Baaghi TV

Tag: روس

  • روس یوکرین میں فالس فلیگ آپریشن کی تیاری کررہا ہے، امریکا

    روس یوکرین میں فالس فلیگ آپریشن کی تیاری کررہا ہے، امریکا

    واشنگٹن:روس یوکرین میں فالس فلیگ آپریشن کی تیاری کررہا ہے، وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جین ساکی کا پریس بریفنگ میں کہنا تھا کہ روس ایسا ماحول بنا رہا ہے کہ کسی بھی وجہ کوبنیاد بنا کریوکرین میں حارجیت کرسکے۔یہ وہی حکمت عملی ہے جوروس نے 2014 میں کریمیا میں اختیار کی تھی۔

    امریکی حکام کے مطابق روس مشرقی یوکرین میں فالس فلیگ آپریشن کے لئے پہلے ہی اپنے گروپ تعینات کرچکا ہے۔ان گروپس کو شہری علاقوں میں کارروائیوں کی خصوصی تربیت دی گئی ہے اور یہ دھماکہ خیز مواد سے روس کی اپنی پروکسی فورسز کونشانہ بنائیں گے تاکہ بدامنی اورافراتفری پھیل سکے۔

    ادھر آج امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ اب ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ روس یوکرین پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جس میں یہ شواہد بھی شامل ہیں کہ ماسکو اسے جواز فراہم کرنے کے لیے جھوٹے فلیگ آپریشن کر رہا ہے، جب کہ یوکرین کی افواج اور ماسکو کے حامی باغیوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

    یہ بھی قیاس کیا جارہاہے کہ روس کی طرف سے سینیئر امریکی سفارتکار کو ماسکوسے نکل جانے کا مطلب یہ واضح اشارے ہیں کہ روس اس وقت کچھ کرنے کی طرف جارہا ہے

    یوکرین اور روس نواز علیحدگی پسندوں کے درمیان صبح سویرے فائرنگ کے تبادلے نے خطرے کی گھنٹی بجا دی، مغربی حکام جنہوں نے طویل عرصے سے متنبہ کیا ہے کہ ماسکو حملے کا بہانہ بنانے کی کوشش کر سکتا ہے اور ان کا خیال ہے کہ اب ایسا منظر نامہ سامنے آ رہا ہے۔

    بائیڈن نے وائٹ ہاؤس سے روانہ ہوتے ہوئے نامہ نگاروں کو بتایا کہ "ہمارے پاس یہ ماننے کی وجہ ہے کہ وہ اندر جانے کا بہانہ بنانے کے لیے جھوٹے فلیگ آپریشن میں مصروف ہیں۔ ہمارے پاس ہر اشارہ یہ ہے کہ وہ یوکرین میں جا کر یوکرین پر حملہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔”

    بائیڈن نے سکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن کو حکم دیا کہ وہ یوکرین پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں بات کرنے کے لیے آخری لمحات میں اپنا سفری منصوبہ تبدیل کریں۔

    اقوام متحدہ میں امریکی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ "زمینی ثبوت یہ ہے کہ روس ایک آسنن حملے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ ایک اہم لمحہ ہے۔”

    روس نے اپنے پڑوسی پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اس ہفتے وہ سرحد کے قریب موجود 100,000 سے زیادہ فوجیوں میں سے کچھ کو واپس بلا رہا ہے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ روس انخلاء نہیں کر رہا بلکہ درحقیقت مزید افواج بھیج رہا ہے۔

    برسلز میں نیٹو کے ہیڈ کوارٹر میں وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے کہا کہ "ہم انہیں زیادہ جنگی اور معاون طیاروں میں پرواز کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ ہم انہیں بحیرہ اسود میں اپنی تیاری کو تیز کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔” یہاں تک کہ ہم انہیں اپنے خون کا ذخیرہ کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔

    ایک ریٹائرڈ آرمی جنرل، آسٹن نے کہا، "میں خود ایک سپاہی تھا اتنا عرصہ پہلے نہیں۔ میں خود جانتا ہوں کہ آپ اس قسم کی باتیں بلا وجہ نہیں کرتے۔ "اور اگر آپ پیک کرنے اور گھر جانے کے لیے تیار ہو رہے ہیں تو آپ یقینی طور پر ایسا نہیں کریں گے۔”

    یوکرین اور روس نواز باغیوں نے ڈان باس کے علیحدگی پسند علاقے میں محاذ پر گولہ باری کے متضاد بیانات دیے۔ تفصیلات آزادانہ طور پر قائم نہیں کی جا سکتی ہیں، لیکن دونوں اطراف کی رپورٹوں نے علاقے میں باقاعدگی سے اطلاع دی جانے والی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں سے کہیں زیادہ سنگین واقعہ تجویز کیا ہے۔

    کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ ماسکو کو کشیدگی میں اضافے کی اطلاعات پر "سنگین تشویش” ہے۔ روس طویل عرصے سے کیف پر باغیوں کے علاقے پر طاقت کے ذریعے قبضہ کرنے کے بہانے کشیدگی کو ہوا دینے کی منصوبہ بندی کا الزام لگاتا رہا ہے، جس کی یوکرین تردید کرتا ہے۔

    برطانیہ کی خارجہ سکریٹری لز ٹرس نے فرنٹ لائن پر بدامنی کو "روسی حکومت کی طرف سے حملے کے بہانے گھڑنے کی ایک کھلی کوشش” قرار دیا۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ روس نواز فورسز نے ایک کنڈرگارٹن پر گولہ باری کی، جسے انہوں نے "بڑی اشتعال انگیزی” قرار دیا۔ یوکرین کی پولیس کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو فوٹیج میں ایک کمرے میں اینٹوں کی دیوار سے سوراخ کرتے ہوئے ملبے اور بچوں کے کھلونوں سے بکھرے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

