Baaghi TV

Tag: روس

  • یوکرین پرحملہ :لتھوانیا نے روس کے لیے اپنی فضائی حدود میں داخلے پر پابندی لگا دی

    یوکرین پرحملہ :لتھوانیا نے روس کے لیے اپنی فضائی حدود میں داخلے پر پابندی لگا دی

    کیف :یوکرین پر حملہ :لتھوانیا نے روس کے لیے اپنی فضائی حدود میں داخلے پر پابندی لگا دی ،اطلاعات کے مطابق لیتھوانیا ہفتے کے روز سے روسی ایئر لائنز پر اپنی فضائی حدود استعمال کرنے پر پابندی عائد کر دے گا، حکومت نے کہا کہ یوکرین پر روس کے حملے کے بعد ایک ہی قدم اٹھانے والے دیگر یورپی ممالک میں شامل ہوں گے۔

    اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ لتھوانیا نے یہ فیصلہ یوکرین پر روسی حملے کے بعد کیا ،امریکی وزیرخارجہ انتھونی بلنکن نے ایک بیان میں کہا ہےکہ صدر بائیڈن نے یوکرین کے لیے اضافی فوجی امداد کا اعلان کیا ہے جس کے تحت یوکرین کو 35 کروڑ ڈالر کی اضافی فوجی امداد فراہم کی جائےگی۔

    خیال رہےکہ یوکرین کی جانب سے امریکا اور یورپی اتحادیوں سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ اسے روس کے خلاف مزاحمت کے لیے ٹینک شکن میزائل اور طیارہ شکن اسٹنگر میزائل فراہم کیے جائیں۔

    امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کا کہنا ہےکہ یوکرین کو فراہم کیے جانے والے اسلحے میں ٹینک شکن سمیت متعدد ایسے ہتھیار ہیں جو فرنٹ لائن پر موجود یوکرینی فوجیوں کے کام آئیں گے۔ امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے حالیہ کچھ عرصوں میں یوکرین کو ایک ارب ڈالر سے زائد فوجی امداد فراہم کی گئی ہے۔

    دوسری جانب یورپی ممالک کی جانب سے بھی روسی حملےکے بعد یوکرین کو عسکری امداد کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔نیدرلینڈکی جانب سے 200 طیارہ شکن اسٹنگر میزائل فراہم کیے جارہے ہیں اور اس حوالے سے ولندیزی حکومت نے جلد ازجلد میزائل فراہم کرنےکے لیے پارلیمنٹ کو خط لکھا ہے۔

    فرانس نے بھی یوکرین کو دفاعی آلات کی فراہمی کا فیصلہ کیا ہے، فرانسیسی فوج کے ترجمان نےکہا ہےکہ یوکرین کو دفاعی کے علاوہ روس کے خلاف جوابی کارروائی کے لیے بھی ہتھیار فراہم کیے جارہے ہیں۔

    ادھر نیٹو چیف اسٹولٹن برگ نےکہا ہےکہ یوکرین کےدفاع کےلیے پہلی بار نیٹو ریسپانس فورس فعال کی ہے،جس کے لیے امریکا 6 ارب ڈالر مختص کرےگا،یہ ریسپانس فورس مشرقی یورپ میں تعینات ہوگی۔

    دوسری جانب روس کا کہنا ہے کہ یوکرین نے مذاکرات کی پیشکش مسترد کردی ہے جس کے بعد فوجی کارروائی پوری قوت کے ساتھ دوبارہ شروع کردی گئی ہے۔

    روسی صدارتی محل (کریملن) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یوکرین نے مذاکرات کی پیشکش کو مسترد کرکے تنازع کو طول دیا ہے جس کے بعد روسی فوج نے اپنی پیش قدمی دوبارہ شروع کردی ہے۔

  • روس خلائی اسٹیشن کا 5 سو ٹن ملبہ بھارت پر گرنے کا خدشہ

    روس خلائی اسٹیشن کا 5 سو ٹن ملبہ بھارت پر گرنے کا خدشہ

    ماسکو: روس پر پابندیوں کی وجہ سے 5 سو ٹن روسی خلائی اسٹیشن کا ملبہ بھارت پر گرنے کا خدشہ ہے۔

    باغی ٹی وی : روسی خلائی پروگرام کے سربراہ دیمتری روگوزین نے خبردار کیا کہ ان کے ملک پر لگائی گئی نئی پابندیوں کے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے پروگرام کے لیے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ امریکی پابندیوں کے باعث روس کی خلائی پروگرام میں عدم شرکت کی وجہ سے 500 ٹن خلائی اسٹیشن کا ملبہ بھارت پر گر سکتا ہے۔

    یوکرین میں‌ پاکستانی سفارتخانے کی بمباری کے دوران پاکستانیوں کے لیے خدمات کےتفصیلات آگئیں

    دیمتری روگوزین نے کہا کہ اگر اسپیس اسٹیشن مدار سے نکل گیا تو ملبہ چین اور بھارت پر گرے گا امریکی پابندیوں کی وجہ سے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن میں روس کی شراکت داری ختم ہو جائے گی جو اس خلائی پروگرام کے لیے تباہ کن ثابت ہو گی۔

    روگوزین کے ٹویٹس نے ریاستہائے متحدہ پر روسی خلابازوں اور ان کے بین الاقوامی ہم منصبوں کے درمیان پہلے سے ہی "محدود تبادلے” کا الزام لگایا، اور کہا کہ مزید سرگرمی آئی ایس ایس معاہدے کو ناقابل تلافی طور پر توڑ سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ روس، امریکہ، کینیڈا، جاپان اور متعدد یورپی ممالک خلائی پروگرام کا حصہ ہیں۔

    فرانسیسی بحریہ کا روس جانے والے کارگوجہازپر قبضہ

    روس نے جمعرات کو یوکرین پر فوجی حملوں کے سلسلے میں حملہ کر دیا۔ اس کارروائی کی بین الاقوامی مذمت کے ساتھ ساتھ نئی اقتصادی پابندیاں بھی لگائی گئی ہیں، جن کے بارے میں امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ روس کے خلائی پروگرام کو نقصان پہنچے گا۔

