Baaghi TV

Tag: روس

  • "آجاؤخان جی تہانوں اکھیاں وڑیکدیاں”روسی صدرکی دعوت :وزیراعظم عمران خان کا تاریخی دورہ روس

    "آجاؤخان جی تہانوں اکھیاں وڑیکدیاں”روسی صدرکی دعوت :وزیراعظم عمران خان کا تاریخی دورہ روس

    سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان رواں ماہ روس کا تاریخی دورہ کریں گے، وزیراعظم روس کا دوطرفہ دورہ کرنے والے 23سال میں پہلے وزیراعظم ہونگے، وزیراعظم عمران خان دورہ روس، روسی صدر پیوتن کی دعوت پر کر رہے ہیں۔

    سفارتی ذرائع کے مطابق دورہ میں وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ اعلیٰ سطح وفد بھی انکے ہمراہ جائے گا، دورہ روس فروری کے آخر میں کیا جائے گا، دورہ سے متعلق حتمی شیڈیولنگ کا سلسلہ جاری ہے،
    دفتر خارجہ کے ذرائع نے ڈیلی ٹائمز کو بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان رواں ماہ کے آخری ہفتے میں روس کا تاریخی دورہ کرنے والے ہیں تاکہ مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے پر بات چیت کی جا سکے۔

    ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ وزیراعظم اپنے دورے کے دوران روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے ملاقات کریں گے۔ بات چیت میں معیشت، تجارت، دفاع اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر توجہ دی جائے گی۔

    وزیراعظم دورہ روس میں دوطرفہ تعلقات، نارتھ ساؤتھ گیس پائپ لائن جسے اسٹریٹجک اسٹریم گیس پائپ لائن منصوبہ بھی کہا جاتا ہے ، جو پہلے نارتھ ساؤتھ پائپ لائن کے نام سے جانا جاتا تھا، بھی بات چیت کے ایجنڈے میں شامل ہوگا اور توقع ہے کہ ماسکو میں دونوں فریقین کے درمیان وفود کی سطح کے دوران اس منصوبے پر عمل درآمد کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے گا۔ 2.5 بلین ڈالر کا پائپ لائن منصوبہ کراچی اور گوادر کے مائع قدرتی گیس (LNG) ٹرمینلز سے بڑے شمال وسطی شہر لاہور تک ہر سال 12.3 بلین کیوبک میٹر (bcm) قدرتی گیس کی ترسیل کو محفوظ بنائے گا۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ منصوبہ ماسکو اور اسلام آباد کے درمیان 1970 کی دہائی کے وسط سے شروع کیا جانے والا پہلا اتنے بڑے پیمانے پر اقتصادی اقدام ہوگا۔

    اگرچہ پاکستان اور روس کے درمیان مختلف سطحوں پر تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے لیکن 2003 میں سابق صدر پرویز مشرف کے دورہ ماسکو کے بعد سے یہ وزیراعظم عمران خان کا پہلا دورہ ہوگا۔اس پس منظر میں اس دورے کو بہت اہمیت دی جا رہی ہے جس سے دو طرفہ تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کی نئی شروعات متوقع ہے۔

    حالیہ ٹیلی فونک گفتگو میں وزیراعظم عمران خان اور روسی صدر ولادی میر پیوٹن دونوں نے بھی اپنے تعاون کو مزید تقویت دینے پر اتفاق کیا۔

    دفتر خارجہ کے ذرائع نے یقین ظاہر کیا کہ روسی صدر کا رواں سال کے آخر تک دورہ پاکستان کا بھی امکان ہے جو دوطرفہ تعلقات میں ایک تاریخی لمحہ ہوگا اور اسے مزید بلندی کی جانب لے جانے میں مدد ملے گی۔

    خیال رہے کہ آخری بار کسی پاکستانی وزیراعظم نے دو طرفہ دورہ روس سنہ 1999 میں کیا تھا،سابق صدر آصف علی زرداری نے بطور صدر آخری مرتبہ روس کا دوطرفہ دورہ کیا تھا جو سنہ 2011 میں ہوا۔

  • روس نے یوکرین پر حملے کی 70 فیصد تیاری مکمل کرلی، امریکی حکام

    روس نے یوکرین پر حملے کی 70 فیصد تیاری مکمل کرلی، امریکی حکام

    ماسکو:روس نے یوکرین پر حملے کی 70 فیصد تیاری مکمل کرلی،اطلاعات کے مطابق امریکا نے کہا ہے کہ روس یوکرین پر آئندہ چند ہفتوں میں حملہ کرسکتا ہے جس کے لیے اس نے 70 فیصد تک تیاری مکمل کرلی ہے۔

