Baaghi TV

Tag: سعودی عرب

  • پاکستان کا  سعودی عرب میں خواتین کے ٹورنامنٹ میں شرکت کرنے کا ارادہ

    پاکستان کا سعودی عرب میں خواتین کے ٹورنامنٹ میں شرکت کرنے کا ارادہ

    پاکستان فٹ بال فیڈریشن (پی ایف ایف) نے ستمبر میں سعودی عرب میں ہونے والے ملٹی نیشنل ویمنز ٹورنامنٹ میں کھیلنے کی دعوت قبول کر لی۔سعودی مملکت ستمبر میں خواتین کا ایک ٹورنامنٹ منعقد کرنے جا رہی ہے جس میں کم از کم چار اور زیادہ سے زیادہ چھ ٹیمیں حصہ لیں گی۔ اس حوالے سے پی ایف ایف سے چند روز قبل سعودی عربین فٹ بال فیڈریشن نے رابطہ کیا تھا۔ جیسے ہی پی ایف ایف کو ٹورنامنٹ کے بارے میں بقیہ معلومات مل جائیں گی تو وہ اس ماہ کے آخر تک خواتین ٹیم کا کیمپ لگایا جائے گا، اس حوالے سے پی ایف ایف پرامید ہے کہ مشرق وسطیٰ میں ہونے والا یہ ٹورنامنٹ کھلاڑیوں کی نشوونما کے لیے اہم ثابت ہوگا کیونکہ انہیں مزید بین الاقوامی تجربہ حاصل ہوگا۔واضح رہے کہ پاکستان ویمنز فٹبال ٹیم نے رواں سال جنوری میں سعودی عرب میں چار ملکی کپ کھیلا تھا۔
    اس ٹورنامنٹ میں چار ٹیموں پاکستان، سعودی عرب، کوموروس اور ماریشس نے حصہ لیا۔
    پاکستان ویمن فٹ بال ٹیم نے 2023 میں اب تک کل سات میچز کھیلے ہیں ،گرین شرٹس نے آخری بار جولائی میں سنگاپور کے خلاف بین الاقوامی دوستانہ میچ کھیلا تھا جس میں وہ زبردست مظاہرہ کے بعد 1-0 سے ہار گئے تھے۔

  • روس کی نمائندگی کےبغیرسعودی عرب کی میزبانی میں یوکرین بحران پر دوروزہ مذاکرات شروع

    روس کی نمائندگی کےبغیرسعودی عرب کی میزبانی میں یوکرین بحران پر دوروزہ مذاکرات شروع

    ریاض: سعودی عرب کی میزبانی میں ساحلی شہر جدہ میں یوکرین بحران پر دوروزہ مذاکرات ہفتے کے روز شروع ہوگئے ہیں۔

    باغی ٹی وی :الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے روس کی نمائندگی کے بغیر جدہ میں 40 ممالک کے سینئر حکام کا سربراہی اجلاس شروع کردیا جس کا مقصد یوکرین پر روس کے حملے کو ختم کرنے کے بارے میں اہم اصولوں کا مسودہ تیار کرنا ہے یوکرین کے صدر نے سربراہی اجلاس کا خیر مقدم کیا جن میں ترقی پذیر ممالک بھی شامل ہیں جو جنگ کی وجہ سے خوراک کی قیمتوں میں اضافے سے سخت متاثر ہوئے ہیں۔

    یوکرینی صدر نے کہا کہ یہ بہت اہم ہے کیونکہ غذائی تحفظ جیسے مسائل پر افریقہ، ایشیا اور دنیا کے دیگر حصوں میں لاکھوں لوگوں کی قسمت کا براہ راست انحصار اس بات پر ہے کہ دنیا امن فارمولے پر عمل درآمد کے لیے کتنی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے انہیں امید ہے کہ ریاض میں سربراہی اجلاس موسم خزاں میں منقعد ہونے والی “امن سربراہی کانفرنس” کے لیے فائدہ مند ہوگا۔ دوسری جانب روس نے یوکرین کے امن فارمولے کو مسترد کر دیا ہے۔

