک کے لیے ایک بڑا چیلنج تھے۔ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کو امریکہ اور اسرائیل کی سازش قرار دیا ہے اور اس میں شام کے ہمسایہ ممالک خاص طور پر ترکی کے کردار کا ذکر کیا ہے۔ تاہم، ایران کی اس سازش میں کامیابی کے باوجود اسرائیل نے شام میں اپنی پوزیشن مضبوط کی اور ایران کے خلاف فضائی کارروائیاں تیز کر دیں۔

    شام میں بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد باغیوں نے عبوری حکومت قائم کر لی ہے، جس کی قیادت ابو محمد الجولانی کر رہے ہیں، جو ماضی میں القاعدہ کا حصہ رہ چکے ہیں۔ اس تبدیلی کے بعد، شام میں ایران کا اثر و رسوخ تقریباً ختم ہو چکا ہے، اور اسرائیل نے اس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔شام کے نئے حکومتی ڈھانچے کی قیادت ابو محمد الجولانی کر رہے ہیں، اور انہوں نے دمشق کی مسجد امیہ میں اپنے خطاب میں کہا کہ یہ فتح خطے میں نئی تاریخ رقم کرے گی۔ شام میں اس وقت ایک نئی عبوری حکومت قائم ہو چکی ہے، اور اس کے ساتھ ہی شامی شہری بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کا جشن مناتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

    ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ شام میں خانہ جنگی کے دوران بے گھر ہونے والے لاکھوں افراد اب اپنے وطن واپس آنا شروع ہو گئے ہیں۔ نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، باغیوں کی کامیاب پیش قدمی کے بعد بے گھر شامی افراد اپنے گھروں کی طرف واپس آ رہے ہیں، اور اب تک لاکھوں افراد نے اپنے ملک واپس جانے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔بشارالاسد کا اقتدار ختم ہونے کے بعد شام میں ایران کا اثر و رسوخ کم ہو چکا ہے، اور اس کا فائدہ اسرائیل نے بھرپور انداز میں اٹھایا ہے۔ اسرائیل نے شام میں اپنی فضائی برتری قائم کرتے ہوئے ایران کے خلاف ممکنہ حملوں کے لیے اپنی تیاریوں کو مزید تیز کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ، شام میں باغیوں کی حکومت کا قیام اور شامی مہاجرین کی واپسی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد شام میں ایک نیا سیاسی منظرنامہ ابھر رہا ہے۔

  • روس کے چیف لیفٹیننٹ جنرل کے قتل کی ذمہ داری یوکرین نے قبول کر لی

    روس کے چیف لیفٹیننٹ جنرل کے قتل کی ذمہ داری یوکرین نے قبول کر لی

    کیف: روسی دارالحکومت ماسکو میں ہونے والے ایک بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے روسی فوج کےنیوکلیئر، بایولوجیکل اور کیمیکل پروٹیکشن فورسز کے چیف لیفٹیننٹ جنرل ایگور کری لوف کے قتل کی ذمہ داری یوکرین نے قبول کر لی-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق ماسکو کی ایک عمارت کے باہر اسکوٹی میں نصب ریموٹ کنٹرول بم کا دھماکا کیا گیا جس کے نتیجے میں روسی فوج کے سینئر افسر لیفٹیننٹ جنرل ایگور کری لوف اپنے ایک ساتھی سمیت ہلاک ہوگئے ایگور کری لوف 2017 سے روسی فوج میں روسی نیوکلیئر، بایولوجیکل اور کیمیکل پروٹیکشن فورسز کے چیف تھے۔

    روسی تحقیقاتی کمیٹی کے بم مطابق رہائشی عمارت کےباہرکھڑی الیکٹرک اسکوٹر میں نصب کیاگیا تھا، واقعے کے خلاف مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی گئی ہیں،یوکرین نے روسی جنرل کری لوف کےقتل کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

    یوکرینی سکیورٹی ذرائع کا کہناہے روسی جنرل کری لوف کو یوکرینی سکیورٹی سروس نے ماسکومیں خصوصی آپریشن میں ہلاک کیا۔

