Baaghi TV

Tag: روس

  • روس فی الفور یوکرین پرحملے روک دے:نیٹو کی دھمکی پر روس سخت غصےمیں آگیا

    روس فی الفور یوکرین پرحملے روک دے:نیٹو کی دھمکی پر روس سخت غصےمیں آگیا

    برسلز:روس فی الفور یوکرین پر حملے روک دے:نیٹو کی گیدڑ بھپکیاں،اطلاعات کے مطابق برسلز میں نیٹو کے ہیڈ کوارٹر میں جنرل سیکریٹری نے یوکرین میں روس کو فوری حملے روکنے کا انتباہ جاری کیا ہے۔دوسری طرف روس نے نیٹو کی طرف سے دی جانے والی دھمکیوں پرسخت جواب دینے کا فیصلہ کیا ہے

    برسلز میں نیٹو کے ہیڈ کوارٹر میں ہونے والے اجلاس میں تمام نیٹو اتحادی ممالک نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ یوکرین کی زمینی اور فضائی حدود میں نیٹو افواج داخل نہیں ہوں گی۔

    سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ کا کہنا ہےکہ یوکرین میں روسی حملے میں اس سے بھی بدتر گے اور ہم اسے اس کی قیمت ادا کرائیں گے۔اسٹولٹن برگ نے یہ بات بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں نیٹو کے ہیڈ کوارٹر میں کہی۔

    روس کے صدر ولادیمیرپیوٹن سے یوکرین میں فی الفور جنگ فوری طور پر بند کرنے اور غیر مشروط طور پر یوکرین سے اپنی تمام افواج واپس بلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسٹولٹن برگ نے خبردار کیا کہ آنے والے دنوں میں یوکرین میں وسیع پیمانے کی ہلاکتوں اور تباہی کا خدشہ ہے۔

    اسٹولٹن برگ نے کہا کہ اتحادیوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ یوکرین کی سرزمین یا یوکرین کی فضائی حدود پر نیٹو کی کوئی فوج نہیں ہونی چاہیے۔یہ بتاتے ہوئے کہ نیٹو سفارتی راستے کھلے رکھنے کے لیے اپنا مؤقف برقرار رکھتا ہے، اسٹولٹن برگ نے یوکرین کے تنازع میں نیٹو کی مداخلت پر یورپ میں وسیع پیمانے پر جنگ کے امکان کی طرف توجہ مبذول کرائی۔

    یہ بتاتے ہوئے کہ آنے والے دنوں میں یوکرین کی صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے، اسٹولٹن برگ نے پیوٹن سے سفارتی ذرائع کا سہارا لینے کا مطالبہ کیا۔
    اسٹولٹن برگ نے کہا کہ نیٹو اتحادیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس جنگ کو یوکرین سے آگے بڑھنے سے روکیں۔

    اسٹولٹنبرگ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ یوکرین میں کوئی نو فلائی زون نہیں ہوگا اور نہ ہی کوئی فوجی بھیجے جائیں گے۔جب صحافیوں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ یوکرین کو جنگی طیارے فراہم کریں گے؟ کے جواب میں کہا کہ”نیٹو یوکرین کو مختلف قسم کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے۔

    یہ علم ہے کہ اتحادی ممالک ٹینک شکن ہتھیار اور فضائی دفاعی میزائل فراہم کرتے ہیں، البتہ میں مزید تفصیل میں نہیں جا سکتا۔”

  • روسی ایٹمی حملے کی دھمکی :بیلجیم نے حملے کی صورت میں حفاظتی اقدامات شروع کردیئے

    روسی ایٹمی حملے کی دھمکی :بیلجیم نے حملے کی صورت میں حفاظتی اقدامات شروع کردیئے

    ماسکو:روسی ایٹمی حملے کی دھمکی :بیلجیم نے حملے کی صورت میں حفاظتی اقدامات شروع کردیئے،اطلاعات کے مطابق روس کےایٹمی حملے کی دھمکی کے بعد یورپ کے دیگر ممالک کی طرح بیلجیم میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    بین الاقوامی خبررساں ادارے کے مطابق ایٹمی حملے کے پیش نظر بیلجیم میں آیوڈین کی گولیاں فارمیسیز میں مفت دستیاب ہیں۔ گزشتہ روز 30 ہزار سے زائد افراد نے گولیاں حاصل کیں۔ ایٹمی حملے کی صورت میں یہ گولیاں تھائیرائڈ کی حفاظت کریں گی۔