    اے آئی ٹیکنالوجی،بل گیٹس نے لاکھوں اموات کی وجہ بننے والے نظام کی پیشگوئی کر …

    جدہ میں مذاکرات میں قریباً 40 ممالک کے قومی سلامتی کے مشیروں اور دیگر سینیر حکام حصہ لے رہے ہیں۔یوکرین اور اس کے اتحادیوں کو امید ہے کہ ان مذاکرات کے شرکاء روس کی جنگ کو ختم کرنے کے لیے کلیدی اصولوں پر اتفاق کریں گے۔

    اس فورم میں روس کو شامل نہیں کیا گیا ہے روس نے واضح کیا کہ وہ سعودی عرب میں سربراہی اجلاس پر “نظر رکھے گا”۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے اس ہفتے کے شروع میں کہا تھا کہ روس کو “یہ سمجھنے کی ضرورت ہوگی کہ کیا اہداف طے کیے گئے ہیں اور کن باتوں پر بات کی جائے گی جبکہ روس کے ساتھ مضبوط تعلقات رکھنے والے چین نے جمعہ کو کہا تھا کہ وہ مذاکرات میں شرکت کے لیے یورپ اور ایشیائی امور کے خصوصی ایلچی لی ہوئی کو بھیجے گا۔

    کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو اورانکی اہلیہ کے مابین شادی کے 18 برس بعد علیحدگی

  • پاکستان اور سعودی عرب سمیت کئی عرب ممالک آج سُپر مون نظر آئے گا

    پاکستان اور سعودی عرب سمیت کئی عرب ممالک آج سُپر مون نظر آئے گا

    کراچی: پاکستان اور سعودی عرب سمیت کئی عرب ممالک میں آج سُپر مون نظر آئے گا۔

    باغی ٹی وی: ماہرِ فلکیات ڈاکٹر جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ آج یعنی یکم اگست کو چاند زمین کے انتہائی قریب اور معمول سے 14 فیصد بڑا اور 30 فیصد زیادہ روشن نظر آئے گا،رواں ماہ میں دو سُپر مون ہوں گے ۔

    ڈ اکٹرجاوید اقبال کے مطابق کم وبیش یہی نظارہ رواں ماہ کے اختتام پر30 اگست کو بھی ہوگا،جس کے دوران چاند کا حجم بڑاد کھائی دے گاجبکہ وہ زیادہ روشن بھی نظرآئے گا ایک ماہ میں دوسری بارہونے والے فل مون کو بلیومون کا نام دیا جاتا ہے،ایسا پھر دوبارہ 2037 میں ہوگا اس سال کا آخری سُپرمون ستمبر میں دیکھا جائے گا۔

    سعودی عرب میں نصابی کتب سے اسرائیل مخالف مواد ہٹا دیا گیا

    اس حوالے سے جدہ میں فلکیات سوسائٹی کے سربراہ انجینئر ماجد ابو زاہرہ کا کہنا ہے کہ سُپر مون مکہ مکرمہ کے وقت کے مطابق رات 09:31 پر تکمیل کو پہنچے گا اور اس وقت چاند زمین سے 357،528 کلومیٹر کے فاصلے پر ہوگا ماجد ابو زاہرہ کا اس حوالے سے مزید کہنا ہے کہ سُپر مون تقریباً 14 فیصد بڑا ہوگا اور اس کی روشنی تقریباً 30 فیصد زیادہ ہوگی۔

    چین میں طوفانی بارشوں نے تباہی مچادی،ہزاروں افراد شیلٹرز ہوم میں پناہ لینے پر مجبور

  • سعودی عرب میں نصابی کتب سے اسرائیل مخالف مواد ہٹا دیا گیا

    سعودی عرب میں نصابی کتب سے اسرائیل مخالف مواد ہٹا دیا گیا

    لندن میں قائم انسٹی ٹیوٹ فار مانیٹرنگ پیس اینڈ کلچرل ٹولرنس ان اسکول ایجوکیشن (IMPACT-SE) کی طرف سے مئی میں جاری کی گئی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ سعودی نصابی کتب سے تقریباً تمام سام دشمن مواد ہٹا دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : یہ بدلتے سعودی عرب کا ایک نمونہ ہے جس نے وژن 2030 کے تحت معاشی و اقتصادی ترقی کی راہوں پر تیزی کے ساتھ سفر کررہا ہے ۔ اسکولی نصاب میں بڑی تبدیلیوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ سعودی حکومت نے اسرائیل سے تعلقات کی جانب قدم بڑھاتے ہوئے نصاب سے یہود کی شرپسند طبیعت سے متعلق مواد حذف کردیا۔ اس کا دعوی ‘ امپیکٹ سی‘ نامی اسرائیلی ادارے نے اپنے رپورٹ میں کیا ہے ۔

    رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ریاض حکومت کے ایما پر نصابی کتب میں سے یہود کے خلاف زیادہ تر مواد ہٹا دیا گیا یا پھر اس میں تبدیلی کر دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد اسرائیل کے ساتھ نام نہاد رواداری کو فروغ دینا ہے۔

    اس رپورٹ میں اس اقدام کو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی طرف سے ایک انقلابی اقدام قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ محمد بن سلمان نے اقتدار میں آنے کے بعد سے اسکولوں میں تعلیمی نصاب کی اصلاح کے میدان میں اپنے اقدامات کا آغاز کیا ہے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

    اسرائیل سے سعودی عرب تک ریلوے لائن منصوبہ

    اس سے قبل سعودی عرب کی تعلیمی کتابوں میں صہیونیوں کو بندر اور خنزیر کہا گیا تھا اور مشرق وسطیٰ کے نقشوں پر اسرائیل کا لیبل لگانے سے انکار شامل ہے۔

    رپورٹ کے مطابق گزشتہ پانچ سالوں کے دوران سعودی ولی عہد نے سعودی عرب کی 300 تعلیمی کتابوں کے مواد کو تبدیل کیا ہے جن میں صیہونیت مخالف مواد تھا۔حذف کیے گئے ان مواد میں سے کچھ صیہونی حکومت کی بستیوں کی تعمیر کے خلاف تصورات پر مشتمل تھے اور دیگر 1969 میں مسجد اقصیٰ کو نذر آتش کرنے سے متعلق تھے۔

    ‘ امپیکٹ سی’ نامی صہیونی ادارہ دنیا بھر میں نصابی کتب اور ان میں شائع شدہ مواد پر نظر رکھتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں 2020-21کے لیے ترتیب دیے گئے نصاب میں اعتدال کے نام پر یہود مخالف مواد کوہٹا دیا گیا ہے اس سلسلے میں یہود کی چالاکیاں اورجوڑ توڑ کرکے دنیا کو کنٹرول کرنے کے حصے کو ختم کردیا گیا ہےاس حصے کو بھی حذف کردیا گیا ہے کہ مسلمانوں کو جہاد اور شہادت کے لئے ہمیشہ تیار رہنا چاہیے ۔ ‘‘اللہ کی راہ میں جہاد اسلام کا عروج ہے ’’ کو بھی اب ختم کر دیا گیا ہے۔

    بھارتی پنجاب سے ڈرونز اسمگلنگ کیلئے سرحد پار جاتے ہیں،وزیر اعلیٰ بھارتی پنجاب

    جب کہ IMPACT-se کے 2020 کے مطالعے میں "قرآنی سورتیں، احادیث اور مذہبی تشریحات جو غیر مسلموں کے خلاف اکساتی ہیں”، "درسی کتب جو کہ عام طور پر سام دشمنی کو فروغ دیتی ہیں،” اور "جہاد جنگ پر سخت زور دیتے ہیں” سمیت کئی مسائل والے حصے پائے گئے۔ "شہادت کی فضیلت”، نئی تحقیق سے معلوم ہوا کہ ان میں سے تقریباً تمام مسائل کو ختم کر دیا گیا ہے۔

    مطالعہ سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ نصابی کتابیں جہاد کی تعریف کرنے والے حصوں سے ہٹ کر ان حصوں میں منتقل ہو گئی ہیں جو اب دہشت گردی کے لیے مشہور بنیاد پرست مذہبی گروہوں، جیسے حزب اللہ، داعش، القاعدہ اور حوثی عسکریت پسندوں پر تنقید کرتے ہیں۔

