Baaghi TV

Tag: روس

  • یوکرین روس جنگ :دارالحکومت کیف، اوڈیسا اور زپوریزیا میں روسی فوج کی بمباری،سخت مزاحمت کا سامنا

    یوکرین روس جنگ :دارالحکومت کیف، اوڈیسا اور زپوریزیا میں روسی فوج کی بمباری،سخت مزاحمت کا سامنا

    خارکیف :یوکرین روس جنگ :دارالحکومت کیف، اوڈیسا اور زپوریزیا میں روسی فوج کی بمباری،سخت مزاحمت کا سامنا،اطلاعات کے مطابق آج یوکرین جنگ کا 21 واں دن ہے یعنی جنگ شروع ہوئے 3 ہفتے ہو چکے ہیں۔ آج بھی دارالحکومت کیف کی صبح سائرن کی آواز سے ہوئی۔

    اطلاعات کے مطابق آج صبح یوکرین کے دارالحکومت کیف میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں اور روسی افواج کی جانب سے دو عمارتوں پر بمباری کی گئی ہے۔

    شہر کی ایمرجنسی سروسز کے مطابق شیوچینکو ڈسٹرکٹ میں صبح چھ بجے ایک 12 منزلہ عمارت پر بمباری کی گئی اور حکام کے مطابق بمباری کے نتیجے میں قریب موجود ایک 9 منزلہ عمارت کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

    سوشل میڈیا پر گردش کرتی وڈیوز میں دونوں عمارتوں سے دھوئیں کے بادل اڑتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔یوکرین کے دارالحکومت کیف میں کرفیو نافذ ہوئے 35 گھنٹے گزر چکے ہیں جبکہ گزشتہ روز شہر میں ہونے والی بمباری میں پانچ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

    یوکرینی حکام نے خبردار کیا ہے کہ یہ وقت دارالحکومت کے لیے مشکل اور خطرناک ہے۔یوکرین کے جنوبی شہروں اوڈیسا اور زپوریزیا سے بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

    برطانوی اخبار دی اکانومسٹ کے رپورٹر اولیور کیرول نے ٹویٹ کی کہ انہوں نے اوڈیسا میں بہت تیز شور سنا جیسے دفاعی نظام نے میزائل مار گرائے ہوں۔

    زپوریزیا سٹی کونسل کے سیکرٹری نے ٹیلی گرام پر لکھا کہ ایک ریلوے اسٹیشن پر دھماکا ہوا ہے۔یوکرین کے شہر ماریوپول کے میئر کا دعویٰ ہے کہ روسی فوجیوں نے 400 ڈاکٹروں اور مریضوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔

    یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روس کے ساتھ امن مذاکرات حقیقت پسند لگنے لگے ہیں مگر نتیجے پر پہنچنے کے لیے مزید وقت چاہیے۔

    روس کا مطالبہ ہے کہ یوکرین باقاعدہ اعلان کرے کہ وہ کبھی بھی نیٹو میں شامل نہیں ہوگا۔ اس کے علاوہ یوکرین ڈونیسک، لوہانسک اور کرائمیا کے صوبوں کی نیم خود مختار حیثیت بھی قبول کرے۔ روس یوکرین مذاکرات آج بھی جاری رہیں گے۔

  • روس نے کینیڈین وزیراعظم ، صدر جوبائیڈن سمیت دیگر امریکی حکام پر پابندیاں عائد کر دیں

    روس نے کینیڈین وزیراعظم ، صدر جوبائیڈن سمیت دیگر امریکی حکام پر پابندیاں عائد کر دیں

    ماسکو: یوکرین پرحملے کے بعد عالمی پابندیوں کا سامنا کرنے والے روسی حکام نے کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو اور امریکی صدر جوبائیڈن اور ان کے بیٹے سمیت دیگر اعلیٰ حکومتی عہدیداران پر جوابی پابندی عائد کردی۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے سی این این کے مطابق روس کی وزارت خارجہ نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ روس نے امریکی صدر جو بائیڈن، ان کے بیٹے، وزیر خارجہ انٹونی بلنکن، دیگر امریکی حکام اور "ان سے وابستہ افراد” کے خلاف پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

    یوکرین میں ایک اور امریکی صحافی ہلاک،برطانوی صحافی زخمی

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ ماسکو حکومت نے جسٹن ٹروڈو، جوبائیڈن اور دیگر امریکی اعلیٰ حکومتی اہلکاروں پر روس میں داخلے پر پابندی عائد کرنے کے ساتھ موجودہ اثاثے بھی منجمد کردیےروسی پابندی کے شکار ہونے والوں کی فہرست میں امریکی وزیر دفاع لیوڈ آسٹن، سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی(سی آئی اے) کے چیف ولیم برنس اور قومی سلامتی کے میشر جیک سولیون کے ساتھ ساتھ کئی محکموں کے سربراہان اور ممتاز امریکی شخصیات بھی شامل ہیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ روس کے یوکرین پر حملے کے بعد امریکا سمیت دیگر ممالک نے ماسکو حکومت پر پابندیاں عائد کیں جس کے جواب میں روسی حکومت نے مذکورہ پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔

    ماسکو حکومت کی جانب سئ جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ اس کے ساتھ ساتھ، اگر وہ ہمارے قومی مفادات کو پورا کرتے ہیں تو ہم سرکاری تعلقات برقرار رکھنے سے انکار نہیں کرتے، اور اگر ضروری ہو تو، ہم ‘بلیک لسٹ’ میں شامل افراد کی حیثیت سے پیدا ہونے والے مسائل کو حل کریں گے تاکہ اعلیٰ سطحی تنظیموں کو منظم کیا جا سکے-

    یوکرین کے دارالحکومت کیف میں 35 گھنٹے کا کرفیو نافذ

    وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری جین ساکی نے منگل کے روز اعلیٰ امریکی حکام کے خلاف روس کی حالیہ پابندیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان پابندیوں کا ان کے مطلوبہ اہداف پر زیادہ اثر نہیں پڑے گا۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس بریفنگ میں جب ان سے پابندیوں کے اثرات کے بارے میں پوچھا گیا تو جین ساکی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ "(میں) آپ میں سے کسی کو حیران نہیں کروں گی کہ ہم میں سے کوئی بھی روس کے سیاحتی سفر کا منصوبہ نہیں بنا رہا ہے، ہم میں سے کسی کے پاس ایسے بینک اکاؤنٹ نہیں ہیں جن تک ہم رسائی حاصل نہیں کر سکیں گے، اس لیے ہم آگے بڑھیں گے۔”

    روس کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں میں "ٹاپ لسٹ” میں شامل لوگوں کی فہرست یہ ہے:

    امریکہ کی یوکرین کیلئے 13 ارب 60 کروڑ ڈالر کی امداد کی منظوری

    امریکی صدر جو بائیڈن،سیکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن، وزیر دفاع لائیڈ آسٹن، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک ملی، قومی سلامتی کے مشیر جیکب سلیوان، سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنز، وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری جین ساکی،دلیپ سنگھ، بین الاقوامی اقتصادیات کے لیے بائیڈن کے قومی سلامتی کے نائب مشیر، ریاستہائے متحدہ کی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی کی منتظم سامنتھا پاور
    ،صدر بائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن، سابق وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن، ڈپٹی ٹریژری سیکرٹری والی ایڈیمو،ریٹا جو لیوس، ایکسپورٹ امپورٹ بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے صدر اور چیئرمین بھی شامل ہیں-

    روس کی جانب سے جاری کے گئے بیان میں اعلان کیا گیا ہے کہ "اعلیٰ امریکی حکام، فوجی حکام، قانون سازوں، تاجروں، ماہرین اور میڈیا کے لوگ جو روسو فوبک ہیں یا روس کے خلاف نفرت کو ہوا دینے اور پابندیوں کے اقدامات متعارف کرانے میں کردار ادا کرتے ہیں” کو شامل کر کے اس فہرست میں توسیع کے لیے مزید پابندیاں لگائی جائیں گی۔

    ماسکو حکومت نے مزید کہا کہ روسی حکومت اور اس کے بینکنگ اور دیگر ادارے ان پابندیوں کو اجتماعی طور پر نافذ کریں گے۔

    اسلاموفوبیا قرارداد منظور ہونے پر بھارت کا شدید ردعمل

  • امریکہ کی یوکرین کیلئے 13 ارب 60 کروڑ ڈالر کی امداد کی منظوری

    امریکہ کی یوکرین کیلئے 13 ارب 60 کروڑ ڈالر کی امداد کی منظوری

    امریکہ نے یوکرین کے لیے 13 ارب 60 کروڑ ڈالر کی امداد کی منظوری دے دی.

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ایجنسی کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے یوکرین کے لیے امداد کے بل پر دستخط کردئیے۔امریکی امداد یوکرینی مہاجرین اور دفاعی ضروریات کے لیے استعمال ہوگی۔

    امریکی صدر جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ ملک کے دفاع کے لیے ہم یوکرینی عوام کے ساتھ ہیں،ہم یوکرین کی ہر طرح سے مدد جاری رکھیں گے۔

    اعداد و شمار کے حوالے سے عالمی خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ شدید بمباری کی وجہ سے شہر کے تقریباً چار لاکھ افراد کے پاس نہ پینے کا صاف پانی ہے اور نہ ہی حرارت کا مناسب بندوبست ہے۔ شہریوں کو خوراک کی قلت کا بھی سامنا ہے۔

