Baaghi TV

Tag: روس

  • یوکرین میں جنگ بندی کےلیے ترک صدر طیب اردوان بھی میدان میں کود پڑے

    یوکرین میں جنگ بندی کےلیے ترک صدر طیب اردوان بھی میدان میں کود پڑے

    انقرہ :یوکرین میں جنگ بندی کےلیے ترک صدر طیب اردوان بھی میدان میں کود پڑے،اطلاعات کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردوان کا روسی صدر پیوٹن سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، اس حوالے سے ترک صدارتی دفتر نے بتایا کہ ترک اور روسی صدور نے یوکرین کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

    اس موقع پر ترک صدر نے جنگ بندی، انخلا کی محفوظ راہداریوں اور امن معاہدے کی اہمیت پر زور دیا۔

    ترک صدارتی دفتر نے مزید بتایا کہ صدر اردوان کا کہنا تھا کہ یوکرین تنازع کے پُرامن حل میں ترکی اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے، یوکرین میں فوری جنگ بندی تشویشناک انسانی صورتحال کو کم کردے گی۔

    دوسری جانب کریملن کا کہنا ہے کہ ترک صدر اردوان کا روسی صدر پیوٹن سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ اس موقع پر صدر پیوٹن نے کہا کہ روس یوکرین اور غیرملکی ساتھیوں سے مذاکرات کے لیے تیار ہے، یوکرین میں فوجی آپریشن منصوبے اور شیڈول کے مطابق ہورہا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین کی طرف سے لڑائی بند کرنے پر ہی یوکرین میں فوجی آپریشن رُکے گا۔صدر پیوٹن کے مطابق روس، یوکرین کا مذاکراتی عمل ختم کرنے کی کوئی بھی کوشش ناکام ہوگی۔انہوں نے کہا امید ہے یوکرین کے مذاکرات کار مزید تعمیری نقطہ نظر اختیار کریں گے اور حقائق مدنظر رکھیں گے۔

  • روس، یوکرین میں جان بوجھ کر شہری آبادی کو نشانہ بنا رہا ہے:امریکہ

    روس، یوکرین میں جان بوجھ کر شہری آبادی کو نشانہ بنا رہا ہے:امریکہ

    واشنگٹن :روس، یوکرین میں جان بوجھ کر شہری آبادی کو نشانہ بنا رہا ہے:اطلاعات کے مطابق امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ ہمیں اس بات کی انتہائی معتبر رپورٹس ملی ہیں کہ روس یوکرین پر کیے جانے والے حملوں میں جان بوجھ کر شہری آبادی کو نشانہ بنا رہا ہے اور جنگی جرائم کی تحقیقات میں تنظیموں کی مدد کے لیے ان رپورٹس کو مرتب کررہا ہے۔

    سی این این کے ‘اسٹیٹ آف دی یونین’ شو میں گفتگو کرتے ہوئے انٹونی بلنکن نے کہا کہ ہم نے عام شہریوں پر جان بوجھ کر کیے جانے والے حملوں کی بہت معتبر رپورٹیں دیکھی ہیں جو جنگی جرم کے مترادف ہے، ہم نے بعض ہتھیاروں کے استعمال کے بارے میں بہت معتبر رپورٹیں دیکھی ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم اس وقت ان تمام ثبوتوں کو دستاویزی شکل دے رہے ہیں، ان سب کو ایک ساتھ مرتب کررہے ہیں، اس کو دیکھنا ہے اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ لوگ اور مناسب تنظیمیں اور ادارے اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا جنگی جرائم ہوئے ہیں یا کیے جا رہے ہیں یا نہیں۔

    یوکرین میں امریکی سفارت خانے نے جمعے کے روز ایک ٹوئٹ میں کہا کہ روس کی جارح افواج کے جنوب مشرقی یوکرین میں شدید لڑائی کے نتیجے میں یورپ کے سب سے بڑے جوہری پاور پلانٹ پر قبضہ کرنے کے بعد جوہری پلانٹ پر حملہ کرنا ایک جنگی جرم ہے جس سے عالمی سطح پر خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے۔

    سی این این کے مطابق محکمہ خارجہ نے یورپ میں تمام امریکی سفارت خانوں کو ایک پیغام بھیجا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ کیف کے سفارت خانے کے اس ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ نہ کریں جس میں حملے کو جنگی جرم قرار دیا گیا ہے۔

