Baaghi TV

Tag: سعودی عرب

  • سعودی جیلوں سے 2019 سے 2024 تک 7 ہزار 208 پاکستانی رہا

    سعودی جیلوں سے 2019 سے 2024 تک 7 ہزار 208 پاکستانی رہا

    سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان کے بعد رہا ہونے والے پاکستانی قیدیوں کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں

    سینیٹ کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران وزارت خارجہ نے اپنے تحریری جواب میں سعودی ولی عہد کے حالیہ دورہ پاکستان کے بعد سعودی عرب کی جیلوں سے رہا کیے گئے پاکستانی قیدیوں کی تفصیلات ایوان میں پیش کیں۔وزارت خارجہ کے مطابق، سعودی جیلوں سے 2019 سے 2024 تک 7 ہزار 208 پاکستانی قیدیوں کو رہا کیا گیا۔ ان قیدیوں کی رہائی کی تفصیل درج ذیل ہے

    2019 میں 545 پاکستانی قیدیوں کو رہا کیا گیا۔
    2020 میں 892 قیدی رہا ہوئے۔
    2021 میں 916 پاکستانی قیدیوں کو آزادی ملی۔
    2022 میں 1331 پاکستانی قیدیوں کو رہا کیا گیا۔
    2023 میں 1394 پاکستانی قیدیوں کو سعودی جیلوں سے آزاد کیا گیا۔
    2024 میں 2130 پاکستانی قیدیوں کو سعودی جیلوں سے رہا کیا گیا۔

    مزید برآں، وزارت خارجہ کے تحریری جواب میں یہ بھی ذکر کیا گیا کہ اس وقت مختلف ممالک کی جیلوں میں 23 ہزار 456 پاکستانی قید ہیں۔ ان قیدیوں میں سب سے زیادہ پاکستانی خلیجی ممالک کی جیلوں میں قید ہیں۔ سعودی عرب میں 12 ہزار 156 پاکستانی قید ہیں، یو اے ای میں 5 ہزار 292، یونان میں 811 اور قطر میں 338 پاکستانی جیلوں میں ہیں۔

    یہ تفصیلات سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان کے بعد پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے کیے گئے اقدامات کی عکاسی کرتی ہیں، جس کا مقصد دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنا ہے۔

    لاہور،شیراکوٹ میں کارخاص کی فائرنگ سے پولیس اہلکارقتل

  • ٹرمپ کی سعودی  اسرائیل  تعلقات میں بہتری  کی امید

    ٹرمپ کی سعودی اسرائیل تعلقات میں بہتری کی امید

    امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ابراہام معاہدے میں شمولیت کے امکان کا اظہار کیا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صدرات سنبھالنے کے بعد وائٹ ہاؤس میں بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب بالآخر ابراہام معاہدے میں شامل ہو جائے گا۔ اس معاہدے کا مقصد اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان تعلقات کو مستحکم کرنا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب کی اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں بہتری آنے کی امید ہے، جس سے مشرق وسطی میں امن اور استحکام کی راہیں ہموار ہوں گی۔

    پیر کے روز ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کے 47 ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا اور اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ اب امریکا ترقی کرے گا اور وہ اپنے دور میں امریکا کو "پہلے رکھوں گا”۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا بہت جلد ایک مضبوط، عظیم، اور پہلے سے زیادہ کامیاب ملک بنے گا۔اپنے خطاب میں ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ان کی اولین ترجیح ایک ایسا ملک قائم کرنا ہے جو آزاد اور مضبوط ہو۔ انہوں نے اپنی صدارت کے دوران درپیش مشکلات کا ذکر کیا اور کہا کہ انھیں جن مشکلات کا سامنا ہوا وہ امریکی تاریخ میں کسی اور کو نہیں ہوئیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ امریکا کو پھر سے عظیم بنانے کے لیے کام کریں گے اور یہ دن امریکی شہریوں کی آزادی کا دن ہے۔ انہوں نے سیاہ فام اور لاطینی امریکی کمیونٹیز کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ ان کے مسائل کو سن کر ان کے لیے کام کریں گے۔ اس موقع پر انہوں نے مارٹن لوتھر کنگ ڈے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا اور اس دن کے موقع پر سیاہ فام کمیونٹی کے حقوق کے لیے کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

