Baaghi TV

Tag: روس

  • اقوام متحدہ کا روس سے یوکرین پر تشدد بند کرنے کا مطالبہ

    اقوام متحدہ کا روس سے یوکرین پر تشدد بند کرنے کا مطالبہ

    نیویارک: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے یوکرین پر تشدد بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی : اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پراپنی ٹوئٹ میں کہا کہ ماریو پول میں بچوں کے اسپتال پر ہونے والے بم حملے کی مذمت کرتے ہیں اور انہوں نے بچوں کے اسپتال پر حملے کو “خوفناک” قرار دے دیا۔

    روس کی بچوں کے ہسپتال پر بمباری،17 افراد زخمی،یوکرین کا دعویٰ


    انہوں نے کہا کہ شہری اس روس یوکرین جنگ کی سب سے زیادہ قیمت ادا کر رہے ہیں جن کا اس سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے اس لیے روس اب یہ خونریزی ختم کرے۔

    واضح رہے کہ یوکرین کے جنوبی شہر ماریوپول میں روسی افواج کے فضائی حملے میں ایک اسپتال میں بچوں کا وارڈ تباہ ہو گیا۔ جس میں کم از کم 17 افراد زخمی ہوئے ہیں اور ان میں ایک بڑی تعداد عملے کے علاوہ حاملہ خواتین کی ہے جبکہ 3 ہزار سے زائد بچے بغیر خوراک اور ادویات متاثرہ علاقے میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔

    روس کا امریکا پر یوکرین میں حیاتیاتی ہتھیار بنانے کا الزام

    روس کا کہنا تھا کہ انہوں نے گزشتہ روز ہی ماریوپول اور دیگر محصور علاقوں سے ہزاروں شہریوں کو محفوظ طریقے سے نکلنے کے لیے سیز فائر کیا تھا، لیکن ماریوپول کی سٹی کونسل نے کہا کہ اسپتال کو کئی بار فضائی حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے جو تباہ کن ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ماریوپول کمپلیکس کو سلسلہ وار دھماکوں سے نشانہ بنایا گیا، جس سے کھڑکیوں کے شیشے اُڑ گئے اور ایک عمارت کے سامنے کا بڑا حصہ اکھڑ گیا۔ جبکہ زمین ایک میل دور تک لرز گئی دھماکے والی فوٹیج میں بھی دکھایا گیا کہ پولیس اور سپاہی متاثرین کو نکالنے کے لیے جائے وقوعہ پر پہنچ رہے ہیں، جس میں دیگر خواتین سمیت حاملہ خاتون کو بھی اسٹریچر پر لے جایا جارہا ہے۔

    ہم نے پابندیاں لگائیں تو مغرب کو مشکلات اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑے گا،روس کا انتباہ

  • روس یوکرین میں کیمیکل ہتھیار استعمال کر سکتا ہے، امریکہ نے الٹا روس پرالزام لگادیا

    روس یوکرین میں کیمیکل ہتھیار استعمال کر سکتا ہے، امریکہ نے الٹا روس پرالزام لگادیا

    واشنگٹن : روس یوکرین میں کیمیکل ہتھیار استعمال کر سکتا ہے، امریکہ نے یہ کہہ کرخطرے کی گھنٹیاں بجادیں ،اطلاعات کے مطابق امریکہ نے روس کے اس دعوے کو مسترد کیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ وہ یوکرین میں حیاتیاتی ہتھیاروں کے پروگرام کی اعانت کرتا ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے لگائے گئے یہ الزامات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ماسکو جلد ہی یہ ہتھیار یوکرین میں استعمال کر سکتا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’کریملن جان بوجھ کر یہ جھوٹ پھیلا رہا ہے کہ امریکہ اور یوکرین، یوکرین میں کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کی سرگرمیاں کر رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ’روس یوکرین میں اپنے خوفناک اقدامات کو جواز فراہم کرنے کی کوشش میں جھوٹے بہانے گھڑ رہا ہے۔‘ وائٹ ہاؤس کے پریس سکریٹری جین ساکی نے اس دعوے کو ’مضحکہ خیز‘ قرار دیتے ہوئے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’اب جب کہ روس نے یہ جھوٹے دعوے کیے ہیں، ہم سب کو نظر رکھنی چاہیے کہ روس ممکنہ طور پر یوکرین میں کیمیائی یا حیاتیاتی ہتھیاروں کا استعمال کرے، یا ان کا استعمال کرتے ہوئے کوئی جھوٹا فلیگ آپریشن کرے گا۔‘ چھ مارچ کو ماسکو کی وزارت خارجہ نے ٹویٹ میں کہا تھا کہ روسی افواج کو شواہد ملے ہیں کہ یوکرین کی حکومت فوج کی جانب سے چلائے گئے حیاتیاتی پروگرام کے نشانات کو مٹا رہے ہیں جس کی مالی اعانت مبینہ طور پر امریکہ نے فراہم کی تھی۔ نیڈ پرائس نے کہا کہ ’یہ روسی غلط معلومات سراسر احمقانہ ہیں۔‘