    روس نے 24 فروری کو شروع کی گئی مہم کو "خصوصی فوجی آپریشن” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا یوکرین پر قبضہ کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے البتہ اس حملے کے دوران وہ مسلسل شہری آبادی کو نشانہ بنانے سے انکار کرتے رہے ہیں۔

    اقوام متحدہ کی تمام ریاستوں کی طرح روس اور یوکرین 1949 کے جنیوا کنونشنز کے تابع ہیں جس کے لیے جنگ میں انسانی سلوک کے قانونی معیارات متعین کیے گئے ہیں اور شہریوں پر جان بوجھ کر حملوں کو غیرقانونی قرار دیا گیا ہے۔

    حملے کو 11 دن گزرنے کے بعد اب تک 15لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں جس کے بارے میں اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ میں مہاجرین کا سب سے تیزی سے بڑھتا ہوا بحران ہے۔

  • 66 ہزاریوکرینی مرد روس سے لڑنے کیلئے بیرون ملک سے وطن واپس لوٹ آئے

    66 ہزاریوکرینی مرد روس سے لڑنے کیلئے بیرون ملک سے وطن واپس لوٹ آئے

    کیف:66 ہزاریوکرینی مرد روس سے لڑنے کیلئے بیرون ملک سے وطن واپس لوٹ آئے ،اطلاعات کے مطابق یوکرین کے وزیر دفاع اولیکسی ریزنیکوف نے دعویٰ کیا ہے کہ 66 ہزار سے زائد یوکرینی مرد روس سے لڑنے کیلئے بیرون ملک سے وطن واپس لوٹ آئے ہیں۔

    روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کے بعد سے دارالحکومت کیف سمیت متعدد شہر روس کے محاصرے میں ہیں۔کئی شہروں میں روسی افواج اور یوکرین کے درمیان جنگ جاری ہے اور گزشتہ 10 روز میں 15 لاکھ سے زائد افراد یوکرین چھوڑ چکے ہیں۔

    تاہم اب یوکرینی وزیر دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ 66 ہزار سے زائد یوکرینی مرد روس سے لڑنے کیلئے بیرون ملک سے وطن واپس لوٹ آئے ہیں۔اپنی ٹوئٹ میں ریزنیکوف کا کہنا تھاکہ 66 ہزار 224 مرد ملک کے دفاع کیلئے بیرونی ممالک سے واطن لوٹے ہیں، یہ تعداد ہمارے لیے 12 بریگیڈیز کے برابر ہے۔

    یوکرین کے دفاع کے لیے 3 ہزار امریکیوں نے یوکرین جا کر روس کے خلاف لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    امریکی نشریاتی ادارے وائس آف امریکا کے مطابق واشنگٹن میں یوکرینی سفارتخانے کے ایک اہلکار نے بتایا ہےکہ 3ہزار امریکیوں نے یوکرین جا کر لڑنےکی حامی بھری ہے، اس سے روس کے خلاف مزاحمت میں یوکرین کو مدد ملے گی۔

    یوکرینی سفارتخانےکے اہلکار کے مطابق اس کے علاوہ دیگر ممالک سے بھی رضاکار لڑنے کے لیے یوکرین جارہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق یوکرین میں روس کے خلاف جاکر لڑنے کے خواہشمند افراد میں زیادہ تر سابق امریکی فوجی ہیں۔

    خیال رہےکہ یوکرینی صدر ولودو میر زیلنسکی نے غیر ملکی شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ روس کے خلاف یوکرین کے دفاع کے لیے بنائی گئی رضاکاروں کی ‘انٹرنیشنل بریگیڈ’ میں شمولیت اختیار کریں۔یوکرین نے روس کیخلاف لڑنےکیلئے آنیوالے غیرملکیوں پر سے ویزا پابندی اٹھالی

    غیر ملکی جنگجوؤں کے لیے یوکرینی صدر ولودو میر زیلنسکی نے حکم نامے کے تحت عارضی طور پر ویزا پابندی بھی اٹھالی ہے ، اس طرح روس کے خلاف یوکرین کے دفاع کی جدوجہد میں عملی شرکت کے خواہشمند افراد باآسانی یوکرین داخل ہوسکیں گے۔

