Baaghi TV

Tag: سعودی عرب

  • سعودی وزارت مذہبی امور کی سرپرستی میں حفظ قرآن کریم مقابلہ کا انعقاد

    سعودی وزارت مذہبی امور کی سرپرستی میں حفظ قرآن کریم مقابلہ کا انعقاد

    جامعہ سلفیہ اسلام آباد میں سعودی وزارت مذہبی امور کی سرپرستی اور جامعہ سلفیہ کے اشتراک و تعاون سے عظیم الشان مقابلہ حفظ قرآن کریم کا انعقاد کیا گیا ۔جس میں راولپنڈی اور اسلام آباد بھر کے حفظ قرآن کے مدارس کے طلبہ نے حصہ لیا، ساتھ ہی جامعہ سلفیہ گرلز سیکشن میں رواں تعلیمی سال کا آل جامعہ تعلیمی وثقافتی مقابلہ بھی منعقد ھوا ، دونوں مقابلوں کے مشترکہ اختتامی تقریب میں پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر عزت مآب جناب نواف بن سعید المالکی ،اور سعودی سفارتخانے کے مذہبی اتاشی جناب شیخ یحییٰ بن علی سفیانی بطورمہمان خصوصی شریک ہوئے،

    رئیس الجامعہ حافظ شیخ محمد شفیق ،شیخ الحدیث جامعہ سلفیہ اسلام آباد علامہ ابراہیم خلیل الفضلی سمیت دیگر مقامی علمائے کرام اور معززین نے بھی شرکت کی ۔ اس موقع پر دونوں پروگراموں میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ وطالبات سمیت تمام شرکائے مقابلہ میں نقد انعامات تقسیم کیے گئے ۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی نے کہا کہ سعودی عرب برادر اسلامی ملک پاکستان کو انتہائی قدر ومنزلت کی نگاہ سے دیکھتا ھے، اور دونوں ممالک کے درمیان روابط اور تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لئے مختلف منصوبوں پر عملدرآمد جاری ہے جس کی سب سے بڑی مثال آج کا یہ منفرد پروگرام ھے جس کا مقصد امت مسلمہ کو قرآن کریم کے فیوض وبرکات سے فیضیاب کرانا ھے، انہوں نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ سعودی عرب ھر وقت پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رھے گا اور دونوں ملکوں کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لئے تمام تر اقدامات بروئے کار لائے جائیں گے

    اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے رئیس الجامعہ حافظ شیخ محمد شفیق نے عزت مآب سعودی سفیر اور حکومت سعودی عرب کا شکریہ ادا کیا اور اس طرح کے دینی، تعلیمی اور ثقافتی پروگراموں کے انعقاد کو دونوں ممالک کے عوام کو ایک دوسرے کے مزید قریب کرنے اور دو طرفہ دوستی ومحبت کو فروغ دینے کا بہترین ذریعہ قرار دیا.
    رپورٹ، محمد اویس، اسلام آباد

    غزہ سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی سنگین جرم ہے، آرمی چیف

    نوجوان فکری وسائل بروئے کار لاکر درپیش چیلنج کا حل تلاش کریں۔ آرمی چیف

    عمان کی رائل آرمی کے کمانڈر کی آرمی چیف سے ملاقات

    یوم تکریم شہدائے پاکستان کے موقع پر جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں مرکزی تقریب 

    یوم تکریم شہدائے پاکستان کی مناسبت سے نغمہ جاری

    ہندو برادری بھی شہداء کی عزت و تکریم کے لئے میدان میں آ گئی

  • غزہ جنگ: مسلم ممالک کے سربراہان چین کا دورہ کریں گے،سعوی وزارت خارجہ

    غزہ جنگ: مسلم ممالک کے سربراہان چین کا دورہ کریں گے،سعوی وزارت خارجہ

    ریاض: سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ غزہ میں جاری جنگ کے خاتمے کیلئےعرب، مسلم ممالک کے سربراہان چین کا دورہ کریں گے۔

    باغی ٹی وی: سعودی وزارت خارجہ کے مطابق شہزادہ فیصل نے کہا کہ پہلا پڑاؤ چین میں ہوگا، پھر ہم ایک واضح پیغام دینے کے لیے دوسرے دارالحکومتوں میں جائیں گےکہ فوری طور پر جنگ بندی کا اعلان کیا جائےاور مدد کی جائے،ہمیں اس بحران اور غزہ پر جنگ کو جلد از جلد ختم کرنے کے لیے کام کرنا ہے۔
    https://x.com/KSAmofaEN/status/1725907393135964582?s=20

    مذکورہ دورہ رواں ماہ ریاض میں ہونے والی مشترکہ عرب اور اسلامی سربراہی کانفرنس میں طے پانے والے فیصلوں کو عملی جامہ پہنانے کی جانب پہلا قدم ہو گا۔

