Baaghi TV

Tag: روس

  • رو س کا 8 مارچ سےتمام غیر ملکی پروازیں معطل کرنےکا اعلان:بڑی جنگ کی تیاری

    رو س کا 8 مارچ سےتمام غیر ملکی پروازیں معطل کرنےکا اعلان:بڑی جنگ کی تیاری

    ماسکو :رو س کا 8 مارچ سےتمام غیر ملکی پروازیں معطل کرنےکا اعلان:بڑی جنگ کی تیاری ،اطلاعات کے مطابق روس کی قومی ائیرلائن کا 8 مارچ سےتمام غیر ملکی پروازیں معطل کرنےکا اعلان

    روس کی قومی ائیرلائن ‘ائیروفلوٹ’ نے 8 مارچ سےتمام غیر ملکی پروازیں معطل کرنےکا اعلان کردیا۔ائیروفلوٹ ائیرلائن کی جانب سے اعلان کیا گیا ہےکہ 8 مارچ سے تمام غیر ملکی پروازیں معطل رہیں گی تاہم بیلاروس کے لیے پروازیں جاری رہیں گی۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق روس کی قومی ائیرلائن کی جانب سے یہ فیصلہ روسی ایوی ایشن ایجنسی کی ہدایت کے تحت کیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ اس لیےکیا گیا ہےکہ یوکرین پر حملےکے بعد مغربی ممالک کی جانب سے عائد پابندیوں کی وجہ سے بیرون ممالک سے لیز پر لیےگئے طیارے ضبط کیے جانےکا خدشہ ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یورپی کمیشن کی سربراہ نے یوکرین پر روسی حملے کے چوتھے روز روسی پروازوں کے یورپ کی فضائی حدود کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا تھا ۔

    سربراہ یورپی کمیشن کا کہنا تھا کہ ہم روس کے طیاروں پر یورپی فضائی حدود کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کررہے ہیں جس کے تحت روس کے زیر کنٹرول، رجسٹرڈ اور اس کے زیر ملکیت طیاروں کے یورپی فضائی حدود کے استعمال پر مکمل پابندی ہوگی۔

    انہوں نے کہا کہ روس کے نجی طیاروں سمیت کسی بھی قسم کی پروازوں کو یورپی زمین پر اترنے یا پرواز کرنے کی اجازت نہیں ہوگی جب کہ روسی طیاروں کو برطانیہ کی فضائی حدود استعمال کرنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔یورپی کمیشن کے اعلان سے پہلے ہی یورپی ممالک نے روسی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود کو بند کردیا تھا۔

    دوسری جانب یورپی کمیشن کے اعلان کے بعد روس کی سب سے بڑی ائیرلائن نے یورپ کے لیے اپنی تمام پروازوں کو منسوخ کردیا۔

  • یوکرین پر نو فلائی زون بنانیوالے ملک  روس پرحملہ آورسمجھے جائیں گے: پیوٹن

    یوکرین پر نو فلائی زون بنانیوالے ملک روس پرحملہ آورسمجھے جائیں گے: پیوٹن

    ماسکو : یوکرین پر نو فلائی زون بنانیوالے ملک روس پرحملہ آورسمجھے جائیں گے: اطلاعات کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے خبردار کیا ہےکہ اگر کسی بھی ملک نے یوکرین کو نو فلائی زون بنایا تو اسے جنگ میں براہ راست شریک سمجھا جائےگا۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق پیوٹن نے ماسکو میں روس کی قومی ائیرلائن کے صدر دفترکا دورہ کیا اور ملازمین سے خطاب کیا۔روسی صدرکا کہنا تھا کہ یوکرین کی فضائی حدود کو نوفلائی زون بنانا مشکل کام ہے، یوکرین میں نو فلائی زون بنانےکو جنگ میں براہ راست شرکت سمجھا جائےگا۔

    پیوٹن کا کہنا تھا کہ ہم نے مشرقی یوکرین میں حالات کشیدہ کیے بغیر معاہدوں اور وعدوں پر عمل درآمد کی کوششیں کی، تاہم یوکرینی حکومت کئی سال وعدوں کی تکمیل سے راہ فرار اختیار کرتی رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یوکرین میں محفوظ راہداریاں قائم کرنےکی پیشکش کی ہے، یوکرینی حکام نے شہریوں کو یرغمال بنا کر رکھاہے، یوکرینی حکام نے غیر ملکی طلبا کو بھی یرغمال بنالیا ہے۔