    رپورٹ کے مطابق غیر ملکی جنگجوؤں کو یوکرین میں داخلے کے لیے اپنا عسکری پس منظر بتانا ہوگا، اس کے علاوہ انہیں اپنا دفاعی فوجی سازوسامان لانے پر بھی زور دیا گیا ہے

    روس کی جانب سے یوکرین کے شہروں خارکیف، چرنیہیف اور ماریوپول پر حملے جاری ہیں، یوکرین کے صدر زیلنسکی پولینڈ کی سرحد کےقریب منتقل ہوگئے ہیں۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یوکرین کے صدر زیلنسکی یوکرینی دارالحکومت کیف سے پولش بارڈرکےقریبی شہر لویف منتقل ہوگئے ہیں۔

    دوسری جانب ماریوپول کےگرد روسی فوج کا گھیراؤ جاری ہے، شہریوں کا انخلا جلد شروع ہونےکا امکان ہے

  • روس نے یوکرین کے 2,037 فوجی ڈھانچوں کو تباہ کردیا:روسی وزارت دفاع

    روس نے یوکرین کے 2,037 فوجی ڈھانچوں کو تباہ کردیا:روسی وزارت دفاع

    ماسکو: روس نے یوکرین کے 2,037 فوجی ڈھانچوں کو تباہ کردیا:روسی وزارت دفاع نے تفصیلات جاری کردیں ،اطلاعات کے مطابق روسی وزارت دفاع کے ترجمان ایگور کوناشینکوف نے کہا کہ روسی مسلح افواج نے یوکرین میں فوجی کارروائی کے آغاز سے لے کر اب تک یوکرین کے 2,037 فوجی بنیادی ڈھانچے کو تباہ کیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ان ڈھانچوں میں یوکرین کی مسلح افواج کی 71 کمانڈ پوسٹیں اور مواصلاتی مراکز، 98 طیارہ شکن میزائل سسٹم اور 61 ریڈار اسٹیشن شامل ہیں۔ اس کے علاوہ زمین پر موجود تقریباً 66 اور فضا میں 16 طیارے تباہ ہوئے،

    جب کہ 708 ٹینک اور دیگر بکتر بند جنگی گاڑیاں، 74 راکٹ لانچرز، 261 فیلڈ آرٹلری اور مارٹر، خصوصی فوجی گاڑیوں کے 505 یونٹس اور بغیر پائلٹ کے 56 فضائی گاڑیاں تباہ ہوئیں۔

    انہوں نے کہا کہ روس یوکرین میں گولہ بارود کے ڈپو کو تباہ کرنے کے لیے طویل فاصلے تک مار کرنے والے درست ہتھیاروں کا استعمال کر رہا ہے۔ کرینی دارالحکومت کیف کے قریبی قصبے پر روسی فوج کی بمباری سے 6 افراد ہلاک ہو گئے۔

    غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق روسی فوج نے یوکرین کے دارالحکومت کیف کا محاصرہ کر رکھا ہے جبکہ روس نے یوکرین کے شہر ماریو پول پر دوبارہ حملے بھی شروع کر دیے ہیں۔

    ماریو پول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر میں روسی بمباری کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث لوگوں کا انخلا ملتوی کر دیا گیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق یوکرین کے صدر ولودومیر زیلینسکی پولینڈ کی سرحد کے قریب منتقل ہو گئے ہیں۔

    خیال رہے کہ روس نے 24 فروری کو یوکرین پر حملوں کا آغاز کیا تھا اور روس کی جانب سے یوکرین کے مختلف شہروں پر قبضہ بھی کیا جا چکا ہے

  • روس اور یوکرین میں مذاکرات کا تیسرا دور کل ہو گا

    روس اور یوکرین میں مذاکرات کا تیسرا دور کل ہو گا

    روس اور یوکرین میں مذاکرات کا تیسرا دور کل ہو گا۔

    باغی ٹی وی :روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے جرمن چانسلر اولاف شولز سے ٹیلفونک رابطہ کیا اور کہا کہ روس یوکرین کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے اور امید ہے کیف معقول اور تعمیری مؤقف اپنائے گا۔

    واضح رہے کہ روس یوکرین مذاکرات کے دوسرے دور میں شہریوں کے انخلا کے لیے راہداریوں کے قیام پر اتفاق ہوا تھا۔