  • ماسکو،دھماکے میں جنرل اور انکا معاون ہلاک

    ماسکو،دھماکے میں جنرل اور انکا معاون ہلاک

    ماسکو کے ریازان اسکو پروسپیکٹ پر ایک دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں دو افراد کی ہلاکت کی اطلاع ملی ہے۔ روسی ٹیلی گرام چینلز کے مطابق یہ واقعہ صبح 6:11 بجے پیش آیا۔

    گواہوں کے مطابق، دھماکے سے کچھ گھنٹے پہلے ایک نامعلوم شخص نے ایک الیکٹرک سکوٹر عمارت کے داخلی دروازے کے قریب پارک کیا تھا جس کے ہینڈل پر ایک نامعلوم مواد سے بنا ہینڈ میڈ بم (آئی ای ڈی) موجود تھا۔ دھماکے کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہو گئے، جن میں روسی فوج کے ریڈی ایشن، کیمیکل اور بایولوجیکل ڈیفنس فورسز کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایگور کرئیلوف بھی شامل ہیں۔ دوسری ہلاکت ان کے معاون کی ہو سکتی ہے۔مقامی ٹیلی گرام چینلز کے مطابق، دھماکے نے عمارت کے داخلی دروازوں کو اڑایا اور کھڑکیاں ٹوٹ گئیں۔ جنرل کی سرکاری گاڑی بھی اس دھماکے میں تباہ ہو گئی۔

    ابتدائی تحقیقات کے مطابق، یہ دھماکہ دور سے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے کیا گیا تھا۔ یہ بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بمبار یا ان کے معاونین دھماکے کے مقام سے دور تھے اور شاید انہوں نے عمارت کے داخلی کیمرے تک رسائی حاصل کی، جو بہت سے رہائشیوں کے لیے دستیاب ہیں۔روس کے ٹیلی گرام چینل "ماش” کی رپورٹ کے مطابق، دھماکے میں مارے جانے والے دوسرے شخص کی شناخت لیفٹیننٹ جنرل کے ڈرائیور کے طور پر کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، وہ صبح 6 بجے جنرل کو لینے آیا تھا تاکہ انہیں کام پر لے جا سکے۔

    رشوت لینے کے الزم میں پولیس کانسٹیبل گرفتار

    فی الحال، بم ڈسپوزل ماہرین ریازان اسکو پروسپیکٹ پر واقع عمارت کے ارد گرد کی علاقے کا معائنہ کر رہے ہیں۔ سکوٹر، جس پر آئی ای ڈی منسلک تھا، کو فرانزک معائنہ کے لیے بھیجا جائے گا۔اس واقعے نے ماسکو میں سیکیورٹی خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے اور اس دھماکے کی نوعیت پر سوالات اٹھا دیے ہیں کہ آیا یہ حملہ کسی مخصوص مقصد کے تحت کیا گیا تھا یا یہ ایک وسیع تر دہشت گردانہ کارروائی کا حصہ تھا۔

