Baaghi TV

Tag: روس

  • روس اور امریکہ کا ایک دوسرے کے گریبان کو ہاتھ:دھمکیاں:دنیا میں کسی بھی کچھ ہوسکتا ہے

    روس اور امریکہ کا ایک دوسرے کے گریبان کو ہاتھ:دھمکیاں:دنیا میں کسی بھی کچھ ہوسکتا ہے

    واشنگٹن : روس اور امریکہ کا ایک دوسرے کے گریبان کو ہاتھ:دھمکیاں:دنیا میں کسی بھی کچھ ہوسکتا ہے،اطلاعات کے مطابق یوکرین کے تنازعہ پر امریکہ اور روس ایک بار پھر آمنے سامنے ہیں ۔تناو بڑھتا جارہا ہے۔ دنیا کو روس کے ارادے نیک نظر نہیں آرہے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوتن کو خبردار کیا ہے کہ یوکرین پر کسی بھی حملے کی صورت میں سخت امریکی ردعمل سامنے آئے گا جب کہ روس نے جواباً کہا کہ ماسکو مخالف پابندیاں ایک ’سنگین غلطی‘ ہوگی۔دونوں صدور نے یہ باتیں تین ہفتوں میں ہونے والی دوسری براہ راست بات چیت کے دوران کیں۔

    دونوں سربراہوں کے درمیان جمعرات کو ہونے والی 50 منٹ کی فون کال سے روس اور مغربی حمایت یافتہ یوکرین کے درمیان کشیدہ صورتحال پر مزید سفارت کاری کی حمایت کا اشارہ ملا ہے۔

    کریملن میں خارجہ پالیسی کے مشیر یوری اوشاکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ صدر پوتن مجموعی طور پر اس بات چیت سے ’خوش‘ تھے جب کہ واشنگٹن میں ایک سینیئر امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گفتگو میں رہنماؤں کا لہجہ ’سنجیدہ اور ٹھوس‘ تھا۔

    لیکن گفتگو میں 10 جنوری کو اعلیٰ سطحی روسی اور امریکی حکام کے درمیان ہونے والی بات چیت سے پہلے اختلاف کی گہرائی یا مشرقی یورپ میں کھیلے جانے والے اونچے داؤ کو چھپانے کی کوئی بات نہیں تھی۔

    امریکی پریس سیکریٹری جین ساکی نے ایک بیان میں کہا کہ صدر بائیڈن نے واضح کیا کہ اگر روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو امریکہ اور اس کے اتحادی اور شراکت دار ماسکو کو فیصلہ کن جواب دیں گے۔ادھر اوشاکوف نے یوکرین پر حملے کے ردعمل کے طور پر اقتصادی پابندیوں کی واشنگٹن کی بار بار دھمکیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ‘یہ ایک سنگین غلطی ہوگی۔ ہمیں امید ہے کہ ایسا نہیں ہوگا۔

    اوشاکوف نے یہ بھی کہا کہ روس جنیوا میں جنوری میں ہونے والی بات چیت کے ٹھوس ’نتیجے‘ کے لیے پر امید ہے جب کہ وائٹ ہاؤس نے کہا کہ وہ بھی چاہتا ہے کہ ماسکو یوکرین کی سرحد پر روس کی بڑی فوجی موجودگی سے پیدا ہونے والی کشیدگی میں کمی کے لیے کارروائی کرے۔

    ساکی نے کہاکہ’صدر بائیڈن نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ان مذاکرات میں خاطر خواہ پیش رفت صرف اس صورت میں ممکن ہے جب یہ بات چیت کشیدگی کی بجائے پرامن ماحول میں ہو۔

    ٹیلی فون کال کے بعد ایک ریڈ آؤٹ میں کریملن نے زور دیا کہ بائیڈن نے پوتن کو بتایا کہ یوکرین میں امریکی ہتھیاروں کو نصب نہیں کیا جائے گا۔ تاہم وائٹ ہاؤس نے کہا کہ بائیڈن نے محض موجودہ پالیسی کی توثیق کی ہے۔ ایک امریکی اہلکار نے اے ایف پی کو بتایاکہ صدر بائیڈن نے واضح کیا کہ امریکہ یوکرین کو دفاعی سکیورٹی کے حوالے سے امداد فراہم کر رہا ہے اور جارحانہ حملہ کرنے والے ہتھیار نہیں دے رہا۔ یہ کوئی نیا عہد نہیں تھا۔