    دوسری جانب روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ یوکرین میں سب کچھ طے شدہ منصوبے کے تحت جاری ہے۔

    یوکرین کا روسی ہیلی کاپٹر مار گرانے کا دعویٰ‌:ولادی میرپوتن نے اور بات کہہ دی

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ملک میں مارشل لا کے نفاذ کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں مارشل لا کا اعلان کرنے کا کوئی ارادہ نہیں اور مارشل لا کی ضرورت تب ہوتی ہے جب ملک کو بیرونی جارحیت کا سامنا ہو۔

    چین کو یوکرین میں جاری تنازعہ سے فائدہ اٹھانے نہیں دیں گے:کواڈ اتحاد کا پیغام

    انہوں نے کہا کہ اس وقت ایسی کوئی صورت حال نہیں اور نہ ہی مستقبل میں ایسے حالات کا کوئی امکان ہے۔ یوکرین میں سب کچھ طے شدہ منصوبے کے مطابق جاری ہے۔

    ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ جو ملک یوکرین کو نو فلائی زون قرار دے گا وہ تنازع میں شامل ہو جائے گا اور کسی بھی ملک کی ایسی کسی تحریک کو تنازع میں شامل ہونے کے برابر سمجھیں گے۔

  • یوکرین کا روسی ہیلی کاپٹر مار گرانے کا دعویٰ‌:ولادی میرپوتن نے اور بات کہہ دی

    یوکرین کا روسی ہیلی کاپٹر مار گرانے کا دعویٰ‌:ولادی میرپوتن نے اور بات کہہ دی

    ماسکو :یوکرین کا روسی ہیلی کاپٹر مار گرانے کا دعویٰ‌:ولادی میرپوتن نے اور بات کہہ دی،اطلاعات کے مطابق یوکرین کی فوج نے روس کا فوجی ہیلی کاپٹر مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    روس نے 24 فروری کو یوکرین پر حملہ کردیا تھا جس کے بعد سے اب یوکرینی دارالحکومت کیف سمیت متعدد شہر روسی افواج کے محاصرے میں ہیں۔روسی فوج نے دو یوکرینی شہروں سے شہری آبادی کے انخلا کیلئے عارضی جنگ بندی کی تھی تاہم دونوں ملکوں کے درمیان جنگ اب بھی جاری ہے۔

    برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق یوکرینی فوج نے روسی فوجی ہیلی کاپٹر مار گرایا۔ یوکرینی فوج نے روسی فوجی ہیلی کاپٹر کو میزائل سے نشانہ بناکرگرایا۔یوکرینی آرمڈ فورسز کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ہیلی کاپٹر گرانے کی ویڈیو بھی جاری کی گئی تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ روسی ہیلی کاپٹر کب اور کہاں مار گرایا گیا۔

    خیال رہے کہ حالیہ جنگ میں یوکرین کی جانب سے روسی افواج کے بھاری جانی اور مالی نقصان کے دعوے کیے گئے ہیں تاہم آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

    دوسری طرف روس نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین غیر ملکیوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

    روس کی وزارت دفاع کے ترجمان نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ یوکرینی عسکریت پسندوں کے پاس پانچ ہزار غیر ملکی ہیں، غیر ملکیوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

    وزارت دفاع نے کہا کہ غیر ملکیوں میں 16 طلبہ پاکستانی، 1500 بھارتی طلبہ ہیں، اردن کے 200، مصر کے 40، ویتنام کے 15 شہریوں کو خارکیو میں رکھا گیا ہے، بھارت کے 576، تنزانیہ کے 159، چین کے 121، گھانا کے 100 طلبہ، مصر کے 60، اردن کے 45، تیونس کے 15 اور سومی شہر میں زیمبیا کے 14 شہری ہیں۔

    ترجمان کا کہنا ہے کہ یوکرین نے خارکیو اور سومی میں انسانی راہداری کھولنے سے انکار کیا ہے، یوکرینی قوم پرستوں نے 20 افراد پر مشتمل پاکستانی گروپ پر تشدد بھی کیا، 20 افراد پر مشتمل پاکستانی گروپ کو سجا چیک پوائنٹ پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

