Baaghi TV

Tag: روس

  • روس کا یوکرین کے توانائی نظام پر حملہ، 400 ڈرونز اور 40 میزائل داغ دیئے

    روس کا یوکرین کے توانائی نظام پر حملہ، 400 ڈرونز اور 40 میزائل داغ دیئے

    روس نے ہفتے کی شب یوکرین کے توانائی کے اہم ڈھانچے پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے ہیں جس میں بجلی پیدا اور ترسیل کرنے والے مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ روس نے رات کے وقت یوکرین کے توانائی کے نظام پر حملہ کیا جس میں 400 سے زائد ڈرونز اور مختلف اقسام کے تقریباً 40 میزائل استعمال کیے گئے روس سفارت کاری کا راستہ اختیار کر سکتا ہے لیکن وہ حملوں کو ترجیح دے رہا ہے، روس کو سرد موسم کو یوکرین کے خلاف دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،یوکرینی صدر نے روسی حملوں سے بچاؤ کے لیے ایک بار اتحادی ممالک سے دفاعی ٹیکنالوجی کی ضرورت پر زود دیا ہے۔

    رائٹرز کے مطابق یوکرین کے وزیرِ توانائی نے حملوں میں مغربی علاقوں میں واقع دو تھرمل پاور اسٹیشنز کے ساتھ ساتھ بجلی کی ترسیل کے مرکزی نظام، سب اسٹیشنز اور اہم لائنوں کو نقصان پہنچنے کی تصدیق کی ہےسیکیورٹی صورتحال بہتر ہوتے ہی توانائی کے شعبے کے کارکن مرمت کا کام شروع کر دیں گے۔

    واضح رہے کہ روس کی جانب سے یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب یوکرین میں درجہ حرارت تیزی سے گر رہا ہے اور آئندہ دنوں میں منفی 14 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے حکام کا کہنا ہے کہ شدید سردی اور مسلسل حملوں کے باعث توانائی کا نظام شدید متاثر ہوچکا ہے ملک بھر میں ہنگامی لوڈشیڈنگ نافذ کر دی گئی ہے وزیر توانائی کے مطابق حکومت نے بجلی کی قلت پر قابو پانے کے لیے پولینڈ سے ہنگامی بنیادوں پر بجلی درآمد کرنے کی درخواست کی ہے۔

    واضح رہے کہ یہ حملے امریکا کی ثالثی میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے چند دن بعد سامنے آئے ہیں تاہم اب تک سفارتی کوششوں سے اس جنگ کے خاتمے سے متعلق کوئی قابلِ عمل پیش رفت نہیں ہو سکی-

  • روسی جنگ میں 55 ہزار یوکرینی فوجی ہلاک ہوگئے، زیلنسکی کا  انکشاف

    روسی جنگ میں 55 ہزار یوکرینی فوجی ہلاک ہوگئے، زیلنسکی کا انکشاف

    یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے انکشاف کیا ہے کہ روس کے ساتھ جاری جنگ میں اب تک تقریباً 55 ہزار یوکرینی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں فوجی تاحال لاپتہ ہیں۔

    فرانسیسی ٹی وی چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر زیلنسکی نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں پیشہ ور فوجی اور جبری بھرتی کیے گئے اہلکار دونوں شامل ہیں انہوں نے لاپتہ فوجیوں کی درست تعداد بتانے سے گریز کیا۔

    صدر زیلنسکی اس سے قبل فروری 2025 میں ایک امریکی ٹی وی انٹرویو میں یوکرینی فوجی ہلاکتوں کی تعداد 46 ہزار سے زائد بتا چکے تھے دوسری جانب واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک یوکرین کے تقریباً چار لاکھ فوجی ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔

    بنگلادیش ٹیم کا ورلڈکپ میں نہ ہونا افسوس ناک ہے،سلمان علی آغا

    اقوام متحدہ کے مطابق صرف 2025 کے دوران روسی حملوں میں 2,500 سے زائد یوکرینی شہری ہلاک اور 12 ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔

    روس کو بھی بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے یوکرینی فوجی قیادت کے مطابق 2025 میں ہی روس کے تقریباً چار لاکھ 20 ہزار فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ برطانوی دفاعی انٹیلی جنس کے اندازے کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک روسی فوج کے مجموعی نقصانات 11 لاکھ سے تجاوز کر چکے ہیں۔

    کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس اس وقت تک جنگ جاری رکھے گا جب تک یوکرین وہ فیصلے نہیں کرتا جو جنگ کے خاتمے کا باعث بن سکیں، انہوں نے یہ بیان ایسے وقت دیا جب ابو ظہبی میں امریکا کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کا پہلا مرحلہ مکمل ہوا ہے۔

    نوشکی: احمد وال اسٹیشن پر مال بردار ٹرین پر راکٹ حملہ، انجن تباہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت دونوں ممالک پر زور دے رہی ہے کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی سمجھوتے پر پہنچیں، تاہم زمین کے کنٹرول، ڈونباس خطے اور زاپوریزیا نیوکلیئر پاور پلانٹ جیسے معاملات پر فریقین کے مؤقف میں اب بھی واضح فرق موجود ہےاس وقت روس یوکرین کے تقریباً 20 فیصد علاقے پر قابض ہے، جن میں کریمیا اور مشرقی ڈونباس کے بڑے حصے شامل ہیں۔

  • امریکا اور روس کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں پر پابندی کا معاہدہ ختم

    امریکا اور روس کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں پر پابندی کا معاہدہ ختم

    دنیا کی دو بڑی طاقتوں امریکا اور روس کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد کو محدود رکھنے والا آخری اہم معاہدہ ’نیو اسٹارٹ‘ 5 فروری کو اپنی مدت پوری ہونے کے بعد ختم ہو گیا ہے۔

    دونوں ممالک کے درمیان اس معاہدے میں توسیع یا کسی نئے متبادل منصوبے پر اتفاق نہیں ہو سکا جس کی وجہ سے اب عالمی سطح پر ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ دوبارہ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہےیہ معاہدہ 2010 میں ہوا تھا جس کا مقصد دنیا کو کسی بڑی ایٹمی جنگ سے بچانا تھا اس معاہدے کے تحت امریکا اور روس اس بات کے پابند تھے کہ وہ اپنے ایٹمی وار ہیڈز کی تعداد 1550 سے زیادہ نہیں بڑھائیں گے۔

    اس کے علاوہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ایٹمی مراکز کا معائنہ بھی کر سکتے تھے تاکہ شفافیت برقرار رہے اور کوئی دھوکہ نہ دے سکے1991 میں جب پہلی بار ایسا معاہدہ ہوا تھا تو ایٹمی ہتھیاروں کی حد 6ہزار رکھی گئی تھی جسے وقت کے ساتھ کم کیا گیا۔

    امریکا کے ساتھ نیوکلیئر مذاکرات جمعہ کو مسقط میں ہوں گے، ایرانی وزیر خارجہ

    روسی صدر کے معاون یوری اوشاکوف کا کہنا ہے کہ ان کا ملک سفارتی ذرائع سے امن برقرار رکھنے کی کوشش کرتا رہے گا، تاہم، روسی وزارت خارجہ نے واضح کر دیا ہے کہ اب وہ معاہدے کی کسی پابندی کے پابند نہیں رہے اور اپنے اگلے اقدامات کا فیصلہ کرنے کے لیے آزاد ہیں۔

    اگرچہ دونوں ممالک نے حالیہ سالوں میں ہتھیاروں کی مقررہ حد سے تجاوز نہیں کیا لیکن اب معاہدہ نہ ہونے سے یہ صورتحال بدل سکتی ہے اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سپری) کی ایئر بُک 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق روس کے پاس اس وقت تقریباً 5459 اور امریکا کے پاس 5177 ایٹمی وار ہیڈز موجود ہیں۔