    عالمی رہنماؤں نے روس پر پورے براعظم کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کا الزام لگایا ہے جبکہ یوکرین کے صدر نے روس پر “جوہری دہشت گردی” کا الزام لگایا ہے۔

    اس دوران یوکرین کے صدر نے کہا کہ روس چرنوبل کو دہرانا چاہتا ہے، جو 1986 میں دنیا کی بدترین جوہری تباہی کا مقام تھا۔یوکرین کے صدر نے کہا کہ اگر پلانٹ میں کوئی دھماکا ہوتا ہے تو یہ پورے یورپ کا خاتمہ ہے۔

    اقوام متحدہ کے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی ے کہا کہ آگ نے پلانٹ کے “ضروری” آلات کو متاثر نہیں کیا اور تابکاری کی سطح میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔

    عالمی رہنماؤں نے روس پر الزام لگایا ہے کہ اس کی افواج نے جوہری پاور اسٹیشن پر گولہ باری کر کے پورے براعظم کی حفاظت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

    عالمی رہنماؤں نے روس پر پورے براعظم کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کا الزام لگایا ہے جبکہ یوکرین کے صدر نے روس پر ’جوہری دہشت گردی‘ کا الزام لگایا ہے۔

    برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ یہ حملہ پورے یورپ کی سلامتی کو براہ راست متاثر کرسکتا ہے۔امریکی صدر جو بائیڈن نے روس پر زور دیا کہ وہ جوہری پلانٹ کے ارد گرد اپنی فوجی سرگرمیاں روک دے۔

    کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے مطالبہ کیا کہ روس کی جانب سے خوفناک حملوں کو فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔

  • روسی صدرکے لہجے سے لگتا ہےکہ "’ یوکرین پر مکمل قبضے تک جنگ مسلط رہے گی ‘:فرانسیسی صدر

    روسی صدرکے لہجے سے لگتا ہےکہ "’ یوکرین پر مکمل قبضے تک جنگ مسلط رہے گی ‘:فرانسیسی صدر

    پیرس:روسی صدرکے لہجے سے لگتا ہےکہ "’ یوکرین پر مکمل قبضے تک جنگ مسلط رہے گی ‘اطلاعات کے مطابق فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ روسی صدر کی باتوں سے لگتا ہے کہ یوکرین پر مکمل قبضے تک جنگ جاری رہے گی۔

    فرانس کے صدر کے ترجمان کے مطابق فرانسیسی صدر اور ان کے روسی ہم منصب ولادیمیر پیوٹن کے درمیان فون کال کے ذریعے رابطہ ہوا ہے جس کے بعد لگتا ہے کہ یوکرین میں ’ابھی برا ہونا باقی ہے۔‘

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کے درمیان فون پر 90 منٹ طویل بات چیت ہوئی ہے۔اس بات چیت کے حوالے سے فرانسیسی صدر کے معاون نے کہا ہے کہ ’پیوٹن کے ارادے پورے ملک پر قبضے کرنے کے نظر آ رہے ہیں۔‘

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانسیسی صدر کے ایک سینیئر معاون نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صحافیوں کو بتایا کہ ’صدر کے خیال میں صدر پیوٹن نے جو کچھ بتایا اس سے لگتا ہے کہ برا وقت ابھی آنا ہے۔‘

    معاون نے مزید بتایا کہ ’صدر پیوٹن نے جو کچھ ہمیں بتایا اس میں یقین دلانے والی کوئی بات نہیں تھی۔ انہوں نے آپریشن جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔‘انہوں نے مزید کہا کہ ولادیمیر پیوٹن ’پورے یوکرین پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اپنے الفاظ میں یوکرین کو آخر تک ’ڈی نازیفائی‘ کرنے کے لیے اپنا آپریشن انجام دیں گے۔‘

    معاون نے کہا: ’آپ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ الفاظ کس حد تک چونکا دینے والے اور ناقابل قبول ہیں اور صدر نے انہیں بتایا کہ یہ جھوٹ ہے۔‘ایمانوئل میکرون نے اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پیوٹن پر زور دیا کہ وہ عام شہری ہلاکتوں سے گریز کریں اور انسانی رسائی کی اجازت دیں۔معاون نے کہا کہ اس پر ’صدر پیوٹن نے جواب دیا کہ وہ کوئی وعدہ کیے بغیر اس کے حق میں ہیں۔‘