    وزارت دفاع نے کہا کہ یوکرین قوم پرستوں کے تشدد کے باعث پاکستانی گروپ واپس چلا گیا، یوکرین میں نسلی بنیادوں پر امتیازی سلوک کے واقعات بھی بڑھ گئے، یوکرینی قوم پرست غیر ملکیوں کو نکالنے سے روک رہے ہیں۔

    ترجمان نے مزید کہا کہ یوکرینی قوم پرست پاکستان، بھارت، انڈونیشیا اور مصر کے شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

    ادھر روس کے صدر ولادمیر پیوٹن نے روسی ایئر لائن ایرو فلوٹ کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا ہے۔ اس موقع پر ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ یوکرین میں نازیوں کی حمایت کرنے والے گروہ ہیں، روس کو خطرے کا سامنا ہے مغربی پابندیاں جنگ کا اعلان ہے، ہم ڈنباس کا دفاع کرنا چاہتے ہیں۔

  • ماسکو ائیرپورٹ پر امریکی خاتون ایتھیلیٹ بھنگ سمیت "پھڑی”گئی

    ماسکو ائیرپورٹ پر امریکی خاتون ایتھیلیٹ بھنگ سمیت "پھڑی”گئی

    ماسکو:ماسکو ائیرپورٹ پر امریکی خاتون ایتھیلیٹ بھنگ سمیت "پھڑی”گئی ،اطلاعات کے مطابق امریکہ سے تعلق رکھنے والی معروف خاتون ایتھیلیٹ اور اولمپک باسکٹ بال چمپئین کو روسی ائیرپورٹ سے گرفتار کر لیا۔

    روس کی فیڈرل کسٹمز سروس کے مطابق خاتون ایتھیلیٹس نیویارک سے گزشتہ ہفتے نیویارک سے ماسکو پہنچی تھی، ان کے سامان سے منشیات برآمد ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

    امریکی باسکٹ بال اتھارٹیز نے گزشتہ روز اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ خاتون ایتھیلیٹ کو ماسکو ائیرپورٹ سے نارکوٹکس ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔

    دو مرتبہ کی اولمپک چمپئین خاتون ایتھیلیٹ برٹنی گرینر کی گرفتاری ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ماسکو اور مغرب کے مابین یوکرین جنگ کے حوالے سے شدید تناؤ برقرار ہے۔

    روسی کسٹم حکام کے مطابق خاتون ایتھیلیٹ کے بیگ سے ایک محلول برآمد ہوا ہے جسے ماہرین نے چیک کیا تو معلوم ہوا کہ محلول دراصل نشہ آور بھنگ کا تیل ہے جو ممنوعہ اشیاء میں شامل ہے۔

    امریکی ایتھیلیٹ کو جیل منتقل کر دیا گیا ہے ، کسٹم حکام نے ابھی تک خاتون کی شناخت کے حوالے سے مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں۔لیکن کہا گیا ہے کہ وہ “یو ایس نیشنل باسکٹ بال ایسوسی ایشن کی رکن ہے، جو امریکی ٹیم میں دو بار کی اولمپک باسکٹ بال چیمپئن ہے”۔

    کسٹم حکام کا کہنا ہے کہ زیر حراست خاتون ایتھیلیٹ کو ممکنہ طور پر پانچ سے 10 سال قید کی سزا کا سامنا ہے۔

  • جاپان بھی روس کے خلاف میدان میں‌ آگیا: یوکرین کوبُلٹ پروف جیکٹس اوردیگر ضرورت کے سامان فراہمی

    جاپان بھی روس کے خلاف میدان میں‌ آگیا: یوکرین کوبُلٹ پروف جیکٹس اوردیگر ضرورت کے سامان فراہمی

    ٹوکیو:جاپان بھی روس کے خلاف میدان میں‌ آگیا: یوکرین کوبُلٹ پروف جیکٹس اوردیگر ضرورت کے سامان فراہمی .اطلاعات کے مطابق یوکرین کی مدد کا فیصلہ جاپان کی قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں کیا گیا۔ جاپانی وزارت دفاع کے مطابق یوکرین کو فراہم کی جانے والی اشیامیں ہیلمٹ، سخت سرد موسم کا لباس، خیمے، کیمرے، حفظان صحت کی مصنوعات، ہنگامی غذائی اشیا اورجنریٹر شامل ہیں۔

    خیال رہے کہ جاپان پہلی بار اپنی بُلٹ پروف جیکٹس کسی ملک کو فراہم کرے گا۔حکومتی ترجمان کے مطابق جاپان یوکرین کو اسلحہ فراہم نہیں کرے گا اور نہ ہی ایسا کوئی منصوبہ ہے۔

    دوسری طرف یوکرین کے صدر ولادیمر زیلینسکی نے کہا ہے کہ نیٹو نے 50 ٹن ڈیزل دینے کے علاوہ کچھ نہیں دیا، اموات کا ذمے دار نیٹو ہوگا۔

    یوکرین کے صدر کا اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہنا تھا کہ نیٹو کو معلوم ہے کہ روس ابھی حملے مزید تیز کرے گا ایسی صورت میں جب سب کو معلوم ہے کہ نئے حملے اور اموات ہونگی تو نیٹو کا فیصلہ سمجھ سے بالاتر ہے۔

    انہوں نے نیٹو کے ارکان پر روس کو یوکرین پر حملہ کرنے کےلیے ہری جھنڈی دکھانے کا الزام بھی عائد کیا اور یوکرین کو نو فلائی زون قرار دینے کی اپیل کو رد کرنے پر نیٹو پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو کے اس فیصلے کے بعد اب اگر لوگ مارے جائیں گے تو اس کا ذمے دار نیٹو ہوگا۔

    ولادیمیر زیلنسکی نے یوکرین اور روس کے درمیان جاری تنازع کے درمیان حال میں ختم ہونے والی نیٹو سربراہی کانفرنس کو کمزور قرار دیا اور کہا کہ یہ ایک الجھا ہوا سربراہی اجلاس تھا ایسا سربراہی اجلاس جو ظٓاہر کرتا ہے کہ یورپ میں ہر کوئی جنگ آزادی کو ایک مقصد کے طور پر نہیں دیکھتا۔

    زیلنسکی کا مزید کہنا تھا کہ نیٹو کے اس رخ سے روس کو یوکرین کے شہروں اور دیہات پر بم باری کی کھلی چھوٹ مل گئی ہے۔انہوں نے پولینڈ جانے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ کہیں نہیں گئے اور کیف میں ہی موجود ہیں اور کبھی یوکرین سے فرار نہیں ہونگے۔

    واضح رہے کہ یوکرین کے صدر نے نیٹو ممالک سے اپیل کی تھی کہ وہ یوکرین کو نو فلائی زور یعنی ’’وہ علاقہ قرار دیں جہاں سے کسی بھی طیارے کے گزرنے پر پابندی ہوتی ہے‘‘ لیکن نیٹو نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے تیس ممالک پر مشتمل سیاسی و عسکری اتحاد نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) نے یوکرین کی نوفلائی زون قرار دینے کی درخواست مسترد کردی ہے۔

  • امریکہ اسرائیلی وزیراعظم کواستعمال کرنےلگا:ماسکومیں روسی صدر سے اہم ملاقات

    امریکہ اسرائیلی وزیراعظم کواستعمال کرنےلگا:ماسکومیں روسی صدر سے اہم ملاقات

    ماسکو:امریکہ اسرائیلی وزیراعظم کواستعمال کرنےلگا:ماسکومیں روسی صدر سے اہم ملاقات اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے ہفتے کے روز کریملن میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے ملاقات کی جس میں یوکرین کے بحران پر بات چیت کی گئی،

    اسرائیل جو کہ روسی تارکین وطن کی کافی آبادی کا گھر ہے، نے روس اور یوکرین کے درمیان تنازعہ میں ثالثی کی پیشکش کی ہے، حالانکہ حکام نے پہلے کسی پیش رفت کی توقعات کو ٹھکرا دیا تھا۔

    جبکہ اسرائیل، جو کہ امریکہ کے قریبی اتحادی ہے، نے روسی حملے کی مذمت کی ہے، کیف کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے اور یوکرین کو انسانی امداد بھیجی ہے، اس نے کہا ہے کہ وہ بحران کو کم کرنے میں مدد کی امید میں ماسکو کے ساتھ رابطے برقرار رکھے گا۔

    اسرائیل شام میں صدر بشار الاسد کے لئے ماسکو کی فوجی حمایت کو بھی ذہن میں رکھتا ہے، جہاں اسرائیل باقاعدگی سے ایرانی اور حزب اللہ کے فوجی اہداف پر حملے کرتا ہے۔ ماسکو کے ساتھ روابط روسی اور اسرائیلی افواج کو حادثاتی طور پر فائر ٹریڈنگ سے روکتے ہیں۔

    یاد رہے کہ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن سے اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے ٹیلیفونک رابطہ کیا تھی ۔کریملن نے ولادیمیر پیوٹن اور اسرائیلی وزیراعظم کی ٹیلیفونک گفتگو پر اعلامیہ جاری کیا تھی ۔کریملن کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نے روسی صدر کو یوکرین جنگ رکوانے میں مصالحت کی پیشکش کی تھی ۔

    اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ صدر پیوٹن نے اسرائیلی وزیراعظم کو بیلاروس میں یوکرین سے مذاکرات کی پیشکش کا بتادیا ہے۔دوران گفتگو روسی صدر نے کہا کہ یوکرین حکومت نے روسی پیشکش کو مسترد کر کے اچھا موقع گنوادیا ہے۔

    صدر پیوٹن نے اسرائیلی وزیراعظم پر واضح کیا کہ روسی فوج کے خصوصی دستے ملک کے دفاع کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔،یاد رہے کہ اسرائیل نے اعلان کیا کہ کہ وہ اگلے ہفتے یوکرین میں فیلڈ ہسپتال قائم کرے گا۔

  • پشاور دھماکہ:قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر بہت دُکھ ہوا ہے:غم کی اس گھڑی میں‌ پاکستان کےساتھ ہیں:روس

    پشاور دھماکہ:قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر بہت دُکھ ہوا ہے:غم کی اس گھڑی میں‌ پاکستان کےساتھ ہیں:روس

    لاہور: پشاور دھماکہ:قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر بہت دُکھ ہوا ہے:غم کی اس گھڑی میں‌ پاکستان کےساتھ ہیں،اطلاعات کے مطابق روس نے خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں ہونے والے خود کش دھماکے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز پشاور کے علاقے قصہ خوانی میں کوچہ رسالدار کی جامع مسجد میں جمعہ کی نماز کے دوران دھماکا ہوا تھا جس کے نتیجے میں اب تک امام ارشاد خلیلی سمیت 62 افراد شہید ہوگئے تھے۔
    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے لکھا کہ روسی ہم منصب سرگئی لاروف کیساتھ ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔

     

    شاہ محمود نے کہا کہ روسی وزیر خارجہ کی جانب سے خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور کی مسجد پر ہونے والے دہشتگردی حملے میں جانی نقصان پر تعزیت اور دہشتگردی کی مذمت کرنے پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

    وزیر خارجہ نے کہا کہ ٹیلیفونک رابطے کے دوران یوکرین کی صورتحال پر پاکستان کی تشویش پر میں نے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعات کے مطابق سفارتی حل کی ضرورت سے آگاہ کیا۔

     

    انہوں نے ٹویٹر پر مزید لکھا کہ یوکرین، پولینڈ، رومانیہ، ہنگری کے وزرائے خارجہ اور یورپی یونین کے اعلیٰ نمائندوں کے ساتھ حالیہ ٹیلیفونک گفتگو پر روسی وزیر خارجہ کو آگاہ کیا۔

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سرگئی لاروف کو پاکستان کا اصولی بتایا، بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل تلاش کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔وزیر خارجہ نے مزید لکھا کہ روس، یوکرین کے درمیان انسانی ہمدردی کی بنیاد پر راہداری کھولنے، وزیر خارجہ سرگئی لاروف کی جانب سے پاکستانی شہریوں کے محفوظ اور فوری انخلا کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کو سراہتے ہیں۔

     

     

    ایک اور ٹویٹ میں شاہ محمود قریشی نے لکھا کہ او آئی سی کے جنرل سیکرٹری کیساتھ ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، انہوں نے پشاور میں ہونے والے دہشتگردی اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے، او آئی سی کے جنرل سیکرٹری کی جانب سے دہشتگردی کیخلاف پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کے اقدام کو سراہتے ہیں۔

    مزید ٹویٹ میں وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے لکھا کہ صومالیہ کے وزیر خارجہ کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے پشاور میں ہونے والی دہشتگردی کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