Baaghi TV

Tag: روس

  • نابینا نجومی بابا وانگا کی روس کے حوالے سے پیشگوئی

    نابینا نجومی بابا وانگا کی روس کے حوالے سے پیشگوئی

    روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے 24 فروری کو یوکرین کے خلاف جنگ شروع کردی ایسے جنگ کے ماحول میں بلغاریہ کی نامور خاتون نجومی آنجہانی بابا وانگا کی ایک پیش گوئی کی کافی بات کی جارہی ہے۔

    باغی ٹی وی :غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 9/11 کے دہشت گرد حملوں اور بریگزٹ سمیت عالمی واقعات کی پیش گوئی کرنے والی بابا وانگا نے روس کے لیے بھی پیشی گوئی کی تھی 85 سال کی عمر میں انتقال کر جانے والی بابا وانگا نے برطانوی اخبار ڈیلی میل کے ترجمان کو بتایا تھا کہ یورپ کے بنجر ہونے کے بعد روس دنیا پر حمکرانی کرے گا۔

    انہوں نے کہا تھا کہ سب برف کی طرح پگھل جائے گی لیکن صرف ولادیمیر پیوٹن باقی رہ جائے گا جبکہ انہوں نے پیش گوئی کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ روس کو کوئی نہیں روک سکتا۔

    2022 کی خطرناک پیشنگوئیاں، تین دن کا اندھیرا اور خوفناک جنگ

    بابا وانگا ایک حادثے میں نابینا ہوئی تھیں جن کے مطابق یہ کہا جاتا ہے کہ ان میں مستقبل دیکھنے کا ہنر قدرتی طور پر موجود تھا، یہ پیدائش وانگا سکندراعظم کے دیس مقدونیہ میں1911ء میں پیدا ہوئی وہ نہ صرف جڑی بوٹیوں کی حکیم بلکہ مذہبی پیشوا بھی تھیں جنہوں نے سال 5079 تک کی پیش گوئیاں کی ہیں کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اس کے بعد دنیا کا اختتام ہوجائے گا بابا وانگا کی جانب سے کی گئی پیش گوئیوں میں سے 80 فیصد درست ثابت ہوئیں۔

    12سال کی عمر میں ایک طوفان اسے اڑا لے گیا، بعد میں وہ ایک جگہ پڑی ہوئی ملی، وہ زندہ تھی مگر اس کی آنکھوں میں ریت اور کنکر پڑے ہوئے تھے اس روز اس کی باہر دیکھنے والی آنکھیں بند اور اندر دیکھنے والی آنکھیں کھل گئیں۔ وانگا نے پیش گوئیاں کرنا شروع کر دیں جو اکثر پوری ہوتیں۔ اس کے ابا کی بھیڑ چوری ہوئی تو اس نے وہ پتا بتا دیا جہاں چوروں نے بھیڑ کو چھپا رکھا تھا سنا ہے ہٹلر بھی اس سے ملنے آیا اور ملنے کے بعد پریشان نظر آیا۔

    2020:ڈونلڈ ٹرمپ کودماغی کینسر.پوتن کی جان جاسکتی ہے،بابا وانگا نامی خاتون کی پیش گوئی

    وانگا 1996ء میں فوت ہو گئی لیکن اس کی دو بڑی پیش گوئیاں اس کی موت کے بعد پوری ہوئیں ایک نیویارک کے ٹوئن ٹاورز پر حملے کی اور دوسری ایشیاء میں سونامی کی۔ مستقبل قریب کے لیے اس نے دو مزید پیش گوئیاں کر رکھی ہیں۔ ایک یہ کہ 2016 میں مسلمان یورپ پر دھاوا بول دیں گے اور دوسرے یہ کہ 2018ء میں چین امریکا کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی سب سے بڑی سپرپاور بن جائے گا۔

    دنیا کے خاتمے کے بارے وانگا کیا کہتی ہیں، یورپ میں جنگ کے باعث 2025 میں یہاں کی آبادی غائب ہو جائے گی 2033ء میں قطب شمالی اور قطب جنوبی پگھل جائیں گے اور دنیا بھر میں پانی کی سطح بڑھ جائے گی 3797ء میں دنیا ختم ہو جائے گی مگر انسان کسی اور نظام شمسی کی طرف ہجرت کر جائے گااور کائنات ختم ہو گی 5079ء میں۔

    بابا وانگا کے ماننے والوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے شہزادی ڈیانا کی موت، سویت یونین کے ختم ہونے، جرمنی کے مشرق اور مغرب کے اتحاد اور 2004 میں تھائی لینڈ کے سونامی جیسی بڑی پیش گوئیاں کی تھیں جو پوری ہوئیں۔

    نابینا خاتون نجومی بابا وینگا کی 2022 کیلئے پیش گوئیاں

    بابا وانگا کی رواں سال 2022 کے بارے پیشگوئیاں

    بابا وانگا نے 2022 کی بھی پیشگوئیاں کی تھیں کہ بابا وانگا کی پیش گوئی کے مطابق 2022 میں آسٹریلیا اور ایشیائی ممالک کو آئندہ سال سیلاب اور زلزلے کا سامنا ہوگا جس سے کئی زندگیاں ضائع ہوجائیں گی جہاں دنیا پہلے ہی کورونا وائرس جیسی عالمی وبا کے شکنجے میں ہے وہیں بابا وانگا کے مطابق محققین سائبیریا میں ایک مہلک وائرس دریافت کریں گے، یہ وائرس لوگوں میں بہت تیزی سے پھیلے گا جب کہ اس سے بچنے کے انتظامات کرنے میں بھی بہت وقت لگ جائے گا۔

    نابینا خاتون نجومی کی پیش گوئی کے مطابق بھارت کی کئی ریاستوں کو 2022 میں بھی ٹڈی دل کے حملے کا سامنا کرنا پڑے گا جس سے فصلیں تباہ ہونے کا خدشہ ہے اس سے قبل 2020 میں بھی ریاست گجرات، راجستھان اور مدھیا پردیش میں ٹڈی دلوں نے حملہ کیا تھا۔

    بابا وانگا کے دعوے کے مطابق اومواموا نامی سیارچہ زمین پر زندگی کی تلاش کے لیے ایلین بھیجے گا جہاں دنیا پہلے سے ہی پانی کی کمی کے مسئلے سے دوچار ہے وہیں بابا وانگا کے مطابق 2022 میں دنیا کے کئی شہر پانی کی قلت کا شکار ہوں گے۔

    غیر ملکی میڈیا کےمطابق بابا وانگا کی پیش گوئیوں میں ایک پیش گوئی ٹیکنالوجی کے حوالے سے بھی کی گئی ہے، جہاں لوگ پہلے ہی ٹیکنالوجی کے استعمال کے عادی بن چکے ہیں وہاں 2022 میں لوگوں کا استعمال مزید بڑھ جائے گا اور لوگ ذہنی مریض بن جائیں گے-