    یوکرین کے دارالحکومت کیف میں 35 گھنٹے کا کرفیو نافذ

    میڈیا رپورٹس کے مطابق شہری حکام کا کہنا ہے کہ روسی حملے کے بعد سے اب تک کل 21 سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 2 امریکی صحافی بھی شامل ہیں-

    یوکرین کے دارالحکومت کیف کے میئر نے تسلسل کے ساتھ ہونے والی روسی بمباری کے باعث شہر میں 36 گھنٹے کے کرفیو کا اعلان کردیا ہے۔

    دوسری جانب روسی افواج کے محاصرے میں موجود یوکرینی شہر ماریوپول کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تقریباً دو ہزار شہریوں کی گاڑیاں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر قائم روٹ سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئی ہیں جب کہ مزید دو ہزار گاڑیاں نکلنے کی منتظر ہیں روسی افواج کی جانب سے کیے جانے والے محاصرے کے بعد یہ پہلا کامیاب انسانی انخلا ہے۔

    یوکرین میں ایک اور امریکی صحافی ہلاک،برطانوی صحافی زخمی

  • یوکرین میں ایک اور امریکی صحافی ہلاک،برطانوی صحافی زخمی

    یوکرین میں ایک اور امریکی صحافی ہلاک،برطانوی صحافی زخمی

    کیف: یوکرین جنگ کی کوریج کرنے والا ایک امریکی صحافی جاں بحق جبکہ ایک زخمی ہو گیا-

    باغی ٹی وی : دی گارجئین کے مطابق امریکی صحافی پیئرز کرزیوسکی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے ہیں جب کہ ان کے ساتھی برطانوی صحافی بینجمن ہال شدید زخمی ہوئے ہیں جنہیں علاج معالجے کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

    گارجین کے مطابق ہلاک ہونے والے صحافی کا تعلق فاکس نیوز سے تھا جہاں وہ بحیثیت کیمرہ مین فرائض سرانجام دیتے تھے۔

    فاکس نیوز کی جانب سے جاری ہونے والی ویڈیو میں کہا گیا ہے کہ پیئر زکرز یوسکی دارالحکومت کیف کے قریب فائرنگ کی زد میں آگئے تھے۔ ویڈیو کے تحت پیئر زکرزیوسکی کے ساتھ زخمی ہونے والے صحافی بینجمن ہال کو ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

    گزشتہ برس اسرائیلی فوج نےفلسطینی صحافیوں پر260 سے زائد حملےکیے، رپورٹ

    واضح رہے کہ دو دن قبل ہی یوکرین کے دارالحکومت کیف میں ایک امریکی صحافی کو چیک پوسٹ کراس کرتے ہوئے گولیاں مار کر قتل کردیا گیا تھا جب کہ اس کا دوسرا ساتھی زخمی تھا جو علاج معالجے کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا تھا کیف کے مضافات میں یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا جہاں امریکی صحافی برینٹ ریناڈ کو گولی مار کر قتل کیا گیا تھا۔ ابتدائی طور پر بتایا گیا تھا کہ گولی گردن میں لگی تھی جو جان لیوا ثابت ہوئی تھی۔

    اسرائیل سائبرحملے سے بہت متاثرہوگیا

    دوسری جانب روسی افواج کے محاصرے میں موجود یوکرینی شہر ماریوپول کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تقریباً دو ہزار شہریوں کی گاڑیاں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر قائم روٹ سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئی ہیں جب کہ مزید دو ہزار گاڑیاں نکلنے کی منتظر ہیں روسی افواج کی جانب سے کیے جانے والے محاصرے کے بعد یہ پہلا کامیاب انسانی انخلا ہے۔

    روس نے ہم سے کوئی مدد نہیں مانگی: امریکہ پراپیگنڈے سے باز رہے :چین کی وارننگ

  • پاکستان نےیوکرین کےجنگ زدہ لوگوں کےلیے امداد بھیجنا شروع کردی

    پاکستان نےیوکرین کےجنگ زدہ لوگوں کےلیے امداد بھیجنا شروع کردی

    اسلام آباد :پاکستان نےیوکرین کےجنگ زدہ لوگوں کے لیے امداد بھیجنا شروع کردی ،اطلاعات کے مطابق پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ یوکرین کے جنگ زدہ لوگوں سے اظہار یکجہتی کے لیے امداد بھیجنی شروع کردی ہے

    رپورٹ کے مطابق وفاقی کابینہ نے یہ فیصلہ ہنگامی سرکولیشن سمری کے ذریعے کیا گیا تھا، جس میں پولینڈ میں امدادی سامان بھیجنے کے لیے 2 طیارے اور 6 کروڑ روپے مختص کرنے کا کہا گیا تھا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ امداد بھیجنے کا فیصلہ اسلام آباد میں موجود یوکرینی سفارت خانے کی درخواست پر کیا گیا تھا، انہوں نے ضروری اشیا کی فہرست کے ساتھ امداد کی درخواست کی تھی۔وزارت خارجہ نے پر زور اصرار کیا تھا کہ پاکستان کو یوکرین کی امداد کرنی چاہیے۔

