Baaghi TV

Tag: روس

  • رضاکارجلد ازجلد روس کےخلاف لڑائی کے لیے یوکرین پہنچیں:نیٹواوردیگرامریکی اتحادیوں کااعلان

    رضاکارجلد ازجلد روس کےخلاف لڑائی کے لیے یوکرین پہنچیں:نیٹواوردیگرامریکی اتحادیوں کااعلان

    کیف :جلد ازجلد روس کےخلاف لڑائی کے لیے یوکرین پہنچیں:نیٹواوردیگرامریکی اتحادیوں کااعلان ،اطلاعات کے مطابق یوکرین نے روس کیخلاف لڑنےکیلئے آنیوالے غیرملکیوں پر سے ویزا پابندی اٹھالی،یوکرین نے روس کے خلاف لڑنےکے لیے یوکرین آنے والے جنگجوؤں پر سے ویزا پابندی ختم کردی۔

    خیال رہےکہ یوکرینی صدر ولودو میر زیلنسکی نے غیر ملکی شہریوں سے اپیل کی تھی کہ وہ روس کے خلاف یوکرین کے دفاع کے لیے بنائی گئی رضاکاروں کی ‘انٹرنیشنل بریگیڈ’ میں شمولیت اختیار کرلیں۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق غیر ملکی جنگجوؤں کے لیے یوکرینی صدر ولودو میر زیلنسکی نے حکم نامے کے تحت عارضی طور پر ویزا پابندی اٹھالی ہے ، اس طرح روس کے خلاف یوکرین کے دفاع کی جدوجہد میں عملی شرکت کے خواہشمند افراد باآسانی یوکرین داخل ہوسکیں گے۔

    یوکرین کی جانب سے یہ سہولت روسی شہریوں کے لیے نہیں ہے اور انہیں حکم نامے میں جارح ملک کے شہری قرار دیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق غیر ملکی جنگجوؤں کو یوکرین میں داخلے کے لیے اپنا عسکری پس منظر بتانا ہوگا، اس کے علاوہ انہیں اپنا دفاعی فوجی سازوسامان لانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

    دوسری جانب ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹ فریڈرکسن نے اپنے شہریوں کو یوکرین میں روسی افواج کے خلاف لڑنے کے لیے بننے والی ‘انٹرنیشنل بریگیڈ’ میں شامل ہونے کی اجازت دے دی ہے۔

    ڈینش وزیراعظم کا کہنا ہےکہ ڈنمارک کےشہری روس سے لڑنےکے لیے عالمی بریگیڈ کا حصہ بن سکتے ہیں، یہ آزادی کا معاملہ ہےکوئی بھی اپنی پسند سےفیصلہ کرسکتا ہے۔

    ڈینش وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ یہ آزادی ڈنمارک میں رہنےوالے تمام یوکرینی شہریوں کے ساتھ ساتھ ایسے غیریوکرینی باشندوں کے لیے بھی ہےجو روس کےخلاف جنگ میں براہ راست حصہ لینا چاہتے ہیں۔

  • نیٹوکا70 لڑاکا طیارےفی الفوریوکرائن کودینےکااعلان :عالمی جنگ یقینی ہوگئی:کیسے؟تفصیلات آگئیں

    نیٹوکا70 لڑاکا طیارےفی الفوریوکرائن کودینےکااعلان :عالمی جنگ یقینی ہوگئی:کیسے؟تفصیلات آگئیں

    پولینڈ:نیٹوکا70 لڑاکا طیارے فی الفوریوکرائن کودینےکااعلان :عالمی جنگ یقینی ہوگئی:کیسے؟تفصیلات آگئیں،اطلاعات مصدقہ کے مطابق نیٹونے روس کیخلاف یوکرین کو 70 لڑاکا طیارے دینے کا اعلان کرکے تیسری عالمی جنگ کویقینی بنانے میں‌ بڑا کردار ادا کردیا ہے

    روس سے جنگ میں یوکرین کی مدد کیلئے مغربی دفاعی اتحاد (نیٹو) میں شامل تین یورپی ممالک یوکرین کی مدد کیلئے میدان میں آگئے۔

    یوکرینی نیوی کے پریس سروس کے آفیشل فیس بک پیج سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بلغاریہ، پولینڈ اور سلوواکیہ نے یوکرین کو 70 لڑاکا طیارے فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے، یہ طیارے پولینڈ میں تعینات ہوں گے اور یوکرینی پائلٹس وہیں سے اڑان بھر کر روسی فوج پر فضائی حملے کریں گے۔

    یوکرینی بحریہ کی پریس سروس کا مزید کہنا ہے کہ بلغاریہ 16 مِگ 29 طیارے اور 14 ایس یو 25 طیارے فراہم کرے گا۔اس کے علاوہ پولینڈ 28 مگ 29 طیارے جبکہ سلوواکیہ 12 مگ 29 طیارے فراہم کرے گا۔