    وائٹ ہاؤس کے حکام نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ کئی ایسے شعبے ہیں جہاں دونوں فریق بامعنی طور پر پیش رفت کر سکتے ہیں لیکن ایسے اختلافات بھی موجود ہیں جنہیں حل کرنا ممکن نہیں۔

    مثال کے طور پر روس نے واضح کیا کہ وہ ایک تحریری عہد چاہتا ہے کہ یوکرین کو کبھی بھی نیٹو میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ہی وہاں اتحادی ممالک اپنے ہتھیار نصب کریں گے، یہ مطالبہ بائیڈن انتظامیہ نے مسترد کر دیا۔

    جنیوا میں ہونے والی بات چیت کے دوران روس کے مطالبات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا لیکن یہ ابھی تک واضح نہیں کہ بحران کو کم کرنے کے بدلے میں بائیڈن پوتن کو کیا پیشکش کرنے کو تیار ہوں گے۔

    دریں اثنا نیٹو کے اہم ارکان نے واضح کیا کہ مستقبل قریب میں اتحاد کو وسعت دینے کی کوئی خواہش نہیں لیکن مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں یہ روس کو سابق سویت ریاست پر حملہ کرنے کا بہانہ فراہم کرے گا۔

  • افغانستان کی نئی حکومت کوسب سے پہلے کون تسلیم کرنے جارہا ہے؟اہم خبرآگئی

    افغانستان کی نئی حکومت کوسب سے پہلے کون تسلیم کرنے جارہا ہے؟اہم خبرآگئی

    کابل:افغانستان کی نئی حکومت کوسب سے پہلے کون تسلیم کرنے جارہا ہے؟اہم خبرآگئی،اطلاعات کے مطابق افغانستان کے لئے روس کےخصوصی نمائندے ضمیر کابلوف کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت کو عملی طورپر تسلیم کیا جا رہا ہے۔

    اس حوالے سے روس کے خصوصی نمائندہ برائے افغانستان ضمیر کابلوف کہتےہیں کہ اسی سلسلے میں‌ آنے والے سال کے پہلے مہینے جنوری کے آخر میں کابل میں ٹرائیکا پلس کانفرنس منعقد کی جارہی ہے۔

    روسی میڈیاکو دیئےگئے انٹرویو میں افغانستان کے لئے روسی خصوصی نمائندے ضمیرکابلوف کا طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کے سوال پر کہنا تھا کہ سیاسی طور پر تسلیم کرنا ایک علامتی عمل ہے، تاہم عملی طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ طالبان وفد نے ماسکو اجلاس میں شرکت کی جس میں انہیں 10ممالک کےمندوبین سے ملنے کا موقع ملا ہے۔ ضمیر کابلوف کا کہنا تھا کہ افغانستان میں جامع حکومت، خواتین کےحقوق کے احترام کی ضرورت ہے۔

    طالبان حکام کو اس بارے میں سنجیدگی سے سوچناچاہیے، افغان خواتین کیلئے تعلیم، سماجی، سیاسی سرگرمیوں تک رسائی ہونا اہم ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کابل میں جنوری کےآخر میں ٹرائیکا پلس کانفرنس ہوگی،کابل میں ٹرائیکا پلس کانفرنس کی حتمی تاریخ متعین نہیں کی گئی ہے۔

    دوسری طرف پاکستان کی طرف سے افغانستان کو انسانی بحران سے بچانے کے لیے کوششیں تیز ہوگئی ہیں اوراب پاکستان افغان بھائیوں‌کے لیے دنیا بھر میں آواز بلند کررہاہے، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ افغانستان میں ہونے والی اس کانفرنس میں چین اور پاکستان بھی شامل ہوں گے ، تاہم یہ نہیں بتایا گیاکہ کیا افغان طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کی پہل پہلے چین کرے گا یا پھر روس ، پاکستان کی دونوں صورتوں میں کامیابی ہے