    واشنگٹن پوسٹ سے اچانک 300 سے زائد صحافی برطرف

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے ختم ہونے سے اب دونوں ممالک ایک دوسرے کی نیتوں کا درست اندازہ نہیں لگا سکیں گے جس سے غلط فہمی کی بنیاد پر جنگ چھڑنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے عالمی امن کے لیے ایک سنگین لمحہ قرار دیا ہے اور دونوں طاقتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بلا تاخیر کسی نئے معاہدے پر بات چیت کریں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی دونوں ممالک کے درمیان کئی اہم دفاعی معاہدے ختم ہو چکے ہیں جن میں یورپ میں ٹینکوں اور فوج کی تعداد محدود رکھنے کا معاہدہ بھی شامل ہےاب دنیا کی نظریں اپریل اور مئی میں ہونے والی عالمی کانفرنس پر ہیں جہاں ایٹمی طاقتوں کو یہ بتانا ہوگا کہ وہ دنیا کو تباہی سے بچانے کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہیں۔

    بھارت : تین بہنوں کی خودکشی کی وجہ کوریائی پاپ کلچر سے جنونی لگاؤ تھا،پولیس

  • ایران، روس اور چین کا مشترکہ بحری مشقوں کا اعلان

    ایران، روس اور چین کا مشترکہ بحری مشقوں کا اعلان

    تہران: ایران، روس اور چین نے شمالی بحرِ ہند میں مشترکہ بحری مشقیں کرنے کا اعلان کر دیا ہے یہ مشقیں رواں ماہ منعقد کی جائیں گی جن میں تینوں ممالک کی بحری افواج حصہ لیں گی۔

    ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ان بحری مشقوں کو ’میری ٹائم سکیورٹی بیلٹ‘ کا نام دیا گیا ہےمشقوں میں ایرانی بحریہ، پاسدارانِ انقلاب کی بحری یونٹس، چین اور روس کی بحری افواج شریک ہوں گی، ان مشقوں کا مقصد سمندری سلامتی کو مضبوط بنانا، کسی بھی ممکنہ خطرے یا حملے سے نمٹنے کی پیشگی تیاری کرنا اور تینوں ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو فروغ دینا ہے، ان مشترکہ بحری مشقوں کا باقاعدہ آغاز 2019 میں ایران کی بحریہ نے کیا تھا، جبکہ اب تک یہ مشقیں سات مرتبہ منعقد کی جا چکی ہیں۔

    یہ مشقیں ایسے وقت میں کی جا رہی ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنا بحری بیڑہ بھی تعینات کر رکھا ہے۔

  • روس کا یوکرینی شہر اوڈیسا پر ڈرون حملہ: کم از کم تین افراد ہلاک اور 23 زخمی

    روس کا یوکرینی شہر اوڈیسا پر ڈرون حملہ: کم از کم تین افراد ہلاک اور 23 زخمی

    کیف: روس کی جانب سے یوکرین کے جنوبی شہر اوڈیسا پر بڑے پیمانے پر ڈرون حملے کے نتیجے میں کم از کم تین افراد ہلاک اور 23 زخمی ہو گئے، جن میں دو بچے اور ایک حاملہ خاتون بھی شامل ہیں۔

    یوکرینی حکام کے مطابق حملے میں 50 سے زائد ڈرون استعمال کیے گئے، جن میں بعض جدید اور زیادہ طاقتور ماڈلز تھےروسی ڈرونز نے بجلی کے نظام کو نشانہ بنایا، جس کے باعث شدید سردی کے دوران شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہےحملے میں پانچ رہائشی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا، جب کہ ملبے تلے دب کر دو مرد اور ایک خاتون جا بحق ہو گئے ریسکیو حکام کے مطابق امدادی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک تمام افراد کا سراغ نہ مل جائے۔

    یوکرین کے شمال مشرقی علاقے خارکیف میں ایک مسافر ٹرین کو بھی ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس میں چار افراد ہلاک اور کئی لاپتا ہو گئے،اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کے مطابق حالیہ حملوں میں اوڈیسا، کیف اور لویو کے تاریخی مقامات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

    پانی بھی ہائی بلڈ پریشر کا باعث بن سکتا ہے،نئی تحقیق

    یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ ایسے حملے سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور انہوں نے امریکہ اور عالمی برادری سے جنگ کے خاتمے کے لیے تیز رفتار سفارتکاری پر زور دیا ہے زیلنسکی نے روس پر مزید پابندیاں عائد کرنے کی بھی اپیل کی تاکہ ماسکو کو مذاکرات پر آمادہ کیا جا سکے۔