    خیال رہے کہ روس نے 24 فروری کو یوکرین پر تین اطراف سے حملہ کیا اور دارالحکومت کیف سمیت مختلف شہروں پر بمباری کی۔

    روس اور یوکرین کی جنگ کے چھٹے روز روسی وزیر دفاع نے کیف کے شہریوں کو خبردار کیا کہ روسی فوجی دارالحکومت میں مختلف اہداف کو نشانہ بنائیں گے۔
    کیف میں ایک ٹیلی ویژن ٹاور کے قریب دھماکا سنا گیا جس میں پانچ افراد کی ہلاکت کی اطلاع سامنے آئی۔

    بکتر بند گاڑیوں میں روس فوج کا ایک بڑا قافلہ کیف میں پارلیمنٹ اور صدارتی محل کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے تاہم اسے مزاحمت کا بھی سامنا ہے۔

    آج روس کی جانب سے یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خارکیف میں بھی سرکاری عمارتوں پر میزائل برسائے گئے جس کے نتیجے میں 10 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

    یوکرینی صدر ولودومیز زیلینسکی کا کہنا ہے کہ جس علاقے میں روسی میزائل گرے وہاں کوئی عسکری ہدف نہیں اور روس شہری آبادی کو نشانہ بناکر جنگی جرائم کا مرتکب ہورہا ہے۔

    یوکرینی صدر نے یورپی پارلیمنٹ سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا، اس موقع پر انہیں تمام ارکان نے نشستوں پر کھڑے ہوکر روس کیخلاف مزاحمت پر داد دی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں یورپی یونین میں شمولیت کی باضابطہ درخواست کی جسے منظور کرتے ہوئے یوکرین کی شمولیت کیلئے خصوصی طریقہ کار کی اجازت دے دی گئی ہے۔

    یوکرین اب بھی روسی فوج کے انخلا اور سیز فائر کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے مہاجرین کے مطابق ساڑھے 6 لاکھ سے زائد افراد اب تک یوکرین سے نقل مکانی کرچکے ہیں۔

    آج اپنے بیان میں نیٹو کے چیف جینز اسٹولٹن برگ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو ’یورپ میں امن کا شیرازہ بکھیرنے‘ کا الزام عائد کیا ہے۔

    برطانوی وزیراعظم بورس جانسن بھی پولینڈ کے دورے پر ہیں جہاں انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ روسی صدر عام شہریوں کو نشانہ بنانے کیلئے بربریت پر مبنی کارروائیاں کر رہے ہیں۔

    خیال رہے کہ پولینڈ نیٹو کا رکن ممالک ہے اور اگر روسی اہداف پر حملوں کے لیے پولینڈ کی سرزمین استعمال ہوئی تو ممکن ہے کہ روس پولینڈ پر بھی حملہ کردے اور اگر ایسا ہوا تو پھر نیٹو کے رکن ممالک معاہدے کے تحت پولینڈ کا دفاع کرنے پر مجبور ہوں گے اور یوں پورا یورپ جنگ کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔

  • یوکرین میں پھنسے 1200 پاکستانی پولینڈ میں داخل ہوگئے

    یوکرین میں پھنسے 1200 پاکستانی پولینڈ میں داخل ہوگئے

    اسلام آباد:یوکرین میں پھنسے 1200 پاکستانی اپنی مدد آپ کے تحت پولینڈ میں داخل ہوگئے۔،اطلاعات ہیں کہ یوکرین کے پڑوسی ملک پولینڈ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ داخل ہو رہے ہیں، 1200 پاکستانی بھی پولینڈ کی سرحد کراس کرگئے۔

    پولینڈ میں پاکستانی سفارتخانے کے حکام کے مطابق تین سو پاکستانیوں نے پاکستانی ڈیسک پر رجسٹریشن کرائی ہے جب کہ دیگر نے رابطہ نہیں کیا اور خود وارسا روانہ ہوگئے۔

    پولینڈ کی سرحد پر اس وقت دس پاکستانی موجود ہیں، ان کی تعداد 50 ہونے پر انہیں وارسا روانہ کردیا جائےگا۔یوکرین میں زیر تعلیم پاکستانی زمینی راستے سے پولینڈمیں داخل ہو رہے ہیں۔

    گذشتہ روز یوکرین میں پاکستانی سفیر نوئیل کھوکھرکا کہنا تھا کہ یوکرین میں 3 ہزار پاکستانی طالب علم تھے، زیادہ تر طلبا کو نکال لیا ہے، بقیہ پاکستانیوں کو بحفاظت نکالا جارہا ہے۔

    ادھر یورپی یونین، برطانیہ، جاپان، ناروے، آسٹریلیا، ترکی اور کینیڈا سمیت مختلف ممالک نے پاکستان پریوکرین پر روسی حملےکی مذمت کرنے پر زور دیا ہے۔