    گزشتہ روز امریکی صدر جو بائیڈن نے روس کے یوکرین پر حملے کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ روس کو یوکرین پر بلا جواز حملے کے نتائج بھگتنا ہوں گے روسی بینک کے 250 ملین ڈالرز کے اثاثے منجمد کیے جائیں گے، پابندیوں سے چار روسی بینک متاثر ہوں گے روس کی برآمدات سمیت دیگر شعبوں پر بھی پابندیاں لگائیں گے۔

    تاہم، ناسا نے کل بعد میں اسپیس ڈاٹ کام کو بتایا کہ خلا میں امریکہ اور روس کے درمیان سول تعاون جاری رہے گا، خاص طور پر آئی ایس ایس کے حوالے سے۔

    یوکرینی فوجی کا ملکی دفاع کی خاطرانتہائی اہم قدم،روسی افواج لمبا راستہ اختیار کرنے…

    اسپیس ڈاٹ کام کے مطابق روگوزین نے بہت مختلف لہجہ اختیار کیا، یہ تجویز کیا کہ نئی پابندیوں کے نتیجے میں ممکنہ طور پر ISS زمین پر بے قابو ہو کر گر سکتا ہے۔ (یوروپی اسپیس ایجنسی کے مطابق ISS کا روسی حصہ پورے کمپلیکس کے لئے رہنمائی، نیویگیشن اور کنٹرول کے لئے ذمہ دار ہے۔ اور روسی پروگریس کارگو کرافٹ ISS کے لئے وقفہ وقفہ سے مدار کو بڑھانے میں اضافہ فراہم کرتا ہے، اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کہ یہ ڈوب نہ جائے۔ زمین کے ماحول میں بہت کم ہے۔)

    یوٹیوب،گوگل اور ٹوئٹر نے بھی روس پر پابندیاں عائد کر دیں

    آئی ایس ایس پر روس کے کنٹرولنگ فنکشن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، روگوزین نے کہا کہ بائیڈن "لوپ سے باہر” ہیں اور وہ اس بات سے بے خبر ہیں کہ یہ روسی نظاموں کی وجہ سے ہے کہ خلائی اسٹیشن "خلائی ردی کے ساتھ خطرناک جوڑ” کو چکما سکتا ہے۔

    روگوزین نے کہا کہ خلائی ردی ریاستہائے متحدہ کے "ہنرمند تاجروں” سے آتا ہے۔ اس نے نام نہیں بتائے، لیکن یہ ممکنہ طور پر اسپیس ایکس کے بانی اور سی ای او ایلون مسک کا حوالہ ہے، جن کی کمپنی اسٹار لنک نامی ایک بہت بڑا سیٹلائٹ-انٹرنیٹ نکشتر بنا رہی ہے اسپیس ایکس پہلے ہی 2,000 سے زیادہ اسٹار لنکک سیٹلائٹ لانچ کر چکا ہے اور بالآخر تقریباً 40,000 کرافٹ کو مدار میں پہنچا سکتا ہے۔

    روس اور یوکرین پُرتشدد کارروائیوں سے گریز کریں،طالبان

  • ہمسائیہ ممالک سُن لیں اگرنیٹومیں شامل ہوئےتووہ حشر    کروں گاکہ نسلیں یادرکھیں گی:پوتن کی ایک بارپھردھمکی

    ہمسائیہ ممالک سُن لیں اگرنیٹومیں شامل ہوئےتووہ حشر کروں گاکہ نسلیں یادرکھیں گی:پوتن کی ایک بارپھردھمکی

    ماسکو: ہمسائیہ ممالک سُن لیں اگرنیٹومیں شامل ہوئے تو وہ حشرکروں گا کہ نسلیں یاد رکھیں گی:پوتن کی ایک بارپھردھمکی ،اطلاعات کے مطابق یوکرین پر سوار روس نے اب اپنے دیگر پڑوسی ممالک کو صاف صاف لفظوں میں دھمکی دیدی ہے کہ اگر نیٹو کی جانب رکنیت کے لیے نظر اٹھا کر دیکھا تو سنگین فوجی اور سیاسی نتائج بھگتنے کے لیے تیارت ہوجائیں ۔ابھی یوکرین کی جنگ جاری ہے اور دنیا روس کے سامنے بے بس ہے۔ یہاں تک کہ امریکہ یوکرین کا ساتھ دینے کے بجائے ملک کی راجدھانی کیف سے انخلا کا مشورہ دے رہا ہے۔ اسی دوران اب روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے اپنے قریبی ہمسایہ ممالک سویڈن اور فن لینڈ کو دھمکی دی ہے کہ اگر وہ نیٹو میں شامل ہوتے ہیں تو انہیں ‘فوجی نتائج’ بھگتنا پڑیں گے۔

    یہ اس وقت ہوا جب یوکرین پر روس کا حملہ آج خاص طور پر دارالحکومت کیف میں ایک رات کی لڑائی کے بعد شدت اختیار کر گیا۔پوتن نے یوکرین سے آگے یورپ پر غلبہ حاصل کرنے کے اپنے منصوبہ کو بالکل واضح کردیا ہے۔۔

    سویڈن اور فن لینڈ روس کے دو قریب ترین ممالک ہیں۔خارجہ امور کی ترجمان ماریا زاخارووا نے ایک نیوز بریفنگ کے دوران کہا، ‘فن لینڈ اور سویڈن کو اپنی سلامتی کی بنیاد دوسرے ممالک کی سلامتی کو نقصان پہنچانے پر نہیں رکھنی چاہیے اور نیٹو میں ان کے الحاق کے نقصان دہ نتائج ہو سکتے ہیں اور انہیں کچھ فوجی اور سیاسی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔’

    وزارت خارجہ نے بعد میں ٹویٹر پر اس دھمکی کا اعادہ کیا۔محکمے نے لکھا، ‘ہم شمالی یورپ میں سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے فوجی عدم اتحاد کی پالیسی کے لیے فن لینڈ کی حکومت کے عزم کو ایک اہم عنصر سمجھتے ہیں۔’ ‘فن لینڈ کی نیٹو میں شمولیت کے سنگین عسکری اور سیاسی اثرات ہوں گے۔’

