Baaghi TV

Tag: سوشل میڈیا

  • ایرانی سپریم لیڈر کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند

    ایرانی سپریم لیڈر کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند

    تہران: میٹا کمپنی نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیئے=

    باغی ٹی وی: عالمی میڈیا کے مطابق میٹا کمپنی نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای کےفیس بُک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس بند کردیے، آیت اللّٰہ خامنہ ای کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اب ویب سائٹ پر موجود نہیں ہیں جس کا مطلب ہے کہ انہیں مستقل طور پر ہٹا دیا گیا ہے۔

    ترجمان میٹا نے اس حوالے سے امریکی میڈیا کو تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان اکاؤنٹس کو مسلسل پالیسی کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے ہٹایا گیا ہے۔

    حلقہ این اے 64 سے چودھری سالک حسین کی جیت برقرار،قیصرہ الہی کو شکست

    صدر مملکت عارف علوی نئے وزیراعظم سے حلف لیں گے؟

    بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق

  • غریدہ فاروقی کیخلاف سوشل میڈیا پر مہم، حکومت کا نوٹس

    غریدہ فاروقی کیخلاف سوشل میڈیا پر مہم، حکومت کا نوٹس

    نگراں حکومت نے نجی چینل سے وابستہ صحافی کی مبینہ آن لائن ہراسانی کا نوٹس لے لیا

    نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نےٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ نگران حکومت نے ایک سیاسی جماعت کی ٹرول بریگیڈ کی جانب سے صحافی غریدہ فاروقی کو ہراساں کرنے کی بدنیتی پر مبنی مہم پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے، لوگوں کے گھروں کے پتہ جات اور پرائیویٹ فون نمبرز لیک کرنا تشدد اور ہراساں کرنے کے مترادف ہے،اس ہراسانی کو قطعی برداشت نہیں کیا جائے گا، متعلقہ حکام اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں، مجرمان اور ان کے ہینڈلرز قانون کے مطابق سزا سے نہیں بچ سکیں گے،

    واضح رہے کہ غریدہ فاروقی کے خلاف سوشل میڈیا پر گزشتہ روز مہم چلائی گئی تھی جس پر غریدہ نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ پی ٹی آئی اور اس سے منسلک لوگ ہر دس پندرہ دن بعد میرے خلاف منظم، سوچی سمجھی، اخلاق باختہ کیمپینز چلانا شروع کر دیتے ہیں کیونکہ میں انکے جھوٹ بےنقاب کرتی ہوں، سچ اور حقائق سامنے لاتی ہوں اور انکی گالم گلوچ ہراسانی کے دباؤ میں نہیں آتی۔ ایسی ہی ایک اور منظم کیمپین کل سے دوبارہ میرے خلاف شروع کروا دی گئی ہے۔ جس کیخلاف میں نے FIA میں شکایت درج کروا دی ہے۔ جو بھی اس کیمپین میں ملوث ہے اُسے قانون کے سامنے لازماً اب جوابدہ کروایا جائیگا۔ صحافیوں کو ہراساں کر کے انہیں خاموش کروانے کی پی ٹی آئی کی یہ واردات میرے خلاف 2014 سے مسلسل جاری ہے؛ لیکن میں ان ہتھکنڈوں سے خاموش ہونیوالی ڈرنے والی نہیں۔ خواتین صحافیوں اور خاص کر میرے خلاف ٹارگٹ کر کے پی ٹی آئی جو کیمپینز چلاتی ہے ان کا اب قلع قمع ہو گا۔ الیکشن کے نزدیک یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ صحافیوں کی کردارکُشی اور ہراساں کر کے دباؤ ڈال لینگے؛ یہ بھول ہے۔ افسوسناک اور شرمناک کہ ان کی خواتین کے ایماء پر اور انکی شمولیت کیساتھ یہ سب کچھ ہوتا ہے۔ یہ حالیہ کیمپین کس کے ایماء پر، کیوں اور کیسے شروع کی گئی سب معلوم ہو رہا ہے اور اس کا قانونی حل بھی ہو گا۔ اب قانون کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا۔ یہ جمہوریت کے نام پر فاشزم پھیلا کر معاشرے کو تباہ کر رہے ہیں؛ خواتین کی عزت اچھالتے ہیں؛ ریاست مخالف اقدامات کرتے ہیں؛ سب کا حساب اب ہونا چاہیئے اور ہو گا۔ ان شیطانوں کو اب جکڑا جانا چاہئیے اور ہونگے

    غریدہ فاروقی کو کسی بھی قسم کا جانی و مالی نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ دار پی ٹی آئی کی قیادت ہو گی،پی ایف یو جے
    پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے تحریک انصاف کی جانب سے جی ٹی وی کی اینکر غریدہ فاروقی کے گھر کا ایڈریس اور موبائل فون نمبر سوشل میڈیا پر ڈال کر کردار کشی اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کی منظم مہم پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے ۔ پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ و سیکرٹری جنرل ارشد انصاری نے اپنے مشترکہ بیان میں تحریک انصاف کی موجودہ قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس غیر قانونی اقدام میں ملوث پی ٹی آئی کے کارکنوں کیخلاف جماعت کے پلیٹ فارم سے تادیبی کارروائی کریں بصورت دیگر غریدہ فاروقی کو کسی بھی قسم کا جانی و مالی نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ دار پی ٹی آئی کی قیادت ہو گی۔ پی ایف یو جے کی قیادت نے مزید کہا کہ کسی بھی صحافی کی تحریر پر تبصرہ اور تنقید کو ہم جائز سمجھتے ہیں لیکن گالم گلوچ، کردار کشی اور سنگین نتائج و قتل کی دھمکیاں کسی صورت برداشت نہیں کی جائیں گی۔

