Baaghi TV

Tag: روس

  • ہمارے جانباز4 ہزار سے زائد روسی فوجی ہلاک جبکہ سیکڑوں‌ گرفتارکرچکےہیں:یوکرینی جنرل کا دعویٰ

    ہمارے جانباز4 ہزار سے زائد روسی فوجی ہلاک جبکہ سیکڑوں‌ گرفتارکرچکےہیں:یوکرینی جنرل کا دعویٰ

    کیف:ہمارے جانباز4 ہزار سے زائد روسی فوجی ہلاک جبکہ سیکڑوں‌ گرفتارکرچکےہیں:یوکرینی جنرل کا دعویٰ ،اطلاعات کے مطابق یوکرین کی وزارت دفاع نے 4 روز سے جاری جنگ کے دوران 4 ہزار سے زائد روسی فوجی ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

     

     

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یوکرین کی نائب وزارت دفاع ہنا مالیار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر 4 روز سے جاری جنگ کے بارے میں تفصیلات شیر کی ہیں۔

     

     

    ہنا مالیار نے اپنی پوسٹ میں یوکرین کی جانب سے روس کے پہنچائے جانے والے نقصانات کی فہرست بھی جاری کی ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین نے جاری جنگ کے دوران 4 ہزار 300 روسی فوجی ہلاک اور27 طیاروں کو مار گرایا ہے۔

     

     

     

    ان کے مطابق یوکرین نے روس کے 26 ہیلی کوپٹر، 146 ٹینک، 706 بکتر بند گاڑیاں اور 49 توپیں تباہ کی ہیں۔علاوہ ازیں ایک بک ایئر ڈیفنس سسٹم، مختلف اقسام کے چارراکٹ لانچنگ سسٹم، 30 گاڑیاں، 60 ٹینکرز، دو ڈرون اور دو کشیاں تباہ کی ہیں۔

    دوسری طرف روس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے یوکرین کے جنوبی شہر خیرسن اور جنوب مشرقی شہر برڈیانسک کا مکمل محاصرہ کر لیا ہے۔ ایک خبر رساں ادارے کے مطابق روسی وزیر دفاع کے ترجمان نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران خیرسن اور برڈیانسک کو روسی فوج نے مکمل بلاک کر دیا ہے۔

    دوسری جانب خارکیف کی علاقائی انتظامیہ کے چیئرمین نے کہا کہ روسی فوج ملک کے دوسرے بڑے شہر خارکیف میں داخل ہو گئی ہے اور لڑائی جا رہی ہے۔

    چیئرمین اولے سائنی گوبوف نے فیس بک پوسٹ میں کہا کہ یوکرین کی افواج دشمن کو ختم کر رہی ہیں۔ روس نے کہا ہے کہ یوکرین کے ساتھ بیلا روس میں بات چیت کے لیے تیار ہے۔

    دوسری جانب یوکرین کے صدر نے کہا ہے کہ بات چیت کے لیے تیار لیکن بیلا روس میں نہیں۔ اس سے قبل یوکرین کے صدر ولودومیر زیلینسکی کے دفتر نے کہا کہ روسی افواج نے خارکیف میں ایک گیس پائپ لائن کو دھماکے سے اڑا دیا ہے جبکہ دارالحکومت کیئف کے ایک ایئرپورٹ کو بھی نشانہ بنایا ہے

  • یوکرینی صدرکو زندہ یا مردہ پکڑنے کےلیے جانے والا چیچن کمانڈرساتھیوں سمیت ماراگیا:ماسکوغم میں ڈوب گیا

    یوکرینی صدرکو زندہ یا مردہ پکڑنے کےلیے جانے والا چیچن کمانڈرساتھیوں سمیت ماراگیا:ماسکوغم میں ڈوب گیا

    کیف: یوکرینی صدرکو زندہ یا مردہ پکڑنے کےلیے جانے والا چیچن کمانڈرساتھیوں سمیت ماراگیا ،اطلاعات کے مطابق یوکرین جنگ کے پانچویں دن روس کو ایک بڑا دھچکا لگا ہے ،روس کی جانب سے مورچہ سنبھالنے والے خونخوار کمانڈو دستہ کا یوکرین کے میزائیل حملے میں صفایا ہونے کی خبر ہے۔

     

    یہ کمانڈو چیچنیا کے صدرر قادروف رمضان نے بھیجے تھے جن کا نشانہ یوکرین کے صدر اور ان کا خاندان تھا۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کو قتل کرنے کے لیے بھیجے گئے خونخوار چیچن اسپیشل فورسز کے ایک بڑے گروپ کی ہلاکت نے بڑی حد تک روس کے کھیل کو خراب کردیا ہے۔