    انہوں تجویز پیش کی تھی کہ نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کو چاہیے کہ یوکرینی سفارتخانے کی جانب سے درخواست میں شامل غیر فوجی اشیا کے انتظام اور ٹرانسپورٹیشن کا بندوبست کرے۔یوکرین کی انسانی امداد کی فوری ترسیل کے لیے وزارت خارجہ نے بھی وزیر اعظم کو رسمی سمری بھیجی تھی ۔جووزیراعظم نے فوری قبول کرکے دستخط کردیئے تھے

    وزیر اعظم کی ہدایت اور این ڈی ایم اے کی مشاورت سے وزارت خارجہ نے یوکرین کے لوگوں کے لیے ضرورت کے وقت یکجہتی کے پیغام کے طور پر این ڈی ایم اے کے پاس اسٹاک میں موجود امدادی اشیا فوری طور پر بھیجنے کی بھی سفارش کی۔

    امدادی سامان میں 100 خیمے، 500 کمبل، 500 سونے کے بیگ، 3.5 کے وی کے 30 جنیریٹرز، 2 ہزار 500 صابن، 995 ہینڈ واش، 25 کروڑ سینیٹائزر کے تقریباً 1990 تھیلے شامل ہیں۔یہ سامان سی 130 طیارے کے ذریعے فوری طور پر روانہ کردیا جائے گا۔

    روسی اور یوکرینی فوج کے درمیان جاری جھڑپوں کے سبب تقریباً 15 لاکھ مہاجرین پولینڈ اور پڑوسی ممالک میں پناہ لے چکے ہیں، ان میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔وزارت خارجہ نے کابینہ کو بتایا کہ پاکستان کے یوکرین کے ساتھ اچھے تعلقات رہے ہیں اور موجودہ تنزع میں اس نے اصولوں پر مبنی مؤقف اپنایا۔

    بگڑتے ہوئے حالات کے پیش نظر یوکرین نے انسانی ضروریات پوری کرنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر امداد کی عالمی اپیل کی ہے۔دو سی 130 طیاروں کے ذریعے 6 کروڑ روپے کی امدادی اشیا، ادویات اور خوراک کے علاوہ ان کی نقل و حمل کے اخراجات نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ فنڈ سے ادا کیے جائیں گے۔

    آج امدادی سامان وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے یوکرائنی سفیر کے حوالے کیا۔ پاکستان نے ہمیشہ ایک ذمہ دار اور امن پسند قوم کے طور پر تنازعات/ آفات کے دوران امداد کی بین الاقوامی کالوں کا جواب دینے کے لیے عالمی برادری کے شانہ بشانہ کام کیا ہے۔

  • روس نے ہم سے کوئی مدد نہیں مانگی: امریکہ پراپیگنڈے سے باز رہے :چین کی وارننگ

    روس نے ہم سے کوئی مدد نہیں مانگی: امریکہ پراپیگنڈے سے باز رہے :چین کی وارننگ

    بیجنگ : روس نے ہم سے کوئی مدد نہیں مانگی: امریکہ پراپیگنڈے سے باز رہے :چین کی وارننگ،اطلاعات کےمطابق چین نے منگل کو امریکہ پر ’غلط معلومات‘ پھیلا کر تنازعے کو بڑھاوا دینے کا الزام لگاتے ہوئے امریکہ کے دعوں کی تردید کی ہے کہ روس نے چین سے یوکرین میں فوجی مدد مانگی ہے۔

    لندن میں چینی سفارت خانے نے روئٹرز کو جاری ایک بیان میں کہا: ’امریکی یوکرین کے معاملے پر بار بار چین کے بارے میں بد نیتی پر مبنی غلط معلومات پھیلاتا آیا ہے۔‘ بیان میں کہا گیا:

    چین امن مذاکرات کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔‘ ’اب ترجیح صورت حال کو بہتر کرنا ہے اور سفارتی حل تلاش کرنا ہے، جلتی پہ تیل چھڑکنے اور صورت حال کو مزید کشیدہ کرنا نہیں۔‘

    یاد رہے کہ اس سے قبل امریکہ نے کہا تھا کہ روس کی مدد کرنا چین کو مہنگا پڑے گا۔امریکہ امریکی صدر جو بائیڈن کے مشیر قومی سلامتی جیک سلیوان نے پیر کو ایک اعلیٰ چینی عہدیدار کو یوکرین حملے میں روس کی مدد کرنے سے خبردار کیا ہے۔