  • کونسے سے ممالک یوکرین کو اسلحہ فراہم کر رہے ہیں؟

    کونسے سے ممالک یوکرین کو اسلحہ فراہم کر رہے ہیں؟

    بیلا روس: روس اور یوکرین کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں یوکرینی وفد نے فوری سیز فائر اور فوج نکالنے کا مطالبہ کردیا۔

    باغی ٹی وی : روس اور یوکرین کے درمیان آج پانچویں روز بھی جنگ جاری ہے اور اس دوران کئی یوکرینی شہر روسی افواج کے محاصرے میں ہیں یوکرین کی جانب سے بیلاروس کے دارالحکومت منسک میں مذاکرات سے انکار اور پھر آمادگی کے بعد آج دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔

    روس،یوکرین جنگ :زیر زمین پناہ گاہوں میں بچوں کی پیدائش

    بیلاروسی کے سرحدی علاقے گومیل میں ہونے والے مذاکرات میں یوکرینی وفد کی قیادت وزیر دفاع اولیکسی ریزنیکوف کر رہے ہیں جبکہ یوکرینی صدر کے مشیر بھی شامل ہیں یوکرینی وفد فوجی ہیلی کاپٹر میں مذاکراتی مقام پر پہنچا۔

    غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مذاکرات میں یوکرین نے روسی افواج کے فوری طور پر ملک سے نکلنے کا مطالبہ کیا جبکہ یوکرینی وفد نے روس سے فوری طور پر سیز فائر کا بھی مطالبہ کیا تاہم مذاکرات کے حوالے سے اب تک کوئی باقاعدہ بیان جاری نہیں کیا گیا اور نہ ہی مذاکرات میں ہونے والی کوئی اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔

    ادھر روس کی جانب سے یوکرین میں اپنے فوجی بھیجے جانےکے بعد سے دنیا بھر سے مختلف ممالک یوکرین کی فوجی امداد کررہے ہیں الجزیرہ کے مطابق یوکرینی وزارت صحت نے دعویٰ کیا ہےکہ جنگ شروع ہونےکے بعد سے 350 سے زائد شہری ہلاک ہوچکے ہیں اقوام متحدہ کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے ساڑھے 3 لاکھ سے زائد یوکرینی شہری پولینڈ اور دیگر ہمسایہ ممالک میں پناہ لے چکے ہیں۔

    یوکرین کا روس کے 5300 فوجی ہلاک اور29 طیارے مارگرانے کا دعویٰ

    خیال رہے کہ عسکری قوت کے لحاظ سے دونوں ممالک کا موازنہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ روس دنیا کی دوسری بڑی عسکری قوت ہونے کے باعث یوکرین سے کئی گنا زیادہ طاقت ور ہے، ایسی صورتحال میں بہت سے ممالک ہیں جو روس کے خلاف دفاع کے لیے یوکرین کو اسلحہ اور دیگر عسکری سازو سامان فراہم کررہے ہیں یوکرین کی جانب سے امریکا اور یورپی اتحادیوں سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ اسے روس کے خلاف مزاحمت کے لیے ٹینک شکن میزائل اور طیارہ شکن اسٹنگر میزائل فراہم کیے جائیں۔

    امریکا:
    یوکرین کو فوجی امداد فراہم کرنے والے ممالک میں امریکا سرفہرست ہے، 25 فروری کو صدر بائیڈن نے یوکرین کے لیے اضافی فوجی امداد کا اعلان کیا جس کے تحت یوکرین کو 35 کروڑ ڈالر کی اضافی فوجی امداد فراہم کی جارہی ہے –

    امریکی وزیرخارجہ انتھونی بلنکن کا کہنا تھا کہ روسی حملےکے خلاف امریکی پیکج میں ہلاکت خیز ہتھیاروں کی دفاعی امداد شامل ہوگی۔

    امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے مطابق یوکرین کو فراہم کیے جانے والے اسلحے میں ٹینک شکن سمیت متعدد ایسے ہتھیار ہیں جو فرنٹ لائن پر موجود یوکرینی فوجیوں کے کام آئیں گے، جب کہ امریکی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان کے مطابق اسلحے میں طیارہ شکن میزائل بھی شامل ہیں۔

    یوکرین:ایٹمی تنصیبات پرروس کے میزائل حملے:امریکہ اوراتحادیوں کی طرف سے سخت ردعمل

    امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے حالیہ کچھ عرصے میں یوکرین کو ایک ارب ڈالر سے زائد فوجی امداد فراہم کی گئی ہے۔

    برطانیہ:
    جنوری میں برطانوی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ برطانیہ نے یوکرین کو ٹینک شکن میزائل فراہم کرنےکا فیصلہ کیا ہےگذشتہ بدھ کو برطانوی وزیراعظم نے وعدہ کیا تھا یوکرین کی عسکری امداد جاری رکھی جائےگی اور یوکرین کو مہلک دفاعی اسلحہ بھی فراہم کیا جائےگا۔

    بورس جانسن کا کہنا تھا کہ روس کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر یوکرین کو دفاعی امداد کا پیکج فوری طور پر فراہم کررہے ہیں، یوکرین کو فراہم کیے جانے والے اسلحے میں مہلک اور دفاعی دونوں طرح کے ہتھیار شامل ہیں۔

    فرانس:
    فرانس کی جانب سے یوکرین کی پہلے سے ہی عسکری امداد کی جارہی ہے اور اب فرانسیسی حکومت نے یوکرین کو مزید فوجی سازو سامان اور فیول فراہم کرنےکا فیصلہ کیا ہے فرانس کا کہنا ہےکہ یوکرین کی درخواست پر اسے دفاع کے لیے طیارہ شکن توپیں اور ڈیجیٹل اسلحہ فراہم کیا گیا ہے۔

    پیوٹن کی نیوکلیئر فورسزکو تیار رہنے کی ہدایت،نیٹو اور امریکا کا شدید ردعمل

    نیدرلینڈ:
    ایک اور یورپی ملک نیدر لینڈ کی جانب سے یوکرین کو 200 طیارہ شکن اسٹنگر میزائل فراہم کیے جارہے ہیں اور اس حوالے سے ولندیزی حکومت نے جلد ازجلد میزائل فراہم کرنےکے لیے پارلیمنٹ کو خط لکھ دیا ہےنیدرلینڈ کی جانب سے یوکرین کو ٹینک شکن میزائل اور راکٹ بھی فراہم کیے جارہے ہیں اس کے علاوہ نیدرلینڈ جرمنی کے ساتھ مل کر یوکرین کے پڑوسی ملک سلواکیہ میں فضائی دفاعی نظام پیٹریاٹ بھیجنے پر بھی غور کر رہا ہے۔