    اسکواڈرن کو جو اپنے وحشیانہ تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لیے بدنام تھا 56 ٹینکوں کے قافلے کے ساتھ یوکرین کے میزائل نے تباہ کر دیا گیا۔

    یہ واضح نہیں ہے کہ کتنے ہلاک ہوئے ہیں – لیکن امکان ہے کہ تعداد سیکڑوں تک پہنچ جائے۔ مٹ جانے والوں میں چیچن جنرل میگومڈ توشیف بھی شامل تھا۔ وہ 141 ویں موٹرائزڈ نیشنل گارڈ بریگیڈ – چیچن ریاست کے سربراہ رمضان قادروف کی ایلیٹ فورس کے کمانڈر تھے۔

    خونخوار دستے کی ہلاکتیں یوکرین کو فتح کرنے کی ولادیمیر پوتن کی رکی ہوئی کوششوں کے لیے ایک نفسیاتی دھچکا ہے۔

    چیچن جنرل میگومڈ توشائیف کا بھی صفایا کر دیا گیا ہے۔ وہ 141 ویں موٹرائزڈ نیشنل گارڈ بریگیڈ کا کمانڈر تھا – چیچن ریاست کے سربراہ رمضان قادروف کی ایلیٹ فورس کا اہم کمانڈر بھی تھا۔ یہاں تک کہ خیال کیا جاتا ہے کہ قادروف نے اپنی موت سے پہلے یوکرین کے جنگل میں اپنے تباہ شدہ اسکواڈرن کا دورہ کیا تھا۔ پوتن نے اس گروپ کو یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کو پکڑنے یا قتل کرنے کے لیے روانہ کیا تھا، یہ اچھی طرح جانتے ہوئے کہ جنگجوؤں کی سفاکانہ ساکھ محصور یوکرینیوں کے دلوں میں مزید خوف پیدا کرے گی۔

    روسی افواج یوکرین کے دارالحکومت کیف پر قبضہ کرنے کی کوششوں میں ناکامی کے بعد یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خارکیف میں داخل ہو گئی ہیں۔اتوار کی صبح سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی فوٹیج میں پوتن کے فوجی ٹرکوں کو 1.41 ملین آبادی والے شہر میں گھومتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جو روس کی سرحد کے قریب مشرقی یوکرین میں ہے۔ فوجیوں کو خارکیف سے پیدل مارچ کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا، ایک بہت ہی ڈرامائی کلپ کے ساتھ جس میں دکھایا گیا ہے کہ روسیوں کو ایک سڑک پر آہستہ آہستہ آگے بڑھتے ہوئے اپنی بندوقیں چلانے اور فائر کرنے سے پہلے یوکرین والوں نے ان پر گولی چلا دی۔ آن لائن شیئر کیے گئے ایک اور کلپ میں دکھایا گیا ہے کہ فوج کی ایک گاڑی روسیوں کی ہے، اسے یوکرینیوں نے اپنے شہر کا دفاع کرنے کے لیے نذر آتش کیا تھا۔


    لیکن یوکرین کے صدر زیلنسکی اپنی ثابت قدمی اور بہادری کےسبب عالمی ہیرو بن گئے ہیں – جب کہ ان کے متوقع قاتلوں کی مبینہ ہلاکتوں نے چیچنیا کے لیے بڑی رسوائی اور بڑے غم کو جنم دیا ہے۔ پوتن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ یوکرین کو فتح کرنے کی اپنی رکی ہوئی کوششوں سے ناراض ہوتے جا رہے ہیں، اور انہوں نے دنوں میں کوئی عوامی خطاب جاری نہیں کیا۔ان کی آگ اور انفرادی قوت یوکرین سے بہت زیادہ ہے اور یہ بڑے پیمانے پر خیال کیا جاتا ہے کہ روس بالآخر اپنے پڑوسی کو فتح کر لے گا۔ لیکن چھوٹی قوم کی طرف سے لگائے جانے والے حیرت انگیز طور پر موثر دفاع نے روسی فوجی وقار کو بری طرح داغدار کر دیا ہے، کریملن ابھی بھی کیف کے دارالحکومت پر قبضہ کرنے اور اپنی حکومت قائم کرنے کے اپنے مقصد سے دور ہے۔

