Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • خصوصی سیکرٹریز کی تعیناتیوں کیلئے جواز کا جائزہ لینگے،سپریم کورٹ

    خصوصی سیکرٹریز کی تعیناتیوں کیلئے جواز کا جائزہ لینگے،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ، وفاق اور صوبوں میں خصوصی سیکریٹریز کی تعیناتیوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی سپریم کورٹ نے وفاق اور صوبوں سے اسپیشل سیکریٹریز کی تقرریوں پر تحریری جواب طلب کرلیا

    ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختونخواہ نے کہا کہ جواب جمع کرا دیا ہے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ باقی وفاق اور صوبے بھی جواب جمع کرا دیں،اسپیشل سیکریٹری اور افسران اسپیشل ڈیوٹی کے الفاظ سے چڑ ہے،خصوصی سیکریٹری کی تقرری گورننس کی بہتری کیلئے کی جاتی ہے،اس کے باوجود اچھی گورننس تو نظر نہیں آتی خصوصی سیکریٹریز کی تعیناتیوں کیلئے جواز کا جائزہ لینگے،افسران اسپیشل ڈیوٹی کوئی کام نہیں کرتا،کسی کیس میں افسران کو او ایس ڈی تعینات کرنے کے معاملہ کو بھی دیکھیں گے سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت 3 ہفتے تک ملتوی کردی

    دوسری جانب سابق جج اسلام آباد ہائیکورٹ شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی سابق جج شوکت عزیز صدیقی نے سپریم کورٹ میں کیس کی جلد سماعت کی درخواست دے دی ،درخواست میں استدعا کی گئی کہ جنوری سے شروع ہونے والے ہفتے میں کیس کی سماعت کی جائے، سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کیخلاف کیس کی آخری سماعت جون میں ہوئی تھی.

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    ، 25 کروڑ آبادی میں سے عمران خان ہی نیب ترامیم سے متاثر کیوں ہوئے؟

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

  • نیب قانون کے غلط استعمال سے کتنے لوگوں کے کاروبار تباہ ہوئے،چیف جسٹس کے ریمارکس

    نیب قانون کے غلط استعمال سے کتنے لوگوں کے کاروبار تباہ ہوئے،چیف جسٹس کے ریمارکس

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی

    عمران خان کے وکیل خواجہ حارث کی جانب سے سپریم کورٹ میں دلائل دیئے گئے،وکیل نے کہا کہ ایگزیکٹو اپنا کام نہ کرے تو لوگ عدالتوں کے پاس ہی آتے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب ترمیم اس اسمبلی نے کی جو مکمل ہی نہیں،اس پر قانون نہیں ملا کہ نامکمل اسمبلی قانون سازی کر سکتی ہے یا نہیں سیاسی حکمت عملی کے باعث آدھی سے زیادہ اسمبلی نے بائیکاٹ کر رکھا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب ترامیم سے فائدہ صرف ترمیم کرنے والوں کو ہی ہوا،چند افراد کی دی گئی لائن پر پوری سیاسی پارٹی چل رہی ہوتی ہے،لائن کو فالو کریں تو اس کا فائدہ صرف چند افراد کی ذات کو پہنچتا ہے نیب ترمیم کی ہدایت کرنے والوں کو اصل میں فائدہ پہنچا، کیا ایسی صورتحال میں عدلیہ ہاتھ باندھ کر تماشا دیکھے؟نیب ترامیم کو بغیر بحث جلد بازی میں منظور کیا گیا،ترامیم کی نیت ہی ٹھیک نہ ہو تو آگے جانے کی ضرورت ہی نہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی فیصلوں کے باوجود کرپشن ختم نہیں ہوسکی، مسئلہ صرف کرپشن کا نہیں سسٹم میں موجود خامیوں کا بھی ہے سسٹم میں موجود خامیوں کو کبھی دور کرنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی،پارلیمان کا کام ہے سسٹم میں بہتری کیلئے قانون بنائے اور عمل بھی کرائے،ہر صوبے میں پانچ ماہ بعد آئی جی اور تین ماہ بعد ایس ایچ او بدل جاتا ہے،ایگزیکٹو فیصلے کرتے وقت قانون پر عمل نہیں کیا جاتا، ماضی میں ریکوڈک اور اسٹیل مل کے فیصلے عدالت نے اچھی نیت سے کیے،حکومت سسٹم کی کمزوری کے باعث منصوبوں میں کرپشن پکڑ نہیں سکی، نیب قانون کے غلط استعمال سے کتنے لوگوں کے کاروبار تباہ ہو چکے ہیں،کرپشن پر کسی صورت معافی نہیں ہونی چاہیے،