    ادھر غیر ملکی میڈیا کے مطابق روسی وزارت خارجہ ماریہ زخارووا نے دعویٰ کیا ہے کہ دستاویزی ثبوت ہیں کہ امریکہ یوکرین میں حیاتیاتی ہتھیار بنارہا ہے

    ترجمان روسی وزارت خارجہ نے کہا کہ ماسکو زیلنسکی کا تختہ الٹنے کے لیے یہ کام نہیں کر رہا،امریکہ عالمی برادری کے سامنے یوکرین میں اپنے اس پروگرام کی وضاحت دینے کا پابند ہےدوسری جانب امریکہ نے روس کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ روس کی جانب سے لگائے گئے یہ الزامات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ماسکو جلد ہی یہ ہتھیار یوکرین میں استعمال کر سکتا ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کریملن جان بوجھ کر یہ جھوٹ پھیلا رہا ہے کہ امریکہ اور یوکرین کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کی سرگرمیاں کر رہے ہیں روس یوکرین میں اپنے خوفناک اقدامات کو جواز فراہم کرنے کی کوشش میں جھوٹے بہانے گھڑ رہا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کے پریس سکریٹری جین ساکی کہا ہے کہ ہم سب کو نظر رکھنی چاہیے کہ روس ممکنہ طور پر یوکرین میں کیمیائی یا حیاتیاتی ہتھیاروں کا استعمال کر سکتا ہے یا ان کا استعمال کرتے ہوئے کوئی جھوٹا فلیگ آپریشن کر سکتا ہے-

    دریں اثناء امریکی ’سی آئی اے‘ کے ڈائریکٹر ولیم برنز نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو "برہم اور مایوس” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ "اپنی طاقت کو دوگنا کریں گے اور شہری ہلاکتوں کی پرواہ کیے بغیر یوکرین کی فوج کو کچلنے کی کوشش کریں گے وہ اور سی آئی اے کے تجزیہ کار نہیں جانتے تھے کہ پیوٹن یوکرین کے دارالحکومت کیف پر قبضہ کرنے اور صدر ولادیمیر زیلنسکی کی حکومت کی جگہ ماسکو کی کٹھ پتلی قیادت کو کس طرح حاصل کر سکتے ہیں۔

    دوسری جانب دنیا کی توجہ جمعرات کو ترکی کے جنوبی قصبے انطالیہ میں ہونے والی ایک میٹنگ پر مرکوز ہے جس میں ترکی، یوکرین اور روس کے وزرائے خارجہ مشرقی یورپ میں جاری تنازعات پر تبادلہ خیال کریں گے اور کشیدگی کو کم کرنے کے طریقوں پر غور کریں گے۔ روس اور یوکرین کے ساتھ سمندری سرحد کا اشتراک کرتے ہوئے ترکی نے طویل عرصے سے نیٹو کے لیے اپنی اہمیت کو بڑھا کر اور ساتھ ہی روس کی مخالفت نہ کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان ایک غیر جانبدار اور متوازن ثالث کے طور پر کام کرنے کی کوشش کی ہے۔ استنبول ثالثی کانفرنس کے موقع پر روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور ان کے یوکرینی ہم منصب دمتری کولیبا کے درمیان ہونے والی یہ ملاقات 24 فروری کو یوکرین میں روسی مداخلت کے بعد پہلی اعلیٰ سطحی بات چیت ہوگی