    امریکی میڈیا میں خبریں گردش کر رہی ہیں روس نے چین سے فوجی مدد مانگی ہے، تاہم ماسکو نے ان خبروں کی تردید کی ہے۔ خبررساں ادارے اے پی کے مطابق امریکی مشیر جیک سلیوان اور چین کی خارجہ پالیسی کے سینیئر مشیر یانگ جیچی کے درمیان پیر کو روم میں ملاقات ہوئی جس میں امریکہ نے چین کو روس کی مدد کرنے سے خبردار کیا۔

    بائیڈن انتظامیہ کی اس بات پر تشویش بڑھ رہی ہے کہ چین یوکرین جنگ کو واشنگٹن کے مقابلے کی اپنی پالیسی کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن نے چینی مؤقف پر وضاحت مانگی اور چین کو خبردار کیا کہ روس کے لیے امداد بشمول امریکہ اور مغربی اتحادیوں کی جانب سے عائد پابندیوں کو روکنے میں مدد کرنا ان کو مہنگا پڑے گا۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جین ساکی نے اس ملاقات کے حوالے سے بیان میں کہا کہ جیک سلیوان نے سات گھنٹے کی ایک ’کڑی‘ ملاقات کے دوران واضح کیا کہ بائیڈن انتظامیہ کو اس وقت روس کے ساتھ چین کی صف بندی کے متعلق گہرے خدشات ہیں۔

  • یورپی یونین نے یوکرینی پناہ گزینوں کیلئے دروازے کھول دئیے

    یورپی یونین نے یوکرینی پناہ گزینوں کیلئے دروازے کھول دئیے

    یوکرینی پناہ گزین کے لیے ایک برس تک یورپی یونین میں رہنے کا بل منظور کر لیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : یورپین یونین نے یوکرین سے نکلنے والے مہاجرین کیلئے فوری تحفظ کا بل منظور کر لیا، بل کے تحت یوکرین کے شہری یورپین یونین کے کسی بھی ممبر ملک میں ایک سال تک رہ سکیں گے۔

    بل میں واضح کیا گیا ہے کہ صرف یوکرینی مہاجرین ہی یورپین یونین میں رہ سکتےہیں دوسرے ملکوں میں موجود یوکرین کے عارضی شہریوں کی 15 دن کے بعد قانونی حیثیت ختم ہوجائے گی۔

    یوکرین جنگ: روس نے چین سے فوجی مدد مانگ لی ،امریکا کا دعوٰی

    دوسری جانب امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان سے چینی سفارت کار یانگ جیچی کی ملاقات ہوئی ہے، 7گھنٹے کی ملاقات میں یوکرین جنگ، چین روس اتحاد پر گفتگو ہوئی-

    امریکہ نے کہا ہے کہ اس نے چین کو خبردار کر دیا ہے کہ کوئی بھی ملک پابندیوں کی زد میں موجود روس کو بچا نہیں پائے گا امریکی مشیرِ قومی سلامتی جیک سلیوان نے کہا کہ اُنھوں نے بیجنگ سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔

    جبکہ روسی صدارتی محل کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے پیر کے روز کہا تھا کہ روسی فوج کا آبادی کے بڑے مراکز کو مکمل کنٹرول میں لینے کا امکان ہے جبکہ روسی فوج یوکرین کے کچھ شہروں کا پہلے ہی محاصرہ کر چکی ہے صدر پیوٹن نے بڑے شہروں پرزیادہ انسانی نقصان کے خدشے کے باعث کسی بھی فوری حملے کو روکنے کے احکامات دیے ہیں تاہم وزارت دفاع بڑے شہروں کو اپنے مکمل کنٹرول میں رکھنے کے امکان کو رد نہیں کرتی۔

    یوکرین میں روسی فوج کی فائرنگ سے امریکی صحافی ہلاک، دوسرا زخمی

    انہوں نے مزید کہا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ امریکا اور یورپی یونین کے رہنما روس کو یوکرین کے بڑے شہروں پر حملہ کرنے پر مجبور کر رہے ہیں تاکہ ہمارے ملک کو شہریوں کی موت کا ذمہ دار ٹھہرایا جا سکے روسی لیڈرشپ کے تمام منصوبے وقت پر اور مکمل طور پر پورے ہوں گے تاہم انہوں نے اس بعد کی نفی کی کہ روس نے چین سے عسکری ساز و سامان کی مدد مانگی ہے۔

    انہوں نے کہا تھا کہ روس کے پاس آپریشن جاری رکھنے کی اپنی خود مختار صلاحیت ہے، یوکرین میں آپریشن منصوبہ بندی کے مطابق چل رہا ہے جو وقت پر مکمل طور پر پورا کیا جائے گا۔

