Baaghi TV

Tag: روس

  • روس نے انسٹاگرام  تک رسائی کو محدود کر دیا

    روس نے انسٹاگرام تک رسائی کو محدود کر دیا

    ماسکو: روس نے اپنے ملک میں میٹا کی زیرملکیت فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام تک رسائی کو محدود کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ٹیکنالوجی کی ویب سائٹ کے مطابق یہ روسی حکومت کی جانب سے یوکرین پر حملے کے بعد سے غیرملکی ٹیک پلیٹ فارمز پر پابندیوں میں نیا اضافہ ہے روس کی جانب سے انسٹاگرام پر پابندی کی وجہ میٹا کی جانب سے نفرت انگیز مواد کے حوالے سے پالیسی میں تبدیلی کو قرار دیا ہے۔

    ہم نے پابندیاں لگائیں تو مغرب کو مشکلات اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑے گا،روس کا…

    روسی حکومت کی جانب سے انسٹاگرام پر پابندی کے حوالے سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ریاستی انٹرنیٹ ریگولیٹر روسکومناڈزور کی جانب سے میٹا کی زیرملکیت فوٹو شیئرنگ ایپ تک رسائی کو محدود کی جائے گی اس پلیٹ فارم پر شائع مواد میں روسی شہریوں بشمول فوجیوں کے خلاف پرتشدد اقدامات کے لیے اکسانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

    بیان کے مطابق پراسیکیوٹر جنرلز آف رشین فیڈریشن کی شرائط کے تحت روس کے انر انسٹاگرام تک رسائی کو محدود کیا جارہا ہے تاہم ابھی تک روس میں انسٹاگرام تک رسائی موجود ہے مگر بتدریج تمام موبائل آپریٹرز اور انٹرنیٹ پرووائڈرز کی جانب سے اسے بلاک کردیا جائے گا۔

    فیس بک اور ٹوئٹر کو پہلے ہی روس کے اندر پابندیوں کا سامنا ہے مگر انسٹاگرام جو وہاں بہت زیادہ مقبول ہے، کو اب تک پابندیوں کا ہدف نہیں بنایا گیا تھا ایک اندازے کے مطابق روس میں انسٹاگرام کے 6 کروڑ صارفین ہیں۔

    روس سے تیل کی درآمد پر پابندی :امریکی ایوان میں بھاری اکثریت سے منظور

    اس سے قبل 25 فروری کو روس کے اندر فیس بک تک رسائی پر جزوی پابندی لگائی گئی تھی اور یہ اقدام اس وقت کیا گیا جب سوشل میڈیا نیٹ ورک نے روسی ریاستی خبررساں اداروں کی رسائی کو محدود کردیا تھا۔

    ٹوئٹر نے بھی تصدیق کی کہ روس میں اس کے صارفین کو سروس تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے، جس کے بعد وہ کمپنی نے توراونین سروس کو متعارف کرایا تھا تاکہ ہر ایک ریاستی نگرانی کو بائی پاس کرکے نیٹ ورک تک رسائی حاصل کرسکے۔

    اب روس کی جانب سے انسٹاگرام کے خلاف کارروائی اس وقت کی گئی جب میٹا نے پالیسی میں تبدیلی کی گئی۔

    ٹک ٹاک نے بھی روس میں اپنی سروس معطل کر دی

    کمپنی نے سیاسی تقریر کے لیے اپنے قوانین میں عارضی طور پر نرمی کی ہے، قوانین میں نرمی کے بعد "روسی حملہ آوروں کی موت جیسی پوسٹس کی اجازت دی گئی ہے جبکہ روسی شہریوں کے خلاف پرتشدد مطالبوں کی اجازت نہیں دی گئی۔

    میٹا کا کہنا ہے کہ عارضی تبدیلی کا مقصد سیاسی اظہار کی ایسے پہلوؤں کی اجازت دینا ہے جو عام طور پر اس کے قوانین کی خلاف ورزی تصور ہوتے ہیں ابھی یہ واضح نہیں کہ میٹا کی زیرملکیٹ واٹس ایپ کو بھی اس طرح کی پابندیوں کا سامنا ہوگا یا نہیں۔

    پابندیوں کے ساتھ ساتھ فیس بک کی جانب سے پالیسی تبدیل کیے جانے پر روسی حکومت نے سخت رد عمل دیتے ہوئے اس کی مالک کمپنی ’میٹا‘ کے خلاف مجرمانہ مقدمات کے تحت تفتیش شروع کی تھی روسی حکومت نے اپنے ملک کی عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے دنیا کی سب سے بڑی سوشل ویب سائٹ کی مالک کمپنی کو ’انتہاپسند تنظیم‘ قرار دینے کی درخواست کی تھی۔