    جرمنی :
    جرمنی کا شمارہ دنیا کے بڑے اسلحہ ساز ممالک میں ہوتا ہے، جرمنی کی جانب سے یوکرین کو ایک ہزار ٹینک شکن اور 500 طیارہ شکن اسٹنگر میزائل فراہم کیے جارہے ہیں جرمنی کے اس اقدام کو اس کی پالیسی میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جارہا ہےکیونکہ جرمنی طویل عرصے سے جنگ زدہ علاقوں میں اسلحےکی فراہمی پر پابندی کی پالیسی پرکاربند رہا ہے۔

    جرمن چانسلر کا کہنا ہےکہ روس کی جانب سے یوکرین میں حملہ اہم موڑ ہے، اس موقع پر ہمارا فرض ہے کہ ہم یوکرین کو اس کے دفاع کے لیے ہرممکن امداد کریں۔

    اقوام متحدہ کی ماحولیاتی کانفرنس میں روسی وفد نے یوکرین حملے پر معافی مانگ لی

    کینیڈا:
    کینیڈا کی جانب سے روسی حملےکے خلاف مزاحمت کے لیے یوکرین کو مہلک اسلحہ فراہم کیا جارہا ہے اور اس کے علاوہ یوکرین کو تقریباً40 کروڑ امریکی ڈالر کا قرضہ بھی دیا جارہا ہے۔

    سویڈن:
    اسکینڈے نیوین یورپی ملک سویڈن بھی اپنی غیرجانبدار رہنے کی تاریخی پالیسی ختم کرتے ہوئے 5 ہزار ٹینک شکن راکٹ یوکرین کو فراہم کررہا ہے، اس کے علاوہ جنگ میں فوجیوں کے زیر استعمال عسکری سازو سامان اور بلٹ پروف جیکٹ بھی دی جارہی ہیں 1939 کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب سویڈن نے جنگ زدہ ملک کو اسلحہ فراہم کیا ہے، آخری بار یہ تب ہوا تھا جب سوویت یونین نے 1939 سویڈن کے ہمسایہ ملک فن لینڈ پر حملہ کیا تھا۔

    بیلجیئم اور پرتگال:
    ایک اور یورپی ملک بیلجیئم نے بھی 3 ہزار سے زائد مشین گنیں، 200 ٹینک شکن میزائل اور ہزاروں ٹن فیول فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔جبکہ پرتگال کی جانب سے یوکرین کو رات میں دیکھنے والے چشمے ‘نائٹ ویژن گوگلز’ ، دستی بم، خودکار جی تھری بندوقیں اور دیگر اسلحہ فراہم کیا جارہا ہے۔

    یونان
    یوکرین میں یونانی شہریوں کی ایک بڑی تعداد روزگار کے لیے موجود ہے جن میں سے حالیہ تنازعے میں 10 افراد قتل بھی ہوئے ہیں۔ یونان کی جانب سے یوکرین کو انسانی امداد کے ساتھ دفاعی آلات فراہم کیے جارہے ہیں۔

    رومانیہ
    یوکرین کے ہمسایہ ملک رومانیہ نے اپنے 11 فوجی اسپتال یوکرین سے آنے والے زخمیوں کے لیے مختص کردیے ہیں، اس کے علاوہ رومانیہ یوکرین کو فیول سمیت 33 لاکھ ڈالرکا فوجی سازوسامان فراہم کررہا ہے۔

    یوکرین بغیر کسی پیشگی شرط کے روس کے ساتھ امن مذاکرات پر تیار

    اسپین
    ہسپانوی حکومت نے بلٹ پروف جیکٹوں سمیت دیگر دفاعی آلات فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے، اس کے علاوہ یوکرین کے لیے طبی سازوسامان اور کھانے پینے کا سامان بھجوایا جارہا ہے۔

    چیک ریپبلک
    چیک ریپلک کی حکومت نے 4 ہزار مارٹر گولے فوری طور پر فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے، اس کے علاوہ ہزاروں بندوقیں، خودکار مشین گنیں، اسنائپر رائفلز اور لاکھوں گولیاں فراہم کی جارہی ہیں۔

    ادھر نیٹو چیف اسٹولٹن برگ نےکہا ہےکہ یوکرین کےدفاع کےلیے پہلی بار نیٹو ریسپانس فورس فعال کی ہے،جس کے لیے امریکا 6 ارب ڈالر مختص کرےگا،یہ ریسپانس فورس مشرقی یورپ میں تعینات ہوگی۔

    دوسری جانب سوال اٹھ رہا ہےکہ 30 ممالک پر مشتمل سیاسی و عسکری اتحاد نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) یوکرین کے دفاع کے لیے اپنی فوجیں بھیجے گا یا نہیں؟

    واضح رہے کہ یوکرین نیٹو کا رکن نہیں ہے تاہم سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سابقہ سوویت یونین میں شامل اکثر یورپی ممالک نے نیٹو میں شمولیت اختیار کرلی تھی جب کہ یوکرین نیٹو کارکن تو نہیں بنا تاہم اس حوالے سے مذاکرات ہوتے رہے ہیں اور روس اس کا شدید مخالف رہا ہے روس کی جانب سےکریمیا کے تنازع میں کردار اور حالیہ تنازع کے بعد سے نیٹو نے یوکرین کو اس کے دفاع کے لیے متعدد یقین دہانیاں کروائی ہیں

    یورپ کا روس کے خلاف اتحاد:فضائی راستے بند:روسی طیارے گزریں گے توگرا دیں گے:جرمنی…

    ایسی صورتحال میں ایک برطانوی شہری نےبرطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سوال کیا کہ وہ کون سا وقت ہوسکتا ہے جب نیٹو کے رکن ممالک کا صبر کا پیمانہ لبریز ہوجائے اور وہ یوکرین کی مدد کے لیے فوجیں بھجوانے پر رضامند ہوجائیں؟

    کیف میں موجود بی بی سی کے انٹرنیشنل ڈیسک کے چیف رپورٹر لائز ڈاؤسٹ نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ نیٹو کے رکن ممالک روس کی ہر حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور انہوں نے خبردار کیا ہےکہ ان کا عسکری دفاعی اتحاد اپنے رکن ممالک کی زمین کے ہر انچ کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ نیٹو ممالک نے یوکرین میں اسلحہ اور فوجی سازو سامان بھجوایا ہے اور انہوں نے حالیہ برسوں میں یوکرینی فوجیوں کو تربیت بھی فراہم کی ہے، جو کہ روسی حملےکے خلاف یوکرین کے دفاع کے لیے کیا گیا اقدام ہے تاہم ان کی جانب سے مسلسل یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یوکرینی زمین پر نیٹو کا کوئی فوجی نہیں بھیجا جائےگا کیونکہ یوکرین نیٹو کا رکن نہیں ہے، البتہ اگر روس یوکرین سے آگے نیٹو کے رکن ممالک کی طرف بڑھتا ہے تو صورتحال بدل سکتی ہے۔

