Baaghi TV

Tag: روس

  • مالدووا نےبھی یورپی یونین میں شمولیت کی درخواست دے دی :روس کوتنہا کرنے کی کوششیں

    مالدووا نےبھی یورپی یونین میں شمولیت کی درخواست دے دی :روس کوتنہا کرنے کی کوششیں

    پیرس :جنگ کے پیشِ نظر مالدووا نےبھی یورپی یونین میں شمولیت کی درخواست دے دی :روس کوتنہا کرنے کی کوششیں،اطلاعات کے مطابق یورپی ملک مالدووا نے بھی یوکرین میں جاری روسی جنگ کے باعث یورپی یونین میں شمولیت کیلئے درخواست دے دی۔

    برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق مالدوواکی صدر مایا ساندو نے جمعرات کے روز یورپی یونین میں شمولیت کے لیے ایک باضابطہ درخواست پر دستخط کردیے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق مالدوواکی جانب سے یہ فیصلہ کچھ دن قبل یوکرینی صدر ولودومیر زیلینسکی کی یورپی یونین کی فوری رکنیت کے لیے درخواست پر دستخط کیے جانے کے چند دن بعد سامنے آیا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق مایا ساندو، وزیر اعظم اور پارلیمانی اسپیکر نے دارالحکومت چیسیناؤ میں ایک بریفنگ کے دوران یورپی یونین میں شمولیت کی درخواست پر دستخط کیے۔واضح رہے کہ 1991 میں مالدووا کی سوویت یونین سے آزادی کے بعد سے چیسیناؤ میں روس اور یورپی یونین کے حامی کنٹرول حاصل کرنے کیلئے لڑچکے ہیں۔

    خبر رساں ایجنسی کے مطابق صدر مایا ساندو نے دستاویزات پر دستخط کرنے سے پہلے کہا کہ’ مالدوواکو یہاں تک پہنچنے کیلئے 30 سال لگے لیکن آج ملک اپنے مستقبل کی ذمہ داری خود لینے کے لیے تیار ہے’۔

    انہوں نے کہا کہ ہم امن، خوشحالی،آزاد دنیا کا حصہ بننا چاہتے ہیں جبکہ کچھ فیصلوں میں وقت لگتا ہے تاہم دوسروں کو فوری اور فیصلہ کن طریقے سے اور بدلتی ہوئی دنیا کے ساتھ آنے والے مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں یورپی یونین میں شمولیت کی درخواست بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز بھیج دی جائے گی۔دوسری جانب سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ یورپی یونین میں شامل ہونے کیلئے یوکرین اور مالدووا کے حوالے سے مذاکرات ابھی تک شروع نہیں ہوئے ۔

    تاہم یورپی یونین کے رہنما یوکرین کی درخواست پر اگلے ماہ ایک غیر رسمی سربراہی اجلاس میں تبادلہ خیال کر سکتے ہیں۔

  • ایک طرف روس کا گھیراو تو دوسری طرف چین پردباو:امریکہ کا بھارت کوجدید اسلحہ دینے کا فیصلہ

    ایک طرف روس کا گھیراو تو دوسری طرف چین پردباو:امریکہ کا بھارت کوجدید اسلحہ دینے کا فیصلہ

    واشنگٹن :ایک طرف روس کا گھیراو تو دوسری طرف چین پردباو:امریکہ کا بھارت کوجدید اسلحہ دینے کا فیصلہ ،اطلاعات کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار کا کہنا ہے کہ چین سے مقابلے کے لیے امریکہ بھارت کی دفاعی صلاحیتوں کو تیزی سے بڑھا رہا ہے۔ چین ہر موڑ پر بھارت کو بھی اسی طرح اکسا رہا ہے، جس طرح وہ امریکہ کے ساتھ کرتا ہے۔ اسی لیے واشنگٹن بھارت کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے پر عزم ہے۔