    منتخب وزیراعظم کو صرف اس لیے ہٹایا گیا کیونکہ وہ ایک بیرونی ملک کو پسند نہیں تھا،سہیل آفریدی

  • امریکہ میں منجمد ثاثے ہماری ہی کی ملکیت ہیں،روس

    امریکہ میں منجمد ثاثے ہماری ہی کی ملکیت ہیں،روس

    روسی صدارتی انتظامیہ کے نائب سربراہ میکسم اوریشکن نے کہا ہے کہ امریکہ میں منجمد ایک ارب ڈالر کے روسی اثاثے روس ہی کی ملکیت ہیں۔

    ایک انٹرویو میں اوریشکن نے کہا کہ اگر یہ اثاثے بحال ہوتے ہیں تو ماسکو خود اس رقم کے استعمال کا طریقہ طے کرے گا اثاثوں کی منتقلی کا عمل اس وقت ممکن ہو گا جب امریکی بینک روس کے احکامات پر عمل کریں ، بات اتنی ہی سادہ ہے، اوریشکن نے صدر ولادیمر پیوٹن کے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ارب ڈالر روس کے ہیں اور ہم خود اس کے استعمال کے لیے ہدایات دیں گے۔

    واضح رہے کہ صدر پیوٹن نے حال ہی میں فلسطینی صدر محمود عباس کے ساتھ ملاقات میں کہا تھا کہ روس فلسطینی عوام کی مدد کے لیے ایک ارب ڈالر ’بورڈ آف پیس‘ کے ذریعے مختص کرنے کے لیے تیار ہے،یہ معاملہ امریکی وفد کے ساتھ 22 جنوری کو کریملن میں ہونے والی ملاقات میں بھی زیر بحث آیا۔

    صدر پیوٹن کا مزید کہنا تھا کہ رقم غزہ پٹی کی تعمیر نو اور فلسطینی مسائل کے حل کیلئے استعمال کی جائے گی، امن بورڈ کے فنڈز امریکا میں منجمد روسی اثاثوں سے بھی فراہم کئے جا سکتے ہیں فلسطینی صدر دو روزہ دورے پر روس پہنچے تھے، صدر پیوٹن نے ملاقات کے آغاز میں فلسطین کے ساتھ روسی تعلقات کو گہرے اور تاریخی قرار دیتے ہوئے یاد دلایا کہ سوویت یونین نے 1988ء میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا تھا اور ماسکو آج بھی اسی پوزیشن پر قائم ہے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ جامع امن کا واحد راستہ دو ریاستی حل اور فلسطینی ریاست کا مکمل قیام ہے، روسی صدر نے بتایا کہ روس نے غزہ میں بحران کے دوران فلسطینی امداد کے سلسلے میں 800 ٹن سے زائد انسانی سامان بھیجا اور 32 امدادی آپریشن انجام دیئے، جن میں گندم اور دیگر اشیائے ضروریہ شامل تھیں۔

  • روسی حملہ:کیف کا نصف حصہ بجلی اور پانی  سے محروم

    روسی حملہ:کیف کا نصف حصہ بجلی اور پانی سے محروم

    روس کے رات گئے شدید حملے کے بعد یوکرین کے دارالحکومت کیف کا تقریباً نصف حصہ بجلی، پانی اور حرارت سے محروم ہو گیا ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق منفی 14 ڈگری سینٹی گریڈ کی شدید سردی میں ہزاروں رہائشی عمارتیں اور پارلیمنٹ سمیت اہم سرکاری عمارتیں متاثر ہوئیں،یوکرینی حکام کے مطابق روس نے سینکڑوں ڈرونز اور میزائلوں سے توانائی کے مراکز کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کیف کے قریب ایک 50 سالہ شخص ہلاک ہو گیا۔ شہر کے میئر ویتالی کلیچکو نے بتایا کہ رواں ماہ روس کے شدید ترین حملوں کے باعث پانچ لاکھ سے زائد افراد دارالحکومت چھوڑ چکے ہیں۔