  • مالدووا نےبھی یورپی یونین میں شمولیت کی درخواست دے دی :روس کوتنہا کرنے کی کوششیں

    مالدووا نےبھی یورپی یونین میں شمولیت کی درخواست دے دی :روس کوتنہا کرنے کی کوششیں

    پیرس :جنگ کے پیشِ نظر مالدووا نےبھی یورپی یونین میں شمولیت کی درخواست دے دی :روس کوتنہا کرنے کی کوششیں،اطلاعات کے مطابق یورپی ملک مالدووا نے بھی یوکرین میں جاری روسی جنگ کے باعث یورپی یونین میں شمولیت کیلئے درخواست دے دی۔

    برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق مالدوواکی صدر مایا ساندو نے جمعرات کے روز یورپی یونین میں شمولیت کے لیے ایک باضابطہ درخواست پر دستخط کردیے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق مالدوواکی جانب سے یہ فیصلہ کچھ دن قبل یوکرینی صدر ولودومیر زیلینسکی کی یورپی یونین کی فوری رکنیت کے لیے درخواست پر دستخط کیے جانے کے چند دن بعد سامنے آیا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق مایا ساندو، وزیر اعظم اور پارلیمانی اسپیکر نے دارالحکومت چیسیناؤ میں ایک بریفنگ کے دوران یورپی یونین میں شمولیت کی درخواست پر دستخط کیے۔واضح رہے کہ 1991 میں مالدووا کی سوویت یونین سے آزادی کے بعد سے چیسیناؤ میں روس اور یورپی یونین کے حامی کنٹرول حاصل کرنے کیلئے لڑچکے ہیں۔

    خبر رساں ایجنسی کے مطابق صدر مایا ساندو نے دستاویزات پر دستخط کرنے سے پہلے کہا کہ’ مالدوواکو یہاں تک پہنچنے کیلئے 30 سال لگے لیکن آج ملک اپنے مستقبل کی ذمہ داری خود لینے کے لیے تیار ہے’۔

    انہوں نے کہا کہ ہم امن، خوشحالی،آزاد دنیا کا حصہ بننا چاہتے ہیں جبکہ کچھ فیصلوں میں وقت لگتا ہے تاہم دوسروں کو فوری اور فیصلہ کن طریقے سے اور بدلتی ہوئی دنیا کے ساتھ آنے والے مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں یورپی یونین میں شمولیت کی درخواست بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز بھیج دی جائے گی۔دوسری جانب سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ یورپی یونین میں شامل ہونے کیلئے یوکرین اور مالدووا کے حوالے سے مذاکرات ابھی تک شروع نہیں ہوئے ۔

    تاہم یورپی یونین کے رہنما یوکرین کی درخواست پر اگلے ماہ ایک غیر رسمی سربراہی اجلاس میں تبادلہ خیال کر سکتے ہیں۔

  • ایک طرف روس کا گھیراو تو دوسری طرف چین پردباو:امریکہ کا بھارت کوجدید اسلحہ دینے کا فیصلہ

    ایک طرف روس کا گھیراو تو دوسری طرف چین پردباو:امریکہ کا بھارت کوجدید اسلحہ دینے کا فیصلہ

    واشنگٹن :ایک طرف روس کا گھیراو تو دوسری طرف چین پردباو:امریکہ کا بھارت کوجدید اسلحہ دینے کا فیصلہ ،اطلاعات کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار کا کہنا ہے کہ چین سے مقابلے کے لیے امریکہ بھارت کی دفاعی صلاحیتوں کو تیزی سے بڑھا رہا ہے۔ چین ہر موڑ پر بھارت کو بھی اسی طرح اکسا رہا ہے، جس طرح وہ امریکہ کے ساتھ کرتا ہے۔ اسی لیے واشنگٹن بھارت کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے پر عزم ہے۔

    تفصیلات کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار کا کہنا ہے کہ چین ہر موڑ پر بھارت کو اسی انداز سے اکسا رہا ہے جس طرح اس کا سلوک امریکہ کے ساتھ ہے۔ اسی لیے واشنگٹن بھارت کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط تر کرنے کے مقصد سے اپنی پیش رفت کو تیز کرنے کے لیے پر عزم ہے۔