    تفصیلات کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار کا کہنا ہے کہ چین ہر موڑ پر بھارت کو اسی انداز سے اکسا رہا ہے جس طرح اس کا سلوک امریکہ کے ساتھ ہے۔ اسی لیے واشنگٹن بھارت کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط تر کرنے کے مقصد سے اپنی پیش رفت کو تیز کرنے کے لیے پر عزم ہے۔

    جنوبی ایشیا اور وسطی بھارت سے متعلق معاون سیکرٹری آف اسٹیٹ ڈونلڈ لو سینیٹ کی ایک ذیلی کمیٹی کے ارکان کو خطے کی صورت حال کے بارے میں کہنا تھا کہ ہم اپنی دفاعی شراکت داری میں پیش رفت کو تیز تر کرنے اور چینی اشتعال انگیزیوں کو روکنے کے لیے بھارت کی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے پر عزم ہیں۔ اس سلسلے میں مضبوط بحری تعاون، بہتر معلومات اور انٹیلیجنس شیئرنگ کے ساتھ ہی خلائی اور سائبر اسپیس جیسے ابھرتے ہوئے میدانوں میں بھی ہم نے بھارت کے ساتھ تعاون کو بڑھا دیا ہے۔”

    کواڈ امریکہ، بھارت، آسٹریلیا اور جاپان پر مشتمل ایک چار رکنی گروپ ہے جو خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر قابو پانے اور آزاد نیز کھلے ہند بحرالکاہل کے مشترکہ وژن کو آگے بڑھانے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔

    میلبورن میں کواڈ کے وزراء خارجہ کی ہونے والی حالیہ میٹنگ کا حوالہ دیتے ہوئے، لو نے کہا کہ جس انداز سے کواڈ کے تمام شراکت داروں نے آزاد ہند بحرالکاہل کی حمایت کرنے کا عزم کیا ہے وہ کافی حوصلہ بخش بات ہے۔

  • روک سکو تو روک لو:ہم فاتح بن آئے ہیں:روسی افواج دارالحکومت کیف کی دہلیز پر:روسی میڈیا کا دعویٰ

    روک سکو تو روک لو:ہم فاتح بن آئے ہیں:روسی افواج دارالحکومت کیف کی دہلیز پر:روسی میڈیا کا دعویٰ

    روسی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین کو فتح کرنے کا وقت آن پہنچا ہے اور روسی افواج نے دارالحکومت کیف کو چاروں اطراف سے گھیر لیا ہے۔
    روسی وزارت دفاع نے روسی فوج اور فوجی گاڑیوں کے قافلے کا ایک وڈیو جاری کیا ہے۔

    روس کے سرکاری میڈیا ادارے آرٹی آئی کے ٹوئٹر ہینڈل پر شیئر کئے گئے اس وڈیو میں یوکرین کے دارالحکومت کیف کی طرف روسی فوجی گاڑیوں کے لمبے قافلے، ٹینکر، ہیلی کاپٹر اور بکتر بند گاڑیاں بڑھتی نظر آ رہی ہیں۔

    وڈیو میں یوکرین کی تباہی کا منظر بھی صاف دیکھا جاسکتا ہے۔ جہاں تباہ شدہ عمارتیں، تباہ شدہ فوجی ٹینکس صاف دکھائی دے رہے ہیں۔ اس ویڈیو میں کئی روسی فوجی بھی نظر آ رہے ہیں۔

     

    روسی میڈیا کے مطابق یوکرین کے دارالحکومت اور دوسرے سب سے بڑے شہر خار کیف میں روسی فوج بڑی تعداد میں پہنچ چکی ہے۔

    خارکیف میں گزشتہ دو دنوں سے مسلسل گولہ باری جاری ہے اور شہریوں کی بڑی تعداد نقل مکانی پر مجبور ہیں۔یوکرین کے شہری پڑوسی ممالک پولینڈ اور ہنگری میں پناہ لے رہے ہیں، ان پناہ گزینوں میں کچھ کمزور شہری بھی شامل ہیں۔

    پولینڈ اور ہنگری کے شہریوں نے یوکرین کے پناہ گزینوں کا کھلے دل سے استقبال کر رہے ہیں اور جنگ کے وقت بھی انسانیت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