    یوکرین پر روس کے حملےکا آج چھٹا روز ہے اور صورتحال تیزی سے بگڑتی نظر آرہی ہے۔

    پاکستان پر برطانیہ، جاپان، ناروے، آسٹریلیا، ترکی، ڈنمارک اورکینیڈا سمیت یورپی یونین نے زور دیا ہےکہ پاکستان یوکرین پر روسی حملےکی مذمت کرے۔

    سوشل میڈیا پر پاکستان میں ڈنمارک کی سفیر نےکہا کہ پاکستان روسی اقدام کی مذمت کرے اور یو این چارٹر اور عالمی قوانین کی پاسداری کی حمایت میں دیگر ممالک کا ساتھ دے۔

  • یوکرین کی یورپی یونین میں شمولیت کی درخواست منظور:روس سخت غصے میں آگیا

    یوکرین کی یورپی یونین میں شمولیت کی درخواست منظور:روس سخت غصے میں آگیا

    کیف :یوکرین کی یورپی یونین میں شمولیت کی درخواست منظور:روس سخت غصے میں آگیا ،اطلاعات کےمطابق یوکرینی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ یورپی یونین میں شمولیت کی یوکرینی درخواست منظور کرلی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق گزشتہ روز یوکرین نے یورپی یونین میں شمولیت کی باضابطہ درخواست پر دستخط کیے تھے۔

    یوکرینی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ یورپی پارلیمنٹ نے شمولیت کی یوکرینی درخواست منظور کرلی ہے اورشمولیت کیلئے خصوصی طریقہ کار کی اجازت دے دی ہے۔

    یوکرین کے صدر ولودومیر زیلینسکی نے یورپی پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں ورچوئل خطاب کیا۔اس دوران یورپی پارلیمنٹ کے تمام ارکان نے روس کے خلاف ڈٹ جانے پر کھڑے ہو کر زیلینسکی کیلئے تالیاں بجائیں۔

    ادھر یہ بھی یاد رہے کہ

    یہ جنگ نیٹو کے رکن ممالک کی مشرقی سرحدوں پر لڑی جا رہی ہے۔۔۔ نیٹو کے کئی اتحادی ممالک کو خدشہ ہے کہ اس کے بعد روس کا اگلا ہدف وہی بنیں گے۔

    نیٹو اتحاد جس میں امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی شامل ہیں، مشرقی یورپ میں مزید فوجیں بھیج رہا ہے۔

    تاہم امریکہ اور برطانیہ کا کہنا ہے کہ ان کا یوکرین میں فوجیں بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

    نیٹو کیا ہے؟

    نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) کی تشکیل سنہ 1949 میں سرد جنگ کے ابتدائی مراحل میں اپنے رکن ممالک کے مشترکہ دفاع کے لیے بطور سیاسی اور فوجی اتحاد کے طور پر کی گئی تھی۔

    امریکہ اور کینیڈا کے علاوہ 10 یورپی ممالک کی جانب سے دوسری جنگ عظیم کے نتیجے میں بنائے گئے اس اتحاد کا بنیادی مقصد اس وقت کے سوویت یونین سے نمٹنا تھا۔

    جنگ کے ایک فاتح کے طور پر ابھرنے کے بعد، سوویت فوج کی ایک بڑی تعداد مشرقی یورپ میں موجود رہی تھی اور ماسکو نے مشرقی جرمنی سمیت کئی ممالک پر کافی اثر و رسوخ قائم کر لیا تھا۔

    جرمنی کے دارالحکومت برلن پر دوسری جنگ عظیم کی فاتح افواج نے قبضہ کر لیا تھا اور سنہ 1948 کے وسط میں سوویت رہنما جوزف سٹالن نے مغربی برلن کی ناکہ بندی شروع کر دی تھی، جو اس وقت مشترکہ طور پر امریکی، برطانوی اور فرانسیسی کنٹرول میں تھا۔

    شہر میں محاذ آرائی سے کامیابی سے گریز کیا گیا لیکن اس بحران نے سوویت طاقت کا مقابلہ کرنے کے لیے اتحاد کی تشکیل میں تیزی پیدا کر دی تھی۔

    President Harry S. Truman signing the North Atlantic Treaty, marking the beginning of NATO, in 1949

     نیٹو اتحاد کی بنیاد سنہ 1949 میں سرد جنگ کے اوائل میں رکھی گئی تھی

    سنہ 1949 میں امریکہ اور 11 دیگر ممالک (برطانیہ، فرانس، اٹلی، کینیڈا، ناروے، بیلجیئم، ڈنمارک، نیدرلینڈز، پرتگال، آئس لینڈ اور لکسمبرگ) نے ایک سیاسی اور فوجی اتحاد تشکیل دیا۔