    جنوبی ایشیا اور وسطی بھارت سے متعلق معاون سیکرٹری آف اسٹیٹ ڈونلڈ لو سینیٹ کی ایک ذیلی کمیٹی کے ارکان کو خطے کی صورت حال کے بارے میں کہنا تھا کہ ہم اپنی دفاعی شراکت داری میں پیش رفت کو تیز تر کرنے اور چینی اشتعال انگیزیوں کو روکنے کے لیے بھارت کی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے پر عزم ہیں۔ اس سلسلے میں مضبوط بحری تعاون، بہتر معلومات اور انٹیلیجنس شیئرنگ کے ساتھ ہی خلائی اور سائبر اسپیس جیسے ابھرتے ہوئے میدانوں میں بھی ہم نے بھارت کے ساتھ تعاون کو بڑھا دیا ہے۔”

    کواڈ امریکہ، بھارت، آسٹریلیا اور جاپان پر مشتمل ایک چار رکنی گروپ ہے جو خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر قابو پانے اور آزاد نیز کھلے ہند بحرالکاہل کے مشترکہ وژن کو آگے بڑھانے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔

    میلبورن میں کواڈ کے وزراء خارجہ کی ہونے والی حالیہ میٹنگ کا حوالہ دیتے ہوئے، لو نے کہا کہ جس انداز سے کواڈ کے تمام شراکت داروں نے آزاد ہند بحرالکاہل کی حمایت کرنے کا عزم کیا ہے وہ کافی حوصلہ بخش بات ہے۔

  • روک سکو تو روک لو:ہم فاتح بن آئے ہیں:روسی افواج دارالحکومت کیف کی دہلیز پر:روسی میڈیا کا دعویٰ

    روک سکو تو روک لو:ہم فاتح بن آئے ہیں:روسی افواج دارالحکومت کیف کی دہلیز پر:روسی میڈیا کا دعویٰ

    روسی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین کو فتح کرنے کا وقت آن پہنچا ہے اور روسی افواج نے دارالحکومت کیف کو چاروں اطراف سے گھیر لیا ہے۔
    روسی وزارت دفاع نے روسی فوج اور فوجی گاڑیوں کے قافلے کا ایک وڈیو جاری کیا ہے۔

    روس کے سرکاری میڈیا ادارے آرٹی آئی کے ٹوئٹر ہینڈل پر شیئر کئے گئے اس وڈیو میں یوکرین کے دارالحکومت کیف کی طرف روسی فوجی گاڑیوں کے لمبے قافلے، ٹینکر، ہیلی کاپٹر اور بکتر بند گاڑیاں بڑھتی نظر آ رہی ہیں۔

    وڈیو میں یوکرین کی تباہی کا منظر بھی صاف دیکھا جاسکتا ہے۔ جہاں تباہ شدہ عمارتیں، تباہ شدہ فوجی ٹینکس صاف دکھائی دے رہے ہیں۔ اس ویڈیو میں کئی روسی فوجی بھی نظر آ رہے ہیں۔

     

    روسی میڈیا کے مطابق یوکرین کے دارالحکومت اور دوسرے سب سے بڑے شہر خار کیف میں روسی فوج بڑی تعداد میں پہنچ چکی ہے۔

    خارکیف میں گزشتہ دو دنوں سے مسلسل گولہ باری جاری ہے اور شہریوں کی بڑی تعداد نقل مکانی پر مجبور ہیں۔یوکرین کے شہری پڑوسی ممالک پولینڈ اور ہنگری میں پناہ لے رہے ہیں، ان پناہ گزینوں میں کچھ کمزور شہری بھی شامل ہیں۔

    پولینڈ اور ہنگری کے شہریوں نے یوکرین کے پناہ گزینوں کا کھلے دل سے استقبال کر رہے ہیں اور جنگ کے وقت بھی انسانیت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

    ہنگری کے جاہونی ریلوے اسٹیشن پر بدھ کو ایک ٹرین پہنچی، جس میں جسمانی اور ذہنی طور پر معذور تقریباً 200 لوگ سوار تھے۔