  • مغربی ممالک نے ہمارے گھر کی دہلیز پر جارحیت کی تو بھرپور جوابی وار کریں گے،روسی صدر

    مغربی ممالک نے ہمارے گھر کی دہلیز پر جارحیت کی تو بھرپور جوابی وار کریں گے،روسی صدر

    ماسکو: روس کے صدر ویلادیمیر پوٹن نے خبردار کیا ہے کہ اگر مغربی ممالک نے ہمارے گھر کی دہلیز پر جارحانہ رویہ رکھا تو بھرپور جوابی وار کریں گے۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق روس کے صدر ویلادیمیر پوٹن نے کہا ہے کہ اگر مغربی ممالک نیٹو کی یوکرین میں جارحیت کو روکنے کے لیے سلامتی کی ضمانتوں کو پورا کرنے میں ناکام رہتا ہے تو بہت سے آپشنز پر غور کریں گے صدر ولادیمیر پوٹن نے مغربی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے تیزی سے کام کریں۔

    روسی صدر نے خبردار کیا کہ اگر مغربی ممالک نے ہمارے گھر کی دہلیز پر جارحانہ رویہ جاری رکھا تو فوجی کارروائی کریں گے جس کے لیے فوجی قیادت سے مشورہ کریں گے۔

    روسی صدرکو خراج تحسین پیش کرنے کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع

    اس ماہ کے آغاز میں روس نے سیکیورٹی دستاویزات کے مسودے میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ نیٹو یوکرین سمیت دیگر سابق سوویت ممالک کو رکنیت نہ دے اور وسطی و مشرقی یورپ میں تعینات اپنے فوجیوں کو واپس بلائے۔

    جس پر امریکی صدر جوبائیڈن نے روسی صدر ولادمیر پیوٹن کو دھمکی دی تھی مریکی صدر جوبائیڈن نے روسی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یوکرائن پر حملہ کیا تو بھاری قیمت اٹھانا پڑے گی انہوں نے کہا کہ یوکرائن پر حملے کی صورت میں روس کو تباہ کن معاشی نتائج کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔

    اس سے قبل بھی امریکی صدر جوبائیڈن روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کو قاتل قرار دے چکے ہیں ایک انٹرویو میں امریکی صدر جوبائیڈن سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ روسی صدر پیوٹن کو قاتل سمجھتے ہیں، جس پر انہوں نے جواب میں ہاں کہا اس موقع پرجوبائیڈن نے مزید کہا تھا کہ آپ دیکھیں گے ولادیمیر پیوٹن کو عنقریب قیمت چکانی پڑے گی۔

    امریکی صدر جوبائیڈن کی روسی صدر ولادمیر پیوٹن کو دھمکی

    واضح رہے کہ پاکستان میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو خراج تحسین پیش کرنے کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دی گئی قرارداد مسلم لیگ ن کی رکن پنجاب اسمبلی ربعیہ نصرت کی جانب سے جمع کرائی گئی ،قراردادکے متن میں کہا گیا ہے کہ پنجاب اسمبلی کا یہ ایوان روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔ صدر پیوٹن نے توہین رسالتﷺ کی مذمت کرکے عالم اسلام کے دل جیت لیے ہیں۔ عالم اسلام کیلئے حضور نبی اکرم ﷺ کی محبت اپنی جان، مال اور اولاد سے بھی بڑھ کر عزیز ہے۔ حضورﷺ کی شان میں گستاخی سے سب سے زیادہ مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ کسی بھی پیغمبر یا مذہب کی توہین آزادی اظہار رائے نہیں۔ دنیا میں اسوقت تک امن نہیں آسکتا جب تک ہم ایک دوسرے کے مذہب کا احترام نہیں کرتے۔ روسی صدر نے دنیا بھر کو یہی پیغام دیا ہے۔ پنجاب اسمبلی کا یہ ایوان روسی صدر کے بیان کا خیر مقدم کرتا ہے-