    انہوں نےکہا کہ روس کی سلامتی کو حقیقی خطرات کا سامنا ہے، روس چاہتا ہے یوکرین غیر جانبدار ملک بنے، یوکرین کے پاس ایٹمی ہتھیاروں کو بنانے اور ترقی دینےکی صلاحیت ہے، روس کے پاس مقررہ عسکری کارروائی کی تکمیل کےلیے وافر طاقت موجود ہے۔

    پیوٹن نے مزید کہا کہ روس پر عائد پابندیاں اعلان جنگ جیسا ہے، ہم یوکرین کی جانب سے مہلک ہتھیاروں کےحصول کی خواہش کا خاتمہ چاہتےہیں، مذاکرات کی میز پر اپنے مطالبات سے یوکرین کو آگاہ کرچکے ہیں،جواب کا انتظار ہے۔

    خیال رہے کہ روس کے حملے کے بعد سے یوکرینی صدر کی جانب سے یوکرین کو نو فلائی زون قرار دینے کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے تاہم نیٹو یوکرین میں ’نوفلائی زون‘ قائم کرنےکا مطالبہ مسترد کرچکا ہے۔
    کل اس حوالے سے نیٹو کے جنرل سیکرٹری اسٹالٹن برگ کا کہناتھاکہ یوکرین میں نو فلائی زون کے قیام سے جنگ دیگر یورپی ملکوں تک پھیل سکتی ہے۔

  • روس کے خلاف امریکہ اور اتحادی نیا کھیل کھیلنے لگے:جنگ جنگ اور ہرجگہ جنگ عام ہوگئی

    روس کے خلاف امریکہ اور اتحادی نیا کھیل کھیلنے لگے:جنگ جنگ اور ہرجگہ جنگ عام ہوگئی

    ماسکو:روس کے خلاف امریکہ اور اتحادی نیا کھیل کھیلنے لگے:جنگ جنگ اور ہرجگہ جنگ عام ہوگئی ،اطلاعات کے مطابق لائیو ویڈیو اسٹریمنگ ویب سائٹ ٹوئچ نے بھی گمراہ کن معلوما ت پھیلانے پر روس کے سرکاری میڈیا پر پابندی عائد کردی ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایمیزون کی ذیلی کمپنی ٹوئچ کی جانب سے روسی ٹی وی RT اور Sputnik پر پابندی لگا دی گئی ہے، جب کہ یورپی یونین کی جانب سے ان ٹی وی چینلز کو پہلے ہی پابندی کا سامنا ہے۔

    ٹوئچ کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق کمپنی نے ایسے روسی صارفین پر بھی پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو اس لائیو ویڈیو اسٹریمنگ ویب سائٹ پر مستقل جعلی اور گمراہ معلومات پھیلا رہے ہیں۔
    ویڈیو گیمرز میں مقبول پلیٹ فارم ٹوئچ کے مطابق یہ قانون دنیا بھر میں موجود ایسے تمام صارفین پر بھی لاگو ہوگا، جن کی آن لائن موجودگی کا مقصد ہی غلط معلومات اور سازشی تھیوریز کو فروغ دینا ہے۔
    ٹوئچ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ روس کا سرکاری میڈیا مستقل اپنے اصل مقصد سے ہٹ کر غلط خبریں نشر کر رہا ہے۔

    یاد رہے کہ روس کے سرکاری ٹیلے ویژن RT نے گزشتہ روز ہی ایک اور امریکی ویڈیو اسٹریمنگ پلیٹ فارم’ رمبل‘ پر منتقل ہونے کا اعلان کیا تھا۔انتظامیہ کی جانب سے یہ فیصلہ ٹوئٹر، میٹا اور گوگل کی جانب سے یوکرین پر حملے کے بعد عائد کی جانے والی پابندی کے تناظر میں کیا گیا۔

    کینیڈا کے اس ویڈیو پلیٹ فارم کو امریکا کے سیاسی حلقوں میں کافی دیکھا جاتا ہے۔ ٹوئچ کی جانب سے عائد پابندی کے حوالے سے مذکورہ ٹی وی چینلز کو کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