    شانگلہ: چکیسر میں پولیس چوکی پر دہشتگردوں کا حملہ، 2 اہلکار شہید

  • روس نے ویزا فری انٹری دینے کا اعلان کر دیا

    روس نے ویزا فری انٹری دینے کا اعلان کر دیا

    روس نے 2025 سے بھارتیوں کو بغیر ویزا انٹری کی سہولت دینے کا اعلان کیا ہے۔

    غیر ملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق بھارتی شہری اگست 2023 سے روس کے لیے ای-ویزا کے بھی اہل ہیں، جس کے اجرا میں تقریباً چار دن لگتے ہیں۔ روس اور ہندوستان کے درمیان دوستانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرتے ہوئے روس نے بھارتی شہریوں کو ویزے کے بغیر انٹری دینے کی اجازت دے دی ہے۔جون 2023 میں دونوں ممالک نے ویزا پابندیوں میں کمی کے حوالے سے بات چیت کی تھی، تاہم اب روس کے نئے ویزا قوانین نافذ ہونے کے بعد بھارتی شہری بغیر ویزا روس کا سفر کر سکیں گے۔دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق 2023 میں روس نے بھارتیوں کو 9,500 ای-ویزا جاری کیے، اس برس 60 ہزار سے زیادہ بھارتیوں نے ماسکو کا سفر کیا، جو 2022 کے مقابلے میں 26 فی صد زیادہ ہے۔واضح رہے کہ اس وقت روس ویزا فری انٹری کی سہولت صرف چین اور ایران کے مسافروں کو دیتا ہے، تاہم بھارت کے ساتھ بھی اس سہولت پر غور کیا جا رہا ہے، اور امکان ہے کہ 2025 سے اس کا آغاز ہو جائے گا۔ روس کے ساتھ بھارت کے ان قریبی روابط پر امریکا ہمیشہ تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے۔

    کالعدم تنظیم کی فنڈنگ، سہولت کاری میں ملوث ملزم گرفتار

    شہریت کی تصدیق،حمیدہ بانو 22 برس بعد بھارت روانہ

    تنگوانی: دو افراد دن دہاڑے اغوا، پولیس خاموش تماشائی

    کراچی پولیس نے ہفتہ وار کارروائیوں کی رپورٹ جاری کردی

  • بشار کا تحتہ الٹنےکے بعد روس نے شام کی گندم فراہمی روک دی

    بشار کا تحتہ الٹنےکے بعد روس نے شام کی گندم فراہمی روک دی

    بشارالاسد کے ماسکو فرار ہونے کے بعد روس نے شام کو گندم کی سپلائی معطل کردی۔

    روسی اور شامی ذرائع نے رائٹرز نیوز ایجنسی کو بتایا کہ شام کو روسی گندم کی سپلائی نئی حکومت کے بارے میں غیریقینی صورتحال اور ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے معطل کر دی گئی ہے۔شام کے لیے روسی گندم لے جانے والے دو جہاز اپنی منزلوں تک نہیں پہنچ سکے۔روس، دنیا کا سب سے بڑا گندم برآمد کرنے والا ملک اور بشار الاسد کا کٹر حامی تھا اور اس نے شام اور روس دونوں پر عائد مغربی پابندیوں کو ناکام بناتے ہوئے پیچیدہ مالیاتی اور لاجسٹک انتظامات کے ذریعے شام کو گندم فراہم کی تھی۔حکومت کے قریبی ایک روسی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ شام کو سپلائی معطل کر دی گئی ہے کیونکہ برآمد کنندگان اس بات پر غیر یقینی صورتحال سے پریشان ہیں کہ دمشق میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد شام کی جانب سے گندم کی درآمد کا انتظام کون کرے گا۔شپنگ ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ ایک بحری جہاز، میخائل نیناشیف، شام کے ساحل پر لنگر انداز ہے، جب کہ دوسرا، الفا ہرمیس، کئی دنوں تک شام کے ساحل سے دور رہنے کے بعد مصری بندرگاہ اسکندریہ کی طرف بڑھ رہا ہے۔

    بجلی صارفین پر نیا بوجھ ڈالنے کا منصوبہ سامنے آ گیا

    بجلی صارفین پر نیا بوجھ ڈالنے کا منصوبہ سامنے آ گیا

    کراچی فراہمی و نکاسی آب کیلئے 24 کروڑ ڈالر منظور

    محض شک کے بنا پرشوہر نے حاملہ بیوی کو نہر میں پھینک دیا

  • یوکرین نے روس کے اہم میزائل سائنسدان کوقتل کر دیا

    یوکرین نے روس کے اہم میزائل سائنسدان کوقتل کر دیا

    ماسکو: روس کے اہم میزائل سائنسدان کو ماسکو کے ایک پارک میں قتل کر دیا گیا ۔

    باغی ٹی وی : برطانوی اخبارکے مطابق یہ سائنسدان، جو ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر بھی تھے، روسی Kh-59 کروز میزائل کو اپگریڈ کرنے پر کام کر رہے تھے فوری طور پر قیاس آرائی کی گئی کہ انہیں یوکرین کی فوجی انٹیلیجنس نے قتل کیا ہے۔