    تاہم امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ اُن کا ملک یوکرین کو اسلحہ، خوراک اور دولت فراہم کرتا رہے گا۔ ٹوئٹ میں امریکی صدر نے لکھا کہ امریکہ روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں ٹن انسانی امداد فراہم کر رہا ہے۔ یوکرینی پناہ گزینوں کو امریکا کھلی بانہوں سے خوش آمدید کہے گا۔

    یوکرین تنازع: ایلون مسک کا روسی صدر کو فائٹ کا چیلنج

  • یوکرین تنازع:برطانیہ کا100 سےزائد روسی تاجروں کے اثاثے منجمد کرنے اور روسی مصنوعات پرمزید پابندیاں لگانے کا فیصلہ

    یوکرین تنازع:برطانیہ کا100 سےزائد روسی تاجروں کے اثاثے منجمد کرنے اور روسی مصنوعات پرمزید پابندیاں لگانے کا فیصلہ

    برطانیہ نے بڑے پیمانے پر نئی پابندیوں کی مہم میں روسی ووڈکا، فر اور دیگر اشیا پر 5 بلین پاؤنڈ مالیت کے ٹیرف لگانے کے ساتھ ساتھ 100 سے زائد روسی تاجروں اور پیوٹن کے ساتھیوں کے اثاثے منجمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی : ” ڈیلی میل” کے مطابق برطانیہ میں پیش کئے جانے والے”ڈرٹی منی” بل کی منظوری کے بعد سیکڑوں روسی تاجر، تنظیمیں اور افراد حکومت کی جانب سے پابندیوں کا نشانہ بننے والے ہیں۔

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں ریکارڈ کمی

    پابندیوں کے نتیجے میں ان لوگوں کے اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے جنہیں ہدف بنایا گیا ہے کیونکہ حکومت ووڈکا اور کیویار سمیت متعدد روسی اشیا پر محصولات عائد کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

    دولت مند افراد پر برطانیہ کی پابندیوں کے نفاذ کی سُست رفتاری پر حکومت کو تنقید اور دباؤ کا سامنا تھا، اس سوال کے ساتھ کہ امریکہ اور یورپی یونین زیادہ تیزی سے آگے بڑھنے میں کامیاب کیوں ہوئے ہیں۔

    نتیجے کے طور پر، یوکرین کے حملے پر روسی تاجروں کو نشانہ بنانے کے لیے اور کالے دھن سے نمٹنے کے لیے نئے قوانین پارلیمنٹ کے ذریعے تیزی سے بنائے گئے۔

    اقتصادی جرائم (شفافیت اور نفاذ) ایکٹ کے لیے شاہی منظوری دی گئی کیونکہ ارکان پارلیمنٹ کا ایوان میں رات گئے تک اجلاس جاری رہا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ اس حوالے سے کئے جانے والے اقدامات قانون بن گئے ہیں۔

    یوکرین کے خلاف روس کی جارحیت کے جواب میں برطانیہ کی حکومت سے اب مزید پابندیوں کا اعلان متوقع ہے۔

    حکومت بیرون ملک مقیم اداروں کا ایک نیا رجسٹریشن سسٹم قائم کرنے کے لیے تیار ہے جس میں برطانیہ میں جائیداد رکھنے والے غیر ملکی مالکان کو اپنی حقیقی شناخت کا اعلان کرنا ہوگا۔

    یوکرین جنگ: روس نے چین سے فوجی مدد مانگ لی ،امریکا کا دعوٰی

    نئے بل کے مطابق رجسٹریشن کو ہر سال اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہوگی اور تفصیلات مہیا کرنے میں ناکامی، یا غلط معلومات جمع کرانے کی سزا کے نتیجے میں اثاثے منجمد ہو جائیں گے جس کے بعد نہ ہی فروخت کیا جا سکےگا نہ کرائے پر دیا جاسکے گا-

    پارلیمنٹ کے ذریعے ایکٹ کی منظوری کو لارڈز میں وزراء کی طرف سے متعدد مراعات سے مدد ملی، بشمول حکومت نے اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے جائیداد کی رجسٹریشن کی غیر ملکی ملکیت سے چھوٹ کو ختم کرنے کے مطالبے پر اتفاق کیا جس کا مقصد غیر قانونی منی لانڈرنگ کا مقابلہ کرنا ہے۔

    وزراء نے ایکٹ میں اقدامات کو تیزی سے نافذ کرنے اور چھ ہفتوں کے اندر پیشرفت کے بارے میں پارلیمنٹ کو اپ ڈیٹ دینے کا بھی عہد کیا۔

    انتظامیہ نے اگلے پارلیمانی اجلاس کے اوائل میں معاشی جرائم سے نمٹنے کے لیے مزید قانون سازی کرنے اور پیش کی جانے والی ترامیم پرغور کرنے کا وعدہ کیا۔

