Baaghi TV

Tag: سوشل میڈیا

  • ایلون مسک نے واٹس ایپ کو صارفین کے لیے غیر محفوظ قرار

    ایلون مسک نے واٹس ایپ کو صارفین کے لیے غیر محفوظ قرار

    ایلون مسک نے مارک زکربرگ کی کمپنی میٹا کی ملکیت معروف میسجنگ ایپ واٹس ایپ کو صارفین کے لیے غیر محفوظ قرار دیا ہے-

    ایلون مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ شئیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ واٹس ایپ محفوظ نہیں ہے، حتیٰ کہ سگنل بھی مشکوک ہے، اور صارفین کو ایکس چیٹ استعمال کرنے کا مشورہ دیا۔

    ان کے اس بیان کا تعلق ایک بین الاقوامی مدعی گروپ کے ذریعہ میٹا کے خلاف دائر کیے گئے مقدمے سے ہے، جس میں واٹس ایپ کی پرائیویسی اور سیکیورٹی پر الزامات عائد کیے گئے ہیں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کمپنی صارفین کی نجی گفتگو تک رسائی رکھتی ہے اور ذاتی معلومات کو ذخیرہ، تجزیہ اور استعمال کرتی ہے۔

    واٹس ایپ کے خلاف دائر اس مقدمے میں کہا گیا ہے کہ میٹا اور واٹس ایپ صارفین کی مبینہ طور پر نجی مواصلات تک رسائی حاصل کرتے ہیں، جو اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کے دعووں کے برعکس ہے۔

    عالمی سطح پر سونے کی قیمت میں تاریخی اضافہ

    میٹا کے ترجمان نے اس کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ واٹس ایپ کے لوگوں کے پیغامات اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ نہ ہونے کے دعوے بالکل غلط اور بے بنیاد ہیں واٹس ایپ نے ایک دہائی سے سگنل پروٹوکول کے ذریعے اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن فراہم کی ہے، اور یہ مقدمہ غیر معقول اور حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔

    بار بار اپنی فوج پر جھوٹے الزامات لگانے سے کسی کی نااہلی، نالائقی یا کرپشن چھپ نہیں سکتی،طلال چوہدری

  • ٹی وی شو میں خواتین ٹک ٹاکرز کا جھگڑا، ہاتھا پائی اور بال کھینچنے کی ویڈیو وائرل

    ٹی وی شو میں خواتین ٹک ٹاکرز کا جھگڑا، ہاتھا پائی اور بال کھینچنے کی ویڈیو وائرل

    ٹی وی شو میں خواتین ٹک ٹاکرز کا جھگڑا ہو گیا ،نوبت ہاتھا پائی تک پہنچ گئی جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی-

    مقبول ٹیلی ویژن پروگرام 21 ایم ایم شو میں خواتین ٹک ٹاکرز عالیہ ستار اور آسیل لارنس کے درمیان جھگڑا ہوا ، یہ جھگڑا اس وقت شروع ہوا جب آسیل نے دعویٰ کیا کہ عالیہ نے ان کے گانے کو چلنے نہیں دیا اور ایک دوسرے کو کہا کہ ان کو حسد ہو رہا ہے بات بڑھتے بڑتھے ہاتھا پائی تک جا پہنچی جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی-

    وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دونوں ٹک ٹاکرز میں لڑائی ہو رہی ہے عالیہ ستار نے آسیل لارنس کے بال پکڑ لیے اور بعد میں جوتا بھی اتار کر پھینکا یہاں تک کہ میزبان کو لڑائی روکنے کے لیے مداخلت کرنا پڑی،جبکہ صارفین نے اسے سستا پبلسٹی اسٹنٹ قرار دیا۔