    اسی طرح ‘صیہونی خطرہ’ نامی وہ باب بھی مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے جس میں مختلف موضوعات تھے اور یہ بھی شامل تھا کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے اور اسے باقی رہنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ اس باب میں یہ بھی شامل تھا کہ اسرائیل مبینہ طور پر اپنا علاقہ دریائے نیل سے دریائے فرات تک پھیلانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔

    چین میں طوفانی بارشوں نے تباہی مچادی،ہزاروں افراد شیلٹرز ہوم میں پناہ لینے پر مجبور

    صیہونی خطرہ نامی باب بھی مکمل طور پر ختم کر دیا گیا، جس میں اسرائیل کو ایک ناجائز ریاست اور اسے تسلیم نہ کرنے کی ترغیب تھی۔ اس باب میں کئی حقائق بیان کیے گئے تھے،جن کی رو سے اسرائیل اپنا علاقہ دریائے نیل سے دریائے فرات تک پھیلانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔

    ایک پیراگراف جو حذف کیا گیا وہ ہم جنس پرستوں کو سزائے موت سے متعلق تھا اسرائیل کے پالیسی اسٹڈیز ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی طرف سے تیار کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کو اب سعودیوں کی طرف سے پریشان ہونے کی چنداں ضرورت نہیں، کیونکہ سعودی عرب بہت حد تک بدل چکا ہے۔ سعودی عرب نے رواں سال ایک نیا نصاب تعلیم تیار کیا ہے جس میں اسرائیل سے نفرت ختم کردی گئی ہے۔ یہ نیا نصاب آئندہ تعلیمی سال سے رائج کیا جائے گا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب میں تعلیمی نظام میں جوہری تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں۔ حکومت نے ایک ایسا نصاب تعلیم مرتب کیا ہے جسے پڑھنے والے بچے اور نئی نسل اسرائیل کےخلاف نفرت نہیں کرے۔ نئے نصاب میں تشدد پر اکسانے والا تمام مواد ہٹا دئے گئے ہیں ۔ وہ تمام مضامین اور درسی مواد جس میں یہودیوں اور اسرائیل سے نفرت سکھائی جاتی تھی، مکمل طور پر ختم کردیے گئے ہیں ۔ اب سعودیہ کے نصاب میں ایسی کوئی چیز نہیں باقی نہیں رہی، جسے پڑھ کرطلبا میں شوقِ شہادت پیدا ہوگی۔

    بغداد؛ شاہراہ عام پر خاتون کو سرعام بے لباس کردیا گیا

    2022 کی سعودی نصابی کتب کا تجزیہ کرنے والی نئی رپورٹ کے مطابق، صرف دو بڑے مسائل باقی رہ گئے ہیں: علاقائی نقشوں پر اسرائیل کی عدم موجودگی اور بعض صورتوں میں اسرائیلیوں کی شناخت کے لیے "اسرائیلی قبضے” یا "اسرائیلی قابضین” کا استعمال۔ اس کے علاوہ، "صیہونیوں” کی اصطلاح کی بہت سی مثالوں کو "اسرائیلی” سے بدل دیا گیا تھا۔

    سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں ان کے واضح کردار کی وجہ سے تنقید کا سامنا ہے۔امریکی بائیڈن انتظامیہ نے فروری 2021 میں ایک غیر اعلانیہ رپورٹ جاری کی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ MBS نے خاشقجی کو قتل کرنے کے آپریشن کی منظوری دی تھی۔

    پاکستان سے بھارت جانیوالی سیما کے پب جی پارٹنر کے گھر میں فاقے،مدد کی اپیل

    بائیڈن کے اپنی انتظامیہ کے آغاز سے ہی ایم بی ایس کے ساتھ کشیدہ تعلقات رہے ہیں، حالانکہ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ سعودی مملکت اور اسرائیل کے درمیان معمول پر لانے کے لیے کام کر رہے ہیں واشنگٹن میں عرب خلیجی ریاستوں کے انسٹی ٹیوٹ کے سینئر رہائشی اسکالر کرسٹین دیوان نے کہا کہ یہ تبدیلیاں سعودی حکومت کے قانونی ہونے کے بارے میں زیادہ ہیں۔