    عمران خان کی ذہنی حالت،غریدہ فاروقی کا اہم انکشاف

    عمران خان کا فوج میں تقیسم کا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا 

    سپاہی کبھی غدار نہیں ہوتا،افواج اور قیادت کو نشانہ بنانے پر ریٹائرڈ فوجی برہم

    کس ویڈیو کی آمد ہے کہ بنی گالا کانپ رہا ہے،احمد جواد

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    اداروں کیخلاف ہرزہ سرائی کے پیچھے کرپشن اور فارن فنڈنگ کیس کا خوف ہے،آصف زرداری

  • عدالت کا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے فحش مواد ہٹانے کا حکم

    عدالت کا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے فحش مواد ہٹانے کا حکم

    سندھ ہائیکورٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے فحش مواد ہٹانے کا حکم دے دیا

    چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے کراچی میں فیملی وی لاگنگ کے نام پر سوشل میڈیا پر فحش مواد کی موجودگی سے متعلق کیس کی سماعت کی، عدالت نے حسن بیگ کی درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری کردیا جس میں چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے فیس بک ، ٹک ٹاک ، یوٹیوب، اسنیپ چیٹ اور دیگر ایپس سے غیر اخلاقی مواد پر فوری ایکشن لینےکا حکم دیا ،عدالت نے وفاقی حکومت اور دیگر کو کارروائی کرکے 20 فروری تک رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا،عدالت نے کہا کہ وفاقی حکومت اور دیگر کارروائی کرکے 20 فروری تک رپورٹ پیش کریں،

    دوسری جانب نوجوان نسل کو موبائل میں فحش مواد اپلوڈ کرکے بے راہ روی کی طرف لے جانے والا دوکاندار گرفتارکر لیا گیا،واقعہ نوشہرہ میں پیش آیا ،فخرالاسلام خان اے ایس آئی کو باوثوق ذرائع سے اطلاع ملی کہ مسلم بازار نوشہرہ کلاں میں ایک دوکاندار کے پاس کمپیوٹر میں بہت سے فحش مواد موجود ہیں۔جو وہ نوجوانوں اور بچوں کو موبائیل میں اپلوڈ کرواتا ہے۔فوری طور پر دوکان پر چھاپہ مارا گیا، ۔دوکان میں موجود کمپیوٹر کو چیک کرنے پر بہت سارے فحش مواد موجود تھے۔ملزم ریحان ولد دلشاد کو گرفتار کرکے کمپیوٹرز کو بطور ثبوت قبضہ پولیس کر لیا گیا۔

    دس برس تک سگی بیٹی سے مسلسل جنسی زیادتی کرنیوالے سفاک باپ کو عدالت نے سنائی سزا

    گھر میں گھس کر خاتون سے زیادتی کی کوشش کرنیوالا سابق پولیس ملازم گرفتار

    خواجہ سرا مشکلات کا شکار،ڈی چوک میں احتجاج،پشاورمیں "ریپ” کی ناکام کوشش

    خواجہ سرا کے روٹھنے پر خود کو آگ لگانے والا پریمی ہسپتال منتقل

    خواجہ سرا پر تشدد کرنے والے ملزمان گرفتار

    خواجہ سراؤں کو ملازمتوں میں کوٹہ مقرر کرنے کا مطالبہ سامنے آ گیا

    خواجہ سرا کا یہ کام دوسروں کیلئے مشعل راہ ہے،لاہور ہائیکورٹ

  • تنقید کی بناء پر صحافیوں کو جاری نوٹس فوری واپس لیےجائیں،چیف جسٹس کا حکم

    تنقید کی بناء پر صحافیوں کو جاری نوٹس فوری واپس لیےجائیں،چیف جسٹس کا حکم

    سپریم کورٹ،ایف ائی اے کی جانب سے صحافیوں کو ہراساں کرنے کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی،ہراساں کیے جانے والے صحافی کورٹ میں پیش ہوئے،صحافیوں میں عبد القیوم صدیقی ، سہیل رشید، فیاض محمود اور ثاقب بشیر شامل تھے

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل منصور اعوان عدالت میں پیش کتنے کیسز ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ چار درخواستیں ہیں جن میں قیوم صدیقی اور اسد طور درخواستگزارہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا جرنلسٹ ڈیفنس کمیٹی کے پاکستان بار کے نمائندے موجود ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ جرنلسٹ ڈیفنس کمیٹی اب ختم ہو چکی، وکیل حیدر وحید نے کہا کہ ہم نے وفاقی حکومت کو آزادی اظہار رائے کو ریگولیٹ کرنے کا حکم دینے کی درخواست کی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کی درخواست بعد میں دیکھیں گے،سب سے پہلے تو قیوم صدیقی بتائیں کہ کیس خود چلانا ہے یا پریس ایسوسی ایشن کے صدر دلائل دیں گے؟ صحافی نے کہا کہ میں کچھ حقائق سامنے رکھنا چاہتا ہوں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ قدرت کا نظام دیکھیں کہ ہم نے ازخود نوٹس کورٹ نمبر دو میں لیا لیکن معاملہ 5 رکنی بنچ کے پاس ازخود نوٹس کے اختیار کے لیے چلا گیا، 5 رکنی بنچ نے طے کیا کہ 184 تین کا ازخود نوٹس لینے کا اختیار صرف چیف جسٹس کا ہے، صحافیوں کی ہی نہیں ججز کی بھی آزادی اظہار رائے ہوتی ہے،عبدالقیوم صدیقی آپ نے تو کہا تھا کہ آپ اس کیس کو چلانا نہیں چاہتے، صحافی نے کہا کہ جب معاملہ جسٹس اعجازالاحسن کے بنچ میں گیا تو کہا تھا کہ کیس نہیں چلانا چاہتا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کیس نمٹانے کے بجائے 2021 سے سرد خانے میں رکھ دیا، بتائیں کہ تب کیا درخواست تھی آپ کی اور اب کیا ہے،