  • روس کی خلائی ایجنسی کا سسٹم ہیک کرلیا:ہیکرز کا دعویٰ

    روس کی خلائی ایجنسی کا سسٹم ہیک کرلیا:ہیکرز کا دعویٰ

    ماسکو:روس کی خلائی ایجنسی کا سسٹم ہیک کرلیا:ہیکرز کا دعویٰ ،اطلاعات کے مطابق ہیکرز کے گروپ ’اینونمس‘ نے روس کی خلائی ایجنسی(روسکوسموس) کو ہیک کرنے کا دعویٰ کردیا اور کہا ہے کہ پیوٹن کا خلائی سرگرمیوں پر اب کنٹرول نہیں رہا۔

    غیرملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اینونمس نے دعویٰ کیا ہے کہ روسی حکومت اپنی خلائی سرگرمیوں اور سیٹلائٹس کا کنٹرول اب کھو چکی ہے کیوں کہ ہم نے روسکوسموس کو ہیک کرکے بند کردیا ہے۔

    روسی خلائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل اولیگوچ نے ہیکرز کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے اینونمس کو غیرضروری اور دھوکے باز گروپ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایجنسی سے متعلق خبریں حقیقت کے منافی ہیں۔
    اولیگوچ نے کہا کہ ہماری خلائی سرگرمیاں اور کنٹرول سینٹرز معمول کے مطابق آپریٹ کررہے ہیں۔ روسی اسپیس انڈسٹری سائبر حملوں سے محفوظ ہے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل ہیکرز کی ٹیم نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے 300 سے زائد روسی ویب سائٹس تک رسائی حاصل کرکے یوکرین پر حملے میں شامل روسی ٹینک کے عملے کو ٹینک چھوڑنے کے عوض 53 ہزار ڈالر کی پیشکش کی۔

    اینونمس کا کہنا تھا کہ انہوں نے کئی ارب ڈالرز ان روسی فوجیوں کے لیے جمع کیے ہیں جو جنگ سے دست بردار ہوکر اپنا ٹینک سفید جھنڈا لگا کر چھوڑ دیں گے۔

  • مشرقی یوکرین میں روس نواز میئرکواغوا کرنے کے بعد قتل کردیا گیا

    مشرقی یوکرین میں روس نواز میئرکواغوا کرنے کے بعد قتل کردیا گیا

    کیف: مشرقی یوکرین میں روس نواز میئرکواغوا کرنے کے بعد قتل کردیا گیا ،طلاعات کے مطابق مشرقی یوکرین میں ایک روس نواز میئر کو پہلے گھر سے اغوا کیا گیا اور پھر گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ میر نے یوکرین پر حملے کے بعد روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے حملے کا خیر مقدم کیا۔

    ان کی اہلیہ کے مطابق لوہانسک میں کریمنا میں ولادیمیر اسٹارک کو منگل کو قتل کر دیا گیا ۔ انہیں گھر سے اغوا کرنے کے بعد سینے میں گولی مار دی گئی۔

    فیس بک پر خبر کا اعلان کرتے ہوئے، یوکرین کے وزیر داخلہ انٹیک گیرا چنکا کے ایک مشیر نے دعویٰ کیا کہ اسٹراک ‘لوہانسک پیپلز ریپبلک کا حامی’ (ایل پی آر) تھا۔

    رپورٹ کے مطابق لوہانسک عوامی جمہوریہ مشرقی یوکرین کے اندر واقع ایک خود ساختہ علیحدہ ریاست ہے جسے 2014 میں روس نواز علیحدگی پسندوں نے قائم کیا تھا۔

    یوکرین کے وزیر داخلہ کے مشیر نے الزام لگایا کہ اسٹراک کو پیپلز ٹربیونل نے غدار کہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یوکرین گزشتہ آٹھ سالوں سے اسٹراک کے خلاف کچھ نہیں کر سکا کیونکہ ماسکو کے حامی علیحدگی پسند ڈونیٹسک اور لوہانسک کے جنوب مشرق میں یوکرین کے علاقوں کو کنٹرول کر رہے تھے۔

  • روس کا یوکرین کے 60 طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ

    روس کا یوکرین کے 60 طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ

    ماسکو: روس کی وزارت دفاع نے یوکرین کے 60 طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : روسی وزارت دفاع کے ترجمان ایگور کوناشینکوف کے مطابق یوکرین کے 484 ٹینک اور47 ڈرون سمیت دیگردفاعی ہتھیارتباہ کردئیے گئے ہیں جبکہ مجموعی طورپریوکرین کے 1533اثاثے تباہ کردئیے گئے ہیں۔

