Baaghi TV

Tag: ریاض علی خٹک

  • کمزوری کا پردہ — ریاض علی خٹک

    کمزوری کا پردہ — ریاض علی خٹک

    ویرانے میں بنے کسی گھر میں کچھ دیر قیام کرنے والے مسافروں کے تاثرات الگ الگ ہوں گے. ایک چور سوچے گا یہ جگہ چوری کے بعد کچھ دن چھپنے کیلئے بہترین ہے. ایک شاعر سوچے گا کچھ عرصہ بھیڑ بھاڑ سے دور فطرت میں رہنے اور اسکے حسن کو بیان کرنے کیلئے کتنی بہترین جگہ ہے. ایک طالب علم اسے الگ نظر سے سوچے گا تو کوئی شکی مزاج اُس پہلے آدمی پر شک کرے گا کہ آخر اس ویرانے میں یہ چھت اس نے بنائی کیوں..؟

    ہم ویسے ہی دیکھتے ہیں جیسے ہم ہوتے ہیں، ویسے ہی سوچتے ہیں جیسی ہماری شخصیت ہوتی ہے. وہی نتائج نکالتے ہیں جو ہمارے پسندیدہ ہوتے ہیں. ایک منفی شخصیت کو اپنے آس پاس سب کچھ غلط نظر آرہا ہوتا ہے. وہ دن رات آس پاس وہ برائیاں ڈھونڈ رہا ہوتا ہے جنکا وہ خود شکار ہوتا ہے. وہ مسائل بیان کر رہا ہوتا ہے جن کا وہ خود شکار ہوتا ہے. پھر پریشان بھی ہوتا ہے اور پریشان بھی کرتا ہے.

    اسے ہر وقت کا ایک شکوہ ہوتا ہے ” لوگ نہیں بدل رہے” . وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اس دنیا میں صرف ایک ذات ہے جسے وہ بدل سکتا ہے. وہ یہ "خود” ہے. باقی لوگوں کو بدلنے کی طاقت اس کے پاس نہیں صرف اچھائی یا برائی کی طرف دعوت ہی وہ دے سکتا ہے. جو طاقتور لوگ ہوتے ہیں وہ خود کو بدلتے ہیں. جو کمزور شخصیت ہوتی ہے وہ دوسروں میں پھر اپنی کمزوری کے جواز ڈھونڈتی ہے. یہی ان کی کمزوری کا پردہ ہوتا ہے.

  • حقوق کی سمجھ — ریاض علی خٹک

    حقوق کی سمجھ — ریاض علی خٹک

    ایک طویل عرصہ پاکستان کے پرائیویٹ سیکٹر میں کام کر کے ایک تجربہ حاصل ہوا. جب سالانہ تنخواہ میں اضافہ ہوتا ہے تو کوئی ورکر ملازم اس شرح پر سوال نہیں کرتا جس شرح سے کمپنی تنخواہ میں اضافہ کر رہی ہوتی ہے. نہ کسی کو اس سال کمپنی کے نفع نقصان کو جاننے میں دلچسپی ہوتی ہے. سارے اعتراض و خوشی ناراضگی اسی پر ہوتی ہے فلاں کا اضافہ مجھ سے زیادہ کیسے.؟ یا فلاں سے کم کیوں.؟

    ہمارا وہ کلچر ہے جہاں ہمیں ٹانگ کھینچنے کیلئے کسی پرائے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی. ہم خود ایک دوسرے کیلئے بہت ہیں. اس لئے ایک بڑی اکثریت دیہاڑی والی مزدور بن گئی ہے. صبح آو کام کرو شام کو جاتے تسلی لے لو آج کی دیہاڑی لگ گئی. بیماری اپنا گھر اور کل کے بڑھاپے میں جب دیہاڑی لگانا ممکن نہ ہوگا تب کیا ہو گا.؟ اس کیلئے جلد سے جلد بچے پیدا کرو ان کو بھی دیہاڑی پر لگاو تا کہ کل محفوظ ہو جائے.