    لائز ڈاؤسٹ کے مطابق اگر ایسا ہوا تو دنیا ایک غیر یقینی صورتحال میں داخل ہوجائےگی جس میں روس اور نیٹو کے تصادم کا خطرہ خطرناک حد تک بڑھ جائےگا۔

    خیال رہے کہ نیٹو کے آئین کے مطابق اگر کسی ایک رکن ملک پر حملہ ہو تو وہ تمام اتحادیوں پر حملہ تصور کیا جائےگا۔

    یوکرین نے روس کیخلاف عالمی عدالت انصاف میں درخواست جمع کرا دی

  • یوکرین کا روس کے 5300 فوجی ہلاک اور29 طیارے مارگرانے کا دعویٰ

    یوکرین کا روس کے 5300 فوجی ہلاک اور29 طیارے مارگرانے کا دعویٰ

    کیف: یوکرین نے روس کے 5300 فوجی ہلاک اور29 طیارے مارگرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : یوکرین کی نائب وزیردفاع ہنا ملاریا نے سوشل میڈیا پرجاری بیان میں دعویٰ کیا کہ 4 روز کی لڑائی میں روس کے 5300 فوجیوں ہلاک ہوئے جبکہ 29 روسی طیارے مارگرائے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ 29روسی ہیلی کاپٹرز اور3 ڈرون بھی تباہ کردئیے گئے مجموعی طورپراب تک روس کے 191 ٹینک،816 جنگی گاڑیوں ،60 ڑینکوں اور2 بحری جہازوں کوتباہ کیا جا چکا ہے۔

    روس نے یوکرین پرحملے کے دوران اپنے فوجیوں کے ہلاک اورزخمی ہونے کا اعتراف تو کیا ہے تاہم تعداد نہیں بتائی۔

    دوسری جانب یوکرین نے عالمی عدالت انصاف میں روس کیخلاف نسل کشی کا مقدمہ دائرکردیا ہےغیرملکی میڈیا کے مطابق یوکرین کی جانب سے عالمی عدالت انصاف میں روس کیخلاف مقدمے میں یوکرین پرروسی حملے فوری طورپررکوانے کی استدعا کی گئی ہے۔

    یوکرین نے عدالت سے روس سے یوکرین پرکئے گئے حملے میں ہوئے نقصان کا ہرجانہ دلوانے کی درخواست بھی کی ہے۔

    دوسری جانب یوکرین کے دارالحکومت کیف میں اتوار کی صبح سویرے دھماکے سنائی دئیے کیف میں نافذ کرفیو ختم کردیا گیا ہے۔ کیف میں پرچون کی دکانیں کھل گئی ہیں اوربپلک ٹرانسپورٹ چلنے لگی ہے۔

    یورپ کا روس کے خلاف اتحاد:فضائی راستے بند:روسی طیارے گزریں گے توگرا دیں گے:جرمنی کا پیغام

    یوکرینی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ روسی افواج ہرطرف سے حملے کررہی ہیں۔ اتواریوکرین کی افواج کے لئے مشکل دن رہا۔

    یوکرین کی صورتحال پراقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج ہوگا۔اجلاس میں تمام 193 رکن ممالک شرکت کریں گے۔

    دوسری جانب کیف میں یوکرین کے جوہری توانائی کے نگران محکمے نے اتوار 27 فروری کی صبح بتایا تھا کہ روسی دستوں نے گزشتہ رات ملکی دارالحکومت کے مضافات میں جوہری فاضل مادوں کی ایک ذخیرہ گاہ کو میزائلوں سے نشانہ بنایا۔

    یوکرائنی جوہری تنصیبات کے منتظم ادارے نے اپنے فیس بک پیج پر بتایا تھا کہ فوری طور پر یہ واضح نہیں کہ آیا ان میزائل حملوں کے بعد جوہری فاضل مادوں کی اس ذخیرہ گاہ سے تابکار شعاعیں بھی خارج ہونا شروع ہو گئیں روسی میزائل اس جوہری تنصیب گاہ کی حفاظتی باڑ کو لگے مگر عمارت اور اس میں ذخیرہ کردہ ایٹمی کوڑے کے کنٹینر بظاہر محفوظ رہے۔

    یوکرین نے روس کیخلاف عالمی عدالت انصاف میں درخواست جمع کرا دی

    یوکرائنی حکام کا کہنا تھا کہ روسی دستوں نے گزشتہ رات بھی یوکرائن کے کئی شہروں پر اپنے میزائل حملے جاری رکھے۔ اس دوران کییف کے نواح میں واسِلکیف کے مقام پر گولہ باری میں تیل کے ایک بڑے ڈپو کو آگ لگ گئی اس شہر کی خاتون میئر نتالیا بالاسینووچ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ دشمن ہر چیز کو تباہ کر دینا چاہتا ہے۔

    اس شہر میں تیل کی ذخیرہ گاہ کو گولہ باری کے بعد لگنے والی وسیع تر آگ کے باعث حکام نے مقامی شہریوں سے کہا تھا کہ وہ زہریلے دھوئیں کے گہرے بادلوں کی وجہ سے گھروں سے باہر نہ نکلیں۔

    یوکرائن کی اسپیشل کمیونیکیشنز سروس کا کہنا تھا کہ روسی فوج نے گزشتہ رات ملک کے دوسرے سب سے بڑے شہر خارکیف میں قدرتی گیس کی ایک بڑی پائپ لائن کو بھی میزائل حملہ کر کے تباہ کر دیا۔

    یوکرینی صدرکو زندہ یا مردہ پکڑنے کےلیے جانے والا چیچن کمانڈرساتھیوں سمیت…

  • یوکرین:ایٹمی تنصیبات پرروس کے میزائل حملے:امریکہ اوراتحادیوں کی طرف سے سخت ردعمل

    یوکرین:ایٹمی تنصیبات پرروس کے میزائل حملے:امریکہ اوراتحادیوں کی طرف سے سخت ردعمل

    کیف: ایٹمی تنصیبات پرروس کے میزائل حملے:امریکہ اوراتحادیوں کی طرف سے سخت ردعمل ،اطلاعات کے مطابق کیف میں یوکرائن کے جوہری توانائی کے نگران محکمے نے اتوار ستائیس فروری کی صبح بتایا کہ روسی دستوں نے گزشتہ رات ملکی دارالحکومت کے مضافات میں جوہری فاضل مادوں کی ایک ذخیرہ گاہ کو میزائلوں سے نشانہ بنایا۔