    ہنگری کے جاہونی ریلوے اسٹیشن پر بدھ کو ایک ٹرین پہنچی، جس میں جسمانی اور ذہنی طور پر معذور تقریباً 200 لوگ سوار تھے۔

  • روس کی خلائی ایجنسی کا سسٹم ہیک کرلیا:ہیکرز کا دعویٰ

    روس کی خلائی ایجنسی کا سسٹم ہیک کرلیا:ہیکرز کا دعویٰ

    ماسکو:روس کی خلائی ایجنسی کا سسٹم ہیک کرلیا:ہیکرز کا دعویٰ ،اطلاعات کے مطابق ہیکرز کے گروپ ’اینونمس‘ نے روس کی خلائی ایجنسی(روسکوسموس) کو ہیک کرنے کا دعویٰ کردیا اور کہا ہے کہ پیوٹن کا خلائی سرگرمیوں پر اب کنٹرول نہیں رہا۔

    غیرملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اینونمس نے دعویٰ کیا ہے کہ روسی حکومت اپنی خلائی سرگرمیوں اور سیٹلائٹس کا کنٹرول اب کھو چکی ہے کیوں کہ ہم نے روسکوسموس کو ہیک کرکے بند کردیا ہے۔

    روسی خلائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل اولیگوچ نے ہیکرز کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے اینونمس کو غیرضروری اور دھوکے باز گروپ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایجنسی سے متعلق خبریں حقیقت کے منافی ہیں۔
    اولیگوچ نے کہا کہ ہماری خلائی سرگرمیاں اور کنٹرول سینٹرز معمول کے مطابق آپریٹ کررہے ہیں۔ روسی اسپیس انڈسٹری سائبر حملوں سے محفوظ ہے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل ہیکرز کی ٹیم نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے 300 سے زائد روسی ویب سائٹس تک رسائی حاصل کرکے یوکرین پر حملے میں شامل روسی ٹینک کے عملے کو ٹینک چھوڑنے کے عوض 53 ہزار ڈالر کی پیشکش کی۔

    اینونمس کا کہنا تھا کہ انہوں نے کئی ارب ڈالرز ان روسی فوجیوں کے لیے جمع کیے ہیں جو جنگ سے دست بردار ہوکر اپنا ٹینک سفید جھنڈا لگا کر چھوڑ دیں گے۔

  • مشرقی یوکرین میں روس نواز میئرکواغوا کرنے کے بعد قتل کردیا گیا

    مشرقی یوکرین میں روس نواز میئرکواغوا کرنے کے بعد قتل کردیا گیا

    کیف: مشرقی یوکرین میں روس نواز میئرکواغوا کرنے کے بعد قتل کردیا گیا ،طلاعات کے مطابق مشرقی یوکرین میں ایک روس نواز میئر کو پہلے گھر سے اغوا کیا گیا اور پھر گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ میر نے یوکرین پر حملے کے بعد روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے حملے کا خیر مقدم کیا۔

    ان کی اہلیہ کے مطابق لوہانسک میں کریمنا میں ولادیمیر اسٹارک کو منگل کو قتل کر دیا گیا ۔ انہیں گھر سے اغوا کرنے کے بعد سینے میں گولی مار دی گئی۔

    فیس بک پر خبر کا اعلان کرتے ہوئے، یوکرین کے وزیر داخلہ انٹیک گیرا چنکا کے ایک مشیر نے دعویٰ کیا کہ اسٹراک ‘لوہانسک پیپلز ریپبلک کا حامی’ (ایل پی آر) تھا۔

    رپورٹ کے مطابق لوہانسک عوامی جمہوریہ مشرقی یوکرین کے اندر واقع ایک خود ساختہ علیحدہ ریاست ہے جسے 2014 میں روس نواز علیحدگی پسندوں نے قائم کیا تھا۔