    سوشل سیکورٹی پینشن کا حق کیا ہے.؟ کنزیومر رائٹس کیا ہیں.؟ ایک ٹرک ڈرائیور زندگی بھر سڑکوں پر رُلتا پھرتا ہے. اس کی زندگی رسہ ترپال کرتے یا پرانی گاڑی کے ٹائر بدلتے گزر جاتی ہے. تنخواہ اس کی چند ہزار ہوتی ہے. لیکن اس ذمہ داری کا صلہ اس کو کیا ملتا ہے؟ کیا ملک و قوم کل اس کی ذمہ داری اٹھائے گی.؟ کل سارے ٹرک والے ہڑتال کر دیں تو ملک و قوم کو پتہ چل جائے ان کمزور کندھوں پر کتنی ذمہ داری ہے.

    اشرافیہ نے طریقے سیکھ لئے ہیں. وہ زکوٰۃ صدقات تو شوق سے دیتے ہیں. لیکن مزدور کا حق دینا سب کو مشکل لگتا ہے. کل روز محشر ان کے سامنے اگر نیدر لینڈ ڈنمارک اسرائیل کی مثال رکھ دی گئی کہ بتاو ان کافروں نے بھلے صدقات و حیرات نہیں کی لیکن اپنے ہر حقدار کو اسکا پورا پورا حق دیا تب ان کو پتہ چلے گا نفس کی تسلی کے تماشے یہاں کر کے خود کو یہ تسلی دے سکتے ہیں لیکن یہ انصاف نہیں ہے.

    جب تک ہمیں اپنے حقوق کی سمجھ نہیں آئے گی ہم سب ایک دوسرے سے لڑیں گے. حقوق چھین لینے والے چین کی بانسری ہی بجائیں گے. ان سے تو کوئی سوال بھی نہیں کرتا کیونکہ ہمیں ایک دوسرے سے فرصت ہی نہیں.

  • اندر کا خاموش معمار — ریاض علی خٹک

    اندر کا خاموش معمار — ریاض علی خٹک

    اُردن کے تاریخی شہر جرش کی تاریخ بہت قدیم ہے. عیسی علیہ السلام سے چار صدی پہلے سکندرِ اعظم کے دور میں یہ شہر آباد ہوا. لیکن اسے عروج رومن دور میں ملا. آج یہ رومن دور کے آثارِ قدیمہ سے بھرا ایک مشہور سیاحت کا مقام ہے. اسکا تھیٹر ہو یا قدیم معبد آج بھی اپنی شان و شوکت سے دیکھنے والوں کو متاثر کرتے ہیں.

    دیکھنے والے جب رومن دور کے کھڑے وہ لمبے ستون دیکھتے ہیں جسے تراشے پتھروں سے کھڑا کیا گیا ہے یا تھیٹر کی سنگلاخ سیڑھیوں پر بیٹھ کر میدان میں دیکھتے ہیں تو ان نامعلوم معماروں کے فن کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے اس قدیم دور میں وہ تعمیر کھڑی کی جسے صدیوں کی مسافت بھی مکمل ڈھیر نہ کر سکی.

    ہم انسانوں کی یہ عادت ہے ہم متاثر دیکھ کر ہوتے ہیں. آپ کوئی گاڑی خریدنے جائیں تب بھی پہلے اس کی باڈی رنگ اور ڈیزائن دیکھیں گے. یہاں اگر آپ متاثر ہوئے تب انجن اور فیچرز سمجھنے کی کوشش شروع کریں گے. ہم دوسرے انسانوں کو بھی پہلے شکل لباس اور نشست و برخاست پر تولتے ہیں. اگر متاثر ہوئے تب ہی اس کے شعور اس کی شخصیت پر جاتے ہیں.

    رومنز کو یہ صدیوں پہلے پتہ تھا. اس لئے آج بھی بھلے ہم ان تاریخی مقامات کے معماروں کو نہیں جانتے لیکن ان کی پہچان زندہ ہے. جب کوئی اس انسانی وصف کے خلاف چلتا ہے تب اسے بہت مایوسی ہوتی ہے. لوگ تھیٹر کی سیڑھیوں پر بیٹھ جاتے ہیں اور یہ غریب نیچے میدان میں تماشا بن جاتے ہیں.