    سنہ 1952 میں اس تنظیم میں یونان اور ترکی کو شامل کیا گیا جبکہ سنہ 1955 میں مغربی جرمنی بھی اس اتحاد میں شامل ہوا۔

    دوسری جانب 1955 میں سوویت روس نے نیٹو کا مقابلہ کرنے کے لیے مشرقی یورپ کے کمیونسٹ ممالک کا الگ سے فوجی اتحاد بنا لیا، جسے وارسا پیکٹ (وارسا معاہدہ) کہا جاتا ہے۔

    سنہ 1991 میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد وارسا معاہدے میں شامل متعدد ​​ممالک نے وفاداریاں بدل لیں اور نیٹو کے رکن بن گئے۔

    اس وقت نیٹو اتحاد میں 30 ممالک شامل ہیں۔

    نیٹو اور یوکرین کے ساتھ روس کا مسئلہ کیا ہے؟

    یوکرین سابقہ سوویت یونین کا ایک حصہ ہے جس کی سرحد روس اور یورپی یونین دونوں سے ملتی ہے۔

    یہاں روسی باشندوں کی ایک بڑی آبادی ہے اور روس سے قریبی سماجی اور ثقافتی تعلقات ہیں۔ کریملن یوکرین کو اپنے قریبی علاقے کے طور پر دیکھتا ہے اور حال ہی میں روسی صدر پوتن نے یوکرین کو روس کا حصہ کہا تھا۔

    تاہم حالیہ برسوں میں یوکرین مغرب سے امیدیں لگائے بیٹھا ہے۔ یورپی یونین اور نیٹو میں شمولیت اس کے آئین کا حصہ ہے۔

    یوکرین نیٹو کا رکن نہیں لیکن اس کا ‘شراکت دار ملک’ ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ یوکرین کو مستقبل میں کسی بھی وقت اس اتحاد میں شامل ہونے کی اجازت ہے۔

    روس مغربی طاقتوں سے اس بات کی یقین دہانی چاہتا ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہو گا تاہم امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا کہنا ہے کہ ایک خودمختار ملک کے طور پر یوکرین کو اپنے سیکیورٹی اتحاد کے بارے میں فیصلہ کرنے کی آزادی ہونی چاہیے اور یہ کہ وہ یوکرین کو نیٹو میں شامل ہونے سے روک نہیں سکتے۔

    روس کو  خدشات

    پوتن

    روس کے صدر ولادیمیر پوتن کا دعویٰ ہے کہ مغربی طاقتیں اس اتحاد کو روس کو گھیرنے کے لیے استعمال کر رہی ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ نیٹو مشرقی یورپ میں اپنی فوجی سرگرمیاں بند کر دے۔

    وہ ایک طویل عرصے سے اس بات پر زور ڈالتے آئے ہیں کہ امریکہ نے 1990 میں دی گئی اپنی اس ضمانت کو ختم کر دیا، جس کے مطابق نیٹو اتحاد مشرق میں نہیں پھیلے گا۔

    امریکہ کا کہنا ہے اس نے ایسی کوئی ضمانت نہیں دی تھی۔

    نیٹو روس کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اس کے رکن ممالک کی ایک بہت چھوٹی تعداد کی روس کے ساتھ مشترکہ سرحدیں ہیں اور یہ ایک دفاعی اتحاد ہے۔

  • روس کے پاس کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائل ہی نہیں: روسی وزیر خارجہ کے اس بیان پرمغرب پریشان

    روس کے پاس کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائل ہی نہیں: روسی وزیر خارجہ کے اس بیان پرمغرب پریشان

    ماسکو: روس کے پاس کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائل ہی نہیں: روسی وزیر خارجہ کے اس بیان پرمغرب پریشان،اطلاعات کے مطابق روسی وزیر خارجہ نے ایک تازہ بیان میں واضح کیا ہے کہ روس کے پاس درمیانے یا کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائل نہیں ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر یوکرین کے شہر خارکیف میں ایک تاریخی عمارت کو میزائل سے نشانہ بنانے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد روسی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ روس کے پاس کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائل ہی نہیں ہیں۔

    روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بیان میں کہا کہ یوکرین اشتعال انگیزیاں کر رہا ہے، تاہم روس یوکرین میں جوہری کارروائی سے ہر ممکن گریز کرے گا انھوں نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ واشنگٹن اور مغرب روس کے ساتھ کیے گئے وعدوں کی پاسداری کرے۔

     

     

    واضح رہے کہ یوکرین پر روسی حملے کا آج پانچواں روز ہے، اس دوران سیکڑوں شہری اور فوجی میزائل حملوں اور گولیوں کا نشانہ بن کر ہلاک ہو چکے ہیں، کیف، اڈیسہ اور خارکیف پر روسی افواج کی شیلنگ جاری ہے, پیر کو اوختیرکا میں ایک فوجی اڈے پر روسی توپ خانے کے حملے میں کم از کم 70 یوکرینی فوجی ہلاک ہونے کے اطلاعات ہیں۔