    اسرائیلی وزیر دفاع کا صیہونی فوج کو ایران پر حملے کی تیاری کا حکم

  • روس نے گوگل پر بھاری جرمانہ عائد کر دیا :کیا ایسا ممکن بھی ہے؟

    روس نے گوگل پر بھاری جرمانہ عائد کر دیا :کیا ایسا ممکن بھی ہے؟

    ماسکو:روس نے گوگل پر بھاری جرمانہ عائد کر دیا :کیا ایسا ممکن بھی ہے؟ ،اطلاعات ہیں کہ روس نے غیر قانونی مواد کے قانون کی مسلسل خلاف ورزی پر بین الاقوامی سرچ انجن گوگل پر 98 ملین ڈالر کا جرمانہ عائد کر دیا۔

    اس حوالےسے روسی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ماسکو کی عدالت کی جانب سے جاری فیصلے میں غیرقانونی مواد کی تفصیلات تو فراہم نہیں کی گئیں تاہم مقامی میڈیا کا بتانا ہے کہ عدالت نے روس میں غیر قانونی قرار دیا گیا مواد نہ ہٹانے پر گوگل پر جرمانہ عائد کیا۔

    عدالت نے مقامی قوانین کی خلاف ورزی پر گوگل پر 7 ارب 2 کروڑ روبلز (98 ملین امریکی ڈالر) کا جرمانہ عائد کیا جو معروف ترین سرچ انجن کے سالانہ ٹرن اوور کی بنیاد پر روس میں پہلا جرمانہ ہے۔

    گوگل نے غیر ملکی خبر ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ وہ عدالتی فیصلے کا بغور مشاہدہ کرنے کے بعد مستقبل کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق روسی حکام کی جانب سے ٹیکنالوجی فرم پر ملکی قوانین کی خلاف ورزی پر مشتمل مواد ہٹانے کے لیے مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا تھا۔

    رواں برس مئی میں روس کے میڈیا پر نظر رکھنے والے ادارے نے گوگل کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا وہ اپنے پلیٹ فارم سے ڈرگ، تشدد اور شدت پسندی کے حوالے سے مقامی قوانین کی خلاف ورزی پر مشتمل مواد ہٹائے۔

    دو روز قبل مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر بھی قوانین کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانہ عائد کیا گیا تھا جبکہ فیس بک کی پیرنٹ کمپنی میٹا پر بھی اسی قسم کا مقدمہ عدالت میں چل رہا ہے۔

  • مواد کی خلاف ورزی،روس نے گوگل پر 98 ملین ڈالر جرمانہ عائد کردیا

    مواد کی خلاف ورزی،روس نے گوگل پر 98 ملین ڈالر جرمانہ عائد کردیا

    مواد کی خلاف ورزی کرنے پر روس نے گوگل کو 98 ملین ڈالر جرمانہ کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی:تفصیلات کے مطابق روسی عدالت نے ملک کے ضوابط کی خلاف ورزی پر گوگل پر 98 ملین ڈالر جرمانہ عائد کیا ہے،روسی عدالت نے مواد کو حذف کرنے میں بار بار ناکامی پر جرمانہ کیا۔

    روسی حکام کی جانب سے اس سال ٹیکنالوجی فرموں پر دباؤ بڑھایا ہے، ان پر الزام لگایا ہے کہ وہ مواد کو درست طریقے سے استعمال نہیں کرتے ، اور ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتے ہیں۔

    اٹلی کا ایمیزون اور ایپل پر200 ملین یوروجرمانہ عائد

    گوگل کے فیصلے کے اعلان کے چند گھنٹے بعد ہی اسی طرح کے مواد سے متعلق جرائم کے لیے فیس بک کی بنیادی کمپنی میٹا کو 2 بلین روبل جرمانہ کیا گیا۔