    لوگ آپ کا پہناوا سلیقہ اور تہذیب دیکھ رہے ہوتے ہیں. آپ کے اندر کا خاموش معمار اگر چاہتا ہے کہ لوگ اس سے متاثر ہوں تو اسے اس پر وقت محنت اور سرمایہ خرچ کرنا ہوگا. ہاں البتہ اگر کسی کو متاثر کرنے کی خواہش ہی نہیں تب آپ آزاد ہیں. دیو جانس قلبی کی طرح سکندرِ اعظم بھی آپ کے سامنے کھڑا ہو کر پوچھے کیا چاہتے ہو. آپ اسے بول سکتے ہیں سامنے سے ہٹو دھوپ آنے دو. مجھے کچھ دھوپ چاہئے.

  • بے لوث سلسلہ — ریاض علی خٹک

    بے لوث سلسلہ — ریاض علی خٹک

    دوستو جس دن میں صبح جلدی آفس آتا ہوں ایک منظر بڑی پابندی سے دیکھتا ہوں. یہ کوئی سفید ریش بڑے میاں ہیں جو غالباً کسی فیکٹری میں چوکیدار ہیں. آوارہ کتوں کی ان سے محبت دیدنی ہوتی ہے. اس راستے پر سینکڑوں لوگ گزر رہے ہوتے ہیں نہ وہ ان آوارہ کتوں کو نوٹس کرتے ہیں نہ کتے ان کو درخور اعتنا سمجھتے ہیں.

    لیکن جیسے ہی یہ بزرگ چوکیدار ایک شاپر لئے فٹ پاتھ پر نمودار ہوتے ہیں آس پاس دور دور سے آوارہ کتے ان کی طرف ایسے لپکتے ہیں جیسے غریب بچوں کا باپ شام کوئی شاپر لے کر گھر میں داخل ہوتا ہے. بچے ہنسنا رونا جھگڑنا کھیلنا چھوڑ کر اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں. یہ چوکیدار پھر ان کے سامنے کھانا ڈالتا ہے.

    مجھے یہ منظر اچھا لگتا ہے. مجھے کتوں سے سچی بات ہے بہت ڈر لگتا ہے. میں جب اس چوکیدار کو دیکھتا ہوں جس سے یہ آوارہ کتے لاڈ و نیاز کرتے ہیں تو ایک عجیب سا رشک اس پر آتا ہے. میں سوچتا ہوں ان سرد راتوں میں یہ آوارہ کتے اس صبح اور اس مہربان شخصیت کا کتنا انتظار کرتے ہوں گے.

    قدرت کو بھی یہ پسند آتا ہے. کیونکہ ایسے سلسلے پھر جاری رہتے ہیں. بے لوث انتظار جس میں ایک خاموش تشکر کے سوا کچھ نہ ہو کوئی بدلہ کوئی حساب نہ ہو ایسے حساب پھر قدرت اپنے ہاتھ میں لے لیتی ہے. کیا آپ نے بھی ایسا کوئی خاموش بے لوث سلسلہ قدرت کے ساتھ جوڑ رکھا ہے.؟ کیا آپ کا بھی کہیں خاموش انتظار ہو رہا ہوتا ہے.؟

  • غریب اور بے وکیل — ریاض علی خٹک

    غریب اور بے وکیل — ریاض علی خٹک

    روس میں ایک بزرگ غریب عورت نے ایک دکان سے ایک چھوٹی کیتلی چرا لی. وہ پکڑی گئی. مشہور روسی وکیل نکی فوروچ نے اسکا کیس لڑنے کا فیصلہ کیا. جیوری نکی فوروچ کو جانتی تھی. اس لئے اس نے غربت کی مجبوری کا استدلال نکی فوروچ سے چھین لیا.