    نئی رجسٹریشن کی تعمیل کرنے کے لیے دیئے جانے والے وقت کے بارے میں خدشات کے باوجود یہ قانون لارڈز کے ذریعے بغیر ووٹ کے نافذ‌ کیا گیا، جس میں برطانیہ میں جائیداد کے غیر ملکی مالکان کو اپنی حقیقی شناخت درج کروانا لازمی ہے-

    یوکرین تنازع: ایلون مسک کا روسی صدر کو فائٹ کا چیلنج

    حکومت نے رعایتی مدت کو 18 ماہ سے گھٹا کر چھ ماہ کر دیا تھا، لیکن ناقدین کا کہنا تھا کہ یہ ابھی بھی بہت طویل ہے اور اسے مزید کم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔

    تاہم، کاروباری وزیر لارڈ کالانن نے دلیل دی کہ عبوری مدت کو روکنے سے رجسٹریشن کو قانونی چیلنج کے لیے کھولنے کا خطرہ ہے اور اس کے بجائے نئے ضوابط لانے سے قبل بڑھتے ہوئے اثاثوں کو روکنے کے لیے ایک نئی افشاء کی ضرورت کی تجویز پیش کی۔

    یہ اس سال 28 فروری سے کسی بھی غیر ملکی ادارے کو کسی بھی جائیداد کو تصرف کرنے پر مجبور کرے گا کہ وہ اپنی ملکیت کے بارے میں معلومات فراہم کرے۔

    یہ بل، جو حکومت کے لیے پابندیاں لگانا آسان بنا دے گا، یوکرین پر حملے پر روسی تاجروں کو نشانہ بنانے کے لیے قانون میں تیزی سے شامل کیا گیا۔

    خارجہ سکریٹری لز ٹرس سے توقع ہے کہ روس سے روابط رکھنے والے سینکڑوں افراد اور تنظیموں کے نام شامل کیے جائیں گے جنہیں برطانیہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا جائے گا۔

    پیوٹن کے یوکرین پر حملے کے بعد سے، برطانیہ نے پہلے ہی روس سے تعلقات رکھنے والے متعدد سرکردہ افراد اور اداروں کو نشانہ بنایا ہے، جن میں چیلسی ایف سی کے مالک رومن ابرامووچ بھی شامل ہیں۔

    روس نے انسٹاگرام تک رسائی کو محدود کر دیا

    رپورٹ کے مطابق، حکومت سے توقع ہے کہ وہ روسی ووڈکا، فر اور دیگر اشیا پر بڑے پیمانے پر پابندیوں کی مہم کے طور پر 5 بلین ٹیرف لگائے گی۔

    آج سے، روسی ووڈکا بشمول روسی اسٹینڈرڈ جیسے مقبول برانڈز پر ملک کے خلاف جاری اقتصادی پابندیوں کے طور پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔

    دیگر روسی لگژری اشیا جیسے کیویار اور ہیروں پر بھی پابندی ہوگی۔

    رپورٹ کے مطابق، برطانیہ یورپی یونین اور جی 7 ممالک کے ساتھ مل کر کریملن پر قبضہ کرنے کے لیے روس کو سپر کاروں، سگاروں اور دیگر لگژری سامان کی فروخت پر محصولات عائد کرے گا۔

    گزشتہ ہفتے انہیں تنقید کا سامنا کرنے کے بعد، حکومت نے ‘ڈرٹی منی’ بل کو مضبوط کرنے کے لیے اس میں کئی ترامیم کی تجویز پیش کی۔

    ان میں حکومت نے اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے ‘برطانیہ کی معاشی بہبود’ کی بنیاد پر کسی فرد کو غیر ملکی ملکیتی جائیداد کی رجسٹر یشن کی شرائط سے مستثنیٰ کرنے کی وزراء کی اہلیت کو ہٹانے کے مطالبے پر اتفاق کرنا بھی شامل ہے۔

    یوکرینی فوج کا 4 روسی طیارے اور 3 ہیلی کاپٹرز کو مارگرانے کا دعوٰی

    یہ اس وقت سامنے آیا ہے جب لز ٹرس نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ برطانیہ نے یورپی یونین کے مطابق روسی ڈوما کے 450 ارکان میں سے 400 پر پابندیاں عائد کر دی ہیں جنہوں نے پیوٹن کے حملے کی حمایت کی تھی۔

    منظور شدہ تمام افراد پر برطانیہ کے سفر پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور وہ برطانیہ میں موجود کسی بھی اثاثے تک رسائی حاصل نہیں کر سکیں گے انہیں برطانیہ میں کاروبار کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے۔

    جن افراد کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے ان میں روسی تاجر میخائل فریڈمین اور پیٹر ایون شامل ہیں، جو اس کمپنی کے پیچھے ہیں جو ہالینڈ اینڈ بیرٹ کی مالک ہیں اور جنہوں نے بین الاقوامی سطح پر منظوری ملنے کے بعد اس کے مشاورتی بورڈ سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق، سینئر روسی حکام اور فوجی کمانڈرز بشمول پیوٹن کے ترجمان دمتری پیسکوف کو بھی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    یوکرین کے مفتی اعظم بھی فوجی وردی پہن کر روس سے لڑنے کیلئے میدان جنگ میں آگئے