    امریکی میڈیا کے مطابق نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی حکام نے انہیں بتایا کہ یوکرین تنازع پر روس حملہ کرنے کے لیے تیار ہے، وہ جنگی تیاریوں کے لیے فروری کے وسط تک مزید بھاری ہتھیار اور سامان یوکرین کی سرحد تک منتقل کرسکتا ہے۔

    اس حوالے سے دو امریکی حکام نے عالمی خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ 15 فروری سے مارچ کے اختتام تک کا موسم روس کو بھاری جنگی سازو سامان سرحدوں تک منتقلی کے لیے پیک ٹائم ہوگا۔
    امریکی حکام نے اپنے الزامات کے حوالے سے کوئی شواہد پیش نہیں کیے اور کہا کہ یہ معلومات خفیہ اطلاعات کے سبب حاصل ہوئی ہیں، معاملہ حساس ہونے کے سبب وہ امریکی میڈیا کو اس ضمن میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کرسکتے۔

    واضح رہے کہ روس نے یوکرین کی سرحد کے نزدیک ایک لاکھ فوجی اہلکار تعینات کررکھے ہیں تاہم روس نے یوکرین پر حملے کے خدشے کو مسترد کردیا ہے۔

    ادھر امریکا نے بھی اس جنگ میں کودنے کا فیصلہ کرلیا ہے،یوکرائن تنازع کے چلتے امریکی فوجی کمک کا پہلا دستہ پولینڈ پہنچ گیا ہے۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ مزید دستے بھی جلد بھیجے جائیں گے۔

    اطلاعات کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے اسی ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ مغربی اتحادی ممالک کی مدد کے لیے مشرقی یورپ میں مزید امریکی فوجی روانہ کریں گے۔

    وا ضح رہے، امریکی صدر جو بائیڈن نے اسی ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ مشرقی یورپ کے لیے فوجی روانہ کریں گے۔ مغربی ممالک کو یقین ہے کہ روس یوکرائن پر ایک نیا حملہ کرنے والا ہے۔

    دریں اثناء پولش آرمی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکی فوجیوں پر مشتمل پہلا دستہ ہفتے کے دن وارسا پہنچ گیا ہے۔

    یہ امریکی فوجی مشرقی یورپ میں پہلے سے ہی تعینات مغربی عسکری دفاعی اتحاد نیٹو کے فوجیوں میں شامل ہو جائیں گے ۔ جب کہ مزید سترہ سو امریکی فوجی جلد ہی پولینڈ روانہ رہے ہیں۔

    مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ان فوجیوں کی رہائش کا انتظام جاسیوانکا میں کیا گیا ہے، جہاں عارضی شیلٹر ہاؤسز بنائے گئے ہیں۔ علاقے کو رکاوٹیں لگا کر عام شہریوں کی آمدورفت کے لیے بھی بند کر دیا گیا ہے۔

    یاد رہے، پولینڈ میں پہلے سے تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد تقریبا ساڑھے چار ہزار بنتی ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن کے مطابق مشرقی یورپ میں نیٹو اتحادی ممالک کی عسکری مدد کے لیے مزید تین ہزار فوجیوں پر مشتمل ایک دستہ روانہ کیا جائے گے۔

    امریکی اور اس کے مغربی اتحادی ممالک کا دعویٰ ہے کہ روس نے یوکرائن کی سرحد پر ایک لاکھ کے لگ بھگ فوجی تعینات کر رکھے ہیں او وہ یوکرائن میں فوجی کارروائی کا منصوبہ رکھتا ہے۔

    تاہم ماسکو حکومت مسلسل ان الزامات کو مسترد کر رہی ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتا لیکن اپنے مفادات پر سمجھوتا بھی نہیں کرے گا۔ روسی صدر نے اسی ہفتے کہا کہ مغربی ممالک کے اقدامات ان کو جنگ پر مجبور کررہے ہیں۔

    یوکرائنی صدر وولودومیر زیلنسکی نے حال ہی میں یہ الزام عائد کیا تھا کہ مغربی ممالک روسی حملے کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں، جو غلط ہے۔ اسی طرح ترک صدر رجب طیب ایردوان نے بھی اپنے دورہ یوکرائن کے بعد اسی ہفتے کہا تھا کہ یوکرائن پر روسی حملوں کے خطرات کے امریکی تجزیوںکے باعث تناؤمیں شدت آرہی ہے۔

    ترک صدر کا مزید کہنا تھا کہ مغربی ممالک نے یوکرائنی بحران کو زیادہ سنگین بنایا ہے جبکہ امریکی صدر جو بائیڈن اس تناظر میں مناسب ردعمل ظاہر کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

  • یوکرائن تنازع، امریکی فوجی کمک کا پہلا دستہ پولینڈ پہنچ گیا:بلجیئم میں‌ ممکنہ جنگ کے خلاف مظاہرے