    یوکرین کے وزیر داخلہ کے مشیر نے الزام لگایا کہ اسٹراک کو پیپلز ٹربیونل نے غدار کہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یوکرین گزشتہ آٹھ سالوں سے اسٹراک کے خلاف کچھ نہیں کر سکا کیونکہ ماسکو کے حامی علیحدگی پسند ڈونیٹسک اور لوہانسک کے جنوب مشرق میں یوکرین کے علاقوں کو کنٹرول کر رہے تھے۔

  • روس کا یوکرین کے 60 طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ

    روس کا یوکرین کے 60 طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ

    ماسکو: روس کی وزارت دفاع نے یوکرین کے 60 طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : روسی وزارت دفاع کے ترجمان ایگور کوناشینکوف کے مطابق یوکرین کے 484 ٹینک اور47 ڈرون سمیت دیگردفاعی ہتھیارتباہ کردئیے گئے ہیں جبکہ مجموعی طورپریوکرین کے 1533اثاثے تباہ کردئیے گئے ہیں۔

    بھارت نےیوکرین میں بھارتی طلبا کویرغمال بنانےکا روسی دعویٰ مسترد کردیا

    دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں روس سے یوکرین میں خوںریزی روکنے اورفوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یوکرین سے اب تک 10 لاکھ افراد نقل مکانی کرچکے ہیں۔

    عالمی عدالت انصاف میں یوکرین پرحملےمیں شہریوں کی ہلاکت پرروس کیخلاف ممکنہ جنگی جرائم کےسلسلےمیں درخواست پرکارروائی کا آغازہوگیا ہے یوکرین نے روس کیخلاف عالمی عدالت میں درخواست دی ہے۔

    یوکرین کے مختلف شہروں میں روس کےحملے جاری ہیں دارالحکومت کیف میں 4 دھماکے ہوئے تاہم دھماکوں کے بعد صورتحال واضح نہیں۔

    قبل ازیں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روسی حملے کے بعد سے اب تک 9000 روسی فوجیوں کے ہلاک ہونے کا دعویٰ کیا تھا یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ روس کے یوکرین پرحملے کے بعد سے اب تک 9000 روسی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔

    بھارتی عملہ غائب، پاکستان نے دی یوکرین میں پھنسے بے یارومددگار بھارتی طلبہ کو پناہ

    صدرزیلنسکی کا کہنا تھا حملہ آورفوج کو پیغام دیتا ہوں کہ وہ واپس اپنے گھرجائیں۔ حملہ آورروسی فوج کویہاں نہ سکون ملے گے نہ کھانا صرف یوکرینی عوام کی جانب سے مزاحمت ملے گی۔ایسی مزاحمت جو وہ ساری زندگی یاد رکھیں گے۔

    انہوں نے مزید کہا تھا کہ یوکرین کے عوام حملہ آورروسی فوجیوں کوبتا دیں گے کہ حب الوطنی کے ساتھ لڑی جانے والی جنگ کیسی ہوتی ہے۔

    قبل ازیں یوکرین کی وزارت دفاع نے روس کے ساتھ جاری جھڑپوں کے دوران میدان جنگ سے پکڑے گئے فوجیوں کو رہا کرنے کے لیے شرط عائد کی تھی یوکرین کی وزارت دفاع نے اعلان کیا تھا کہ یوکرین پر حملہ کرنے والے روسی فوجیوں کی پریشان حال مائیں آئیں اور میدان جنگ سے پکڑے گئے اپنے بیٹوں کو لے جائیں تاہم شرط یہ ہے کہ وہ کیف، یوکرین آئیں۔

    یوکرین کی جانب سے روس پر دباؤ بڑھانے کے لیے اس اقدام کو اٹھایا گیا ، جس میں کہا گیا تھا کہ پکڑے جانے والے روسی فوجیوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے لیے ٹیلی فون نمبرز اور ای میل ایڈریس بھی شائع کردیا ہے۔

    اس سے قبل یوکرین نے متعدد بار درجنوں روسی فوجیوں کو پکڑنے کا دعویٰ کیا تھا کہ جبکہ یونیفارم میں ملبوس نہتے نوجوانوں کی موبائل فون سے بنائی گئی ویڈیوز آن لائن گردش کر رہی ہیں۔