  • یوکرین جنگ: روس نے چین سے فوجی مدد مانگ لی ،امریکا کا دعوٰی

    یوکرین جنگ: روس نے چین سے فوجی مدد مانگ لی ،امریکا کا دعوٰی

    واشنگٹن: امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ روس نے یوکرین کے خلاف جنگ کیلئے چین سے ہتھیار مانگے ہیں۔

    باغی ٹی وی :عرب نیوز کے مطابق وائٹ ہاؤس کے مشیر قومی سلامتی جیک سلیوان نے چین کو وارننگ دی ہے کہ وہ روس کی عالمی پابندیوں سے بچنے میں مدد کرنا بند کرے، امریکہ اس چیز کو بالکل برداشت نہیں کرے گا۔

    روس کا امریکا پر یوکرین میں حیاتیاتی ہتھیار بنانے کا الزام

    جوبائیڈن انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حالیہ دنوں میں روس نے چین سے مدد مانگی ہے، یہ مدد فوجی آلات کی شکل میں طلب کی گئی ہے۔

    جوبائیڈن انتظامیہ نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ چین جھوٹی خبریں پھیلانے میں روس کی مدد کر رہا ہے۔

    واضح رہے کہ یہ الزام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی اور چینی حکام روم میں ملاقات کرنے جا رہے ہیں۔

    یوکرین تنازع: ایلون مسک کا روسی صدر کو فائٹ کا چیلنج

    قبل ازیں روس نےامریکا پر یوکرین میں حیاتیاتی ہتھیار بنانے کا الزام لگایا تھا روسی وزارت خارجہ ماریہ زخارووا نے دعویٰ کیا تھا کہ دستاویزی ثبوت ہیں کہ امریکہ یوکرین میں حیاتیاتی ہتھیار بنارہا ہے-

    ترجمان روسی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ ماسکو زیلنسکی کا تختہ الٹنے کے لیے یہ کام نہیں کر رہا،امریکہ عالمی برادری کے سامنے یوکرین میں اپنے اس پروگرام کی وضاحت دینے کا پابند ہے

    دوسری جانب امریکہ نے روس کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ روس کی جانب سے لگائے گئے یہ الزامات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ماسکو جلد ہی یہ ہتھیار یوکرین میں استعمال کر سکتا ہے۔

  • یوکرین تنازع: ایلون مسک کا روسی صدر کو فائٹ کا چیلنج

    یوکرین تنازع: ایلون مسک کا روسی صدر کو فائٹ کا چیلنج

    یوکرین تنازع: دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کو یوکرین کے معاملے پر ون ٹو ون فائٹ کا چیلنج دے دیا۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایلون مسک نے روسی صدر کو چیلنج دیتے ہوئے لکھا کہ میں ولادیمیر پیوٹن کو لڑائی کا چیلنج کرتا ہوں اور داؤ پر یوکرین ہوگا ۔

    یو کرین کی اپیل پرایلون مسک کی جانب سے مدد

    ٹوئٹ میں ایلون مسک نے ٹوئٹ میں ولادیمیر پیوٹن اور یوکرین کا نام روسی زبان میں تحریر کیا ایک اور ٹوئٹ میں ایلون مسک نے پورا پیغام روسی زبان میں تحریر کیا۔


    اس پیغام میں انہوں نے لکھا کیا آپ فائٹ کے لیے متفق ہیں؟ ٹوئٹ میں ایلون مسک نے روسی صدارتی محل کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ کو بھی ٹیگ کیا۔

    ایلون مسک کی ٹوئٹ پر ایک صارف نے کہا کہ روسی صدر آسانی سے فائٹ جیت جائیں گے تو انہوں نے ایک اور پوسٹ کی۔

    ان کا کہنا تھا ‘اگر پیوٹن آسانی سے مغرب کو شکست دے سکتے ہیں تو پھر انہیں چیلنج قبول کرنا چاہیے، مگر وہ نہیں کریں گے’۔

    خیال رہے کہ ایلون مسک یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ پر ٹوئٹر اور اپنی کمپنیوں کے ذریعے کافی متحرک کردار ادا کررہے ہیں انہوں نے یوکرین کو اسٹار لنک اسپیس انٹرنیٹ آلات بھی فراہم کیے تھے تاکہ جنگ کے دوران انٹرنیٹ سروسز کو بحال رکھا جاسکے۔

    وکرینی فوج کا 4 روسی طیارے اور 3 ہیلی کاپٹرز کو مارگرانے کا دعوٰی