    علیحدگی پسندوں نے اپنی طرف سے الزام لگایا کہ حکومتی فورسز نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں چار بار ان کی سرزمین پر فائرنگ کی۔

    روس نے امریکی سفیر کو ایک خط بھیجا جس میں واشنگٹن پر الزام لگایا گیا کہ اس نے اس کے سیکورٹی مطالبات کو نظر انداز کیا ہے، جس میں یہ وعدہ بھی شامل ہے کہ وہ کبھی بھی یوکرین کو نیٹو میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔

    امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ روس نے ماسکو میں امریکی سفارت خانے سے ڈپٹی چیف آف مشن بارٹ گورمین کو نکالنے کے اپنے فیصلے کی کوئی وضاحت نہیں کی۔

    روس کی وزارت دفاع نے ویڈیو جاری کی جس میں کہا گیا ہے کہ مزید روسی یونٹس سرحد کے قریب علاقے سے نکل رہے ہیں۔

    لیکن میکسار ٹیکنالوجیز، ایک نجی امریکی کمپنی جو تعمیرات کا سراغ لگا رہی ہے، نے کہا کہ سیٹلائٹ کی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ، جب کہ روس نے یوکرین کے قریب سے کچھ فوجی سازوسامان واپس لے لیا ہے، دوسرے ہارڈ ویئر پہنچ گئے ہیں۔

  • روسی طیارے امریکی جنگی طیاروں کےقریب کیوں آئے؟:روس کونتائج سے آگاہ رہنا چاہیے:پینٹاگون

    روسی طیارے امریکی جنگی طیاروں کےقریب کیوں آئے؟:روس کونتائج سے آگاہ رہنا چاہیے:پینٹاگون

    واشنگٹن:بحیرہ روم میں روسی طیارے امریکی جنگی طیاروں کےقریب آئے:روس کونتائج سے آگاہ رہنا چاہیے:،اطلاعات کے مطابق امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کا کہنا ہے کہ بحیرہ روم میں روسی طیارے امریکی جنگی طیاروں کے قریب آئے۔

    پینٹاگون کے ترجمان مائیک کافکا کے مطابق 3 روسی طیارے بحیرہ روم میں امریکی بحریہ کے2 طیاروں کے قریب آئے۔امریکی طیارے بحیرہ روم میں عالمی فضائی حدود میں موجود تھے۔

    ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ واقعہ میں کوئی نقصان نہیں ہوا تاہم موجودہ صورتحال میں روسی طیاروں کے امریکی جنگی طیاروں کے قریب آنے کا نتیجہ خطرناک ہوسکتا تھا۔

    یوکرین کے معاملے پرامریکا اورروس کے تعلقات کشیدہ ہیں اورصورتحال تناؤ کا شکار ہے۔ روس نے یوکرین پرفوجی تعینات کررکھے ہیں جبکہ امریکی اورنیٹوفورسزبھی خطے میں موجود ہیں۔

    امریکا نے کہا ہے کہ روس کا یوکرین کی سرحد پرفوجیوں کی تعداد میں کمی کا دعویٰ جھوٹا ہے۔امریکا کا کہنا ہے کہ روس نے حالیہ دنوں میں یوکرین کی سرحد پر7000اضافی فوجی تعینات کئے ہیں۔ روس کا فوجی واپس بلانے کا دعویٰ جھوٹ ہے۔

    وائٹ ہاؤس کے عہدیدار نے نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پرغیرملکی خبرایجنسی کوبتایا کہ روس کوئی بھی جھوٹا بہانہ بنا کرکسی بھی وقت یوکرین پرحملہ کرسکتا ہے۔

    امریکی عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ روس نے فوجی واپس بلانے کا اعلان کرکے پوری دنیا کی توجہ حاصل کی ہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ روس کا یہ دعویٰ جھوٹ پرمبنی ہے۔

    یوکرین کے صدر ولودومیر زیلینسکی کا بھی بیان میں کہنا ہے کہ انہوں نے روسی فوجیوں کی واپسی کی صرف خبریں سنی ہیں لیکن روسی فوجیوں کو واپس جاتے نہیں دیکھا ہے۔روس نے یوکرین سے کچھ فوجیوں کو واپس بلانے کا اعلان کیا تھا۔

  • روس بچ کےنہ جائے”نیٹو اتحاد کا اہم اعلان:روس بھی پریشان

    روس بچ کےنہ جائے”نیٹو اتحاد کا اہم اعلان:روس بھی پریشان

    ماسکو: روس بچ کے نہ جائے” نیٹو اتحاد کا اہم اعلان:روس بھی پریشان ،اطلاعات کے مطابق یوکرین سے منسلک سرحد پر تعینات روسی فوجی دستے چھاونیوں میں واپس لوٹنے لگے تھے کہ نیٹو کےطرز عمل نے پھر خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ نیٹو کے اس اعلان نے روس کو بہت پریشان کردیا ہے ، یہ بھی سُننے کو آرہا ہے کہ روس امریکہ اور نیٹو اتحاد سے محاذ آرائی کی سکت نہیں رکھتا

    غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق نیٹو اتحاد نے یوکرین سرحد کے قریب سلواکیہ میں فوجی مشقوں کا اعلان کیا ہے، فوجی مشقیں سلواکیہ کی یوکرین کے ساتھ مشرقی سرحد کے قریب ہوں گی، یہ مشقیں مارچ کے پہلے ہفتے میں کی جائیں گی۔