    مواد کے قوانین پر روسی حکام کے ساتھ گوگل کا یہ پہلا مسئلہ نہیں ہے، مئی میں روس کے میڈیا واچ ڈاگ نے دھمکی دی تھی کہ اگر وہ غیر قانونی مواد کے 26 ہزار واقعات کو حذف کرنے میں ناکام رہا تو گوگل کی رفتار کم کر دے گا، جن کا تعلق منشیات، تشدد اور انتہا پسندی سے ہے۔

    ایپل نے 3 ماہ بعد ہی شیاؤمی سے دنیا کی دوسری بڑی کمپنی کا اعزاز چھین لیا

    جبکہ گوگل کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے مواد کی وضاحت نہیں کی گئی تھی، عدالتی دستاویزات کو دیکھ کر آئندہ اقدامات کا فیصلہ کریں گے تاہم ناقدین نے روس پر الزام لگایا ہے کہ وہ آزادی اظہار اور آن لائن اختلاف کو روکنے کے لیے مہم کا استعمال کر رہا ہے۔

    اس سے قبل اٹلی نے ایمیزون اور ایپل پرغیرمسابقتی رویہ اپنانے کے الزام میں 225 ملین ڈالر کا جرمانہ عائد کیا تھا اٹلی کی اینٹی ٹرسٹ اتھارٹی واچ ڈاگ نے امریکی ٹیک کمپنیوں ایپل اورایمیزون کو ایپل اور بیٹس کی مصنوعات کی فروخت میں مسابقتی مخالف تعاون کے الزام میں مجموعی طور پر 200 ملین یورو($ 225 ملین) سے زیادہ کا جرمانہ کیا تھا-

    فیس بک نے بھارتی اور اسرائیلی کمپنیوں پر پابندی عائد کر دی

  • سویت یونین کے ٹکڑےہونے کے بعد کافی عرصے تک ٹیکسی چلاکر گزارا کیا ،روسی صدر

    سویت یونین کے ٹکڑےہونے کے بعد کافی عرصے تک ٹیکسی چلاکر گزارا کیا ،روسی صدر

    ماسکو: روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ سویت یونین کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کے بعد کافی عرصے تک گھریلو اخراجات پورا کرنے کے لیے ٹیکسی چلائی تھی۔

    باغی ٹی وی :"ڈیلی میل” کے مطابق روسی صدر نے سقوطِ سویت یونین کو ایک دلخراش سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سویت یونین کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے پر روسی شہری غمگین ہوگئے تھے۔

    امریکی صدر جوبائیڈن کی روسی صدر ولادمیر پیوٹن کو دھمکی

    صدر پیوٹن نے جذباتی انداز میں کہا کہ سویت یونین کا حصے بخیرے ہونا دراصل تاریخی روس کے ٹکڑے ہونا تھا جو اس وقت سویت یونین کے نام سے موسوم تھا سویت یونین کے ٹکڑے ہونے کے بعد معیشت زمین بوس ہوگئی اور غربت نے ڈیرے ڈال دیئے تھے میں نے بھی ٹیکسی چلا کر گزارا کیا تھا ہم نے بڑی مشکل سے خود سنبھالا ہے۔

    اسرائیلی وزیر دفاع کا صیہونی فوج کو ایران پر حملے کی تیاری کا حکم

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ان خیالات کا اظہار فلم سازوں سے گفتگو میں کیا جو روس کی تاریخ پر مبنی فلم کو روسی زبان میں ڈب کر رہے ہیں جس کا مقصد نئی نسل کو روس کی تاریخ سے آگاہ کرنا ہے۔

    واضح رہے کہ روسی سوشلسٹ ریاستوں پر مشتمل اتحاد ’’سویت یونین‘‘ کا قیام 1922 میں عمل میں آیا تھا اور 1991 تک برقرار رہا تھا-