    ولادیمیر پوتن کے بارے میں بڑے پیمانے پر خیال کیا جاتا ہے کہ یوکرین پر مغربی ممالک کی جانب سے نیٹو میں شامل ہونے کے خیال کے بعد یوکرین پر حملہ کیا گیا تھا، اس خدشے کے پیش نظر کہ اس کی دہلیز پر امریکی فوج کی موجودگی ختم ہو سکتی ہے۔سویڈن یا فن لینڈ کا ایسا ہی اقدام ممکنہ طور پر اسی طرح کے غصے کو بھڑکا سکتا ہے۔

    پوتن کے خارجہ امور کے ترجمان نے کہاہے کہ ‘فن لینڈ اور سویڈن کو اپنی سلامتی کی بنیاد دوسرے ممالک کی سلامتی کو نقصان پہنچانے پر نہیں رکھنی چاہیے۔ یوکرائنی رہنما نیٹو میں شامل ہونا چاہتے ہیں لیکن روس اس اقدام کی سخت مخالفت کرتا رہا ہے۔نیٹو اور صدر جو بائیڈن دونوں نے کہا تھا کہ اگر کریملن نے حملہ کیا تو امریکہ 30 رکنی اتحاد کا بھرپور دفاع کرے گا۔

    بائیڈن نے جمعے کی صبح نیٹو کے ساتھی ارکان کے ساتھ عملی طور پر ملاقات کی تاکہ مشرقی اتحادیوں کو یقین دلایا جا سکے کہ ان کی حفاظت کی جائے گی کیونکہ روسی فوجی کیف میں داخل ہونے کے لیے تیار ہیں۔ مگر اب روس کی پیشقدمی کیف تک پہنچ چکی ہے اور امریکہ زبانی جمع خرچ کے علاوہ کچھ نہیں کرسکا ہے۔

    زیلنسکی نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر تنقید کی تھی کہ وہ اپنے ملک کو تنہا لڑنے کے لیے چھوڑ رہے ہیں۔’ہمارے ساتھ لڑنے کو کون تیار ہے؟ میں کسی کو نہیں دیکھ رہا ہوں،‘‘ انہوں نے جمعرات کی رات کہاتھا کہ ‘یوکرین کو نیٹو کی رکنیت کی ضمانت کون دینے کو تیار ہے؟ ہر کوئی خوفزدہ ہے۔

  • یوکرین میں‌ پاکستانی سفارتخانے کی بمباری کے دوران پاکستانیوں کے لیے خدمات کےتفصیلات آگئیں

    یوکرین میں‌ پاکستانی سفارتخانے کی بمباری کے دوران پاکستانیوں کے لیے خدمات کےتفصیلات آگئیں

    کیف:یوکرین میں‌ پاکستانی سفارتخانے کی بمباری کے دوران پاکستانیوں کے لیے خدمات کےتفصیلات آگئیں ،اطلاعات کے مطابق یوکرین میں پاکستانی سفارتخانے کے عملے کی جنگ اور بمباری کے دوران خدمات نے بہت حوصلہ دیا ہے ، ادھر اس حوالے سے پاکستانی سفارتخانہ یوکرین کی جانب سے جاری خدمات کے حوالے سے مزید تفصیلات جاری کردی گئی ہیں‌

    یوکرین سے آمدہ اطلاعات کے مطابق سفارتخانے کے عملے کے 21 اہل خانہ سمیت 62 افراد کو پہلے ہی نکال لیا گیا ہے۔59 لوگ (یوکرین-پولینڈ بارڈر)کراسنگ پر ہیں جبکہ 79 لوگ اب سرحدوں کی طرف بڑھ رہے ہیں یعنی 67 طلباء یوکرین-پولینڈ کی سرحد کی طرف اور سفارت خانے کے عملے کے 12 افراد یوکرین-رومانیہ سرحد کی طرف جارہے ہیں‌

    کھرکیو سے 104 طلباء ٹرین میں دوپہر کو پہنچ رہے ہیں۔20 طلباء کو کیف سے ایمبیسی کی طرف سے ترتیب دی گئی بس سے نکالا جا رہا ہے۔

    ادھر اسی حوالے سے پاکستان میں یوکرین کے سفیر نے سیکریٹری خارجہ سے ملاقات، پاکستانیوں کے انخلا پر تبادلہ خیال کیا ہے

    پاکستان میں یوکرین کے سفیر کی سیکریٹری خارجہ سے ملاقات ہوئی جس میں یوکرین میں موجود پاکستانیوں کے کے تحفظ اور انخلا پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ترجمان دفترخارجہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ میں لکھا کہ پاکستان میں یوکرین کے سفیر مارکیان چیوجک کی سیکریٹری خارجہ سہیل محمود سے ملاقات ہوئی۔

    ترجمان دفترخارجہ کے مطابق سیکریٹری خارجہ نے موجودہ صورتحال میں پاکستان کے مؤقف کا اظہار کیا، تناؤ میں کمی، بات چیت اور سفارت کاری سے مسئلے کی حل کی اہمیت پر زور دیا۔
    عاصم افتخار احمد کا کہنا ہے کہ ملاقات کے دوران یوکرین میں موجود پاکستانیوں کی سلامتی اور تحفظ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ ملاقات میں یوکرین میں موجود پاکستانیوں کے تحفظ اور انخلا کے انتظامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