    جلاوطن روسی صحافی الیگزینڈر نیو زوروف نے کہا کہآج ماسکو میں جی یو آر فورسز نے ایک خاص مجرم، میخائل شاتسکی، کو ختم کر دیا، جو مارس ڈیزائن بیورو کے ڈپٹی جنرل ڈیزائنر اور سافٹ ویئر ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ تھے وہ Kh-59 کروز میزائل کو Kh-69 سطح پر اپگریڈ کرنے، نئے ڈرونز متعارف کرانے میں ملوث تھے اور ہزاروں بے گناہ یوکرینیوں کی ہلاکت کے ذمہ دار ہیں۔

    روسی اے پی این نیوز ایجنسی نے بتایا کہ 11 دسمبر کو کوتیلنیکی میں ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں مارس ڈیزائن بیورو کے سافٹ ویئر ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ میخائل شاتسکی کو قتل کر دیا گیا وہ کروز میزائل کی اپ گریڈیشن اور جدید فوجی ڈرونز کی تیاری میں مصروف تھے، یوکرینی قوم پرستوں نے اس قتل کی ذمہ داری قبول کی ہے، میخائل شاتسکی کو روس کے صدارتی محل کریملن سے آٹھ میل دور ایک نامعلوم قاتل نے کوزمینسکی فارسٹ پارک کوتیلنیکی میں قتل کیا۔

    فوری طور پر کوئی سرکاری روسی بیان سامنے نہیں آیا، یوکرین کے عوامی نشریاتی ادارے "سسپیلنے” نے کہا کہ انہیں یوکرینی "خصوصی خدمات” سے تصدیق ملی ہے کہ شاتسکی کو "ختم” کر دیا گیا ہے۔

  • اسرائیل کے شامی فوجی اہداف  پر 48 گھنٹوں میں 480 حملے

    اسرائیل کے شامی فوجی اہداف پر 48 گھنٹوں میں 480 حملے

    اسرائیل کی جانب سے شام پر حملوں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے جس میں شامی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی جنگی طیاروں نے گزشتہ 48 گھنٹوں میں شام میں مختلف اسٹریٹیجک فوجی مقامات پر 480 فضائی حملے کیے ہیں، جس کے نتیجے میں کئی اہم فوجی تنصیبات کو تباہ کر دیا گیا ہے۔رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے شام میں اپنی فضائی کارروائیوں کو مزید تیز کرتے ہوئے شامی فوجی اثاثوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ان حملوں میں اسرائیل نے خاص طور پر اسٹریٹیجک فوجی مقامات کو نشانہ بنایا، جس میں زیر قبضہ گولان کی پہاڑیوں کے مشرق میں واقع بفر زون میں فوجی کارروائیاں شامل ہیں۔ اسرائیلی فوج نے اس بفر زون میں اپنے فوجی بھیج کر شام کے 70 سے 80 فیصد اسٹریٹیجک فوجی اثاثوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    اسرائیل نے شام کے ساحلی شہر البیضا اور لطاکیہ بندرگاہ پر بھی حملے کیے ہیں، جہاں 15 بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، اسرائیلی فوج نے دمشق اور دیگر اہم شہروں میں ہتھیاروں کی تیاری کے مقامات کو بھی فضائی حملوں کا نشانہ بنایا ہے، جس سے شام کی عسکری صلاحیتوں پر مزید ضرب لگائی گئی ہے۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق، اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو غزہ سے لے کر شمالی شام تک ایک "گریٹر اسرائیل” منصوبے پر عمل پیرا ہیں۔ اسرائیل کی موجودہ کارروائیاں اس بات کا اشارہ دیتی ہیں کہ وہ اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنے اور شام میں ایران کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔

    دوسری جانب روس نے اسرائیلی حملوں کو شام-اسرائیل امن معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ روسی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ اسرائیل کے حملے شام کی خودمختاری اور سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں اور یہ کہ ان حملوں کی شدت سے شام کے ساتھ موجود امن معاہدوں کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔روسی حکومت نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیل کی اس کارروائی پر تشویش کا اظہار کرے اور شام میں جاری جنگ کی شدت کو کم کرنے کے لیے اقدامات کرے۔پاکستان سمیت دیگر عرب ممالک نے بھی اسرائیل کی اس کارروائی پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور شامی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ عالمی سطح پر اس حملے کی مذمت کی جا رہی ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اسرائیل اپنے جارحانہ رویے کو فوری طور پر روکنے اور علاقائی امن کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کرے۔