    اسرائیل اور حماس کے درمیان امریکی حمایت یافتہ عارضی معاہدہ ہوگیا

    دوسری جانب ایرانی ایکسپیڈینسی ڈسرنمنٹ کونسل کے ایک سرکردہ رکن غلام علی حداد عادل نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ جنگ سے بچنے کے لیے غزہ کی لڑائی میں شرکت سے انکار کردیااسرائیل امید کر رہا تھا کہ ایران غزہ کی جنگ میں شامل ہو جائے گا اور اس کا امریکہ کے ساتھ تصادم شروع ہوجائے گاہمیں ان لوگوں سے کہنا چاہیے جو چاہتے ہیں کہ ایران غزہ کی جنگ میں داخل ہو، شاید یہ وہی چیز ہے جو صہیونی ادارہ چاہتا ہے، صہیونی ادارہ چاہتا ہے کہ غزہ کی جنگ کو ایران اور امریکہ کے درمیان دوسری جنگ میں بدل دیا جائے۔ ایران نے غزہ جنگ میں شرکت سے گریز کرنے کا درست فیصلہ کیا، اگر تہران جنگ میں شریک ہوجاتا تو صہیونی نظام محفوظ ہوجاتا ایران کا غزہ سے نکلنے کا فیصلہ فلسطینیوں کے مفاد میں ہے شاید ایران کا جنگ میں شامل ہونا فلسطینی کاز کے مفاد میں نہیں ہے۔

    فلسطینیوں کے حق میں پوسٹ شیئر کرنےپر ایکس اکاؤنٹ معطل کر دیا جائے گا،ایلون …

  • حج پالیسی کا اعلان، ایک لاکھ روپے کم کر دیئے گئے،وزیر مذہبی امور

    حج پالیسی کا اعلان، ایک لاکھ روپے کم کر دیئے گئے،وزیر مذہبی امور

    نگران وفاقی وزیر مذہبی امور انیق احمد نے حج پالیسی 2024 کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ حج پالیسی 2024 پر تین ماہ کام کیا، ہم چاہتے تھے کہ ہم حجاج کی دعائیں لیں،

    انیق احمد کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے اس سلسلے پر ہر قدم پر ہماری رہنمائی کی، سعودی حکومت نے بھی بھرپور تعاون کیا، کل یہ پالیسی کابینہ سے منظور ہوچکی، فواد حسن فواد کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہیں،ہم چاہتے تھے کہ ایسا کام کرکے جائیں تاکہ حجاج کی دعائیں لیں اور یاد رکھے جائیں ، پرائیویٹائزیشن کے منسٹر کا خاص طور پر مشکور ہوں،قرآن پاک کا فرمان ہے کہ حج صاحب استطاعت پر واجب ہے، ریاست کا کام ہے کہ وہ عبادت کو استطاعت میں لائے ،پاکستان کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کبھی حج گزشتہ کی نسبت سستا ہو ،گزشتہ سال حج 11 لاکھ 75 ہزار کا ہوا تھا ، ہم اس پیکج کو 10 لاکھ 75 ہزار تک لے آئے ہیں ،ہم نے ایک لاکھ روپے بغیر کسی سمجھوتے کے کم کردیا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ ایک لاکھ کے ریلیف کے علاؤہ جتنا ریلیف ائیرلائنز سےمل سکتا ہے وہ لیں،ائیر ٹکٹ سے جو پیسے بچائیں گے وہ حجاج کے اکاؤنٹ میں جائیں گے، 90 ہزار عازمین کو سوٹ کیس 30کلو والا دیں گے،اس سوٹ کیس پر عازم حج کی تمام تفصیلات درج ہوں گی،

    انیق احمدکا کہنا تھا کہ ہم نے 2024کے حج کو ڈیجیٹلائز کردیا ہے، حاجی کے لئے ایپ بنادی ہے جس سے عازمین کو بہت سہولت ہوگی،ہم وقت سے قبل یہ کام اس لیے کررہے ہیں تاکہ کوئی ہڑا ہڑی نہ مچے ، کیٹرنگ، ہوٹلز سمیت ائر لائنز سے مشاورت ہوئی ہے ، ہم ائر لائنز کیساتھ مسلسل مشاورت میں ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ حاجیوں کو فائدہ دیں ،ہم جو بھی اس سے بچائیں گے وہ حجاج کے اکاؤنٹس میں جائے گی، حجاج کو ہر چیز مفت فراہم کی جائے گی،منسٹر آئی ٹی عمر سیف کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اپنا سٹاف یہاں متعین کیا ،حج 2024 ڈیجیٹل حج ہوگا، ایک پاک حج ایپلیکیشن متعارف کرا رہے ہیں، اس کے ساتھ 7 جی بی ڈیٹا بھی فری آف کاسٹ دی جائیگی،اگر نیٹ ختم ہوجائے تو اس صورت میں بھی یہ ایپلیکیشن استعمال ہوگی ،پاکستانی حاجیوں کو لوکل کالز بھی اس پر میسر ہونگی پاکستان کی طرح یہ موبائل کام کرے گا، ترکش، ملائیشن خواتین کی طرح اپنی خواتین کو پاکستانی پرچم جیسا عبایا بھی فراہم کریں گے،ہم شارٹ پیکج بھی متعارف کرا رہے ہیں تاکہ 20 دن تک وہ واپس آجائیں ، ہمارا کل کوٹہ 1 لاکھ 79 ہزار 210 ہے جس میں پچاس فیصد نجی کوٹہ ہوگا ، اوورسیز پاکستانی سپانسر شپ سکیم کے تحت ڈالرز بھیجے گا وہ حج اور حج بدل کراسکتا ہے ، سپانسر شپ کے ذریعے کوئی قرعہ اندازی نہیں ہوگی یعنی وہ مستثنیٰ ہونگے ،پاکستانی حاجیوں کو الگ رہائش کی سہولت بھی دی جائیگی، کوئی حاجی مدینہ میں 8 دن سے کم رہنا چاہے گا تو اس کی بھی سہولت میسر ہوگی ، روڈ ٹو مکہ میں گزشتہ سال تک اسلام آباد میں امیگریشن ہی ہوتی رہی ، ہم نے پشاور، کراچی، کویٹہ کو بھی روڈ ٹو مکہ شامل کرنے کا مطالبہ کرنا تھا،سعودی حکومت نے کراچی کو شامل کردیا ہے اس کے لاہور پر کام جاری ہے،