    کیف نے روسی والدین کے لیے ٹیلی فون ہاٹ لائن قائم کر کے حملے کے حق میں روس عوام کی حمایت کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے ہاٹ لائن قائم کرنے کا مقصد یہ ہے کہ روسی والدین معلوم کر سکیں کہ آیا ان کے بیٹے مرنے والوں میں شامل ہیں یا پکڑے گئے۔

    دوسری جانب یوکرین پر حملے کے بعد حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ لڑائی میں اب تک 5840 سے زائد فوجی مارے گئے ہیں، گو کہ اس دعوے کی تصدیق نہیں کی جا سکی روس نے تسلیم کیا تھا کہ اسے نقصان ہوا لیکن اب تک کوئی تفصیل نہیں بتائی گئی۔

    سوشل میڈیا کمپنیز نے یو کرین میں روسی افواج کا راستہ روکنےکیلئے اہم حکمت عملی…

  • اقوام متحدہ میں یوکرین پر روس کے حملے کے خلاف قرارداد منظور

    اقوام متحدہ میں یوکرین پر روس کے حملے کے خلاف قرارداد منظور

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے یوکرین پر روس کے حملے کے خلاف قرارداد منظور کر لی۔

    باغی ٹی وی: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے قرارداد میں روس کے یوکرین پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے یوکرین سے روسی افواج کے فوری انخلا کا مطالبہ کیا ہے جنرل اسمبلی سیشن میں 193 میں سے 141 رکن ممالک نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا ہے جبکہ 5 ممالک روس، بیلاروس، شمالی کوریا، شام اور ایریٹریا نے مخالفت میں ووٹ ڈالا۔

    یوکرین پرروسی حملہ:برطانیہ میں روسی گیس کپمنی کو اربوں ڈالرز کا نقصان

    ووٹنگ کے دوران پاکستان سمیت 35ممالک نے غیر حاضر رہتے ہوئے اس معاملہ پرغیر جانبداری کا اظہار کیا ہے۔

    پاکستان کے مستقل مندوب منیر نے روس یوکرین تنازع پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع سفارتکاری کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہےکشیدگی میں کمی کیلئے مذاکرات کی ضرورت ہے امید ہے سفارتکاری فوجی تنازع ٹال سکتی ہے سب کیلئے یکساں تحفظ کے اصول کو برقرار رکھنا چاہیے۔ان اصولوں کو عالمی سطح پر قبول کیا جانا چاہیے۔

    اس ووٹنگ سے قبل اقوام متحدہ میں یوکرین کے سفیر سرجی کسلٹسیا نے کہا کہ روس نے یوکرین سے موجود ہونے کا حق چھین لیا ہے۔

    دوسری جانب روسی سفیر ویسیلی نیبنزیا کا کہنا تھا کہ روس مشرقی یوکرین میں علیحدگی پسند تنازع حل کروانا چاہتا ہے۔

    واضح رہے کہ 1997 کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی پہلی ہنگامی میٹنگ ہے۔

    سوشل میڈیا کمپنیز نے یو کرین میں روسی افواج کا راستہ روکنےکیلئے اہم حکمت عملی ترتیب دے دی

    قبل ازیں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے خبردار کیا ہے کہ اگر تیسری عالمی جنگ ہوئی تو وہ ایٹمی ہتھیاروں سے لڑی جائے گی اور زیادہ تباہ کن ہوگی روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کونسل کے اجلاس سے ریکارڈ شدہ ویڈیو خطاب میں متنبہ کیا کہ تیسری عالمی جنگ چِھڑ سکتی ہے۔

    روسی وزیر خارجہ نے سرگئی لاوروف یوکرین کی جانب سے ممکنہ طور پر ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال پر کہا اگر تھرڈ ورلڈ وار ہوتی ہے تو وہ ایٹمی جنگ ہوگی اور سب کے لیے تباہ کن ثابت ہوگی آسٹریلیا کی جانب سے یوکرین کو ایٹمی ہتھیاروں کی فراہمی کے اعلان پر سرگئی لاوروف نے دھمکی دی کہ اگر یوکرین نے جوہری ہتھیار حاصل کیے تو اسے حقیقی معنوں میں خطرے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    جنگ میں5700 روسی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں،یوکرین

