Baaghi TV

Tag: روس

  • روس یوکرین سے مذاکرات کیلئے تیا رہے،پیوٹن

    روس یوکرین سے مذاکرات کیلئے تیا رہے،پیوٹن

    روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے اپنے فرانسیسی ہم منصب عمانوئیل میکرون سے ٹیلی فون پرگفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماسکو یوکرین کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

    باغی ٹی وی : ” العربیہ ” کے مطابق روس کےسرکاری خبر رساں ادارے تاس کےمطابق صدر پیوٹن نے یوکرینی نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کے اصولی طریقوں کا خاکہ پیش کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ کیف کی عدم مطابقت اور سنجیدگی سے کام کرنے کی عدم خواہش کے باوجود روسی فریق اب بھی بات چیت کو تیار ہے۔

    جرمنی میں یوکرینی فوجیوں کی تربیت شروع:روس سخت ناراض

    کریملن نے مزید کہا کہ صدر پیوٹن نے میکرون کو روس کے یوکرین میں ’’خصوصی فوجی آپریشن‘‘ یعنی حملے کی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا انہوں نے مغرب سے مطالبہ کیا کہ وہ یوکرین کو ہتھیارمہیا کرنے کا سلسلہ بند کرے-

    روس ور فرانسیسی صدور نے جنگ سے عالمی غذائی سلامتی کو درپیش خطرے پر بھی بات چیت کی ہے اورصدر پیوٹن نے باور کرایا کہ ان کے ملک پر مغرب کی عائد کردہ پابندیوں نے صورت حال کو مزید خراب کردیا ہے۔

    یوکرین میں کسی بھی مغربی ہتھیار کی کھیپ روسی افواج کیلئے ایک جائز ہدف ہو گی،سرگئی…

    واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا تھا کہ وہ بحران کے خاتمے کے لیے ولادیمیرپیوٹن کے ساتھ بات چیت کو تیار ہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ میں یہ چاہتا ہوں یا نہیں۔ گذشتہ تین سال کے دوران میں جو میرے پاس تھا،جو لوگوں نے مجھے دیا-

    انہوں نے کہا تھا کہ میں روسی صدر سے جنگ کے خاتمے پر بات چیت کرنے کو تیارتھا اب یہ وہی اشارے ہیں (یوکرین کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں روس کے بیانات) جو وہ بڑے پیمانے پرحملہ کرنے سے پہلے بھیج رہے تھے مگرمیں ایک بارپھراس بات پر زور دیتا ہوں کہ روس پُرامن تصفیے کے لیے تیارنہیں-

  • تیسری عالمی جنگ کے امکانات بڑھ گئے ہیں :یوکرینی صدر ولودومیر زیلنیسکی

    تیسری عالمی جنگ کے امکانات بڑھ گئے ہیں :یوکرینی صدر ولودومیر زیلنیسکی

    کیف :تیسری عالمی جنگ کے امکانات بڑھ گئے ہیں :اطلاعات کے مطابق روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے حوالے سے یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنیسکی نے دنیا کو تیسری جنگ عظیم کے امکان سے خبردار کیا ہے۔

    عرب ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے یوکرین کے صدر ولودومیر زیلینسکی کا کہنا تھا کہ جنگ فی الحال یوکرین تک محدود ہے اور روس منتقل نہیں ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ یوکرین کی فوج نے اب تک روس کے خلاف فوجی کارروائیوں کا آغاز نہیں کیا ہے، یوکرینی فوج روس پر قبضہ کرنے کی کوئی خواہش نہیں رکھتی، ہماری افواج اپنی سرزمین کا دفاع کر رہی ہیں۔

    ولودومیر زیلینسکی نے کہا کہ ہم روسی فوجیوں کی موجودگی اور مولدووا میں علیحدگی پسندوں سے خوفزدہ نہیں ہیں کیونکہ مولدووا میں علیحدگی پسند غیر تربیت یافتہ اور یوکرینی فوج سے لڑنے سے خوفزدہ ہیں۔