    جیوری نے کہا ہم جانتے ہیں یہ بہت غریب اور مجبور ہے. لیکن مسئلہ قانون اور روس کا ہے. چوری بھلے بہت سستی کیتلی کی ہوئی لیکن اگر اس پر سزا نہ دی گئی تو یہ وہ دروازہ کھول دے گی جو عظیم روس کی تباہی کا پیش خیمہ بن جائے گا. نکی فوروچ پھر کھڑا ہوا اور جج سے کہا.

    روس پر پچھلے ہزار سال میں بڑے بڑے امتحان آئے نپولین آیا جرمن آئے روس لیکن کھڑا رہا. روس نے ہر چیلنج کا سامنا کیا اسے شکست دی اور آج پہلے سے زیادہ مضبوط اور طاقت کے ساتھ کھڑا ہے. البتہ آج ایک غریب بڑھیا عورت نے ایک چھوٹی کیتلی چرائی ہے اور روس تباہی کے دہانے پر کھڑا ہوگیا ہے. جج صاحب اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ کیتلی روس کو تباہ کر سکتی ہے تو اس بڑھیا کو سزا سنا دیں. بڑھیا رہا کر دی گئی.

    ہمارے ملک نے بھی بڑے بڑے چیلنجز کا سامنا کیا ہے. 75 سال ہم نے اس دنیا میں کسی نہ کسی طرح نکال لئے. لیکن آج عجیب صورتحال ہے. غریب کیلئے کوئی نکی فوروچ وکیل دستیاب نہیں ہے. جب کے امیر اور اشرافیہ کیلئے انصاف بھی ہے وکیل بھی ہے اور جج بھی دستیاب ہے. ہمارا تو غریب بھی دوسرے غریب کی وکالت نہیں کرتا. بلکہ اشرافیہ کے کسی ایک فرد کی محبت میں دوسرے غریب کو کھڑے کھڑے سزا سنا دیتا ہے.

    یہاں کسی غریب کیلئے انصاف اب نہیں رہا کوئی وکیل نہیں رہا. اس لئے لگتا ہے ہمارا ملک واقعی خطرے میں ہے. اکثریت غریب اور بے وکیل ہے.

  • خود سے اور دوسروں سے نفرت کرتے کردار — ریاض علی خٹک

    خود سے اور دوسروں سے نفرت کرتے کردار — ریاض علی خٹک

    اولمپکس میں تماشائیوں سے بھرے سٹیڈیم میں دوڑ کے چیمپئن یوسین بولٹ کے ساتھ مقابلے میں اس وقت دنیا کے بہترین سائنسدان میوزیشن اداکار استاد جج ڈاکٹر انجینئر کو دوڑا دیں. پورا سٹیڈیم یوسین بولٹ کیلئے تالیاں بجائے گا. باقی سب لوگ تو مذاق ہی بن جائیں گے. لیکن یوسین بولٹ کو باکسنگ رنگ میں مائیک ٹائسن کے سامنے کھڑا کر دیں یوسین بولٹ کی آنے والی نسل بھی باکسنگ رنگ سے نفرت شروع کر دے گی.

    ان سب کا اپنا اپنا الگ میدان ہے. یہ اپنے اپنے میدان کے چیمپین ہیں. یہی چیمپین دوسرے میدان میں دوسروں کیلئے مذاق بن جائے گا. اور اسے خود سے نفرت ہو جائے گی. ہاورڈ گارڈنر کی مشہور اور ایک تفصیلی تھیوری ہے کہ ہر فرد کی مہارت و ذہانت کا میدان الگ ہے. لتا منگیشکر کی آواز میں اسی سال کی عمر میں ترنم تھا جبکہ آپ بھلے نوجوان ہوں لیکن اگر گانا شروع تو سب ہاتھ جوڑ کر منہ بند کرنے کی فرمائش کر دیں گے.