    روسی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ مغربی ممالک کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندیوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں تاہم امید ہے کہ روسی ایتھلیٹس، کھلاڑیوں، صحافیوں اور نمائندوں کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا سرگئی لاوروف نے یوکرین میں حملے کا دفاع کیا اور فوجی جارحیت کو خصوصی ملٹری آپریشن قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے الزامات بے بنیاد ہیں۔

    واضح رہے کہ روس کے یوکرین پر حملوں کا ساتواں روز ہے جس پر مغربی ممالک نے صدر پوٹن سمیت روسی بینکوں، کمپنیوں، تاجروں اور اداروں پابندیاں عائد کرچکی ہیں جب کہ روسی افواج دوسرے بڑے شہر خارکیف میں داخل ہوچکی ہیں۔

    انٹرنیشل ٹینس فیڈریشن نے بھی روس کی رکنیت معطل کر دی

  • یوکرین پرروسی حملہ:برطانیہ میں روسی گیس کپمنی کو اربوں ڈالرز کا نقصان

    یوکرین پرروسی حملہ:برطانیہ میں روسی گیس کپمنی کو اربوں ڈالرز کا نقصان

    لندن :یوکرین پرروسی حملہ:برطانیہ میں روسی گیس کپمنی کو اربوں ڈالرز کا نقصان ،اطلاعات کے مطابق روس کی قومی گیس کمپنی Gazprom کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن 2 مارچ کو لندن سٹاک ایکسچینج میں محض 250 ملین ڈالر تک گر گئی، اس کے سٹاک کی قیمت میں 97% کی ایک دن کی کمی کے بعد ماہرین نے روسی کمپنی کے لیےخطرے کی گھنٹی بجادی

    یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب مغربی ممالک یوکرین میں ماسکو کی بڑھتی ہوئی جنگ کے جواب میں حالیہ دنوں میں روس کی معیشت کے خلاف اپنی پابندیاں بڑھا رہے ہیں۔ Gazprom کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن سال کے آغاز میں $68bn سے زیادہ تھی، اور 1 مارچ کو $61bn سے اوپر بند ہوئی۔

    2 مارچ کو 11:30 GMT تک، Gazprom میں حصص کی قیمت صرف $0.03 فی پیس تھی، جو اسے $248.6mn کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن دیتا ہے۔

    روس کی سب سے بڑی تیل کمپنی Rosneft کو 2 مارچ کو اس کے حصص کی قیمت میں $0.88 فی حصص میں اسی طرح کی لیکن کم شدید ناکافی کا سامنا کرنا پڑا، جس سے اسے $9bn کا مارکیٹ کیپٹلائزیشن حاصل ہوئی۔ روس کے دوسرے سب سے بڑے گیس پروڈیوسر نووٹیک کے حصص 96% سے زیادہ گر گئے، جس سے اس کا سرمایہ صرف $163mn رہ گیا۔

    تیل اور گیس کی جگہ سے باہر، روس کے مرکزی سرکاری قرض دہندہ Sberbank نے بھی ابتدائی ٹریڈنگ میں اپنے حصص کی قیمت میں 94.24% کی کمی دیکھی جو صرف $0.01 تک پہنچ گئی۔ بینک نے کہا کہ اس کے یورپی ذیلی اداروں نے "غیر معمولی نقدی اخراج” کا تجربہ کیا ہے۔

  • یوکرین پرحملہ:اقوام متحدہ کی قراردادمنظور:پاکستان اور       چین کاحمایت سےاحتراز:روس پاکستان کا انتہائی مشکور

    یوکرین پرحملہ:اقوام متحدہ کی قراردادمنظور:پاکستان اور چین کاحمایت سےاحتراز:روس پاکستان کا انتہائی مشکور