    یوکرین کے صدر نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف کی جانب سے ہٹلر کے یہودیوں سے تعلق ہونے پر کہنا تھا کہ ان کے بیان سے لگتا ہے کہ روس نے جنگ عظیم دوئم سے سبق نہیں سیکھا۔

    یوکرین کے صدر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ یوکرینی فوج نے روس کے خلاف کوئی فوجی کارروائی نہیں کی۔عرب ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے یوکرین کے صدر زیلنسکی کا کہنا تھا کہ جنگ فی الحال یوکرین تک محدود ہے، روس منتقل نہیں ہوئی۔

    یوکرینی صدر نے کہا کہ یوکرین کی فوج نے روس کے خلاف فوجی کارروائی نہیں کی، یوکرینی فوج صرف اپنی سرزمین کادفاع کر رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یوکرینی فوج روس پر قبضے کی خواہش نہیں رکھتی۔

    صدر زیلنسکی نے کہا کہ وہ روس کے ساتھ بات چیت کے لیے بھی تیار ہیں، لیکن یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب روسی صدر ہم سے ملنے کے لیے تیار ہوں گے۔

    واضح رہے کہ روسی افواج 24 فروری کو یوکرین میں داخل ہوئیں تھیں جسے ایک خصوصی فوجی آپریشن کا نام دیا گیا تھا۔تاہم صدر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ یہ جنگ 8 سال پہلے اس وقت شروع ہوئی تھی جب 2014 میں روس نے کریمیا سے الحاق کیا تھا۔

  • پیوٹن کوکینسرہوگیا، اختیارات سابق انٹیلی جنس چیف کو ملنے کا امکان

    پیوٹن کوکینسرہوگیا، اختیارات سابق انٹیلی جنس چیف کو ملنے کا امکان

    لندن :پیوٹن کوکینسرہوگیا، اختیارات سابق انٹیلی جنس چیف کو ملنے کا امکان ،اطلاعات کےمطابق برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کی کینسر کی سرجری جلد متوقع ہے اور اس دوران یوکرین جنگ کا اختیار روسی خفیہ ایجنسی کے سابق چیف کو سونپے جانے کا امکان ہے۔

    برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق کریملن کے قریبی ذرائع نے بتایا ہے کہ ولادیمیر پیوٹن کی جلد کینسر کی سرجری متوقع ہے اور چند دنوں کیلئے یوکرین جنگ کے حوالے سے فیصلوں کا اختیار روسی سکیورٹی کونسل کے سربراہ اور خفیہ ایجنسی KGB کے سابق چیف، پیوٹن کے دوست نکولائی پیٹروشیف کو دیا جاسکتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ولادیمیر پیوٹن میں 18 ماہ قبل پیٹ کے کینسر اور دماغی بیماری پارکنسنز کی تشخیص ہوئی تھی جبکہ ان میں شیزوفرینیا کی علامات بھی ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ پیوٹن نے سرجری میں تاخیر کی ہے اور اب سرجری جنگ عظیم دوئم میں روس کی کامیابی کی یاد میں منائے جانے والے وکٹری ڈے کے بعد ہی ممکن ہے۔ وکٹری ڈے 9 مئی کو منایا جاتا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سرجری اپریل میں ہونی تھی لیکن پیوٹن نے اسے مؤخر کیا لیکن اب ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ مزید تاخیر کرنا خطرناک ہوسکتا ہے۔

    خیال رہے کہ روسی صدارتی محل ہمیشہ سے پیوٹن کی خرابی صحت کے حوالےسے خبروں کی تردید کرتا رہا ہے۔