  • یوکرین پرحملہ روس کے لیے گلے کی ہڈی بن گیا:سخت مزاحمت سے روسی فوج کے حوصلے ڈگمگانے لگے

    یوکرین پرحملہ روس کے لیے گلے کی ہڈی بن گیا:سخت مزاحمت سے روسی فوج کے حوصلے ڈگمگانے لگے

    واشنگٹن : یوکرین پرحملہ روس کے لیے گلے کی ہڈی بن گیا:سخت مزاحمت سے روسی فوج کے حوصلے ڈگمگانے لگے،اطلاعات ہیں کہ روس کو یوکرین پر حملے کے بعد سب سے زیادہ مزاحمت کا سامنا یوکرین کے دارالحکومت کیف میں کرنا پڑا ہے۔ جہاں جنگ کا چوتھا دن شروع ہونے کے باوجود قبضہ نہیں ہوسکا ہے۔

    ان حقائق کی تصدیق امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے تازہ بیان سے ہوجاتی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یوکرین کی فوج کی جانب سے سخت مزاحمت ملنے پر روس کی حملہ آور فوج کو مایوسی کا سامنا ہے جبکہ پیش قدمی سست ہونے کے باعث فوج دارالحکومت کیئف میں داخل نہیں ہو سکی۔

    کل حملے چوتھے دن کیئف کے قریب واقع تیل کے ایک ڈپو کو نشانہ بنایا گیا تھا ۔ حکام نے شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے زہریلا دھواں اٹھ رہا ہے۔ دوسری جانب یوکرینی شہری قریبی ممالک میں پناہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع کے ایک عہدیدار نے بتایا ہے کہ امریکہ اور مغربی اتحادی ممالک یوکرین کی فوج کو ہتھیار بھجوا رہے ہیں جبکہ امریکہ کا آئندہ دنوں میں مزید اسلحے کی ترسیل کا ارادہ ہے تاکہ روس کے زمینی اور فضائی حملوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔ پینٹاگون کے مطابق روس کی حملہ آور فوج کا 50 فیصد اس وقت یوکرین میں موجود ہے تاہم غیر متوقع طور پر مزاحمت کا سامنا کرنے کے باعث پیش رفت آہستہ ہے۔

    دفاعی ذرائع کےمطابق یوکرین کے شمالی حصوں میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کوئی خاطر خواہ پیش قدمی نہ ہونے پر روسی فوج کی مایوسی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عہدیدار نے کہا کہ روسی افواج دارالحکومت کیئف سے تقریباً 30 کلو میٹر کے فاصلے پر موجود ہیں تاہم انہوں نے واضح کیا کہ صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔

    حملے چوتھے دن کیئف کے قریب واقع تیل کے ایک ڈپو کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ حکام نے شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے زہریلا دھواں اٹھ رہا ہے۔ سنیچر کو یوکرین کی جانب سے بیلا روس میں مذاکرات کی پیش کش رد کیے جانے کے بعد روس کی وزارت دفاع نے فوج کو یوکرین پر ہر طرف سے حملہ کرنے اور اس کا دائرہ بڑھانے حکم دیا تھا۔ دووسری جانب روس کے یوکرین پر حملے کے خلاف دنیا بھر کے مختلف ممالک میں مظاہرے ہوئے ہیں جن میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    امریکہ اور لندن سے لے کر دیگر یورپی ممالک میں مظاہرین نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے روس سے خون خرابہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ سوئٹزرلینڈ میں ہزاروں کی تعداد میں شہریوں نے مظاہرے کیے جبکہ جینیوا میں اقوام متحدہ کے یورپی ہیڈ کوارٹر کے باہر بھی تقریباً ایک ہزار شہریوں نے احتجاج کیا۔

    دوسری جانب یوکرینی وفد سے ملاقات کے لیے روسی وفد بیلاروس پہنچ گیا ہے۔ترجمان روسی صدر دفتر ’کریملن‘ کا کہنا ہے کہ روسی وفد میں وزارت خارجہ، دفاع اور صدارتی انتظامیہ کے نمائندے شامل ہیں۔کریملن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ روس مذاکرات شروع کرنے کے لیے تیار ہے، مذاکرات کے لیے یوکرینی حکام کے منتظر ہیں۔