    اسد طور صاحب آپ کی مرضی نہیں ہے کہ ٹہلتے ہوئے آئیں اور کہیں کہ اپنی درخواست واپس لے رہا ہوں،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اسد طور پر تشدد ہوا کیا ان کا پتہ چلا کہ کون لوگ تھے؟کیا آپ ان کی شکلیں پہچان سکتے ہیں؟اسد طور نے کہا کہ جی بالکل میں ان کی شکلیں پہچان سکتا ہوں، جو ایف آئی آر دی تھی اس میں بھی میں تشدد کرنے والوں نے اپنا تعارف کروایا تھا.اسد طور نے درخواست واپس لینے کی استدعا کردی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اسد طور سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ نے جھوٹا الزام لگایا ہے؟ اگر آپ پر دباؤ ہے تو ہم آپ کو پیچھے نہیں ہٹنے دیں گے، اسد طور نے کہا کہ میں ایف آئی آر کو اون کر رہا ہوں لیکن اس درخواست میں مجھے غیر ضروری طور پر شامل کیا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اسد طور صاحب آپ کی مرضی نہیں ہے کہ ٹہلتے ہوئے آئیں اور کہیں کہ اپنی درخواست واپس لے رہا ہوں،کیا اسد طور کا کیس فعال ہے یا سرد خانے کی نظر ہوگیا ہے؟ اسد طور نے کہا کہ سال 2021 میں دائر کی گئی پٹیشن میں مجھے ٹریپ کیا گیا تھا، تین سال پرانی درخواست سے خود کو الگ کر رہا ہوں، جو حالیہ اعلامیہ ہے اس سے متفق ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا آپ نے جھوٹے الزامات لگائے تھے؟ اسد طور نے کہا کہ ایف آئی آر میں عائد الزامات پر قائم ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ آپ کیس بھلے نہ چلائیں ہم آپ کو بنیادی حقوق دلوائیں گے، آپ پر دبائو ہے تو کیس واپس نہیں لینے دینگے، اسد طور نے کہا کہ مجھ پر کسی قسم کا کوئی دبائو نہیں ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر سپریم کورٹ بار شہزاد شوکت کو روسٹرم پر بلا لیا ، اسد طور نے کہا کہ سال 2021 میں جب درخواست دائر ہوئی تو سمجھا تھا کہ مطیع اللہ جان بھی ساتھ ہیں،جس انداز میں کمرہ عدالت میں درخواست دی گئی وہ طریقہ کار درست نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جس انداز میں درخواست لگی اس سے میں بھی مطمئن نہیں ہوں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم یقینی بنائیں گے کہ پاکستان کا ہر صحافی جو لکھنا چاہے وہ آزادی کے ساتھ لکھ سکے۔صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف کیس سرد خانے میں چلا گیا،ہم کب تک ماضی کی غلطیوں کو دہراتے رہیں گے،ہمیں سچ بولنا چاہیے،اگر ہم سے غلطی ہوئی تو انگلی اٹھائیں، یہاں مٹی پاؤ نظام چل رہا ہے،جب تک کسی کو قابل احتساب نہیں ٹھہرائیں گے ایسا ہوتا رہے گا،

    میرا مذاق بھی اڑائیں مجھے کوئی فکر نہیں، کسی کو تشدد پر اکسانے یا دیگر انتشار پھیلانے کا معاملہ الگ ہے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نےصحافیوں کو جاری ایف آئی اے نوٹس فوری واپس لینے کا حکم دے دیا ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کو اگر تنقید کرنے پر نوٹس دیئے گئے ہیں تو وہ واپس لیں، اگر خامیاں تنقید کے ذریعے اجاگر نہیں کریں گے تو میں اپنی اصلاح کیسے کروں گا،پریس ایسوسی ایشن نے کہا کہ ہمارا مقدمہ صرف صحافیوں کی حد تک ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نے تفریق کی بات کر دی،دل کھول کر تنقید کریں،تنقید سے اصلاح ہوتی ہے،فیصلوں پر تنقید کو خوش آمدید کہتا ہوں،تنقید روکنے کے سخت خلاف ہوں، آزادی صحافت آئین میں ہے، میرا مذاق بھی اڑائیں مجھے کوئی فکر نہیں، کسی کو تشدد پر اکسانے یا دیگر انتشار پھیلانے کا معاملہ الگ ہے، سپریم کورٹ بارے تنقید پر کوئی مقدمہ درج نہیں ہوگا،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ سوشل میڈیا نے اداروں کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ تھمب نیل پر جو کچھ لکھاہوتاہے وہ اندر نہیں ہوتا،یہ بہت عجیب ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر آپ یہ سمجھ رہے کہ تنقید روک کر میرا یا سپریم کورٹ کا فائدہ کر رہے ہیں تو آپ میرا نقصان کر رہے ہیں