    پیوٹن کی جانب سے اختیارات نکولائی پیٹروشیف کو سونپے جانے کی اطلاعات پر ناقدین نے تشویش کا اظہار کیا ہے کیوں کہ آئین کے تحت صدر کی غیر موجودگی میں اختیارات وزیراعظم کے پاس جاتے ہیں۔کچھ عرصہ قبل یہ خبریں بھی سامنے آئی تھیں کہ ڈاکٹر نے انہیں مغربی ممالک سے منگوائی جانے والی دوائی شروع کرنے کا کہا تھا۔ ڈیلی میل کے مطابق پیوٹن نے جب یہ دوائی کھانا شروع کی تو ان میں شدید سائیڈ افیکٹس دیکھے گئے اور ان کی کمزوری اور چکر میں اضافہ ہوگیا۔

    رپورٹس کے مطابق جس ڈاکٹر نے دوائی تجویز کی تھی بعد ازاں اسے پیوٹن کے علاج کے عمل سے فارغ کردیا گیا اور غیر دوست ملک سے امپورٹ کی گئی دوا کی بھی جانچ کی گئی۔روس کے ایک جلا وطن صحافی نے حال ہی میں دعویٰ کیا ہے کہ پیوٹن کو تھائیرائیڈ کینسر ہے اور ہر وقت بہترین ڈاکٹرز کی ٹیم ان کے ساتھ رہتی ہے۔

    حال ہی میں کچھ ویڈیوز بھی سامنے آئی تھیں جن میں پیوٹن کے ہاتھ کو لاشعوری طور پر تھرتھراتے ہوئے دیکھا گیا تھا جس سے انہیں پارکنسنز کی بیماری ہونے کی خبروں کو تقویت ملی تھی۔

    ڈیلی میل نے ایک تصویر جاری کی ہے جس میں روسی وزیر دفاع سرگئی شوئیگو کے ساتھ ملاقات میں پیوٹن کو میز کو پکڑ کر بیٹھے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے جبکہ اس میٹنگ کی تصویر میں پیوٹن کے چہرے پر سوجن کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔

  • اگرامریکا اورنیٹویہ چاہتےہیں تویہ کام کریں:روس

    اگرامریکا اورنیٹویہ چاہتےہیں تویہ کام کریں:روس

    ماسکو: اگرامریکا اورنیٹویہ چاہتےہیں تویہ کام کریں:اطلاعات کے مطابق روس نے امریکا اور نیٹو سے یوکرین کو ہتھیاروں کی سپلائی بند کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے شنہوا نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا اور نیٹو بحران کو حل کرنے میں دل چسپی رکھتے ہیں تو یوکرین کو مسلح کرنا بند کر دیں۔

    چین کے سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ روس کے وزیر خارجہ نے ایک بار پھر امریکا اور نیٹو پر زور دیا ہے کہ اگر وہ ‘واقعی یوکرین کے بحران کو حل کرنے میں دل چسپی رکھتے ہیں’ تو انھیں بیدار ہونا چاہیے اور وہ کیف کو ہتھیاروں کی فراہمی بند کر دیں۔

    الجزیرہ کے مطابق امریکا اور کئی یورپی ممالک نے روسی جارحیت کے خلاف جنگ میں یوکرین کو اربوں ڈالر کے ہتھیار فراہم کیے ہیں، امریکی صدر جو بائیڈن نے کانگریس سے یوکرین کی مدد کے لیے 33 ارب ڈالر کی درخواست کی ہے۔

    ماسکو نے بارہا واشنگٹن کو کیف کو فوجی امداد جاری رکھنے کے خلاف خبردار کیا ہے، اور امریکا پر جنگ کے ‘شعلوں پر تیل ڈالنے’ کا الزام لگایا ہے۔ کریملن نے اس سے قبل یوکرین کو مغربی ہتھیاروں کی فراہمی کو یورپی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔

    واضح رہے کہ ماسکو کیف پر جلد قبضے کے ہدف میں ناکامی کے بعد اب یوکرین کے مشرقی ڈونباس علاقے میں کارروائیاں تیز کر رہا ہے، تاہم لاوروف نے کہا کہ خصوصی فوجی آپریشن منصوبہ بندی کے مطابق سختی سے جاری ہے۔