    انچسٹر یونائیٹڈ کے پہلےجنوبی ایشیائی اور پاکستانی نژاد فٹبالرزیدان اقبال

  • امریکی صدر جوبائیڈن کی روسی صدر ولادمیر پیوٹن کو دھمکی

    امریکی صدر جوبائیڈن کی روسی صدر ولادمیر پیوٹن کو دھمکی

    واشنگٹن: امریکی صدر جوبائیڈن نے روسی صدر ولادمیر پیوٹن کو دھمکی دے دی۔

    باغی ٹی وی :غیر ملکی خبر رساں ادارے این ڈی ٹی وی کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے روسی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یوکرائن پر حملہ کیا تو بھاری قیمت اٹھانا پڑے گی انہوں نے کہا کہ یوکرائن پر حملے کی صورت میں روس کو تباہ کن معاشی نتائج کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔

    اس سے قبل بھی امریکی صدر جوبائیڈن روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کو قاتل قرار دے چکے ہیں ایک انٹرویو میں امریکی صدر جوبائیڈن سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ روسی صدر پیوٹن کو قاتل سمجھتے ہیں، جس پر انہوں نے جواب میں ہاں کہا اس موقع پرجوبائیڈن نے مزید کہا تھا کہ آپ دیکھیں گے ولادیمیر پیوٹن کو عنقریب قیمت چکانی پڑے گی۔

    امریکی مسافرطیاروں میں لڑائی معمول بن گئی:تازہ واقعہ میں مسافرکا ایئرمارشل اورفلائٹ اٹینڈنٹ پرحملہ

    قبل ازیں امریکی صدر جو بائیڈن نے یوکرائن کے ساتھ سرحد پر روس کی فوجی تشکیل پر کشیدگی کو کم کرنے کی جاری کوششوں کے درمیان اپنے یوکرائنی ہم منصب ولادیمیر زیلنسکی سے بات کی جمعرات کو بائیڈن اور زیلنسکی کی کال امریکی صدر کی ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ دو گھنٹے کی بات چیت کے چند دن بعد سامنے آئی ہے، جس میں روسی رہنما پر زور دیا گیا ہے کہ وہ صورتحال کو کم کرنے یا سخت اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنے کے لیے سفارت کاری کا راستہ اختیار کریں۔

    امریکہ نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں ملوث 4 ممالک پر پابندیاں عائد کر دیں

    زیلنسکی نے جمعرات کی سہ پہر ٹویٹر پر لکھا کہ”ریاستہائے متحدہ کے صدر نے مجھے پیوٹن کے ساتھ اپنی بات چیت سے آگاہ کیا یوکرائن کے صدر نے مشرقی یوکرین کے علاقے کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ "ہم نے ڈونباس میں تنازعہ کو حل کرنے کے لیے ممکنہ فارمیٹس پر بھی تبادلہ خیال کیا اور یوکرائن میں داخلی اصلاحات کے حوالے سے بات کی۔”

    یوکرائن نے کہا ہے کہ اس سال اب تک 94,000 روسی فوجی سرحد پر تعینیات ہو ئے ہیں جس سے بائیڈن انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے متعدد بار انتباہی پیغام جاری کئے گئے جو ماسکو کو کیو کے خلاف "اہم جارحانہ اقدام” کرنے سے روکنا چاہتے ہیں۔

    سعودی عرب میں کنسرٹ، سلمان خان کے رقص پر حاضرین خوش:عربی جھومنے لگے

    امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ پیوٹن جنوری کے اوائل میں 175,000 فوجیوں پر مشتمل ایک بڑے پیمانے پر حملہ کرنے کی پوزیشن میں ہو سکتے ہیں۔

    روس نے یوکرائن پر حملہ کرنے کے منصوبے کی تردید کی ہے، لیکن پیوٹن نے خبردار کیا ہے کہ یوکرین میں امریکی فوجی ہارڈ ویئر کی کسی بھی توسیع کے ساتھ ساتھ نیٹو میں ملک کا داخلہ "سرخ لکیریں” ہیں جنہیں عبور نہیں کرنا چاہیے۔