    نیویارک:یوکرین پر روسی حملہ، اقوام متحدہ کی قرارداد منظور، پاکستان اور چین غیر حاضر رہے ،اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ (یو این) کی جنرل اسمبلی سے یوکرین پر روسی حملے کے خلاف قرار داد منظور ہوگئی جبکہ پاکستان اور چین اجلاس سے غیر حاضر رہے۔

    روس یوکرین جنگ کے معاملے پر 40 برس میں پہلی بار اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہنگامی اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس میں کثرت رائے سے روس کے خلاف مذمتی قرار داد منظور کرلی گئی۔193 رکنی ایوان میں 141 ممالک نے قرار داد کے حق میں ووٹ دیا، 5 نےخلاف ووٹ ڈالا جبکہ 35 غیر حاضر رہے۔

    غیر حاضر رہنے والے ممالک میں پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، چین، سری لنکا اور ایران شامل ہیںِ جبکہ روس، شام، بیلا روس سمیت 5 ممالک نے قرار داد کو مسترد کر دیا۔قرارداد میں روس کے حملے کی شدید مذمت کی گئی اور روس سے یوکرین سے افواج فوری طور پر نکالنے کا مطالبہ کیا گیا۔

    اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کے اجلاس میں روسی وزیر خارجہ کا خطاب شروع ہوتے ہی 100 سے زائد سفات کار واک آؤٹ کرگئے۔ یوکرین پر روسی حملے پر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کا اہم اجلاس جنیوا میں جاری ہے جس میں روسی وزیر خارجہ کی ریکارڈ شدہ ویڈیو تقریر دکھائی گئی۔ جیسے ہی روسی خارجہ سرگئی لاوروف کی ورچوئل تقریر شروع ہوئی، یوکرین کی سفیر ییہنیا فلپینکو کی قیادت میں 100 سے زائد ممالک کے سفارت کاروں نے اجلاس سے واک آؤٹ کیا اور صرف چند ارکان نے تقریر سنی۔

     

     

    واک آؤٹ کرنے والے ارکان یوکرین کی سفیر ییہنیا فلپینکو کے چیمبر کے سامنے جمع ہوگئے اور یوکرین پرچم تھام کر یکجہتی کا اظہار کیا جس پر یوکرین کی سفیر ییہنیا فلپینکو نے ان ارکان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ اقوام متحدہ میں روسی وزیر خارجہ کی تقریر پر 100 سے زائد ارکان کا واک آؤٹ کیا۔

    یوکرین پر روسی حملے پر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کا اہم اجلاس جنیوا میں جاری ہے جس میں روسی وزیر خارجہ کی ریکارڈ شدہ ویڈیو تقریر دکھائی گئی۔ جیسے ہی روسی خارجہ سرگئی لاوروف کی ورچوئل تقریر شروع ہوئی، یوکرین کی سفیر ییہنیا فلپینکو کی قیادت میں 100 سے زائد ممالک کے سفارت کاروں نے اجلاس سے واک آؤٹ کیا اور صرف چند ارکان نے تقریر سنی۔

    روسی وزیر خارجہ واک آؤٹ کرنے والے ارکان یوکرین کی سفیر ییہنیا فلپینکو کے چیمبر کے سامنے جمع ہوگئے اور یوکرین پرچم تھام کر یکجہتی کا اظہار کیا جس پر یوکرین کی سفیر ییہنیا فلپینکو نے ان ارکان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ یہ خبر بھی پڑھیں : امریکا کا اقوام متحدہ سے روس کی رکنیت ختم کرنے کا مطالبہ روسی خارجہ کی تقریر کا بائیکاٹ کرنے والوں میں یورپی یونین سمیت امریکا، برطانیہ، جاپان اور دیگر ممالک شامل تھے جب کہ شام، چین اور وینزویلا کے سفارتکار نے بائیکاٹ میں حصہ نہیں لیا۔ وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے یوکرین میں حملے کا دفاع کیا اور فوجی جارحیت کو خصوصی ملٹری آپریشن قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے الزامات بے بنیاد ہیں۔