    حملے کے دوران شہر بھر میں سائرن بجتے رہے اور یوکرینی فضائی دفاعی نظام نے ڈرونز اور میزائلوں کو روکنے کی کوشش کی، شہریوں کی مدد کے لیے کیف انتظامیہ نے مختلف علاقوں میں خیمے نصب کیے ہیں جہاں لوگ خود کو گرم رکھ سکتے ہیں، موبائل فون چارج کر سکتے ہیں، گرم مشروبات اور نفسیاتی مدد حاصل کر سکتے ہیں-

    یوکرین کے وزیر خارجہ آندری سیبیہا نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ روس خواتین، بچوں اور بزرگوں کے خلاف جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہا ہےسات علاقوں میں توانائی کا انفراسٹرکچر نشانہ بنایا گیا، اور اتحادی ممالک سے فضائی دفاع مضبوط کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

    صدر ولودیمیر زیلنسکی نے اس موقع پر تشویش ظاہر کی کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ سے متعلق بیانات عالمی توجہ کو یوکرین جنگ سے ہٹا سکتے ہی یوکرین ایک مکمل جنگ کا سامنا کر رہا ہے اور عالمی توجہ میں کمی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے انہوں نے امریکا اور یورپ کے درمیان سفارتی ہم آہنگی پر زور دیا، وہ حالیہ حملے کے بعد حالات کے باعث ورلڈ اکنامک فورم میں شرکت نہ بھی کریں، تاہم اگر امریکا کے ساتھ جنگ کے بعد کے معاشی اور سکیورٹی معاہدوں پر پیش رفت ہوئی تو شرکت کا امکان موجود ہے۔

  • روس کا اپنے سفارتی عملے کو فیملی سمیت اسرائیل چھوڑنے کا حکم

    روس کا اپنے سفارتی عملے کو فیملی سمیت اسرائیل چھوڑنے کا حکم

    یوکرین میں مقیم دو میڈیا اداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ روس اسرائیل سے اپنے سفارتی عملے اور ان کے خاندان کے افراد کو "فوری بنیادوں پر” نکال رہا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں اس مقصد کے لیے تین پروازیں چلائی گئی ہیں، جس نے نئے سرے سے بحث چھیڑ دی ہےیوکرین کے مشہور میڈیا اداروں کیو پوسٹ اور یوکرین نیشنل نیوز (یو این این) نے اطلاع دی ہے کہ روس انخلاء کے اس عمل کو تیزی سے آگے بڑھا رہا ہے، انہوں نے دعوی کیا کہ اس طرح کی سرگرمی سے پتہ چلتا ہے کہ ماسکو کے پاس کچھ "اہم یا حساس معلومات” ہوسکتی ہیں۔

    ڈیلی ایران نیوز کا حوالہ دیتے ہوئے، Kyiv پوسٹ اور UNN نے جمعرات (8 جنوری) کو اطلاع دی کہ اسرائیل میں روسی سفارت خانے کے عملے اور ان کے خاندان کے افراد کو فوری طور پر روس سے نکالا جا رہا ہے۔

    یو این این نے رپورٹ کیا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں یہ تیسری پرواز تھی جس کے ذریعے روس اپنے سفارتی عملے کو نکال رہا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پوری کارروائی کو منظم اور تیز رفتاری سے انجام دیا جا رہا ہے تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ روس اور اسرائیل نے اس معاملے پر سرکاری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

    امریکا کی ایران کیخلاف حملوں کی تیاری؟ جدید اور بھاری ہتھیاروں سے لیس امریکی فوجی طیارےمشرق وسطیٰ کی طرف روانہ

    کیو پوسٹ نے اطلاع دی ہے کہ خیال کیا جاتا ہے کہ روسی سفارت خانے کے عملے اور ان کے اہل خانہ کا اسرائیل سے انخلاء منگل (6 جنوری) کو شروع ہو گیا ہے۔ اگرچہ رپورٹ میں یہ بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ اس دعوے کی حمایت کے لیے ٹھوس شواہد بہت کم ہیں، یہ معلومات فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا پر مبنی تھیں تاہم اشاعت کے وقت روسی وزارت خارجہ یا کسی دوسرے سرکاری ذریعے سے اس معاملے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