  • سعودی عرب : ایک ہفتے کے دوران 17 ہزار سے زائد غیر قانونی تارکین گرفتار

    سعودی عرب : ایک ہفتے کے دوران 17 ہزار سے زائد غیر قانونی تارکین گرفتار

    ریاض: سعودی عرب میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی: عرب میڈیا کے مطابق سعودی عرب میں ایک ہفتے کے دوران 17 ہزار سے زائد غیر قانونی تارکین کو گرفتار کرلیا گیاہے، مملکت میں 2 سے 11نومبر کے درمیان17ہزار 305غیر قانونی تارکین وطن گرفتار کیے گئے گرفتار شدگان میں سے 10 ہزار 804 اقامہ قوانین کی خلاف ورزی، 3 ہزار 890 سرحدی قوانین کی خلاف ورزی جبکہ 2 ہزار 611 تارکین لیبر قوانین کی خلاف ورزی میں ملوث پائے گئے علاوہ ازیں 626 افراد کو سرحد عبور کر کے ملک میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کی کوشش پر گرفتار کیا گیا۔

    دوسری جانب پاکستان میں رجسٹرار سپریم کورٹ نے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی شہریوں کی بے دخلی کے خلاف درخواست اعتراضات لگا کر واپس کردی رجسٹرار سپریم کورٹ نے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی شہریوں کی بے دخلی کےخلاف درخواست پر 6 اعتراضات عائد کیے۔

    کینیڈا میں سکھ شہری نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 11 سالہ بیٹے سمیت قتل

    اعتراض میں کہا گیا کہ درخواست میں آرٹیکل 184(3) کے تحت مفاد عامہ کے نکتے کی نشاندہی نہیں کی گئی جبکہ انفرادی حق تلفی کے لیے آرٹیکل 184(3) کا استعمال نہیں کیا جا سکتا اور درخواست میں آرٹیکل 184(3) کے استعمال کے لیے مناسب جواز فراہم نہیں کیا گیا اور درخواست گزار نے ریلیف لینے کے لیے متعلقہ فورم سے رجوع نہیں کیا،آرٹیکل 248 کے تحت نگراں وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کو فریق نہیں بنایا جا سکتا۔

    حماس کا مقصد اسرائیل کی طرف سے پرتشدد اور مبالغہ آمیز ردعمل کو ہوا دینا …

  • عرب لیگ،اسرائیل کو تیل  ،فضائی حدود کی بندش کی تجاویز مسترد

    عرب لیگ،اسرائیل کو تیل ،فضائی حدود کی بندش کی تجاویز مسترد

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی زیر صدارت غزہ کی صورتحال پر او آئی سی کااجلاس جاری ہے
    او آئی سے اجلاس سے قبل اعلامئے کو حتمی شکل دینے کے لئے عرب لیگ کا اجلاس ہوا، اجلاس میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مراکش نے تیل پر پابندی کی تجویز کو مسترد کر دیا

    او آئی سی کے اجلاس سے قبل، عرب لیگ کا اجلاس ہوا،جس میں پیش کی گئی تجاویز میں کہا گیا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحالی کے منصوبے ختم کرنا ہو گا، عرب ممالک میں موجود امریکی اڈوں کی بندش کرنی ہو گی، تیل کی بندش کی مشترکہ دھمکی دی جائے گی، اسرائیل کے ساتھ سویلین پروازوں کی معطلی اور اسرائیل کی ہر قسم کی پروازوں کیلئے فضائی بندش کرنی ہو گی، تمام مطالبات کو فوری جنگ بندی سے مشروط کرنا ہو گا

    اس اجلاس میں چار ممالک سعودی عرب،بحرین، مراکش، عرب امارات نے ان تجاویز کومسترد کر دیا،تیل پر پابندی اور تعلقات کے بائیکاٹ کے حوالہ سے او آئی سی اجلاس میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی قابض افواج کو ہماری زمین سے نکلنا ہوگا، ہمیں صہیونی ریاست سے نجات کیلئے مزاحمت اور حماس کی حمایت کرنی ہوگی،صیہونی ریاست کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم ہونے چاہیے اسلامی ممالک اسرائیل کےخلاف تیل اور دیگرچیزوں کی پابندی لگائیں، اسرائیل کے خلاف مزاحمت کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں

    دوسری جانب او آئی سی کے سیکرٹری جنرل نے اسرائیلی مظالم کی مذمت کی ہے،اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طحہ نے فلسطینی عوام کی مکمل حمایت اور فلسطینی کاز کے دفاع کے لیے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا انہوں نے غزہ کے عوام پر ان حملوں کے خلاف جنگ بندی، امداد کی مسلسل ترسیل کے لیے محفوظ راستے کھولنے اور فلسطینی عوام کی سلامتی کو یقینی بنانے پر زور دیا۔او آئی سی سیکرٹری جنرل نے فلسطینی عوام کو نشانہ بنانے،جبری نقل مکانی کو مسترد کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ قابض حکومت کے ان اقدامات کے خلاف مناسب اقدامات کرے۔انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ مسئلہ فلسطین کے منصفانہ اور جامع حل کے لیے ایک بین الاقوامی پرامن حل کے حصول کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے جس سے اسرائیلی قبضے کا خاتمہ ہو.انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ سربراہی اجلاس فلسطینی کاز کو پورا کرنے والے مقاصد کو حاصل کرے گا۔

    عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نے غزہ میں نسل کشی کی کارروائیوں پر اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ غزہ پر اسرائیل کی جنگ پہلی نہیں ہے اور انہیں امید ہے کہ یہ آخری جنگ ہوگی۔سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ عالمی ضمیر کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ غزہ میں اسرائیل کی مسلسل فوجی جارحیت علاقائی کشیدگی کو بڑھا سکتی ہے۔انہوں نے جبری نقل مکانی کی تمام شکلوں میں سختی سے مخالفت کی، اسے ایک بین الاقوامی جرم اور انسانی قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی سمجھا۔

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

  • سعودی عرب،او آئی سی اجلاس،جنگ بندی،غزہ کا محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ

    سعودی عرب،او آئی سی اجلاس،جنگ بندی،غزہ کا محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ

    غزہ کی صورتحال پر او آئی سی کا غیر معمولی اسلامی سربراہی اجلاس سعودی عرب میں ہو رہا ہے

    سعودی ولی محمد بن سلمان اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں، صدارتی خطاب میں محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ ہمیں غزہ میں ایک انسانی تباہی کا سامنا ہے، غزہ کی صورتحال سلامتی کونسل اور بین الاقوامی برادری کی اسرائیلی مظالم کو روکنے میں ناکامی کی گواہی ہے،غزہ کی صورتحال پر عالمی برادری کا رویہ دوہرے معیار کو ثابت کرتا ہے،

    اجلاس میں غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے، اجلاس میں ایرانی صدر، ترک صدر، پاکستانی وزیراعظم سمیت دیگر شریک ہیں،

    غزہ میں جنگ کا جاری رہنا سلامتی کونسل کی ناکامی ہے،محمد بن سلمان
    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے غزہ کی پٹی میں شہریوں کے تحفظ کے لیے موجودہ واقعات کے آغاز سے ہی مسلسل کوششیں کی ہیں اور جنگ کو روکنے کے لیے دنیا کے موثر ممالک سے مشاورت اور ہم آہنگی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ ہم ایک انسانی تباہی کا مشاہدہ کر رہے ہیں جو سلامتی کونسل اور بین الاقوامی برادری کی اسرائیلی خلاف ورزیوں کو ختم کرنے میں ناکامی کو نمایاں کرتا ہے۔خطے میں سلامتی، امن اور استحکام کے حصول کا واحد راستہ قبضے، محاصرے اور تصفیہ کو ختم کرنا، فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو یقینی بنانا، اور مشرقی یروشلم کے ساتھ ان کی آزاد ریاست کا قیام ہے۔ سعودی عرب غزہ کے رہائشیوں کے خلاف جاری جارحیت اور جبری بے گھر ہونے کو واضح طور پر مسترد کرتا ہے۔ ہم قابض اسرائیلی حکام کو فلسطینی عوام کے خلاف جرائم کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔محمد بن سلمان نے مطالبہ کیا کہ غزہ میں انسانی ہمدردی کی راہداریوں کو فوری طور پر کھولا جانا چاہیے۔ہم فوری طور پر فوجی آپریشن بند کرنےکا بھی مطالبہ کرتے ہیں.اسرائیل غزہ میں لوگوں کے قتل عام کا ذمہ دار ہے،نہتے مسلمانوں کا عام روکا جائے اور انسانی امداد پہنچانے کی اجازت دی جائے، مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکالنا بڑا جرم ہے،اس کو فوری روکا جائے

    اجلاس میں شریک تمام ممالک کے سربراہان اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں،فلسطینی صدر
    فلسطینی صدر محمود عباس کا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے، فلسطینیوں پر روزانہ بمباری کی جارہی ہے،اسرائیل ہزاروں فلسطینیوں کو شہید کر چکا ہے، اجلاس میں شریک تمام ممالک کے سربراہان اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں،فلسطین کے شہری اپنی زمین کے مالک ہیں،اسرائیلی قابض فوج نے دو ریاستی حل کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے،سلامتی کونسل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فلسطین کو مستقل رکنیت دی جائے،غزہ فلسطین کا جزو ہے – اسرائیل نے غزہ مسلمانوں کا قتل عام کیا ہے – بچوں عورتوں کو قتل کیا جارہا ہے – فلسطین قضیہ حل کیا جائے تاکہ یہ قتل عام روکا جائے