     

     

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کیف کی جانب ایک بہت بڑے روسی فوجی قافلےکی پیش قدمی دیکھی گئی ہے، روسی فوجی قافلہ سڑک پر 40 میل تک پھیلا ہوا تھا، روسی فوجی کانوائے میں ٹینک اور دیگر جنگی گاڑیاں موجود تھیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کی تصاویر سیٹلائٹ سے حاصل کی گئی ہیں۔

  • یوکرینی دارالحکومت کیف پرروس کے لیے قبضہ مشکل ہوگیا: دفاع کی ذمہ داریاں اہم فوجی کمانڈر کے سپرد

    یوکرینی دارالحکومت کیف پرروس کے لیے قبضہ مشکل ہوگیا: دفاع کی ذمہ داریاں اہم فوجی کمانڈر کے سپرد

    کیف :یوکرینی دارالحکومت کیف پرروس کے لیے قبضہ مشکل ہوگیا: دفاع کی ذمہ داریاں اہم فوجی کمانڈر کے سپرد ،اطلاعات کے مطابق یوکرین کے صدر ولودومیر زیلینسکی نے دارالحکومت کیف کا دفاع مضبوط کرنے کیلئے فوجی کمانڈ تبدیل کردی۔اطلاعات یہ بھی ہیں‌ کہ ایک بار پھر روسی حملوں میں تیزی آگئی ہے اور جنگ چھٹے روز بھی جاری ہے۔

    روسی فوج کی جانب سے دارالحکومت کیف کی جانب تیزی سے پیشقدمی کی جارہی ہے اور ایسے میں یوکرین نے بھی دارالحکومت کا دفاع مضبوط بنانے کی تیاریاں کرلی ہیں۔

    یوکرینی صدر نے قوم سے خطاب میں کہا کہ دارالحکومت کا دفاع سب سے پہلی ترجیح ہے اور اس کیلئے ملٹری ایڈمنسٹریشن میں تبدیلی کی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ دارالحکومت کے دفاع کیلئے جنرل میکولا زیرنوف کو ملٹری انتظامیہ کا سربراہ بنایا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ جنرل میکولا زیرنوف ملک کی قومی سلامتی اور دفاعی کونسل کے رکن ہیں۔

    روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کا آج چھٹا روز ہے اور ایسے میں دارالحکومت کیف اور دیگر علاقوں میں جنگ جاری ہے۔

    گزشتہ روز روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے بعد ایک بار پھر روسی حملوں میں تیزی آگئی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق روسی فوج نے یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خارکیف کے سینٹرل اسکوائر پر میزائل حملہ کیا جس میں کم سے کم 10 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوئے۔

     

    اُدھر روسی افواج نے یوکرین کے شہر اوختیرکا میں بھی حملے کیے اور ایک فوجی اڈہ تباہ کیا، اس حملے میں 70 یوکرینی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

    اس کے علاوہ آج روسی فوج نے ایک اور یوکرینی شہر خیرسون کو بھی گھیرے میں لیکر حملہ کیا ہے اور اب تک وہاں جنگ جاری ہے۔برطانوی میڈیا کے مطابق خیرسون میں روسی فوجیوں نے باہر جانے والے راستوں پر چوکیاں بنا لی ہیں۔

    رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ روسی افواج کا بڑا کانوائے یوکرینی دارالحکومت کیف کی جانب بڑھ رہا ہے۔ کانوائے کی کیف کی جانب پیشقدمی کی تصدیق سیٹلائٹ تصاویر کی ذریعے بھی کی گئی ہے۔

    دوسری جانب روس نے حملے کے بعد سے لوہانسک اور دونیستک کے علاوہ دارالحکومت کیف کے اردگرد کے علاقے اور خارکیف کے بھی کچھ مقامات پر قبضہ کرلیا ہے۔روس فوج کریمیا کی جانب سے بھی پیشقدمی کرتے ہوئے متعدد مقامات کا کنٹرول سنبھال چکی ہے۔

  • امریکہ،یورپ اوردیگرنیٹواتحادیوں نےروس پرایٹمی حملے سے زیادہ خطرناک حملہ کردیا

    امریکہ،یورپ اوردیگرنیٹواتحادیوں نےروس پرایٹمی حملے سے زیادہ خطرناک حملہ کردیا

    واشنگٹن: امریکہ،یورپ اوردیگرنیٹواتحادیوں نےروس پرایٹمی حملے سے زیادہ خطرناک حملہ کردیا ،اطلاعات کے مطابق روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین پر حملوں میں کمی کا کوئی عندیہ نہیں دیا جبکہ دوسری جانب روس کے یوکرین پرحملے کے جواب میں امریکہ ،یورپ اوردیگرنیٹواتحادیوں نے روس کے ایٹمی حملوں کے جواب میں ایٹمی حملے سے زیادہ سخت جوابی حملہ کرکے عالمی سطح پر اس کی سیاسی و اقتصادی تنہائی میں اضافہ کردیا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکہ اور اتحادی ممالک نے روس کو معاشی طور پر سزا دینے کے لیے صدر پوتن سمیت اہم شخصیات اور کاروباری کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ خیال رہے کہ دوسری عالمی جنگ عظیم کے بعد سے یوکرین پر حملہ کسی بھی یورپی ریاست پر ہونے والا سب سے بڑا حملہ ہے۔