    یوکرین جنگ: میک ڈونلڈز، کوکا کولا اور سٹاربکس نے روس میں کاروبای سرگرمیاں معطل کر دیں

  • یوکرینی فوج کا 4 روسی طیارے اور 3 ہیلی کاپٹرز کو مارگرانے کا دعوٰی

    یوکرینی فوج کا 4 روسی طیارے اور 3 ہیلی کاپٹرز کو مارگرانے کا دعوٰی

    کیف: یوکرین کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے گزشتہ 24 گھنٹے میں 4 روسی طیاروں اور 3 ہیلی کاپٹرز کو مار گرایا ہے-

    باغی ٹی وی : اسکائی نیوز کے مطابق یوکرین کی فوج نے سوشل میڈیا پر اپنی تازہ پوسٹ میں روسی فوج کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے یوکرینی فوج نے یہ کارروائیاں روس کی جانب سے یوکرین میں فوجی اڈے پر حملے میں 35 اہلکاروں کی ہلاکت اور تقریباً 150 اہلکاروں کے زخمی ہونے کے جواب میں کی گئیں۔

    یوکرینی فوج نے دعویٰ کیا کہ روس کے کئی اڈوں، گوداموں اور اسلحہ ڈپو کو تباہ کردیا گیا جب کہ 24 گھنٹوں میں 4 روسی طیارے، 3 ہیلی کاپٹرز اور متعدد ڈرونز کو مار گرایا-

    یوکرینی فوج نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ روسی فوج ان کارروائیوں کے باعث دفاعی پوزیشن پر چلی گئی اور 24 گھنٹوں میں روس کو کوئی ایک بھی کامیابی نہیں مل سکی تاہم روس نے یوکرین کے اس دعوے پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

    روسی فوج کے ترجمان نے مزید کہا کہ روس نے کئی عمارتوں اور انفرا اسٹرکچرز کو فوجی گودام کے طور پر استعمال کر رہا ہے جنہیں ہم نے تازہ کارروائی میں تباہ کرکے شہریوں کو بڑے نقصان سے بچالیا۔

    یوکرین روس جنگ:ماریوپول میں 16 سو ہلاکتوں کا دعویٰ:روسی پیشقدمی جاری:نیٹوپرخوف…

    یاد رہے کہ روس کے یوکرین پر حملے کو 19 دن ہوگئے ہیں اور اس دوران دونوں جانب سے مالی اور جانی نقصانات سے متعلق متضاد دعوے کئے جا رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ یوکرین کے مفتی اعظم سعید اسماگیلوو اپنے وطن کے دفاع میں روس سے جنگ لڑنے کے لیے فوج میں شامل ہوگئے ہیں یوکرین کے مفتی اعظم نے صدر ولودو میر زیلنسکی کے عوام سے ملک چھوڑنے کے بجائے روس کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے ہر ایک شہری کو باہر نکلنے کے مطالبے کو قبول کرتے ہوئے فوجی وردی پہن کر یوکرینی فوج کا حصہ بن گئے-

    عالم دین سعید اسماگیلوو نے مسلمان شہریوں سے بھی درخواست کی کہ اپنی سرزمین کی دفاع کے لیے باہر نکلیں اور فوج کے ہاتھ مضبوط کریں روسی جارحیت کا جواب دینا ہم سب پر لازم ہے۔

    "توہاڈے منہ تےتوہاڈیاں ہی چپیٹاں:روس نے مغربی ممالک کووارننگ دے دی

  • یوکرین کے مفتی اعظم بھی فوجی وردی پہن کر روس سے لڑنے کیلئے میدان جنگ میں آگئے

    یوکرین کے مفتی اعظم بھی فوجی وردی پہن کر روس سے لڑنے کیلئے میدان جنگ میں آگئے

    کیف: یوکرین کے مفتی اعظم سعید اسماگیلوو اپنے وطن کے دفاع میں روس سے جنگ لڑنے کے لیے فوج میں شامل ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یوکرین کے مفتی اعظم نے صدر ولودو میر زیلنسکی کے عوام سے ملک چھوڑنے کے بجائے روس کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے ہر ایک شہری کو باہر نکلنے کے مطالبے کو قبول کرتے ہوئے فوجی وردی پہن کر یوکرینی فوج کا حصہ بن گئے-

    یوکرین روس جنگ:پولینڈ سرحد کےقریب يوکرينی فوجی اڈے پرروسی فضائی…

    عالم دین سعید اسماگیلوو نے مسلمان شہریوں سے بھی درخواست کی کہ اپنی سرزمین کی دفاع کے لیے باہر نکلیں اور فوج کے ہاتھ مضبوط کریں۔ روسی جارحیت کا جواب دینا ہم سب پر لازم ہے۔