    یورپی یونین کی جانب سے عائد پابندی کے بعد سے دنیا کی مقبول ترین ویڈیو شیئرنگ ایپ اور نیٹ فلکس بھی روس کے سرکاری میڈیا پر پابندیاں اور روس میں جاری اپنے منصوبوں کو روک چکے ہیں۔

  • روسی پیش قدمی روکنے کے لیے یوکرین نے ٹینکوں، آبدوزوں اور ہیلی کاپٹروں سمیت مزید ہتھیار طلب کر لیے

    روسی پیش قدمی روکنے کے لیے یوکرین نے ٹینکوں، آبدوزوں اور ہیلی کاپٹروں سمیت مزید ہتھیار طلب کر لیے

    برلن :روسی پیش قدمی روکنے کے لیے یوکرین نے ٹینکوں، آبدوزوں اور ہیلی کاپٹروں سمیت مزید ہتھیار طلب کر لیے ،اطلاعات کے مطابق یوکرین میں روس کے فوجی آپریشن کا آج دسواں روز ہے۔ دونوں ملکوں کی افواج میں شدید لڑائی جاری ہے۔ جرمنی کی وزارت دفاع کے ذرائع نے بتایا ہے کہ یوکرین نے بھاری ہتھیار طلب کیے ہیں جن میں فوجی ٹینک ، آبدوزیں اور ہیلی کاپٹر شامل ہیں۔

    ذرائع کے مطابق مذکورہ ہتھیاروں کا ایک حصہ یوکرین روانہ کر دیا گیا ہے۔ تاہم ان کی تفصیلات نہیں بتائی گئی۔ذرائع نے مزید بتایا کہ یورپی یونین کو اُن خامیوں کو دور کرنا ہو گا جن کے ذریعے ماسکو خود پر عائد پابندیوں سے بچ نکل سکتا ہے۔

    دوسری جانب روسی افواج نے مختلف محاذوں پر پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے۔ یوکرین کے حکام نے خارکیف میں شہریوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قریبی پناہ گاہوں کا رخ کریں۔شہر کے مختلف حصوں میں زوردار دھماکے سنے گئے ہیں۔اور یہ بھی خیال کیا جارہا ہے کہ روسی افواج بہت جلد یوکرین کے بڑے حصے پرقبضہ کرلیں گی

    یوکرینی میڈیا کی ویب سائٹوں پر نشر ہونے والے وڈیو کلپوں میں کیف کے زیر انتظام علاقے پوروڈینکا میں عمارتوں کی وسیع پیمانے پر تباہی ظاہر ہو رہی ہے۔ علاوہ ازیں کیف اور بیلا روس کے بیچ ہائی وے پر تباہ شدہ روسی ٹینکوں اور عسکری ساز و سامان کو بھی دیکھا گیا۔

    امریکی ذمے داران نے باور کرایا ہے کہ یوکرین کی فوج کے حملوں اور ناکام منصوبہ بندی نے کیف کی جانب دھیرے دھیرے بڑھنے والے ایک بڑے فوجی قافلے کا راستہ روک دیا۔ادھر روسی فوج میکولایف شہر پر قبضے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس جگہ سے مستقبل میں اوڈیسا میں چھاتہ برداروں کو اتارے جانے کی کارروائیوں کو سپورٹ کیا جا سکے گا۔

  • یوکرین جنگ:روس نے”جھوٹی” خبریں پھیلانے پر 15 سال قید کی سزا کا قانون تیار کر لیا

    یوکرین جنگ:روس نے”جھوٹی” خبریں پھیلانے پر 15 سال قید کی سزا کا قانون تیار کر لیا

    ماسکو: روسی پارلیمنٹ نے یوکرین سے جنگ کے حوالے سے "جھوٹی” خبریں پھیلانے پر 15 سال قید کی سزا کا قانونی مسودہ منظور کرلیا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیرملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یوکرین سے جنگ کے تناظر میں ایسی خبروں اور معلومات کی تشہیر جو روسی مؤقف کی مخالف ہو روس میں جرم سمجھا جائے گا، پارلیمنٹ نے15 سال قید کی سزا کا قانونی مسودہ منظور کرلیا اس نئےبل کی منظوری کامقصد غیرملکی میڈیا کی ملک میں روس کی مخالفت روکنا ہے تاکہ سزا کے ڈر سے ایسی خبر نہ چلائی جائے جو روسی مؤقف کے مخالف ہو۔