    پاکستان سپر لیگ کے 11ویں ایڈیشن کے ڈرافٹ کے حوالے سے اہم پیش رفت

    واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر نظر رکھنے والے سوشل میڈیا ایکس کے چینل ڈیلی ایران نیوز نے بدھ کو سب سے پہلے یہ دعویٰ کیا تھا۔ انہوں نے فلائٹ ٹریکنگ سائٹ ‘ADS-B ایکسچینج’ کا اسکرین شاٹ شائع کیا اور کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں اسرائیل میں روسی سفارتخانے کو خالی کرنے والی یہ تیسری پرواز تھی،تاہم اسرائیل میں روسی سفارت خانے یا روسی وزارت خارجہ کے کسی سرکاری چینل نے ایسا کوئی اعلان نہیں کیا ہے اسی طرح روس یا بڑے بین الاقوامی میڈیا اداروں کی طرف سے ابھی تک کسی بھی معلومات کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

    ‎پاکستان اور انڈونیشیا میں تجارتی تعلقات کے فروغ پر اتفاق، مشترکہ تجارتی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ

  • بھارتی اسٹاک مارکیٹ کریش کرگئی

    بھارتی اسٹاک مارکیٹ کریش کرگئی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس سے تیل خریدنے والے ممالک پر بھاری ٹیرف عائد کرنے کے مجوزہ بل کی بھرپور حمایت کر دی ہے-

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس بل کی حمایت بعد عالمی منڈیوں میں ہلچل مچ گئی ہے جبکہ بل کی خبر سامنے آتے ہی بھارتی اسٹاک مارکیٹ کریش کر گئی، جہاں مسلسل چوتھے روز بھی مندی دیکھی گئی اور سرمایہ کاروں کو چار دنوں میں تقریباً 9 لاکھ کروڑ روپے کا بھاری نقصان برداشت کرنا پڑا۔

    یہ نیا بل امریکی سینیٹر لنزے گراہم کی جانب سے پیش کیا گیا ہے، جسے صدر ٹرمپ کی واضح حمایت حاصل ہو چکی ہے امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بل کی منظوری اگلے ہفتے متوقع ہے منظوری کی صورت میں صدر ٹرمپ کو یہ اختیار حاصل ہو جائے گا کہ وہ روس سے تیل خریدنے والے ممالک پر 500 فیصد تک ٹیرف نافذ کر سکیں۔

    منشیات فروشوں سے تعلق کے الزام میں 34 پولیس اہلکار معطل

    ماہرین کے مطابق اس اقدام کا سب سے زیادہ اثر بھارت پر پڑنے کا امکان ہے، جو اس وقت روسی تیل کے بڑے خریداروں میں شامل ہےبھارت پہلے ہی امریکی تجارتی پالیسیوں کے باعث دباؤ میں ہے اور اس پر 50 فیصد امریکی ٹیرف عائد ہے، جس سے اس کی برآمدات اور مالی منڈی متاثر ہو رہی ہیں نئے مجوزہ ٹیرف نے بھارتی سرمایہ کاروں میں بے چینی مزید بڑھا دی ہے بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں مندی کے رجحان نے بینکنگ، توانائی اور آئی ٹی سیکٹرز کو خاص طور پر متاثر کیا، جب کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے بڑے پیمانے پر سرمایہ نکالے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

    پی ایس ایل پر اعتماد کی وجہ سےٹیموں کیلئے اتنی بڑی بولی لگی ہے،محسن نقوی

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکی بل منظور ہو گیا تو بھارتی معیشت کو قلیل مدت میں مزید دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہےنئے امریکی ٹیرف بل سے چین اور برازیل بھی متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہیں، جو روس سے توانائی کی درآمدات جاری رکھے ہوئے ہیں تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بل عالمی تجارتی کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے اور تیل کی عالمی قیمتوں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