    رپورٹ کے مطابق اتحاد میں شامل امریکا، جرمنی، پولینڈ سمیت سات ممالک سلواکیہ میں فوجی مشقیں کریں گے، ان مشقوں میں شرکت کے لئے امریکا کےدو ہزار فوجیوں کا دستہ اور سینکڑوں گاڑیاں جرمنی سے جمہوریہ چیک میں داخل ہوگئی ہیں۔

    ادھر سلواکیہ کے وزارتِ دفاع سلواکیہ کی جانب سے جاری بیان میں واضح کیا کہ فوجی مشقوں کا روس یوکرین تنازعہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    واضح رہے کہ گذشتہ روز یوکرین تنازعے میں نیا موڑ اس وقت آیا جب روسی وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ فوجی مشقیں اختتام پذیر ہونے کے بعد یوکرینی سرحد کے نزدیک تعینات روسی فوجیوں کو واپس چھاونیوں میں بھیج دیا گیا ہے۔

    دوسری جانب یوکرین نے خبردار کیا کہ جب تک انہیں فوجیوں کی واپسی کا ثبوت نہیں مل جاتا وہ اس پر کوئی رد عمل نہیں دیں گے۔گذشتہ روز اپنے بیان میں روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا تھا کہ صاف ظاہر ہے کہ روس یورپ میں جنگ نہیں چاہتا، لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ روس کے سکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھا جائے۔

  • روس کی طرف سے یوکرین پر حملے کا اب بھی امکان ہے:جوبائیڈن نے پھردھمکی دے دی

    روس کی طرف سے یوکرین پر حملے کا اب بھی امکان ہے:جوبائیڈن نے پھردھمکی دے دی

    واشنگٹن :روس کی طرف سے یوکرین پر حملے کا اب بھی امکان ہے:جوبائیڈن نے پھردھمکی دے دی ،اطلاعات کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے منگل کے روز کہا ہے کہ امریکہ کے خیال میں روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کا اب بھی امکان ہے ؛ اور انھوں نے روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے اپیل کی کہ وہ مذاکرات جاری رکھیں یا پھر شدید نتائج بھگتنےکے لیے تیار رہیں۔

    بائیڈن نے کہا کہ اگر روس یوکرین کے خلاف جارحیت سے کام لیتا ہے تو یہ اس کی مرضی پر منحصرہے، جب کہ ایسی لڑائی کا کوئی جواز یا مقصد موجود نہیں ہوگا”۔

    امریکی صدر نے کہا کہ میں یہ کہتا ہوں کہ یہ باتیں اشتعال دلانے کے لیے نہیں، بلکہ سچ کا ساتھ دینے کے لیے کہی جاتی ہیں، چونکہ بہتر عمل کی بنیاد سچ ہی پر ہوتی ہے۔ احتساب ضروری ہوتا ہے۔ اگر روس دنوں یا ہفتوں کے اندر یوکرین کو فتح کربھی لے تو انسانی جانوں کا شدید نقصان ہوگا، جب کہ حکمت عملی کی نوعیت کی اس غلطی کی روس کو شدید قیمت چکانی پڑے گی”۔

    صدر بائیڈن نے کہا کہ اگر روس یوکرین کے خلاف جارحیت سے کام لیتا ہے تو بین الاقوامی طور پر اس کی سخت مذمت سامنے آئے گی۔ دنیا یہ نہیں بھولے گی کہ روس نے بلا ضرورت ہلاکتوں اور تباہی سے کام لیا۔ یوکرین کو فتح کرنا خود اس کے لیے بدنما داغ ہوگا۔ امریکہ اور اس کے اتحادی اور شراکت دار اس کا فیصلہ کُن جواب دیں گے”۔

    اس سے قبل، روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے منگل کے روز کہا ہے کہ وہ امریکہ اوراس کے نیٹو اتحادیوں کی جانب سے یورپ میں میزائلوں کی تنصیب اور عسکری مشقوں کے معاملے پر مذاکرات کے لیے تیار ہے، اس سے قبل روس نے اعلان کیا تھا کہ وہ یوکرین کی سرحد پر تعینات اپنے کچھ فوجیوں کو واپس بلا رہا ہے۔

    پوٹن نے یہ بات کریملن میں جرمن چانسلر اولاف شلز سے ملاقات کے بعد کہی۔ انھوں نے کہا کہ وہ اس بات کے خواہاں ہیں کہ مغرب سے بات کی جائے باوجودیکہ وہ روس کے اہم مطالبات مسترد کرتے رہے ہیں۔ روس نے مطالبہ کر رکھا ہے کہ یوکرین اور دیگر سابق سویت ریاستوں کو نیٹو کا رکن نہ بنایا جائے اور روس کے قریب مشرقی یورپ میں تعینات مغربی ملکوں کی فوجوں کو واپس بلایا جائے۔

    روسی سربراہ نے کہا کہ ماسکو کی کوشش ہو گی کہ وہ نیٹو کے ساتھ اعتماد سازی کے اقدامات کرے، جب کہ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ مغرب کو چاہیے کہ ان کےمطالبات کی جانب توجہ مبذول کرے۔

    ا قوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، اینتونیو گتیرس نے پیر کے دن یہ کہتے ہوئے کہ’سفارت کاری کا کوئی نعم البدل نہیں ہے”،روس، یوکرین اور مغربی ملکوں پر زور دیا کہ کشیدگی میں کمی لائی جائے۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ہم اس قسم کی تباہ کن محاذ آرائی کے امکان کے کسی صورت میں متحمل نہیں ہو سکتے۔ عالمی ادارے کے سربراہ نے یہ عزم ظاہر کیا کہ وہ فریقوں سے رابطے میں رہیں گے، اس کے ساتھ ہی انہوں نے حل تلاش کرنے کے حوالے سے اپنے دفتر کی خدمات کی پیش کش بھی کی۔