    واضح رہے کہ چین نے یوکرین پر روس کے حملے کی مذمت کرنے سے گریز کیا ہے اور ماسکو کے ساتھ اپنی مضبوط دوستی کا دفاع کیا ہے، سرکاری میڈیا پر اکثر جنگ پر روسی مؤقف کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔

  • جرمنی میں یوکرینی فوجیوں کی تربیت شروع:روس سخت ناراض

    جرمنی میں یوکرینی فوجیوں کی تربیت شروع:روس سخت ناراض

    برلن :جرمنی میں یوکرینی فوجیوں کی تربیت شروع:روس سخت ناراض،اطلاعات کے مطابق امریکی افواج جرمنی میں فوجی ساز و سامان کی فراہمی کے ساتھ یوکرینی فوج کو اب تربیت بھی فراہم کر رہی ہیں۔ محکمہ دفاع کے ترجمان جان کربی کا کہنا ہے کہ تربیت کی ذمہ داری فلوریڈا نیشنل گارڈ کو سونپی گئی ہے۔

    امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ امریکا جرمنی میں اپنے فوجی اڈوں پر یوکرین کے فوجیوں کو تربیت فراہم کر رہا ہے اور جدید ہتھیاروں کے نظام کو سیکھنے میں ان کی مدد کر رہا ہے۔

    کربی کا کہنا تھا کہ تربیتی پروگرام جرمن حکومت کے ساتھ ہم آہنگی سے جاری ہے اور امریکا جرمنی کی طرف سے مسلسل حمایت کے لیے شکر گزار ہے۔ اب تک تقریباً 50 یوکرینی اہلکاروں کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار ہوٹزر کی تربیت دی جا چکی ہے۔ یوکرینی فوجیوں کو ریڈار سسٹم اور بکتر بند گاڑیوں کے استعمال کا طریقہ کار بھی سکھایا جائے گا۔

    جان کربی نے بتایا کہ اس تربیت کا بیشتر کام اور ذمہ داری فلوریڈا نیشنل گارڈ کو سونپی گئی ہے۔ اسی امریکی یونٹ نے روسی حملے سے پہلے رواں برس فروری میں یوکرین کی افواج کو تربیت فراہم کی تھی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ یوکرینی فوجی واپس جائیں گے اور اپنے دیگر ساتھیوں کو تربیت دیں گے۔ پینٹاگون کے ترجمان نے مزید کہا کہ یوکرینی افواج کی تربیت یورپ کے دیگر حصوں میں بھی ہو رہی ہے تاہم انہوں نے ان مقامات کے بارے میں نہیں بتایا۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی مارچ کے اواخر میں کہا تھا کہ امریکی فوج پولینڈ میں یوکرینی افواج کو تربیت دے رہی ہیں لیکن بعد میں یہ بیان واپس لے لیا گیا تھا۔

    ادھر روس نے یوکرینی افواج کو مسلح کرنے کے خلاف ایک بار پھر مغربی ممالک کو خبردار کیا ہے۔ مارچ میں روس نے مغربی ممالک کو متنبہ کرنے کے لیے پولینڈ کی سرحد کے قریب یوکرین میں ایک تربیتی مرکز پر حملہ کرکے اسے تباہ کر دیا تھا۔

  • گاڑیاں آہستہ چلائیں:روسی ایندھن پرانحصار ختم کرنے کایہی حل ہے:جرمن آٹوکلب

    گاڑیاں آہستہ چلائیں:روسی ایندھن پرانحصار ختم کرنے کایہی حل ہے:جرمن آٹوکلب

    برلن : گاڑیاں آہستہ چلائیں:روسی ایندھن پرانحصار ختم کرنے کایہی حل ہے:اطلاعات کے مطابق جرمن آٹوموبیل ایسوسی ایشن نے اپنے ارکان اور عام شہریوں سے تیل کے استعمال میں کمی لانے کے لیے گاڑیاں آہستہ چلانے کی ہدایت کی ہے۔ اس تنظیم کا ہدف جرمنی میں روسی ایندھن پر انحصار ختم کرنا ہے۔