    بھارت نےیوکرین میں بھارتی طلبا کویرغمال بنانےکا روسی دعویٰ مسترد کردیا

    دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں روس سے یوکرین میں خوںریزی روکنے اورفوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یوکرین سے اب تک 10 لاکھ افراد نقل مکانی کرچکے ہیں۔

    عالمی عدالت انصاف میں یوکرین پرحملےمیں شہریوں کی ہلاکت پرروس کیخلاف ممکنہ جنگی جرائم کےسلسلےمیں درخواست پرکارروائی کا آغازہوگیا ہے یوکرین نے روس کیخلاف عالمی عدالت میں درخواست دی ہے۔

    یوکرین کے مختلف شہروں میں روس کےحملے جاری ہیں دارالحکومت کیف میں 4 دھماکے ہوئے تاہم دھماکوں کے بعد صورتحال واضح نہیں۔

    قبل ازیں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روسی حملے کے بعد سے اب تک 9000 روسی فوجیوں کے ہلاک ہونے کا دعویٰ کیا تھا یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ روس کے یوکرین پرحملے کے بعد سے اب تک 9000 روسی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔

    بھارتی عملہ غائب، پاکستان نے دی یوکرین میں پھنسے بے یارومددگار بھارتی طلبہ کو پناہ

    صدرزیلنسکی کا کہنا تھا حملہ آورفوج کو پیغام دیتا ہوں کہ وہ واپس اپنے گھرجائیں۔ حملہ آورروسی فوج کویہاں نہ سکون ملے گے نہ کھانا صرف یوکرینی عوام کی جانب سے مزاحمت ملے گی۔ایسی مزاحمت جو وہ ساری زندگی یاد رکھیں گے۔

    انہوں نے مزید کہا تھا کہ یوکرین کے عوام حملہ آورروسی فوجیوں کوبتا دیں گے کہ حب الوطنی کے ساتھ لڑی جانے والی جنگ کیسی ہوتی ہے۔

    قبل ازیں یوکرین کی وزارت دفاع نے روس کے ساتھ جاری جھڑپوں کے دوران میدان جنگ سے پکڑے گئے فوجیوں کو رہا کرنے کے لیے شرط عائد کی تھی یوکرین کی وزارت دفاع نے اعلان کیا تھا کہ یوکرین پر حملہ کرنے والے روسی فوجیوں کی پریشان حال مائیں آئیں اور میدان جنگ سے پکڑے گئے اپنے بیٹوں کو لے جائیں تاہم شرط یہ ہے کہ وہ کیف، یوکرین آئیں۔

    یوکرین کی جانب سے روس پر دباؤ بڑھانے کے لیے اس اقدام کو اٹھایا گیا ، جس میں کہا گیا تھا کہ پکڑے جانے والے روسی فوجیوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے لیے ٹیلی فون نمبرز اور ای میل ایڈریس بھی شائع کردیا ہے۔

    اس سے قبل یوکرین نے متعدد بار درجنوں روسی فوجیوں کو پکڑنے کا دعویٰ کیا تھا کہ جبکہ یونیفارم میں ملبوس نہتے نوجوانوں کی موبائل فون سے بنائی گئی ویڈیوز آن لائن گردش کر رہی ہیں۔

    کیف نے روسی والدین کے لیے ٹیلی فون ہاٹ لائن قائم کر کے حملے کے حق میں روس عوام کی حمایت کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے ہاٹ لائن قائم کرنے کا مقصد یہ ہے کہ روسی والدین معلوم کر سکیں کہ آیا ان کے بیٹے مرنے والوں میں شامل ہیں یا پکڑے گئے۔

    دوسری جانب یوکرین پر حملے کے بعد حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ لڑائی میں اب تک 5840 سے زائد فوجی مارے گئے ہیں، گو کہ اس دعوے کی تصدیق نہیں کی جا سکی روس نے تسلیم کیا تھا کہ اسے نقصان ہوا لیکن اب تک کوئی تفصیل نہیں بتائی گئی۔