    فلسطینی کاز سے اپنی غر متزلزل وابستگی کا اعلان کرتے ہیں،ترک صدر
    ترک صدر رجب طیب اردوان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ پر اسرائیل کے حالیہ ظلم اور تشدد کی مثال نہیں ملتی،ہم فلسطینی کاز کی واضح حمایت کا اعلان کرتے ہیں،غزہ میں امداد کے لیے ایک کارگو شپ روانہ کیا ہے،فلسطینی کاز سے اپنی غر متزلزل وابستگی کا اعلان کرتے ہیں،غزہ کے اسپتال معصوم بچوں کی لاشوں سے بھر گئے، غزہ کا محاصرہ ختم کیا جائے،اسرائیل نے بے گناہ فلسطینیوں کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے، فلسطینی بہن بھائیوں کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے رہیں گے ،پیرس میں چند لوگوں کے قتل پر سربراہ مملکت نے احتجاج کیا تھا ،آج فلسطین میں ہزاروں بچے شہید ہو رہے ہیں کسی نے روکنے کی کوشش نہیں کی،اسرائیلی انتظامیہ 7 اکتوبر کے واقعے کا بدلہ غزہ کے بچوں، معصوم فلسطینی بچوں اور خواتین سے لے رہی ہے،غزہ کا محاصرہ ختم کیا جائے،امید ہے اجلاس امت مسلمہ کے لیے مثبت ثابت ہوگا،غزہ میں ہزاروں بچوں کے قتل عام پر کوئی سربراہ مملکت آواز اٹھانے کو تیار نہیں،اسرائیل اور اس کے حکمرانوں کے خلاف جنگی جرائم کی عدالت میں جانا ہوگا، فلسطین میں ہونے والے اسرائیلی مظالم کبھی نہیں بھولیں گے، بچوں کو گود میں اٹھا کر لے جانے والی ماؤں کو مارا جارہا ہے،اسرائیل کے جوہری ہتھیار پورے خطے کے لیے خطرہ ہیں، اسرائیل غزہ جنگ کے نقصانات کا ازالہ کرے،اسرائیل ایک بگڑا ہوا بچہ بن چکا ہے جو ہرموقع پر اپنے ہر جرم اور تباہی کی ادائیگی سے بچ جاتا ہے۔ اسرائیل کو کی گئی تباہی کا اب معاوضہ ادا کرنا ہوگا۔ ہم فلسطین میں اپنے بہن بھائیوں کو نہیں چھوڑ سکتے۔ او آئی سی کو غزہ کی پٹی کی تعمیر نو کو یقینی بنانے کے لیے ایک فنڈ بنانا ہوگا،مغربی ممالک نے غزہ جنگ بندی کی بھی مخالفت کی ہے،جو آج غزہ مظالم پر خاموش ہے وہ بھی ظلم میں برابر کا شریک ہے، مغرب امریکا انسانی حقوق کے علمبردار ہیں لیکن غزہ میں زیادہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموش ہیں،اسرائیل کے ایٹم بموں کی تحقیقات کی جائیں اور ایٹم بم رکھنے پر پابندیاں لگائی جائیں

    اسرائیل کو جنگی جرائم پر عالمی عدالت انصاف لے کر جانا ہوگا،امیر قطر
    امیر قطر نے او آئی سی اجلاس سے خطاب میں کہا کہ غزہ میں مسلمانوں کا اجتماعی قتل عام ناقابل قبول ہے، فلسطینیوں کے ساتھ مسلسل یکجہتی کرتے ہیں،اسرائیل کو جنگی جرائم پر عالمی عدالت انصاف لے کر جانا ہوگا، بین الاقوامی برادری کب تک اسرائیل کے ساتھ ایسا سلوک کرے گی جیسے وہ بین الاقوامی قانون سے بالاتر ہو؟ کس نے سوچا ہوگا کہ 21ویں صدی میں ہسپتالوں پر کھلے عام بمباری کی جائے گی اور اندھا دھند بمباری کے ذریعے خاندانوں کا صفایا ہو جائے گا؟”

    غزہ میں اسرائیل کے جرائم کا ذمہ دار امریکہ ،فلسطین امت مسلمہ کے فخر کا نشان ہے،ایرانی صدر
    ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے او آئی سی اجلا س سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین اسلامی اور انسانی اقدار کا عکاس ہے،فلسطین امت مسلمہ کے فخر کا نشان ہے،غزہ میں معصوم فلسطینیوں کا خون بہایا جارہا ہے، اسرائیل غزہ میں عالمی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے،خطے کی تاریخ کا فیصلہ کن مرحلہ آگیا ہے،غزہ میں اسرائیل کے جرائم کا ذمہ دار امریکہ ہے۔غزہ کے لوگ 20 سال سے جیل میں زندگی گزار رہے ہیں،غزہ کے عوام امت مسلمہ کے ہیرو ہیں،اسرائیل صیہونی ایجنڈے کے تحت نسل کشی کر رہا ہے،یہ جنگ فلسطینیوں کی عظمت اور اسرائیل کے کمینے پن کا ثبوت ہے، اسرائیل کی حمایت میں امریکا نے جنگی جہاز تعینات کر رکھے ہیں،مسجد اقصیٰ کی حفاظت کرنے والوں کو صیہونی ریاست سے بچانا ہے،تین ہزار سے زائد فلسطینی بچے اور خواتین ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، امریکا اسرائیل کی حمایت کر کے جنگی جرائم میں شریک ہے،

    ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کروا کر حملے روکے جائیں، غزہ کا محاصرہ ختم کر کے امداد بھیجی جائے، اسرائیلی فوجی غزہ سے نکل جائیں، اگر نہیں نکلتے تو اسرائیل کا بائیکاٹ کیا جائے، اسرائیلی فوج کو دہشت گرد قرار دیا جانا چاہئے.اسلامی ممالک کو فلسطین کی مدد کرنی چاہئے، اسرائیل پر بین الاقوامی عدالت میں مقدمہ چلانا چاہئے،آج ہم سب کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ کس طرف کھڑے ہیں ،امریکہ اسرائیل کے ساتھ ہے، روزانہ اسرائیل کو ہتھیار دے رہا ہے،