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ گالم گلوچ الگ بات ہے، ایف آئی اے تنقید کی بناء پر کارروائی نہ کرے،عدلیہ کا مذاق اڑائیں گے تو ملک کا نقصان ہوگا، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ اگر آرٹیکل 19 کا خیال ہے تو کچھ خیال آرٹیکل 14 کا بھی کریں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ فئیر تنقید میں مسئلہ نہیں لیکن جو زبان استعمال کی جاتی ہے وہ غلط ہے، اٹارنی جنرل نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ کسی صحافی کے خلاف تنقید پر کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ گالم گلوچ غلط ہے لیکن تنقید پر ممانعت نہیں، اگر کسی صحافی کو صرف تنقید کرنے پر پکڑا جائے تو یہ غلط ہے، مجھے تو گالم گلوچ سے بھی فرق نہیں پڑتا لیکن حدود ہونی چاہئے،صحافی قیوم صدیقی نے کہا کہ وفاقی حکومت سے یہ بھی پوچھا جائے کہ جے آئی ٹی کس کے کہنے پر بنی کیونکہ بہت قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم ان کو بھی حقوق دلائیں گے جو ہمارے سامنے نہیں ہیں، خود پر تنقید کو ویلکم کرتا ہوں، کچھ باتیں قائد اعظم کی کر لیتے ہیں، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ انہوں نے تو قائد اعظم کا بھی مذاق اڑایا ہے،

    ارشد شریف قتل کیس بھی مقرر کیا جائے، مطیع اللہ جان کی چیف جسٹس سے استدعا
    مطیع اللہ جان نے کہا کہ ارشد شریف کے قتل کا سوموٹو بھی مقرر کیا جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ارشد شریف کا کیس ہوسکتا ہے آئندہ سماعت پر ساتھ ہی لگا دیں، اس وقت کوئی ایسا حکم نہیں دینا چاہتے جو ارشد شریف کے کیس میں جاری احکامات سے متصادم ہوں، صدر سپریم کورٹ بارنے کہا کہ فیصلے پر تنقید ہونی چاہیے لیکن ججز کے خلاف من گھڑت کہانیاں نہیں بنانی چاہیے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ یوٹیوب کا کوئی کوڈ آف کنڈکٹ نہیں ہوتا،
    ٹی وی کیلئے تو پیمرا کا ضابطہ اخلاق موجود ہے،جو کچھ یوٹیوب کے تھمب نیل میں ہوتا ہے وہ ویڈیو میں نہیں ہوتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نفرت انگیز تقاریر کیساتھ کچھ اور چیزیں بھی صرف پاکستان میں ہی ہوتی ہیں، پولیو ورکرز کو قتل کر دیا جاتا ہے، خواتین کے سکولوں میں بم مارے جاتے ہیں، انتہاء پسند سوچ کیخلاف حکومت کیوں کچھ نہیں کرتی؟ خواتین کو ووٹ ڈالنے اور پولیو قطروں سے روکنے والوں کو کیوں نہیں پکڑا جاتا؟جڑانوالہ میں دیکھیں کیا ہوا، سب نفرت کا نتیجہ ہے، ان لوگوں کو استعمال کیا جاتا رہا ہے اب یہ اژدھا بن گئے ہیں،خواتین کو ووٹ سے روکنے کا فتویٰ دینے والے کو کیوں نہیں پکڑا؟ مطیع اللہ جان نے کہا کہ میڈیا پوری دنیا میں خود احتسابی اور اپنے ضابطہ اخلاق پر چلتا ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ میڈیا خود ضابطہ اخلاق بنانا چاہتا ہے تو بتائے کس کی مدد درکار ہے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا پریس ایسوسی ایشن کسی غلط خبر کی تردید کرتی ہے؟ہتک عزت کیس ہوجائے تو پچاس سال فیصلہ ہی نہیں ہوگا، سپریم کورٹ نے سماعت کل تک ملتوی کر دی
    خواتین کو ووٹ سے روکنے کا فتویٰ دینے والے کو کیوں نہیں پکڑا؟ چیف جسٹس

    چیف جسٹس اور ریاستی اداروں کے خلاف غلط معلومات کی تشہیر، ایف آئی اے حرکت میں آ گئی

    طلال چوہدری ،عائشہ رجب علی کو ٹکٹ نہ ملنے پر "تنظیم سازی” سوشل میڈیا پر زیر بحث

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    سوشل میڈیا پر فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قراردادمنظور

    سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی تشہیر،یورپی ممالک سے 40 پاکستانی ڈی پورٹ

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

  • اداروں کیخلاف سوشل میڈیا پر پراپیگنڈا،ایف آئی اے حرکت میں،صحافی  بھی طلب

    اداروں کیخلاف سوشل میڈیا پر پراپیگنڈا،ایف آئی اے حرکت میں،صحافی بھی طلب

    چیف جسٹس اور ریاستی اداروں کے خلاف غلط معلومات کی تشہیر، ایف آئی اے حرکت میں آ گئی

    سوشل میڈیا پر چیف جسٹس اور ریاستی اداروں کے خلاف توہین آمیز اور غلط معلومات کی تشہیر کے خلاف ایف آئی اے حرکت میں آ گئی ہے،115 انکوائریاں باضابطہ طور پر رجسٹر کر دی گئیں،ایف آئی اے نے غلط معلومات پھیلانے والے 65 افراد کو نوٹس بھیج دیے،ایف آئی اے کی تحقیقات اور مذکورہ کارروائی معاملے کی سنجیدگی کو ظاہر کر رہی ہے،ایف آئی اے کے نوٹسز کے حوالے سے سماعت کی تاریخ 30 اور 31 جنوری 2024 مقرر کی گئی ہے،جن افراد کو نوٹس بھیجے گئے ان میں میڈیا اور سوشل میڈیا کی 47 مشہور شخصیات بھی شامل ہیں

