Baaghi TV

Tag: روس

  • روس کا ایران کے راستے پاکستان تک ٹرین سروس شروع کرنے پر غور

    روس کا ایران کے راستے پاکستان تک ٹرین سروس شروع کرنے پر غور

    روس کی جانب سے ایران کے راستے پاکستان تک ٹرین سروس شروع کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

    باغی ٹی وی: پاکستان ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ تفتان کوئٹہ ریلوے کی حالت مخدوش ہے جس کے باعث مال بردار ٹرینیں 30سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہیں، کوئٹہ تفتان ریلوے سیکشن کواپ گریڈ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اپ گریڈ یشن پر 700ملین ڈالر لاگت کا تخمینہ ہے۔

    روسی ٹیلی ویژن رشیا ٹوڈے کو دیئے جانے والے انٹرویو میں وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری کا کہنا تھا کہ اگلے برس مارچ تک روس سے ایک مال بردار ٹرین چلانے کی آزمائش کی جائے گی جو آذربائیجان اور ایران کے راستے پاکستان آئے گی مغرب سے شمال کی جانب چلائی جانے والی اس آزمائشی ٹرین سے لاجسٹکس اور مختلف اشیا پاکستان لائی جائیں گی۔

    انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور روس کے درمیان انسانی وسائل کے تربیتی پروگرام کو وسعت دینے، چینی اداروں کے نئی سٹیل بنانے کے تکنیکی اور مالیاتی امکانات کا جائزہ لینے پر بات کی جا رہی ہے جو سوویت یونین کے دور میں پاکستانی میں بنائی گئی تھی اور اب اس نے اپنی زندگی پوری کر لی ہے اور ہم پاکستان اور روس کے درمیان فضائی سروس شروع کرنے پر بھی غور کر رہے ہیں جس سے فضائی سفر آسان ہوگا اور دونوں ممالک کے لوگ آپس میں ایک دوسرے سے ملیں گے اور کاروبار مواقع تلاش کر سکیں گے۔

    اویس لغاری کا کہنا تھا کہ اس سے کاروبار میں آسانی ہوگی، دو بدو رابطہ کاری آسان ہوگی، دونوں جانب کے شہری ایک دوسرے سے ملیں گے، کھیلوں کو فروغ ملے گا، اس کے سیاسی اور معاشی پہلو بھی ہیں جو دونوں ممالک کے درمیان کچھ عرصے کے دوران نہیں دیکھے گیے تھے۔

    اویس لغاری کا کہنا تھا کہ برکس ممالک کے اتحاد میں شمولیت کے لیے پاکستان کو روس اور چین کی حمایت حاصل ہے البتہ شاید ایک ملک ’اس پر زیادہ خوش نہ ہو‘ اور پاکستان برکس میں شمولیت پر بہت زیادہ حصہ ڈال سکتا ہے پاکستان برکس میں شامل ہوکر کافی معاشی اور تجارتی تعاون حاصل کرسکتا ہے اور ان ہی شعبوں میں ممبر ممالک کو بہت سے فوائد پہنچا سکتا ہے۔

    روس کے ساتھ تعاون میں چیلنجز کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے اویس لغاری کا کہنا تھا کہ پاکستانی تاجروں کو امریکی اور چینی مارکیٹوں کا روسی مارکیٹ کے مقابلے میں زیادہ اندازہ ہے لہذا فی الحال سب بڑا چیلنج یہ ہے کہ دونوں ممالک کے لوگ اور تاجر ایک دوسرے کو جانیں پہچانیں۔

    پاکستان کی روس سے قربت بڑھنے پر مغرب سے دباؤ کے تحفظات کےبارے باتے کرتے ہوئے توانائی اویس لغاری کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے اور جیسے ہم تعلقات آگے بڑھا رہے ہیں ہم دنیا کو بتا رہے ہیں کہ یہ کسی کے خلاف یا حمایت میں نہیں بلکہ ہمارے اپنے مفاد میں ہیں اور اس حد تک ہیں جہاں تک ہمارے مفادات مشترکہ ہوں۔

    مغرب کی پابندیوں کا روس اور پاکستان کے تعلقات پر فرق پڑنے کے سوال پر اویس لغاری کا کہنا تھا کہ ہاں ہم اس طرح تجارت اور معیشت میں تعاون نہیں کر پا رہے جس طرح ہم کر سکتے ہیں، وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ جوہری توانائی کے شعبے میں تعاون کے بارے میں ابھی تک کوئی بات نہیں ہوئی ہے، جوہری توانائی کی پیداوار کا ہماری کل پیداوار میں بڑا حصہ ہے جو کلین اور افیشنٹ ہے، آئی جی سی کی سطح پر دونوں ممالک کے ورکنگ گروپ جب بھی اس بارے میں دلچسپی ظاہر کی گئی چاہے ہماری جانب سے یا پھر روس کی جانب سے تو اس پر بات ہو سکتی ہے۔

  • دنیا "تیسرے جوہری دور” میں داخل ہو چکی ہے،برطانوی فوج کے سربراہ

    دنیا "تیسرے جوہری دور” میں داخل ہو چکی ہے،برطانوی فوج کے سربراہ

    لندن: برطانیہ کے چیف آف دی ڈیفنس سٹاف ایڈمرل سر ٹونی ریڈاکن نے دعویٰ کیا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن تیسری عالمی جنگ میں "مغلوب” ہوں گے اور شکست کا سامنا کریں گے۔

    باغی ٹی وی : ڈیلی سٹار کے مطابق برطانیہ کے چیف آف دی ڈیفنس سٹاف ایڈمرل سر ٹونی ریڈاکن نے روسی انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز کانفرنس میں کہا کہ برطانیہ اور روس کے درمیان کسی بڑے تصادم کے امکانات "انتہائی کم” ہیں اور روس جانتا ہے کہ برطانیہ کا ردعمل روایتی یا جوہری، ہر لحاظ سے زبردست ہوگا۔

    برطانیہ کے فوجی سربراہ سر ٹونی نے یہ بھی کہا کہ دنیا "تیسرے جوہری دور” میں داخل ہو چکی ہے، جہاں ماسکو "غیر منطقی دھمکیاں” دے رہا ہے، چین اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے کو بڑھا رہا ہے، ایران جوہری بم بنانے کی کوشش کر رہا ہے، اور شمالی کوریا اپنے غیر متوقع میزائل پروگرام کو بہتر بنا رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ روس کی جانب سے برطانیہ پر کسی بڑے حملے یا جارحیت کے امکانات انتہائی کم ہیں، اور نیٹو کے لیے بھی یہی صورتحال ہے، روس جانتا ہے کہ ردعمل زبردست ہوگا، چاہے وہ روایتی ہو یا جوہری نیٹو کی حکمت عملی کام کر رہی ہے اور اسے مضبوط رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ روس کے خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔

    سر ٹونی کے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب برطانوی وزیرِ دفاع نے دعویٰ کیا کہ اگر برطانوی فوج کسی بڑے تنازع میں ملوث ہوئی تو چھ ماہ کے اندر شدید کمزوری کا شکار ہو سکتی ہے ایلسٹر کارنز نے کہا کہ اگر برطانوی فوج یوکرین پر روسی حملے جیسی شرح سے جانی نقصان اٹھائے، تو یہ چھ سے 12 ماہ کے اندر ختم ہو سکتی ہے۔

  • جرمن ہیلی کاپٹر پر روسی جہاز کی فائرنگ

    جرمن ہیلی کاپٹر پر روسی جہاز کی فائرنگ

    برلن: ایک جرمن ہیلی کاپٹر پر ایک روسی جہاز کی جانب سے فائرنگ کی گئی ہے-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق بالٹک سمندر میں یہ واقعہ روس اور مغرب کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازعات کے پس منظر میں پیش آیا ہے جرمن پریس ایجنسی کے مطابق بنڈس ویر کا ہیلی کاپٹر ایک جاسوسی مشن پر تھا جب روسی جہاز کے عملے نے مبینہ طور پر سگنل گولہ بارود کا استعمال کرتے ہوئے فائرنگ کی۔

    یہ واقعہ جرمن وزیر خارجہ انالینا بیربوک کی جانب سے نیٹو کے ایک اجلاس میں ذکر کیا گیا تھا، تاہم اس وقت اس کی مزید تفصیلات نہیں دی گئیں، بتایا جا رہا ہےکہ یہ گولہ بارود صرف ہنگامی صورت حال میں استعمال کیا جاتا ہے بالٹک سمندر اکثر ان جہازوں کے ذریعے استعمال کیا جاتا ہے جو یوکرین پر روسی حملے کے بعد عائد پابندیوں سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں مذکورہ جہاز ایک قسم کا ٹینکر بتایا جا رہا ہے۔

  • روس نے امریکا کو نیوکلیئر ہتھیاروں کی جنگ  کے تباہ کن اثرات سے خبردار کردیا

    روس نے امریکا کو نیوکلیئر ہتھیاروں کی جنگ کے تباہ کن اثرات سے خبردار کردیا

    امریکا کے پاس مہلک ترین بی 83 جوہری ہتھیار ہے، اگر یہ طاقتور ترین نیوکلیئر بم روس، چین اور شمالی کوریا کے دارلحکومتوں پر پھینکا گیا تو ہولناک تباہی ہوگی-

    باغی ٹی وی: امریکی جریدے نیوز ویک نے بی 83 نیو کلیئر بم سے تباہی کا تخمینہ پیش کردیا، جریدے کے مطابق امریکا کا طاقتور ترین نیوکلیئر ہتھیار بی 83 ہے، اس نیوکلیئر بم سے جو شعلہ بلند ہوگا وہ 4 اسکوائر کلومیٹر رقبے پر محیط ہوگا اور تباہی اس قدر ہوگی کہ 175 اسکوائر کلومیٹر رقبے میں عمارتیں تباہ یا جل جائیں گی۔

    امریکی جریدے کا کہنا ہے کہ اگر امریکا کا طاقتور ترین نیوکلیئر بم روس، چین اور شمالی کوریا کے دارلحکومتوں پر پھینکا گیا تو ہولناک تباہی ہوگی، اگر اسے ماسکو پر پھینکا گیا تو 14 لاکھ افراد ہلاک اور 37 لاکھ زخمی ہوں گے،نیوکلیئر بم بیجنگ پر پھینکا گیا تو 15 لاکھ افراد ہلاک اور 37 لاکھ زخمی ہوں گے، اسی طرح اگر یہ بم پیانگ یانگ پر پھینکا گیا تو 13 لاکھ شہری ہلاک اور 11 لاکھ زخمی ہوں گے۔

    جریدے کا کہنا ہے کہ دھماکے کے 211 مربع میل کے اندر موجود افراد جل جائیں گے، دھماکا کئی افراد کی معذوری کا سبب بن سکتا ہے، دھماکے کے 535 مربع میل کے فاصلے پر موجود عمارتوں میں لگے شیشے ٹوٹ سکتے ہیں اور لوگ زخمی ہوسکتے ہیں، امریکا نادانستہ طور پر اپنے اتحادیوں کی پشت پناہی کرنے کے لیے دنیا بھر میں متعدد تنازعات میں ملوث ہے، چین کے ساتھ تجارت سمیت متعدد مسائل پر تناؤ کا بھی سامنا ہے۔

    دوسری جانب روس نے امریکا کو نیوکلیئر ہتھیاروں کی جنگ کے خدشے کے تباہ کن اثرات سے خبردار کردیا اور واضح کیا ہے کہ نیوکلیئر ہتھیاروں کی آزمائش بحال کیے جانے پر غور کیا جا رہا ہے۔

    روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے یہ بات امریکی جریدے کی جانب سے روس پر ممکنہ نیوکلیئر حملے سے تباہی کے تخمینے پر ردعمل میں کہی یہ پہلی بار نہیں کہ ایسے واقعات کو ماڈل کیا گیا ہے، یہ خدشات موجود ہیں لیکن روس ہر ممکن کوشش کرے گا کہ ایسی تباہ کن صورتحال سے گریز کیا جائے۔

    نائب وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہر چیز کا انحصار روس پر نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ ہمارا دشمن کیسے برتاؤ کرتا ہے، اگر وہ اُس صورتحال کی طرف بڑھتے ہیں جس کا روسی نیوکلیئر ڈاکٹرائن میں ذکر کیا گیا ہے تو یہ دشمن پر منحصر ہوگا،اب پہلی بار نیوکلیئر ہتھیاروں کی آزمائش کرنے پر غور کررہا ہے؟ سوال پر نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ یہی سوال اس وقت درپیش ہے اور صورتحال کافی مشکل ہے،اس پر مستقل طور پر غور کیا جارہا ہے۔

  • شمالی کوریا کے صدر کی  یوکرین میں روس کی جنگ کی "بھرپور حمایت”

    شمالی کوریا کے صدر کی یوکرین میں روس کی جنگ کی "بھرپور حمایت”

    روسی وزیر دفاع آندرے بیلوسوف نے جمعے کے روز شمالی کوریا کے صدر کم یونگ اُن سے ملاقات کی۔

    باغی ٹی وی: سرکاری میڈیا کے مطابق ملاقات میں دونوں ملکوں کے بیچ فوجی تعاون بڑھانے پر اتفاق رائے ہوا، اس موقع پر شمالی کوریا کے سربراہ نے یہ عزم کیا کہ ان کا ملک یوکرین میں روس کی جنگ کی "بھرپور حمایت” کرے گا۔

    شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق بیلوسوف کا دورہ "دونوں ملکوں کی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے، دونوں ملکوں کے بیچ دوستانہ اور متبادل تعاون بڑھانے اور دونوں ملکوں کی افواج کے بیچ تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا”۔

    واضح رہے کہ شمالی کوریا نے یوکرین میں روس کی فوجی کارروائی کی حمایت کی تھی۔ ماسکو اور پیانگ یانگ دونوں ہی اسے مشرق میں نیٹو اتحاد کی "غیر ذمے دارانہ” پیش قدمی اور امریکا کے زیر قیادت اقدامات کے جواب میں دفاعی رد عمل قرار دے چکے ہیں۔ ان کے مطابق نیٹو اور امریکا کے اقدامات کا مقصد روس کی بطور ایک طاقت ور ریاست حیثیت ختم کرنا ہےمغرب یہ سمجھتا ہے کہ شمالی کوریا کے تقریبا 10 ہزار فوجی روس کے مغربی حصے میں یوکرین کی سرحد کے نزدیک واقع علاقے کورسک بھیجے گئے۔ ماسکو اور پیانگ یانگ کی جانب سے اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔

    فروری 2022 میں یوکرین پر ماسکو کے حملے کے بعد سے روس اور شمالی کوریا نے اپنے فوجی تعلقات میں اضافہ کیا ہے، دونوں ملکوں نے رواں سال جون میں تزویراتی شراکت داری کے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے اس معاہدے کے مطابق کسی بھی حملے کی صورت میں متبادل عسکری مدد کی جائے گی اور مغرب کی جانب سے پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے باہمی تعاون کیا جائے گا۔

    شمالی کوریا کی جانب سے اپنی افواج روس میں بھیجے جانے کے نتیجے میں جنوبی کوریا اب یوکرین کے ساتھ اپنے سیکورٹی تعلقات گہرے بنانے پر مجبور ہو گیا ہے۔

  • روس نے جاسوسی کے الزام میں برطانوی سفارت کار کو ملک بدر کر دیا

    روس نے جاسوسی کے الزام میں برطانوی سفارت کار کو ملک بدر کر دیا

    ماسکو: روس نے جاسوسی کے الزام میں برطانوی سفارت کار کو ملک سے نکال دیا۔

    باغی ٹی وی: روس کی سیکیورٹی سروس ایف ایس بی نے منگل کو جاری بیان میں کہا کہ مبینہ برطانوی سفارت کار نے ملک میں داخل ہونے کیلئے جان بوجھ کر غلط معلومات فراہم کی تھیں،کاؤنٹر انٹیلی جنس کی کارروائی کے دوران، روسی فیڈرل سیکورٹی سروس نے ماسکو میں برطانوی سفارت خانے کے احاطہ میں ایک غیر اعلانیہ برطانوی انٹیلی جنس اہلکار کی موجودگی کا پتہ لگایا ہے روسی ایف ایس بی نے مذکورہ سفارت کار کے انٹیلی جنس اور تخریبی کام کے آثار دریافت کیے ہیں جو روسی فیڈریشن کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

    روسی سیکیورٹی ادارے نے سفارت کار کا نام ایڈورڈ ولکس بتایا اور کہا کہ وہ سیکنڈ سیکرٹری تھا، جو نسبتاً جونیئر سفارتی عہدے پر فائز تھا، برطا نوی سفارت کار اس سال کے شروع میں جاسوسی کے الزام میں نکالے گئے چھ برطانوی سفارت کاروں میں سے ایک کا متباد ل تھا، برطا نوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کے ترجمان نے اس حوالے سے کہا ہے کہ وہ سفارتی اخراج کی اطلاع سے لاعلم ہیں۔

    ستمبر میں اس سے پہلے کی بے دخلی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، برطانیہ نے اپنے سفارت کاروں کے خلاف جاسوسی کے الزامات کو ”بد نیتی پر مبنی اور مکمل طور پر بے بنیاد“ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا اور کہا تھا کہ روس کا رویہ مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔

    یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد سے برطانیہ اور روس کے تعلقات سرد جنگ کے بعد کی نچلی ترین سطح پر آ گئے ہیں برطانیہ روس کے خلاف پابندیوں کی پے در پے لہروں میں شامل ہوا ہے اور یوکرین کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے، تاہم اب روس کا یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے ہی چل رہے خراب تعلقات کو تازہ ترین دھچکا ہے۔

  • روس کا  یوکرین پر اب تک کا سب سے بڑا ڈرون حملہ

    روس کا یوکرین پر اب تک کا سب سے بڑا ڈرون حملہ

    کیف: روس نے گزشتہ رات یوکرین پر اب تک کا سب سے بڑا ڈرون حملہ کیا جس میں 188 ڈرون استعمال کیے گئے۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق روس نے مجموعی طور پر 188 ڈرونز سے حملہ کیا جن میں سے 76 ڈرونز یوکرینی فوج نے تباہ کردیئے جبکہ 96 ڈرونز کاکچھ پتا نہ لگ سکا، روسی حملے میں یوکرین کے مغربی علاقے ترنوپل میں بجلی کے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا جبکہ کیف میں رہائشی عمارتیں بھی متاثر ہوئیں۔

    یوکرینی فوج کا کہنا ہے کہ روس نے حملے میں خودکش ڈرونز سمیت کچھ نامعلوم ڈرونز بھی استعمال کیے روس کی جانب سے یوکرینی دفاعی نظام کو ناکام بنانے کےلیے ڈمی ڈرونز بھی استعمال کیے جاتے ہیں، دارالحکومت کیف پر حملہ آور ڈرونز میں سے 10 ڈرونز کو مارگرایا گیا جن کا ملبہ رہائشی عمارتوں پر گرا، ڈرون حملے میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا،پانچ ڈرون بیلاروس کی طرف بڑھے۔

  • ایرانی حکومت کا طلبہ کی گرفتاری پر روس سے احتجاج

    ایرانی حکومت کا طلبہ کی گرفتاری پر روس سے احتجاج

    ایران نے روس کے شہر کازان کی یونیورسٹی میں ایرانی طالبعلموں کی پرتشدد گرفتاریوں پر ماسکو سے احتجاج کیا ہے۔

    ایران کے سرکاری خبررساں ادارے ’ارنا‘ نے ایرانی قونصلیت سے جاری بیان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ جمعے کو کازان یونیورسٹی کے ویزا توسیع مرکز جانے والے 2 ایرانی طلبہ کو پولیس نے غیرپیشہ ورانہ اور غیرانسانی تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد گرفتار کرلیا۔ واقعے کے ردعمل میں ایران نے روسی وزارت خارجہ میں ایک احتجاجی نوٹ جمع کروایا ہے جس میں ایرانی طلبہ کے ساتھ پولیس کے پرتشدد سلوک کی مذمت کی گئی ہے۔روس کے قریبی اتحادی ایران نے واقعے پر وضاحت طلب کی ہے، گرفتار ایرانی طلبہ کو جمعے کو ایرانی قونصلیٹ کی مداخلت کے بعد رہا کردیا گیاتھا۔کازان پولیس کی پریس سروس نے ٹیلی گرام کے ذریعے جمعے کو جاری پیغام میں کہا ہے کہ طلبہ کے درمیان ایک تنازع ہاتھا پائی میں تبدیل ہوگیا جس پر پولیس نے لڑائی میں پہل کرنے والے طلبہ کو حراست میں لیا تھا، بیان میں گرفتار طلبہ کی قومیت کا حوالہ نہیں دیا گیا۔
    کازان کی علاقائی تحقیقاتی کمیٹی نے بھی جمعے کو بتایا کہ سرکاری نمائندے سے پرتشدد رویہ اپنانے کے الزام میں دو غیر ملکی طلبہ کو گرفتار کیا گیا تھا۔ماسکو میں روس کے سفیر کاظم جلالی نے ایکس پوسٹ میں بتایا کہ ایران کے سینئر سفارتکار عباس آراغچی مسلسل واقعے کی پیروی کرتے رہے، ایرانی سفیر نے ایک ایکس پوسٹ میں ایرانی طلبہ کے ساتھ کسی بھی قسم کی بدسلوکی کی مذمت کرتے ہوئے ملوث روسی حکام کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔واضح رہے کہ ایران اور روس قریبی اتحادی ہیں ، دونوں ممالک کے امریکا اور مغربی طاقتوں کے خلاف مشترکہ مفادات کے پیش نظر قریبی تعلقات ہیں جبکہ حالیہ تاریخ میں پہلی بار ایران کی جانب سے کسی مسئلے پر روس سے احتجاج کیا گیا ہے، رواں سال ستمبر میں امریکا نے ایران پر روس کو بیلسٹک میزائلوں کی فراہمی کا الزام عائد کرتے ہوئے تہران پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا عندیہ دیا تھا۔

    بیلاروس کا 75 رکنی وفد اسلام آباد،محسن نقوی نے استقبال کیا

    یو اے ای، مغوی اسرائیلی ربی کی لاش مل گئی

    کرم تصادم، فریقین نے 7 دن کے لئے سیز فائر پر اتفاق کر لیا

    پی ٹی آئی سیاسی سے زیادہ انتشاری جماعت بن گئی ہے، سعید غنی

  • امریکی سفیر کا استقبالیہ، پیپلز پارٹی رہنما سحر کامران کی شرکت

    امریکی سفیر کا استقبالیہ، پیپلز پارٹی رہنما سحر کامران کی شرکت

    پاکستان میں امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے اپنے رہائش گاہ پر پاکستان-امریکہ پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کے اراکین کے اعزاز میں ایک استقبالیہ دیا۔

    اس موقع پر پاکستان کی پارلیمنٹ کی رکن،پیپلز پارٹی کی رہنما سحر کامران بھی موجود تھیں۔ امریکی سفیر کی جانب سے دیئے گئے استقبالیہ میں باہمی تعلقات کو فروغ دینے اور پارلیمانی روابط کو مضبوط بنانے پر گفتگو ہوئی۔تقریب میں دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات کی اہمیت اور انہیں مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ اس موقع پر سحر کامران نے کہا کہ ایسے مواقع دونوں قوموں کو قریب لانے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔

    تقریب میں موجود دیگر مہمانوں میں پارلیمنٹ کے معزز اراکین، سفارتی اہلکار، اور دونوں ممالک کے دیگر اہم نمائندے شامل تھے۔ اس موقع پر پاکستانی سفارت خانہ واشنگٹن کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

    یہ استقبالیہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے کے لیے پارلیمانی ڈائیلاگ کتنی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس تقریب میں پاکستانی اور امریکی جھنڈے کی موجودگی نے دونوں ممالک کے درمیان گہری دوستی کی علامت کو اجاگر کیا۔امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے اس تقریب کو کامیاب قرار دیا۔ تقریب کا اختتام دوطرفہ تعاون کی امید اور خیرسگالی کے پیغام کے ساتھ ہوا۔

    سحر کامران کی پاکستان اور روس کے مابین تعلقات کو مزید بہتر بنانے پر بات چیت
    دوسری جانب پیپلز پارٹی کی رہنما سحر کامران نے ‘سی ای او ٹوڈے میگزین’ کے اجرا کی تقریب میں شرکت کی ہے اور اسے ایک اعزاز قرار دیا، یہ تقریب روسی فیڈریشن کے سفیر ایچ ای البرٹ پی خوریو کے حوالے سے ایک خصوصی کیس اسٹڈی پر مبنی تھی۔اس موقع پر پاکستان اور روس کے مابین تعلقات کو مزید بہتر بنانے پر گفتگو ہوئی، جس میں تجارت، توانائی، دفاع، اور علاقائی سلامتی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر زور دیا گیا۔ تقریب میں 50 سے زائد سی ای اوز، کاروباری رہنماؤں، سفارت کاروں اور کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔پیپلز پارٹی کی رہنما سحر کامران نے دونوں ممالک کے مابین شراکت داری کو وسعت دینے کے لیے اس طرح کے مواقع کی اہمیت پر زور دیا اور اسے خوش آئند قدم قرار دیا۔

    پیپلز پارٹی رہنما سحر کامران کا ملائیشیاکے ہائی کمیشن کا دورہ
    علاوہ ازیں پیپلز پارٹی کی رہنما سحر کامران نے اسلام آباد میں ملائیشیا کے ہائی کمیشن کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ہائی کمشنر عزت مآب محمد اظہر مزلان سے ملاقات کی۔سحر کامران نے اس ملاقات کو ایک اعزاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ "ملائیشیا کے ہائی کمیشن کا دورہ اور ہائی کمشنر سے ملاقات کرنا میرے لیے بہت خوشی کا باعث تھا۔ عزت مآب محمد اظہر مزلان کی مہمان نوازی اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اور تجارتی تعاون کو فروغ دینے کے امکانات پر بصیرت افروز گفتگو پر شکرگزار ہوں۔”

    یہ ملاقات پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون کے مواقع پر تبادلہ خیال کے لیے اہم قدم قرار دی جا رہی ہے۔ سحر کامران نے ملائیشیا کے دفتر خارجہ اور اسلام آباد میں ہائی کمیشن کا شکریہ ادا کیا۔

    خواتین قانون سازوں کا فیصلوں میں کردار اب بھی محدود ہے،سحر کامران

    احتجاج اور انتشار میں تفریق کرنی ہو گی، سحر کامران

    کم عمری کی شادیاں بچوں کو ذہنی اور جسمانی نقصان پہنچاتی ہیں،سحر کامران

    پیپلز پارٹی کسانوں ،محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ کر رہی ہے،سحر کامران

    ایوان میں وزرا کی مسلسل غیر حاضری،غلط جوابات،سحر کامران پھٹ پڑیں

    پاک عراق پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کا سحرکامران کی زیر صدارت اجلاس

    پاکستان اور روس کے کثیرالجہتی تعلقات مثبت راستے پر گامزن ہیں: سحرکامران

  • روس کا یوکرین کے فوجی صنعتی کمپلیکس پر حملہ

    روس کا یوکرین کے فوجی صنعتی کمپلیکس پر حملہ

    روس نے یوکرین کے فوجی صنعتی کمپلیکس پر جدید ترین میزائل ’اوریشنک‘ سے حملہ کیا ہے۔

    روسی میڈیا کے مطابق، اس صنعتی کمپلیکس میں یوکرین بیلسٹک میزائل نظام تیار کر رہا تھا،حملے کے بعد صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایک ہنگامی خطاب میں بتایا کہ اس کارروائی کے لیے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والا بیلسٹک میزائل استعمال کیا گیا، جس پر ہائپرسونک ہتھیار نصب تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ میزائل ایک سیکنڈ میں 3 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتا ہے اور دنیا میں کوئی دفاعی نظام اسے روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ پیوٹن نے یوکرین کے اتحادیوں کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکی دی۔

    دوسری جانب، یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے عالمی برادری سے سخت ردعمل کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ روس نے یوکرینی سرزمین کو ہتھیاروں کی تجربہ گاہ میں تبدیل کر دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ روسی میزائل حملہ جنگ کو مزید بڑھا دے گا،نئے بیلسٹک میزائل کا استعمال اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ماسکو امن نہیں چاہتا۔

    قبل ازیں یوکرین نے برطانوی فراہم کردہ اسٹارم شیڈو میزائلز روس کے اندر اہداف پر داغے ہیں،اگرچہ برطانیہ اور یوکرین نے ان طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کے روس میں استعمال کی تصدیق نہیں کی، لیکن برطانوی میڈیا میں ان کے استعمال کی وسیع پیمانے پر رپورٹیں گردش کر رہی ہیں۔ٹیلیگرام پر ایسی ویڈیوز پوسٹ کی گئی ہیں جن میں روس کے کورِسک علاقے میں ان میزائلوں کے ملبے کو دکھایا گیا ہے۔ کورِسک یوکرین کی سرحد سے متصل روس کا علاقہ ہے۔برطانیہ پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ برطانوی ٹینک، اینٹی ٹینک میزائلز اور دیگر فوجی سازوسامان یوکرین کی دفاعی حکمت عملی کے تحت روس کے اندر استعمال ہو سکتے ہیں۔تاہم، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے استعمال پر پابندیاں عائد تھیں۔