    یوکرین کے مفتی اعظم نے روسی صدر پوٹن کے جنگ کے فیصلے کی منظوری دینے والے مسلم مذہبی رہنماؤں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایسا کرنے والوں نے ہماری ماؤں، بہنوں اور بچوں کے قتل کی منظوری دی۔

    یوکرین روس جنگ:ماریوپول میں 16 سو ہلاکتوں کا دعویٰ:روسی پیشقدمی جاری:نیٹوپرخوف…

    واضح رہے کہ گزشتہ روز نیٹو نے اعلان کیا تھا کہ وہ 14 مارچ بروز پیر کو شمالی یورپ کے ملک ناروے میں مشقوں کے لیے 30 ہزار فوجی بھیج رہا ہے۔اِن نیٹو فوجی مشقوں کی خاص بات یہ ہے کہ یہ روس کی سرحد سے چند سو کلومیٹر کے فاصلے پر کی جائیں گی۔

    نیٹو کی اِن عسکری مشقوں کو کولڈ رسپانس 2022ء کا نام دیا گیا ہے مشقوں میں 27 ممالک کے تقریباً 30 ہزار فوجی، 200 طیارے اور 50 بحری جہازوں کی شرکت متوقع ہے۔ یہ اس سال نیٹو دستوں کی سب سے بڑی مشقیں ہیں۔

    امریکہ کے بعد روس نے بھی مشرق وسطی سےاپنے حامی جنگجووں کویوکرین پہنچنے کی ہدایت…

  • یوکرین روس جنگ:پولینڈ سرحد کےقریب يوکرينی فوجی اڈے پرروسی فضائی حملہ:نیٹووالےسرجوڑکربیٹھ گئے

    یوکرین روس جنگ:پولینڈ سرحد کےقریب يوکرينی فوجی اڈے پرروسی فضائی حملہ:نیٹووالےسرجوڑکربیٹھ گئے

    پریس : یوکرین روس جنگ:پولینڈ سرحد کے قریب يوکرينی فوجی اڈے پر روسی فضائی حملہ:نیٹووالے سرجوڑکربیٹھ گئے،اطلاعات کے مطابق روس نے مغربی يوکرين ميں پولينڈ کے سرحد کے پاس واقع ياوريو کے ايئر بيس پر آج فضائی حملے کيے ہیں۔ مبینہ طور پر علاقے سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے ہیں۔

    مقامی ذرائع کے مطابق عسکری اڈے پر کُل آٹھ ميزائل داغے گئے ہیں تاہم فی الحال اس حملے ميں جانی و مالی نقصان کی تفصيلات واضح نہيں ہو سکیں۔ياوريو پولينڈ کی سرحد سے صرف 25 کلوميٹر کے فاصلے پر ہے اور يہ وہی فوجی اڈا ہے جہاں يوکرينی فوج نيٹو کے ہمراہ مشترکہ جنگی مشقيں کرتی رہی ہے۔

    اب تک اکثريتی روسی حملے يوکرين کے وسط اور مشرق کی جانب کيے جاتے رہے ہيں اور يہ پہلا روسی حملہ ہے جو يوکرين ميں مغربی سرحد اور يورپی يونين کے رکن ملک پولينڈ کے پاس کيا گيا۔اِس روسی حملے کے خلاف ابھی تک يورپی يونين اور پولينڈ کا رد عمل سامنے نہيں آيا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز نیٹو نے اعلان کیا تھا کہ وہ 14 مارچ بروز پیر کو شمالی یورپ کے ملک ناروے میں مشقوں کے لیے 30 ہزار فوجی بھیج رہا ہے۔اِن نیٹو فوجی مشقوں کی خاص بات یہ ہے کہ یہ روس کی سرحد سے چند سو کلومیٹر کے فاصلے پر کی جائیں گی۔

    نیٹو کی اِن عسکری مشقوں کو کولڈ رسپانس 2022ء کا نام دیا گیا ہے۔ مشقوں میں 27 ممالک کے تقریباً 30 ہزار فوجی، 200 طیارے اور 50 بحری جہازوں کی شرکت متوقع ہے۔ یہ اس سال نیٹو دستوں کی سب سے بڑی مشقیں ہیں۔

    دوسری جانب یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے تصدیق کی ہے کہ اس جنگ میں اب تک 1300 یوکرینی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

  • یوکرین روس جنگ:ماریوپول میں 16 سو ہلاکتوں کا دعویٰ:روسی پیشقدمی جاری:نیٹوپرخوف طاری

    یوکرین روس جنگ:ماریوپول میں 16 سو ہلاکتوں کا دعویٰ:روسی پیشقدمی جاری:نیٹوپرخوف طاری