    یوکرائنی جوہری تنصیبات کے منتظم ادارے نے اپنے فیس بک پیج پر بتایا کہ فوری طور پر یہ واضح نہیں کہ آیا ان میزائل حملوں کے بعد جوہری فاضل مادوں کی اس ذخیرہ گاہ سے تابکار شعاعیں بھی خارج ہونا شروع ہو گئیں۔

    دوسری طرف انٹرفیکس نیوز ایجنسی کے مطابق روسی میزائل اس جوہری تنصیب گاہ کی حفاظتی باڑ کو لگے مگر عمارت اور اس میں ذخیرہ کردہ ایٹمی کوڑے کے کنٹینر بظاہر محفوظ رہے۔

    یوکرائنی حکام کے مطابق روسی دستوں نے گزشتہ رات بھی یوکرائن کے کئی شہروں پر اپنے میزائل حملے جاری رکھے۔ اس دوران کییف کے نواح میں واسِلکیف کے مقام پر گولہ باری میں تیل کے ایک بڑے ڈپو کو آگ لگ گئی۔اس شہر کی خاتون میئر نتالیا بالاسینووچ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا، ”دشمن ہر چیز کو تباہ کر دینا چاہتا ہے۔‘‘

    اس شہر میں تیل کی ذخیرہ گاہ کو گولہ باری کے بعد لگنے والی وسیع تر آگ کے باعث حکام نے مقامی شہریوں سے کہا ہے کہ وہ زہریلے دھوئیں کے گہرے بادلوں کی وجہ سے گھروں سے باہر نہ نکلیں۔

    یوکرائن کی اسپیشل کمیونیکیشنز سروس کے مطابق روسی فوج نے گزشتہ رات ملک کے دوسرے سب سے بڑے شہر خارکیف میں قدرتی گیس کی ایک بڑی پائپ لائن کو بھی میزائل حملہ کر کے تباہ کر دیا۔

    یوکرائنی حکام کے مطابق روسی فوجی گاڑیاں اب اس شمال مشرقی شہر کی سڑکوں پر دکھائی دے رہی ہیں۔ ساتھ ہی اسی شہر میں ایک نو منزلہ رہائشی عمارت کو بھی توپوں سے گولہ باری کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہو گئے۔

    گولہ باری کے وقت اس عمارت کے زیادہ تر رہائشی اپنی حفاظت کے لیے عمارت کے تہہ خانے میں پناہ لیے ہوئے تھے۔

    ماسکو سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق روسی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جنوبی یوکرائن کے شہر خیرسون اور جنوب مشرقی شہر بیردیانسک کا ‘مکمل‘ محاصرہ کر لیا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گہا کہ روسی فورسز یوکرائن کے مختلف حصوں میں اپنی پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    روسی خبر رساں اداروں کے ذریعے نشر کردہ ملکی وزارت دفاع کے ترجمان ایگور کوناشینکوف کے ایک بیان کے مطابق، ”گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران روسی مسلح افواج نے یوکرائن کے دو شہروں خیرسون اور بیردیانسک کو مکمل طور پر اپنے محاصرے میں لے لیا۔‘‘

  • بھارت کوکسی بھی مہم جوئی سےبازرہناچاہیے:پاکستان کی بھارت کو وارننگ

    بھارت کوکسی بھی مہم جوئی سےبازرہناچاہیے:پاکستان کی بھارت کو وارننگ

    اسلام آباد:بھارت کوکسی بھی مہم جوئی سےبازرہناچاہیے:پاکستان کی بھارت کو وارننگ .اطلاعات کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفط کے عزم کا اعادہ کرتا ہے بھارت کو کسی بھی مہم جوئی سے باز رہنا چاہیے۔

    یاد رہے کہ آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کے تین سال مکمل ہونے پر دفترخارجہ کی جانب سے بیان جاری کیا گیا ہے۔

    ترجمان دفترخارجہ عاصم افتخار نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری کےتحفظ کے عزم کا اعادہ کرتا ہے اور علاقائی امن واستحکام کا حامی ہے۔

    ترجمان کے مطابق بھارت کیخلاف پاکستان کے ردعمل کو3برس مکمل ہوگئے ہیں، بھارت نے 26 فروری 2019 کوپاکستانی حدود میں فضائی حملہ کیا تو بھارت کی اس مذموم کوشش کو ہماری بہادرمسلح افواج نےناکام بنایا۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان نے اپنی خودمختاری کا تحفظ اورانتہائی تحمل کا مظاہرہ کیا لیکن اگلے ہی دن 27 فروری 2019 کو پھر2بھارتی طیاروں نے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارتی طیاروں کے دوبارہ پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر پاک فضائیہ کے طیاروں نے دونوں بھارتی طیاروں کو مارگرایا۔

    عاصم افتخار نے کہا کہ بھارت کو آئندہ کسی بھی مہم جوئی سےبازرہناچاہیے۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے کشمیر کے حوالے سے اس عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہاکہ کشمیر تنازع کےپرامن حل کےلیےاپنےعزم پرزوردیتےہیں۔

    ادھر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملک اور اپنی قوم کی سلامتی کے لیے پرعزم اور غیر متزلزل ہیں، 27 فروری 2019 کو بھارت کو ثابت کرکے دکھایا۔ مذاکرات کو کبھی بھی کمزوری کی علامت نہیں سمجھنا چاہیے۔

    وزیراعظم عمران خان نے ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ ہمیشہ مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے حل پر یقین رکھتے ہیں، مذاکرات کو کبھی بھی کمزوری کی علامت نہیں سمجھنا چاہیے، ہم نے 27 فروری 2019 کو بھارت کو ثابت کرکے دکھایا جب اس نے حملے کا انتخاب کیا۔انہوں نے کہا کہ قوم کی حمایت سے ہماری مسلح افواج ہر سطح پر جارحیت کا جواب دیں گی اور غالب آئیں گی۔

  • یورپ کا روس کے خلاف اتحاد:فضائی راستے بند:روسی طیارے گزریں گے توگرا دیں گے:جرمنی کا پیغام

    یورپ کا روس کے خلاف اتحاد:فضائی راستے بند:روسی طیارے گزریں گے توگرا دیں گے:جرمنی کا پیغام

    برلن :یورپ کا روس کے خلاف اتحاد:فضائی راستے بندکردیئے:روسی طیارے گزریں گے توگرا دیں گے:جرمنی کا پیغام،اطلاعات کے مطابق یوکرین میں روسی فوجی کاروائی کے درمیان جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ روسی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دے گا۔

    روس پر فضائی راستے بند کرنے میں ایسا کرنے سے جرمنی ان یورپی ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائے گا جو پہلے ہی روسی ایئر لائنز پر پابندی لگا چکے ہیں۔