    روس کا جوابی وار: ملک بھر میں فیس بک بند کردیا: تیسری ایٹمی جنگ بھڑکنے کےخدشات بڑھ گئے

    روسی حکام کا کہنا ہے کہ یوکرین میں عام شہریوں کی ہلاکت اور روس کی فوج کو بھاری نقصان جیسی حقیقت کے منافی خبریں پھیلائی جارہی ہیں۔ دوسری جانب روسی سرکاری میڈیا یوکرین پر حملے اور جنگ کو فوجی آپریشن قرار دے رہا ہے۔

    امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ روسی صدر ولادی میرپیوٹن مذکورہ قانونی مسودے پر دست خط کرکے اسے قانون کی شکل دے دیں گے جس کا اطلاق ہفتے سے ممکن ہے۔

    روس میں مذکورہ قانون کے تحت قید کی سزا کے علاوہ بھاری جرمانہ بھی ہوسکتا ہے اس اقدام کے بعد برطانوی خبر رساں ادارے(بی بی سی) نے روس میں اپنی سروس عارضی طور پر معطل کردی ہے۔

    جوہری پلانٹ پر روسی حملہ:سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس جاری،جنگ یا امن:بڑے فیصلے کی توقع

    قبل ازیں روسی ٹی وی چینل ’’دی رین‘‘ کے تمام ملازمین نے لائیو پروگرام میں استعفیٰ دے دیا اور آخری ٹیلی کاسٹ میں نو وار کا مطالبہ چلا دیا یوکرین میں روسی حملے کی کوریج کرنے پر پوٹن حکومت نے دی رین چینل کی نشریات کو معطل کردیا تھا۔

    جس کے بعد چینل کی بانی نتالیہ سندیوا نے آخری ٹیلی کاسٹ میں کہا تھا کہ ’’ نو ٹو وار‘‘ جس کے تمام ملازمین اسٹوڈیو سے باہر آگئے اور نشریات غیر معینہ مدد کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا۔

    چینل کے ملازمین بھی حکومت سے جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجاً مستعفی ہوگئے۔تھے ملازمین نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بھی استعفے شیئر کیے۔

    روس فی الفور یوکرین پرحملے روک دے:نیٹو کی دھمکی پر روس سخت غصےمیں آگیا

  • یوکرین: صدر زیلینسکی مُلک سے فرار ہوکر پولینڈ پہنچ گئے

    یوکرین: صدر زیلینسکی مُلک سے فرار ہوکر پولینڈ پہنچ گئے

    کیف : یوکرین: صدر زیلینسکی مُلک سے فرار ہوکر پولینڈ پہنچ گئے ،اطلاعات کے مطابق روس اور یوکرین کے درمیان جنگ نویں روز بھی جاری ہے۔حالات بد سے بد تر ہوگئے ہیں اور روسی فوج کی پیشقدمی نہیں رک سکی ہے جس کے سبب یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی یوکرائن کے دارالحکومت کیف میں ایک بنکر سے فرار ہو کر پولینڈ چلے گئے ہیں۔

    یہ دعویٰ روسی میڈیا نے کیا ہے۔ یہ اس لیے اہم ہے کہ صرف دو روز قبل امریکی صدر جو بائیڈن نے عوامی طور پر کہا تھا کہ زیلنسکی کو جب چاہیں یوکرین سے ہوائی جہاز سے اتارا جائے گا۔ تاہم یوکرین کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ زیلنسکی دارالحکومت کیف میں ہیں۔

    جمعہ کو روسی فوج نے نیوکلیئر پاور پلانٹ پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس سے قبل یہاں فائرنگ ہوئی تھی جس کی وجہ سے پلانٹ میں آگ لگ گئی تھی۔ روسی فوجیوں نے پلانٹ کی انتظامیہ اور کنٹرول عمارتوں پر قبضہ کر لیا۔ روس چرنی ہیو میں فضائی حملے کر رہا ہے۔ ان حملوں میں 47 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    ادھر یوکرین پر روسی حملہ اب نویں دن میں داخل ہو چکا ہے۔ اس دوران گولہ باری کے سبب یوکرین کے زپوریشیا پلانٹ میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا، جس پر اب قابو پا لیا گیا ہے۔ اس کی وجہ سے تابکاری میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ زپوریشیا پلانٹ یورپ میں جوہری بجلی کا سب سے بڑا پلانٹ ہے۔