    نماز کی مبینہ بے حرمتی کا مقدمہ،رجب بٹ کی حفاظتی ضمانت منظور

    ٹرمپ نے حلف اٹھاتے وقت بائبل پر ہاتھ نہ رکھا

    جوبائیڈن کے 78 صدارتی اقدامات منسوخ،ٹرمپ نے اہم ایگریکٹو آرڈر پر کئے دستخط

  • سعودی عرب نے گریٹر اسرائیل نقشہ مسترد کر دیا

    سعودی عرب نے گریٹر اسرائیل نقشہ مسترد کر دیا

    سعودی عرب نے گریٹر اسرائیل کے متنازعہ نقشے کو مسترد کر دیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق سعودی عرب نے اسرائیلی نقشے کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا۔سعودی وزارت خارجہ کے مطابق اسرائیل نے نام نہاد گریٹر اسرائیل کے متنازعہ نقشے جاری کیے۔ جس میں عرب ممالک کے بعض علاقوں کو نام نہاد گریٹر اسرائیل کا حصہ قرار دیا گیا تھا۔ترجمان نے کہا کہ ایسے بے بنیاد اور انتہا پسند اقدامات اسرائیلی حکام کے غاصبانہ ارادوں کو ظاہر کرتے ہیں۔سعودی وزارت خارجہ نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ اسرائیلی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے کردار ادا کرے۔دوسری جانب قطری وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ اقدام دوسرے ممالک کی خود مختاری کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

    بجلی بلوں کےسیلز ٹیکس میں کمی نہیں ہوگی

    کراچی میں ایک بار پھر پانی بحران کا خدشہ

  • وزیر اعلیٰ پنجاب  سے سعودی عرب کے شہزادہ منصور کی ملاقات

    وزیر اعلیٰ پنجاب سے سعودی عرب کے شہزادہ منصور کی ملاقات

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے سعودی عرب کے صوبہ حفر الباطن کے سابق گورنر شہزادہ منصور بن مشعل آل سعود سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات، باہمی تعاون اور مختلف شعبوں میں پیش رفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

    ملاقات کے دوران وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے سعودی عرب کے سرمایہ کاروں کو پاکستان خصوصاً پنجاب میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے انفراسٹرکچر، صحت، تعلیم، اور مذہبی سیاحت کے شعبوں میں سعودی عرب کے سرمایہ کاروں کو خصوصی مراعات فراہم کرنے کی تیاریاں کی ہیں۔مریم نواز شریف نے مزید کہا کہ پنجاب میں کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے سیکیورٹی اور میرٹ کی بنیاد پر سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سعودی سرمایہ کاروں کو پنجاب میں خصوصی پیکج دینے کی پیشکش بھی کی، تاکہ سعودی عرب کے سرمایہ کار آسانی سے یہاں اپنے کاروبار کا آغاز کر سکیں۔

    مریم نواز شریف نے سعودی عرب کے پاکستان کے لیے ہمیشہ برادرانہ تعاون کو سراہا اور کہا کہ سعودی عرب پاکستان کا بڑا بھائی ہے اور دونوں ممالک کے عوام کے دل یکساں دھڑکتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سعودی عرب کی جانب سے ہمیشہ پاکستان کو تعاون فراہم کیا گیا ہے اور یہ دوطرفہ تعلقات خطے کے استحکام اور ترقی کے لیے نہایت اہم ہیں۔

    شہزادہ منصور بن مشعل آل سعود نے اس ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑا رہے گا اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔شہزادہ منصور نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو ہر سطح پر مزید مستحکم کرنے کے لیے تیار ہے اور سعودی عرب کی حکومت پنجاب سمیت پورے پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کی مکمل حمایت کرتی ہے۔

    مریم نواز شریف اور شہزادہ منصور کی ملاقات نے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے امکانات کو مزید روشن کیا۔ سعودی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستان میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے دروازے کھولنا دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے لیے اہم قدم ثابت ہو گا۔اس ملاقات کے نتیجے میں یہ واضح ہوا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات نہ صرف سیاسی اور سفارتی سطح پر بلکہ تجارتی اور اقتصادی شعبوں میں بھی مسلسل مضبوط ہو رہے ہیں۔

    قتل کا بدلہ؟ تھانے میں گھس کر فائرنگ،پولیس سوتی رہی،3 افراد قتل

    حماس کی 34 یرغمالیوں کی رہائی پر رضامندی

  • سعودیہ سمیت دیگر ممالک سے 63 پاکستانیوں کی بے دخلی

    سعودیہ سمیت دیگر ممالک سے 63 پاکستانیوں کی بے دخلی

    کراچی: سعودی عرب، یو اے ای، ملائیشیا اور عراق سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 63 پاکستانیوں کو بے دخل کر دیا گیا۔

    ائیرپورٹ ذرائع کے مطابق سعودی عرب، یو اے ای، ملائیشیا اور عراق سے پاکستانیوں کی بے دخلی کا عمل جاری ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ان ممالک سے مجموعی طور پر 63 پاکستانیوں کو بے دخل کیا گیا، جنہیں کراچی ایئرپورٹ پر پہنچنے کے بعد قانونی کارروائی کے بعد گھروں کو روانہ کر دیا گیا۔سعودی عرب سے بے دخل ہونے والوں میں 4 پاکستانی بلیک لسٹ ہونے کی وجہ سے، 15 افراد ہاروب ہونے کی وجہ سے اور 10 افراد زائد المیعاد قیام کے باعث پاکستان واپس بھیجے گئے۔

    ملائیشیا سے 16 پاکستانیوں کو ممنوعہ تارکین وطن کی حیثیت کی وجہ سے پاکستان واپس بھیجا گیا۔ یہ افراد اپنے ویزے کی شرائط کی خلاف ورزی کرنے کے سبب ملک سے بے دخل کیے گئے۔عراق سے 11 پاکستانیوں کو غیر قانونی داخلے اور زائد المیعاد قیام کے باعث ایمرجنسی پاسپورٹ کے ذریعے پاکستان واپس بھیجا گیا۔یو اے ای سے 4 پاکستانیوں کو بے دخل کر کے پاکستان روانہ کر دیا گیا۔ ان افراد کا تعلق غیر قانونی اقامت یا ویزے کی خلاف ورزی کرنے والے تارکین وطن سے تھا۔

    ائیرپورٹ ذرائع کے مطابق تمام افراد کی واپسی کے بعد قانونی کارروائی کی گئی ہے اور انہیں اپنے وطن واپس بھیج دیا گیا ہے۔ پاکستان کی حکومت اور متعلقہ ادارے ان معاملات پر نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ تارکین وطن کی صورتحال میں بہتری لائی جا سکے۔

    ڈی سی کرم پر فائرنگ کرنے والے دو مبینہ شرپسند گرفتار

    190 ملین پاؤنڈ کیس، فیصلے کی نئی تاریخ مل گئی

  • سعودی عرب کی ایک اور ایئرلائن کو پاکستان کیلئے آپریشن شروع کرنے کی اجازت

    سعودی عرب کی ایک اور ایئرلائن کو پاکستان کیلئے آپریشن شروع کرنے کی اجازت

    ریاض: سعودی عرب کی ایک اور ایئر لائن کو پاکستان کے لیے آپریشن شروع کرنے کی اجازت دے دی گئی۔

    باغی ٹی وی: رپورٹ کے مطابق سعودی آدیل ائیرلائن (Flyadeal) اپنا فلائٹ آپریشن 2 فروری سے شروع کررہی ہے، پہلی پرواز ریاض سے کراچی پہنچے گی، پروازیں کراچی ریاض اور جدہ کیلئے آپریٹ کی جائیں گی۔

    رپورٹ کے مطابق آدیل ایئر کی پہلی پرواز کراچی پہنچنے پر طیارے کو ایئرپورٹ اتھارٹی کی جانب سے واٹر سلوٹ پیش کیا جائے گا، سی اے اے فلائی آدیل کو پاکستان کے لیے فضائی آپریشن کی اجازت پہلے ہی دے چکی ہے سعودی عرب کی نئی ایرلائن کے پاکستان آنے سے مسافروں کو براہ راست سفری سہولت میسر آئے گی۔

    امریکا: شاپنگ سینٹر میں آتشزدگی کے باعث 500 سے زائد جانور ہلاک

    گلگت بلتستان میں پاک فوج کی جانب فری لانسنگ ہب کا قیام

    حکومت کا پلاسٹک بیگز کے استعمال پر پابندی پر عمل درآمد سخت کرنے کا فیصلہ

  • سعودی وزارت حج وعمرہ نے عمرہ زائرین کو بڑی خوشخبری سنادی

    سعودی وزارت حج وعمرہ نے عمرہ زائرین کو بڑی خوشخبری سنادی

    ریاض:مسجد نبویؐ میں ریاض الجنہ میں سال بھر میں ایک مرتبہ نوافل ادا کرنے کے حوالے سے عائد پابندی ختم کر لی گئی تاہم نسک موبائل کے ذریعے پرمٹ کی شرط برقرار رہے گی۔

    باغی ٹی وی: حرمین شریفین کے انتظامی امور کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے مطابق مسجد نبویؐ ریاض الجنہ میں ایک سال کے دوران صرف ایک مرتبہ نوافل ادا کرنے کے حوالے سے پابندی کو ختم کر دیا گیا ہے، تمام زائرین نسک موبائل ایپ کے ذریعے ہر 20 منٹ بعد نیا اجازت نامہ حاصل کر سکتے ہیں، مسجد نبویؐ میں موجود زائرین بھی نئے شیڈول کے مطابق موبائل ایپ کے ذریعے ریاض الجنہ میں نوافل ادا کرنے کے لیے اجازت نامے حاصل کر سکیں گے۔

    فیصلوں پر اعتماد میں نہیں لیا جا رہا ، حمایت ختم کرنے پر حکومت ختم ہو جائےگی ، پیپلز پارٹی

    صائم ایوب کو علاج کے لیے فوری لندن بھیجنے کا فیصلہ

    بھارت کو ایک اور دھچکا، چین نے لداخ کے اہم حصے اپنے نام کرلئے

  • سعودی عرب میں 6 ایرانیوں کے سر قلم

    سعودی عرب میں 6 ایرانیوں کے سر قلم

    ریاض: سعودی عرب میں منشیات اسمگلنگ کے جرم میں ایران کے 6 شہریوں کا سر قلم کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی:سعودی پریس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق منشیات اسمگلنگ کے جرم میں سزا پانے والے ایرانی شہریوں کا خلیجی ساحلی شہر دمام میں سرقلم کردیا گیامنشیات اسمگلنگ کے حوالے سے سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے بیان میں کہا کہ مذکورہ افراد کو خفیہ طریقوں سے سعودی عرب میں چرس لانے پر سزا دی گئی ہے تاہم مذکورہ افراد کی سزا پر کب عمل درآمد کیا گیا اس حوالے سے بیان میں کچھ نہیں بتایا۔

    سال 2025 میں سورج اور چاند کو کتنی بار گرہن لگے گا؟

    واضح رہے کہ سعودی عرب میں 2024 میں منشیات اسمگلنگ کے جرم میں 117 افراد کے سرقلم کردیئے گئے،سعودی عرب کی حکومت نے 2023 میں انسداد منشیات کی مہم شروع کردی تھی اور اس میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائیاں کرتے ہوئے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے تھے اور گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئی تھیں۔

    پاکستان میں رجب المرجب کا چاند نظر آگیا

    ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق سعودی عرب 2023 میں سب سے زیادہ سزائے موت دینے والے ممالک میں تیسرے نمبر پر تھا، اس سے پہلے چین اور ایران موجود تھے،انسانی حقوق کے ادارے سعودی عرب کے اس قانون پر مسلسل تنقید کررہے ہیں جبکہ سعود ی عرب کی حکومت کا مؤقف ہے کہ امن عامہ برقرار رکھنے کے لیے سزائے موت کا قانون ضروری ہے اور اس پر اسی وقت عمل درآمد کیا جاتا ہے جب اپیل مسترد ہو یا تمام مواقع ختم ہوجاتے ہیں۔

    تربیت یافتہ پاکستانی پائلٹس کو ایکسپورٹ کرنے کا اعلان

    سعودی عرب نے 2016 میں ایران کے ساتھ تعلقات اس وقت منقطع کر لیے تھے جب تہران میں اس کے سفارت خانے اور مشہد میں قونصل خانے پر شیعہ عالم نمر النمر کی پھانسی پر مشتعل مظاہرین کی جانب سے حملے کیے گئے تھے،مارچ 2023 میں چین کی ثالثی کے بعد سفارتی تعلقات بحال ہوئے تھے۔