  • روس کا امریکا پر یوکرین میں حیاتیاتی ہتھیار بنانے کا الزام

    روس کا امریکا پر یوکرین میں حیاتیاتی ہتھیار بنانے کا الزام

    روس نےامریکا پر یوکرین میں حیاتیاتی ہتھیار بنانے کا الزام لگا دیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق روسی وزارت خارجہ ماریہ زخارووا نے دعویٰ کیا ہے کہ دستاویزی ثبوت ہیں کہ امریکہ یوکرین میں حیاتیاتی ہتھیار بنارہا ہے

    روس سے تیل کی درآمد پر پابندی :امریکی ایوان میں بھاری اکثریت سے منظور

    ترجمان روسی وزارت خارجہ نے کہا کہ ماسکو زیلنسکی کا تختہ الٹنے کے لیے یہ کام نہیں کر رہا،امریکہ عالمی برادری کے سامنے یوکرین میں اپنے اس پروگرام کی وضاحت دینے کا پابند ہے

    دوسری جانب امریکہ نے روس کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ روس کی جانب سے لگائے گئے یہ الزامات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ماسکو جلد ہی یہ ہتھیار یوکرین میں استعمال کر سکتا ہے۔

    وکرین اور روس کا انخلا کیلئے 12 گھنٹوں کی جنگ بندی پر اتفاق

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کریملن جان بوجھ کر یہ جھوٹ پھیلا رہا ہے کہ امریکہ اور یوکرین کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کی سرگرمیاں کر رہے ہیں روس یوکرین میں اپنے خوفناک اقدامات کو جواز فراہم کرنے کی کوشش میں جھوٹے بہانے گھڑ رہا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کے پریس سکریٹری جین ساکی کہا ہے کہ ہم سب کو نظر رکھنی چاہیے کہ روس ممکنہ طور پر یوکرین میں کیمیائی یا حیاتیاتی ہتھیاروں کا استعمال کر سکتا ہے یا ان کا استعمال کرتے ہوئے کوئی جھوٹا فلیگ آپریشن کر سکتا ہے-

    دریں اثناء امریکی ’سی آئی اے‘ کے ڈائریکٹر ولیم برنز نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو "برہم اور مایوس” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ "اپنی طاقت کو دوگنا کریں گے اور شہری ہلاکتوں کی پرواہ کیے بغیر یوکرین کی فوج کو کچلنے کی کوشش کریں گے وہ اور سی آئی اے کے تجزیہ کار نہیں جانتے تھے کہ پیوٹن یوکرین کے دارالحکومت کیف پر قبضہ کرنے اور صدر ولادیمیر زیلنسکی کی حکومت کی جگہ ماسکو کی کٹھ پتلی قیادت کو کس طرح حاصل کر سکتے ہیں۔

    اسرائیلی صدر کا دورہ ترکی: استنبول میں ترک صدر کےخلاف احتجاجی مظاہرے

  • ہم نے پابندیاں لگائیں تو مغرب کو مشکلات اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑے گا،روس کا انتباہ

    ہم نے پابندیاں لگائیں تو مغرب کو مشکلات اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑے گا،روس کا انتباہ

    ماسکو: روس نے مغرب کو ایک بار پھرخبردار کردیا-

    باغی ٹی وی : غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق کہ روس نے کہا ہے کہ اگرماسکو نے پابندیاں لگائیں تو مغربی ممالک کو سخت مشکلات اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑے گا پابندیاں لگانے سے متعلق ہم بڑے پیمانے پر کام کر رہے ہیں جو مغربی ممالک میں بہت شدت سے محسوس کی جائیں گی۔

    روس سے تیل کی درآمد پر پابندی :امریکی ایوان میں بھاری اکثریت سے منظور

    وزارت خارجہ کے شعبہ اقتصادی تعاون کے ڈائریکٹر دمتری بریچیفسکی نے بتایا کہ روس کی جانب سے لگائی جانے والی پابندیاں بہت خطرناک ہوگی جو مغربی ممالک کو جھنجھوڑ دیں گی۔

    خیال رہےکہ امریکی صدر جو بائیڈن نے منگل کو روسی تیل اور توانائی کی دیگر درآمدات پر فوری پابندی عائد کر دی تھی-