  • افغانستان کے بعد اب عراق سے امریکی افواج کا انخلا:روس اور چین کی کڑی نظر

    افغانستان کے بعد اب عراق سے امریکی افواج کا انخلا:روس اور چین کی کڑی نظر

    بغداد:افغانستان کے بعد اب عراق سے امریکی افواج کا انخلا:روس اور چین کی کڑی نظر،اطلاعات کے مطابق افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد اب عراق سے امریکی و دیگر غیرملکی افواج کے انخلاء پر اتفاق ہوگیا ہے۔

     

    بغداد سے عرب میڈیا کے مطابق عراق میں غیر ملکی فوجی انخلاء سے متعلق عراقی جوائنٹ آپریشن کمانڈر نے بیان میں کہا ہے کہ امریکی و اتحادی فوج رواں سال کے اختتام تک عراق سے مکمل انخلاء کریں گی۔

     

    عراقی کمانڈر نے مزید کہا کہ امریکی اور اس کے اتحادی اپنی افواج اور جنگی سرگرمیوں میں شامل عملہ عراق سےنکال لیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوج جنگی مُہمات میں سرگرم عملےکا بڑا حصہ عراق سے انخلاء کرچکی ہے جبکہ باقی غیرملکی فوجیوں کا انخلاء دسمبر کے اختتام تک جاری رہے گا۔

    امریکی و دیگر اتحادی فوج کے صرف تکنیکی ماہرین عراق میں رہیں گے۔ عراقی کمانڈر کے مطابق اتحادی فوج عراقی فوج کو تکنیکی مدد اور تعاون فراہم کرے گی۔

    یاد رہے کہ یوکرین کے محاذ پرروسی افواج کے دباو اور چین کی بڑھتی ہوئی قوت سے خائف امریکہ نے دنیا بھر سے اپنی افواج کومحفوظ بنانے کے لیے ان کی امریکہ یاتری کا فیصلہ کرلیا ہے

    ادھر امریکہ کے اس اعلان کے بعد روس اور چین امریکی فوجی نقل وحرکت پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہیں اور یہ خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ حالات کشیدہ بھی ہوسکتےہیں‌

  • بریکنگ : امریکہ کی جمہوریت پر سمٹ،پاکستان کا شرکت نہ کرنے کا فیصلہ:امریکہ دیکھتا رہ گیا

    بریکنگ : امریکہ کی جمہوریت پر سمٹ،پاکستان کا شرکت نہ کرنے کا فیصلہ:امریکہ دیکھتا رہ گیا

    اسلام آباد :بریکنگ : امریکہ کی جمہوریت پر سمٹ،پاکستان کا شرکت نہ کرنے کا فیصلہ:امریکہ دیکھتا رہ گیا،اطلاعات کے مطابق پاکستان نے امریکہ کی جانب سے جمہوریت پر منعقد کی جانے والی سمٹ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔پاکستان کی طرف سے دو ٹوک جواب سن کرامریکہ حواس باختہ ہوگیاہے

    امریکہ سے آمدہ تفصیلات کے مطابق ڈیموکریسی ورچوئل سمٹ 9 اور 10 دسمبر کو ہوگا۔ امریکا کی جانب سے سمٹ میں شرکت کے لئے چین اور روس کو دعوت نہیں دی گئی۔

    اسی حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ہم سمٹ برائے جمہوریت میں شرکت کے لیے پاکستان کو مدعو کرنے پر امریکا کے شکر گزار ہیں۔ پاکستان ایک بڑی فعال جمہوریت ہے جس میں ایک آزاد عدلیہ، متحرک سول سوسائٹی اور آزاد میڈیا ہے۔ ہم جمہوریت کو مزید مضبوط کرنے، بدعنوانی کے خاتمے اور تمام شہریوں کے انسانی حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے پرعزم ہیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ حالیہ برسوں میں پاکستان نے ان اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے وسیع پیمانے پر اصلاحات کا آغاز کیا ہے۔ ان اصلاحات کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ ہم امریکا کے ساتھ اپنی شراکت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جسے ہم دو طرفہ اور علاقائی اور بین الاقوامی تعاون کے لحاظ سے بڑھانا چاہتے ہیں۔