    یوکرائن تنازع، امریکی فوجی کمک کا پہلا دستہ پولینڈ پہنچ گیا:بلجیئم میں‌ ممکنہ جنگ کے خلاف مظاہرے

    یوکرائن تنازع کے چلتے امریکی فوجی کمک  کا پہلا دستہ پولینڈ پہنچ گیا ہے۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ مزید دستے بھی جلد بھیجے جائیں گے۔

    اطلاعات کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے اسی ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ مغربی اتحادی ممالک کی مدد کے لیے مشرقی یورپ میں مزید امریکی فوجی روانہ کریں گے۔

    وا ضح رہے، امریکی صدر جو بائیڈن نے اسی ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ مشرقی یورپ کے لیے فوجی روانہ کریں گے۔ مغربی ممالک کو یقین ہے کہ روس یوکرائن پر ایک نیا حملہ کرنے والا ہے۔

    دریں اثناء پولش آرمی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکی فوجیوں پر مشتمل پہلا دستہ ہفتے کے دن وارسا پہنچ گیا ہے۔

     

    یہ امریکی فوجی مشرقی یورپ میں پہلے سے ہی تعینات مغربی عسکری دفاعی اتحاد نیٹو کے فوجیوں میں شامل ہو جائیں گے ۔ جب کہ مزید سترہ سو امریکی فوجی جلد ہی پولینڈ روانہ رہے ہیں۔

    مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ان فوجیوں کی رہائش کا انتظام جاسیوانکا میں کیا گیا ہے، جہاں عارضی شیلٹر ہاؤسز بنائے گئے ہیں۔ علاقے کو رکاوٹیں لگا کر عام شہریوں کی آمدورفت کے لیے بھی بند کر دیا گیا ہے۔

    یاد رہے، پولینڈ میں پہلے سے تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد تقریبا ساڑھے چار ہزار بنتی ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن کے مطابق مشرقی یورپ میں نیٹو اتحادی ممالک کی عسکری مدد کے لیے مزید تین ہزار فوجیوں پر مشتمل ایک دستہ روانہ کیا جائے گے۔

    امریکی اور اس کے مغربی اتحادی ممالک کا دعویٰ ہے کہ روس نے یوکرائن کی سرحد پر ایک لاکھ کے لگ بھگ فوجی تعینات کر رکھے ہیں او وہ یوکرائن میں فوجی کارروائی کا منصوبہ رکھتا ہے۔

    تاہم ماسکو حکومت مسلسل ان الزامات کو مسترد کر رہی ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتا لیکن اپنے مفادات پر سمجھوتا بھی نہیں کرے گا۔ روسی صدر نے اسی ہفتے کہا کہ مغربی ممالک کے اقدامات ان کو جنگ پر مجبور کررہے ہیں۔

    یوکرائنی صدر وولودومیر زیلنسکی نے حال ہی میں یہ الزام عائد کیا تھا کہ مغربی ممالک روسی حملے کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں، جو غلط ہے۔ اسی طرح ترک صدر رجب طیب ایردوان نے بھی اپنے دورہ یوکرائن کے بعد اسی ہفتے کہا تھا کہ یوکرائن پر روسی حملوں کے خطرات کے امریکی تجزیوںکے باعث تناؤمیں شدت آرہی ہے۔

    ترک صدر کا مزید کہنا تھا کہ  مغربی ممالک نے یوکرائنی بحران کو زیادہ سنگین بنایا ہے جبکہ امریکی صدر جو بائیڈن اس تناظر میں مناسب ردعمل ظاہر کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

    یوکرائن بحران پر نیٹو اور روس کے درمیان کشیدگی کے خلاف یورپی جنگ مخالف اتحاد کی جانب سے بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں ایک احتجاجی مظاہرہ ہوا۔

    مظاہرین نے ممکنہ یوکرائن جنگ اور نیٹو کے خلاف جبکہ ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے نعروں پر مبنی بینر اور پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے۔مظاہرے کے شرکاء کا کہنا تھا کہ یوکرائن کے مسئلے پر متوقع جنگ امریکی، یورپی اور روسی سامراج کی سازش ہے۔

    احتجاج میں شریک ایک شخص نے کہا کہ یہ جنگ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے عوام دشمن معاشی مفادات کو بے نقاب کر رہی ہے۔ اُنہوں نے الزام عائد کیا کہ دراصل یہ اسلحے کی فروخت کے لیے کی جانے والی جنگ ہے۔

    مظاہرے میں شامل ایک خاتون نے کہا کہ اربوں ڈالرز جنگ کی بجائے اسکولوں، ہسپتالوں اور ویکسینیشن کی تحقیق پر خرچ کرنے چاہئیں اور یوکرائن تنازع بات چیت سے حل کیا جانا چاہیے۔