    امریکہ نے دو جوہری طاقتوں کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے پیش نظر اپنی فوج یوکرین بھجوانے سے انکار کیا ہے تاہم امریکہ اور دیگر اتحادی ممالک نے یوکرین کو عسکری امداد فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

    کینیڈا نے کہا ہے کہ وہ روسی خام تیل کی درآمد پر پابندی عائد کرے گا جبکہ امریکی ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ کو روسی توانائی کے شعبے پر پابندی عائد کرنی چاہیے۔

    روس کی سب سے زیادہ کمائی تیل کی برآمد سے ہوتی ہے۔ لنڈسے گراہم نے کہا کہ ’ہم توانائی کے شعبے کو ہتھیار کے طور پر نہیں استعمال کر رہے۔ ہم پوتن کو نشانہ نہیں بنا رہے جہاں سے انہیں سب سے زیادہ تکلیف پہنچ سکتی ہے۔‘

    منگل کو متعدد کمپنیوں کے روس میں اپنے دفاتر بند کرنے کا ارادہ ہے جس سے ملک کی معیت کو مزید نقصان پہنچے گا۔ بڑے بینکوں، ایئر لائنز اور گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں نے شپمنٹ معطل کرنے کے علاوہ روس کے ساتھ شراکت داری ختم کرتے ہوئے اس کے اقدامات کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔

    امریکہ نے روس کے مرکزی بینک اور آمدنی کے دیگر ذرائع پر نئی پابندیاں عائد کی ہیں جس سے روسی روبل کی قدر میں مزید کمی آئی ہے جبکہ چند روسی بینکوں کو عالمی ترسیلات زر کا نیٹ ورک ’سویفٹ‘ کے اسستعمال سے روکا گیا ہے۔

    علاوہ ازیں برطانوی تیل کی کمپنیوں بی پی اور شیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ روسی تیل کی کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ منصوبوں میں سے اپنے شیئرز نکال رہے ہیں۔

    روس ثقافتی اور سپورٹس کی سطح پر بھی عالمی تنہائی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ ہالی وڈ کے دو بڑے سٹوڈیوز ڈزنی اور وارنر بروس نے بھی کہا ہے کہ وہ آئندہ آنے والی فلموں کی ریلیز روس میں معطل کر رہا ہے۔

    ڈزنی نے پیر کو اعلان کیا تھا کہ یوکرین پر حملے اور اس سے پیدا ہونے والے انسانی بحران کے باعث روس کے تھیٹر میں ’ٹرننگ ریڈ‘ سمیت دیگر آئندہ آنے والی فلموں کی ریلیز معطل کر رہے ہیں۔

    روسی حکومت سے منسلک میڈیا اداروں کی جانب سے معلومات کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس فیس بک اور ٹوئٹر کے علاوہ مائیکروسافٹ نے بھی اقدامات اٹھائے ہیں۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے پیر کی رات گئے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ روس کی فوج کو دارالحکومت کئیف کی دفاعی لائن کو توڑنے نہیں دیا۔

    انہوں نے کہا کہ روس یوکرین کے تھرمل پاور پلانٹ کو نشانہ بنا رہا ہے جو کیئف کی30 لاکھ کی آبادی کو بجلی فراہم کرتا ہے

  • جاپان نے روس کے خلاف نئی جنگ چھیڑدی

    جاپان نے روس کے خلاف نئی جنگ چھیڑدی

    ٹوکیو: جاپان نے روس کے خلاف نئی جنگ چھیڑدی ، ایک طرف یوکرین اور روس کے درمیان میزائلوں ، گولہ باورود کی جنگ ہے تو دوسری طرف جاپان نے روس کے خلاف معاشی پابندیوں کی جنگ چھیڑ کی نیا محاذ کھول دیا ہے ، اسی سلسلے میں‌ جاپان نے روس کے مرکزی بینک کے اثاثے منجمد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق یوکرین پر حملے کے تناظر میں جاپان، ماسکو پر پابندیوں کو زیادہ مؤثر بنانے کی کوشش کر رہا ہے، اس سلسلے میں جاپانی حکومت نے روس کے مرکزی بینک کے ساتھ لین دین محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    جاپانی حکام کے مطابق بینک آف جاپان میں روسی مرکزی بینک کے کھربوں ین غیر ملکی کرنسی ذخائر کی شکل میں پڑے ہوئے ہیں، انھیں منجمد کر دیا جائے گا۔