    ترجمان نے کہا کہ ہم متعدد مسائل پر امریکا کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ ہم مستقبل میں مناسب وقت پر اس موضوع پر ہو سکتے ہیں۔ اس دوران پاکستان مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے بات چیت، تعمیری کردار اور بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے تمام کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

  • افغانستان کو نمائندگی دینے کا فیصلہ ملتوی:چین بھی اس موقف پرامریکہ کا حامی نکلا

    افغانستان کو نمائندگی دینے کا فیصلہ ملتوی:چین بھی اس موقف پرامریکہ کا حامی نکلا

    نیویارک: افغانستان کو نمائندگی دینے کا فیصلہ ملتوی:چین بھی اس موقف پرامریکہ کا حامی نکلا ا،طلاعات کے مطابق گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کی جس کے تحت افغان طالبان اور میانمار کی فوجی حکومت کے نمائندوں کو تسلیم کرنے کا معاملہ غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا ہے۔

    امریکا، روس اور چین سمیت 9 ممالک پر مشتمل اقوام متحدہ کی کریڈنشلز کمیٹی کے معاہدے پر مشتمل قرارداد کو اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے ووٹنگ کے بغیر اتفاق رائے سے منظور کرلیا۔

    گزشتہ ہفتے کمیٹی نے جنرل اسمبلی کے موجودہ سیشن کے لیے افغانستان اور ’میانمار کے نمائندوں کی شمولیت کو مؤخر کرنے‘ کی تجویز دی تھی، جنرل اسبملی کا موجودہ سیشن ستمبر 2022 میں ختم ہوگا۔

    9 ممالک پر مشتمل کریڈنشلز کمیٹی کی صدارت اس وقت سویڈن کے پاس ہے اور مستقبل قریب میں کمیٹی کا مزید کوئی اجلاس ہونے کی بھی امید نہیں ہے۔

    افغانستان اور میانمار کے معاملے پر اقوام متحدہ میں نئی اور پرانی حکومتوں کی جانب سے دو مختلف درخواستیں موجود تھیں۔

    میانمار میں یکم فروری کو فوجی قبضہ ہونے کے بعد وزیر خارجہ وونا ماونگ لوین نے 18 اگست کو سابق فوجی کمانڈر اونگ تھورئین کو اقوام متحدہ میں تعینات کیا تھا۔

    تاہم سابق سربراہ آنگ سان سوچی کی جانب سے اقوام متحدہ میں تعینات کیے گئے نمائندہ کیاو مو تُن نے فوجی قیادت کا حکم ماننے سے انکار کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے درخواست کی ان کی نمائندگی کو برقرار رکھا جائے۔

    سابق افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے اقوام متحدہ میں تعینات سفیر غلام اسحٰق زئی نے بھی 14 ستمبر کو اقوام متحدہ میں اسی قسم کی درخواست دی تھی۔

    طالبان نے اگست کے وسط میں افغانستان میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد 20 ستمبر کو اقوام متحدہ سے درخواست کی کہ وہ ان کے سابق ترجمان سہیل شاہین کو افغانستان کے نئے نمائندے کے طور تسلیم کرلے۔

    طالبان اور میانمار کی فوجی حکومت نے اپنے نامزد کردہ نمائندوں کی منظوری نہ دینے پر اقوام متحدہ کی کریڈنشلز کمیٹی پر تنقید کی ہے۔

    گزشتہ ہفتے سہیل شاہین نے کہا کہ ’یہ فیصلہ قانونی تقاضوں اور انصاف کے اصولوں پر مبنی نہیں ہے کیونکہ انہوں نے افغان عوام کو ان کے قانونی حق سے محروم کیا ہے‘۔

    میانمار کی فوجی حکومت کے ترجمان زا مِن تُن کا کہنا تھا کہ کمیٹی کا فیصلہ زمینی حقائق کا عکاس نہیں ہے۔

    اقوام متحدہ کی کریڈنشلز کمیٹی نے بدھ کے روز 191 ممالک کے نمائندگان کی منظوری دی جس میں صرف وینزویلا کے نمائندے پر امریکا نے اعتراض اٹھایا۔