    مصری صدر السیسی نے اسرائیل کی طرف سے فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کی مذمت کرتے ہوئے غزہ کے لوگوں کے خلاف اسرائیل کی خلاف ورزیوں کی بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ غزہ کے لوگوں کو اجتماعی سزا دینے کی پالیسیاں ناقابل قبول ہیں اور اپنے دفاع یا کسی دوسرے دعوے سے ان کا جواز نہیں بن سکتا۔ انہیں فوری طور پر روکا جانا چاہیے، غزہ میں جنگ کو ختم کرنے میں ناکامی کا نتیجہ خطے کے باقی حصوں تک پھیلنے کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ بین الاقوامی برادری کو خونریزی کو روکنے اور تنازع کی جڑوں سے نمٹنے کے لیے دباؤ ڈالنا چاہیے۔


    اسرائیل غاصب ملک،غزہ میں‌قتل عام بند کیا جائے،نگران وزیراعظم
    پاکستان کے نگران وزیر اعظم انور الحق کاکڑ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 70 سال قبل اقوام متحدہ نے مسئلہ فلسطین کو اپنی قرارداد کے ذریعے حل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔غزہ پر اسرائیلی بمباری سے اسپتال، اسکول اور اقوام متحدہ کے دفاتر بھی محفوظ نہیں۔غزہ میں قتل عام فوری بند کیا جائے۔غزہ میں فوری طور پر انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔وزیراعظم نے جنگ بندی کے لیے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی کوششوں کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل غزہ میں قتل عام کو روکنے کی ذمہ دار ہے۔ناانصافی اور معصوم شہریوں کا قتل عام مزید تنازعات کو جنم دے گا۔پاکستان 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق فلسطینی ریاست کے قیام اور القدس کو اس کا دارالحکومت قرار دینے کی حمایت کرتا ہے۔اسرائیل ایک غاصب ملک ہے۔وزیراعظم نے غزہ کو انسانی امداد کی فراہمی میں مصر کی کوششوں کو سراہا۔اور کہا کہ اسرائیل کے جنگی جرائم کو عالمی عدالت انصاف میں لے جایا جائے۔غزہ کی صورتحال کے حوالے سے فوری طور پر مذاکرات شروع کیے جائیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے مسائل حل کرے۔

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

  • او آئی سی اجلاس،ایرانی صدر سعودی عرب پہنچ گئے

    او آئی سی اجلاس،ایرانی صدر سعودی عرب پہنچ گئے

    ایرانی صدر ابراہیم رئیسی او آئی سی اجلاس میں شرکت کیلئے سعودیہ عرب پہنچ گئے ہیں

    ایرانی صدرابراہیم رئیسی او آئی سی ے غیر معمولی اجلاس میں شرکت کے لیے ریاض پہنچ گئے ہیں،مارچ میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی پر اتفاق کے بعد ان کا سعودی عرب کا پہلا دورہ ہے،ایرانی صدر کے طیارے سے اترنے کے بعد ہوائی اڈے پر سعودی حکام نے انکا استقبال کیا

    ایران کے صدر ابراہیم رئیسی کا او آئی سی سربراہی اجلاس کے لیے ہال پہنچنے پرسعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے استقبال کیا۔اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے سے ہاتھ ملایا،

    ایرانی صدر کی امیر قطر سے ملاقات ہوئی، اس موقع پر امیر قطر نے ایرانی صدر سے کہا کہ "آپ کیسے ہیں؟” ایرانی صدر نے جواب میں کہا کہ غزہ کی صورتحال سے ہم اور مسلمان قومیں اچھی نہیں لگ رہی.

    ترک صدر رجب طیب اردوان بھی سعودی عرب پہنچ چکے ہیں، ترک صدر کا کانفرنس ہال پہنچنے پر سعودی ولی عہد نے استقبال کیا .

    پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر محمود اشرفی کا کہنا ہے کہ اللہ کریم کااحسان ہے کہ آ ج امت مسلمہ کی قیادت ریاض مملکت سعودی عرب میں اہل فلسطین کی حمایت میں جمع ہیں، ایرانی صدر پہنچ گئے ہیں، ترک صدر راستے میں ہیں،

    گزشتہ روز نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ تین روزہ سرکاری دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے ہیں،ریاض کے ڈپٹی گورنر پرنس محمد بن عبدالرحمن نے نگران وزیراعظم کا استقبال کیا،نگران وزیراعظم فلسطین پر منعقد ہونے والی او آئی سی کانفرنس میں شرکت کریں گے،او آئی سی کا ہنگامی اجلاس فلسطین کی موجودہ صورتحال پر طلب کیا گیا,نگران وزیراعظم او آئی سی رکن ممالک کے سربراہان سے ملاقاتیں بھی کریں گے .

    غزہ کی صورتحال پر عرب اسلامی سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے دنیا کے مختلف حصوں سے رہنما ہفتے کے روز ریاض پہنچنا شروع ہو گئے ہیں،ایران کے صدر ابراہیم رئیسی اور عرب رہنما بشمول فلسطین کے صدر محمود عباس، مصر کے عبدالفتاح السیسی، شام کے بشار الاسد اور عراق کے عبداللطیف راشد ہفتے کے روزریاض پہنچے ہیں،ترکی کے صدر رجب طیب اردوان اور لیبیا کی صدارتی کونسل کے صدر محمد المنفی بھی آنے والوں میں شامل ہیں

    ایرانی صدر نے سعودی عرب کے دورے سے قبل کہا کہ "غزہ الفاظ کا میدان نہیں ہے۔ یہ کارروائی کے لیے ہونا چاہیے، آج اسلامی ممالک کا اتحاد بہت ضروری ہے۔