    یوکرین اور روس کا انخلا کیلئے 12 گھنٹوں کی جنگ بندی پر اتفاق

    قبل ازیں روس سے تیل کی درآمد پر پابندی امریکی ایوان نمائندگان میں منظور ہوگئی ہے یوکرین کے حملے کے جواب میں روسی تیل اور توانائی کی مصنوعات کی درآمد پر پابندی کے لیے امریکی ایوان میں ووٹنگ ہوئی جس میں قانون سازوں نے بھاری اکثریت میں اس پابندی کے حق میں ووٹ دیئےقانون سازی جو 414 کے مقابلے میں 17 ووٹوں سے منظور ہوئی، اب حتمی فیصلے کے لیے سینیٹ میں پیش کی جائے گی تاہم اس کی کوئی تاریخ نہیں بتائی گئی۔

    روس کی بچوں کے ہسپتال پر بمباری،17 افراد زخمی،یوکرین کا دعویٰ

    اس سے قبل، روس نے خبردار کیا تھا کہ اگر امریکا اور مغربی ممالک نے روس کے خام تیل کی درآمد پر پابندی لگائی تو عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 300 ڈالر فی بیرل تک پہنچ جائے گی۔

    واضح رہے کہ 1991 میں سوویت یونین کے زوال کے بعد اس وقت روس کی معیشت کو سب سے زیادہ بحران کا سامنا ہے۔

    یوکرین میں 2500 سے زائد بھارتی طلباء کو بچانے والا پاکستانی

  • روس سے تیل کی درآمد پر پابندی :امریکی ایوان میں بھاری اکثریت سے منظور

    روس سے تیل کی درآمد پر پابندی :امریکی ایوان میں بھاری اکثریت سے منظور

    روس سے تیل کی درآمد پر پابندی امریکی ایوان نمائندگان میں منظور ہوگئی-

    باغی ٹی وی : امریکی میڈیا کے مطابق یوکرین کے حملے کے جواب میں روسی تیل اور توانائی کی مصنوعات کی درآمد پر پابندی کے لیے امریکی ایوان میں ووٹنگ ہوئی جس میں قانون سازوں نے بھاری اکثریت میں اس پابندی کے حق میں ووٹ دیئے-

    قانون سازی جو 414 کے مقابلے میں 17 ووٹوں سے منظور ہوئی، اب حتمی فیصلے کے لیے سینیٹ میں پیش کی جائے گی۔ تاہم اس کی کوئی تاریخ نہیں بتائی گئی۔

    سینٹ میں اکثریت پارٹی کے لیڈر کا کہنا ہے کہ وہ اس سلسلے میں پہلے امریکی صدر بائیڈن سے بات کرنا چاہتے ہیں۔

    یہ اقدام امریکی صدر کی جانب سے روسی توانائی کی مصنوعات کی درآمد پر پابندی کے حکم پر دستخط کیے جانے کے ایک دن بعد ہی سامنے آیا ہے۔

    بائیڈن کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ فیصلہ یورپی اتحادیوں کے ساتھ مشاورت سے کیا لیکن شاید یورپی ممالک روس کی توانائی کی درآمدات پر پابندی لگانے میں امریکہ کے ساتھ شامل ہونے کی پوزیشن میں نہیں ہیں اس پابندی کا مقصد روس پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ وہ یوکرین جنگ بند کرے۔

    روس کی بچوں کے ہسپتال پر بمباری،17 افراد زخمی،یوکرین کا دعویٰ

    وائٹ ہاوس سے جاری پیغام میں انہوں نے کہا تھا کہ ہم روس سے تیل اور گیس کی درآمد پر مکمل پابندی عائد کر رہے ہیں، جس کا مطلب روس کا تیل امریکی بندرگاہوں پر قبول نہیں کیا جائے گا ہمارے اس اقدام سے صدر پیوٹن کو ایک بڑا دھچکا لگے گا۔

    خیال رہے کہ روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے خبردار کیا تھا کہ اگر روس کے تیل اور گیس پر پابندی عائد کی گئی تو عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 300 ڈالر فی بیرل تک پہنچ جائے گی۔

    دوسری جانب امریکی انٹیلی جینس نے رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ روس پرامریکہ کی طرف سے پابندیاں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو غضبناک کرسکتی ہیں ، جس کا مطلب روسی صدر کچھ بھی کرسکتےہیں‌-