    منگل کے روز امریکی وزیر خارجہ نےاپنے روسی ہم منصب سرگئی لاروف سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ ایک بیان میں محکمہ خارجہ کے ترجمان، ٹیڈ پرائس نے بتایا ہے کہ بلنکن نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکہ یوکرین کے معاملے کےسفارت کاری کے ذریعے حل تلاش کرنے پر زور دیتا رہے گا، جس بحران کا باعث خود روس بنا ہے۔

    امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ اس بات کا منتظر ہے کہ روس ان دستاویزات کا تحریری جواب دے جو گزشتہ ماہ امریکہ اور نیٹو کی جانب سے روس کے حوالے کی گئی تھیں، جن میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ امریکہ کے اتحادی اور شراکت داروں سے رابطہ کرکے یورپی سیکیورٹی کے معاملے پر بات چیت کی جائے، جس کے لیے ٹھوس بنیادیں تجویز کی گئی تھیں۔

  • امریکی اتحاد جیت گیا :روس کی ہوش ٹھکانے آگئی:فوجیوں کی یوکرین کی سرحد سے واپسی شروع

    امریکی اتحاد جیت گیا :روس کی ہوش ٹھکانے آگئی:فوجیوں کی یوکرین کی سرحد سے واپسی شروع

    ماسکو: روس کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ یوکرین کی سرحد کے قریب فوجی مشقیں مکمل کرنے کے بعد بعض روسی فوجی واپس آ رہے ہیں جب کہ امریکی محکمہ خارجہ نے جنگ کے خدشے کے پیش نظر اعلان کیا ہے کہ وہ اپنا سفارت خانہ کیف سے منتقل کر رہے ہیں۔

    خیال کیا جا رہا ہے کہ روس کی جانب ایسے اقدام سے موجودہ کشیدگی میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔روسی وزارت دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مغربی اور جنوبی ملٹری اضلاع کے بعض فوجی دستوں نے مشقیں مکمل کرنے کے بعد فوجی اڈوں کی جانب واپسی شروع کر دی ہے۔ذرائع کے مطابق برطانیہ کی سیکریٹری خارجہ لز ٹروس نے منگل کی صبح کہا ہے کہ روس کے یوکرین پر حملے کے ’قوی امکان‘ ہیں اور یہ بہت جلد ہو سکتا ہے۔ ساتھ میں انہو ں نے خبردار کیا کہ یورپ ممکنہ طور پر ’جنگ کے دہانے‘ پر ہے۔

    انہوں نے روسی صدر ولادی میر پوتن سے ’پیچھے ہٹنے‘ کا کہا اور ساتھ میں یہ بھی کہا کہ روس، یوکرین اور یورپ کی سکیورٹی کے لیے جنگ کے ’شدید نتائج‘ ہو سکتے ہیں۔دوسری جانب مشرقی یوکرین کے رہائشی یوری فیڈینسکئی روس کے ممکنہ حملے کے پیش نظر اپنے دو بچوں اور حاملہ بیوی کے ہمراہ بذریعہ ہوائی جہاز ملک سے باہر جا رہے ہیں، جن کا کہنا ہے کہ وہ روسی صدر ولادی میر پوتن کو ’اپنے خاندان کی قسمت کا فیصلہ‘ کرنے کا اختیار نہیں دیں گے۔

    ہوائی اڈے پر موجود یوری نے کہا: ’کسی بھی لمحے حملہ ہو سکتا ہے۔ کیا حملہ ہوگا؟ یہ تو پوتن ہی کو معلوم ہے، لیکن ہم پوتن کو اپنے خاندان کی قسمت کا فیصلہ نہیں کرنے دیں گے۔ ہم اپنی قسمت کا فیصلہ خود کریں گے۔‘یوری نے مزید بتایا: ’میں اپنے خاندان کو جہاز تک لے کر جا رہا ہوں۔ میرے پانچ اور چار سالہ بچے سمیت ایک بچہ جس کے آنے کی امید ہے اور میری بیوی ہوائی جہاز کی طرف جا رہے ہیں۔ ہم مشرقی یوکرین میں رہتے ہیں۔‘

    یوکرین سے نکلنے کا بنیادی مقصد بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا: ’ہم جا رہے ہیں تاکہ بچوں کو امریکی سکولوں میں انگریزی سکھا سکیں، تاکہ پوتن جو یوکرین میں کرنا چاہتے ہیں، اس کے مخالف دیکھ سکیں۔‘ دوسری جانب یوکرین نے روس اور درجنوں مزید یورپی ممالک کے ساتھ ہنگامی میٹنگ بلائی ہے، جس میں یوکرینی بارڈر پر روسی افواج کے جمع ہونے کا معاملہ اٹھایا جائے گا۔

    یوکرینی وزیر خارجہ دیمیترو کولیبا کے مطابق روس نے یوکرین کی باضابطہ درخواست کو نظر انداز کر دیا ہے، جس میں اس سے یوکرینی سرحد پر ایک لاکھ فوجی اور جدید ہتھیار جمع کرنے کے حوالے سے وضاحت طلب کی گئی تھی۔ 1990 کے ایک معاہدے کی رو سے تنظیم برائے سکیورٹی اینڈ کوآپریشن اِن یورپ (او ایس سی ای) کے 57 رکن ممالک ایک دوسرے کو اپنی بڑی فوجی نقل و حرکت سے متعلق آگاہی دینے کے پابند ہیں۔ ممکنہ روسی حملے کے تناظر میں یوکرین کے شہری اور غیر ملکی افراد دباؤ کا شکار ہیں۔