    روس کی تقریباً ایک لاکھ فوج بھاری فوجی ساز و سامان کے ساتھ یوکرائن کی مشرقی سرحد کے گرد جمع ہے۔ یوکرائن کے مشرقی سرحدی علاقوں میں روسی بولنے والوں کی اکثریت آباد ہے اور وہاں یوکرائن حکومت کے خلاف 2014ء سے شورش جاری ہے۔

    دوسری جانب امریکا اور برطانیہ نے مشرقی یورپ میں نیٹو افواج کو متحرک کرنا شروع کر دیا ہے اور اسٹونیا میں آرٹلری اور جدید جنگی طیارے پہنچا دیے ہیں تاکہ روس کے خلاف کسی ردعمل کے لیے تیار رہا جائے۔

    اِسی تناظر میں مظاہرین کو خدشہ ہے کہ یورپ میں ایک بڑی جنگ کا آغاز ہوسکتا ہے۔

    یورپی جنگ مخالف محاذ کے مظاہرے میں شامل دوسری جنگ عظیم سے متاثرہ ایک شخص کا کہنا تھا کہ مظاہرے میں شرکت کا مقصد یورپی رہنماؤں کو یہ باور کرانا ہے کہ جنگ تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں لاتی۔

    مظاہرے میں بچوں سمیت شریک ایک خاندان کا کہنا تھا یورپ دو بڑی جنگوں کا خمیازہ بھگت چکا ہے اور اب مزید کسی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

  • بھارت مکاری کا شہنشاہ:چین کے خلاف امریکہ کا اتحادی: یوکرین پرامریکہ کا مخالف

    بھارت مکاری کا شہنشاہ:چین کے خلاف امریکہ کا اتحادی: یوکرین پرامریکہ کا مخالف

    لاہور:بھارت مکاری کا شہنشاہ:مفاد پرمبنی پالیسیاں:چین کے خلاف امریکہ کا اتحادی:یوکرین پرامریکہ کا مخالف، بھارت نے اپنی پالیسی کو مفاد پرستی کا محور بنا لیا ہے اور ملکوں کو کرنا بھی ایسے ہی چاہیے لیکن بھارت نے جو خارجہ پالیسی اب اپنائی ہےوہ بھارت مخالف ملکوں کے لیے ایک مثال ہے ،

    جیسے جیسے یوکرین کا بحران بڑھ رہا ہے، کچھ عرصہ پہلے تک، یہ زیادہ تر عمل میں غائب تھا۔ لیکن منگل کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) میں اس بارے میں ووٹنگ ہوئی کہ آیا اس بحران پر بات کرنے کے لیے اجلاس منعقد کیا جائے، نئی دہلی کا جھکاؤ ماسکو کی طرف دیکھا گیا۔

    جب کہ روس اور چین نے متوقع طور پر کوئی ووٹ نہیں ڈالا، ہندوستان (کینیا اور گیبون کے ساتھ) نے پرہیز کرتے ہوئے اجلاس کے لیے امریکی قیادت کے دباؤ کی حمایت نہیں کی۔ چونکہ اجلاس کی منظوری کے لیے 15 رکنی کونسل میں نو مثبت ووٹوں کی ضرورت تھی، لہٰذا ہندوستان کی عدم شرکت کا واضح مطلب روس کے ساتھ کھڑا ہونا تھا ، بھارت نے امریکی خواہش پر پانی پھیر دیا ۔

    یہ ایک فیصلہ ہے جس نے امریکہ جہاں اوقات بتادی ہے وہاں امریکہ کو اپنی خارجہ پالیسی بدلنے کے لیے کچھ اشارے بھی دیئے ہیں

    ویسے بھی ابھی ہندوستان نے یو این ایس سی میں ایک غیر مستقل رکن کے طور پر ابھی دو سال کا سفر شروع کیا ہے ، جہاں اس سے بڑے پیمانے پر توقع کی جارہی تھی کہ وہ امریکی قیادت والے اتحاد کے ساتھ مل کر کام کرے گا اور چین کا مقابلہ کرے گا۔ لیکن معاملات بالکل مختلف نکلے ہیں۔ تازہ ترین یو این ایس سی ووٹنگ ایک دوسرے کی ایڑیوں پر، موسمیاتی تحفظ پر، جس میں ہندوستان نے کھل کر روس کے ساتھ اور امریکہ کے خلاف ووٹ دیا۔ اس بحث کے دوران، نئی دہلی، ماسکو، اور بیجنگ نے حکمت عملی پر قریبی تعاون کیا، جس میں ایک متبادل قرارداد پیش کرنا بھی شامل ہے جس نے امریکی زیرقیادت ایک کے بنیادی احاطے کو چیلنج کیا۔