    جرمن اے ڈی اے سی یورپ میں موٹر گاڑیوں کی سب سے بڑی تنظیم ہے جس نے اپنے 2 کروڑ 10 لاکھ ارکان سے کہا ہے کہ روسی تیل پر انحصار روکنے کے لیے گاڑیوں کا آہستہ رفتار میں اور کم استعمال کریں۔

    اس ایسوسی ایشن نے اپنی ویب سائٹ پر پوسٹ کیے گئے ایک خط میں اپنے ارکان سے یہ بھی کہا کہ وہ ایندھن کی کھپت کو 20 فیصد تک کم کرنے کے لیے گاڑیاں آہستہ رفتار میں چلائیں، صارفین تیل کی کھپت میں کمی کے حوالے سے تجاویز بھی دیں۔

    اس کے علاوہ اے ڈی اے سی نے عوام پر زور دیا کہ وہ اپنی نجی گاڑیوں کے بجائے پیدل چلنے، سائکلنگ اور پبلک ٹرانسپورٹ جیسے متبادل ذرائع استعمال کریں کیونکہ یوکرین پر روسی حملے کے نتیجے میں ذرائع توانائی پر گہرے اثرات پڑ رہے ہیں۔

    جرمن تنظیم کے مطابق یوکرین میں جنگ اور یوکرینی عوام کی ناقابل فہم تکلیف دیکھ کر ہم سب بھی بہت افسردہ ہیں، یہ سب کچھ بے بسی سے دیکھنا ناقابل برداشت ہے۔

    حالیہ ہفتوں کے دوران جرمنی کا توانائی کے شعبے میں روسی درآمدات پر انحصار واضح ہو چکا ہے اس لیے ان درآمدات کو فوری طور پر روکنا ضروری ہے تاکہ ہر فرد اس معاملے میں اپنا حصہ ڈال سکے۔

    جرمن حکومت کا بھی کہنا ہے کہ وہ رواں سال کے آخر تک روس سے ایندھن کی درآمدات سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتی ہے۔ روس کی جانب سے بلغاریہ اور پولینڈ کے لیے گیس کی فراہمی روکنے کے فیصلے کے بعد جرمنی میں کافی بے چینی پائی جاتی ہے۔

  • یوکرین جنگ: اقوام متحدہ کے سیاحتی ادارے نے روس کی رُکنیت معطل کردی

    یوکرین جنگ: اقوام متحدہ کے سیاحتی ادارے نے روس کی رُکنیت معطل کردی

    اقوام متحدہ کی عالمی سیاحتی تنظیم (یو این ڈبلیو ٹی او) نے یوکرین پر حملے کے ردعمل میں روس کی رکنیت فوری طورپرمعطل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق جارجیا سے تعلق رکھنےوالے یو این ڈبلیو ٹی او کے سیکرٹری جنرل زراب پولولیکا شویلی نے،،رائے شماری کے بعد اپنے ٹوئٹر پر جاری پیغام میں کہا کہ اعمال کے ہمیشہ نتائج ہوں گےامن ایک بنیادی انسانی حق ہے۔سب کو اس کی ضمانت دی جانا چاہیے‘‘۔واضح رہے کہ ان کے آبائی ملک پر 2008 میں روس نے حملہ کیا تھا۔

    287 برطانوی ارکان پارلیمان کی روس میں داخلے پر پابندی عائد


    "روئٹرز” کے مطابق یو این ڈبلیو ٹی او کے 160 رکن ممالک میں سے دو تہائی سے زیادہ نے روس کی رکنیت معطل کرنے کی قرارداد کی حمایت کی ہے۔روس کی جانب سے تنظیم چھوڑنے کے فیصلے کے اعلان سے بہت پہلے رائے شماری کی تاریخ مقرر کی گئی تھی۔اس کے بارے میں یو این ڈبلیو ٹی او نے کہا تھا کہ اسے مکمل ہونے میں ایک سال لگے گا۔