    روسی افواج یوکرین کے دارالحکومت کیف پر قبضہ کرنے کی کوششوں میں ناکامی کے بعد یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خارکیف میں داخل ہو گئی ہیں۔اتوار کی صبح سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی فوٹیج میں پوتن کے فوجی ٹرکوں کو 1.41 ملین آبادی والے شہر میں گھومتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جو روس کی سرحد کے قریب مشرقی یوکرین میں ہے۔ فوجیوں کو خارکیف سے پیدل مارچ کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا، ایک بہت ہی ڈرامائی کلپ کے ساتھ جس میں دکھایا گیا ہے کہ روسیوں کو ایک سڑک پر آہستہ آہستہ آگے بڑھتے ہوئے اپنی بندوقیں چلانے اور فائر کرنے سے پہلے یوکرین والوں نے ان پر گولی چلا دی۔ آن لائن شیئر کیے گئے ایک اور کلپ میں دکھایا گیا ہے کہ فوج کی ایک گاڑی روسیوں کی ہے، اسے یوکرینیوں نے اپنے شہر کا دفاع کرنے کے لیے نذر آتش کیا تھا

    ادھر یورپی ممالک نے روسی طیاروں کے لیے فضائی حدود بندکرنےکا فیصلہ کر لیا جبکہ امریکا اور اس کے اتحادیوں نے کئی روسی بینکوں کو مرکزی بین الاقوامی ادائیگی کے نظام سے منقطع کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

  • یوکرین پرروسی حملہ:روس سے سلامتی کونسل کی مستقل ممبرشپ واپس لینے کی منصوبہ بندیاں

    یوکرین پرروسی حملہ:روس سے سلامتی کونسل کی مستقل ممبرشپ واپس لینے کی منصوبہ بندیاں

    جنیوا :یوکرین پرروسی حملہ:روس سے سلامتی کونسل کی مستقل ممبرشپ واپس لینے کی منصوبہ بندیاں ،اطلاعات کے مطابق یوکرائن نے اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ روس کو یوکرائن پر بلا جواز چڑھائی کے ردعمل میں اُسے اقوام متحدہ میں حاصل اہم اختیارات واپس لے لیے جائیں۔

    یوکرائن کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے مطالبہ کیا ہے کہ روس کو اقوام متحدہ میں حاصل حقِ رائے دہی کا اختیار چھین لیا جائے۔ صدر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ یوکرائن میں روس کی مجرمانہ کارروائیاں نسل کشی کی زمرے میں آتی ہیں۔

    واضح رہے کہ روس 1945ء میں اقوام متحدہ کے قیام سے ہی سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے اور مستقل رکن کے طور پر اُسے کسی بھی وجہ سے قراردادوں کو ویٹو کرنے کا حق حاصل ہے۔

    جمعہ کے روز روس نے اپنے اسی اختیار کا استعمال کرتے ہوئے سلامتی کونسل میں روس کی جارحیت کی مذمت اور یوکرائن سے انخلا کے مطالبے کی قرارداد کو ویٹو کر دیا تھا۔یہ بھی یاد رہے کہ سلامتی کونسل کے دیگر چار مستقل ارکان میں امریکا، برطانیہ، فرانس اور چین شامل ہیں۔

    اس کونسل کو دوسری جنگِ عظیم کے بعد مستقبل میں تنازعات سے بچنے اور امن کو فروغ دینے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔

    دوسری جانب انٹرنیشنل جوڈو فیڈریشن نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو اعزازی صدر اور سفیر کی حیثیت سے معطل کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ صدر پیوٹن جوڈو بلیک بیلٹ ہیں۔

    حال ہی میں میں کھیلوں کے حوالے سے بھی روس کے خلاف کئی پابندیوں کا اعلان کیا گیا ہے اور یہ فیصلہ بھی انہی پابندیوں کا تسلسل ہے۔رواں برس ستمبر میں سوچی میں منعقد ہونے والی روسی فارمولا ون گراں پری کو بھی منسوخ کر دیا گیا ہے۔

     

    رواں ہفتے کے شروع میں اعلان کیا گیا تھا کہ چیمپئنز لیگ 2022ء کا فائنل روس کے شہر سینٹ پیٹرز برگ کی بجائے فرانس کے دارالحکومت پیرس میں کھیلا جائے گا۔

    ادھر ذرائع کے مطابق یوکرائن کے دارالحکومت کیف پر قبضے کی کشمکش کے دوران جھڑپوں میں تیزی آ گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق کیف کے مضافاتی علاقے ترائیشچینا پر روس کی جانب سے میزائل حملہ کیا گیا ہے۔یوکرائن کے وزیر داخلہ کے مشیر نے ٹیلی گرام ایپ پر ایک پوسٹ میں اسے رہائشی علاقے پر بے مقصد اور بے رحمانہ حملہ قرار دیا ہے۔یوکرائن نے بیلا روس سے دارالحکومت کیف کو نشانہ بنانے والے میزائل کو مار گرانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