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کرپشن غلط ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ کرپشن ہونی نہیں چاہیے،سوال یہ ہے کہ کرپشن کا سدباب کس نے اور کیسے کرنا ہے،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ کرپشن ختم کرنا ایگزیکٹو کا کام ہے، اگر وہ نہیں کر سکی تو عدالت مداخلت کرتی ہے، عدالت نے ہمیشہ عوامی عہدوں پر کرپشن کرنے والوں کیخلاف کارروائی کی ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں بہت سے معاملات میں بہتری بھی آئی ہے،خوش آئند بات یہ بھی ہے کہ پاکستان میں میڈیا آزاد ہے اور سچ سامنے لاتا ہے، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ پاکستانی میڈیا ورلڈ رینکنگ میں 180 میں سے 157 نمبر پر ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کرپشن کی رینکنگ میں پاکستان اسی نمبر پر ہے جو نیب ترامیم سے پہلے تھا،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب ترامیم کے بعد اب جو رینکنگ جاری ہوگی اس میں پاکستان یقینا 100 نمبر نیچے جا چکا ہوگا ،جب سسٹم تباہ ہو رہا ہو تو عدلیہ مداخلت کرتی ہے،عدالت کس اختیار کے تحت نیب ترامیم کو مفادات کے ٹکراو پر کالعدم قرار دے سکتی ہے؟ وکیل نے کہا کہ خود کو فائدہ پہنچانے کیلئے کی گئی قانون سازی کیلئے ریگولیٹری کیپچرکی اصطلاح استعمال ہوتی ہے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا پھر ہم حالیہ نیب ترامیم کو پارلیمنٹری کیپچر کہیں گے؟ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ پارلیمنٹری کیپچر کسی اور معنی میں استعمال ہوتا ہے، سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    ، 25 کروڑ آبادی میں سے عمران خان ہی نیب ترامیم سے متاثر کیوں ہوئے؟

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  • پارلیمان کو چھوڑکرسڑکوں پرفیصلے کرنے سے جمہوری نظام کیسے چلے گا؟ سپریم کورٹ

    پارلیمان کو چھوڑکرسڑکوں پرفیصلے کرنے سے جمہوری نظام کیسے چلے گا؟ سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے عمران خان کے وکیل سے دو سوالات پر وضاحت مانگ لی ، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ایک شخص کو لاکھوں عوام نے ووٹ دے کر رکن پارلیمنٹ منتخب کیاآپ نے دلائل میں کہا کہ رکن پارلیمنٹ عوامی اعتماد کا امانت دار ہے، منتخب رکن پارلیمان سے باہر نکل کر کہے کہ فیصلہ سڑکوں پر کروں گا تو کیا یہ جمہوریت ہے؟ اراکین پارلیمنٹ کا پارلیمان کو چھوڑ کر سڑکوں پر فیصلے کرنے سے جمہوری نظام کیسے چلے گا؟اگر ارکان پارلیمنٹ عوام کا اعتماد جیت کر آئے ہیں تو پارلیمان میں بیٹھیں

    وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ سپریم کورٹ نے آرمی چیف ایکسٹینشن کیس میں قانونی خلا کو پر کیا تھا،اسفند یار ولی کیس میں بھی سپریم کورٹ نے ترامیم کالعدم قرار دی تھیں،عدالت نے کہا کہ اسفند یار ولی کیس میں عدالت نے انسانی حقوق سے منافی ہونے پر قانون کالعدم قرار دیا تھا،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب ترامیم کیس میں تو آپ کہہ رہے ہیں کہ جو مسنگ ہے اس کو شامل کیا جائے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب ترامیم سے جو شقیں نکالی گئیں ان سے قانون ہی غیر موثر ہو گیا،نیب ترامیم کے خلاف مقدمے میں نیب قانون اصل حالت میں بحال کرنے کا کہا گیا ، جسٹس منصور علی شاہ نےکہا کہ نیب کی جن شقوں میں ترمیم ہوئی وہ بنیادی حقوق کے خلاف نہیں ہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں بہت سے سقم بھی تھے نیب قانون میں کسی شخص کو محض الزام پر 90 روز کے لیے گرفتار کر لیا جاتا تھا، نیب ترامیم ملکی قانون میں پیش رفت ہیں، نیب قانون پر ترمیم سے پہلے بہت تنقید بھی ہوتی رہی ہے، وکیل نے کہا کہ نیب سمیت کسی بھی فوجداری مقدمے میں تحقیقات کے دوران گرفتاری کا حامی نہیں ہوں،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پارلیمنٹ کی نیت جاننے کے لیے نیب ترامیم پر جو بحث ہوئی وہ دیکھنا ہو گی،وکیل نے کہا کہ نیب ترامیم پر پارلیمنٹ میں کوئی بحث ہوئی ہی نہیں ہے، عدالت نے کہا کہ حکومتی وکیل کا موقف ہے کہ نیب ترامیم سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں ہوئیں،وکیل نے کہا کہ نیب قانون میں کوئی ترامیم عدالتی فیصلوں کی بنیاد پر نہیں ہوئیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا نیب ترامیم کے خلاف پبلک بھی کچھ کہہ رہی ہے؟پھر عدالت خود سے تعین کرے کہ نیب ترامیم سے عوام متاثر ہو رہی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درشن مسیح کیس میں پبلک نے عدالت سے رجوع کیا تھا،کیا نیب ترامیم کیس میں پبلک نے عدالت سے رجوع کیا ہے؟ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ درشن مسیح کیس میں این جی اوز نے عدالت سے رجوع کیا تھا،خواہش ہے کہ کرپشن کے خلاف بھی این جی اوز بن جائیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ نیب ترامیم کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی درخواست زیر التوا ہے بتائیں کہ نیب ترامیم کے خلاف کیس واپس ہائیکورٹ کیوں نہیں بھجوایا جا سکتا؟ سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست کل تک ملتوی کر دی

    25 روپے اضافے جیسے عوام دشمن اقدام کا دفاع کوئی منتخب وزیر نھیں کرسکتا یہ فریضہ باہر سے لائے گئے پراسرارمشیر ھی کر سکتے ، سلمان غنی

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    ، 25 کروڑ آبادی میں سے عمران خان ہی نیب ترامیم سے متاثر کیوں ہوئے؟

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  • سپریم کورٹ نے ریکوڈک سے متعلق کیس کا محفوظ فیصلہ سنا دیا

    سپریم کورٹ نے ریکوڈک سے متعلق کیس کا محفوظ فیصلہ سنا دیا

    سپریم کورٹ نے ریکوڈک سے متعلق کیس کا محفوظ فیصلہ سنا دیا

    سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ ریفرنس میں دو سوالات پوچھے گئے،معدنی وسائل کی ترقی کےلیے سندھ اور خیبر پختونخوا حکومت قانون بنا چکی ہے، قانون میں تبدیلی سندھ اور خیبرپختونخوا کا حق ہے،آئین خلاف قانون قومی اثاثوں کے معاہدے کی اجازت نہیں دیتا،صوبے معدنیات سے متعلق قوانین میں تبدیلی کر سکتے ہیں،