    سعودی عرب نے مسلسل مقبوضہ علاقوں میں خونریزی بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    سعودی-افریقی سربراہی اجلاس میں جمعہ کو اپنے ابتدائی کلمات میں، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے مملکت کی طرف سے "غزہ میں اسرائیلی قابض حکام کی جانب سے بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی کی مذمت” کا اعادہ کیا۔مملکت ہفتہ اور اتوار کو دو غیر معمولی سربراہی اجلاسوں، او آئی سی سربراہی اجلاس اور عرب لیگ سربراہی اجلاس کی میزبانی کرنے والی تھی۔ لیبیا کی صدارتی کونسل کے صدر محمد المنفی نے کہا کہ سعودی افریقی سربراہی اجلاس "مملکت کی بے پناہ صلاحیتوں اور باوقار حیثیت کے پیش نظر، اقتصادی تعاون کے پل بنانے میں مدد کرے گا۔آئیوری کوسٹ کے صدر الاسانے اواتارا نے کہا کہ سربراہی اجلاس افریقی ممالک کی ترقی میں مدد کے لیے مملکت کے ٹھوس عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے غزہ میں جنگ بندی اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان دیرپا امن پر بھی زور دیا۔

    قبل ازیں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور قطر کے امیر کی ملاقات ہوئی، دونوں رہنماؤں نے غزہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ریاض کے ال یمامہ پیلس میں قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے بات چیت کی۔ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان مضبوط برادرانہ تعلقات پر زور دیا گیا، مختلف شعبوں میں باہمی تعاون اور اضافہ کے راستے تلاش کیے گئے۔اہم بات چیت میں غزہ کی پٹی میں جاری پیش رفت، جارحیت کو روکنے، شہریوں کی حفاظت، اور امداد کی تیزی سے فراہمی کو یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کرنا شامل ہے۔مزید برآں، رہنماؤں نے علاقائی سلامتی اور استحکام کو مضبوط بنانے کے لیے حکمت عملیوں پر غور کیا۔اجلاس میں کئی وزراء اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

  • او آئی سی اجلاس،پاکستانی وزیراعظم سعودی عرب پہنچ گئے

    او آئی سی اجلاس،پاکستانی وزیراعظم سعودی عرب پہنچ گئے

    نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ تین روزہ سرکاری دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے

    ریاض کے ڈپٹی گورنر پرنس محمد بن عبدالرحمن نے نگران وزیراعظم کا استقبال کیا،نگران وزیراعظم فلسطین پر منعقد ہونے والی او آئی سی کانفرنس میں شرکت کریں گے،او آئی سی کا ہنگامی اجلاس فلسطین کی موجودہ صورتحال پر طلب کیا گیا,نگران وزیراعظم او آئی سی رکن ممالک کے سربراہان سے ملاقاتیں بھی کریں گے .

    ایرانی صدر ابراہیم رئیسی بھی او آئی سی اجلاس میں شرکت کے لئے سعودی عرب جائیں گے، او آئی سی سربراہی کانفرنس جو اتوار کو ہونی تھی اب ہفتے کو ریاض میں ہو گی،ایران نے ایرانی صدر کے دورہ سعودی عرب کی تصدیق کی ہے،ایران کے صدارتی دفتر کے سیاسی نائب نے اس امیر کی تصدیق کی،ایران کی وزارت خارجہ کی ٹیم بھی ریاض جائے گی،

    اسلامی ممالک کی تنظیم کے سربراہان کی ابتدائی میٹنگ اور اجلاس کے علاوہ اس اجتماع کے موقع پر اسلامی ممالک کے سربراہان کے درمیان ملاقاتوں اور دو طرفہ مشاورت بھی ہو گی تا کہ غزہ کے مسئلے کے حوالے سے مزید ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔

    اسلامی تعاون تنظیم کے ہنگامی اجلاس میں ایران پاکستان،اردن، مصر، ترکی، قطر، متحدہ عرب امارات، الجزائر اور جمہوریہ آذربائیجان سمیت دیگر بااثر ممالک کی بھی شرکت متوقع ہے۔

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

  • 2034 فیفا ورلڈ کپ،  وژن 2030ء کی طرف گامزن سعودی عرب

    2034 فیفا ورلڈ کپ، وژن 2030ء کی طرف گامزن سعودی عرب

    سعودی عرب فٹ بال فیڈریشن 2034 فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کے ذریعے عالمی معیار کے ٹورنامنٹ کا انعقاد کرانے کا خواہاں ہے۔ اس حوالے سے ساف کے صدر یاسرالمسیحل نے باقاعدہ طور پر فیفا ورلڈ کپ کے لئے خط لکھ دیا تھا۔ورلڈ کپ کی بولی میں حصہ لینے جہاں سعودی عرب کی حکومت اور عوام پرجوش ہیں وہی ایشین فٹ بال کنفیڈیشن کی جانب سے بھی سعودی عرب کی مکمل حمایت کی ہے۔ اس حوالے سے صدر ایشین فٹ بال کنفیڈریشن شیخ سلمان بن ابراہیم الخلیفہ کا کہنا تھا کہ "مجھے خوشی ہے کہ سعودی عرب فٹ بال فیڈریشن نے 2034 فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کا اظہار کیا ہے۔ تمام ایشین فٹ بال ایک ساتھ متحد ہیں اور سعودی عرب کے اس تاریخی قدم کی حمایت کرتی ہیں