  • یوکرین روس تنازع:عالمی عدالت میں7مارچ کوسماعت:روس کے خلاف مغربی اتحاد سرگرم

    یوکرین روس تنازع:عالمی عدالت میں7مارچ کوسماعت:روس کے خلاف مغربی اتحاد سرگرم

    ہیگ:یوکرین روس تنازع:عالمی عدالت میں7مارچ کوسماعت ،اطلاعات کے مطابق عالمی عدالت انصاف نے اعلان کیا ہے کہ وہ سات اور آٹھ مارچ کو یوکرین میں جاری جنگ میں نسل کشی کے معاملے کی سماعت کرے گی۔

    دوسری جانب یوکرین میں جاری جنگ میں شدت آ گئی ہے۔ ذرائع کےمطابق نیدرلینڈز کے شہر ہیگ میں قائم عالمی عدالت انصاف جو اقوام متحدہ کی اعلیٰ عدالت ہے، مقدمے کی کھلی سماعت کرے گی۔

    اس سے پہلے یوکرین نے عدالت کے پاس شکایت جمع کرائی تھی جس میں عدالت سے درخواست کی گئی تھی وہ روس کو یوکرین پر حملہ روکنے کا حکم دے۔ عدالت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’سماعت عبوری اقدامات کے لیے یوکرین کی جانب سے دی گئی درخواست تک محدود ہو گی۔‘

    ادھر پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ ادارے نے کہا کہ یوکرین سے چھ لاکھ 60 ہزار سے زیادہ لوگ پہلے ہی بیرون ملک نقل مکانی کر چکے ہیں۔ ادارے کے اندازے کے مطابق چار کروڑ 40 لاکھ کی آبادی والی سابق سوویت ریاست یوکرین میں 10 لاکھ افراد نے نقل مکانی کی ہے۔

    اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ آنے والے مہینوں میں 40 لاکھ پناہ گزینوں کو مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے اور مزید ایک کروڑ 20 لاکھ لوگوں کو ملک کے اندر امداد کی ضرورت ہو گی۔ عالمی عدالت انصاف کے پاس حملے میں ملوث روسی رہنماؤں پر انفرادی سطح پر مجرمانہ الزامات عائد کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

    تاہم وہ دنیا کی اعلیٰ عدالت ہے جو عالمی قانون کی مبینہ خلاف ورزی کے معاملے میں ریاستوں کے درمیان شکایات کا ازالہ کر سکتی ہے۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر کریم خان پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ وہ روس کے حملے کے بعد ’یوکرین کی صورت حال‘ پر تحقیقات شروع کر رہے ہیں۔

    پیر کو جاری بیان میں خان کے بقول: ’میں مطمئن ہوں کہ اس بات پر یقین کرنے کی معقول بنیاد موجود ہے کہ 2014 سے یوکرین میں مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم دونوں کا ارتکاب کیا گیا۔‘

    یوکرین پر حملے سے روس نے بین الاقوامی پابندیوں، بائیکاٹ اور معاشی پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے جارحانہ کارروائی کو آگے بڑھایا۔ اس کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد یوکرین کے روسی بولنے والوں کا دفاع اور قیادت کو اقتدار سے الگ کرنا ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ نے منگل کو اہم بیان میں کہا تھا کہ امریکہ کو یقین ہے کہ ’عدالت سنگین حالات اور تیزی سے سامنے آنے والے واقعات کو مدنظر رکھے گی۔‘ محکمہ خارجہ کے ترجمان ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ ’واشنگٹن کو امید ہے کہ عدالت سماعت کے دوران ’عبوری اقدامات کے لیے یوکرین کی درخواست پر انتہائی تیزی سے کام کرے گی۔‘

    امریکی ترجمان کے بقول: ’ہر وہ دن جب روس جارحیت میں بے لگام ہے ایسا دن ہے جو یوکرین میں مزید تشدد، مصائب، موت اور تباہی لاتا ہے۔‘