    جرمنی کی وفاقی وزارت برائے نقل و حمل اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر نے اعلان کیا کہ وزیر ٹرانسپورٹ وولکر وِسِنگ "روسی طیاروں کے لیے جرمن فضائی حدود کو روکنے کی حمایت کرتے ہیں اور اس کے لیے ہر چیز کو تیار رکھنے کا حکم دیا ہے۔”

    علاوہ ازیں جرمن ایئر لائن لوتھانسا نے روس کے لیے اپنی تمام پروازیں منسوخ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ روسی فضائی حدود سے آنے والی پروازوں کو جلد ہی روک دیا جائے گا۔

    جرمنی اب ان یورپی ممالک میں شامل ہو گیا ہے جس نے روسی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔ ان میں برطانیہ، پولینڈ، بلغاریہ اور جمہوریہ چیک جیسے ممالک شامل ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روس نے بھی ان ممالک کو اپنی فضائی حدود بند کرکے منہ توڑ جواب دیا ہے۔

    اتوار کے روز، روس کی فیڈرل ایجنسی برائے ہوائی نقل و حمل نے کہا کہ "لاتویا، لتھوانیا، سلووینیا اور ایسٹونیا کے ہوابازی حکام کے اس مخالفانہ فیصلے کا مطلب ہے کہ روس اپنی سرزمین پر ان ممالک کی پروازوں پر بھی پابندیاں عائد کرے گا۔”

    جرمنی نے بھی ہفتے کے روز یورپی کمیشن میں شمولیت اختیار کی، فرانس، اٹلی، برطانیہ، کینیڈا اور امریکہ اور دیگر ممالک نے روس کے خلاف پابندیوں کے نئے دور کا اعلان کیا ہے۔

    ان ممالک نے کہا کہ "منتخب روسی بینکوں کوسویفٹ میسجنگ سسٹم سے ہٹا دیا جائے گا”۔ یہ بھی بتایا گیا کہ جرمنی ٹینک شکن ہتھیار اور زمین سے فضا میں مار

  • پیوٹن کی نیوکلیئر فورسزکو تیار رہنے کی ہدایت،نیٹو اور امریکا کا شدید ردعمل

    پیوٹن کی نیوکلیئر فورسزکو تیار رہنے کی ہدایت،نیٹو اور امریکا کا شدید ردعمل

    واشنگٹن: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی نیوکلیئر فورسز کو تیار رہنے کی ہدایت پر نیٹو اور امریکا کا شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس کے جاری کردہ بیان میں روسی نیوکلیئر فورسز کو ہائی الرٹ کرنے کی شدید مذمت کی گئی ہے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا روس کے انرجی سیکٹر پر پابندی عائد کرنے پر غور کررہا ہے۔

    افغانستان: طالبات کی الگ شفٹ کے ساتھ کابل یونیورسٹی سمیت ملک بھر کی تمام جامعات کھل گئیں

    اقوام متحدہ میں امریکی سفیر لنڈا تھومیس گرین فیلڈ نے امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کے ایک پروگرام میں کہا کہ پیوٹن کے اقدامات نے تنازع کو مزید بڑھا دیا ہے یوکرین اور روس کے مابین مذاکرات کا امریکا خیر مقدم کرتا ہے تاہم روس کا اپنی نیک نیتی کو ثابت کرنا ابھی باقی ہے۔

    دوسری جانب نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینس اسٹولٹنبرگ نے سی این این سے گفتگو میں کہا کہ روس کی جانب سے یہ اقدام خطرے کا حامل ہے اور پیوٹن کا یہ رویہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے۔

    یوکرین کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ پیوٹن کا نیوکلیئر فورسز کو ہائی الرٹ کرنا دراصل مذاکرات سے قبل کیف کو پریشر میں لانا ہے لیکن کیف دباؤ میں آنے والا نہیں۔

    واضح رہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ملک کی جوہری فورسز کو مغربی جارحانہ بیانات کے پیشِ نظر تیار رہنے کے حکم دے دیا ہےنیویارک پوسٹ کے مطابق پیوٹن کی جانب سے روسی نیوکلیئر فورسز کو دی گئی یہ ہدایت روس کے جوہری ہتھیاروں کی لانچنگ کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق روسی صدر کی مذکورہ بالا ہدایت سے خدشہ ہے کہ روس اور یوکرین کا تنازع ایٹمی جنگ میں تبدیل ہوسکتا ہے۔
    اعلیٰ روسی حکام کے ساتھ ملاقات کے دوران پوٹن نے وزیر دفاع اور فوج کے سربراہ جنرل اسٹاف کو ہدایت کی کہ وہ جوہری فورسز کا جنگی ذمہ داریوں کے مخصوص نظام میں اندراج کریں۔

    پیوٹن نے ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ریمارکس میں کہا کہ مغربی ممالک نہ صرف اقتصادی میدان میں ہمارے ملک کے خلاف غیر دوستانہ اقدامات کر رہے ہیں بلکہ نیٹو کے سرکردہ اراکین کے اعلیٰ حکام نے ہمارے ملک کے بارے میں جارحانہ بیانات دیے ہیں۔

    یوکرین بغیر کسی پیشگی شرط کے روس کے ساتھ امن مذاکرات پر تیار

  • یوکرین بغیر کسی پیشگی شرط کے روس کے ساتھ امن مذاکرات پر تیار

    یوکرین بغیر کسی پیشگی شرط کے روس کے ساتھ امن مذاکرات پر تیار

    کیف: یوکرین بغیر کسی پیشگی شرط کے روس کے ساتھ امن مذاکرات پر تیار ہوگیا جب کہ روس بھی ہتھیار پھینکنے کی شرط سے دستبردار ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے ’’اے ایف پی‘‘ نے کیف میں صدارتی دفتر کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین اب روس کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ ہوگیا تاہم یہ مذاکرات بیلاروس کی سرحد پر ہوں گے۔

    ابتدائی طور پر یوکرین اور روس کے نمائندے کسی قسم کی پیشگی شرائط کے بغیر ملاقات کریں گے جس کے بعد اعلیٰ سطح کی ملاقات بھی متوقع ہے یہ مذاکرات مشترکہ دوست ممالک کی کاوشوں سے ہو رہی ہے۔

    قبل ازیں روسی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ اگر یوکرین کی فوج ہتھیار ڈال دے تو مذاکرات ہوسکتے ہیں جب کہ روسی صدر نے یوکرین سے بات چیت کے لیے ایک وفد بھی پڑوسی ملک بیلاروس بھیجا تھا۔

    تاہم یوکرین کے صدر کا مؤقف تھا کہ امن کے لیے بات چیت ہونا چاہیئے لیکن مذاکرات کا مقام بیلاروس نہیں بلکہ کوئی اور ملک ہونا چاہیئے انہوں نے استنبول کا نام بھی لیا تھا۔