  • بھارت کا اپنے شہریوں کو یوکرین چھوڑنے کا مشورہ

    بھارت کا اپنے شہریوں کو یوکرین چھوڑنے کا مشورہ

    بھارت کا اپنے شہریوں کو یوکرین چھوڑنے کا مشورہ
    منگل کے روز سفارت خانہ نے اس سے متعلق ایڈوائزری جاری کردی ہے ایڈوائزری میں بھارتی شہریوں اور خاص طور پر طلبا کو غیر مستقل طور پر یوکرین چھوڑنے کے لئے کہا گیا ہے۔ ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ یوکرین میں موجودہ صورتحال کی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر، یوکرین میں مقیم ہندوستانی شہری خاص طور پر ایسے طلباء جن کا رکنا ضروری نہیں ہے، وہ عارضی طور پر وہاں سے نکلنے پر غور کرسکتے ہیں۔ بھارتی شہریوں کو یوکرین اور یوکرین کے اندر غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ بھی دیا جاتا ہے شہریوں سے گزارش کی جاتی ہے کہ وہ یوکرین میں اپنی موجودگی کے بارے میں سفارت خانہ کو آگاہ کریں ، تاکہ ضرورت پڑنے پر ان تک پہنچا جاسکے

    قبل ازیں ترجمان روسی وزارت دفاع نے کہا کہ روس نے کچھ فوجیوں کو یوکرین کے قریبی علاقوں میں اڈوں پر واپس بھیج دیا،

    ترجمان روسی وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ کچھ روسی فوجی مشقیں مکمل کرنے کے بعد اڈوں پر واپس جا رہے ہیں ،رپورٹ کے مطابق اقدام ماسکو اور مغرب کے درمیان کشیدگی کو کم کر سکتا ہے، روس نے یوکرینی سرحد کے قریب ایک لاکھ سے زیادہ فوجیوں کو اکٹھا کررکھا ہے،

    روس کی جانب سے یوکرین پر 16 فروری کو حملے کے خدشے کے پیشِ نظر یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بدھ کو یومِ اتحاد منانے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب ماسکو نے کہا ہے کہ وہ بحران کی اس صورتِ حال میں مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

    خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق یوکرین کے صدر نے قوم سے اپیل کی ہے کہ وہ بدھ کو قومی پرچم تھامے قومی ترانہ پڑھ کر اتحاد کا مظاہرہ کریں۔ ولادیمیر زیلنسکی نے یہ اعلان ایسے موقع پر کیا ہے جب مغربی ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ روس 16 فروری کو یوکرین پر چڑھائی کر دے گا۔

    زیلنسکی نے مغربی میڈیا کی خبروں پر کہا کہ وہ ہمیں کہتے ہیں کہ 16 فروری حملے کا دن ہو گا لیکن ہم اس دن کو اتحاد کا دن بنا دیں گے۔انہوں نے کہا کہ وہ ملٹری ایکشن کے لیے تاریخ دے کر ہمیں خوف زدہ کرنا چاہتے ہیں لیکن اس دن ہم اپنے قومی پرچم گھروں پر آویزاں کریں گے، نیلے اور پیلے رنگ کے کپڑے زیب تن کر کے دنیا کے سامنے اپنے اتحاد کا مظاہرہ کریں گے۔وسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ یہ پیش گوئی نہیں کرتے کہ روس کے صدر ولادیمیر پوٹن کسی خاص دن یوکرین پر حملے کا اعلان کریں گے۔ تاہم امریکہ کی جانب سے مسلسل یہ اشارے مل رہے ہیں کہ روس کسی بھی وقت یوکرین پر حملہ آور ہو سکتا ہے

    روسی حملے کے خدشے کے پیش نظر یوکرین میں امریکی سفارت خانہ بند عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے- عالمی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ یوکرین پر روسی حملے کے اندیشے کے پیش نظر یوکرین کے دارالحکومت کیف میں امریکی سفارت خانہ عارضی طور پر بند کر کے اس کا سفارتی عمل ملک کے مغرب میں واقع شہر لفیف منتقل کر دیا گیا ہے۔

    یوکرینی شہریوں نے جنگی مشقوں کا آغاز کر دیا

    امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلینکن نے پیر کے روز ایک بیان میں کہا کہ "میں اور میری ٹیم سیکورٹی کی صورت حال کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔ روسی افواج کے تیزی سے اکٹھا ہونے کے سبب ہم نے کیف میں سفارت خانے کی سرگرمیاں عارضی طور پر لفیف شہر منتقل کر دی ہیں۔

    امریکی وزیر خارجہ نے باور کرایا کہ احتیاطی اقدامات سے یوکرین کے لیے ہماری سپورٹ کسی صورت متاثر نہیں ہو گی یوکرین کی خود مختاری اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے ہماری پابندی اٹل ہے اسی طرح ہم ایک سفارتی حل تک پہنچنے کے واسطے اپنی مخلصانہ کوششیں جاری رکھیں گے اور روس کے ساتھ بھی رابطے میں رہیں گ۔

    امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سولیون یوکرین پر روس کے حملے کے حوالے سے کہہ چکے ہیں کہ "اب یہ کسی بھی وقت ہو سکتا ہے”۔ اتوار کے روز امریکی چینل CNN کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا مزید کہنا تھا کہ روس کی جانب سے کسی بھی وقت بڑا فوجی آپریشن شروع ہو سکتا ہے۔