    گارڈنز کہتا تھا ذہانت کوئی دانشورانہ صلاحیت نہیں بلکہ مختلف لوگوں کی ذہانت کا میدان الگ ہوگا. کوئی موسیقی کی صلاحیت لے کر آیا ہوگا کوئی دوسروں کے احساس سمجھنے میں ماہر ہوگا کوئی حساب کتاب و منطق میں یکتا ہوگا کوئی زبان کا ماہر ہوگا. کسی کی آنکھ اور ہاتھ کا وہ تال میل ہوگا جو اسے آرٹسٹ بنا دے گا.

    یہ خود سے اور دوسروں سے نفرت کرتے کردار وہ لوگ ہوتے ہیں جو ایسے دانشوروں کے ہاتھ چڑھ جاتے ہیں جو مچھلی کو کھیتی باڑی سکھانا چاہتے ہیں تو گائے کو تیرنا پرندے کے پر اتارتے ہیں تو ہاتھی کو آڑنے پر راضی کرنا چاہتے ہیں. دنیا کے سٹیڈیم کو یہ دانشور کچھ دیر کے قہقہے تو ضرور دے دیتے ہیں لیکن ان کے تراشے کردار پھر نفرت کرنا سیکھ جاتے ہیں.

  • ایمانداری بہترین میدان ہے؟ — ریاض علی خٹک

    ایمانداری بہترین میدان ہے؟ — ریاض علی خٹک

    شوہر کا موڈ صبح صبح بہت خوشگوار تھا. اس نے اپنی بیگم سے کہا چلو واک کرنے باہر چلتے ہیں. بیگم نے غور سے اپنے شوہر کو دیکھا اور کہا یعنی تم سمجھتے ہو میں موٹی ہوں.؟ شوہر نے ہنس کر کہا نہیں یار میں نے ایسا کب کہا یہ تو تم نے نتیجہ نکال لیا.

    بیگم نے کہا اسکا مطلب تم سمجھتے ہو میں موٹی بھی ہوں اور جھوٹی بھی ہوں. شوہر نے کہا یہ کیا بے وقوفی ہے. میں نے ایسا کب کہا.؟ بیگم نے کہا مطلب تم یہ کہہ رہے ہو میں موٹی بھی ہوں جھوٹی بھی اور بے وقوف بھی.؟ شوہر نے کہا بیگم بس تم گھر بیٹھو میں خود واک کر کے آجاتا ہوں.

    بیگم نے کہا ہاں ہاں جائیں. آپ کو تو اکیلے واک پر جانے کا بہانہ چاہئے. مجھے کہاں لے کر جائیں گے. پتہ نہیں کس سے ملنا ہے کسے دیکھنا ہے اور شوہر خاموشی سے بیٹھ گیا. کیونکہ کچھ جگہوں پر بحث میں آپ جیت ہی نہیں سکتے. بھلے آپ کتنے ہی کلئیر کیوں نہ ہوں.

    بنجامن فرینکلن ایک دن جارج واشنگٹن سے ایک ضروری مشورہ کرنے گیا. واشنگٹن نے اسے کہا ایمانداری بہترین میدان ہے. تم ایمانداری سے اپنے مقام پر کھڑے رہو. بنجامن فرینکلن نے کہا نہیں جارج یہ پالیسی ہر جگہ نہیں چلتی. جیسے بیگم پوچھ لے کیا اس لباس میں، میں موٹی تو نہیں لگ رہی.؟ اب آپ ایمانداری سے یہ نہیں بتا سکتے کہ مسئلہ لباس کا نہیں ہے. تم موٹی ہی ہو.

  • لوگ خود سیکھ جاتے ہیں — ریاض علی خٹک

    لوگ خود سیکھ جاتے ہیں — ریاض علی خٹک

    امریکی ریاست اوہائیو کے ایک شراب خانے میں ایک آدمی ٹام مئیر مارا گیا اور تھامس نامی شخص کو اس کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا. تھامس نے کلیمنٹ نامی ایک وکیل کیا اور اسے کہا میں تمہیں سچ بتاوں میں نہیں جانتا ٹام کیسے مرا کس نے مارا لیکن یہ حقیقت ہے میں نے نہیں مارا.