    یوکرائن کے وزیرِ خارجہ اولگ نکولینکو نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی فضائیہ نے دارالحکومت کیف پر داغا گیا ایک میزائل مار گرایا ہے۔اُنہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ میزائل جس جہاز سے داغا گیا اُس نے روس کے اتحادی ملک بیلا روس سے پرواز کی تھی۔اُدھر دارالحکومت کیف کے شمال مغرب میں واقع مضافاتی علاقے بوچا میں متحارب فوجوں کے مابین لڑائی میں شدت آ گئی ہے۔

  • روسی افواج نے دارالحکومت کیف کوجانے والی گیس پائپ لائن دھماکے سے اڑا دی

    روسی افواج نے دارالحکومت کیف کوجانے والی گیس پائپ لائن دھماکے سے اڑا دی

    کیف: روسی افواج نے دارالحکومت کیف کوجانے والی گیس پائپ لائن دھماکے سے اڑا دی ،اطلاعات کے مطابق یوکرین کے صدر ولودومیر زیلینسکی کے دفتر نے کہا ہے کہ روس یافواج نے ملک کے دوسرے بڑے شہر خارکیف میں ایک گیس پائ لائن کو دھماکے سے اڑا دیا ہے جبکہ دارالحکومت کیئف کے ایک ایئرپورٹ کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

    یوکرین کی سرکاری مواصلاتی سروس نے کہا ہے کہ دارالحکومت سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر تیل کے ایک ڈپو کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ حکام نے شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے زہریلا دھواں اٹھ رہا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے کہا ہے کہ یوکرین کی فوج کی جانب سے سخت مزاحمت ملنے پر روس کی حملہ آور فوج کو مایوسی کا سامنا ہے جبکہ پیش قدمی سست ہونے کے باعث فوج دارالحکومت کیئف میں داخل نہیں ہو سکی۔

    دوسری جانب یوکرینی شہری قریبی ممالک میں پناہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ جعمرات سے حملے کے بعد تین بچوں سمیت 198 شہری ہلاک ہوئےہیں۔

    اس سے قبل امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے ایک عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر صحافیوں کو بتایا کہ امریکہ اور مغربی اتحادی ممالک یوکرین کی فوج کو ہتھیار بھجوا رہے ہیں جبکہ امریکہ کا آئندہ دنوں میں مزید اسلحے کی ترسیل کا ارادہ ہے تاکہ روس کے زمینی اور فضائی حملوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔ پینٹاگون کے مطابق روس کی حملہ آور فوج کا 50 فیصد اس وقت یوکرین میں موجود ہے تاہم غیر متوقع طور پر مزاحمت کا سامنا کرنے کے باعث پیش رفت آہستہ ہے۔

    عہدیدار نے کہا کہ بالخصوص یوکرین کے شمالی حصوں میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کوئی خاطر خواہ پیش قدمی نہ ہونے پر روسی فوج کی مایوسی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پینٹاگون کے مطابق روسی افواج دارالحکومت کیئف سے تقریباً 30 کلو میٹر کے فاصلے پر موجود ہیں تاہم انہوں نے واضح کیا کہ صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔

  • روس کےیوکرین پر حملے تیز:سلامتی کونسل میں ووٹنگ:حالات عالمی جنگ کی طرف گامزن

    روس کےیوکرین پر حملے تیز:سلامتی کونسل میں ووٹنگ:حالات عالمی جنگ کی طرف گامزن

    کیف:روس کےیوکرین پر حملے تیز:سلامتی کونسل میں ووٹنگ:حالات عالمی جنگ کی طرف گامزن ،اطلاعات کے مطابق روس نے یوکرین پر حملے تیز کر دیئے، دارالحکومت کیف میں بھی گھمسان کی لڑائی جاری ہے، اقوام متحدہ کا خصوصی اجلاس بلانے کےلیے سلامتی کونسل میں امریکی قراردار پر ووٹنگ آج ہوگی۔

    یوکرین کےخلاف روس پوری قوت میدان میں لے آیا، یوکرینی اہداف پر حملوں میں تیزی کے بعد دارالحکومت کیف زور دار دھماکوں سے گونج اٹھا۔ روس نے دارلحکومت کیف کی ایک ائیر فیلڈ پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے، روسی وزیرخارجہ کےمطابق کیف کے مغربی حصے کو بھی یوکرینی فوج سے کاٹ دیا گیا ہے۔