    اسرائیل کے شدید حملوں میں شام کی اہم دفاعی تنصیبات مکمل تباہ

    شام میں جو ہوا وہ امریکہ و اسرائیل کا منصوبہ تھا،ایرانی سپریم لیڈر

    اسرائیلی بکتر بند گاڑیاں شام کے بفر زون میں دیکھی گئیں

    بشار الاسد کا تختہ الٹنے کا کریڈٹ اسرائیل نے لے لیا

  • عالمی برادری غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کیلیے کردار ادا کرے،سحر کامران

    عالمی برادری غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کیلیے کردار ادا کرے،سحر کامران

    پاکستان کی معروف سیاستدان اور پارلیمنٹ کی رکن،پیپلز پارٹی کی رہنما سحر کامران نے کوالالمپور میں "اسٹرٹیجک ویژن گروپ رشیا اسلامک ورلڈ کے اجلاس میں شرکت کی اور خطاب کیا،

    اجلاس میں اس موقع پر ملائشیا کے وزیرِ اعظم ، تاتارستان کے صدر اور دیگر اہم عالمی شخصیات بھی موجود تھیں۔سحرکامران نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ "یہ وقت ہے کہ ہم عالمی سطح پر روس اور اسلامی دنیا کے درمیان پائیدار اور مضبوط تعلقات کو فروغ دیں تاکہ دونوں طرف کے عوام کو امن، استحکام اور خوشحالی حاصل ہو۔ عالمی سیاست میں نئے چیلنجز اور مواقع سامنے آ رہے ہیں، اور ہمیں ان کا مقابلہ کرنے کے لیے یکجہتی کی ضرورت ہے۔”انہوں نے اس موقع پر فلسطین میں جاری اسرائیلی جارحیت اور غیر قانونی قبضے کی سخت مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا: "ہم فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے متحد ہیں، اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کرے۔” سحرکامران نے اجلاس کے شرکاء کی توجہ اس بات پر دلائی کہ اسرائیلی جارحیت نے نہ صرف فلسطینیوں کی زندگی کو متاثر کیا ہے بلکہ پورے خطے کی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔

    اجلاس میں روس اور اسلامی دنیا کے درمیان مشترکہ مسائل پر بھی تفصیل سے بحث کی گئی۔ اسٹرٹیجک ویژن گروپ نے عالمی سطح پر مل کر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ مختلف بین الاقوامی مسائل بشمول دہشت گردی، ماحولیاتی تبدیلی، اور انسانی حقوق کے مسائل کو حل کیا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر ایک گروپ فوٹوگرافی کی گئی جس میں سحر کامران، وزیرِ اعظم ملائشیا، تاتارستان کے صدر، اور دیگر شرکاء شامل تھے۔ اس موقع پر تمام شرکاء نے عالمی سطح پر امن، استحکام اور ترقی کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

    سحرکامران کی اسٹریٹجک ویژن گروپ،روس اسلامک ولڈ کے اجلاس میں شرکت

    یو اے ای کی ترقی،عالمی سطح پر کامیاب حکمرانی ایک مثال ہے، سحر کامران

    پی آئی اے پروازوں کی بحالی پاکستان کے لئے بڑی کامیابی ہے،سحر کامران

    پیپلز پارٹی ایک طاقتور سیاسی قوت کے طور پر موجود ہے۔سحر کامران

    بشریٰ بی بی کو لانچ کرنا تھا تو بہتر طریقہ اختیار کرتے،سحر کامران

    حا لات بہتر کرنے کا واحد راستہ مذاکرت اور مفاہمت ہے۔سحر کامران

    امریکی سفیر کا استقبالیہ، پیپلز پارٹی رہنما سحر کامران کی شرکت

    خواتین قانون سازوں کا فیصلوں میں کردار اب بھی محدود ہے،سحر کامران

    احتجاج اور انتشار میں تفریق کرنی ہو گی، سحر کامران

    کم عمری کی شادیاں بچوں کو ذہنی اور جسمانی نقصان پہنچاتی ہیں،سحر کامران

    پیپلز پارٹی کسانوں ،محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ کر رہی ہے،سحر کامران