    امریکہ نے روس کے خلاف اقتصادی جنگ کا اعلان کیا ہے،ترجمان پیوٹن

    امریکی ’سی آئی اے‘ کے ڈائریکٹر ولیم برنز نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو "برہم اور مایوس” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ "اپنی طاقت کو دوگنا کریں گے اور شہری ہلاکتوں کی پرواہ کیے بغیر یوکرین کی فوج کو کچلنے کی کوشش کریں گے وہ اور سی آئی اے کے تجزیہ کار نہیں جانتے تھے کہ پیوٹن یوکرین کے دارالحکومت کیف پر قبضہ کرنے اور صدر ولادیمیر زیلنسکی کی حکومت کی جگہ ماسکو کی کٹھ پتلی قیادت کو کس طرح حاصل کر سکتے ہیں۔

    پوتن غُصےمیں آگئے توتباہی مچادیں گے:امریکی انٹیلی جنس رپورٹ

  • یوکرین اور روس کا انخلا کیلئے 12 گھنٹوں کی جنگ بندی پر اتفاق

    یوکرین اور روس کا انخلا کیلئے 12 گھنٹوں کی جنگ بندی پر اتفاق

    کیف: یوکرین اور روس نے شہریوں کے انخلا کے لیے 12 گھنٹوں کی جنگ بندی پر اتفاق کرلیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کےمطابق یوکرین اورروس نے یوکرین کے 6 شہروں میں 12 گھنٹوں کی جنگ بندی پر اتفاق کرلیا ہے تاکہ شہریوں کےانخلا کی اجازت دی جاسکے سومی، شمال مشرقی یوکرین میں میئر نے کہا ہے کہ لوگ ذاتی کاروں اور بسوں کے ذریعے شہر چھوڑنے میں کامیاب ہوگئے ہیں اینر ہوڈر کے میئر نے کہا کہ زیادہ تر خواتین اور بچوں کے قافلے وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

    روس کی بچوں کے ہسپتال پر بمباری،17 افراد زخمی،یوکرین کا دعویٰ

    دوسری جانب یوکرین اور روس کے وزرائے خارجہ نے جمعرات کو ترکی میں مذاکرات کے لیے ملاقات پر اتفاق کرلیا ہے یہ حملہ شروع ہونے کے بعد پہلی بار ہوا ہے اس ملاقات کی تجویز ترکی کے وزیر خارجہ نے دی تھی۔

    یو این ایچ سی آر کے ہائی کمشنر فلیپو گرینڈی نے کہا ہے ترجیح یہ ہے کہ سرحدوں پر موجود پناہ گزینوں کی مدد کی جائے، بجائے اس بات پر کے کہ وہ ممالک کے درمیان کیسے تقسیم ہوں گے-

    پولینڈ کی یوکرین کو مگ 29 لڑاکا طیارے کی پیشکش،اس طرح تو روس کسی کو بھی نہیں چھوڑے گا:امریکہ

    گرینڈی نے مزید کہا یوکرین پر روس کے حملے شروع ہونے کے بعد وہاں سے نکلنے والے پناہ گزینوں کی تعداد غالباً 2.1 سے لے کر 2.2 ملین تک پہنچ چکی ہے۔

    واضح رہے کہ روسی فوج نے یوکرین کے مشرقی شہر ماریوپول میں بمباری کی ہے جس کی زد میں میٹرنٹی اسپتال بھی آیا۔ بمباری کے نتیجے میں معصوم بچے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں جب کہ 3 ہزار سے زائد بچے بغیر خوراک اور ادویات متاثرہ علاقوں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔

    امریکہ نے روس کے خلاف اقتصادی جنگ کا اعلان کیا ہے،ترجمان پیوٹن

  • روس کی بچوں کے ہسپتال پر بمباری،17 افراد زخمی،یوکرین کا دعویٰ

    روس کی بچوں کے ہسپتال پر بمباری،17 افراد زخمی،یوکرین کا دعویٰ

    کیف:یوکرین کا الزام ہے کہ روس نے بچوں کے ہسپتال پر حملہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی : برطانوی کے مطابق یوکرین نے روس پر الزام لگایا ہے کہ اس نے بندرگاہی شہر ماریوپول میں بچوں کے اسپتال اور زچگی کے وارڈ پر بمباری کی ہے جس سے 17 افراد زخمی ہوئے ہیں کئی بچے ملبے تلے دب چکے ہیں، جن کا جنگ سے کوئی لینا دینا نہیں تھا جبکہ 3 ہزار سے زائد بچے بغیر خوراک اور ادویات متاثرہ علاقے میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔

    یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ٹوئٹر پر ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے جس میں اسپتال کی بری طرح سے تباہ شدہ عمارت کو دکھایا گیا ہے جبکہ انہوں نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ ‘ظلم’ ہے۔

    حملےسے کچھ گھنٹے قبل یوکرینی وزیر خارجہ نے خبردار کیا تھا کہ شہر میں 3000 بچے خوراک یا ادویات تک رسائی سے محروم ہیں۔

    امریکہ بھی روس یوکرین جنگ میں کودنے کے قریب:روس سخت جواب دینےکے لیے تیار

    جبکہ روس کے مطابق انہوں نے گزشتہ روز ہی ماریوپول اور دیگر محصور علاقوں سے ہزاروں شہریوں کو محفوظ طریقے سے نکلنے کے لیے سیز فائر کیا تھا، لیکن ماریوپول کی سٹی کونسل نے کہا کہ اسپتال کو کئی بار فضائی حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے جو تباہ کن ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ماریوپول کمپلیکس کو سلسلہ وار دھماکوں سے نشانہ بنایا گیا، جس سے کھڑکیوں کے شیشے اُڑ گئے اور ایک عمارت کے سامنے کا بڑا حصہ اکھڑ گیا۔ جبکہ زمین ایک میل دور تک لرز گئی۔

    دھماکے والی فوٹیج میں بھی دکھایا گیا ہے کہ پولیس اور سپاہی متاثرین کو نکالنے کے لیے جائے وقوعہ پر پہنچ رہے ہیں، جس میں دیگر خواتین سمیت حاملہ خاتون کو بھی اسٹریچر پر لے جایا جارہا ہے۔

    یوکرین میں 2500 سے زائد بھارتی طلباء کو بچانے والا پاکستانی

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بھی ٹویٹر پر مبینہ حملے کی فوٹیج شیئر کی، جس میں عمارت کو تباہ حال دیکھا جا سکتا ہے۔ صدر نے لکھا کہ دنیا کب تک دہشت گردی کو نظر انداز کرتی رہے گی؟ ابھی آسمان بند کرو! قتل و غارت بند کرو! آپ کے پاس طاقت ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ آپ انسانیت کھو رہے ہیں۔

    تاہم روئٹرز نے کریملن کے ترجمان سے رابطہ کیا، جس نے اس حملے کی تردید کی اور کہا کہ روسی افواج شہری اہداف کو نشانہ نہیں بنا رہی۔

    راجیوگاندھی کے قتل میں ملوث مجرم 32 سال بعد ضمانت پر رہا

    دوسری جانب روسی افواج نے مقبوضہ شہر خرسون سے 400 سے زائد افراد کو گرفتار بھی کرلیا ہے۔ عالمی ریسکیو تنظیم ریڈ کراس نے ماریوپول شہر کے حالات کو قیامت خیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بندرگاہ سے متصل شہر میں گزشتہ 9 روز سے پانی اور بجلی منقطع ہے۔

  • پولینڈ کی یوکرین کو مگ 29 لڑاکا طیارے کی پیشکش،اس طرح تو روس کسی کو بھی نہیں چھوڑے گا:امریکہ

    پولینڈ کی یوکرین کو مگ 29 لڑاکا طیارے کی پیشکش،اس طرح تو روس کسی کو بھی نہیں چھوڑے گا:امریکہ

    واشنگٹن :پولینڈ کی یوکرین کو مگ 29 لڑاکا طیارے کی پیشکش،اس طرح تو روس کسی کو بھی نہیں چھوڑے گا:اطلاعات کے مطابق امریکہ نے یوکرین کو مگ 29 لڑاکا طیارے فراہم کی پولینڈ کی پیشکش کو مسترد کر دیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق پینٹاگون کا کہنا ہے کہ سوویت دور کے طیاروں کو جرمنی میں امریکی اڈے کے ذریعے کیف منتقل کرنے کی پولینڈ کی تجویز ناقابلِ عمل ہے۔اس تجویز نے پورے نیٹو اتحاد کے لیے سنگین تشویش پیدا کر دی ہے۔