    یوکرین اور روس کی جانب سے ایک دوسرے کونقصان پہنچانے کے متضاد دعوے سامنے آئے ہیں، یوکرین حکام نے روسی پیش قدمی روکنے اور ہزاروں روسی فوجیوں کی ہلاکت اورزخمی ہونےکا دعویٰ کیا ہے، یوکرین میں تباہی کی فوٹجز بھی سامنے آئی ہیں، ایک خاتون جلتے گھر کے سامنے بیٹی کے ساتھ کھڑی طنز کررہی ہے کہ پوٹن کا شکریہ جس نے ہمارا گھر تباہ کردیا۔

    ادھر امریکا اورالبانیہ کی درخواست پر سلامتی کونسل کا ایک اور ہنگامی اجلاس بلا لیا گیا ہے، میٹنگ میں جنرل اسمبلی کاخصوصی اجلاس بلانے پر ووٹنگ ہو گی، اجلاس بلانے کے خلاف مستقل 5 ارکان میں سے کسی کو ویٹو کا اختیار نہیں ہو گا۔

    ادھر معتبر ذرائع کا کہنا ہے کہ حالات روس کے خلاف جانے لگے ہیں اور یوکرین کے باسیوں نے روسی پیش قدمی روک دی ہے ، یوکرین کے شمالی حصوں میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کوئی خاطر خواہ پیش قدمی نہ ہونے پر روسی فوج کی مایوسی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پینٹاگون کے مطابق روسی افواج دارالحکومت کیئف سے تقریباً 30 کلو میٹر کے فاصلے پر موجود ہیں تاہم انہوں نے واضح کیا کہ صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔

  • پاکستان زندہ باد:ملک وقوم کی سلامتی کیلئے پرعزم ہیں:وزیراعظم کا پاک فوج کے شاہینوں کوخراج تحسین

    پاکستان زندہ باد:ملک وقوم کی سلامتی کیلئے پرعزم ہیں:وزیراعظم کا پاک فوج کے شاہینوں کوخراج تحسین

    اسلام آباد: ملک اور قوم کی سلامتی کیلئے پرعزم ہیں:اللہ میرے شاہینوں کو سلامت رکھیں:پاکستان زندہ باد،اطلاعات کے مطابق آج 27 فروری کے دن قوم جہاں پاک فوج کے شاہینوں کی طرف سے بھارت کو منہ توڑ جواب دینے اور ذلت آمیزشکست دینے کے اس عظیم دن کی تیسری سالگرہ منارہی ہے، وہاں آج پاکستان کی قیادت نے ایک بار پھرقوم کو حوصلہ دیتے ہوئے بڑا اہم پیغام دیا ہے ،

    اس سلسلے میں وزیراعظم عمران خان نے کہا ہےکہ ملک اور اپنی قوم کی سلامتی کے لیے پرعزم اور غیر متزلزل ہیں، 27 فروری 2019 کو بھارت کو ثابت کرکے دکھایا۔ مذاکرات کو کبھی بھی کمزوری کی علامت نہیں سمجھنا چاہیے۔اس سے قبل ایک تقریب میں وزیراعظم نے پاکستانی قوم اور پاک فوج کوخراج تحسین پیش کرتےہوئے کہا کہ میرے شاہینوں کو اللہ سلامت رکھیں اللہ نے ان کے ہاتھوں فتح لکھ رکھی ہے ، انہوں نے جاتے ہوئے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگاتے ہوئے پاک فضائیہ کے شاہنیوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے 27 فروری 2019 کو بھارتی ونگ کمانڈرکو زندہ گرفتار کرکے طیاروں کو تباہ کرکے بھارت میں پاکستان زندہ باد کے نعرے لگوا دیئے تھے

     

    وزیراعظم عمران خان نے ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ ہمیشہ مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے حل پر یقین رکھتے ہیں، مذاکرات کو کبھی بھی کمزوری کی علامت نہیں سمجھنا چاہیے، ہم نے 27 فروری 2019 کو بھارت کو ثابت کرکے دکھایا جب اس نے حملے کا انتخاب کیا۔انہوں نے کہا کہ قوم کی حمایت سے ہماری مسلح افواج ہر سطح پر جارحیت کا جواب دیں گی اور غالب آئیں گی۔

     

    ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ آج کے دن پاکستان کی مسلح افواج نے ناکام بھارتی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے آج کے دن کی مناسبت سے شئیر کیے گئے اپنے پیغام میں کہاکہ آج 27 فروری کو ہم آپریشن ’سوئفٹ ریٹارٹ‘ کی تیسری سالگرہ منا رہے ہیں۔

     

    آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج نے پیشہ وارانہ عزم کا مظاہرہ کیا۔ پاک فضائیہ نے دو بھارتی جنگی جہاز مار گرائے۔ پاک بحریہ نے سمندر میں بھارتی آبدوز کا سراغ لگایا۔ پاک فوج نے لائن آف کنٹرول پر زوردار جواب دیا۔

    ترجمان پاک فوج کے مطابق جارحیت کے جواب میں صرف ہتھیار اور تعداد نہیں بلکہ قوم کا عزم اورمسلح افواج کی آپریشنل تیاریاں کامیاب رہتی ہیں۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنے پیغام کے اختتام میں پاکستان زندہ باد بھی لکھا۔

  • پاک افواج نے27 فروری کوبھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا:ڈی جی آئی ایس پی آر

    پاک افواج نے27 فروری کوبھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا:ڈی جی آئی ایس پی آر

    لاہور:ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کو آج تین سال مکمل ہو گئے، 27 فروری کو بھارت کی ناکام جارحیت کا پاکستان کی مسلح افواج نے منہ توڑ جواب دیا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے ٹویٹر پیغام میں کہا کہ پاکستان ایئر فورس نے 27 فروری کو "آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ ” کے دوران بھارتی فضائیہ کے دو طیارے مار گرائے۔ پاک بحریہ نے بھارتی آبدوز کا سراغ لگایا۔ مادروطن کی حفاظت کے لیے آج کا دن پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے، اسلحہ اور تعداد میں زیادہ ہونا نہیں صرف قومی عزم اور پیشہ وارانہ تیاری سےہی کامیابی ملتی ہے ۔

     

     

    یاد رہے کہ تین سال قبل 27 فروری کو پاکستان کے جری ہوابازوں نے بھارت کے نام نہاد سورماوں کو چھٹی کا دودھ یاد دلا کر تاریخ رقم کی تھی۔ دو بھارتی جنگی جہاز زمین بوس ہوئے جبکہ بھارتی ہوا باز ابھینندن گرفتار کر لیا گیا تھا، اس معرکے سے منسوب پاک فضائیہ کی جنگی گیلری آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ میں ابھینندن کے زیراستعمال یونیفارم اور جنگی ہوابازی میں استعمال ہونے والا سامان دشمن کی پسپائی کی داستان سنا رہا ہے۔

    گیلری کی ایک دیوار پر ابھینندن کے طیارے کو مارگرانے والے ونگ کمانڈر نعمان علی خان، بھارت کے دوسرے جہاز کو مارگرانے والے سکوارڈن لیڈر حسن صدیقی جبکہ بھارت کے خلاف اہم مشن میں شامل گروپ کیپٹن فہیم خان کی تصاویر آویزاں ہیں۔

    ستائس فروری کو پاک فضائیہ کی جرات کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، پاکستان اور بھارت کے مابین جنگوں کے دوران پاکستان ائیرفورس کی جانب سے دشمن ملک کے ہوابازوں کوناکوں چنے چبوانے اورانھیں کاری ضرب لگانے کی داستانیں بکھری پڑی ہیں۔

  • ہم دنیا کوتیسری عالمی سےبچانا چاہتے،لیکن روس تیسری عالمی جنگ کی طرف جارہا ہے:امریکی صدر

    ہم دنیا کوتیسری عالمی سےبچانا چاہتے،لیکن روس تیسری عالمی جنگ کی طرف جارہا ہے:امریکی صدر

    واشنگٹن:ہم دنیا کو تیسری عالمی سے بچانا چاہتے،لیکن روس تیسری عالمی جنگ کی طرف جارہا ہے،اطلاعات کے مطابق امریکا نے روس پر اقتصادی پابندیوں کو تیسری عالمی جنگ سے گریز کی کوشش قرار دیدیا،امریکی صدر بائیڈن نے روس پر اقتصادی پابندیوں کو تیسری عالمی جنگ سے گریز کی کوشش قرار دیدیا۔

    صدر جو بائیڈن نے اپنے بیان میں کہا کہ ہمارے پاس دو آپشنز ہیں، ایک یہ کہ روس کے خلاف عملی جنگ میں شریک ہوں اور دوسرا آپشن یہ ہے کہ روس کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی قیمت چکانا پڑے۔