    ترجمان ایف آئی اے کے مطابق چیف جسٹس اور ریاستی اداروں کے خلاف غلط معلومات پھیلانے کی پاداش میں ان 47 اہم افراد پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے،ایف آئی اے کے اقدامات ادارے کی ملکی قوانین کی پاسداری کے عزم کا مظہر ہیں

    ایف آئی اے نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سوشل میڈیا مہم کے الزام میں 47 صحافیوں کو طلب کر لیا ،جن صحافیوں کو طلب کیا گیا ہے ان میں مطیع اللہ جان، سیرل المیڈا، صابر شاکر، شاہین صہبائی، عدیل راجہ، ثمر عباس، اسد طور، صدیق جان، اقرار الحسن، ملیحہ ہاشمی، جبران ناصر شامل ہیں، ایف آئی اے نے ان صحافیوں کو طلبی کے نوٹس جاری کر دیئے ہیں.پروپیگنڈا میں ملوث ملزمان کو 31 جنوری کو ایف آئی اے سائبرکرائم سینٹر پہنچنے کی ہدایت کی گئی ہے

    واضح رہے کہ حساس اداروں کے افسران نے عدلیہ کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلانے والوں کے حوالے سے ’پلان آف ایکشن‘ سربراہ جے آئی ٹی کو پیش کیا تھا، سوشل میڈیا پرعدلیہ کو بدنام کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے،ایڈیشنل ڈائریکٹرجنرل ایف آئی اے کی سربراہی میں جے آئی ٹی میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ عدلیہ کو بدنام کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا حساس اداروں کے افسران نے پلان آف ایکشن سربرا ہ جے آئی ٹی کو پیش کیا اس حوالے سے پی ٹی اے کو نفرت انگیز مواد پھیلانے والوں کی معلومات اکٹھی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، مواداپ لوڈ، شیئراورک منٹ کرنے والوں کی تمام تفصیلات حاصل کرنے کی ہدایت کے ساتھ اگلے مرحلے میں عدلیہ مخالف مواد پھیلانے والوں کی گرفتاریاں متوقع ہیں۔

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    سابق رکن اسمبلی کے بیٹے کے ہاتھوں خاتون کی عصمت دری،بنائیں فحش ویڈیو

    مساج سنٹر کی آڑ میں فحاشی کا اڈہ،پولیس ان ایکشن، 6 لڑکیاں اور 7لڑکے رنگے ہاتھوں گرفتار

    شہ آور چیز کھلا کر لڑکی سے زبردستی زیادتی کرنے والا ملزم گرفتار

    امیرلڑکے سے شادی کا انکار کیا تو گھر میں بند کر دیا گیا،25 سالہ لڑکی کی تحفظ کی اپیل

    یونیورسٹی میں فحش ویڈیوز اور مبینہ نشے کی فروخت،عدالت میں درخواست دائر

    کالج کی طالبات نے ساتھی طالبات کی واش روم میں فحش ویڈیو بنا کر وائرل کردیں

    محکمہ صحت لاہور کا کمال،سیمینار کے دوران فحش ویڈیو چل گئی

    یاد رہے کہ الیکشن کمیشن کی درخواست پر پی ٹی آئی سے بلے کا نشان واپس لینے کے فیصلے کے بعد سپریم کورٹ کے ججوں کو سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جس کے بعد وفاقی حکومت نےتحقیقاتی کمیٹی بنانے کا اعلان کیا تھا،ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل سائبر کرائم ونگ ایف آئی اے کمیٹی کے کنوینر ہوں گے،وزارت داخلہ کے مطابق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ایف آئی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل سائبر کرائم ونگ ہیں ٹیم ججوں کے خلاف سوشل میڈیا پر مواد اپ لوڈ کرنے والوں کی نشان دہی کرے گی جے آئی ٹی میں آئی بی کا گریڈ 20 کا ایک اور آئی ایس آئی کا ایک افسر بھی شامل ،ٹیم میں اسلام آباد پولیس کے ڈی آئی جی بھی بطور ممبر شامل ہوں گے جبکہ پی ٹی اے کا نمائندہ بھی کمیٹی کا حصہ ہے-

    نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے کہا ہے کہ 13 جنوری کو پاکستان کی سب سے بڑی عدالت نے ایک کیس پر فیصلہ دیا۔ اس فیصلے کے بعد ایک عدلیہ خلاف مہم چلائی گئی۔عدلیہ مخالف مہم کو مدنظر رکھتے ہوئے وزرات داخلہ نے ایک فیصلہ کیا۔ وزرات داخلہ نے 16 جنوری کو ایک کمیٹی تشکیل دی۔آئین پاکستان آرٹیکل 19 ہمیں آزادی رائے کی حد بھی بتاتا ہے۔ سوشل میڈیا کو استعمال کر کے ملک میں انتشار پھیلانے والوں کو خبر دار کرتے ہیں،پانچ سو سے زائد اکاؤنٹس کو چیک گیا ہے،ایف آئی اے سائبر ونگ باریک بینی سے تمام اکاؤنٹس کو دیکھ رہا ہے.