    جنگ کا خدشہ،یوکرین کا آئندہ 48 گھنٹوں میں روس سے ملاقات کا مطالبہ

    امریکا کا کہنا ہے کہ سفارت کاری کے لیے دروزاہ ابھی تک کھلا ہوا ہے۔

    دوسری جانب ماسکو نے عسکری کارروائی کے منصوبے کی تردید کرتے ہوئے امریکی بیانات کو "ہذیانی” قرار دیا ہے۔ البتہ اس کی جانب سے کوئی ایسا اقدام ظاہر نہیں ہوا جس سے بحرانی کیفیت میں کمی آئے۔

    روسی وزارت خارجہ نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ "یوکرین پر حملے کا وقت قریب آنے کے حوالے سے مغربی ممالک کے بیانات محض گمراہ کن معلومات ہیں جس کا مقصد ان ممالک کی معاند کارروائیوں کی طرف سے توجہ ہٹانا ہے”۔

    روسی صدر ولادیمیر پوتن ایک سے زیادہ بار یہ اعلان کر چکے ہیں کہ ماسکو کا یوکرین پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں ہے رواں ماہ 7 فروری کو فرانسیسی ہم منصب عمانوئل ماکروں سے ملاقات کے دوران میں پوتین نے باور کرایا تھا کہ "ان کا ملک جارحیت کے درپے نہیں ہے”۔

    یوکرائن پر حملہ کرنے پر روس کوایسی سزا دیں گے کہ نسلیں یاد رکھیں گی:امریکا

    واضح رہے کہ یوکرین نے آئندہ 48 گھنٹوں میں روس سے ملاقات کا مطالبہ کردیا ہے یوکرین دیگر اہم یورپی ممالک کے سکیورٹی گروپس سے بھی ملاقات کا خواہاں ہے، روس نے سرحد پر فوجیوں کی اضافی تعیناتی سے متعلق وضاحت دینے کو بھی نظر انداز کیا ہے۔

    یاد رہے روس نے یوکرین کے سرحد پر تقریباً ایک لاکھ فوجی تعینات کررکھے ہیں۔ تاہم روس کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک جھوٹی معلومات فراہم کر رہے ہیں امریکہ کی جانب سے بھی خبردار کیا گیا ہے کہ روس کسی بھی وقت یوکرین پر فضائی حملے سے جنگ کا آغاز کر سکتا ہے۔

    امریکہ ،برطانیہ، جرمنی، کینیڈا، نیدرلینڈز، لیٹویا، جاپان اور جنوبی کوریا سمیت کئی ممالک نے یوکرین سے اپنے شہریوں کا انخلا کا حکم دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے کہا گیا کہ روسی حملے کا آغاز فضائی بمباری سے ہو گا جس کے باعث یوکرین چھوڑنے والے افراد کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں اور شہریوں کی زندگی بھی خطرے میں ہو گی۔

    روس نے یوکرین کو 3 سمتوں سے گھیرے میں لے لیا:جنگ کے امکانات بڑھ گئے:امریکی میڈیا

  • جنگ کا خدشہ،یوکرین کا آئندہ 48 گھنٹوں میں روس سے ملاقات کا مطالبہ

    جنگ کا خدشہ،یوکرین کا آئندہ 48 گھنٹوں میں روس سے ملاقات کا مطالبہ

    یوکرین نے آئندہ 48 گھنٹوں میں روس سے ملاقات کا مطالبہ کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی :عالمی میڈیا کے مطابق یوکرین دیگر اہم یورپی ممالک کے سکیورٹی گروپس سے بھی ملاقات کا خواہاں ہے، روس نے سرحد پر فوجیوں کی اضافی تعیناتی سے متعلق وضاحت دینے کو بھی نظر انداز کیا ہے۔

    وزیر خارجہ یوکرین دمترو کلیبا کا کہنا ہے کہ روس کے منصوبوں کے متعلق اگلے 48 گھنٹوں میں ایک اجلاس بلانے کی درخواست کی جائے۔

    یوکرینی شہریوں نے جنگی مشقوں کا آغاز کر دیا

    یاد رہے روس نے یوکرین کے سرحد پر تقریباً ایک لاکھ فوجی تعینات کررکھے ہیں۔ تاہم روس کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک جھوٹی معلومات فراہم کر رہے ہیں امریکہ کی جانب سے بھی خبردار کیا گیا ہے کہ روس کسی بھی وقت یوکرین پر فضائی حملے سے جنگ کا آغاز کر سکتا ہے۔

    امریکہ ،برطانیہ، جرمنی، کینیڈا، نیدرلینڈز، لیٹویا، جاپان اور جنوبی کوریا سمیت کئی ممالک نے یوکرین سے اپنے شہریوں کا انخلا کا حکم دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے کہا گیا کہ روسی حملے کا آغاز فضائی بمباری سے ہو گا جس کے باعث یوکرین چھوڑنے والے افراد کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں اور شہریوں کی زندگی بھی خطرے میں ہو گی۔

    یوکرائن پر حملہ کرنے پر روس کوایسی سزا دیں گے کہ نسلیں یاد رکھیں گی:امریکا

    برطانوی مسلح افواج کے وزیر نے خبردار کیا ہے اگر روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو برطانیہ ملک میں موجود اپنے شہریوں کو فضائی راستے سے نہیں نکال سکے گا۔