    خارکیف:یوکرین روس جنگ:ماریوپول میں 16 سو ہلاکتوں کا دعویٰ:روسی پیشقدمی جاری:نیٹوپرخوف طاری ،اطلاعات کے مطابق یوکرین جنگ 18 ویں دن میں داخل ہو چکی ہے۔ یوکرین نے ماریوپول شہر میں 16 سو کے قریب شہری ہلاکتوں کا دعویٰ کیا ہے۔

    یوکرین کے وزیر خارجہ دیمترو کولیبا نے کہا ہے کہ ماریوپول پر 12 دنوں میں روسی فوج کے حملوں میں 1582 شہری جان سے جا چکے ہیں۔

    اُنہوں نے ٹویٹ کیا کہ روسی فوج کے مختلف یونٹ نے شہر کو گھیرے میں لے رکھا ہے اور وہاں بمباری بھی جاری ہے۔ محصور شہر ماریوپول اس وقت کرہ ارض پر بدترین انسانی تباہی کا سامنا کر رہا ہے۔ 12 دنوں میں 1582 افراد ہلاک ہوئے ہیں جنہیں اجتماعی قبروں میں دفن کیا گیا ہے۔

    وزیر خارجہ دیمترو کولیبا نے روسی فوج پر شہر میں انسانی امداد کو روکنے کا الزام بھی عائد کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ روس کی افواج کو روکنے کے لیے لڑاکا طیاروں کی ضرورت ہے۔

    یوکرین کے حکام کی جانب سے یہ بھی اعلان کیا گیا ہے کہ روس نے دارالحکومت کیف کے قریب واسلکیو میں فوجی ایئر بیس کے علاقے پر کم از کم 6 میزائل داغے ہیں۔اِس حملے کے نتیجے میں ایک آئل ڈپو اور گولہ بارود کے ڈپو تباہ ہوگئے۔

    یوکرینی نائب وزیراعظم ارینا ویریشوک نے بتایا ہے کہ کیف، سومی، ماریوپول اور پولوگی کے شہروں میں شہریوں کے انخلا کے لیے راہداریاں کھول دی گئی ہیں۔

    نائب وزیراعظم ویریشوک نے واضح کیا کہ اگرچہ روسی فوجیوں نے گزشتہ روز انخلا کی راہداریوں کو بند کر دیا تھا لیکن انردوگر، بوچا، گوستومیل اور کوزاروچی نامی شہروں سے 7 ہزار 144 شہریوں کو نکال لیا گیا ہے۔

    یوکرینی نائب وزیراعظم نے مزید بتایا کہ گزشتہ روز محفوظ راستوں کی مدد سے تقریباً 13 ہزار شہریوں کو نکالا گیا ہے جبکہ جمعہ کے روز اس سے دگنی تعداد میں لوگوں کا انخلا ہوا تھا۔

    اس سے قبل روس نے یوکرینی افواج پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے جان بوجھ کر ماریوپول میں شہریوں کو بطور ڈھال روک رکھا ہے۔روسی وزارت دفاع نے یہ بھی بتایا ہے کہ یوکرین میں کُل 3 ہزار 346 فوجی تنصیبات کو تباہ کیا گیا ہے۔

    روسی وزارت دفاع کے ترجمان ایگور کوناشینکوف نے کہا کہ روسی مسلح افواج اور دونباس میں علیحدگی پسند انتظامیہ یوکرین میں پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

  • "توہاڈے منہ تےتوہاڈیاں ہی چپیٹاں:روس نے مغربی ممالک کووارننگ دے دی

    "توہاڈے منہ تےتوہاڈیاں ہی چپیٹاں:روس نے مغربی ممالک کووارننگ دے دی

    ماسکو: "ایناں دے منہ تے ایناں دیاں ہی چپیٹاں:روس نے مغربی ممالک کووارننگ دے دی ا،طلاعات کے مطابق روسی وزیر دفاع سرگئی شوئیگو کا کہنا ہے کہ روس مغربی ممالک کا ضبط کیا گیا اسلحہ یوکرینی باغیوں کو فراہم کرے گا۔

    غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق روس کے وزیر دفاع سرگئی شوئیگو نے تجویز پیش کی ہے کہ روس کو حال ہی میں یوکرین سے الگ ہونے والی جمہوریہ دونیسک اور لوگانسک میں اپنے اتحادیوں کو یوکرین کی مسلح افواج سے حاصل کیے گئے ہتھیاروں سے مسلح کرنا چاہیے۔

    روسی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ہم نے یوکرینی ہتھیاروں کی کافی مقدار جمع کی ہے جس میں ٹینک، بکتر بند گاڑیاں، ہر قسم کے چھوٹے ہتھیار اور بڑی مقدار میں توپ خانے شامل ہیں۔

    ان کا کہنا تھا ہمارے پاس بہت سے جیولن اور اسٹنگر میزائل سسٹم بھی ہیں. روسی وزیر دفاع نے امریکی ساختہ پورٹیبل طیارہ شکن اور ٹینک شکن میزائلوں کا نام لیا جنہیں واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں نے روس کی جانب سے جاری اس آپریشن سے پہلے بڑے پیمانے پر کیف کو فراہم کیا گیا تھا۔.