    انہوں نے متنبہ کیا کہ اگرچہ نیا نصاب یہودیت کو بطور مذہب رواداری بڑھاتا ہے، لیکن یہ "اسرائیل کی سیاسی قبولیت کو معدوم رکھتا ہےیہ یہودیوں میں مذہبی عدم برداشت کو کم کرنے کی کوششوں کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے، جس طرح اسرائیل کو معمول پر لانے کے بارے میں سیاسی فیصلہ کیا جانا چاہیے، اس کی بتدریج تیاری کر رہا ہے۔”

  • ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر 13 ارب ڈالر سے زائد ہیں،اسحق ڈار

    ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر 13 ارب ڈالر سے زائد ہیں،اسحق ڈار

    اسلام آباد: وزیر خزانہ اسحق ڈار نے کہا ہے کہ ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر 13 ارب ڈالر سے زائد ہیں۔

    باغی ٹی وی: انہوں نے کہا کہ اگر آئی ایم ایف کا پروگرام نہ ہوتا تو ہمارےپاس دوسرا پلان تھا، آئی ایم ایف کےساتھ معاہدے کو بروقت مکمل کیا جائے گا، پاکستان اپنی تمام عالمی ذمہ داریوں کو پورا کرے گا تمام ادائیگیاں وقت پر ہوں گی،اس کیلئے انتظامات مکمل ہیں،موجودہ حکومت نے ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا، دنیا چاہتی تھی کہ پاکستان ڈیفالٹ کرےاورتماشہ بنے، ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر 13 ارب ڈالر سے زائد ہیں زرمبادلہ کے ذخائر وقت کے ساتھ مزید بہتر ہورہے ہیں، چین ، سعودی عرب اور یواے ای نے پاکستان کی مدد کی۔

    حالیہ مون سون بارشوں کی تباہ کاریاں، این ڈی ایم اے کی رپورٹ جاری

    قبل ازیں وزیر خزانہ اسحق ڈار نے کہا تھا کہ سعودی عرب نے اسٹیٹ بینک میں 2 ارب ڈالر منتقل کردیئےہیں اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا تھا کہ پاکستان کی معیشت پہلے سے بہترہے ، مستقبل میں پاکستان کے معاشی معاملات مزید بہتری کی طرف جائیں گے رقم منتقل کرنے پر وزیراعظم ،آرمی چیف اور اپنی طرف سے سعودی عرب کا شکریہ اداکرتاہوں سعودی عرب ہر موقع پر پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے ۔

    غیرملکی خاتون کی آمد کی فیک خبر شئیر کرنے پرنوجوان گرفتار

    علاوہ ازیں ایک ویڈیو پیغام میں وزیر خزانہ نے بتایا تھا کہ سعودی عرب نے اسٹیٹ بینک کے اکاؤنٹ میں 2 ارب ڈالر جمع کرا دیئے ہیں، جس کے نتیجے میں پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 11.6 ارب ڈالر ہوگئے ہیں-

  • سعودی عرب یوکرین جنگ کے حوالے سے مذاکرات کی میزبانی کرے گا

    سعودی عرب یوکرین جنگ کے حوالے سے مذاکرات کی میزبانی کرے گا

    سعودی عرب اگست کے شروع میں یوکرین جنگ کے حوالے سے مذاکرات کی میزبانی کرے گا –

    باغی ٹی وی: امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کےمطابق مذاکرات میں مغربی ممالک، یوکرین، بھارت اوربرازیل سمیت ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک کو مدعو کیا جائے گا 5 اور 6 اگست کو جدہ میں ہونے والے اس اجلاس میں انڈونیشیا، مصر، میکسیکو، چلی اور زیمبیا سمیت 30 ممالک کے سینیر حکام شرکت کریں گے، تاہم ان مذاکرات میں جنگ کا فریق روس شامل نہیں ہوگا۔


    یوکرین اورمغربی حکام کوامید ہےکہ یہ مذاکرات یوکرین کے حق میں امن شرائط کےلیے بین الاقوامی حمایت کا باعث بن سکتے ہیں یوکرین کے تقریباً چھٹے حصے پر قابض ہونے کا دعویٰ کرنے والے روس کا کہنا ہے کہ وہ یوکرین کے ساتھ امن مذاکرات کو صرف اسی صورت میں ممکن سمجھتا ہے جب کیف ”نئی حقیقتوں“ کو قبول کرے کریملن کا اشارہ روسی فوج کے زیر قبضہ یوکرین کے علاقوں کی طرف تھا۔