    مغربی ملکوں کی جانب سے سخت نئی اقتصادی پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد پیر کے روز روسی روبل کی قدر گر کر اب تک کی ریکارڈ کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔

    بینک آف رشیا کرنسی منڈیوں میں روبل کے دفاع کے لیے اپنے بین الاقوامی محفوظ ذخائر کو استعمال کے لیے منظم کرتا رہا ہے، لیکن اگر اُس کے ذخائر منجمد کر دیے گئے تو بینک کو ایسا کرنے میں مشکل پیش آئے گی۔

    ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اگر روبل کی قدر تیزی سے گرتی رہی تو افراطِ زر میں اضافہ ہوگا جس سے روسی معیشت کو دھچکا لگے گا۔

    بتایا جاتا ہے کہ روس کا مرکزی بینک اپنے غیر ملکی کرنسی ذخائر کی بڑی مقدار ڈالر، یُورو اور یُوآن میں رکھتا ہے، تاہم جاپانی حکام کو یقین ہے کہ حکومتی اقدام سے روس کے خلاف پابندیوں کو زیادہ مؤثر بنانے میں مدد ملے گی

    دوسری طرف لڑائی میں شدت آگئی ہے اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ایک اور ویڈیو پیغام میں کہا کہ روس کی فوج کو دارالحکومت کئیف کی دفاعی لائن کو توڑنے نہیں دیا۔

    انہوں نے کہا کہ روس یوکرین کے تھرمل پاور پلانٹ کو نشانہ بنا رہا ہے جو کیئف کی30 لاکھ کی آبادی کو بجلی فراہم کرتا ہے

  • یوکرین پرحملہ: روس میں ہالی ووڈ فلموں کو ریلیز نہ کرنے کا اعلان

    یوکرین پرحملہ: روس میں ہالی ووڈ فلموں کو ریلیز نہ کرنے کا اعلان

    یوکرین پر حملے کے بعد روس میں ہا لی وڈ فلموں کی ریلیز کو روک دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : روس اور یوکرین کے درمیان 5 روز سے جنگ جاری ہے اور روسی افواج نے یوکرینی دارالحکومت کیف سمیت کئی شہروں کا محاصرہ کر رکھا ہے امریکا، برطانیہ اور یورپ سمیت کئی ممالک نے روسی صدر، بینکوں اور اداروں پر مالی پابندیاں عائد کی ہیں۔

    جلد ہی عالمی سطح پر ریلیز ہونے والی دیگر بڑی فلمیں بشمول وارنر برادرز کی سپر ہیرو فلم دی بیٹ مین کی ریلیز بھی روک دی گئی ہے۔

    وارنر برادرز کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یوکرین کے انسانی بحران کے پیش نظر وارنر میڈیا نے دی بیٹ مین کی روس میں ریلیز روک دی ہے، ہم صورتحال پر نظر رکھیں گے اور توقع ہے کہ اس سانحے کا فوری اور پرامن حل نکلے گا۔

    ہا لی وڈ اسٹوڈیو ڈزنی نے بھی روس میں اپنی تمام فلموں کی ریلیز روک دی ہے ڈزنی کے مطابق یوکرین پر بلاجواز حملے اور المناک انسانی بحران کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔

    ڈزنی کا جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ہم مستقبل کے کاروباری فیصلے صورتحال کے مطابق کریں گے، اس وقت تک ابھرتے پناہ گزینوں کے بحران کے پیش نظر ہم نے اپنے این جی او شراکت داروں کے ساتھ مل کر فوری امداد اور دیگر معاونت فراہم کرنے پر کام شروع کردیا ہے ڈزنی کی انیمیٹڈ فلم ٹرننگ ریڈ 10 مارچ کو ریلیز ہونا تھی جسے اب روک دیا گیا ہے-

    یوکرین پر حملہ: فیفا نے روس پر فٹبال کے عالمی ورلڈکپ میں شرکت پر پابندی لگادی

    ڈزنی اور وارنر برادرز کے بعد سونی پکچرز نے بھی اعلان کیا کہ وہ اپنی فلموں میں روس میں ریلیز نہیں کرے گی اس اسٹوڈیو کی سپر ہیرو فلم موربیوس 24 مارچ کو روس میں ریلیز ہونا تھی۔

    سونی پکچرز کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یوکرین میں جاری فوجی کارروائی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے غیریقینی صورتحال اور انسانی بحران کے پیش نطر ہم نے اپنی فلموں کی روس میں ریلیز روک دی ہے۔