    کلیمنٹ نے اس کیس پر کافی ریسرچ کی. مقتول ٹام کے اپنے پستول پر تحقیق کرتے اسے سمجھ آیا کہ مقتول اپنا پستول نکالتے ہوئے خود اپنی گولی سے مرا. یہ سال 1871 کی بات ہے جب گولی کی فرانزک نہیں ہوتی تھی. بھری عدالت میں وکیل نے جج کو قائل کرنے کیلئے جب اسی انداز میں وہی پستول نکالا تو گولی پھر چل گئی. وکیل کلیمنٹ کو اسی مقام پر گولی لگی جہاں ٹام مئیر کو لگی تھی اور وکیل بھی جان کی بازی ہار گیا.

    تھامس کیس جیت گیا اور رہا ہوگیا. لیکن وکیل کلیمنٹ ایک چیز بتا گیا. دوسروں کو قائل کرنا اور وکالت آسان کام بلکل نہیں ہے. روزانہ کا نیا سورج آپ کی زندگی میں آپ کیلئے ایک نیا دن بن کر آتا ہے. اسے دوسروں کی ان عدالتوں میں تاریخیں بھگتے نہ گزاریں جہاں یقین دلانے کیلئے مرنا لازم ہو جائے. آپ روزانہ تھوڑا تھوڑا کر کے مر جائیں گے.

    جولیس سیزر جیسا بادشاہ ہو یا دنیا کے مشہور فلسفی اور ادیب یہ سب ایک قول بتا کر گئے ہیں” لوگ ہمیشہ وہی مانتے ہیں جو وہ ماننا چاہیں” اس لئے منوانے کی چاہت ہی نہ رکھیں کیونکہ اس کیلئے آپ کو وکیل بننا ہوگا. بنجامن فرینکلن نے انسانی نفسیات کا تجزیہ کرتے کہا تھا کہ جب ہمیں بتایا جائے تو ہم بھول جاتے ہیں. جب ہمیں پڑھایا جائے تو یاد رہتا ہے اور جب ہم کرنے میں شامل ہوں تو سیکھ لیتے ہیں.

    لوگ خود سیکھ جاتے ہیں. ان کو اپنی زندگی جینے دیں. ہم بھی تو صرف آپ کو پڑھا رہے ہیں شائد کہ آپ کو یاد رہے. آپ کر کے سیکھ لیں.

  • باقاعدہ موٹیویشن — ریاض علی خٹک

    باقاعدہ موٹیویشن — ریاض علی خٹک

    ہمارے ہاں لوگ باقاعدہ موٹیویشن کا مذاق اڑاتے ہیں. وہ سمجھتے ہیں یہ سب کتابی باتیں ہیں. اس سے کسی کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا. انہوں نے موٹیویشن کو سمجھا ہی نہیں ہے.

    عرصہ ہوا میں نے ایک بار بیگم سے کہا یہ طارق روڈ یہ برانڈز کی دکانیں یہ شاپنگ پلازہ میں بڑے بڑے کرائے پر مہنگی دکانیں لے کر اشیاء بیچنے والے معیاری چیز نہیں دیں گے تو اور کیا دے سکتے ہیں.؟ لیکن اس میں کوئی فن نہیں ہے. چیز دیکھی رنگ پسند کیا اور اٹھالی بھلا اس میں شاپنگ کیا ہوئی.؟ آن لائن چند تصاویر دیکھ کر چیز خرید لینے میں فن کہاں ہے.؟

    بیگم نے کہا پھر کہاں ہے.؟ میں نے کہا اتوار بازار میں جمعہ بازار میں بدھ بازار میں. جہاں دکاندار کے ڈھیر میں اچھی معیاری چیز بھی ہوتی ہے اور سستی غیر معیاری بھی. وہ بھی فنکار ہوتا ہے سستی چیز مہنگی کے ساتھ ملا کر اس صفائی سے بیچتا ہے کہ آپ کو پتہ بھی نہیں چلے گا. جیسے اچھے سیبوں میں دو دانے داغ والے ملا دیتا ہے.