  • یوکرین پر حملہ ،روس کی اپنی  سلامتی پرحملہ:کیسے؟حقائق سامنے آگئے

    یوکرین پر حملہ ،روس کی اپنی سلامتی پرحملہ:کیسے؟حقائق سامنے آگئے

    کیف :یوکرین پر حملہ ،روس کی اپنی سلامتی پرحملہ:کیسے؟حقائق سامنے آگئے ،اطلاعات کے مطابق یوکرین نے خود پر حملے کے بعد روس کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کے ساتھ ساتھ اسے عالمی ادائیگیوں کے مرکزی نظام سے الگ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    سوسائٹی فار ورلڈ وائیڈ انٹربینک فنانشل ٹیلی کمیونیکیشن (SWIFT) نیٹ ورک سے روس کو نکالنے سے روس کی دنیا کے بیشتر ممالک کے ساتھ تجارت کرنے کی صلاحیت ختم ہو سکتی ہے اور اس کی معیشت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔لیکن جمعرات کو، امریکہ اور یورپی یونین نے اس امکان پر نظرثانی کے دروازے کو کھلا چھوڑتے ہوئے روس کو SWIFT سے الگ نہ کرنے کا انتخاب کیا۔

    SWIFT کیا ہے؟

    SWIFT ایک ایسا نیٹ ورک ہے جسے بینک رقم کی منتقلی اور دیگر لین دین کے حوالے سے محفوظ پیغامات بھیجنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔تقریباً 200 ممالک میں 11 ہزار سے زیادہ مالیاتی ادارے SWIFT استعمال کرتے ہیں، جو اسے بین الاقوامی مالیاتی منتقلی کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی بناتا ہے۔

    SWIFT کام کیسے کرتا ہے؟

    SWIFT کے پاس انٹرنیشنل بینکنگ نمبرز اور بینکوں کے شناختی کوڈز ریکارڈ کرنے کی اجازت ہے۔یہ دنیا بھر سے 11 ہزار سے زائد مالیاتی اداروں کو آپس میں جوڑتا ہے اور سالانہ 5 بلین سے زاید مالیاتی پیغامات نشر کرتا ہے۔کلائنٹس جب کوئی ٹرانزیکشنز کرتے ہیں تو یہ انہیں بینکوں سے جوڑتا ہے۔اگر دو ادارے آپس میں پارٹنرز نہیں تو سوئفٹ ثالثی ادارہ بن کر ان دونوں کے درمیان رابطہ کراتا ہے۔یہ خود کو ایک قابل اعتماد اور محفوظ سسٹم ہونے کا دعویٰ کرتا ہے جو بینکنگ پارٹنز کے درمیان ٹرانزیکشن کرتا ہے۔

    SWIFT کا مالک کون ہے؟

    SWIFT بیلجیئم قانون کے تحت قائم کی گئی ایک کوآپریٹو کمپنی ہے۔ اس کی ویب سائٹ پر موجود تفصیلات میں کہا گیا ہے کہ “یہ اپنے شیئر ہولڈرز (مالی اداروں) کی ملکیت ہے جو اسے کنٹرول کرتے ہیں اور دنیا بھر سے تقریباً 3,500 فرموں کی نمائندگی کرتے ہیں”۔

    SWIFT اور روس کے درمیان کیا تعلق ہے؟

    روسی نیشنل سوئفٹ ایسوسی ایشن کے مطابق، روس میں امریکہ کے بعد دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ صارفین ہیں، تقریباً 300 روسی مالیاتی ادارے اس نظام سے وابستہ ہیں۔روس کے نصف سے زیادہ مالیاتی ادارے SWIFT کے رکن ہیں۔

    ہانگ کانگ میں نیٹیکسس میں ایشیا پیسیفک کی چیف اکانومسٹ، ایلیسیا گارسیا ہیریرو نے کہا کہ روس پر SWIFT کے حوالے سے پابندی لگانا ملک کے لیے ایک سنگین دھچکا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ “یہ ایک بڑی بات ہے کیونکہ اس کے بنا کوئی قرض یا تجارتی مالیاتی ادائیگی نہیں کی جاسکتی۔”گارسیا ہیریرو کا کہنا ہے کہ یہ روس سے یورپی یونین کی گیس کی درآمد کو روکنے سے بڑا ہے۔

    روس کا ردعمل

    فیڈریشن کونسل کے نائب سپیکر نکولے زووراولیو نے جنوری میں تسلیم کیا کہ نیٹ ورک سے ملک کا اخراج ایک امکان ہے۔

    SWIFT ایک سیٹلمنٹ سسٹم ہے، یہ ایک سروس ہے۔ اس لیے اگر روس کا SWIFT سے رابطہ منقطع ہو جاتا ہے، تو ہم غیر ملکی کرنسی حاصل نہیں کریں گے۔ لیکن خریدار، یورپی ممالک، سب سے پہلے ہماری اشیاء تیل، گیس، دھاتیں اور ان کی درآمدات کے دیگر اہم اجزاء حاصل نہیں کر پائیں گے۔

    زوراولیو نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اگرچہ SWIFT آسان ہے، لیکن یہ رقم کی منتقلی کا واحد طریقہ نہیں ہے، اور کسی ملک کو معطل کرنے جیسے فیصلے کے لیے اراکین کے درمیان اتفاق رائے کی ضرورت ہوگی۔زوراولیو نے مزید کہا کہ SWIFT ایک یورپی کمپنی ہے، ایک ایسوسی ایشن جس میں بہت سے ممالک شامل ہیں۔

    کیا روس کی SWIFT سے معطلی اس کے لیے واقعی خطرہ ہے؟

    برسلز میں قائم Bruegel تھنک ٹینک کے ڈائریکٹر گنٹرم وولف نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اس حکمت عملی سے ہونے والے فائدے اور نقصانات قابل بحث ہیں۔عملی طور پر SWIFT سے ہٹائے جانے کا مطلب یہ ہوگا کہ روسی بینک اسے غیر ملکی مالیاتی اداروں کے ساتھ ادائیگی کرنے یا وصول کرنے کے لیے استعمال نہیں کر سکتے۔

    مغربی ممالک نے 2014 میں کریمیا کے الحاق کے بعد روس کو SWIFT سے خارج کرنے کی دھمکی دی تھی۔لیکن ورس جیسی بڑی معیشت جو تیل اور گیس کا ایک اہم برآمد کنندہ بھی ہے کو چھوڑنے سے دیگر ممالک کو بھی اہم نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    نیدرلینڈز کے وزیر اعظم مارک روٹے نے جمعرات کو اعتراف کیا کہ یورپی یونین کے کچھ ممالک کے لیے پابندی “حساس” ہے کیونکہ اس کا “خود پر بہت زیادہ اثر” پڑے گا۔