    روس،یوکرین جنگ :زیر زمین پناہ گاہوں میں بچوں کی پیدائش

    دوسری جانب نیٹ فلیکس نے تصدیق کی ہے کہ اس نے روس کے ریاستی پروپگینڈا کو نشر کرنے سے انکار کردیا ہے جو روس میں یکم مارچ سے نافذ ہونے والے قانون کے مطابق کرنا تھا اس قانون کے تحت ایک لاکھ سے زیادہ صارفین والی اسٹریمنگ سروسز کو روس کے 20 بڑے ٹی وی چینلز کو بھی دکھانا تھا۔

    نیٹ فلیکس کے ایک ترجمان کے مطابق موجودہ صورتحال کے باعث ہمارا اپنی سروس میں ان چینلز کو شامل کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں۔

    اقوام متحدہ کی ماحولیاتی کانفرنس میں روسی وفد نے یوکرین حملے پر معافی مانگ لی

  • یوکرین پر حملہ: فیفا نے روس پر فٹبال کے عالمی ورلڈکپ میں شرکت پر پابندی لگادی

    یوکرین پر حملہ: فیفا نے روس پر فٹبال کے عالمی ورلڈکپ میں شرکت پر پابندی لگادی

    یوکرین میں جنگی کارروائیوں کے بعد فیفا نے بھی روس پر فٹبال کے عالمی ورلڈکپ میں شرکت پر پابندی لگادی۔

    باغی ٹی وی :روس اور یوکرین کے درمیان 5 روز سے جنگ جاری ہے اور روسی افواج نے یوکرینی دارالحکومت کیف سمیت کئی شہروں کا محاصرہ کر رکھا ہے امریکا، برطانیہ اور یورپ سمیت کئی ممالک نے روسی صدر، بینکوں اور اداروں پر مالی پابندیاں عائد کی ہیں۔

    اب فیفا نے بھی روس پر فٹبال کے عالمی ورلڈکپ میں شرکت پر پابندی لگادی ہے-

    برطانوی خبر رساں ادارے ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا نے نےہرقسم کے مقابلوں میں روس کے حصہ لینے پر پابندی عائد کردی ہے جبکہ فیفا اور دی یونین آف یورپین فٹبال ایسوسی ایشن (یوئیفا) نے مشترکہ اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس کسی بھی قسم کےفٹبال مقابلوں میں شرکت نہیں کرسکے گا۔


    دوسری جانب روس کی قومی فٹبال ٹیم نے 24 مارچ کو قطر 2022 ورلڈکپ کے پلے آف مرحلے کے لیے پولینڈ کے ساتھ کھیلنا تھا تاہم روسی فٹبال فیڈریشن کی جانب سے اب تک کوئی اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا ہے۔

    اس کے علاہ یوئیفا نے روسی توانائی کمپنی گیزپروم کے ساتھ اسپانسر شپ کا معاہدہ بھی منسوخ کردیا ہے، جو 2012 سے جاری تھا جس کی قیمت تقریباً 40 ملین یورو فی سیزن بتائی جارہی ہے۔

    اس سے قبل یوئیفا چیمپئن شپ 2021-22 کے فائنل کی میزبانی روس سے واپس لے لی گئی تھی جبکہ یوکرین کے ہمسایہ ملک پولینڈ نے روس کی جانب سے یوکرین میں فوجی کارروائی کے خلاف روس سے فٹ بال ورلڈکپ کا کوالیفائر میچ کھیلنے سے انکار کردیا تھا۔

    جبکہ برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق اتوار کے روز فیفا کی گورننگ باڈی نے روس کے یوکرین پر حملے کے بعد متعدد پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئےکہا تھا کہ روس میں کوئی بھی بین الاقوامی فٹ بال میچ نہیں کھیلا جائے گا۔

    خبررساں ایجنسی کے مطابق فیفا نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ روس کی قومی فٹبال ٹیم روس کے بجائےفٹبال یونین آف روس(Football Union of Russia )کے طور پر میچز کھیلے گی جبکہ یہ میچز شائقین کے بغیر نیوٹرل مقام پر کھیلیں جائیں گے۔

    علاوہ ازیں فیفا نے بین الاقوامی میچز میں روسی پرچم اور ترانے کے استعمال پر پابندی عائد کی تھی اور کہا تھا کہ روس میں کوئی بھی بین الاقوامی فٹ بال میچ نہیں کھیلا جائے گا۔

    جبکہ انٹرنیشنل جوڈو فیڈریشن (آئی جے ایف) نے روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن سے اعزازی صدارت کا عہدہ بھی چھین لیا ہے انٹرنیشنل جوڈو فیڈریشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یوکرین پر حملے کے بعد ولادیمیر پیوٹن کو فیڈریشن کی اعزازی صدارت اور سفیر کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔

    خیال رہے کہ روسی صدر بلیک بیلٹ جوڈو ماسٹر ہیں اور 2019 میں بھی ٹیم کے ساتھ ٹریننگ سیشن میں حصہ لیا تھا۔