    شوئیگو نے کہا کہ یوکرینی فوج سے ضبط کیا گیا تمام جدید ترین مغربی ساختہ اسلحہ لوگانسک اور دونیسک جمہوریہ کی ملیشیا کے حوالے کرنے کی تجویز ہے تاکہ وہ زیادہ مؤثر طریقے سے آئندہ اپنا دفاع کر سکیں۔

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ باغی روسی ساختہ جدید ہتھیاروں بشمول فضائی دفاع اور ٹینک شکن نظام سے بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ صدر ولادیمیر پوتن نے ان خیالات کی منظوری دیتے ہوئے کہا کہ اگر ضروری ہوا تو وہ متعلقہ احکامات پر دستخط کریں گے۔

    روسی اہلکار نے روس کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ دونباس فورسز اسلحے کا بہتر استعمال کریں گی بشمول مغرب سے فراہم کردہ میزائل بندوکیں، یوکرینی باغیوں کو دی جائیں گی۔

  • امریکہ کے بعد روس نے بھی مشرق وسطی سےاپنے حامی جنگجووں کویوکرین پہنچنے کی ہدایت کردی

    امریکہ کے بعد روس نے بھی مشرق وسطی سےاپنے حامی جنگجووں کویوکرین پہنچنے کی ہدایت کردی

    ماسکو :امریکہ کے بعد روس نے بھی مشرق وسطی سےاپنے حامی جنگجووں کویوکرین پہنچنے کی ہدایت کردی،اطلاعات کے مطابق روسی صدر نے یوکرین کیساتھ روس کی جنگ میں شریک ہونے کے لیے مشرق وسطیٰ سے ہزاروں جنگجوؤں کو اپنی صفوں میں شامل کرنے کے لیے گرین سگنل دے دیا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوتن نے مشرق وسطیٰ سے ہزاروں کی تعداد میں جنگجوؤں کو یوکرین کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کی خاطر روس لانے کے لیے گرین سگنل دے دیا ہے۔

    روسی سلامتی کونسل کے اجلاس میں روسی وزیر دفاع سرگئی شوئیگو نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں 16 ہزار رضاکار مشرقی یوکرین سے علیحدہ ہونے والے علاقے ڈونباس میں روسی حمایت یافتہ افواج کیساتھ لڑنے کے لیے تیار تھے۔

    اس تناظر میں روسی صدر پیوتن کا کہنا تھا کہ اگر آپ انہیں دیکھیں جو اپنی مرضی سے بغیر کسی پیسے کے، ڈونباس کے شہریوں کی مدد کے لیے تیار ہیں، تو ہمیں بھی انہیں وہ کچھ دینا چاہیے جو وہ چاہتے ہیں اور متنازعہ علاقے تک پہنچنے کے لیے ان کی مدد کرنا ہوگی۔

    روسی وزیر دفاع سرگئی شوئیگو نے بھی یہ تجویز پیش کی ہے کہ مغربی ساخت کے نیزے اور اسٹنگر میزائلز جو روسی فوج نے یوکرین میں اپنے قبضے میں لیے تھے انہیں ڈونباس فورسز کے حوالے کردیا جائے۔ اس بارے میں روسی صدر نے کہا،” میں ہتھیاروں کی باقاعدہ تقسیم، خاص طور پر مغربی ساختہ جو روسی فوج کے ہاتھ لگ چُکے ہیں، انہیں لوگانسک اور ڈونیٹسک کی عسکری یونٹس یا دستوں کے حوالے کرنے کے امکانات کی حمایت کرتا ہوں۔

    روس اور یوکرین کا تنازعہ نہایت سنگین صورتحال اختیار کرتا جا رہا ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ یوکرین میں اس کا خصوصی فوجی آپریشن یوکرین کی طرف سے روسی زبان بولنے والوں کی نسل کشی کے خلاف ایک مضبوط ردعمل ہے۔

    روس کا دعویٰ ہے کہ یوکرین کے مشرق میں روسی بولنے والوں کو نسل کشی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے تاہم کیف اور مغرب کی طرف سے اس روسی بیان کو بے بنیاد جنگی پروپیگنڈہ قرار دیتے ہوئے رد کیا جا رہا ہے۔

    روسی وزیر دفاع شوئیگو نے کہا ہے کہ روس کی مغربی سرحد پر مغربی فوجی یونٹس کی تعیناتی میں اضافے کے بعد سے روسی فوج اپنی مغربی سرحد کو مضبوط کرنے کا منصوبہ بنائے ہوئے ہے۔

  • روس کے خلاف لڑنے کے لیے امریکی حمایت یافتہ رضاکاریوکرین پہنچ گئے:روس بھی تیار

    روس کے خلاف لڑنے کے لیے امریکی حمایت یافتہ رضاکاریوکرین پہنچ گئے:روس بھی تیار

    کیف:روس کے خلاف لڑنے کے لیے امریکی حمایت یافتہ رضاکاریوکرین پہنچ گئے:روس بھی تیار،اطلاعات کے مطابق یوکرینی صدر کی روس کی جنگ کے خلاف مدد کی اپیل میں ہزاروں افراد نے مثبت جواب دیا ہے۔ یہ واضح نہیں کہ یوکرین پہنچنے والے افراد کے مجموعی جنگی حالات پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

    ستائیس فروری کو یوکرینی وزیر خارجہ دیمیترو کُولیبا نے اپنے ملکی صدر وولودیمیر زیلنسکی کا ایم پیغام ٹویٹر پر جاری کیا تھا کہ یوکرین کے دفاع کے لیے غیر ملکی افراد روسی فوج کشی کے خلاف عملی طور شریک ہوں۔

    اس پیغام کی ہزاروں افراد نے مثبت جواب دیا ہے۔ پانچ مارچ سے یوکرینی صدر کے اس پیغام کے جاری ہونے کے بعد سے جنگ میں شریک ہونے والے رضاکاروں کی رہنمائی کے لیے ایک خصوصی ویب سائیٹ بھی لانچ کر دی گئی ہے۔ روس کے خلاف جنگ میں یوکرین کے مختلف شہروں میں کئی غیر ملکی جنگجوؤں کے پہنچنے کا بتایا گیا ہے اس ویب سائیٹ میں جنگ میں شریک ہونے کی درخواست کا مکمل طریقہ کار بیان کیا گیا ہے۔

    یوکرینی حکومت نے ایسے رضاکاروں کی ممکنہ فوج کا نام ‘انٹرنیشنل ڈیفینس لیجیئن‘ تجویز کیا ہے۔ جنگ میں شامل ہونے کے خواہشمند رضاکار اس مناسبت سے مکمل تعداد کو بیان نہیں کیا گیا لیکن ہزاروں غیر ملکی افراد نے یوکرینی دفاع کے لیے اپنی خدمات پیش کی ہیں۔

    لندن میں یورپی سکیورٹی کے معاملات پر نگاہ رکھنے والے ادارے رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ کے ریسرچر ایڈ آرنلڈ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ جنگ میں عملی طور پر شریک ہونے والے رضاکاروں کی تعداد کا تعین کرنا ممکن نہیں لیکن محتاط اندازوں کے مطابق یہ تعداد بیس ہزار کے لگ بھگ ہے۔

    ذرائع کے مطابق کئی جاپانی بھی جنگ میں شریک ہونے کے لیے تیار ہیں اور پانچ سو بیلاروس کے شہریوں نے بھی رضاکار بننے کی درخواست جمع کرائی ہے۔

    ایڈ مارٹن کا کہنا ہے کہ یوکرین کی جنگ میں شریک سابقہ فوجیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے چار دنوں میں اتنے فائر کیے ہیں جتنے وہ افغانستان میں قیام کے دوران نہیں کر سکے تھے۔ بعض جرمن میڈیا نے بتایا ہے کہ ایک ہزار جرمن شہری یوکرین کا سفر اختیار کر چکے ہیں۔

    ان رضاکاروں یا یوکرینی صدر کی اپیل پر جرمن شہریوں کے مثبت ردِعمل بارے برلن سے وزارتِ دفاع کا کہنا تھا کہ وہ ایسے افراد کے سفر کے بارے مکمل طور پر لاعلم ہے۔ اسی طرح سے جرمن وزارتِ داخلہ کے ترجمان میکسمیلین کارل نے بھی بدھ نو مارچ کو ایک پریس کانفرنس میں یوکرین کا سفر اختیار کرنے والے ایک ہزار افراد سے متعلق کوئی تصدیق نہیں کی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ شینگن علاقے میں شہری آزادانہ طور پر سفر اختیار کر سکتے ہیں اور اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جن افراد نے امکانی طور پر ایسا کیا ہے وہ یقینی طور پر یوکرینی نژاد جرمن افراد ہو سکتے ہیں۔

    میکسمیلن کارل نے واضح کیا کہ ملکی سلامتی کے ادارے انتہائی دائیں بازو کے جرمن حلقوں پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں اور ایسے افراد کی روانگی کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔

    گزشتہ چند ایام کے دوران کچھ یورپی ممالک اور بالٹک ریاستوں جیسا کہ لیتھوانیا اور لٹویا، نے ایسی ہنگامی قانون سازی کی ہے، جس کے تحت یوکرین کی جنگ میں شرکت کے خواہشمندوں کے لیے قانونی راہ ہموار کر دی گئی ہے۔

  • ہمارامستقبل بچالیں:یوکرین سے واپس آنے والے طلبا کا پاکستان کے بڑوں کوخط

    ہمارامستقبل بچالیں:یوکرین سے واپس آنے والے طلبا کا پاکستان کے بڑوں کوخط

    اسلام آباد:آپ سے ایک عرض ہے:یوکرین سے واپس آنے والے طلبا کا پاکستان کے بڑوں کوخط،اطلاعات کے مطابق یوکرین اور روس کے درمیان جنگ کے نتیجے میں تعلیم سے محروم ہونے والے طلبا نے اپنا مستقبل بچانے کے لیے پاکستان کے بڑوں کو خط لکھا ہے

    ذرائع کے مطابق یوکرین سے واپس آنے والے طلبا کی طرف سے یہ خط وزیراعظم عمران خان ، آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ ، چیف جسٹس آف پاکستان سمت ملک کی دیگرمقتدرشخصیات کو لکھا گیاہے

     

     

    اس خط میں کہا گیاہےکہ پاکستانی طلبا جو کہ یوکرین میں زیرتعلیم تھے،یہ پاکستانی طلبا جن کے والدین نے اپنی جمع پونجی سے اپنے بچوں‌کوتعلیم حاصل کنرے کے لیے بھیجا،والدین نے اپنے بچوں کی تعلیم وتربیت کے لیے اپنا سب کچھ قربان کردیالیکن افسوس کے ساتھ یوکرین اور روس کے درمیان جنگ کی وجہ سے حالات بہت خراب ہیں اور سیکڑوں کی تعداد میں پاکستانی طلبا یوکرین سے واپس آگئے ہیں

     

     

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”472263″ /]

    ان طالعلموں کی طرف سے خط میں عرض کیا گیا ہے کہ حکومت پاکستان اپنے ان بچوں کی بقیہ تعلیم وتربیت کا انتظام کرے اور ان کا مستقبل بچا لے

    ان پاکستانی طلبا نے خط میں درخواست کی ہے کہ یوکرین سے واپس آنے والے پاکستانی طلبا کو پاکستانی یونیورسٹیز میں داخلہ دے کر انکی باقی تعلیم مکمل کرنے میں تعاون کریں اور اپنا بھرپورکرداربھی ادا کریں

    پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق یوکرین میں مقیم پاکستانی طلبہ کی تعداد قریب تین ہزار تھی جبکہ پاکستانی برادری سمیت شہریوں کی کل تعداد قریب سات ہزار تھی۔

    یعنی یوکرین میں کچھ تو خاص تھا کہ پاکستانی طلبا بہتر تعلیم کے لیے اس ملک کی طرف بھی رُخ کر رہے تھے۔ان میں سے اکثر پاکستانی طالب علم پاکستان واپس آچکے ہیں اور جو پیچھے رہ گئے ہیں ان کی پاکستان واپسی کے لیے حکومت کوشاں ہیں

  • مشرق وسطیٰ کے 16 ہزار رضا کار یوکرین میں روسی فوج کا ساتھ دینے کیلئے تیار:امریکہ کا انکار

    مشرق وسطیٰ کے 16 ہزار رضا کار یوکرین میں روسی فوج کا ساتھ دینے کیلئے تیار:امریکہ کا انکار

    ماسکو : مشرق وسطیٰ کے 16 ہزار رضا کار یوکرین میں روسی فوج کا ساتھ دینے کیلئے تیار،روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ وہ غیر ملکی رضاکار جو یوکرین میں روسی فوج کے ساتھ مل کر لڑنے کے خواہش مند ہیں انہیں اس کی اجازت دی جائے گی اور ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی۔

    روس کی سکیورٹی کونسل کی میٹنگ ہوئی جس میں یوکرین سے جنگ اور دیگر معاملات پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں روسی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے 16 ہزار رضاکار روس فوج کے شانہ بشانہ لڑنے کو تیار ہیں۔

    ملکہ برطانیہ کے محافظ دستے میں شامل اہلکار روس کیخلاف لڑنے کیلئے یوکرین چلا گیااجلاس میں روسی صدر نے کہا ہے کہ غیرملکی رضا کاروں کو روس کیلئے لڑنے کی اجازت دی جائے گی۔

    اس حوالے سے امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یوکرین کے خلاف لڑنے کیلئے تیار رضاکاروں میں شام سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں جنہیں شہری علاقوں میں لڑائی کا تجربہ ہے۔