    واشنگٹن میں اسٹیبلشمنٹ پر مبنی تجزیہ کاروں نے امریکہ اور ہندوستان کے تعلقات کے بارے میں بہت کچھ لکھا اور کہا گیا ہے۔ واشنگٹن کا سخت حریف ماسکو نئی دہلی کا پرانا ساتھی اور دوست بھی ہے، جس کا دفاع اور توانائی کی تجارت اور سرمایہ کاری میں گہرا باہمی انحصار اور مشترکہ مفادات ہیں۔تازہ ہندوستانی فیصلے نے پرانے رشتوں کو ایک بار پھر تازہ کردیا ہے

    روس اور ہندوستان کے درمیان قربت میں اضافے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ولادیمیر پیوٹن کے حالیہ دورہ نئی دہلی کے دوران ان کا کھلے عام استقبال کیا گیا اور امریکی دباؤ کے باوجود اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ روسی رہنما کے دورے کو ترجیح دیتے ہوئے، بھارت نے اپنے متعلقہ وزرائے خارجہ اور دفاع کے درمیان امریکہ اور بھارت کے اہم مذاکرات کو بھی روک دیا۔

    روس کی طرف سے گرم جوشی جوشی کا مثبت جواب دیتے ہوئے ہندوستان بھی آگے بڑھا اور 2017 کے CAATSA قانون کے تحت امریکی حکام کی طرف سے پابندیوں کی پردہ پوشی کی دھمکیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے، جدید ترین S-400 فضائی دفاعی نظام کی روس سے ترسیل لی۔

    یہ بھی امریکہ کے لیے بڑی حیرانی کی بات ہےکہ بھارت یعنی ہدوستان کے لیے امریکہ ایک نرم گوشہ رکھتا ہے لیکن وہی بھارت دوسری طرف امریکی مخالف اتحاد کے ساتھ محبت کے رشتے بھی قائم کرتا ہے، جوبائیڈن انتظآمیہ بھی بہت بڑی مشکل میں جہاں بھارتی نژاد نائب صدر کملا ہارس کو بھی پریشانی کا سامنا ہے کہ بھارت امریکہ کی پیشکش سے کیوں دور ہوتا ہے

    بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ صرف یوکرین کا بحران ہی امریکہ اور بھارت کے اتحاد کی نئی حدود متعین کرنا کا اشارہ ہے۔ جب واشنگٹن، کینبرا، اور لندن نے واضح طور پر فوجی معاہدے AUKUS کے قیام کا اعلان کیا، ہندوستان نے اس اقدام سے خود کو تیزی سے دور کر لیا۔ بھارت اور چین کے درمیان کشیدگی بدستور بڑھ رہی ہے، جیسا کہ حال ہی میں اولمپکس پر ان کے جھگڑے سے ظاہر ہوتا ہے۔ دو طرفہ ترتیبات میں چین پر سخت تنقید کرتے ہوئے، نئی دہلی نے تاہم ساتھ ہی ساتھ کواڈ کے چین مخالف دباؤ کو بھی محدود کر دیا ہے، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ یہ معاہدہ کسی چیز کے لیے ہے نہ کہ کسی کے خلاف ہے ، اس کا مطلب واضح ہے کہ بھارت کی نظرین چین پر نہیں بلکہ پاکستان کو خطرہ سمجھ رہا ہے

  • یوکرین تنازعہ:روس اورچین کا اتحاد،امریکہ سُن کرسیخ پا ہوگیا

    یوکرین تنازعہ:روس اورچین کا اتحاد،امریکہ سُن کرسیخ پا ہوگیا

    بیجنگ :یوکرین تنازعہ:روس اورچین کا اتحاد،امریکہ سُن کرسیخ پا ہوگیا،اطلاعات کے مطابق چین اور روس نے ایک دوسرے سے تعاون بڑھانے، خارجہ پالیسی میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے کے ساتھ نیٹو کی مزید توسیع کی مخالفت کر دی۔

    غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق چین اور روس کے صدور کی بیجنگ میں ملاقات ہوئی جس کا مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا ہے۔

    اعلامیے کے مطابق چین اور روس خارجہ پالیسی میں ایک دوسرےکی حمایت کریں گے کیونکہ کوئی بھی ملک دوسروں کی قیمت پر اپنی سلامتی کو بہتر نہیں کر سکتا، دونوں ممالک نے بیرونی مداخلت ناکام بنانے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کو تیز کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

    مشترکا اعلامیے میں چین اور روس کی جانب سے نیٹو کی مزید توسیع کی مخالفت کی گئی ہے اور نیٹو سے سردجنگ کی سوچ سے پیچھے ہٹنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    روس اور چین نے امریکا کے بائیولوجیکل وار فیئر پروگرام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے معاملے پر رابطے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ روس اور چین خلا میں ملٹرائزیشن روکنے کے لیے مل کر کام کریں گے۔