    دوسری جانب وائٹ ہاؤس حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد روس پر معاشی دباؤ بڑھانا اور یوکرین جنگ کے تناظر میں اس کی آمدنی کے ذرائع محدود کرنا ہے تاہم ناقدین کے مطابق اس پالیسی کے عالمی معیشت پر دور رس منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    ملک بھر کے لیے بجلی کا بنیادی ٹیرف برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • آئل ٹینکر پر قبضہ کر کے امریکا نے فوجی و سیاسی کشیدگی کو ہوا دی ہے،روس

    آئل ٹینکر پر قبضہ کر کے امریکا نے فوجی و سیاسی کشیدگی کو ہوا دی ہے،روس

    روس نے امریکا پر الزام عائد کیا ہے کہ شمالی بحرِ اوقیانوس میں روسی پرچم والے آئل ٹینکر میرینیرا پر قبضہ کر کے امریکا نے فوجی و سیاسی کشیدگی کو ہوا دی ہے اور بین الاقوامی سمندری قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔

    روسی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق، امریکی بحری افواج نے بین الاقوامی پانیوں میں اس وقت ٹینکر کو اپنی تحویل میں لیا جب جہاز کسی بھی ریاست کی علاقائی حدود سے باہر تھا،کارروائی کے دوران تقریباً سہ پہر تین بجے مقامی وقت پر جہاز سے رابطہ منقطع ہو گیا۔

    روسی حکام نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ 1982 کے اقوام متحدہ کے سمندری قانون کے تحت کھلے سمندر میں جہاز رانی کی آزادی حاصل ہے اور کسی بھی ملک کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی دوسرے ملک کے قانونی طور پر رجسٹرڈ جہاز کے خلاف طاقت استعمال کرے۔

    روسی وزارتِ خارجہ نے بھی امریکی اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ٹینکر پر موجود روسی شہریوں کے ساتھ انسانی اور باوقار سلوک کیا جائے، ان کے حقوق کا احترام کیا جائے اور انہیں فوری طور پر وطن واپس بھیجا جائے۔

    عظمی بخاری کا معین قریشی کے خلاف ڈیفامیشن کورٹ میں پہلاکیس دائر کرنے کا اعلان

    روسی وزارت ٹرانسپورٹ کے مطابق، میرینیرا، جس کا سابقہ نام بیلا-1 تھا، کو 24 دسمبر 2025 کو روسی پرچم کے تحت عارضی اجازت دی گئی تھی جو روسی اور بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق تھی،یہ جہاز ماضی میں امریکا کی جانب سے وینزویلا پر عائد سمندری ناکہ بندی سے بچ نکلنے میں بھی کامیاب رہا تھا۔

    دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی وفاقی عدالت کے وارنٹ کے تحت امریکی کوسٹ گارڈ اور فوج نے انجام دی اور اس کا مقصد وینزویلا کے تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانا تھا۔

    امریکی حکام نے یہ بھی تصدیق کی ہے کہ کارروائی کے وقت روسی بحری جہاز، جن میں ایک آبدوز بھی شامل تھی، عمومی علاقے میں موجود تھے تاہم کسی قسم کی براہِ راست جھڑپ پیش نہیں آئی۔

    بی سی بی کا آئی سی سی کو خط،بھارت میں سکیورٹی خدشات کی نشاندہی

    یہ کارروائی وینزویلا پر امریکی دباؤ میں اضافے کے بعد سامنے آئی ہے جس میں حالیہ دنوں میں صدر نکولس مادورو کے خلاف بھی اقدامات کیے گئے جن پر امریکا کی جانب سے منشیات اسمگلنگ کے الزامات عائد ہیں تاہم وینزویلا کی قیادت ان الزامات کی تردید کرتی ہے روسی حکام نے وینزویلا کی عبوری قیادت کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے امریکی اقدامات کو کھلی نوآبادیاتی دھمکی اور غیر ملکی مسلح جارحیت قرار دیا ہے۔

    اگرچہ صدر ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت کے آغاز کے بعد ماسکو اور واشنگٹن کے تعلقات میں قدرے بہتری دیکھی گئی ہے تاہم دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان تعلقات اب بھی نازک ہیں اور اس نوعیت کے فوجی واقعات شاذ و نادر ہی پیش آتے ہیں۔

    پی ایس ایل کی ساتویں ٹیم حیدرآبادکے مالک فواد سرور کون ہیں؟