    ادھر سعودی عرب نے یوکرین میں موجود اپنے تمام شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ دارالحکومت کیف میں اپنے سفارت خانہ سے فوری رابطہ کریں تاکہ ان کی ملک سے روانگی کا بندوبست کیا جاسکے اور ان کے انخلا کے عمل کو آسان بنایاجاسکے۔

    روس نے یوکرین کو 3 سمتوں سے گھیرے میں لے لیا:جنگ کے امکانات بڑھ گئے:امریکی میڈیا

    سعودی سفارت خانہ نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا پرجاری کردہ ایک بیان میں مملکت کے تمام شہریوں سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ تاحکم ثانی یوکرین کا اپناسفرملتوی کردیں۔

    کویت اور متحدہ عرب امارات سمیت خلیج کے متعدد ممالک نے بھی اپنے شہریوں پرزوردیا ہے کہ وہ کیف اور ماسکو کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں یوکرین کے سفرکے کسی ارادے کو ملتوی کردیں۔

    حوثیوں کے حملے کا خدشہ: امریکی لڑاکا طیارے ایف-22 ابوظہبی پہنچ گئے

    یوکرین اور روس کے درمیان گشیدگی گذشتہ برسوں کے مقابلے میں اس وقت انتہائی عروج پر ہے لیکن دوسری جانب بحران کا حل تلاش کرنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی تیزی سے جاری ہیں یوکرین، روس سرحدی کشیدگی کے بیچ نیٹو اور روس میں سفارتی اختلافات بھی بڑھ رہے ہیں۔

    روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف کے مطابق ‘مشرق کی جانب نیٹو کی مزید توسیع اور ہتھیاروں کی تعیناتی روسی فیڈریشن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے اور یہ ناقابل قبول ہے

    روس،یوکرین جنگ کاخدشہ:امریکہ برطانیہ سمیت دیگرممالک کی اپنے شہریوں کو یوکرین…

  • یوکرینی شہریوں نے جنگی مشقوں کا آغاز کر دیا

    یوکرینی شہریوں نے جنگی مشقوں کا آغاز کر دیا

    یوکرینی شہریوں نے جنگی مشقوں کا آغاز کر دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یوکرین پر روس کی جانب سے ممکنہ حملے کے خطرے میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے

    ایک طرف کئی ممالک اپنے شہریوں کا انخلا کر رہے ہیں وہیں دوسری جانب یوکرینی شہریوں نے جنگی مشقوں کا آغاز کر دیا ہے، یوکرین نیشنل گارڈ ایزوف بٹالین کے سابق اہلکار دارالحکومت کیف میں شہریوں کو لڑنے کی تربیت دے رہے ہیں نیشنل گارڈ کی جانب سے شہریوں کو بندوق کے استعمال اسے چلانے گولہ بارود لوڈ کرنے اور اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے تربیت دی گئی جس سے وہ اپنے دفاع کے لیے استعمال کر سکتے ہیں

    ایک 79 سالہ مقامی رہائشی کا کہنا تھا کہ وہ روسی حملے کی صورت میں اپنے خاندان کے دفاع کے لیے تیار رہنا چاہتی ہیں

    دوسری جانب کینیڈا نے اپنے کچھ فوجیوں کو یوکرین سے یورپ منتقل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے کینیڈین وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فوجیوں کی منتقلی عارضی ہوگی فیصلہ فوجیوں کی حفاظت کے لیے کیا گیا ہے وزارت دفاع کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کینیڈین فوجیوں کی منتقلی کا مقصد یوکرین میں مشن بند کرنا نہیں۔

    قبل ازیں برطانوی وزیراعظم بورس جانسن سفارتکاری کے ذریعے یوکرین بحران میں کمی کے لیے متحرک ہوگئے ہیں، ترجمان برطانوی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ بورس جانسن اتحادیوں سے مل کر کشیدگی میں کمی کی کوشش کریں گے، یوکرین پر حملہ خود روس کے لیے بھی تباہ کن ہوگا

    یوکرین کے وزیر خارجہ دیمترو کلیبا کا کہنا ہے کہ روس نے سرحدوں پر فوجی اجتماع کے بارے میں رسمی وضاحت کی درخواست کو مسترد کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگلے مرحلے میں ہم آئندہ 48 گھنٹوں میں روسی منصوبے پر ٹرانسپرینسی کے بارے میں میٹنگ کی درخواست کریں گے روس یوکرین کی سرحد پر تقریبا ایک لاکھ فوج جمع کرنے باجود اس بات سے انکار کر رہا ہے کہ وہ یوکرین پر کسی قسم کی جارحیت کی منصوبہ بندی کر رہا ہے

    امریکا کا کہنا ہے کہ ماسکو کسی بھی وقت فضائی بمباری کے ساتھ یوکرین کے ساتھ جنگ شروع کرسکتا ہے۔ روس اور یوکرین کے درمیان جاری کشیدگی کی وجہ سے درجن سے زائد ممالک اپنے شہریوں کو یوکرین چھوڑنے کی درخواست کرچکے ہیں کچھ ممالک نے دارالحکومت سے اپنے سفارتی حملے کو بھی واپس بلا لیا کریمیا اور ماسکو کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کی وجہ سے گزشتہ دنوں ہونے والی امریکی صدر جو بائیڈن اور روسی ہم منصب ولادیمیر پیوٹن کے درمیان ہونے والے ٹیلی فونک مذاکرات بھی کسی نتیجے کے بنا ختم ہوگئے ہیں

    سیکریٹری اسٹیٹ انٹونی بلنکن نے روس کو متنبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر روس نے روکرین پر کسی قسم کی جارحیت کی تو وہ اس پر مفلوج کردینے والی پابندیاں عائد کریں گے