    مشترکہ اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ روس تصدیق کرتا ہے کہ تائیوان چین کا حصہ ہے جبکہ چین نے روس کے مغربی ممالک سے سکیورٹی گارنٹی مطالبے کی حمایت کی ہے۔

    دوسری طرف امریکہ کو اس وقت سخت ندامت کا سامنا کرنا پڑا ہے جب چین نے امریکہ کی طرف سے یوکرین کے معاملے پر روس کوسمجھانے کی پیش کش کی مگر چین نے سمجھانے کی بجائے روس کی حمایت کا اعلان کردیا ، جس کی وجہ سے اب معاملات مزید پچیدہ نظرآتے ہیں‌

    بعض دفاعی ماہرین کا کہنا ہےکہ ان حالات میں امریکہ یوکرین کے معاملے پر پسپائی اختیار نہیں کرے گا اور ہر صورت یوکرین کو نیٹو کا حصہ بنا

  • روس ، یوکرین تنازعہ :امریکی افواج کی پیش قدمی:جرمنی اورپولینڈ میں ہزاروں فوجی پہنچا دیئےگئے

    روس ، یوکرین تنازعہ :امریکی افواج کی پیش قدمی:جرمنی اورپولینڈ میں ہزاروں فوجی پہنچا دیئےگئے

    واشنگٹن:روس ، یوکرین تنازعہ :امریکی افواج کی پیش قدمی جرمنی اورپولینڈ میں ہزاروں فوجی پہنچا دیئے گئے،اطلاعات کے مطابق امریکی محکمہ دفاع(پینٹاگان) نے انکشاف کیا ہے کہ صدر جو بائیڈن اس ہفتے نارتھ کیرولینا کی ریاست میں واقع فورٹ بریگ سے تقریباً دو ہزار فوجی پولینڈ اور جرمنی بھجوا رہے ہیں جب کہ جرمنی میں موجود اندازاً ایک ہزار فوجیوں کو رومانیہ روانہ کیا جائے گا. امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق پینٹاگان کے پریس سیکرٹری جان کربی نے بتایا ہے کہ امریکہ کی طرف سے مشرقی یورپ میں تعنیات کے لیے فورسرز کے بھجوائے جانے کامقصد امریکہ اور اتحادیوں کے دفاعی پوزیشن کو مستحکم کرنا ہے.

    پینٹاگان کے پریس سیکرٹری جان کربی نے کہا کہ یہ فوجی یوکرین میں داخل نہیں ہوں گے اس سے قبل صدر جو بائیڈن بھی یہ بات کہہ چکے ہیں کہ وہ روس کے کسی حملے کو روکنے میں مدد کے لیے امریکی فوج کو یوکرین میں تعینات نہیں کریں گے تاہم امریکہ یوکرین کو اپنے دفاع کے لیے اسلحے کی رسد فراہم کر رہا ہے فوج بھیجنے کا یہ اقدام ایسے میں سامنے آیا ہے جب یوکرین کی سرحدوں پر روس کی فوج کی تعیناتی کے معاملے پر بات چیت تعطل کا شکار ہے.

    اس معاملے پر یورپ میں یہ خوف بڑھتا جا رہا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن یوکرین پر جارحیت کے لیے تلے ہوئے ہیں مشرقی یورپ میں واقع نیٹو کے ارکان کو خدشہ ہے کہ کسی بھی وقت ان کی بھی باری آ سکتی ہے، حالانکہ روس نے کہا ہے کہ وہ تنازع کے آغاز کا ارادہ نہیں رکھتا اور سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر تیار ہے. امریکی انتظامیہ کے ایک عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پردفاعی اقدامات پر بات کی جن کا ابھی باقاعدہ طور پر اعلان نہیں کیا گیا حالیہ دنوں کے دوران بائیڈن یہ کہہ چکے ہیں کہ دفاعی اتحاد کے رکن کی حیثیت سے وہ چاہیں گے کہ مشرقی یورپ میں نیٹو کے اتحادیوں کو امریکی عزم کی یقین دہانی کا اعادہ کیا جائے کہ وہ اضافی امریکی فوج روانہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں.