    یوکرین پرروسی حملہ:روس سے سلامتی کونسل کی مستقل ممبرشپ واپس لینے کی منصوبہ بندیاں

    بیلاروس میں 2014 میں یوکرین اور روس کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے جنھیں منسک معاہدہ کہا جاتا ہے تاہم یوکرین کا کہنا ہے کہ روس نے معاہدے کی پاسداری نہیں کی۔

    گزشتہ روز ہی یوکرین نے عالمی عدالت انصاف پر زور دیا تھا کہ وہ روس کے یوکرین پر حملے کو فوری طور پر رکوائے اور اس حوالے سے یوکرین نے عالمی عدالت انصاف میں ریاستوں کے درمیان تنازعے کے حوالے سے روس کے خلاف مقدمہ بھی درج کرایا ہے۔

    ہمارے جانباز4 ہزار سے زائد روسی فوجی ہلاک جبکہ سیکڑوں‌ گرفتارکرچکےہیں:یوکرینی جنرل کا دعویٰ

    جنگ کے دوسرے روز ہی امریکا نے یوکرین کے صدر کو بحفاظت محفوظ مقام پر پہنچانے کی پیشکش کی تھی جسے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے یہ کہہ کر مسترد کردیا تھا کہ مجھے لڑنے کے لیے اسلحہ چاہیئے بھاگنے کے لیے گاڑی نہیں۔

    روس کی فوجیں دارالحکومت کیف میں پارلیمنٹ سے صرف 9 کلومیٹر کی دوری پر ہیں جب کہ دوسرے بڑے شہر خارکیف میں داخل ہوگئی ہیں جہاں یوکرین کی فوج سخت مزاحمت دکھا رہی ہے۔

    یوکرین نے روسی جارحیت کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں درخواست جمع کرا دی ہے۔ روس کے خلاف درخواست جمع کرانے کے بعد یوکرین کے صدر زیلینسکی نے امید ظاہر کی ہے کہ عدالت روس کو فوری طور پر حملے روکنے کا حکم دے گییوکرین کے صدر زیلینسکی نے اس حوالے سے توقع ظاہر کی ہے کہ آئندہ ہفتے روس کا ٹرائل شروع ہو گاروس اپنی جارحیت اور نسل کشی کا جواب بھی دے۔

    روسی فوج یوکرین کے دوسرے بڑے شہرخارکیف میں داخل ہو گئی

    یوکرین کی وزارت دفاع نے 4 روز سے جاری جنگ کے دوران 4 ہزار سے زائد روسی فوجی ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔یوکرین کی نائب وزارت دفاع ہنا مالیار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر 4 روز سے جاری جنگ کے بارے میں تفصیلات شیر کی ہیں۔

    انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین نے جاری جنگ کے دوران 4 ہزار 300 روسی فوجی ہلاک اور27 طیاروں کو مار گرایا ہے یوکرین نے روس کے 26 ہیلی کوپٹر، 146 ٹینک، 706 بکتر بند گاڑیاں اور 49 توپیں تباہ کی ہیں۔علاوہ ازیں ایک بک ایئر ڈیفنس سسٹم، مختلف اقسام کے چارراکٹ لانچنگ سسٹم، 30 گاڑیاں، 60 ٹینکرز، دو ڈرون اور دو کشیاں تباہ کی ہیں-

    یوکرین پرحملہ روس کے لیے گلے کی ہڈی بن گیا:سخت مزاحمت سے روسی فوج کے حوصلے ڈگمگانے…

  • روس نے ہائیڈروجن بم،ایٹم بم اوراٹیمی میزائل چلانے والی فوج کوتیاررہنے کا حکم دے دیا

    روس نے ہائیڈروجن بم،ایٹم بم اوراٹیمی میزائل چلانے والی فوج کوتیاررہنے کا حکم دے دیا

    ماسکو:روس نے ہائیڈروجن بم،ایٹم بم اوراٹیمی میزائل چلانے والی فوج کوتیاررہنے کا حکم دے دیا ،اطلاعات کے مطابق روسی میڈیا کی طرف سے دعویٰ کیا گیا ہے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ڈیٹرنس فورس کو ہائی کرنے کا حکم دیدیا۔ ڈیٹرنس فورس میں نیو کلیئر ہتھیار شامل ہیں۔ ادھر یہ بھی اطلاعات ہیں کہ چار روز سے جاری روس کے ساتھ جاری جنگ کے بعد یوکرین ماسکو کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیار ہو گیا۔

     

    روسی خبر رساں ادارے آر ٹی کی رپورٹ کے مطابق یوکرین بالآخر روس کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہو گیا، یہ بات چیت ہمسایہ ملک بیلاروس میں ہو گی جہاں پر ایک ٹیم بھیجنے پر اتفاق کر لیا گیا۔

    آر ٹی کے مطابق روسی چیف مذاکرات کار ولادیمیر میڈنسکی نے بتایا کہ کیف نے گومیل ریجن میں طے شدہ مذاکرات کی تصدیق کی ہے، جو روس اور یوکرین دونوں کی سرحدوں کے قریب ہے۔

    ولادیمیر پیوٹن کے معاون اور سابق وزیر ثقافت میڈنسکی نے مزید کہا کہ فریقین اب یوکرین کے لوگوں کے لیے زیادہ سے زیادہ سیکورٹی کے ساتھ سربراہی اجلاس کی لاجسٹک اور درست جگہ کے بارے میں فیصلہ کر رہے ہیں۔ ضمانت دیتے ہیں سفری راستہ مکمل طور پر محفوظ ہو گا، ہم یوکرائنی وفد کا انتظار کریں گے۔

     

     

    اس سے قبل روسی ٹیم یوکرین کے ساتھ مذاکرات کیلئے متعلقہ جگہ پر پہنچ چکی ہے۔

     

     

    یوکرین کا کہنا تھا کہ غیر جانبدار زمین پر بات چیت کرنا چاہتے ہیں کیونکہ روسی فوجی بیلاروسی سرزمین کو یوکرین پر حملوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ تاہم منسک نے اس بات سے انکار کیا کہ اس کی افواج روسی کارروائی میں حصہ لے رہی ہیں۔

    پیوٹن کا ڈیٹرنس فورس کو ہائی الرٹ پر کرنے کا حکم

    دوسری طرف روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ڈیٹرنس فورس کو ہائی کرنے کا حکم دیدیا۔ ڈیٹرنس فورس میں نیو کلیئر ہتھیار شامل ہیں۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ ڈیٹرنس فورس ہائی الرٹ کرنے کا فیصلہ نیٹو رد عمل پر کیا۔