    وولف نے کہا کہ “عملی طور پر یہ ایک حقیقی سر درد ہو گا۔” اس کا اثر خاص طور پر یورپی ممالک کے لیے بہت اچھا ہوگا جو روس کے ساتھ اہم تجارت کرتے ہیں، جو براعظم کی قدرتی گیس کا 41 فیصد فراہم کرتا ہے۔ہیریرو نے کہا کہ روس کو چھوڑنا “بانڈ ہولڈرز، یورپی یونین کے بینکوں اور توانائی کے درآمد کنندگان کے لیے” مہنگا پڑے گا۔

    اس طرح کی پابندی ماسکو کو چین، یا دیگر ممالک کے ساتھ، مالیاتی نظام پر ممکنہ طور پر امریکی غلبہ کو کم کرنے کے ساتھ، متبادل منتقلی کے نظام کی ترقی کو تیز کرنے کی ترغیب دے سکتی ہے۔

  • بلاول زرداری سندھ کی تباہی کے بعد کس منہ سے اسلام أباد أ رہا ہے:اسد عمر

    بلاول زرداری سندھ کی تباہی کے بعد کس منہ سے اسلام أباد أ رہا ہے:اسد عمر

    اسلام آباد:وفاقی وزیر اسد عمر نے پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کو مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب بھی کہتا ہوں کہ آپ لوگ لانگ مارچ کے لیے نہ نکلیں ، اس موقع پر اسد عمر نے کہا ہے کہ بلاول زرداری سندھ کی تباہی کے بعد کس منہ سے اسلام أباد أ رہا ہے۔ PDM سردیوں کی بیماری ہے جو گرمیوں میں ختم ہو جاتی ہے۔ PDM جتنی مرضی کوشش کر لے عمران خان حکومت کو کوئی بھی خطرہ نہیں ہے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نےعامر مغل کی میزبانی میں جھنگی سیداں میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہویے کیا۔انہوں نے کہا کہ میں اسلام أباد کی عوام کو اکٹھا کرنے پر عامر مغل کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ عامر مغل ہمیشہ سے فرنٹ سے لیڈ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ PDM اور بلاول زرداری ملکر زور لگائیں عمران خان اگلی بار بھی وزیر اعظم منتخب ہوں گے۔ اسد عمر نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی خصوصی توجہ سے اسلام أباد کی عوام کیلئے تاریخی قانون سازی اور کھربوں کی لاگت سے تاریخی ترقیاتی کام جاری ہیں۔

     

     

    چئیرمین سٹینڈنگ کمیٹی برائے داخلہ راجہ خرم نواز نے خطاب کرتے ہویے کہا کہ جس طرح اسلام أباد کی عوام نے تحریک انصاف کی حکومت کو تینوں سیٹیں جیت کر دی ہیں اور 2018 میں کلین سویپ کیا ہے۔ عوام کا احسان کبھی بھی نہیں اتار سکتے ہیں۔ دن رات عوامی مفاد میں کام کر رہے ہیں۔ اسد عمر کی قیادت میں شہر بھر میں تاریخی کام کئے جا رہے ہیں۔ تاریخی جلسہ کروانے پر راجہ خرم نواز نے عامر مغل کو مبارکباد پیش کی۔

    منتظم و میزبان جلسہ عامر مغل نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ساڑہے تین سالوں میں شہریوں کیلئے تاریخی قانون سازی اور کھربوں کے ترقیاتی کام کیے گیے ہیں۔ جس پر وزیر اعظم اور تینوں منتخب ایم این ایز کے شکر گزار ہیں۔ سیکشن 4 کا خاتمہ، نوکریوں میں 50% کوٹہ، پہلی فوڈ اتھارٹی کا قیام، پہلی رئیل اسٹیٹ اتھارٹی کا قیام، تاجروں کے لیے متفقہ قانون کرایہ داری کا قیام شامل ہے۔ اس کے علاوہ تینوں حلقوں میں کھربوں کی لاگت سے ہر شہری کیلیے صحت کارڈ، غازی بروتھا سے پانی کے منصوبے، روڈ گلیاں، اسکول ، کالج، پانی کے منصوبے، نئے ہسپتال، ڈسپینسریز، انڈر پاس، انٹر چینج، IJP روڈ، 10th ایونیو، مارگلہ روڈ، کمیونٹی سینٹرز، ملٹی پرپز گراونڈز، بجلی گیس کے منصوبے، سیکٹورل ایریا میں گلیوں، سڑکوں ، اسکولوں، اسٹریٹ لائیٹس ، اور پارکس کی اپ گریڈیشن شامل ہیں۔

    عامر مغل نے کہا کہ 2018 کی طرح 2022 کے بلدیات اور 2023 کے جنرل الیکشن میں بھی کلین سویپ کریں گے۔ عامر مغل نے کہا کہ بلاول زرداری اور PDM کا لانگ مارچ بری طرح ناکام ہو گا۔ کیونکہ عوام کو پتہ ہے کہ مریم صفدر اور بلاول زرداری کے جسم کا ایک ایک بال اور خون کا ایک ایک قطرہ حرام کی کمائ سے ہے۔ اور ان کے مارچ کا مقصد صرف اور صرف اپنے والدین کی کرپشن کا تحفظ اور ایک بار پھر عوام کو بیوقوف بنا کر اقتدار میں أنا ہے جس کو عوام بری طرح مسترد کر چکی ہے۔ جلسے سے ممبر سینیٹر سیمی ایزدی، عابدہ راجہ ایم پی اے اور فرزند شاہ سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا۔

  • چیچن کمانڈو دستے’’ہنٹرز‘یوکرینی صدرکی تلاش میں:زندہ یا مردہ پکڑنے کےلیے کوشاں؛مغرب پرخوف طاری