    جبکہ یوکرین کا کہنا ہے کہ روس کے ساتھ مذاکرات صرف اس وقت ممکن ہوں گے جب ماسکو ملک سے اپنی افواج واپس بلا لے گا مدعو ممالک میں سے ابھی تک یہ واضح نہیں کہ کتنے شرکت کریں گے البتہ جون میں کوپن ہیگن میں اسی طرح کے مذاکرات میں حصہ لینے والے ممالک کے نمائندوں کی جدہ میں آمد متوقع ہےبرطانیہ، جنوبی افریقا، پولینڈ اور یورپی یونین نے جدہ اجلاس میں شرکت کی تصدیق کی ہے اور امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان کی شرکت بھی متوقع ہے۔

  • او آئی سی نے قرآن پاک کی بار بار بے حرمتی پر بات کرنے کے لیے  اجلاس طلب کر لیا ہے

    او آئی سی نے قرآن پاک کی بار بار بے حرمتی پر بات کرنے کے لیے اجلاس طلب کر لیا ہے

    اسلامی تعاون کی تنظیم (OIC) نے 31 جولائی کو رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کی کونسل کے لیے ایک غیر معمولی ورچوئل اجلاس منعقد کرے گی جس میں سویڈن اور ڈنمارک میں قرآن پاک کے نسخوں کی بے حرمتی اور جلانے کے بار بار ہونے والے واقعات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔یہ اجلاس سعودی عرب،اور جمہوریہ عراق کی درخواست پر بلایا گیا ہے۔وزراء کا یہ ہنگامی اجلاس رواں سال 02 جولائی کو جدہ میں او آئی سی جنرل سیکرٹریٹ میں منعقدہ ایک غیر معمولی اجلاس کے بعد او آئی سی کی ایگزیکٹو کمیٹی کے جاری کردہ حتمی بیان کے جواب میں بلایا گیا ہے۔بیان میں سویڈن میں قرآن پاک کے نسخے کو نذرآتش کرنے پر توجہ دلائی گئی اور ضرورت پڑنے پر اعلیٰ سطحی ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا گیا۔اجلاس میں او آئی سی کے سیکرٹری جنرل حسین برہم طحہ کی ایگزیکٹو کمیٹی کے جاری کردہ حتمی بیان پر عمل درآمد کے حوالے سے رکن ممالک کے ساتھ مشاورت پر غور کیا جا رہا ہے۔ اجلاس میں بار بار کی جانے والی اشتعال انگیز کارروائیوں کے جواب میں مزید اقدامات پر بھی غور کیا جا رہا ہے جو جان بوجھ کر مذہبی منافرت اور عدم برداشت کی نمائندگی کرتے ہیں۔
    واضح رہے انتہائی دائیں بازو کے گروپ ڈانسکے پیٹریاٹر نے پیر کو ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں ایک شخص قرآن پاک کی بے حرمتی اور جلاتے ہوئے نظر آ رہا ہے۔
    جس پر مسلم دنیا میں غم و غصہ کو مزید ابھارہ گیا ہے۔ سعودی عرب، نے بھی سویڈن میں مقیم ایک عراقی پناہ گزین کے احتجاج کی مذمت کی ہے جس نے گزشتہ ماہ اسٹاک ہوم کی مرکزی مسجد کے باہر قرآن پاک کے صفحات کو نذر آتش کیا تھا۔

  • وزیراعظم متحدہ عرب امارات پہنچ گئے

    وزیراعظم متحدہ عرب امارات پہنچ گئے

    وزیراعظم محمد شہباز شریف ایک روزہ دورے پر متحدہ عرب امارات پہنچ گئے

    متحدہ عرب امارت پہنچنے پر پاکستان کے یو اے ای میں سفیر، اعلی اماراتی حکام اور پاکستانی سفارتی اہلکاروں نے وزیرِ اعظم کا استقبال کیا ،وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف، متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نھیان کے بھائی، شیخ سعید بن زاید آل نھیان کے انتقال پر تعزیت کیلئے شاہی محل جائیں گے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں

    قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف لاہور سے ہنگامی دورے پر بیرون ملک روانہ ہوئے تھے،وزیراعظم شہباز شریف لاہور سے دبئی کے لئے اپنے خصوصی طیارے پر روانہ ہوئے، پارٹی ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے ہمراہ ان کے سٹاف کے اراکین بھی روانہ ہوئے،وزیراعظم شہباز شریف کا خصوصی طیارہ علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے اولڈ ٹرمینل سے دوپہر 2 بجے کے قریب روانہ ہوا،دبئی میں وزیراعظم شہباز شریف کی پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے ملاقات متوقع ہے

    ن لیگی ترجمان ، وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف متحدہ عرب امارات کے مختصر دورے پر روانہ ہوئے ہیں جہاں وہ یو اے ای کے عزت مآب صدر محمد بن زاید آل نھیان سے ان کے بھائی، شیخ سعید بن زاید آل نھیان کے انتقال پر پاکستان کی حکومت اور عوام کی طرف سے اظہار تعزیت کریں گے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور اہل خانہ کو صبر جمیل دے۔ آمین

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف دبئی اور سعودی عرب میں قیام کے بعد ایک دن قبل یورپ روانہ ہوئے ہیں اور آج ہی پاکستانی وزیراعظم دبئی روانہ ہو گئے،

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

  • خطرناک پرواز،آسمان پر دو جہاز 60 میٹر کے فاصلے پر آگئے

    خطرناک پرواز،آسمان پر دو جہاز 60 میٹر کے فاصلے پر آگئے

    سعودی عرب میں ایک دوسرے سے صرف 60 میٹر کے فاصلے پر پرواز کرتے دو جہازوں نے دیکھنے والوں کو خوفزدہ کردیا-

    باغی ٹی وی: دونوں جہاز شاہ خالد ائرپورٹ پر ڈرامائی لینڈنگ سے پہلے ایک دوسرے کے انتہائی قریب آگئے تھے، جس کی ویڈیو سعودی ایوی ایشن نے جاری کی ہے سعودی ائرلائنز کا جہاز ”بوئنگ 777-300“ کیپٹن محمود بخاری اڑا رہے تھے، جبکہ فلائناس ائرلائن کا ”اے 320 نیو“ طیارہ کیپٹن فہد الیحیٰ اڑا رہے تھے۔

    ویڈیو میں دونوں طیاروں کو ایک دوسرے کے قریب آتے ہوئے دکھایا گیا خوفزدہ کر دینے والے اس منظر میں دو طیاروں کو انتہائی قریب ہوتے دیکھا گیا۔ اس کے بعد طیارے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بحفاظت اتر گئے۔


    سعودی ایئر لائنز کے آفیشل اکاؤنٹ نے "ٹویٹر” پر وضاحت کی کہ دونوں طیاروں کے درمیان اونچائی صرف 60 میٹر تھی۔ اس ویڈیو پر بہت سے افراد نے تنقید کی اور کہا صرف 60 میٹر کا فاصلہ بہت بڑا خطرہ تھا۔ خاص طور پر اس صورت میں جب طیارہ ایسا کرنٹ پیدا کرتا ہے جو دوسرے کو متاثر کر سکتا ہے۔

    دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں جہازوں کی ایک دوسرے کے اتنے قریب پرواز انتہائی خطرناک ہے کیونکہ جہاز پرواز کے وقت ہوا کا ایسا دباؤ پیدا کرتے ہیں جو دوسرے جہاز کو اڑا سکتا ہے۔

    تاہم، ایک سول پائلٹ عبداللہ الغامدی کا کہنا ہے کہ اس طرح کی پروازیں گورننگ باڈی کی منظوری سے کی جاتی ہیں۔ اس کیلئے ہوا، زمین، پہاڑوں اور دیگر عوامل پر پیشگی ریسرچ کی جاتی ہے۔ لیکن حفاظت کیلئے ضروری ہے کہ طیاروں کا آپس میں فاصلہ کم سے کم 500 فٹ ہو۔

  • سعودی ولی عہد اور ترک صدر کے درمیان باضابطہ بات چیت،کئی دو طرفہ معاہدوں پر دستخط