    پینٹاگان نے تقریباً 8500امریکی فوج کو چوکنا کردیا ہے جنہیں ممکنہ طور پر یورپ میں تعینات کیا جاسکتا ہے اور اہل کاروں نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ مزید فوجی دستوں کو ہائی الرٹ پر رکھ دیا گیا ہے پہلے ہی یورپ میں امریکہ کے 75000سے 80000 فوجی مستقل طور پر تعینات ہیں. ایک اطلاع کے مطابق متوقع طور پر برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن بدھ کے روز روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے ٹیلی فون پر رابطہ کر رہے ہیں جو مسئلے کو سفارتی طور پر حل کرنے کی تازہ ترین کوشش ہے

  • روس سےتنازع:امریکی صدرکامشرقی یورپ میں ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی کا حکم:روس بھی پیشقدمی کرنےلگا

    روس سےتنازع:امریکی صدرکامشرقی یورپ میں ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی کا حکم:روس بھی پیشقدمی کرنےلگا

    واشنگٹن:روس سے تنازع؛ امریکی صدر کا مشرقی یورپ میں ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی کا حکم:روس بھی پیشقدمی کرنے لگا ،اطلاعات کے مطابق یوکرائن کے مسئلے پر روس سے پیدا ہونے والے تنازع پر امریکی صدر جوبائیڈن نے مشرقی یورپ میں ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی کا حکم دیدیا۔

    وال اسٹریٹ جنرل کے مطابق یوکرائن پر روس کے ممکنہ حملے کے پیش نظر امریکی صدر جوبائیڈن نے 3 ہزار سے زائد فوجیوں کی مشرقی یورپ میں تعیناتی کا حکم دیدیا ہے۔

    وال اسٹریٹ جنرل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوجی پولینڈ اور جرمنی میں تعینات کیے جائیں گے جب کہ ایک ہزار کے قریب فوجیوں کو جرمنی سے رومانیہ منتقل کیا جائے گی۔
    مشرقی یورپ میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کا حتمی فیصلہ امریکی صدر جوبائیڈن نے وزیر دفاع اور امریکی فوج کے اعلیٰ حکام کے ساتھ اہم میٹنگ کے بعد کیا۔

    اس حوالے سے پینٹاگون کے ایک عہدیدار نے وال اسٹریٹ جنرل کو بتایا کہ تعینات کیے جانے والے فوجیوں کی اہم اور خطرناک مشن کو پورا کرنے کے لیے خصوصی تربیت دی گئی ہے جو جدید اسلحے اور ضروری ساز و سامان سے لیس ہیں۔

    خیال رہے کہ روس کے مبینہ حملے اور جارحیت کے پیش نظر امریکا اور برطانیہ نے یوکرائن کو فوجی مدد کی یقین دہانی کرائی ہے اس حوالے سے نیٹو افواج کی پہلے ہی سرحدوں پر تعینات کیا جا چکا ہے۔

    دوسری جانب روس نے یوکرائن پر حملے کو امریکا اور برطانیہ کا خطے میں مداخلت کا بہانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ من گھڑت جواز پیدا کر کے خطے پر قبضے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

  • امریکہ اور اتحادی بازآجائیں:یوکرین تنازعے پراپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے: روس

    امریکہ اور اتحادی بازآجائیں:یوکرین تنازعے پراپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے: روس

    ماسکو:امریکہ اور اتحادی بازآجائیں:یوکرین تنازعے پراپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے: اطلاعات کے مطابق یوکرین تنازع پر امریکی پابندیوں کی دھمکیوں پر روس کا کہنا ہے کہ ہم اپنے اختیار کردہ موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

    تفصیلات کے مطابق واشنگٹن میں روس کے سفارت خانے نے منگل کو کہا ہے کہ یوکرین پر امریکی پابندیوں کی دھمکیوں کے باوجود اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

    روسی سفارتخانے کے اعلی افسر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہم امریکی پابندیوں کی دھمکیوں کو سن کر پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں انہوں نے مزید کہا کہ یہ واشنگٹن ہےجو تناؤ پیدا کرتا ہے۔

    توقع کی جارہی ہے کہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور ان کے امریکی ہم منصب انٹونی بلنکن منگل کو یوکرین تنازع پر ٹیلی فونک رابطہ قائم کریں گے۔

    حالیہ ہفتوں میں دونوں ممالک کے مابین کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ جس کی وجہ امریکہ نے روس پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ وہ عنقریب یوکرین پر حملہ کردے گا۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے بارہا پیوٹن کو متنبہ کیا ہے کہ اگر وہ یوکرین پر حملہ کرتے ہیں تو بڑے پیمانے پر مغربی پابندیوں کے لئے تیار رہے۔

    واضح رہے روس نے یوکرین کی سرحدوں پر ایک لاکھ سے زائد فوجیوں کو تعینات کیا ہے۔ اس تناظر میں مغربی ممالک کو خدشہ ہے کہ وہ حملہ کر سکتے ہیں۔

    یاد رہے بلنکن لاوروف کی بات چیت سے قبل، ماسکو نے یوکرین کے بارے میں اپنے موقف پر واشنگٹن کو ایک خط بھیجا تھا۔

  • روس دکھاتا کچھ اور کرتا کچھ ہے:مذاکرات میں ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے، یوکرائنی وزیرخارجہ