    چیچن کمانڈو دستے’’ہنٹرز‘یوکرینی صدرکی تلاش میں:زندہ یا مردہ پکڑنے کےلیے کوشاں؛مغرب پرخوف طاری

    کیف: چیچن کمانڈو دستے’’ہنٹرز‘ یوکرینی صدرکی تلاش میں:زندہ یا مردہ پکڑنے کےلیے کوشاں ،اطلاعات کے مطابق چیچن اسپیشل فورسز کے ‘ہنٹرز’ کو یوکرین میں کیف کے اہلکاروں کو حراست میں لینے یا قتل کرنے کے لیے اتارا گیا ہے جنہیں ‘تاش کے پتے’ دیے جاتے ہیں جن میں ان کے اہداف کی تصاویر ہوتی ہیں۔

    چیچن اسپیشل فورسز کے ‘ہنٹرز ‘ کے ایک دستے کو یوکرین کے مخصوص اہلکاروں کو حراست میں لینے یا قتل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس بارے میں پہلے ہی یوکرین کے صدر خدشہ ظاہر کرچکے ہیں کہ روس انہیں خاندان سمیت ختم کرانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ان تصاویر کے ساتھ یوکرین کی جنگ میں ایک نیا رخ سامنے آگیا ہے۔ روس اور چیچین حکومت میں تال میل ہے۔

     

    خطرناک قاتل دستے کی تصویر یوکرین کے جنگل میں اس وقت دکھائی گئی جب وہ ممکنہ لڑائی سے قبل یہ دستہ با جماعت نماز ادا کررہا تھا۔ یہ قدم چیچین رہنما اور پوتن کے قریبی اتحادی 45 سالہ رمضان قادروف کے یوکرین میں اپنی افواج کا دورہ کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

    ۔ 44 سالہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے جمعرات کو کہا کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ کیف میں روسی اسپیشل فورسز ان کا مارنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو کی جانب سے یوکرائنی حکومت کے سینیئر اہلکاروں کے لیے جاری کی گئی ‘کِل لسٹ’ میں ان کا خاندان دوسرا ہدف تھا۔

     

     

    رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ فہرست میں روسی تحقیقاتی کمیٹی کے ‘جرائم’ کے مشتبہ اہلکاروں اور سیکیورٹی افسران کی ہے۔یہ اس وقت سامنے آیا جب یوکرین کے صدر نے اعتراف کیا کہ وہ اپنے دارالحکومت میں روسی قاتلوں کے لیے ‘ٹارگٹ نمبر ایک’ ہیں، جب کہ ان کا خاندان پوتن کے ہٹ مینوں کے لیے ‘نمبر دو’ ہے۔

    دوسری طرف اسی حوالے سے روس کی نیم خود مختار ریاست چیچنیا کے سربراہ رمضان قادریوف نے روس پر یوکرین کی کارروائی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہےکہ 12 ہزار چیچن یوکرین کے محاذ پر جاکر لڑنے کے لیے تیار ہیں۔

     

    روسی سرکاری میڈیا کے مطابق چیچنا کے دارالحکومت گروزنی میں 12 ہزار کے قریب چیچن فورسز کے اہلکار اور رضاکار روسی حکومت کے اقدام کی حمایت میں جمع ہوئے اور روسی فوج سے یکجہتی کا اظہار کیا۔

    اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیچنیا کے سربراہ رمضان قادریوف نےکہا کہ 12 ہزار چیچن اپنے ملک اور عوام کی حفاظت کے لیے کسی بھی قسم کے آپریشن میں حصہ لینے کو تیار ہیں

    ان کا کہنا تھاکہ میں یوکرینی صدر کو مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ وہ سپریم لیڈر پیوٹن کو فون کرکے معافی مانگیں اور یوکرین کو محفوظ بنائیں۔ان کا مزید کہنا تھاکہ یوکرینی صدر روس کی شرائط تسلیم کرلے، یہ ان کیلئے اچھا اقدام ہوگا۔

  • روسی حملے کے خلاف جاپان کے شہروں میں مظاہرہ

    روسی حملے کے خلاف جاپان کے شہروں میں مظاہرہ

    ٹوکیو:روسی حملے کے خلاف جاپان کے شہروں میں مظاہرہ ،اطلاعات کے مطابق یوکرین پر روسی افواج کے حملے کے بعد جاپان کے شہروں میں مظاہرہ اور ریلیاں نکالی گئیں۔یوکرین پر روس کی چڑھائی کے خلاف جاپان کے ہیروشیما اور ناگاساکی شہروں میں احتجاجی ریلیاں منعقد ہوئی ہیں۔ یہ دونوں شہر دوسری عالمی جنگ کے دوران ایٹمی بمباری کا نشانہ بنے تھے۔

    انہوں نے کتبے اٹھا رکھے تھے، جن پر انگریزی میں لکھا تھا، ’جنگ بند کرو‘، اور ’جوہری اسلحہ اور جنگ نا منظور‘۔ یہ دراصل روسی جارحیت اور ایٹمی جنگ کے خطرے کے خلاف احتجاج تھا۔

    قبل ازاں رواں ہفتے فوجی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے خبردار کیا تھا کہ انکا ملک آج بھی زبردست جوہری طاقت ہے۔روس کے حملے کے بعد امریکہ اور نیٹو کی جانب سےلفظی بیان بازی سے یوکرین کے صدر بھی سخت نالاں نظر آ رہے ہیں۔یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے عالمی برادری سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں تنہا کر دیا گیا ہے۔

    دوسری جانب روس نے یوکرین کی جانب سے مذاکرات کی اپیل پر کہا کہ یوکرین کی افواج ہتھیار ڈالے اس کے بعد مذاکرات کئے جائیں گے۔

    ادھر جنگ کی وجہ سے حالات مزید بگڑگئے ہیں اور ہر طرف لوگ پریشان نظر آتے ہیں‌،لوگ بچے بوڑھے سب پریشان ہیں ، لوگ گھروبےگھر ہوگئے ہیں اور ایک تازہ واقعہ میں
    ایک خاتون نتالیہ ابلیوا ہفتے کے روز یوکرین سے سرحد عبور کر کے ہنگری پہنچی، جسے ایک قیمتی سامان سونپا گیا۔