    سعودی عرب اس سے قبل بھی عالمی بھی فٹ بال کے عالمی مقابلوں کا اہتمام کرچکا ہے۔ 2023 فیفا کلب ورلڈ کپ کی میزبانی کرچکا ہے اور 2027 اے ایف سی ایشین کپ بھی سعودی عرب میں ہورہا ہے۔ 2018 سے اب تک سعودی عرب 50 سے زائد عالمی کھیلوں کے انعقاد کروا چکا ہے۔ جن میں فٹ بال، موٹر سپورٹس، ٹینس، ای سپورٹس اور گالف شامل ہیں۔

    سعودی عرب کھیلوں کے فروغ اور عالمی مقابلوں کے لئے عالمی معیار کے گراونڈ بنارہا ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ سیاحتی لحاظ سے بھی منفرد حیثیت رکھنے والا ملک ہے۔ فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی ناصرف کھیل کے لئے بہترین ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ سیاحتی طور پر سعودی عرب میں آنے کا موقع ہوگا۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان آل سعود کا کہنا تھا کہ ورلڈ کپ کی میزبانی کا ارادہ مملکت کی جانب سے کھیل کے شعبوں میں ترقی کا عکاس ہے۔

    سعودی عرب کی قومی ٹیم نے 1994 میں پہلا فیفا ورلڈ کپ کھیلا۔ ٹیم اب تک چھ ورلڈ کپ کھیل چکی ہے۔ سعودی وزیرکھیل شہزادہ عبدالعزیز بن ترکی الفیصل کا کہنا تھا کہ ” 2034 فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی سے ہمیں دنیا میں عالمی کھیلوں کا صف اول کا ملک بننے کا خواب پورا کرنے میں مدد ملے گی۔”

    نیو کاسل یونائیٹڈ فٹ بال کلب کے کوچ مینجر ایڈی ہاوے نے کہا ہے کہ سعودی عرب فیفا ورلڈ کپ 2034 منعقد ہونے سے یہ ایونٹ اچھی طرح منظم ہونے کی توقع ہے۔،سعودی وژن 2023 میں کھیلوں کو کلیدی اہمیت دی گئی ہے۔ جن کے ذریعے نوجوانوں میں کھیل کے فروغ کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی کو مزید بہتر بنایا جائے۔سعودی عرب ورلڈ کپ میزبانی کرنے والا تیسرا ایشیائی ملک بن جائے گا۔اس سے قبل جنوبی کوریا اور جاچان 2002 جبکہ 2022 میں قطر نے میزبانی کی تھی۔

    حکومت سعودی عرب کا منصوبہ سعودی وژن 2023 کا مقصد سعودی عرب کو معاشی طور پر مضبوط کرنے کے لئے صرف تیل پر انحصار ختم کیا جائے اور سعودی عرب کو معاشی اور ثقافتی طور پر جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔ 25 اپریل 2016 کو ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان آل سعود نے سعودی وژن 2023 کا اعلان کیا اور اس کے تحت 80 منصوبوں پر کام شروع کیا اور سعودی شناخت کی تبدیلی کا زینہ بن گیا۔ سعودی وژن 2023 کو جدید دنیا اور کاروباری حلقوں میں پذیرائی مل رہی ہے ۔ 2034 سے قبل سعودی وژن 2030 کی تکمیل کے بعد جدید اور منفرد سعودی عرب ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ ورلڈ ایکسپو 2030 کے لئے بھی سعودی عرب نے حصہ لیا ہے۔ اس سے نہ صرف سعودی عرب کھیل ثقافت اور سیاحت میں ترقی کرکے گا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ عالمی تجارتی اداروں اور عالمی تجارت میں تیل کے علاوہ بھی سعودی عرب اپنا مقام بنانے میں کامیاب ہوگا۔

    ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا وژن اور سعودی قوم کے لئے روڈ میپ پہ جس طرح کام کررہے ہیں جلد صرف سعودی عرب نہیں بلکہ عالم عرب میں ترقی کی نئے راستے کھلے گے ۔

  • سعودی ریال اور اماراتی درہم سمیت دیگر کرنسیوں کی قدر میں اضافہ

    سعودی ریال اور اماراتی درہم سمیت دیگر کرنسیوں کی قدر میں اضافہ

    کاروباری ہفتے کے تیسرے روزسعودی ریال سمیت دیگر کرنسیوں کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے-

    باغی ٹی وی: میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی ریال 76.47 روپے، اماراتی درہم 78.11 روپے، قطری ریال 78.67 روپے، کویتی دینار 928.59 روپے اور بحرینی دینار 760.58 روپے کا رہا، انٹربینک میں آسٹریلین ڈالر 184 روپے 38 پیسے، کینیڈین ڈالر 208 روپے 17 پیسے اور برطانوی پاؤنڈ کی قدر 351 روپے 47 پیسے ریکارڈ کی گئی۔

    دوسری جانب تیسرے کاروباری روز کے دوران پاکستانی روپے کی قدر میں مزید کمی جبکہ انٹربینک میں امریکی ڈالر مزید مہنگاہوگیا اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری اعدادو شمار کے مطابق آج بدھ کے روز کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قیمت میں 51 پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا،امریکی کرنسی ڈالر کی قیمت 286 روپے 39 پیسے سے بڑھ 286 روپے 90 پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔

    انٹربینک میں ڈالر مزید مہنگا،سونے کی قیمت میں بھی اضافہ

    گزشتہ روزسعودی ریال کی قیمت 76.34 روپے، اماراتی درہم 77.97 روپے، قطری ریال 78.65 روپے، کویتی دینار 927.43 روپے اور بحرینی دینار 759.48 روپے ریکارڈ کی گئی تھی ۔

    سعودی ریال سمیت دیگر کرنسیوں کی قیمت میں اضافہ