    طلال چوہدری ،عائشہ رجب علی کو ٹکٹ نہ ملنے پر "تنظیم سازی” سوشل میڈیا پر زیر بحث

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    سوشل میڈیا پر فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قراردادمنظور

    سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی تشہیر،یورپی ممالک سے 40 پاکستانی ڈی پورٹ

    سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی اے

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

    بیوی، ساس اورسالی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے الزام میں گرفتارملزم نے کی ضمانت کی درخواست دائر

    سپریم کورٹ کا سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس،ہمارے خاندانوں کو نہیں بخشا جاتا،جسٹس قاضی امین

    ‏ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

  • پاکستان میں سوشل میڈیا نیٹ ورک ڈاؤن ہونے سے صارفین کو پریشانی کا سامنا

    پاکستان میں سوشل میڈیا نیٹ ورک ڈاؤن ہونے سے صارفین کو پریشانی کا سامنا

    لاہور: پاکستان میں سوشل میڈیا نیٹ ورک ڈاؤن ہونے سے صارفین کو پریشانی کا سامنا ہے۔

    باغی ٹی وی: پاکستان میں ہفتے کی شام بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے ایکس (ٹوئٹر)، فیس بک اور یوٹیوب کے نیٹ ورک متاثر ہونے کی شکایت موصول ہوئیں، جس سے صارفین کو مشکلات کا سامنا ہے صارفین کو انٹرنیٹ کی رفتار انتہائی سست ہونے کی وجہ سے ڈاؤن لوڈنگ اور اپ لوڈنگ میں پریشانی کا سامنا ہے۔

    اس حوالے سے انٹرنیٹ کی نگرانی کرنے والی تنظیم نیٹ بلاکس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ایکس“ پر ٹوئٹ میں لکھا کہ یوٹیوب، انسٹاگرام، ایکس اور فیس بک جیسے پلیٹ فارمز میں ’قومی پیمانے‘ پر خلل پڑا ہے یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب بانی پی ٹی آئی عمران خان کی سیاسی جماعت پی ٹی آئی نے اپنا دوسرا ورچوئل اجتماع شروع کیا ہے۔

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے اپنا دوسرا آن لائن ورچوئل جلسہ آج شام 7 بجے منعقد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

  • کیا طاقتور حلقے دوسرا سانحہ 9 مئی ہونے کا انتظار کررہے ہیں؟جاوید لطیف

    کیا طاقتور حلقے دوسرا سانحہ 9 مئی ہونے کا انتظار کررہے ہیں؟جاوید لطیف

    سابق وفاقی وزیر ،مسلم لیگ ن کے رہنما جاوید لطیف نے کہا ہے کہ مخالفین اور ریاست کے خلاف پروپیگنڈے کیلیے کے پی حکومت میں ہزاروں لوگ سوشل میڈیا کیلیے بھرتی کیے گئے , اربوں روپیہ سوشل میڈیا پر بیانیہ بنانے والوں کو دیا جاتا رہا سوال اٹھتا ہے کہ آج انکو کہاں سے تنخواہ دی جارہی ہے؟

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن 2018 میں مقبول تھی اور آج بھی مقبول ہے،ہمیں تو آج بھی پوری "لیول پلئینگ فیلڈ” نہیں مل رہی، مجھے اندیشہ ہے چکوال کا شخص غیر یقینی صورتحال میں اہم کردار ادا کررہا ہے، الیکشن ایک روز کےلئے ملتوی ہونا یا غیر یقینی صورتحال سے سیاسی جماعتوں کو نکالنا اداروں کی ذمہ داری ہے۔ پاکستان کو دلدل سے نکالنے کا فارمولہ الیکشن ہے وگرنہ ملک پھنستا ہی جائے گا، کیا طاقتور حلقے دوسرا سانحہ 9 مئی ہونے کا انتظار کررہے ہیں؟ ملک میں مہنگائی اور الیکشن کی بے یقینی اس لئے پیدا کی گئی کہ مجسمہ بنانے والے اعتراف جرم نہیں کررہے، نو مئی کے تانے بانے کچھ ممالک سے ملتے ہیں لیکن کسی نے آج کٹہرے میں کھڑا کرنے کی ہمت نہیں کی،جواز بناکر چیلنج کیاجا رہا ہے کہ سسلین مافیا ڈان مافیا کے الفاظ واپس نہیں لئے لیکن انہیں معصوم کے الفاظ دے دئیے گئے اور فوج کو آج بھی ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے۔لیکن آج مٹی پاؤ پروگرام نہیں چل سکتا ،کوئی بھی شخص آپ اس کو اس کے جرم کی سزا دیتے ہیں تو دنیا میں کہیں ایسا نہیں پاکستان کے قانون میں ایسا نہیں ہے کہ آپ اسے پانچ سے زیادہ نااہل رکھیں جب کہ وہ سزا پوری کر چکا ہو یا بری ہو چکا ہو،

    جاوید لطیف کا مزید کہنا تھا کہ (ن) لیگ کو کسی سرپرستی یا ہمدردی کی ضرورت نہیں ہے،ہر سیاسی کارکن سے لیڈر کو تحفظ دینا ریاست کی ذمہ داری ہے،سولہ ماہ میں ہم جتنے بااختیار رہے سب کو اندازہ ہے، اگر اتنے پاور فل ہوتے تو کے پی میں سوشل میڈیا کو تنخواہوں والوں کو پکڑ لیتے، اب ان کو بے نقاب کیاجائے۔ٹکٹوں کی تقسیم کے بغیر نواز شریف الیکشن مہم کےلئے باہر نہیں آئیں گے،پاکستان پر حملہ کرنے والے کو دہشت گرد کہہ کر سزا دی گئی تو نو مئی کرنے والوں کو کیوں سزا نہیں دی جا رہی؟ کے پی میں ہزاروں لوگ سوشل میڈیا کے لئے بھرتی تھے، بیانیہ بنانے والوں‌کو اربوں روپے دیئے جاتے رہے، اب انکو کہاں سے تنخواہ دی جا رہی ہے،سوشل میڈیا پر مہم کرنے سے الیکشن کے نتائج مل رہے ہوں تو پھر جلسوں کی ضرورت نہیں،بہت سی شخصیات، اداروں کا اثررسوخ، جو انکا ماضی بتا رہا،یہ کام ہوتے ہیں، ریاست مخالف ذہن سازی صرف پاکستان کے اندر سے نہیں ہوتی ،فارن فنڈنگ کیس میں‌فیصلہ آ چکا کہ پیسہ کہاں کہاں سے آتا ، ریاست کا کام ہے کہ تحقیقات کرے،