    ایک صارف نے لکھا کہ یہ مکمل ڈرامہ ہےصرف لوگوں کو شو دیکھنے پر مجبور کرنے کے لیے جھوٹی لڑائی کی گئی ہے،ایک سوشل میڈیا صارف کا کہنا تھا کہ آپ کا شو وائرل نہیں ہو رہا تو ان طریقوں کا استعمال بند کریں ایک اور نے لکھا کہ یہی ہوتا ہے جب آپ شو میں گلی محلوں کے لوگوں کو مدعو کرتے ہیں۔

    واضح رہے کہ اس شو کی میزبانی کئی سالوں تک متھیرا نے کی تھی لیکن اب یونس خان اس کو ہوسٹ کر رہے ہیں جو حال ہی میں خبروں میں اس لیے آئے ہیں کہ وہ لائیو ٹی وی پر جھگڑوں اور تنازعات کو ہوا دیتے ہیں۔

  • کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کی درخواست پر  متعلقہ اداروں سےجواب طلب

    کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کی درخواست پر متعلقہ اداروں سےجواب طلب

    لاہور ہائیکورٹ میں سولہ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔

    چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے آٹھویں جماعت کی طالبہ علایا سلیم کی درخواست پر سماعت کی، جو انہوں نے اپنی وکیل شیزا قریشی کی وساطت سے دائر کی تھی،عدالت نے وفاقی حکومت، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سمیت دیگر متعلقہ اداروں سے ایک ہفتے کے اندر جواب طلب کر لیا، سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ ایک اہم معاملہ ہے اور اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے-

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سوشل میڈیا بچوں کی ذہنی، اخلاقی اور تعلیمی نشوونما پر منفی اثرات ڈال رہا ہے درخواست گزار کے مطابق ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کے بنیاد ی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے ٹک ٹاک سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کمسن بچوں کی نفسیات پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔

    درخواست میں استدعا کی گئی کہ سولہ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کی جائے۔

  • سوشل میڈیا پر ایک غلط کلک یا غیر محتاط پوسٹ  جیل پہنچا سکتی ہے،این سی سی آئی اے

    سوشل میڈیا پر ایک غلط کلک یا غیر محتاط پوسٹ جیل پہنچا سکتی ہے،این سی سی آئی اے

    اسلام آباد:نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر ایک غلط کلک یا غیر محتاط پوسٹ شہریوں کو جیل پہنچا سکتی ہے۔

    این سی سی آئی اے کے مطابق صارفین کسی بھی پوسٹ، خبر یا لنک کو شیئر کرنے سے قبل اس کی تصدیق ضرور کریں کیونکہ بغیر تحقیق مواد پھیلانا قانون کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، ایجنسی نے واضح کیا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ اور مقتدر اداروں کے خلاف غیر مصدقہ معلومات یا جھوٹی خبریں پھیلانا ایک سنگین قانونی جرم ہے۔

    ایڈوائزری میں بتایا گیا ہے کہ پیکا (PECA) ایکٹ کے سیکشن 26A کے تحت جھوٹی خبریں پھیلانے پر تین سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے جبکہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو 20 لاکھ روپے تک جرمانہ بھی ادا کرنا پڑ سکتا ہےاین سی سی آئی اے نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ نفرت انگیز مواد اور فیک نیوز سے مکمل طور پر دور رہیں اور سوشل میڈیا کا ذمہ دارانہ استعمال کریں، ذمہ دار شہری بن کر ہی سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔

  • 2 سالوں  کتنےفحش اور غیر قانونی ویب لنکس بلاک کئے؟پی ٹی اے کی رپورٹ جاری

    2 سالوں کتنےفحش اور غیر قانونی ویب لنکس بلاک کئے؟پی ٹی اے کی رپورٹ جاری

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے انکشاف کیا ہے کہ سال 2024 اور 2025 کے دوران مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر موجود 88 ہزار سے زائد غیر قانونی ویب سائٹ لنکس کو بلاک کیا گیا۔

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2 سالوں کے دوران 88,000 سے زائد یو آر ایل بند کیے گئے، جن میں سب سے زیادہ تعداد فحش اور غیر اخلاقی مواد پر مشتمل ویب سائٹس کی تھی،38,214 یو آر ایل فحش اور اخلاقیات کے منافی مواد کی میزبانی کے باعث بلاک کیے گئے، جو مجموعی کارروائیوں کی سب سے بڑی کیٹیگری ہے۔

    اعداد و شمار کے مطابق 31,313 ویب لنکس ایسے مواد پر بند کیے گئے جو پاکستان کی سلامتی اور دفاع کے خلاف تصور کیے گئے۔ اسی طرح 7,608 یو آر ایل ایسے مواد کے باعث بلاک کیے گئے جو اسلام کے تقدس کے منافی قرار دیا گیا،6,269 یو آر ایل فرقہ وارانہ نفرت، اشتعال انگیزی اور نفرت انگیز مواد کے پھیلاؤ کے باعث بند کیے۔

    رپورٹ کے مطابق 2,498 ویب لنکس ہتکِ عزت اور جعل سازی سے متعلق مواد پر بند کیے گئے، جبکہ 353 یو آر ایل توہینِ عدالت کے مواد کی بنیاد پر بلاک کیے گئے اس کے علاوہ 15 یو آر ایل پراکسی سروسز کے ذریعے رسائی کے باعث اور 1,765 یو آر ایل دیگر غیر متعین وجوہات پر محدود کیے گئے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سب سے زیادہ پابندیاں ٹک ٹاک پر لگائی گئیں، جہاں 35,000 یو آر ایل بلاک کیے گئے اس کے بعد فیس بک پر 25,482، انسٹاگرام پر 13,242 اور یوٹیوب پر 8,586 یو آر ایل محدود کیے گئے،دیگر پلیٹ فارمز میں ایکس پر 2,103، لائیکی پر 991 اور اسنیک ویڈیو پر 345 یو آر ایل بلاک کیے گئے، جبکہ ڈیلی موشن پر صرف تین یو آر ایل بند کیے گئے۔

    پی ٹی اے حکام کے مطابق یہ اقدامات قومی قوانین کے نفاذ اور ڈیجیٹل ماحول کو محفوظ بنانے کے لیے کیے گئے ہیں، یہ کارروائیاں غیر قانونی، غیر اخلاقی اور قومی قوانین کے منافی آن لائن مواد کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہیں اتھارٹی آن لائن پلیٹ فارمز کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے اور سروس فراہم کر نے والوں کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ غیر قانونی ڈیجیٹل سرگرمیوں کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • پیسوں کیلئے ماں بیٹی کو نازیبا ویڈیوز سے ہراساں کرنیوالا ملزم گرفتار

    پیسوں کیلئے ماں بیٹی کو نازیبا ویڈیوز سے ہراساں کرنیوالا ملزم گرفتار

    راولپنڈی:نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی نے دو مختلف کاروائیوں میں خود کو ایس ایس پی ظاہر کرکے شہری سے رقم ہتھیانے جبکہ خاتون اور اس کی بیٹی کی نازیبا تصاویر وائرل کرکے انہیں حراساں کرنے میں ملوث تین ملزمان کو گرفتار کرکے مقدمات درج کر لیے۔

    حکام کے مطابق ملزمان وقاص علی اور سعدی احمد نے خود کو ایس ایس پی راولپنڈی سہیل ظاہر کر کے شہری کو واٹس ایپ کے ذریعے گمراہ کن معلومات دے کر 1 لاکھ 25 ہزار روپے کا فراڈ کیاانکوائری میں ملزمان پر الزامات ثابت ہوئے جس پر انہیں گرفتار کرکے پیکا ایکٹ کی دفعات سمیت فراڈ و دھوکا دہی کے جرم میں مقدمہ درج کر لیا گیا،سب انسپکٹر فہد الطاف کی سربراہی میں ٹیم تفتیش میں مصروف ہے۔

    دوسرے واقعے میں این سی سی آئی اے نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے خواتین کو ہراساں کرنے والے ملزم محمد اویس کو گرفتار کر لیا ملزم پر الزام تھا کہ اس نے خاتون اور اس کی والدہ کی نازیبا تصاویر وائرل کیں اور واٹس ایپ گروپس میں غلیظ کیپشنز کے ساتھ تصاویر شیئر کیں جبکہ خاندان کے افراد کو واٹس ایپ گروپس میں شامل کر کے ذہنی اذیت دی گئی۔

    بھارتی فوج کی تشہیری ویڈیو سوشل میڈیا پر مذاق بن گئی

    انکوائری مکمل کرکے سائبر کرائم سرکل اسلام آباد نے ملزم کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا،سب انسپکٹر شہروز ریاض کی سربراہی میں تفتیش جاری ہے جس میں انکشافات کی توقع ہے۔

    جنوبی کوریا: صدر نے گنج پن کو قومی مسئلہ قرار دے دیا

  • بھارتی فوج کی  تشہیری ویڈیو سوشل میڈیا پر مذاق بن گئی

    بھارتی فوج کی تشہیری ویڈیو سوشل میڈیا پر مذاق بن گئی

    بھارتی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ، ایڈیشنل ڈائریکٹوریٹ جنرل پبلک انفارمیشن کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کی گئی مختصر ویڈیو نے صارفین کی توجہ حاصل کر لی-

    سرکاری اکاؤنٹ ADGPI Indian Army سے جاری کی گئی ویڈیو میں رات کے وقت مسلح فوجی اہلکاروں کو اندھیرے میں پیش قدمی کرتے دکھایا گیا ہے مناظر میں سب سے نمایاں چیز اہلکاروں کے ہتھیاروں پر لگی روشن لیزر لائٹس ہیں، جو واضح طور پر دکھائی دیتی ہیں۔

    ویڈیو کے اندر شامل تحریری پیغام میں کہا گیا ہے کہ ہدف پر پڑنے والی لیزر محض انتباہ نہیں بلکہ حتمی فیصلے کی علامت ہے، جبکہ ایک اور سطر میں رات پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔

    یہ ویڈیو 4 جنوری 2026 کو شیئر کی گئی اور مختصر وقت میں ہزاروں صارفین نے اسے دیکھ لیا، سوشل میڈیا صارفین نے ویڈیو میں دکھائے گئے مناظر کو عسکری حقیقت کے تناظر میں پرکھنا شروع کیا، جس کے بعد یہ پوسٹ طنزیہ تبصروں اور سخت تنقید کی زد میں آگئی، بنیادی اعتراض یہ اٹھایا گیا کہ رات کے وقت اسلحے پر اس طرح کی لیزر لائٹس کا استعمال فوجی اہلکاروں کی پوزیشن ظاہر کرسکتا ہے۔

    ‎ایمنسٹی انٹرنیشنل کا 27ویں آئینی ترمیم پر سخت ردِعمل، عدلیہ کی آزادی کو خطرہ قرار

    ایک صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ وہ امریکا میں رہنے والا ایک عام شہری ہے جو کردار ادا کرنے والی سرگرمیوں میں حصہ لیتا ہے، مگر اس کے پاس موجود ہتھیار اور سازوسامان اس ویڈیو میں دکھائے گئے سامان سے کہیں بہتر ہیں،ایک صارفے اسے بالی وڈ فلموں سے تشبیہ دی، ایک صارف کا کہنا تھا کہ یہ ویڈیو 13 سال کے بچوں کو متاثر کرنے کے لیے بنائی گئی ہےایک نے سوال اٹھایا کہ کیا نائٹ وژن آلات کے بجائے لیزر استعمال کرنا وسائل کی کمی کو ظاہر کرتا ہے؟-

    ایک صارف نے وضاحت کی کہ یہ محض ایک سینماٹک اور تشہیری ویڈیو ہے، کسی حقیقی یا خفیہ فوجی آپریشن کی فوٹیج نہیں،ایک اور صارف نے مزید سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ویڈیو مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی گئی معلوم ہوتی ہے، جس میں بندوقوں پر اسٹار ٹریک جیسی لیزر دکھائی گئی ہیں، حقیقی سرخ نقطے والی لیزر سائٹس فضا میں اس طرح نظر نہیں آتیں جب تک دھواں، دھند یا کوئی ٹھوس ہدف موجود نہ ہو، اس لیے ویڈیو میں دکھائی گئی لیزر عملی حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتی۔

    جنوبی کوریا: صدر نے گنج پن کو قومی مسئلہ قرار دے دیا

    ایک صارف نے ایکس کے مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹ گروک سے بھی سوال کیا کہ ویڈیو میں مسئلہ کیا ہے۔ گروک نے جواب دیا کہ ویڈیو میں دکھائی گئی سرخ لیزر سائٹس رات کے وقت فوجیوں کی پوزیشن دشمن پر ظاہر کر سکتی ہیں، جبکہ حقیقی عسکری حکمتِ عملی میں خصوصی دستے نائٹ وژن آلات کے ساتھ نظر نہ آنے والی انفرا ریڈ لیزرز استعمال کرتے ہیں یہ ویڈیو تشہیری مقصد کے لیے بنائی گئی ہے، مگر عسکری اعتبار سے درست عکاسی نہیں کرتی،ایک اور طنزیہ تبصرے میں کہا گیا کہ دو افراد پر مشتمل گشت کے دوران رائفل پر لائٹ سیبر جیسی روشنی لگانا رات کے وقت پاکستانیوں کے ہاتھوں مارے جانے کا آسان ترین طریقہ ہے۔

    تاحال انڈین فوج یا اس کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے اس شدید ردِعمل پر کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی-
    ‎غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، خیموں پر بمباری سے پانچ سالہ بچی سمیت دو فلسطینی جاں بحق

  • ریاستی اداروں کے خلاف مہم چلانے والا ملزم گرفتار

    ریاستی اداروں کے خلاف مہم چلانے والا ملزم گرفتار

    نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے ریاستی اداروں کو سوشل میڈیا میں بدنام کرنے کی مہم میں ملوث ملزم کو گرفتار کرلیا۔

    این سی سی آئی اے کے مطابق راولپنڈی میں 23 دسمبر 2025 کو کارروائی کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر ریاستی اداروں کے خلاف مہم چلانے والے ملزم کو گرفتار کرلیا گیا، جن کے خلاف پیکا ایکٹ 2016 کی دفعات 20 اور 26(اے) کے تحت قائم مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

    این سی سی آئی اے کے مطابق گرفتار شخص پر الزام ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے ذریعے حکومتی و ریاستی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہا تھا اور کارروائی کے دوران ملزم کا موبائل فون تحویل میں لے لیا گیا اور متعلقہ شواہد ضبط کر لیے گئے،کارروائی ضلع راولپنڈی میں کی گئی جبکہ مقدمے کی مزید تفتیش این سی سی آئی اے راولپنڈی کے سب انسپکٹر غیور عباس جعفری کر رہے ہیں۔

    روس: ایک اور دھماکے میں دو پولیس افسران سمیت 3 افراد ہلاک

    بھارت کا سب سے بھاری سیٹلائٹ کامیابی سے خلا میں روانہ

    حکومت کا آئی ایم ایف کی شرط پوری کرنے کے لیے گندم خریداری کے عمل سے دستبرداری کا فیصلہ

  • سوئٹزرلینڈ  کا بھی بچوں پر سوشل میڈیا پابندی عائد کرنے کا فیصلہ

    سوئٹزرلینڈ کا بھی بچوں پر سوشل میڈیا پابندی عائد کرنے کا فیصلہ

    آسٹریلیا اور ڈنمارک کے بعد اب سوئٹزرلینڈ نے بھی بچوں پر سوشل میڈیا پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

    عالمی میڈیا کے مطابق وزیر داخلہ ایلیزابت باؤم شنائیڈر کا کہنا ہے کہ بچوں کو سوشل میڈیا کے ممکنہ ذہنی، نفسیاتی اور سماجی نقصانات سے بچانے کے لیے مزید مؤثر اور سخت اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں اور اس مقصد کے لیے پابندی بھی ایک قابل غور آپشن ہے۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ آسٹریلیا میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر حالیہ پابندی ایک اہم مثال ہے،یورپی یونین اور آسٹریلیا میں اس موضوع پر ہونے والی بحث نے یہ ثابت کر دیا کہ بچوں کے تحفظ کے لیے اب محض رضاکا ر انہ ضابطے کافی نہیں رہے،سوئٹزرلینڈ بھی یہ پابندی عائد کرنے کے لیے مختلف پہلوؤں کا سنجیدگی سے جائزہ لے رہا ہے۔

    پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان معاشی تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

    انہوں نے کہا کہ جن میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر عمر کی بنیاد پر پابندی، نقصان دہ مواد کی روک تھام اور ایسے الگورتھمز کے خلاف کارروائی شامل ہو سکتی ہے جو کم عمر صارفین کی نفسیاتی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں اس حوالے سے تفصیلی مشاورت آئندہ سال کے آغاز میں شروع کی جائے گی اور اس کی بنیاد ایک جامع تحقیقی رپورٹ ہوگی۔

    ممتاز ماہرِ تعلیم ڈاکٹر منظور احمد انتقال کر گئے

    قبل ازیں 2023 میں چین نے بچوں کے لیے سوشل میڈیا اور اسکرین ٹائم پر سخت پابندیاں نافذ کیں تھیں جب کہ 2024 میں فرانس اور برطانیہ نے بچوں کے آن لائن تحفظ کے قوانین مزید سخت کیے،رواں سال آسٹریلیا نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی نافذ کی جب کہ رواں سال کے آخر میں ڈنمارک نے بھی بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کے لیے باضابطہ مشاورت شروع کرنے کا اعلان کیا۔

    بنگلہ دیش ، بھارت کشیدگی میں اضافہ، دہلی میں قونصلر اور ویزا سروس معطل

  • سوشل میڈیا پر قابلِ اعتراض ویڈیوز بنانے اور پھیلانے میں ملوث ملزمان گرفتار

    سوشل میڈیا پر قابلِ اعتراض ویڈیوز بنانے اور پھیلانے میں ملوث ملزمان گرفتار

    اسلام آباد:نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی اسلام آباد نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر قابلِ اعتراض ویڈیوز بنانے اور پھیلانے میں ملوث ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

    ملزمان نے متاثرہ خاتون کی اجازت کے بغیر قابلِ اعتراض ویڈیوز ریکارڈ کیں اور بعد ازاں انہیں عوامی طور پر سوشل میڈیا کے ذریعے وائرل کیا، متاثرہ خاتون اور اس کے اہلِ خانہ کو بلیک میل اور ہراساں کیا جاتا رہا انکوائری نمبر 1094/25 اور مقدمہ نمبر 340/25 درج کیا گیا، مقدمہ پیکا ایکٹ 2016 کی دفعات 20 اور 21 بمعہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 109 کے تحت درج کیاگیا ۔

    گرفتار ملزمان میں محمد شکیل اور شاہینہ بی بی شامل ہیں، تفتیش کے دوران یہ بھی ثابت ہوا کہ جرم میں استعمال ہونے والا موبائل نمبر ملزمہ کے نام پر رجسٹرڈ تھا ملزمان نے جعلی شناخت کے ذریعے قابلِ اعتراض مواد کو سوشل میڈیا پر نشر کیا اور مختلف ذرائع سے متاثرہ خاتون کے اہلِ خانہ کو ارسال کر کے ذہنی اذیت میں مبتلا کیا۔

    نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی کے مطابق خواتین کی عزت و وقار اور نجی زندگی کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی جاری رکھی جائے گی اور ایسے عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