    یوکرین کی جانب سرحدی کراسنگ پر انتظار کرتے ہوئے، ابلیوا نے اپنے آبائی شہر کامیانیٹس-پوڈیلسکی سے تعلق رکھنے والے ایک مایوس 38 سالہ شخص سے ملاقات کی، اس کے جوان بیٹے اور بیٹی کے ساتھ۔ سرحدی محافظ اسے گزرنے نہیں دیتے تھے۔ یوکرائن نے 18 سے 60 سال کی عمر کے تمام یوکرائنی مردوں پر ملک چھوڑنے پر پابندی لگا دی ہے تاکہ وہ اپنے ملک کے لیے لڑ سکیں۔

    "ان کے والد نے بس دونوں بچوں کو میرے حوالے کر دیا، اور مجھ پر بھروسہ کیا، اور مجھے ان کے پاسپورٹ دے کر ان کے حوالے کر دیا،” 58 سالہ ابلیوا نے کہا، والد نے بتایا کہ بچوں کی یوکرینی ماں ان سے ملنے اور انہیں محفوظ مقام پر لے جانے کے لیے اٹلی سے جا رہی تھی۔ اس نے ابلیوا کو ماں کا موبائل نمبر دیا، اور موٹی جیکٹوں اور ٹوپیوں میں سردی سے لپٹے اپنے بچوں کو الوداع کہا۔

    خیال رہے کہ 24 فروری کو حملے کے آغاز کے بعد سے روسی فوج نے یوکرین میں 821 فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے، جن میں 14 فضائی اڈے اور 19 فوجی کمانڈ سینٹرز شامل ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ 24 فضائی دفاعی میزائل سسٹم، 48 ریڈار، 7 جنگی طیارے، 7 ہیلی کاپٹر، 9 ڈرون، 87 ٹینک اور 8 فوجی جہاز تباہ ہوئے ہیں۔

    تازہ کارروائی میں روسی فوج نے یوکرین کے فوجی اڈوں پر کروز میزائلوں سے حملہ کیا ہے۔روسی وزارتِ دفاع کے ترجمان میجر جنرل ایگور کوناشینکوف نے ہفتے کو بتایا کہ فوج نے لمبی دوری تک مار کرنے والے کیلیبر کروز میزائلوں سے یوکرین کے متعدد فوجی اداروں پر حملہ کیا۔

    ایک ایسی خاتون نتالیہ ابلیوا ہفتے کے روز یوکرین سے سرحد عبور کر کے ہنگری پہنچی، جسے ایک قیمتی سامان سونپا گیا۔یوکرین کی جانب سرحدی کراسنگ پر انتظار کرتے ہوئے، ابلیوا نے اپنے آبائی شہر کامیانیٹس-پوڈیلسکی سے تعلق رکھنے والے ایک مایوس 38 سالہ شخص سے ملاقات کی، اس کے جوان بیٹے اور بیٹی کے ساتھ۔سرحدی محافظ اسے گزرنے نہیں دیتے تھے۔ یوکرائن نے 18 سے 60 سال کی عمر کے تمام یوکرائنی مردوں پر ملک چھوڑنے پر پابندی لگا دی ہے تاکہ وہ اپنے ملک کے لیے لڑ سکیں۔

    "ان کے والد نے بس دونوں بچوں کو میرے حوالے کر دیا، اور مجھ پر بھروسہ کیا، اور مجھے ان کے پاسپورٹ دے کر ان کے حوالے کر دیا،” 58 سالہ ابلیوا نے کہا، اس نوجوان لڑکے کے بازوؤں کو جسے وہ اپنے ارد گرد صرف چند گھنٹوں سے جانتی تھی۔ گردن

    والد نے بتایا کہ بچوں کی یوکرینی ماں ان سے ملنے اور انہیں محفوظ مقام پر لے جانے کے لیے اٹلی سے جا رہی تھی۔ اس نے ابلیوا کو ماں کا موبائل نمبر دیا، اور موٹی جیکٹوں اور ٹوپیوں میں سردی سے لپٹے اپنے بچوں کو الوداع کہا۔یہی نہیں بلکہ رہائشی عمارتوں کو بھی اس حملے میں بھاری نقصان پہنچا ہے اور کئی لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

  • نہ مُلک چھوڑوں گانہ قوم:ہتھیارنہیں ڈالیں گے فتح ہماری ہوگی:یوکرینی صدرکافوجیوں کےساتھ گھومتےہوئےبیان

    نہ مُلک چھوڑوں گانہ قوم:ہتھیارنہیں ڈالیں گے فتح ہماری ہوگی:یوکرینی صدرکافوجیوں کےساتھ گھومتےہوئےبیان

    کیف:نہ مُلک چھوڑوں گا نہ قوم:ہتھیارنہیں ڈالیں گے فتح ہماری ہوگی:یوکرینی صدرکا فوجیوں کے ساتھ گھومتے ہوئے بیان،ااطلاعات کے مطابق یوکرائن کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے ٹوئٹر پر اپنی ایک وڈیو پوسٹ کی ہے جس میں وہ دارالحکومت کِیف کی سڑک پر گھومتے نظر آ رہے ہیں۔بڑے حوصلے کے ساتھ اپنی قوم اور اپنی فوج کے درمیان پھررہےہیں اور ان کے حوصلے بڑھا رہے ہیں‌

    کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ بظاہر یوکرائنی صدر نے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ انہوں نے اپنی فوج سے روسی فوجیوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ نہیں کیا۔

    صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کیف کے گوروڈیٹسکی ہاؤس کے سامنے کھڑے ہو کر کہا اُن کے حوالے سے بہت سی جعلی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں کہ اُنہوں نے اپنی فوج سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے اور وہ خود بھی یوکرائن سے فرار ہو رہے ہیں لیکن یہ سب جھوٹ اور فریب ہے۔

     

     