    یوکرین کا کہنا ہے کہ متعلقہ حکام جوہری پلانٹ تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہے جہاں روسی گولہ باری کے بعد پلانٹ کے بیرونی حصے میں واقع ایک تربیتی حصے میں آگ لگ گئی تھی۔

    جوہری امور کے عالمی نگراں ادارے آئی اے ای اے اور وائٹ ہاؤس دونوں کا ہی کہنا ہے کہ وہ یورپ کے سب سے بڑے جوہری پلانٹ پر حملے کی فعال طریقے سے نگرانی کر رہے ہیں اور تابکاری کی سطح میں ابھی تک کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے۔

    یوکرین کے وزیر خارجہ دیمیترو کولیبا نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا، ”روسی فوج یورپ کے سب سے بڑے نیوکلیئر پاور پلانٹ پر چاروں طرف سے فائرنگ کر رہی ہے۔ آگ تو پہلے ہی بھڑک چکی ہے۔”

    ان کا مزید کہنا تھا، ”اگر اس میں کوئی دھماکہ ہوا تو یہ چرنوبل سے بھی دس گنا زیادہ بڑا ہو گا! روسیوں کو فوری طور پر فائرنگ بند کرنی چاہیے، فائر فائٹرز کو اجازت دینی چاہیے اور ایک سکیورٹی زون قائم کرنا چاہیے”!

    وائٹ ہاؤس نے اس حوالے سے اپنی متعدد ٹویٹ میں بتایا ہے کہ جوہری پلانٹ میں آگ لگنے کے معاملے پر امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے یوکراینی ہم منصب وولودیمیر زیلنسکی سے فون پر بات چیت بھی کی ہے۔

    وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ جو بائیڈن نے امریکی محکمہ توانائی کے انڈر سیکریٹری برائے نیوکلیئر سکیورٹی اور نیشنل نیوکلیئر سکیورٹی ایڈمنسٹریشن کے ایڈمنسٹریٹر سے بھی بات کی تاکہ پلانٹ کی صورتحال کے بارے میں تازہ ترین معلومات حاصل کی جا سکے اور صدر کو اس بارے میں بریف کیا جا رہا ہے۔

  • نیٹ فلیکس اور ایپل کے بعد مائیکروسافٹ کا روس میں اپنی سروس بند کرنے کا اعلان

    نیٹ فلیکس اور ایپل کے بعد مائیکروسافٹ کا روس میں اپنی سروس بند کرنے کا اعلان

    ماسکو : نیٹ فلیکس اور ایپل کے بعد مائیکروسافٹ کا روس میں اپنی سروس بند کرنے کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق مائیکروسافٹ کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ وہ روس میں اپنی تمام پراڈکٹس کی سیل اور سروس بند کررہے ہیں۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مائیکروسافٹ کی جانب سے آج جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ روس کے یوکرین پر غیرقانونی، بلااشتعال اورغیرمنصفانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں اور احتجاجاً روس میں اپنی تمام پراڈکٹس کی نئی سیل اور سروس بند کررہے ہیں۔

    خیال رہے مائیکروسافٹ سے قبل ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی کمپنی ’ایپل‘ ، ’نائیکی‘ ، ’ڈیل‘، کی جانب سے بھی روس پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

    دوسری جانب مائیکروسافٹ نے روسی میڈیا ’آر ٹی‘ کی موبائل ایپلیکیشن کو ونڈوز ایپ اسٹور سے نکال دیا ہے اور روسی میڈیا کو اشتہارات دینے پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔اس سے قبل یوکرین پر حملوں کے بعد سوشل میڈیا کی تقریباً تمام کیمپنیز فیس بک ، ٹوئٹر کے علاوہ دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن گوگل کی جانب سے روس پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’فیس بک‘ نے نہ صرف روسی میڈیا کی مونیٹائزیشن ختم کردی بلکہ ان کے اشتہارات بھی بند کردیئے ہیں جب کہ فیس بک نے روس کی متعدد سرکاری نشریاتی اداروں کے مواد پر بھی جزوی پابندی عائد کردی ہے۔