    ایوان میں وزرا کی مسلسل غیر حاضری،غلط جوابات،سحر کامران پھٹ پڑیں

    پاک عراق پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کا سحرکامران کی زیر صدارت اجلاس

    پاکستان اور روس کے کثیرالجہتی تعلقات مثبت راستے پر گامزن ہیں: سحرکامران

  • بشارالاسد کے ملک چھوڑنے کی روس نے تفصیل بتا دی

    بشارالاسد کے ملک چھوڑنے کی روس نے تفصیل بتا دی

    شام میں صدر بشارالاسد کے ملک سے فرار ہونے اور حزب اختلاف کی فوج کا قبضہ کرنے پر روس کا اہم بیان آگیا۔

    روسی وزارت خارجہ نے شام میں پیدا ہونے والی صورتحال پر کہا ہے کہ بشارالاسد نے اقتدر کی پُرامن منتقلی کے احکامات دے کر عہدہ اور ملک چھوڑا۔روس نے صدر بشارالاسد کی روس میں موجودگی بھی کنفرم کردی ہے.واضح رہے کہ باغی مسلح گروپوں کے دمشق پر قابض ہونے کے بعد شامی صدر بشار الاسد آج ایک طیارے میں سوار ہو کر ملک سے فرار ہوئے ہیں۔برطانوی میڈیا کا کہنا تھا کہ اسد طیارے میں سوار ہو کر نامعلوم مقام پر روانہ ہوئے تھے۔روسی وزارت خارجہ کے مطابق شام میں موجود روس کے فوجی اڈےہائی الرٹ ہیں اور انہیں کوئی خطرہ نہیں، شام میں حیات تحریرالشام سے رابطے میں ہیں اور تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور تشدد سے باز رہیں۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق شامی وزیر اعظم محمد غازی الجلالی نے بشار الاسد کے فرار کے بعد اعلان کیا ہے کہ وہ دمشق میں اپنی جگہ نہیں چھوڑیں گے۔محمد غازی الجلالی نے کہا سب لوگوں کو مل کر ملک کی بحالی کے لیے سوچنا ہوگا، ملک کی بہتری کے لیے ہم اپوزیشن کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہیں، امید ہے حکومت مخالف فورسز کسی شہری کو نقصان نہیں پہنچائیں گی۔شامی وزیر اعظم نے مظاہرین سے اپیل کی کہ سرکاری املاک کو نقصان نہ پہنچائیں، انھوں نے کہا حکومت اپوزیشن کی طرف ’اپنا ہاتھ پھیلانے‘ اور اپنی ذمہ داریاں عبوری حکومت کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہے۔جلیلی نے ایک ویڈیو بیان میں کہا ’’میں اپنے گھر میں ہوں اور میں نے ملک نہیں چھوڑا، اور یہ اس ملک سے میرا تعلق ہونے کی وجہ سے ہے۔‘‘ انھوں نے کہا کہ وہ صبح کام جاری رکھنے کے لیے اپنے دفتر جائیں گے، اور شہریوں سے عوامی املاک کو نقصان نہ پہنچانے کی اپیل ہے۔

    صورتحال سے فائدہ ،اسرائیل نے شام کے اہم علاقے پر قبضہ کر لیا

    بشار الاسد کا تختہ الٹنے کا کریڈٹ اسرائیل نے لے لیا

    دینی مدارس میں سرکار کی مداخلت نہیں مانتے،مولانا فضل الرحمان

    عمران خان نے حکومت سے مذاکرات کیلیے کمیٹی بنا دی

    گورنر سندھ سے اٹلی کی سفیراور وزارت دفاع کے مشیرکی ملاقات