    روس اور یوکرین کے درمیان کشیدگی میں اضافہ

    ہ برطانیہ سمیت کئی دوسرے ممالک نے بھی اپنے شہریوں کو وہاں سے نکل جانے کی اپیل

    امریکی صدر جوبائیڈن سے جرمن چانسلر اولاف شُولس کی وائٹ ہاوس میں ملاقات

    وس نے یوکرین پر حملے کی 70 فیصد تیاری مکمل کرلی

    بھارت مکاری کا شہنشاہ:مفاد پرمبنی پالیسیاں:چین کے خلاف امریکہ کا اتحادی:یوکرین پرامریکہ کا مخالف

  • روس نے یوکرین کو 3 سمتوں سے گھیرے میں لے لیا:جنگ کے امکانات بڑھ گئے:امریکی میڈیا

    روس نے یوکرین کو 3 سمتوں سے گھیرے میں لے لیا:جنگ کے امکانات بڑھ گئے:امریکی میڈیا

    واشنگٹن :روس اور یوکرین کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور رپورٹس میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ روس نے یوکرین کو 3 سمتوں سے گھیر لیا ہے۔سی این این کے مطابق حالیہ ہفتوں میں یوکرین کی سرحد کے قریب روس ایک لاکھ سے زائد فوجیوں کو اکٹھا کرچکا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روس نے یوکرین کو 3 سمتوں سے گھیر لیا ہے، روس یوکرین سرحد کے علاوہ یوکرین سے الگ ہونے والے علاقے کریمیا میں بھی روس کی افواج موجود ہیں جبکہ روس کا اتحادی ملک بیلاروس بھی روس کا لانچنگ پیڈ ہوسکتا ہے۔

    اُدھر پیسیفک جزائر کے قریب امریکی آبدوز کی جانب سے روسی سمندری حدود کی خلاف ورزی پر روس نے امریکی فوجی اتاشی کو طلب کرلیا ہے۔بگڑتے حالات کے باعث سوئیڈن اور اردن نے بھی اپنے شہریوں کو یوکرین چھوڑنے کی ہدایت کردی جبکہ ہالینڈ کی ائیر لائن نے یوکرین کیلئے اپنی پروازیں روک دی ہیں۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز روس یوکرین کشیدگی کے معاملے پر امریکی صدر جو بائیڈن نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ٹیلیفونک رابطہ کیا تھا۔

    وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر بائیڈن نے پیوٹن سے کہا ہے کہ روس نے یوکرین میں دراندازی کی تو اسے فیصلہ کُن ردعمل کا سامناہوگا، روسی جارحیت سے بڑے پیمانے پر مشکلات ہوں گی، روس کا مؤقف کمزورپڑجائےگا۔

  • یوکرائن پر حملہ کرنے پر روس کوایسی سزا دیں گے کہ نسلیں یاد رکھیں گی:امریکا

    یوکرائن پر حملہ کرنے پر روس کوایسی سزا دیں گے کہ نسلیں یاد رکھیں گی:امریکا

    واشنگٹن: یوکرائن پر حملہ کرنے پر روس کوایسی سزا دیں گے کہ نسلیں یاد رکھیں گی:اطلاعات کے مطابق امریکا نے خبردار کیا ہے کہ اگر روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو ایسی پابندیاں عائد کریں گے جس سے وہ مکمل طور پر اپاہج ہوجائے گا۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یوکرائن کے معاملے پر سخت حریفوں امریکا اور روس کے صدور نے ٹیلی فونک گفتگو کی تاہم دونوں رہنماؤں کے کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پانے کے باعث خطے میں تناؤ اور کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

    جوبائیڈن اور پوٹن ٹیلی فونک گفتگو کی ناکامی کے بعد امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے فجی کے قائم مقام وزیر اعظم ایاز سید خیوم کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں روس کو خبردار کیا کہ اگر روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو امریکا اس پر ’اپاہج‘ کردینے والی پابندیاں عائد کر دے گا۔

    چند روز قبل فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون نے بھی روس اور یوکرائن کا دورہ کیا تھا لیکن یہ دورہ بھی کسی مثبت پیشرفت کے بغیر ہی ختم ہوگیا تھا۔ جرمنی کے چانسلر نے بھی اس حوالے سے وائٹ ہاؤس میں صدر جوبائیڈن سے ملاقات کی تھی۔

    قبل ازیں ممکنہ روسی حملے کے پیش نظر امریکا اور برطانیہ نے یوکرائن سے اپنے سفارتی عملے اور ان کے اہل خانہ کو واپس بلالیا تھا اور اب صرف ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے نہایت مختصر اور ضروری عملہ ہی موجود ہے۔

    ہر گزرتے لمحے کے ساتھ وائٹ ہاؤس کا اصرار بڑھتا جا رہا ہے کہ روس کی یوکرائن پر جارحیت کی صورت میں سخت پابندیاں عائد کردی جائیں گی جن میں ممکنہ طور پر ایل این جی کی فروخت بھی شامل ہے۔

    روس یورپی ممالک کو ایل این جی فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور پابندی کی صورت میں مغربی ممالک میں توانائی کا بحران پیدا ہوجائے گا جس کے لیے امریکا نے قطر سے مدد مانگ لی ہے۔

    ادھر روس نے بھی ممکنہ پابندی کی صورت میں ہونے والے مالی نقصان سے بچنے کے لیے چین کا دورہ کیا اور چینی صدر کے ساتھ اربوں ڈالر کے ایل این کی فروخت کا معاہدہ کیا تھا۔