    میڈرڈ میں قائم ادارے کے بدھ کو منعقدہ اس خصوصی اجلاس کی صدارت ہسپانوی وزیرسیاحت ریئس ماروٹو نے کی۔ انھوں نے کہا کہ روس کی یلغارنے اقوام متحدہ کے اساسی اصولوں اور سیاحت کی نمائندگی کرنے والی اقدار مثلاً امن، خوش حالی اور آفاقی احترام کو مجروح کیا ہے۔انھوں نے مخاصمت کے خاتمے پر زور دیا۔


    ہسپانوی حکومت نے ایک بیان میں کہا کہ جب اسمبلی ’’روسی فیڈریشن کی پالیسی میں تبدیلی‘‘کا ادراک کرے گی تورُکنیت معطلی ختم کی جاسکتی ہے۔ اسمبلی کا اگلا اجلاس اب 2023ء میں ہوگا۔

    کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ سیاحت کے فروغ کے لیے تکنیکی معاونت فراہم کرنے والے یو این ڈبلیو ٹی او کو چھوڑنے کے فیصلے سے روس میں سیاحتی شعبے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

    انھوں نے کہا کہ سیاحت اور خاص طور پراندرونی سیاحت کا شعبہ اپنی ترقی جاری رکھے گا۔انھوں نے وضاحت کیے بغیر کہا کہ سیاحت کے لیے بیرونی رہ نما ہدایات بھی کھلی ہیں جو معیاراورقیمت کے لحاظ سے مسابقت کے سوالات پر زوردیتی ہیں۔

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے رواں ماہ کے اوائل میں یوکرین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی اطلاعات پر روس کی انسانی حقوق کونسل کی رکنیت معطل کرنے کے لیے ووٹ دیا تھا۔اس کے بعد میں ماسکو نے اعلان کیا تھا کہ وہ اس ادارے کو بھی چھوڑ رہا ہے۔

    روس نے یوکرین میں اپنی فوجی کارروائی کے دوران میں حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی تردید کی ہے۔وہ یوکرین میں اپنی جنگی مہم کو اس ملک کو غیرمسلح کرنے اور اسے فاشسٹوں سے بچانے کے لیے’’خصوصی آپریشن‘‘ کا نام دیتا ہے۔

    یوکرین اور مغرب کا کہنا ہے کہ روس نے بلااشتعال جارحیت کا ارتکاب کیا ہے اور اب وہ ایک جارحانہ جنگ لڑ رہا ہے۔

    روس اورجرمنی میں اختلافات شدت اختیارکرگئے: 40جرمن سفارت کاروں کوملک چھوڑنےکاحکم

  • روس کے لیے پیغام ہےکہ21 ویں صدی میں کوئی جنگ قابل قبول نہیں:یو این سیکریٹری جنرل

    روس کے لیے پیغام ہےکہ21 ویں صدی میں کوئی جنگ قابل قبول نہیں:یو این سیکریٹری جنرل

    کیف: یو این سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس یوکرین کے دارالحکومت کیف پہنچ گئے۔جہاں انہوں نے کہا ہے کہ روس کے لیے پیغام ہےکہ21 ویں صدی میں کوئی جنگ قابل قبول نہیں

    تفصیلات کے مطابق یو این سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کیف پہنچ گئے ہیں، انھوں نے یوکرین کے مرکزی شہر کیف کے علاقے بورودینکا اور باکا (Bucha) کا دورہ کیا۔ انتونیو گوتریس نے بورودینکا کے دورے کے موقع پر جنگ کو برائی اور مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ 21 ویں صدی میں کوئی جنگ قابل قبول نہیں ہے۔

    واضح رہے کہ یوکرین کے دارالحکومت کیف کے قریب واقع یہ قصبہ روسی قبضے کے دوران تباہ ہو گیا تھا۔