    گوگل، یوٹیوب اور ٹوئٹر کی جانب سے بھی روس کے سرکاری میڈیا چینل ‘آر ٹی’ سمیت دیگر تمام ٹی وی چینلز پر ویڈیوز کے ذریعے اشتہارات کے ذریعے پیسے کمانے پر پابندی عائد کردی ہے۔

    یوکرین کے ساتھ جنگ کے اثرات اب روس کی معیشت پر بھی اثرانداز ہورہے ہیں۔ مغرب کی اقتصادی پابندیوں کے بعد دنیا کی بہت سی کمپنیوں نے روس میں اپنی خدمات اور آپریشن روک دیے ہیں۔

    سبسکرپشن بیسڈ اسٹریمنگ سروسز فراہم کرنے والی امریکی کمپنی نیٹ فلکس نے بھی روس میں اپنے تمام جاری اور مستقبل کے منصوبوں پر کام روک دیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق کمپنی نے روس میں مستقبل کے تمام منصوبوں کو عارضی طور پر روک دیا ہے۔

    اس بابت نیٹ فلکس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس وقت روسی زبان میں چار سیریز پروڈکشن اور پوسٹ پروڈکشن میں تھی تاہم روس یوکرین جنگ کے تناظر میں ان منصوبوں کو وقتی طور پر معطل کردیا گیا ہے۔

  • جوہری پلانٹ پر روسی حملہ:سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس جاری،جنگ یا امن:بڑے فیصلے کی توقع

    جوہری پلانٹ پر روسی حملہ:سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس جاری،جنگ یا امن:بڑے فیصلے کی توقع

    نیویارک: جوہری پلانٹ پر روسی حملہ:سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس جاری ،اطلاعات ہیں‌کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک ہنگامی اجلاس جاری ہے جس میں روس کی طرف سے یوکرین میں ایک جوہری پلانٹ پرروسی افواج کے حملے کوعالمی خطرہ قراردیا ہے ، اجلاس ابھی جاری ہے

    یوکرین میں جوہری پاور پلانٹ پر روسی حملے کے بعد برطانیہ سمیت دیگر ممالک نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس مین کہا گیا ہے کہ یورپ میں سب سے بڑے جوہری پلانٹ زیپروزیا کی عمارت کو نقصان پہنچا ہے اور یوکرین کا کہنا ہے کہ وہاں آگ لگنے کے بعد کئی افراد ہلاک اور زخمی بھی ہوئے ہیں۔ تاہم اب صورتحال قابو میں ہے۔

    امریکی نمائندے نے اس اجلاس میں کہا ہے کہ روسی اقدام ’خطرناک‘ اور ’بغیر سوچے سمجھے‘ کیا گیا۔

    سفارت کاروں نے بتایا کہ یوکرین میں روس کے Zaporizhzhya نیوکلیئر پاور پلانٹ پر حملے کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا یہ فیصلہ امن یا جنگ کی طرف بڑا قدم ہوگا

    یاد رہے کہ یوکرین کے شہر زپورئیژا کا جوہری پلانٹ کب سے روسی افواج کے کنٹرول میں ہے؟ روس نے بتا دیا، جس سے یوکرینی حکام کے بیان کی تردید ہوتی ہے۔روسی وزارت دفاع کے ترجمان نے کہا ہے کہ زپورئیژا کا جوہری پلانٹ 5 دن سے روسی افواج کے کنٹرول میں ہے، اور جوہری پلانٹ پر حالات قابو میں ہیں۔

    گزشتہ روز یوکرینی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ روسی فورسز نے زپورئیژا (Zaporizhzhia) نیوکلیئر پاور پلانٹ پر قبضہ کر لیا ہے، اور شدید لڑائی کے دوران گولہ باری سے پلانٹ پر موجود تربیتی مرکز کو آگ لگ گئی ہے۔

    رشین فیڈریشن کی مسلح افواج نے آگ بجھانے کے فوراً بعد زپورئیژا جوہری پاور پلانٹ کے علاقے پر قبضہ کر لیا۔