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

  • یہ ماحول بنا رہے ہیں کہ انتخابات ملتوی ہو جائیں یا مارشل لا لگ جائے،جاوید لطیف

    یہ ماحول بنا رہے ہیں کہ انتخابات ملتوی ہو جائیں یا مارشل لا لگ جائے،جاوید لطیف

    سابق وفاقی وزیر، مسلم لیگ ن کے رہنما جاوید لطیف نے کہا ہے کہ آج کہا جاتا ہے کہ ضمانت کیلئے حاضری ضروری ہے

    جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ آج ایک شخص کو معصوم کہا جارہا ہے،ماضی میں کسی کی خواہش پر فیصلے صرف سپریم کورٹ میں کیے جاتے تھے،بلا آجا رہا ہے لیکن شیر کونکال دیا گیا، واپس آنے ہی نہیں دیا گیا،(ن) لیگ نے بغیر انتخابی نشان الیکشن لڑا تھا،ڈان اور سسیلین مافیا کے الفاظ آج تک واپس نہیں لیے گئے،ہم زمین پر جلسے کر رہے ہیں اور ایک مہم سوشل میڈیا پر چل رہی ہے،اداروں کو بتانا پڑے گا سوشل میڈیا کون چلا رہا ہے،جو جیلوں میں ہیں ان کیلئے بھی آواز اٹھاتے ہیں کہ انصاف ہونا چاہیئے،مجھے جب لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں ملی تو کسی نے ہمیں معصوم نہیں کہا،ادارے اور ایجنسیاں ہوش کے ناخن لیں مقبولیت کا پیمانہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ایک دہشتگرد کے فالورز زیادہ ہیں،یہ ماحول بنا رہے ہیں کہ یا انتخابات ملتوی ہو جائیں یا مارشل لا لگ جائے،

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    قصے،کہانیاں سن رہے ہیں،یہ کردار تھا ان لوگوں کا،نواز شریف کا عمران خان پر طنز

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    جاوید لطیف کا مزید کہنا تھا کہ میثاق جمہوریت سے جمہوریت مضبوط ہوئی استحکام آیا تیسری قوت کو بنانے سے معاشرہ تباہ ہوا اس کی تپش ہم محسوس کررہے ہیں، ہم راکھ کا ڈھیر بن رہے ہیں وہ شعلہ بھڑکا رہے ہیں سیسلیس مافیا بری ہونے کے باوجود مجرم رہے، جن کا نو مئی اور فارن فنڈنگ ثابت شدہ ہے اگر کوئی ایکشن ہوتا تو سہولت کاروں کو جرات نو مئی کا واقعہ نہ ہوتا، اربوں روپے کہاں خرچ کیاجارہے، ذہن سازی دوبارہ کی جا رہی ہے،سانحہ نو مئی کے تانے بانے جہاں ملتے سہولت کار تھے یا ریٹائرڈ ہوگئے لیکن پالیسی بنانے والوں کو سزا نہیں مل رہی ،آپ کہتے مقبول ہیں ہمیں لیول پلینگ فیلڈ نہیں مل رہی ،چاہتے ہیں خدانخواستہ یہی راستہ ہر کوئی مقبولیت کا اپنائے

    جاوید لطیف کا مزید کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز اور جھوٹ پھیلانے والوں کو بے نقاب کیا جائے۔سوشل میڈیا پھر کمپین چلانے والے وہ ہی لوگ ہیں جنہیں سرکاری تنخواہوں پر پشاور میں بھرتی کیا گیا۔16 ماہ حکومت ملی تو دو تہائی اکثریت سے ملی تھی۔سولہ ماہ کی حکومت میں منصوبہ سازوں کے خلاف کیسے کاروائی کر سکتے ہیں۔2018 میں منصوبہ بندی کرنے والے کیخلاف بولے جس کی آج تک سزائیں بھگت رہے ہیں۔ معصوم کا راگ الاپنے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ نو مئی کو پاکستان کی نتصیبات پر حملہ آور کون ہوا تھا۔صوبائی کی بجائے قومی جماعتوں کو ترجیح دے جائے۔

  • پاکستان میں ایکس سمیت دیگر سوشل میڈیا  ویب سائٹ ڈاؤن، صارفین پریشان

    پاکستان میں ایکس سمیت دیگر سوشل میڈیا ویب سائٹ ڈاؤن، صارفین پریشان

    لاہور: پاکستان میں سوشل میڈیا نیٹ ورک ڈاؤن ہونے سے صارفین کو پریشانی کا سامنا ہے۔