    یوکرائنی صدر زیلنسکی کا اپنے وڈیو پیغام میں کہنا تھا کہ وہ یہیں دارالحکومت کیف میں ہیں، ہم ہتھیار نہیں ڈالیں گے اور اپنی ریاست کا دفاع کریں گے۔اِس سے قبل امریکی میڈیا کے مطابق یوکرائنی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے یوکرائن سے انخلا میں مدد کے لیے امریکی پیشکش کو ٹھکرا دیا تھا۔

    ایسیوسی ایٹڈ پریس نے ایک سینئر انٹیلی جنس اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ صدر زیلینسکی نے پیشکش کے جواب میں کہا کہ یہاں لڑائی ہو رہی ہے، مجھے اسلحے کی ضرورت ہے، نکلنے کے لیے فلائٹ کی نہیں۔

    امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے امریکی اور یوکرائنی حکام کا بھی حوالہ دیا تھا جن کا کہنا تھا کہ امریکی حکومت صدر زیلنسکی کی مدد کے لیے تیار ہے۔

    سوشل میڈیا پر روسی حملے کے جواب میں یوکرائنی صدر زیلینسکی کے ردعمل کی کافی پذیرائی کی جا رہی ہے۔ صدر زیلینسکی جو ایک سابق کامیڈین اور اداکار ہیں، نے ایک تقریر میں لڑائی جاری رکھنے کے عزم کیا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم پر حملے کرتے ہوئے آپ کو ہمارے چہرے نظر آئیں گے، ہماری پیٹھ نہیں۔

     

     

    یوکرائن کے دارالحکومت کیف میں یوکرائنی اور روسی افواج کے درمیان دو بدو جھڑپ جاری ہے۔ یوکرائنی فوج نے روسی فوج کو بڑے نقصانات پہنچانے کے دعوے کیے ہیں۔

    یوکرائنی مسلح افواج کے فیس بک پیج پر جاری کی گئی ایک پوسٹ کے مطابق دعویٰ کیا گیا ہے کہ اب تک ساڑھے 3 ہزار سے زائد روسی فوجی ہلاک اور 200 کے قریب قیدی بنائے جا چکے ہیں۔

     

    یوکرائنی فوج کے بیان کے مطابق اب تک روس کے 14 لڑاکا طیارے، 8 جنگی ہیلی کاپٹر اور 102 ٹینک بھی تباہ کر دیے گئے ہیں تاہم اِن میں سے کسی بھی دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ دوسری جانب روس نے بھی ابھی تک کسی جانی نقصان کا اعتراف نہیں کیا ہے۔

  • روس اور یوکرین پُرتشدد کارروائیوں سے گریز کریں،طالبان

    روس اور یوکرین پُرتشدد کارروائیوں سے گریز کریں،طالبان

    ماسکو: طالبان نے روس اور یوکرین تنازع پر غیر جانبدار رہتے ہوئے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور پُرتشدد کارروائیوں سے گریز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی :عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق طالبان نے کہا ہے کہ روس اور یوکرین تنازع پر ان کی خارجہ پالیسی مکمل طور پر غیر جانبدار ہے اور خطے میں پائیدار امن کے لیے فریقین مذاکرات کے ذریعے تنازع حل کریں۔

    یوکرین پر حملہ: میٹا نے روسی سرکاری میڈیا کے اشتہارات پر پابندی لگا دی

    طالبان حکومت کی وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے فریقین سے مطالبہ کیا کہ تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ ایسی اقدامات سے گریز کریں جو خطے میں تشدد کو ہوا دیتے ہیں۔

    ترجمان عبدالقہار بلخی نے روس اور یوکرین پر زور دیا کہ وہ خطے میں افغان طلبا سمیت دیگر تارکین وطن کی حفاظت کو بھی یقینی بنائیں۔

    واضح رہے کہ روس نے دو روز قبل یوکرین پر حملہ کردیا تھا جس میں جنگ کے پہلے روز فوجی اہلکاروں سمیت 135 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے-

    دوسری جانب روسی فوج کے یوکرین کے حملے کے بعد اپنے ملک کے دفاع میں سابق صدر پیٹرو پوروشینکو کلاشنکوف اُٹھا کر سڑکوں پر نکل آئے جب کہ خاتون رکن اسمبلی کیرا روڈک بھی اسلحہ تھام کر جنگ کے لیے تیار ہیں یوکرین کے سابق صدر پیٹرو پوروشینکو نے براہ راست نشر ہونے والے انٹرویو میں کلاشنکوف لہراتے ہوئے کہا کہ اپنے وطن کے دفاع میں روس سے جنگ کو تیار ہوں۔

    یوٹیوب،گوگل اور ٹوئٹر نے بھی روس پر پابندیاں عائد کر دیں

    2014 سے 2019 تک یوکرین کے صدر رہنے والے پیٹرو پوروشینکو نے مزید بتایا کہ ان کے پاس رائفلز اور دو مشین گنیں بھی ہیں جو وہ روسی فوجیوں کو ملک میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے استعمال کریں گے جس کے لیے وہ سڑک پر ہر وقت موجود رہیں گے-


    اسی طرح یوکرین کی خاتون رکن اسمبلی کیرا روڈک نے بھی سوشل میڈیا پر اپنی ایک تصویر شیئر کی ہے جس میں انھیں کلاشنکوف تھامے دیکھا جا سکتا ہے اپنے پیغام میں خاتون رکن اسمبلی نے خواتین کے جنگ میں حصہ لینے کی حوصلہ افزائی کی۔

    یوکرین پارلیمنٹ کی رکن اسمبلی کیرا روڈک نے مزید لکھا کہ وہ کلاشنکوف کا استعمال سیکھ رہی ہیں اور روس کے خلاف جنگ کے لیے ہتھیار اٹھانے کی تیاری کر رہی ہیں تاکہ مردوں کے شانہ بشانہ جنگ لڑ سکیں۔

    یوکرینی جوڑے نے روسی حملے کے دوران کی شادی،پھر اٹھائے ملک کیلیے ہتھیار