    روس دکھاتا کچھ اور کرتا کچھ ہے:مذاکرات میں ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے، یوکرائنی وزیرخارجہ

    روس دکھاتا کچھ اور کرتا کچھ ہے:مذاکرات میں ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے اطلاعات کے مطابق یوکرائن کے وزیر خارجہ دیمیترو کولیبا نے آج کہا ہے کہ ممکنہ روسی حملے کے بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان ماسکو سے مذاکرات کے دوران ضروری ہے کہ ہوشیار اور ثابت قدم رہا جائے۔

     

    فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے مغربی ممالک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ روس نے یوکرائن کی سرحدوں کے پاس ایک لاکھ سے زائد فوجی اور بھاری ہتھیار تعینات کیے ہوئے ہیں۔

    یوکرائن کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دیمیترو کولیبا نے اپنے فرانسیسی ہم منصب ژاں یوس لی ڈریان سے بات کرتے ہوئے دارالحکومت کیف سے اپنے سفارتی عملے کے اہل خانہ کو نہ نکالنے کے فیصلے پر فرانس کا شکریہ ادا کیا ہے۔

    یوکرائنی وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق دونوں جانب سے روس کے ساتھ رابطوں میں چوکنا اور ثابت قدم رہنے کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ انہوں نے کیف اور ماسکو کے درمیان تنازع کے سیاسی اور سفارتی تصفیے کو فروغ دینے کا سلسلہ جاری رکھنے کا بھی کہا ہے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ وہ جلد ہی مشرقی یورپ میں نیٹو کی موجودگی میں اضافے کے لیے امریکی فوجیوں کی ایک مختصر سی تعداد بھیجیں گے۔

    گزشتہ روز فلاڈیلفیا سے واپسی کے بعد دارالحکومت واشنگٹن میں امریکی صدر جو بائیڈن نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ بہت جلد مشرقی یورپ اور نیٹو کے رکن ممالک میں فوجی بھیج رہے ہیں مگر بہت زیادہ نہیں۔

    واضح رہے کہ مغربی یورپ کے بیشتر حصوں میں پہلے ہی سے امریکا کے لاکھوں فوجی تعینات ہیں۔

  • امریکی صدر نے27 روسی سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیدیا

    امریکی صدر نے27 روسی سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیدیا

    واشنگٹن : امریکی صدر نے27 روسی سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیدیاا،طلاعات کے مطابق روس اور امریکہ کے درمیان سرد جنگ اب میدان جنگ کو گرم کرنے کی طرف رواں دواں ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ روس اور یوکرین کے مابین میں جاری کشیدگی کے دوران امریکا کے صدر جوبائیڈن نے روس کے 27 سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔

    بھارتی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن سے یہ حکم جاری ہونے کے علاوہ بائیڈن انتظامیہ نے یوکرین کو نیٹو (NATO) میں شامل نہ کرنے کی روسی مطالبہ بھی مسترد کردیا ہے۔جوبائیڈن نے یوکرین پر حملے کی صورتحال میں روس کو سنگین نتائج بھگتنے کی وارننگ بھی دی ہے۔

    بائیڈن نے کہا ہے کہ اگر روس نے یوکرین پر حملہ کیا، تو وہ روس کی 85 ہزار کروڑ روپے کی ’نیرڈ اسٹریم 2‘ گیس پائپ لائن کو بند کر دیں گے۔ روسی پائپ لائن سے یوروپ کو قدرتی گیس سپلائی کرنے کا منصوبہ ہے۔خاص بات یہ ہے کہ اب تک نیٹو سے الگ ہونے کی قیاس آرائیوں کا سامنا کرنے والے جرمنی نے بھی امریکہ کا ساتھ دیا ہے۔ دوسری جانب روس اور یوکرین نے دونوں ممالک کی سرحد پر جنگ بندی کے لئے پیرس مذاکرات جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

    واضح رہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان تنازع کافی عرصے سے جاری ہے۔ یوکرین 24 اگست 1991 کو سوویت یونین سے الگ ہو گیا تھا۔ سوویت یونین سے علیحدگی کے بعد یوکرین کو مغربی ممالک کی حمایت حاصل تھی۔ نیٹو کا قیام 1949 میں ہوا تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ اس کے آس پاس کے ممالک سوویت یونین سے اپنا دفاع کر سکیں۔

    2014 میں یوکرین میں جو حکومت تھی، وہ کافی حد تک روس نواز تھی۔ اسی وجہ سے یوکرین نے نیٹو( NATO )میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا۔ تاہم نیٹو میں دوبارہ شمولیت کی تحریک تیز ہو گئی ہے۔ یوکرین دو حصوں مغربی یوکرین اور مشرقی یوکرین پر مشتمل ہے۔ مشرقی یوکرین میں روس کے حامیوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