    انھوں نے کہا میں ان گھروں میں سے ایک میں اپنے خاندان کا تصور کرتا ہوں جو اب تباہ اور سیاہ ہو چکے ہیں، میں اپنی پوتیوں کو گھبراہٹ میں بھاگتے ہوئے دیکھتا ہوں، 21 ویں صدی میں جنگ ایک مضحکہ خیز چیز ہے، جنگ بری چیز ہے، جنگ قابل قبول نہیں ہے۔

    گوتریس نے بعد ازاں، باکا قصبے کے دورے کے دوران روس پر بھی زور دیا کہ وہ یوکرین پر حملے کے دوران کیے گئے ممکنہ جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کے ساتھ تعاون کرے۔انھوں نے کہا میں آئی سی سی کی مکمل حمایت کرتا ہوں اور میں روسی فیڈریشن سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئی سی سی کے ساتھ تعاون کرے، لیکن جب ہم جنگی جرائم کی بات کرتے ہیں تو ہم یہ نہیں بھول سکتے کہ بدترین جرم خود جنگ ہے۔

    واضح رہے کہ باکا کیف کے باہر ایک قصبہ ہے جہاں روسی فوجیوں کے انخلا کے بعد سینکڑوں مردہ شہری ملے تھے۔

  • 287 برطانوی ارکان پارلیمان کی روس میں داخلے پر پابندی عائد

    287 برطانوی ارکان پارلیمان کی روس میں داخلے پر پابندی عائد

    روس نے برطانوی پارلیمان کے 287 ارکان کے روس میں داخل ہونے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

    باغی ٹی وی : روسی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق برطانوی حکومت کی طرف سے 11 مارچ کو روسی پارلیمان دومہ کے 386 ارکان پر پابندی عائد کیں تھیں۔

    روس اورجرمنی میں اختلافات شدت اختیارکرگئے: 40جرمن سفارت کاروں کوملک چھوڑنےکاحکم

    برطانوی ارکان پارلیمنٹ پر انہیں پابندیوں کے جواب میں پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔ خیال رہے کہ برطانوی پارلیمان کے ایوان زیریں کے ارکان کی کل تعداد 650 ہے۔

    قبل ازیں روس نے جوابی اقدام کے طور پر جرمنی کے 40 سفارت کاروں کو ناپسندیدہ شخصیات قرار دیتے ہوئے ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا اِس سے قبل روس یوکرین جنگ کے تناظر میں جرمنی نے روسی سفارت کاروں کو جرمنی سے نکل جانے کا کہا تھا جس پر روس کی وزارتِ خارجہ نے ملک میں متعین جرمن سفارت کار کو طلب کر کے جرمن حکومت کے اس فیصلے پر شدید احتجاج کیا تھا۔

    بعد ازاں روس نے اپنے ردعمل میں 40 جرمن سفارت کاروں کو ناپسندیدہ شخصیات قرار دے کر ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا تاہم جرمنی کی وزیر خارجہ انالینا بیئربوک نے الزام عائد کیا تھا کہ جرمنی سے بے دخل کیا گیا روس کا سفارتی عملہ سفارت کاروں کی بجائے جا سو سوں پر مشتمل تھا۔

    جوہری جنگ کےامکانات بڑی تیزی سے بڑھ رہے ہیں :روس کی وارننگ

    جرمن وزیر خارجہ انالینا بیئربوک نے مزید کہا تھا کہ روس سے بے دخل کیے جانے والے سفارت ک‍اروں نے کوئی غلط کام نہیں کیا انہوں نے روسی حکومت کے اِس اقدام کو نا انصافی پر مبنی فیصلہ قرار دیا تھا –

    قبل ازیں روس نے کہا تھا کہ دنیا سنگین جوہری جنگ کے خطرے کو سنجیدگی سے دیکھے، یہ قابل غور ہےروس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے سرکاری ٹی وی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ نیٹو یوکرین کو ہتھیاروں کی سپلائی کرکے دراصل روس کے ساتھ با لو اطہ جنگ میں مصروف ہے اِن ہتھیاروں سے یقینی طور پر روسی افواج کو نشانہ بنایا جائے گا۔