    سعودی ولی عہد اور ترک صدر کے درمیان باضابطہ بات چیت،کئی دو طرفہ معاہدوں پر دستخط

    سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے ترکیہ کے صدر طیب اردوان کی طرف سے تحفے میں دی گئی الیکٹرک کار چلانے کا تجربہ کیا

    سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے جدہ میں ترک صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ الیکٹرک کار چلائی، ترک صدر نے شہزادہ محمد بن سلمان کو سعودی عرب کے شاہی خاندان کے لیے 2 ترک ساختہ الیکٹرک کاریں بطور تحفہ پیش کیں دونوں رہنماؤں نے جدہ میں السلام شاہی محل کے صحن میں ترکی کے پہلی الیکٹرک کار ’ٹوگ‘ کا تجربہ کیا ،

    سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے پیر کو جدہ میں باضابطہ بات چیت میں انہوں نے مختلف شعبوں پر محیط کئی دو طرفہ معاہدوں پر دستخط کی نگرانی کی۔سعودی پریس ایجنسی کے مطابق دونوں فریقوں نے توانائی، دفاعی صنعت، تحقیق اور ترقی کے شعبوں میں تعاون کے لیے مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے سعودی عرب نے ترکیہ کی دفاعی کمپنی ’’ بایکر‘‘ کے ساتھ دو معاہدوں پر دستخط کیے۔

    مملکت کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے منگل کے اوائل میں ایک ٹویٹ میں کہا کہ وزارت دفاع اور بایکر کے درمیان دو حصول کے معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں جس کے تحت وزارت ڈرونز حاصل کرے گی۔ اس کا مقصد مملکت کی مسلح افواج کی تیاری کو بہتر بنانا اور اس کی دفاعی اور مینوفیکچرنگ کی صلاحیتوں کو بڑھانا ہے۔

    روسی سائنسدان نے تحقیق کیلئےاپنے دماغ کی خود ہی سرجری کرڈالی

    ایس پی اے نے کہا کہ سرکاری بات چیت کے دوران سعودی اور ترکیہ کے رہنماؤں نے سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دو طرفہ تعلقات کا جائزہ لیا اور ان کے درمیان تعاون کے ذرائع اور مختلف شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینے کے مواقع پر غور کیا۔

    ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور ترک صدر ایردوان نے علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفتوں اور ان معاملات کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان بات چیت شروع ہونے سے قبل ولی عہد نے سرکاری استقبالیہ تقریب میں ایردوان کا استقبال کیا۔

    واضح رہے کہ اردوان مئی میں ترکیہ کے صدارتی انتخابات میں دوبارہ منتخب ہوئے تھے۔ ترک صدر کا مملکت کا دورہ خلیجی دورے کا پہلا پڑاؤ ہے۔ 17 سے 19 جولائی تک جاری رہنے والے اس دورے میں وہ قطر اور متحدہ عرب امارات بھی جائیں گےدورے کے ایک حصے کے طور پر سعودی وزیر سرمایہ کاری خالد الفالح اور ترکی کے وزیر تجارت عمر بولات کی موجودگی میں سعودی ترک بزنس فورم کا انعقاد کیا گیا۔

    افغانستان کو دہشتگرد حملوں کیلئےمحفوظ مقام کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے،امریکا

    فورم میں تعاون کے ذرائع اور دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری کے مواقع کو بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں 9 مفاہمتی یادداشتوں کا اعلان ہوا۔ یہ یادداشتیں توانائی، رئیل اسٹیٹ، تعمیرات، تعلیم، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، صحت اور میڈیا کے شعبوں سے متعلق تھیں۔


    بعد ازاں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے پیر کو جدہ کے قصر السلام میں ہونے والی ملاقات کے بعد ترک صدر رجب طیب ایردوان کے لیے خود گاڑی چلائی اور انہیں ان کی قیام گاہ تک پہنچایا ترک صدر نے سعودی شاہ سلمان اور ولی عہد دونوں کو ترکی کی دو الیکٹرک کاریں بطور تحفہ پیش کیں۔

    رجب طیب اردوان سرکاری دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے