امریکی نیوز ویب سائٹ کے مطابق پاکستان نے اشارہ دیا ہے کہ ترکیہ اور قطر بھی سعودی عرب کے ساتھ اس کے باہمی دفاعی تعاون کے معاہدے کا حصہ بن سکتے ہیں۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ’بلومبرگ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے پیر کی رات انٹرویو کے دوران کہا کہ اگر قطر اور ترکیہ بھی اس موجود ہ معاہدے میں شامل ہو جاتے ہیں تو یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہو گی اس اقدام کا مقصد ہم خیال ممالک کے درمیان تعاون کا ایک وسیع پلیٹ فارم بنانا ہے تاکہ علاقائی استحکام اور اجتماعی سلامتی کو مزید تقویت دی جا سکے اس انتظام کو فی الحال حتمی شکل دی جا رہی ہے اور مستقبل میں اسے ایک وسیع تر علاقائی سیکیورٹی فریم ورک کی شکل دی جا سکتی ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان تنازع نے خلیجی ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور توانائی کی ترسیل سمیت سمندری راستوں کی حفاظت کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہو گئے ہیں پاکستان اس بحران کے دوران ایک اہم سفارتی ثالث کے طور پر ابھرا ہے جو واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطوں میں آسانی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ مسلسل مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کی اپیل کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب اور پاکستان نے ستمبر 2025 میں ایک اسٹریٹجک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت کسی بھی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا ایران کی جانب سے علاقائی اہداف پر جوابی حملوں کے بعد سے دونوں ممالک نے سیکیورٹی کوآرڈینیشن میں مزید اضافہ کر دیا ہے اور گزشتہ ماہ پاکستانی فوج کا ایک دستہ بھی سعودی عرب پہنچا ہے اگر ترکیہ اور قطر بھی اس انتظام کا حصہ بنتے ہیں تو اس سے کئی بااثر مسلم ممالک ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو جائیں گے، جو خطے کی سیکیورٹی اور استحکام میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