    امریکی صدر نے مزید کہا کہ یوکرین پر فوجی حملے کی روس کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔،اطلاعات کے مطابق جرمن ائیر لائن نے ایک ہفتے تک روس کے لیے اپنی پروازیں معطل کر دی ہیں اور ائیر لائن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ روس کی فضائی حدودو بھی استعمال نہیں کی جائے گی۔

    یورپی یونین، امریکا اور اتحادیوں نے کئی روسی بینکوں کو مرکزی بین الاقوامی ادائیگی نظام سے منقطع کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔صدر یورپین کمیشن کا کہنا ہے کہ مخصوص روسی بینکوں کو سوئفٹ بینکنگ سسٹم سے نکال دیا جائے گا جس سے روس کی درآمدات اور برآمدات بند ہو جائیں گی۔

    صدر یورپی کمیشن کے مطابق بین الاقوامی ادائیگی نظام سے منقطع کرنے کے بعد روسی مرکزی بینک مفلوج ہو جائےگا۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے امریکا اور اتحادیوں کی جانب سے روسی بینکوں کو سوئفٹ بیکنگ نظام سے نکالنے کے فیصلے کو خوش آئند اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ روسی بینکوں کوسوئفٹ بینکنگ نظام سے نکالنا ہماری فتح ہے، روس کویورپی یونین کے اقدام سے اربوں ڈالر کا نقصان ہوگا۔

    یاد رہے کہ 2012 میں ایران کو بھی بین الاقوامی ادائیگی کے سوئفٹ نظام سے باہر نکالا گیا تھا۔

  • یوکرین پرروسی حملہ:پولینڈ کے بارڈر پرپھنسے ہوئے پاکستانی طلبا مدد کیلیئےحکومت پاکستان کوپکارنے لگے

    یوکرین پرروسی حملہ:پولینڈ کے بارڈر پرپھنسے ہوئے پاکستانی طلبا مدد کیلیئےحکومت پاکستان کوپکارنے لگے

    پولینڈ: پولینڈ کے بارڈر پرپھنسے ہوئے 50 پاکستانی طلبا مدد کیلیئے آوازیں پاکستان تک پہنچ گئی ہیں اور اب تو ان طالبعلموں کی بے بسی کے آنسووں نے ان کے والدین بہن بھائیوں اور دیگرچاہنے والوں کو غمگین کردیا ہے ، اس حوالے سے پولینڈ کے بارڈر سے ایک پیغام بھی پاکستان بھیجا گیا ہے

    اس حوالے سے وائس میسج کے ذریعے ملنے والے پیغام میں ایک طالب علم حکومت پاکستان سے درخواست کررہا ہے کہ ہم 50 کےقریب پاکستانی طالب علم پھنسے ہوئے ہیں اور ان کو وہاں سے نکالنے اور محفوظ مقامات تک پہنچانے کے لیے کوئی مدد نہیں کررہا،طالب علم جلدی میں پریشانی کے عالم میں پیغام دیتےہوئے اپنا نام تو نہ بتا سکا لیکن یہ ضرور بتاگیا کہ اگر کوئی مدد کو نہ پہنچا تو حالات قابو سے باہر ہوسکتے ہیں‌

     

    اس طالب علم کا کہنا ہے کہ پولینڈ کے بارڈر پردرجہ حرارت کافی گرچکا ہے اور سخت ترین سردی میں ایک طرف یوکرین پرروسی حملے ہورہےہیں اور دوسری طرف ہمیں وہاں‌سے کسی محفوظ مقام پرجانے نہیں دیا جارہا

    حکومت پاکستان کےنام اپنی دہائی میں طالب کا کہنا ہے کہ ہم بے بس پھر رہےہیں پاکستانی سفارتخانہ کا عملہ ابھی تک ہماری مدد کو نہیں پہنچ سکا ، طالب علم کا یہ بھی کہنا دوطالبعلموں کی حالت بھی خراب ہے اور اگر یہی کیفیت رہی تو اور بھی طالب علم ساتھیوں کی حالت بگڑنے کا اندیشہ ہے ، اس لیے جتنی جلدی ممکن ہوسکے پاکستانی طالب علموں کو وہاں سے محفوظ مقامات پر پہنچانے کے اقدامات کیے جائے تاکہ ان کی زندگیاں بچ سکیں ورنہ جنگ توہمارے قریب سے قریب تر آرہی ہے