    برطانوی اخبار دی گارڈین نے رپورٹ کیا کہ یوکرین کے حکام نے بتایا ہے کہ روسی فورسز کی گولہ باری کے بعد جمعہ کی صبح کو جوہری پلانٹ کے باہر ایک تربیتی عمارت میں آگ بھڑکی۔ یوکرین کے وزیر خارجہ دیمتری کُلیبا نے ایک ٹوئٹ میں تصدیق کی کہ جمعے کو روسی حملے میں زپورئیژا نیوکلیئر پاور پلانٹ میں آگ لگی۔

    یوکرین کے صدر زیلنسکی نے ایک ویڈیو پیغام میں اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ’روس کے علاوہ کسی اور ملک نے آج تک جوہری توانائی کے یونٹوں پر فائرنگ نہیں کی، دہشت گرد ریاست نے اب ایٹمی دہشت گردی کا سہارا لے لیا ہے، انہوں نے عالمی مدد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا اگر کوئی دھماکا ہوتا تو یہ ہر چیز کا خاتمہ ہوتا، اب صرف فوری یورپی کارروائی ہی روسی فوجیوں کو روک سکتی ہے۔‘

    دوسری طرف روس کی وزارت دفاع نے اس حملے کا الزام یوکرین کے تخریب کاروں پر عائد کرتے ہوئے اسے ایک ’بدمعاشی اشتعال انگیزی‘ قرار دے دیا ہے، اور کہا ہے کہ زپورئیژا جوہری پلانٹ پانچ دنوں سے روسی فوج کے قبضے میں ہے۔

    روسی حملہ آور فورسز نے جمعہ کے روز جنوب مشرقی یوکرین میں شدید لڑائی میں یورپ کے سب سے بڑے جوہری پاور پلانٹ پر قبضہ کر لیا، جس سے عالمی خطرے کی گھنٹی بج گئی، تاہم ایک تربیتی عمارت میں لگی بڑی آگ کو بجھا دیا گیا ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ یہ سہولت اب محفوظ ہے۔

    روس کی وزارت دفاع نے پلانٹ میں لگنے والی آگ کا ذمہ دار یوکرین کے تخریب کاروں کے "شدت پسندانہ حملے” کو قرار دیا اور کہا کہ اس کی افواج کنٹرول میں ہیں۔

  • گیرہارڈ شروڈر روسی کمپنیوں سےعلیحدگی اختیار کریں:جرمن چانسلرکا اپنی قوم کے بڑوں کوپیغام

    گیرہارڈ شروڈر روسی کمپنیوں سےعلیحدگی اختیار کریں:جرمن چانسلرکا اپنی قوم کے بڑوں کوپیغام

    برلن :گیرہارڈ شروڈر روسی کمپنیوں سےعلیحدگی اختیار کریں:جرمن چانسلرکا اپنی قوم کے بڑوں کوپیغام ،اطلاعات کے مطابق جرمن چانسلر اولاف شولس نے سابق چانسلر گیرہارڈ شروڈر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روسی کمپنیوں سے فوری طور پر علیحدگی اختیار کریں۔

    جرمن ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ سابق جرمن گیرہارڈ شروڈر کے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے برسوں کے گہرے تعلقات ہیں۔سابق جرمن چانسلر گیرہارڈ شروڈر روسی حکومت کی انرجی کمپنیوں کے انتظامی بورڈز میں اعلیٰ حیثیت کے حامل ہیں۔

    ستتر سالہ شروڈر روسی صدر پیوٹن اور کریملن کے کاروباری حلقے کے ساتھ دیرینہ بزنس رفاقت رکھتے ہیں۔

    وہ روس کے توانائی کے بڑے ادارے ‘روس نیٹ‘ کے سپروائزری بورڈ کے سربراہ بھی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ کسی حد تک متنازعہ خیال کیے جانے والے قدرتی گیس کی فراہمی کے منصوبوں نارتھ سٹریم ون اور نارتھ سٹریم ٹو کے نگران بورڈز میں بھی کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔

    جرمنی میں گیرہارڈ شروڈر کے روسی صدر پیوٹن اور روسی انرجی کمپنیوں سے تعلقات پر گہری تشویش پائی جاتی ہے اور اب تنقید بھی کی جا رہی ہے۔ یوکرین پر روسی حملے کے بعد سے کسی حد تک جرمن سیاسی اور سماجی حلقے اس تعلق پر ندامت بھی محسوس کرتے ہیں۔

    جرمنی کے این ٹی وی چینل پر ایک بیان دیتے ہوئے وفاقی چانسلر اولاف شولس نے کہا کہ ان کے خیال میں اب یہ مناسب نہیں رہا کہ گیرہارڈ شروڈر ان مناصب پر فائز رہیں اور یہ صحیح ہو گا کہ وہ یہ عہدے چھوڑ دیں۔شولس نے اس امر پر زور دیا کہ ایک عام شہری کے طور پر بھی انہیں ان عہدوں سے علیحدگی اختیار کر لینا چاہیے۔

    موجودہ جرمن چانسلر کا کہنا تھا کہ گیرہارڈ شروڈر جرمنی کے سابق سربراہِ حکومت ہیں اور موجودہ حالات میں ان کے کاروباری تعلقات کی اہمیت ان کی شخصیت سے زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔

  • روس یوکرین تنازع:پاکستان نے یورپی سفیروں کیطرف سےپریس ریلیزجاری کرنےپرجواب طلب کرلیا

    روس یوکرین تنازع:پاکستان نے یورپی سفیروں کیطرف سےپریس ریلیزجاری کرنےپرجواب طلب کرلیا

    اسلام آباد :روس یوکرین تنازع، پاکستان نے یورپی سفیروں کیطرف سے پریس ریلیز جاری کرنے پرجواب طلب کرلیا،اطلاعات کے مطابق پاکستان نے روس اور یوکرین تنازع پر ملک میں تعینات یورپی سفیروں کی جانب سے پریس ریلیزجاری کرنے پرتحفظات کا اظہار کیا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق غیرملکی سفیروں کی طرف سے بیان بازی سفارتی روایت نہیں ہے اور ہم نے حالیہ یورپی سفیروں کی طرف سے پریس ریلیزجاری کرنے پرتحفظات کا اظہار کیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ غیرملکی سفیروں کی طرف سے پریس ریلیز جاری کرنا قابل قبول نہیں، دفترخارجہ اور خارجہ سیکرٹری نے معاملہ یورپی سفارتخانوں کے ساتھ اٹھایا ہے اور یورپی سفارتخانوں نے تسلیم کیا کہ ایسی پریس ریلیزانہیں جاری نہیں کرنی چاہیے تھی۔

    خیال رہے کہ برطانیہ، جاپان، ناروے، آسٹریلیا، ترکی اور کینیڈا سمیت مختلف ممالک کے سفرا اورہائی کمشنرز کی جانب سے پاکستان کو یوکرین پر روسی حملے کی مذمت کرنے اور عالمی قوانین کی حمایت کرنے پر اصرارکیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ روس نے 24 فروری کو یوکرین پر حملہ کیا تھا جس کے بعد سے دارالحکومت کیف سمیت کئی شہر روسی افواج کے محاصرے میں ہیں۔پاکستان نے اس معاملے پر آزاد خارجہ پالیسی پر عمل پیرا رہنے کا فیصلہ کیا اور روس یوکرین کشیدگی کو بات چیت سے حل کرنے پر زور دیا۔

    اس سلسلے میں پرسوں یعنی 2 مارچ کو وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت اہم اجلاس میں حکومت نے آزادانہ خارجہ پالیسی پر عمل پیرا رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیراعظم کی زیر صدارت سکیورٹی امور سے متعلق اجلاس ہوا جس میں سول اور عسکری حکام نے شرکت کی۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس میں قومی سلامتی امور سے متعلق امورپرمشاورت کی گئی اور ملکی سکیورٹی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ خطےکی صورتحال کے پیش نظر حکمت عملی پر بھی مشاورت کی گئی اور اہم فیصلے کیے گئے۔

    حکومت نے آزاد خارجہ پالیسی پر عمل پیرا رہنے کا فیصلہ کیا اور روس یوکرین کشیدگی کو بات چیت سے حل کرنے پر زور دیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان کسی بھی صورت میں کشیدگی کا حامی نہیں۔