    اس سے قبل یوکرین نے دا ہیگ میں قائم عالمی عدالت انصاف پر زور دیا ہے کہ وہ روس کے یوکرین پر حملے کو فوری طور پر رکوائے۔خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین نے عالمی عدالت انصاف میں ریاستوں کے درمیان تنازعے کے حوالے سے روس کے خلاف مقدمہ درج کرا دیا ہے۔

    صدر زیلنسکی کا ٹوئٹر پر کہنا تھا کہ یوکرین نے روس کے خلاف الزامات کے ثبوت پیش کر دیے ہیں۔ ’نسل کشی کے تاثر کی آڑ میں اپنی جارحیت کو جواز فراہم کرنے پر روس کا مواخذہ کیا جانا چاہیے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ روس کو فوجی کارروائی فوری روکنے کا حکم دیا جائے۔ ہم روس کی عسکری سرگرمی کو اسی وقت روکنے کا فوری حکم صادر کرنے کی درخواست کرتے ہیں اور توقع رکھتے ہیں روس کے اس اقدام کا اگلے ہی ہفتے سے ٹرائل شروع کیا جائے۔

     

    یوکرین کی علاقائی انتظامیہ کے سربراہ اولے سائنی گوبوف نے کہا ہے کہ یوکرینی فورسز نے روسی افواج کے ساتھ سخت لڑائی کے بعد دوسرے بڑے شہر خارکیف کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ خارکیف مکمل کنٹرول میں ہے۔ کلین اپ آپریشن کے دوران روسی فورسز کو نکال رہے ہیں۔

    دوسری جانب اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ جمعرات کو روس کے یوکرین پرحملے کے بعد تین لاکھ 68 ہزار سے زائد افراد یوکرین سے فرار ہوئے ہیں۔

    اقوام متحدہ کے کمیشن برائے مہاجرین(یو این ایچ سی آر) نے ٹویٹر پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس وقت یوکرین سے فرار ہونے والوں کی تعداد تین لاکھ 68 ہزار ہے لیکن اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے اعداد شمار جاری کیے جائیں گے۔

    یوکرین سے نکلنے والوں کی بہت بڑی تعداد پولینڈ پہنچی ہے۔ روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے اب تک ایک لاکھ 56 ہزار افراد پولینڈ پہنچے ہیں جن میں سے 77 ہزار تین سو افراد صرف ہفتے کے روز یوکرین سے آئے ہیں۔

    یہ پناہ گزین اپنی کاروں اور کھچا کھچ بھری ہوئی ریل گاڑیوں کے علاوہ پیدل ان پڑوسی ممالک میں پہنچے ہیں۔ بہت سارے پناہ گزین مولڈیویا، ہنگری، سلواکیہ اور رومانیہ کی جانب بھی گئے ہیں۔

    ادھر دفاعی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ ، نیٹو اوردیگراتحادی روس کی طرف سے ممکنہ سخت ردعمل سے آگاہ ہیں اور ان کی کوشش ہےکہ ایٹمی جنگ نہ ہی چھڑے تو بہتر ہے، اور اگر یوکرین کا معاملہ حل نہیں ہوتا یا مغربی قوتیں یوکرین اور روس کے درمیان معاملات کو حل کرنے میں رکاوٹ بنتی ہیں تو اس صورت میں روس ایٹمی حملہ کرنے سے بالکل بھی نہیں ہچکچائے گا اور پھردنیا تیسری ایٹمی عالمی جنگ میں داخل ہوجائے گی

  • یوکرین نے روس کیخلاف عالمی عدالت انصاف میں درخواست جمع کرا دی

    یوکرین نے روس کیخلاف عالمی عدالت انصاف میں درخواست جمع کرا دی

    کیف: یوکرین نے روسی جارحیت کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں درخواست جمع کرا دی ہے۔

    باغی ٹی وی:عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق روس کے خلاف درخواست جمع کرانے کے بعد یوکرین کے صدر زیلینسکی نے امید ظاہر کی ہے کہ عدالت روس کو فوری طور پر حملے روکنے کا حکم دے گی۔

    یوکرین کے صدر زیلینسکی نے اس حوالے سے توقع ظاہر کی ہے کہ آئندہ ہفتے روس کا ٹرائل شروع ہو گاروس اپنی جارحیت اور نسل کشی کا جواب بھی دے۔

    ہمارے جانباز4 ہزار سے زائد روسی فوجی ہلاک جبکہ سیکڑوں‌ گرفتارکرچکےہیں:یوکرینی جنرل کا دعویٰ

    خبر رساں ایجنسی کے مطابق یوکرین کے صدر نے الزام عائد کیا ہے کہ گزشتہ شب روس نے بدترین و وحشیانہ بمباری کی اور قابض افواج نے شہری علاقوں سمیت ایمبولینسز تک کو نشانہ بنایا ہے قابض افواج ہر چیز کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

    صدر زیلینسکی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بیلا روس سے یوکرین پر حملہ نہ کیا ہوتا تو منسک میں با ت چیت ممکن تھی انہوں نے واضح کیا کہ اس جگہ پر روس سے بات چیت ممکن ہے جہاں سے یوکرین کے خلاف جارحیت نہ کی گئی ہو۔

    وضح رہے کہ روسی فوج یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خارکیف میں داخل ہو گئی ہے خارکیف کی علاقائی انتظامیہ کے چیئرمین نے کہا کہ روسی فوج ملک کے دوسرے بڑے شہر خارکیف میں داخل ہو گئی ہے اور لڑائی جا رہی ہے۔

    یوکرینی صدرکو زندہ یا مردہ پکڑنے کےلیے جانے والا چیچن کمانڈرساتھیوں سمیت ماراگیا:ماسکوغم میں ڈوب گیا

    روسی وزیر دفاع کے ترجمان نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران خیرسن اور برڈیانسک کو روسی فوج نے مکمل بلاک کر دیا ہے۔

    دوسری جانب یوکرین کی وزارت دفاع نے 4 روز سے جاری جنگ کے دوران 4 ہزار سے زائد روسی فوجی ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔یوکرین کی نائب وزارت دفاع ہنا مالیار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر 4 روز سے جاری جنگ کے بارے میں تفصیلات شیر کی ہیں۔

    انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین نے جاری جنگ کے دوران 4 ہزار 300 روسی فوجی ہلاک اور27 طیاروں کو مار گرایا ہے یوکرین نے روس کے 26 ہیلی کوپٹر، 146 ٹینک، 706 بکتر بند گاڑیاں اور 49 توپیں تباہ کی ہیں۔علاوہ ازیں ایک بک ایئر ڈیفنس سسٹم، مختلف اقسام کے چارراکٹ لانچنگ سسٹم، 30 گاڑیاں، 60 ٹینکرز، دو ڈرون اور دو کشیاں تباہ کی ہیں-

    روسی فوج یوکرین کے دوسرے بڑے شہرخارکیف میں داخل ہو گئی