    روس نے بڑی فتح کے بعد یوکرین کے ساتھ جنگ کے دوسرے مرحلے کا اعلان کر دیا

  • روس اورجرمنی میں اختلافات شدت اختیارکرگئے:   40جرمن سفارت کاروں کوملک چھوڑنےکاحکم

    روس اورجرمنی میں اختلافات شدت اختیارکرگئے: 40جرمن سفارت کاروں کوملک چھوڑنےکاحکم

    روس نے جوابی اقدام کے طور پر جرمنی کے 40 سفارت کاروں کو ناپسندیدہ شخصیات قرار دیتے ہوئے ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ یہ تعداد روس میں تعینات جرمن سفارت کاروں کی ایک تہائی بنتی ہے۔

    اِس سے قبل روس یوکرین جنگ کے تناظر میں جرمنی نے روسی سفارت کاروں کو جرمنی سے نکل جانے کا کہا تھا جس پر روس کی وزارتِ خارجہ نے ملک میں متعین جرمن سفارت کار کو طلب کر کے جرمن حکومت کے اس فیصلے پر شدید احتجاج کیا تھا۔

    اب روس نے اپنے ردعمل میں 40 جرمن سفارت کاروں کو ناپسندیدہ شخصیات قرار دے کر ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے تاہم جرمنی کی وزیر خارجہ انالینا بیئربوک نے الزام عائد کیا ہے کہ جرمنی سے بے دخل کیا گیا روس کا سفارتی عملہ سفارت کاروں کی بجائے جاسوسوں پر مشتمل تھا۔

    جرمن وزیر خارجہ انالینا بیئربوک نے مزید کہا ہے کہ روس سے بے دخل کیے جانے والے سفارت ک‍اروں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ انہوں نے روسی حکومت کے اِس اقدام کو نا انصافی پر مبنی فیصلہ قرار دیا ہے۔روس نے کہا ہے کہ دنیا سنگین جوہری جنگ کے خطرے کو سنجیدگی سے دیکھے، یہ قابل غور ہے۔

    روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے سرکاری ٹی وی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ نیٹو یوکرین کو ہتھیاروں کی سپلائی کرکے دراصل روس کے ساتھ بالواسطہ جنگ میں مصروف ہے۔ اِن ہتھیاروں سے یقینی طور پر روسی افواج کو نشانہ بنایا جائے گا۔

    وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ روس جوہری تصادم کے بڑھا چڑھا کر پیش کیے جانے والے مصنوعی خطرات کے امکانات کو کم کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہمارا اصولی مؤقف ہے جس پر تمام کارروائیاں ہورہی ہیں۔

    وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کا کہنا تھا یوکرین کے ساتھ امن مذاکرات جاری رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ یہ جنگ روس اور یوکرین کے مابین ایک معاہدے پر دستخط ہونے کے ساتھ ہی ختم ہو جائے تاہم اس معاہدے کی شرائط اس وقت ملک میں فوجی صورتحال پر منحصر ہوں گی۔

    روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے انٹرویو کے بعد یوکرین کے وزیر خارجہ دیمترو کولیبا نے ٹویٹ کیا کہ روس دنیا کو ڈرانے کا آخری موقع بھی کھو چکا ہے اور اس کا صرف ایک ہی مطلب ہے کہ اُسے اپنی شکست کا اندازہ ہو گیا ہے۔

    یوکرین کے خلاف روس کی فوجی کارروائی کے تین ماہ گزر جانے کے باوجود اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسیاں مشرقی یوکرین کے محصور علاقوں میں شہریوں تک پہنچنے کی جدوجہد کر رہی ہیں۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس آج سے روس کا تین روزہ دورہ شروع کر رہے ہیں جس کے بعد وہ یوکرین کا دورہ بھی کریں گے۔ یوکرین بحران سے نمٹنے میں اقوام متحدہ کے محدود کردار پر سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس بھی تنقید کی زد میں ہیں۔