    سوشل میڈیا کمپنیز نے یو کرین میں روسی افواج کا راستہ روکنےکیلئے اہم حکمت عملی…

  • اقوام متحدہ میں یوکرین پر روس کے حملے کے خلاف قرارداد منظور

    اقوام متحدہ میں یوکرین پر روس کے حملے کے خلاف قرارداد منظور

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے یوکرین پر روس کے حملے کے خلاف قرارداد منظور کر لی۔

    باغی ٹی وی: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے قرارداد میں روس کے یوکرین پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے یوکرین سے روسی افواج کے فوری انخلا کا مطالبہ کیا ہے جنرل اسمبلی سیشن میں 193 میں سے 141 رکن ممالک نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا ہے جبکہ 5 ممالک روس، بیلاروس، شمالی کوریا، شام اور ایریٹریا نے مخالفت میں ووٹ ڈالا۔

    یوکرین پرروسی حملہ:برطانیہ میں روسی گیس کپمنی کو اربوں ڈالرز کا نقصان

    ووٹنگ کے دوران پاکستان سمیت 35ممالک نے غیر حاضر رہتے ہوئے اس معاملہ پرغیر جانبداری کا اظہار کیا ہے۔

    پاکستان کے مستقل مندوب منیر نے روس یوکرین تنازع پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع سفارتکاری کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہےکشیدگی میں کمی کیلئے مذاکرات کی ضرورت ہے امید ہے سفارتکاری فوجی تنازع ٹال سکتی ہے سب کیلئے یکساں تحفظ کے اصول کو برقرار رکھنا چاہیے۔ان اصولوں کو عالمی سطح پر قبول کیا جانا چاہیے۔

    اس ووٹنگ سے قبل اقوام متحدہ میں یوکرین کے سفیر سرجی کسلٹسیا نے کہا کہ روس نے یوکرین سے موجود ہونے کا حق چھین لیا ہے۔

    دوسری جانب روسی سفیر ویسیلی نیبنزیا کا کہنا تھا کہ روس مشرقی یوکرین میں علیحدگی پسند تنازع حل کروانا چاہتا ہے۔

    واضح رہے کہ 1997 کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی پہلی ہنگامی میٹنگ ہے۔

    سوشل میڈیا کمپنیز نے یو کرین میں روسی افواج کا راستہ روکنےکیلئے اہم حکمت عملی ترتیب دے دی

    قبل ازیں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے خبردار کیا ہے کہ اگر تیسری عالمی جنگ ہوئی تو وہ ایٹمی ہتھیاروں سے لڑی جائے گی اور زیادہ تباہ کن ہوگی روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کونسل کے اجلاس سے ریکارڈ شدہ ویڈیو خطاب میں متنبہ کیا کہ تیسری عالمی جنگ چِھڑ سکتی ہے۔

    روسی وزیر خارجہ نے سرگئی لاوروف یوکرین کی جانب سے ممکنہ طور پر ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال پر کہا اگر تھرڈ ورلڈ وار ہوتی ہے تو وہ ایٹمی جنگ ہوگی اور سب کے لیے تباہ کن ثابت ہوگی آسٹریلیا کی جانب سے یوکرین کو ایٹمی ہتھیاروں کی فراہمی کے اعلان پر سرگئی لاوروف نے دھمکی دی کہ اگر یوکرین نے جوہری ہتھیار حاصل کیے تو اسے حقیقی معنوں میں خطرے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    جنگ میں5700 روسی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں،یوکرین

    روسی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ مغربی ممالک کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندیوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں تاہم امید ہے کہ روسی ایتھلیٹس، کھلاڑیوں، صحافیوں اور نمائندوں کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا سرگئی لاوروف نے یوکرین میں حملے کا دفاع کیا اور فوجی جارحیت کو خصوصی ملٹری آپریشن قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے الزامات بے بنیاد ہیں۔

    واضح رہے کہ روس کے یوکرین پر حملوں کا ساتواں روز ہے جس پر مغربی ممالک نے صدر پوٹن سمیت روسی بینکوں، کمپنیوں، تاجروں اور اداروں پابندیاں عائد کرچکی ہیں جب کہ روسی افواج دوسرے بڑے شہر خارکیف میں داخل ہوچکی ہیں۔

    انٹرنیشل ٹینس فیڈریشن نے بھی روس کی رکنیت معطل کر دی