    اس تناظر میں پینٹاگون کے ترجمان جان کربی کا کہنا ہے کہ ہم اس مسئلے اور اس سے پیش آنے والے مشکل لاجسٹک چیلنجز کے بارے میں پولینڈ اور اپنے دیگر نیٹو اتحادیوں سے مشاورت جاری رکھیں گے، لیکن ہمیں یقین نہیں ہے کہ پولینڈ کی تجویز قابل عمل ہے۔ یہ صرف ہمارے لیے واضح نہیں ہے کہ اس کے لیے کوئی ٹھوس دلیل موجود ہے۔

    دوسری جانب روس نے متنبہ کیا ہے کہ یوکرین کی فضائیہ کی حمایت کو ماسکو میں تنازعہ میں حصہ لینے اور سپلائی کرنے والوں کو ممکنہ جوابی کارروائی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

    اس حوالے سے برطانوی وزیر دفاع بین والیس نے کہا تھا کہ اس طرح ہم پولینڈ کی حفاظت کریں گے، ہم ان کی ہر اس چیز میں مدد کریں گے جس کی انہیں ضرورت ہے۔پولینڈ کے وزیر اعظم میٹیوز موراویکی نے کہا کہ جارحانہ ہتھیاروں کی فراہمی کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ نیٹو کے ارکان کو متفقہ طور پر کرنا چاہیے۔

    یاد رہے، یوکرین کی فضائیہ کا بیڑا پرانے سوویت دور کے مگ 25 اور سکوئی 27 جیٹ طیاروں، اور اس سے زیادہ بھاری سکوئی 25 جیٹ طیاروں پر مشتمل ہے اور یہ وہ واحد طیارے ہیں جو یوکرین کے پائلٹ بغیر کسی اضافی تربیت کے فوری طور پر اڑ سکتے ہیں۔

    علاوہ ازیں، امریکی فوج نے اعلان کیا کہ وہ امریکی اور اتحادی افواج اور نیٹو کی سرزمین کے لیے کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے دو پیٹریاٹ میزائل کی بیٹریاں پولینڈ میں نصب کرے گی۔

  • امریکہ بھی روس یوکرین جنگ میں کودنے کے قریب:روس سخت جواب دینےکے لیے تیار

    امریکہ بھی روس یوکرین جنگ میں کودنے کے قریب:روس سخت جواب دینےکے لیے تیار

    واشنگٹن :امریکہ بھی روس یوکرین جنگ میں کودنے کے قریب:روس سخت جواب دینےکے لیے تیار،اطلاعات کے مطابق امریکا نے روس کی جانب سے یوکرین پر حملےکے تناظر میں نیٹو رکن ملک پولینڈ میں پیٹریاٹ میزائل ڈیفنس سسٹم نصب کردیا۔

    غیر ملکی خبرایجنسی کے مطابق امریکا نے میزائل اور جنگی طیاروں کے حملوں کے خلاف دفاع کرنے والے پیٹریاٹ میزائل سسٹم کی2 بیٹریوں کو پولینڈ میں نصب کیا ہے۔امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے سینیئر اہلکار کے مطابق امریکا کا یہ اقدام نیٹو کے رکن ملک کے دفاع کے حوالے سےکیےگئے اپنے وعدوں کو پورا کرنا ہے۔

    پینٹاگون کے سینیئر اہلکار کے مطابق پیٹریاٹ میزائل کی یہ دو بیٹریاں جرمنی میں نصب تھیں تاہم یوکرین کے ہمسایہ ملک پولینڈ کی درخواست پر انہیں وہاں تعینات کیا گیا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی حکومت نے یہ اقدام نیٹو رکن پولینڈ کے دفاع کے لیے اٹھایا ہے جو کہ اس بات کے خطرے کو ظاہرکرتا ہےکہ کہیں روس کا میزائل جان بوجھ کر یا غلطی سے یوکرین کی سرحد پار کرکے پولینڈ کو نشانہ نہ بناڈالے۔

    دوسری طرف یوکرینی صدر ولودومیر زیلینسکی نے ایک بار پھر مغربی طاقتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جنگی طیاروں کی فراہمی سے متعلق جلد فیصلہ کرلیں۔