    پشاور میں بلدیاتی نمائندوں کے احتجاج پر پولیس کی شیلنگ

  • سعودی عرب کو ریکوڈک کے 15 فیصد شیئرز فروخت کرنے کی منظوری

    سعودی عرب کو ریکوڈک کے 15 فیصد شیئرز فروخت کرنے کی منظوری

    پاکستان میں ریکوڈک منصوبے کے حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی ہے، جس کے تحت سعودی عرب کو ریکوڈک کے 15 فیصد شیئرز فروخت کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ وفاقی کابینہ نے 540 ملین ڈالر میں ریکوڈک کے 15 فیصد شیئرز سعودی عرب کو فروخت کرنے کی توثیق کر دی ہے، جس سے نہ صرف اقتصادی تعلقات میں بہتری آئے گی بلکہ بلوچستان کے معدنی وسائل کی ترقی میں بھی مدد ملے گی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کو یہ شیئرز بین الحکومتی ٹرانزیکشن ایکٹ کے تحت براہ راست فروخت کیے جائیں گے۔ سعودی عرب پاکستان کو اس سودے کے بدلے 540 ملین ڈالر کی رقم دو قسطوں میں ادا کرے گا۔ پہلے مرحلے میں 10 فیصد شیئرز کی منتقلی پر سعودی عرب 330 ملین ڈالر ادا کرے گا، جبکہ دوسرے مرحلے میں باقی 5 فیصد شیئرز کی منتقلی پر 210 ملین ڈالر کی ادائیگی کی جائے گی۔ذرائع کے مطابق سعودی عرب پاکستان کے لیے صرف ریکوڈک کے شیئرز خریدنے تک محدود نہیں ہے بلکہ وہ بلوچستان کے معدنی وسائل کی ترقی کے لیے مزید سرمایہ کاری کرنے کے لیے بھی آمادگی ظاہر کر چکا ہے۔ سعودی فنڈ برائے ترقی بلوچستان میں معدنیات کے شعبے کی ترقی کے لیے 150 ملین ڈالر کی اضافی رقم فراہم کرے گا۔

    اس وقت ریکوڈک منصوبے میں وفاقی اور بلوچستان حکومت کے پاس 50 فیصد شیئرز کی ملکیت ہے۔ ریکوڈک منصوبہ بلوچستان کے چاغی علاقے میں واقع ہے اور یہاں سونے اور تانبے کے بڑے ذخائر موجود ہیں، جو پاکستان کی معیشت کے لیے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔سعودی عرب چاغی کے علاقے میں بھی معدنیات کی تلاش اور ترقی کے لیے سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار ہو چکا ہے، جو پاکستان کے لیے ایک اہم اقتصادی موقع ہو گا۔ اس سے نہ صرف بلوچستان کی معیشت میں بہتری آئے گی بلکہ سعودی عرب کے ساتھ اقتصادی تعلقات بھی مزید مستحکم ہوں گے۔

    یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی ایک اہم کڑی ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری کا یہ قدم پاکستان کے لیے مالی فوائد کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں ترقی کے نئے امکانات بھی پیدا کرے گا۔اس پیش رفت سے پاکستان کو ریکوڈک منصوبے کے شیئرز فروخت کرنے کے ساتھ ساتھ سعودی عرب سے ترقیاتی فنڈز ملیں گے، جو نہ صرف ریکوڈک بلکہ بلوچستان کے دیگر معدنی وسائل کے استعمال کے لیے بھی معاون ثابت ہوں گے۔ اس سودے سے دونوں ممالک کو فائدہ ہوگا اور عالمی سطح پر پاکستان کی معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کی طرف ایک نیا رجحان پیدا ہو گا۔

    جنسی ہراسانی کیس،ٹرمپ کی نظر ثانی درخواست مسترد

    میئر لندن صادق خان کو بادشاہ چارلس نے نائٹ اعزاز سے نواز دیا

  • سعودی عرب ، 2024 میں سزائے موت میں تیزی سے اضافہ

    سعودی عرب ، 2024 میں سزائے موت میں تیزی سے اضافہ

    سعودی عرب میں 2024 کے دوران 330 افراد کو سزائے موت دی گئی ہے، جو کئی دہائیوں میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ یہ اضافہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی 2022 میں کی گئی اس یقین دہانی کے باوجود ہوا ہے کہ ان کے وژن کے مطابق مملکت میں موت کی سزا کا خاتمہ کر دیا گیا تھا، سوائے قتل کے معاملات کے۔