    اس بازار سے معیاری چیز نکال کر لانا آرٹ ہے کمال ہے. میری موٹیویشن کام کر گئی. اب وہ ہر بازار میں جاتی ایک ایک چیز پر مول تول کرتی. دیکھتی پرکھتی ہیں. اپنے فن کو اس بلندی پر لے گئیں ہیں کہ لنڈے کے ڈھیر میں سے بھی وہ پیس نکال لیتی ہیں کہ بندہ واقعی ششدر رے جائے. میرے نماز والا صافہ انہوں نے صرف تیس روپے میں خریدا اور پچھلے دو سال سے ان کے فن کے اعتراف میں ہم یہی استعمال کر رہے ہیں.

    یہ موٹیویشن ہی ہے جو اب عرصہ گزرا ہم کسی شاپنگ پلازہ یا برانڈ کی دکان میں گھسے ہی نہیں اور بے وقوف لوگ سمجھتے ہیں موٹیویشن کام نہیں کرتی. البتہ یہ سچ ہے کہ موٹیویشنل سپیکر کمائی بھلے نہ کریں بچت خوب ہو جاتی ہے.

  • فوری تسکین — ریاض علی خٹک

    فوری تسکین — ریاض علی خٹک

    دیہات کے وہ لوگ جنہوں نے مویشی پالے ہوں جانتے ہیں کہ کسی کٹے کی گردن میں پڑی رسی پکڑ کر اسے سنبھالنا کتنا مشکل ہے بنسبت ایک بھینس کے. بھینس کی رسی پکڑ لیں وہ آپ کے پیچھے آرام سے چل دے گی. لیکن کٹا آپ کو کھینچنے لگے گا. کیونکہ ابھی کٹے نے رسی سے سمجھوتہ نہیں کیا ہوتا.

    کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ کے ہاتھ سے آپکا قیمتی موبائل پھسل جاتا ہے لیکن گرنے سے پہلے آخری لمحے میں آپ کیچ کر لیتے ہیں. آپ سوچیں ہاتھ سے نکلنے کا دکھ زیادہ ہے یا کیچ کرنے کی خوشی.؟ آپکا دماغ فوراً بتائے گا کیچ کرنے کی خوشی زیادہ ہے. کیا اس خوشی کیلئے اب موبائل کو آپ کرکٹ کی بال بنا لیں گے.؟

    ہمارے بازار انسانی نفسیات سے کھیلتے ہیں. جیسے سود اور قرض قسطوں پر چیزیں بیچنے والے ہوں. یہ اپنا اشتہار ان الفاظ سے شروع کریں گے” ابھی پائیں” اور پھر آسان اقساط میں واپسی کریں وغیرہ. اس وقت ہمارے نفس کی مثال اس کٹے کی طرح ہو جاتی ہے جو رسی کمزور دیکھ کر سمجھتا ہے میں اس رسی پکڑنے والے کو کھینچ لوں گا.

    فوری تسکین یا instant gratification ہماری نفسیات کا حصہ ہے. ہمارا دماغ جب کچھ کیچ کرلے تو وہ یہ سوچنا نہیں چاہتا کہ گرا بھی تو مجھ سے تھا. آخر میں اتنا غائب دماغ کیوں ہوا.؟ لیکن کیچ اسے اپنا کارنامہ لگتا ہے. ان قرضوں کے جال میں وہی لوگ پھنستے ہیں جو فوراً کوئی کارنامہ کرنا چاہتے ہوں. لوگ ان کی واہ واہ کریں. بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی.

    لیکن کچھ عرصہ بعد وہ قرض ان کی گردن کی وہ رسی بن جاتی ہے جس سے وہ سمجھوتہ کر چکے ہوتے ہیں. پھر سود خور ان کا دودھ بیچ رہے ہوتے ہیں. اور یہ اسے اپنا نصیب سمجھ لیتے ہیں.