    فرانسیسی خبر رساں ایجنسی (اے ایف پی) کے مطابق ولودومیر زیلینسکی نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر جاری ویڈیو میں کہا کہ ’کب فیصلہ کریں گے؟ ہم حالت جنگ میں ہیں، ہم پھر آپ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ذرا جلدی فیصلہ کرلیں، ہمیں جنگی طیارے بھیجیں۔‘

    خیال رہے کہ یوکرین کے پڑوسی اور نیٹو کے رکن ملک پولینڈ نے پیشکش کی ہے کہ اگر امریکا چاہے تو وہ جرمنی میں امریکی فضائی اڈے کے ذریعے اپنے روسی ساختہ مگ 29 لڑاکا طیارے یوکرین بھیج سکتا ہے۔

    تاہم گزشتہ روز امریکا نے پولینڈ کی اس پیشکش کو مسترد کردیا تھا۔ اس معاملے پر زیلینسکی نے کہا کہ ’ہمیں میڈیا کے ذریعے معلوم ہواکہ امریکی و پولش حکام کے درمیان اس حوالے سے بات چیت ہوئی ہےلیکن ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پولینڈ کی پیشکش کی حمایت نہیں کی گئی۔‘زیلینسکی نے مزید کہا کہ ’ہمارے پاس وقت نہیں ہے، یہ پنگ پانگ کا کھیل نہیں ہو رہا ، انسانی جانیں داؤ پر لگی ہیں۔‘

    خیال رہے کہ گزشتہ روز امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے کہا تھا کہ امریکی و نیٹو ائیربیس سے جنگی طیاروں کا اڑنا اور ایسے ملک کی فضائی حدود میں داخل ہونا جو روس سے نبردآزما ہے یہ پورے نیٹو کیلئے سنگین خدشات پیدا کرسکتا ہے، ہمارے خیال میں پولینڈ کی تجویز قابل عمل نہیں۔

  • یوکرینی صدر نے پھر جنگی طیارے مانگ لیے:جنگ طویل ہونےکا خدشہ

    یوکرینی صدر نے پھر جنگی طیارے مانگ لیے:جنگ طویل ہونےکا خدشہ

    خارکیف : یوکرینی صدر نے پھر جنگی طیارے مانگ لیے:جنگ طویل ہونےکا خدشہ،اطلاعات ہیں کہ یوکرینی صدر ولودومیر زیلینسکی نے ایک بار پھر مغربی طاقتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جنگی طیاروں کی فراہمی سے متعلق جلد فیصلہ کرلیں۔

    فرانسیسی خبر رساں ایجنسی (اے ایف پی) کے مطابق ولودومیر زیلینسکی نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر جاری ویڈیو میں کہا کہ ’کب فیصلہ کریں گے؟ ہم حالت جنگ میں ہیں، ہم پھر آپ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ذرا جلدی فیصلہ کرلیں، ہمیں جنگی طیارے بھیجیں۔‘

    خیال رہے کہ یوکرین کے پڑوسی اور نیٹو کے رکن ملک پولینڈ نے پیشکش کی ہے کہ اگر امریکا چاہے تو وہ جرمنی میں امریکی فضائی اڈے کے ذریعے اپنے روسی ساختہ مگ 29 لڑاکا طیارے یوکرین بھیج سکتا ہے۔

    تاہم گزشتہ روز امریکا نے پولینڈ کی اس پیشکش کو مسترد کردیا تھا۔ اس معاملے پر زیلینسکی نے کہا کہ ’ہمیں میڈیا کے ذریعے معلوم ہواکہ امریکی و پولش حکام کے درمیان اس حوالے سے بات چیت ہوئی ہےلیکن ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پولینڈ کی پیشکش کی حمایت نہیں کی گئی۔‘زیلینسکی نے مزید کہا کہ ’ہمارے پاس وقت نہیں ہے، یہ پنگ پانگ کا کھیل نہیں ہو رہا ، انسانی جانیں داؤ پر لگی ہیں۔‘

    خیال رہے کہ گزشتہ روز امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے کہا تھا کہ امریکی و نیٹو ائیربیس سے جنگی طیاروں کا اڑنا اور ایسے ملک کی فضائی حدود میں داخل ہونا جو روس سے نبردآزما ہے یہ پورے نیٹو کیلئے سنگین خدشات پیدا کرسکتا ہے، ہمارے خیال میں پولینڈ کی تجویز قابل عمل نہیں۔