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اپنے "ویژن 2030” کے تحت سعودی عرب کو ایک جدید اور کھلا ملک بنانے کی کوششیں تیز کیں، جہاں سیاحت اور تفریحی صنعت کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کی قیادت میں سعودی عرب نے اپنے قدیم مذہبی اور انسانی حقوق کے ریکارڈ کو تبدیل کرنے کی کوششیں کی ہیں، تاہم، حالیہ برسوں میں سزائے موت میں اضافے نے ان کے اصلاحات کے دعووں پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔اس سال کی 330 سزائیں حقوقِ انسانی کی تنظیم "ریپریو” نے ریکارڈ کی ہیں، جسے رائٹرز نے تصدیق کیا۔ یہ تعداد گزشتہ برس کی 172 سزاؤں اور 2022 کی 196 سزاؤں سے بہت زیادہ ہے۔ "ریپریو” کا کہنا ہے کہ یہ اب تک کا سب سے زیادہ ریکارڈ ہے۔

    حقوقِ انسانی کی تنظیمیں اور دیگر عالمی ادارے سعودی عرب کی اس پالیسی پر تنقید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سال 150 سے زائد افراد کو غیر مہلک جرائم میں سزائے موت دی گئی، جن میں زیادہ تر افراد کو منشیات کے اسمگلنگ کے الزامات میں سزائیں دی گئیں۔ ان الزامات کا تعلق شام سے نکلنے والی کپٹگون سے ہے، جو سعودی عرب میں بڑے پیمانے پر اسمگل ہو رہی ہے۔سعودی حکومت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کو مسترد کرتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہیں۔ سعودی حکومت کا موقف ہے کہ وہ اپنے قانون کے مطابق، دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ جیسے جرائم سے نمٹنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

    اس سال کی سزاؤں میں 100 سے زائد غیر ملکی شہریوں کو بھی شامل کیا گیا، جن میں مشرق وسطیٰ، افریقہ اور ایشیا سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔ ان سزاؤں کے خلاف عالمی سطح پر تنقید کی گئی ہے کیونکہ ان میں اکثر افراد کو بغیر کسی وکیل یا مناسب دفاع کے موت کی سزا دی گئی ہے۔رائٹرز نے سعودی حکومت سے ان سزاؤں کی تفصیلات کے حوالے سے سوالات کیے، لیکن سعودی حکومت کی طرف سے کسی وضاحت یا جواب کا کوئی جواب نہیں آیا۔

    محمد بن سلمان نے 2017 میں اقتدار سنبھالا تھا اور ان کے اقتدار میں آنے کے بعد، سعودی عرب نے سیاسی آزادیوں پر سخت پابندیاں عائد کیں اور صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے معاملے میں عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا کیا۔ خاشقجی کو 2018 میں سعودی قونصلیٹ استنبول میں قتل کر دیا گیا تھا، جس پر سعودی عرب کو عالمی سطح پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

    محمد بن سلمان نے 2022 میں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ سعودی عرب نے سزائے موت کا خاتمہ کر دیا ہے، سوائے قتل کے مقدمات کے۔ تاہم، اس بیان کے باوجود سزائے موت میں اس قدر اضافہ ہوا ہے کہ ان کے اصلاحاتی دعوے اب زیر سوال ہیں۔سعودی عرب میں سزائے موت کے بڑھتے ہوئے واقعات نے عالمی سطح پر انسانی حقوق کے سوالات کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ جہاں ایک طرف سعودی ولی عہد ملک کو ایک کھلا اور ترقی یافتہ معاشرہ بنانے کے لیے کوشاں ہیں، وہیں سزائے موت میں اضافے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی رپورٹیں ان کے اصلاحات کے دعووں پر سوالیہ نشان بن چکی ہیں۔

    سعودی عرب نے افغانستان میں اپنے سفارتی مشن کا آغاز کردیا

    ہم جنس پرستوں کو سعودی عرب آنے کی اجازت

    سعودی عرب بارے بیان، بشریٰ بی بی کیخلاف کئی شہروں میں مقدمے درج

    ویڈیو:امریکی اداکارہ جینیفر لوپیز کی سعودی عرب میں بولڈ پرفارمنس،جلوے