    دوسری جانب روسی صدارتی محل کا کہنا ہے کہ شام اور مشرق وسطیٰ کے جنگجوؤں کویوکرین میں روس کیلئے لڑنے کی اجازت دی جائے گی۔

    صدارتی محل کا کہنا ہے کہ یوکرین میں لڑنے کی خواہش کرنے والوں میں زیادہ ترمشرق وسطیٰ اور شامی شہری ہیں۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل آج جمہ 11 مارچ کو روس کے ان الزامات پر غور و خوض کر رہی ہے جن میں کہا گیا کہ ماسکو کو یوکرین میں ’’امریکی حیاتیاتی ہتھیاروں سے جڑی سرگرمیوں‘‘ کے نشانات ملے ہیں۔

    روس کی طرف سے عائد کردہ ان الزامات کی سختی سے تردید یوکرائنی صدر وولادیمیر زیلنسکی کی طرف سے بھی کی گئی ہے اور امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کی طرف سے بھی۔

    امریکا نے ان دعووں کو مسترد کرتے ہوئے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہروس ممکنہ طور پر یوکرین کے خلاف حیاتیاتی یا کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے لیے میدان تیار کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ میں امریکی مشن کی ترجمان اولیویا ڈالٹن کے مطابق،

    ”یہ اسی طرح کی من گھڑت کوشش ہے جس کے بارے میں ہم نے پہلے ہی خبردار کیا تھا۔ روس اسے کسی حیاتیاتی یا کیمیائی حملے کے جواز کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا روس کو سلامتی کونسل کے ذریعے جھوٹ کے پھیلاؤ کی اجازت نہیں دے گا۔

    یوکرینی صدر وولادیمیر زیلنسکی نے روسی الزام کو رد کرتے ہوئے کہا کہ یہ الزام بذات خود ایک بری علامت ہے۔ روس کی طرف سے سلامتی کونسل کا خصوصی اجلاس بلانے کی درخواست کا اعلان ایک ٹوئیٹ کے ذریعے کیا گیا جو اقوام متحدہ میں روس کے نائب سفیر اول دیمتری پولیانسکی کی طرف سے جاری کی گئی۔ جس میں کہا گیا کہ یوکرین امریکی مدد کے ساتھ ملک میں کیمیائی اور حیاتیاتی لیبارٹریاں چلا رہا ہے۔

    اقوام متحدہ میں روس کے ایک اور نائب سفیر نے بدھ کے روز ان الزامات کو دہرایا تھا اور مغربی میڈیا پر زور دیا تھا کہ یوکرین میں موجود خفیہ حیاتیاتی لیباٹریوں کے بارے میں رپورٹ کرے۔

    بعد ازاں روسی وزارت دفاع کی طرف سے جاری کردہ ٹوئیٹ میں ”یوکرینی سرزمین پر امریکا کی ملٹری بائیولوجیکل سرگرمیوں سے متعلق تجزیاتی دستاویزات‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس معاملے کا جائزہ لے۔

    یوکرینی صدر وولادیمیر زیلنسکی نے روسی الزام کو رد کرتے ہوئے کہا کہ یہ الزام بذات خود ایک بری علامت ہے: ”اس سے مجھے بہت زیادہ پریشانی ہوئی ہے کیونکہ ہم اکثر اس بات کے قائل رہے ہیں کہ اگر آپ روس کے منصوبوں کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو وہ وہی ہوں گے جس کا الزام روس دوسروں پر لگائے۔‘‘

    جمعرات کو اپنی قوم سے خطاب کرتے ہوئے زیلنسکی کا مزید کہنا تھا، ”میں ایک ذی شعور شخص ہوں، ایک ذی شعور ملک اور لوگوں کا صدر ہوں۔ میں دو بچوں کا باپ ہوں۔۔۔ اور میری سر زمین پر کیمیائی یا بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والا کوئی بھی ہتھیار تیار نہیں کیا گیا ہے۔ پوری دنیا یہ جانتی ہے۔‘‘

    اقوام متحدہ کی طرف سے جمعرات 10 مارچ کی شام اعلان کیا گیا کہ روسی درخواست پر یہ ملاقات مقامی وقت کے مطابق دن دس بجے منعقد کی جائے گی تاہم بعد میں ایک گھنٹہ تاخیر سے شروع ہونے کا اعلان کیا گیا۔

    اقوم متحدہ کے تخفیف اسلحہ سے متعلق معاملات کے سربراہ ایزومی ناکامیتسو اور سیاسی معاملات کی سربراہ روزمیری ڈی کارلو سلامتی کونسل کو اس حوالے سے بریفنگ دیں گی۔