    باغی ٹی وی: پاکستان میں اتوار کی شام بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ایکس ، فیس بک اور یوٹیوب کے نیٹ ورک متاثر ہونے کی شکایت موصول ہوئیں، جس سے صارفین کو مشکلات کا سامنا ہے، صارفین کو انٹرنیٹ کی رفتار انتہائی سست ہونے کی وجہ سے ڈاؤن لوڈنگ اور اپ لوڈنگ میں پریشانی کا سامنا ہےعوام اور دیگر کاروباری اداروں کو اپنے روزمرہ معاملات نمٹانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے سروس کیوں ڈاؤن ہوئی تاحال اس کی وجہ سامنے نہیں آسکی دوسری جانب انٹرنیٹ کے تعطل کے بارے میں حکومت نے کوئی بیان نہیں دیا ہے-

  • عمران خان نے نہ مدت مکمل کی نہ عدت،علماء کیوں خاموش ہیں،عطا تارڑ

    عمران خان نے نہ مدت مکمل کی نہ عدت،علماء کیوں خاموش ہیں،عطا تارڑ

    رہنما مسلم لیگ ن عطاتارڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن پروسیس میں ہر جماعت اپنا مرحلہ بروقت مکمل کر لیتی ہے، نواز شریف کی قیادت میں کوشش کی کہ بروقت پارلیمانی بورڈ کی کاروائی کی جائے،

    عطاتارڑکا کہنا تھا کہ آج جوزف گوئبل زندہ ہوتا تو شرما جاتا یا پاکستان آ کر بشری بی بی اور سابق چیئرمین پی ٹی آئی کی بیعت کرتا کہ آپ نے کمال پراپیگنڈا کیا ہے،جھوٹ بھی اتنی ڈھٹائی کے ساتھ بولتے ہیں جس کی حد نہیں،ایک فیک اکاؤنٹ برکس کا اکاؤنٹ ہے اور تصاویر جنز بش کی لگائی گئی ،پاکستان تحریک انصاف کے سوشل میڈیا کی جانب سے 2017 میں اکاؤنٹ بنایا گیا ،اس فیک اکاؤنٹ کے زبیر نیازی اور کنول شوذب سمیت تمام فالونگ تحریک انصاف کے ہیں ،فالورز میں 77 فیصد غیر تصدیق شدہ اکاؤنٹ تحریک انصاف کے ہیں ،یہ پول کروایا گیا کرپشن کے حوالے سے اور سابق چیئرمین پی ٹی آئی کا نام نہیں ڈالا گیا ،ایک سیاسی جماعت کے ایجنڈا کو پروان چڑھایا جا رہا ہے ،امریکی شخص سے اس بات کی تصدیق کروانا کیوں ضروری ہے کہ سابق چیئرمین پی ٹی آئی ٹھیک آدمی ہے ،یہ وہ اکاؤنٹ ہے جو صرف تحریک انصاف کے حق میں اور ن لیگ کے خلاف پوسٹ کرتا ہے ،یہ جعلی اکاؤنٹ بنا کر پراپیگنڈا کرنا اس جماعت کا وطیرا بن گیا ہے ،جس جرم کے نتیجے میں ٹرائل ہوا وہی باتیں پھر سے ٹرائل میں دھرایا جا رہا ہے ،آپ ایک ٹرائل کے دوران امریکہ پر بغیر ثبوت کے الزام لگا رہے ہیں ،روز سائفر آتے رہتے ہیں لیکن کسی بھی ملک کے سفیر کو بلا کر نہیں کہا جا تا کہ بچو تم گئے ،یہ جو سائفر کی کہانی گھڑی گئی ہے اس کا ان کیمرہ ٹرائل ہونا چاہیے،

    عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ مجھے سمجھ نہیں آئی کہ پاکستان کے علماء کو چپ کیوں لگ گئی ،میری گزارش ہے علماء سے کہ نواز شریف کے خلاف کچھ نہ کرنے کے باوجود باہر نکل آئے ،حاجرہ کی کتاب پڑھیں کانوں سے دھوئیں نکل آئیں گے ،غضب اس بات کا کہتا ہے کہ نو مئی نواز شریف نے کروایا ہے ،کیا آپ کے تمام پارٹی کے رہنما نواز شریف کے ساتھ رابطے میں تھے ،کیا آپ کی تینوں بہنیں نواز شریف سے رابطے میں تھیں ،ایک کے بعد ایک کیس آپ پر ثابت ہو رہے ہیں ،آپ 190 ملین پائونڈ پر کیوں نہیں بولتے ،آپ کی بیوی نے 5.5 تولے کی انگھوٹی مانگی ہے ،میرا مطالبہ ہے کہ 190 ملین پاؤنڈ کا حساب کیا جائے،عمران خان نے نہ مدت مکمل کی نہ عدت مکمل کی، ذہنی توازن ٹھیک نہیں ہے، نہ مدت مکمل کی نہ عدت، علما کو کیوں چپ لگ گئی، نوازشریف کےخلاف فتوے جاری ہوتے تھے،مجھے سمجھ نہیں آرہی غیر شرعی نکاح پر پاکستان کے علماء کیوں خاموش ہیں ؟کہہ رہے ہیں 9 مئی کے حملے نوازشریف نے کرائے، کیا حسان نیازی نوازشریف کا بھانجا ہے؟ شرم سے ڈوب مرو جیل جا کر بھی جھوٹ بولنے سے باز نہیں آتے،سوشل میڈیا پر جھوٹے پول کرانے کی شروعات پی ٹی آئی نے کی،سابق چئیرمین پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی نے پروپیگنڈا، بہتان تراشی کو پروان چڑھایا،تحریک انصاف نے پروپیگنڈے میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے،

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے