روس نے ہفتے کی شب یوکرین کے توانائی کے اہم ڈھانچے پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے ہیں جس میں بجلی پیدا اور ترسیل کرنے والے مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ روس نے رات کے وقت یوکرین کے توانائی کے نظام پر حملہ کیا جس میں 400 سے زائد ڈرونز اور مختلف اقسام کے تقریباً 40 میزائل استعمال کیے گئے روس سفارت کاری کا راستہ اختیار کر سکتا ہے لیکن وہ حملوں کو ترجیح دے رہا ہے، روس کو سرد موسم کو یوکرین کے خلاف دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،یوکرینی صدر نے روسی حملوں سے بچاؤ کے لیے ایک بار اتحادی ممالک سے دفاعی ٹیکنالوجی کی ضرورت پر زود دیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق یوکرین کے وزیرِ توانائی نے حملوں میں مغربی علاقوں میں واقع دو تھرمل پاور اسٹیشنز کے ساتھ ساتھ بجلی کی ترسیل کے مرکزی نظام، سب اسٹیشنز اور اہم لائنوں کو نقصان پہنچنے کی تصدیق کی ہےسیکیورٹی صورتحال بہتر ہوتے ہی توانائی کے شعبے کے کارکن مرمت کا کام شروع کر دیں گے۔
واضح رہے کہ روس کی جانب سے یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب یوکرین میں درجہ حرارت تیزی سے گر رہا ہے اور آئندہ دنوں میں منفی 14 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے حکام کا کہنا ہے کہ شدید سردی اور مسلسل حملوں کے باعث توانائی کا نظام شدید متاثر ہوچکا ہے ملک بھر میں ہنگامی لوڈشیڈنگ نافذ کر دی گئی ہے وزیر توانائی کے مطابق حکومت نے بجلی کی قلت پر قابو پانے کے لیے پولینڈ سے ہنگامی بنیادوں پر بجلی درآمد کرنے کی درخواست کی ہے۔
واضح رہے کہ یہ حملے امریکا کی ثالثی میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے چند دن بعد سامنے آئے ہیں تاہم اب تک سفارتی کوششوں سے اس جنگ کے خاتمے سے متعلق کوئی قابلِ عمل پیش رفت نہیں ہو سکی-