    سپریم کورٹ نے نئے ریکوڈک معاہدے کو قانونی قرار دے دیا

    سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ بین الاقوامی ماہرین نے عدالت کی معاونت کی،نئے ریکوڈک معاہدے میں کوئی غیر قانونی بات نہیں،بلوچستان اسمبلی کو بھی معاہدے سے متعلق بریفنگ دی گئی ریکوڈک معاہدہ ماحولیاتی حوالے سے بھی درست ہے،بیرک کمپنی نے یقین دلایا ہے کہ تنخواہوں کے قانون پر مکمل عمل ہوگا، کمپنی نے یقین دلایا کہ مزدوروں کے حقوق کا مکمل خیال رکھا جائے گا، ریکوڈک منصوبے سے سوشل منصوبوں پر سرمایہ کاری کی جائے گی،وکیل نے یقین دہانی کرائی کہ اسکل ڈویلپمنٹ کےلیے منصوبے شروع کیے جائیں گے، ریکوڈک معاہدے کے مطابق زیادہ تر لیبر پاکستان کی ہوگی،ریکوڈک معاہدہ فرد واحد کیلئے نہیں پاکستان کیلئے ہے،پاکستان میں براہ راست سرمایہ کاری کےلیے قانون بنائےجائیں، ریکوڈک معاہدہ سپریم کورٹ کے 2013 کے فیصلے کےخلاف نہیں،تمام ججز کا متفقہ فیصلہ ہے،جسٹس یحیی ٰآفریدی نے ریفرنس کے پہلے سوال کا جواب نہیں دیا،سپریم کورٹ نے فیصلے میں رائے دی ہے کہ معاہدےسے پہلے بلوچستان اسمبلی کو اعتماد میں لیا گیا،

    سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ معاہدے میں کوئی غیر قانونی شق نہیں، بیرک گولڈ نے سماجی ذمہ داری نبھانے کی بھی یقین دہانی کرائی ہے،فارن انویسٹمنٹ بل خصوصی طور پر بیرک گولڈ کیلئے نہیں ہے فارن انویسٹمنٹ بل ہر اس کمپنی کیلئے ہے جو 500ملین ڈالر سے زیادہ سرمایہ کاری کرے گی،

    سابق وفاقی وزیر، تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ سپریم کورٹ نے ریکوڈک معاہدے پر منظوری کی مہر لگا دی ہے، مارچ 2022 میں پیٹرولیم ڈویژن کے تحت آنے والی کمپنیوں نے تصفیہ کے لیے کام کیا، پیٹرولیم ڈویژن کے تحت کمپنیوں نے فنانسنگ کا بندوبست کرنے اور پروجیکٹ میں حصہ دار بننے میں اہم کردار ادا کیا،

    دیوالیہ پن سے بچاؤ کے لئے فلپائن ایئر لائن امریکی عدالت پہنچ گئی

    پاکستان کو 5.84 ارب ڈالرز کاجرمانہ،عالمی ادارے کا اعلامیہ،باغی ٹی وی کی خبر کی تصدیق ہوگئی

    افتخار چوہدری پاکستان کو لے ڈوبے،پاکستان کو 4.7 ارب ڈالرز کا جرمانہ کروا دیا

    تمباکو پر ٹیکس عائد کر کے نئی حکومت بجٹ خسارے پر قابو پا سکتی ہے،ماہرین

    بجٹ میں،کم فیس والے نجی سکولوں کے لیے الگ سے رقم مختص کی جائے، ملک ابرار حسین

    ریکوڈک منصوبے کے مال کی بقیہ 15فیصد ادائیگی منزل پر پہنچ کر مارکیٹ ریٹ کےمطابق ہوگی

  • ترامیم کی حمایت کرتے ہیں یا نہیں؟ سپریم کورٹ نے نیب سے جواب مانگ لیا

    ترامیم کی حمایت کرتے ہیں یا نہیں؟ سپریم کورٹ نے نیب سے جواب مانگ لیا

    سپریم کورٹ، نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی

    ترامیم کی حمایت کرتے ہیں یا نہیں؟ سپریم کورٹ نے نیب سے واضح جواب مانگ لیا ،نیب سے واضح تحریری جواب وفاق کے وکیل مخدوم علی خان کی استدعا پر مانگا گیا ،زیرالتوا تحقیقات میں مقدمات کتنے مالیت کے ہیں؟ عدالت نے نیب سے تفصیلات مانگ لیں

    وکیل عمران خان نے کہا کہ سپریم کورٹ ماضی میں بھی قانون سازی کی ہدایات دے چکی ہے آرمی چیف تعیناتی کیس میں بھی پارلیمان کو قانون سازی کیلئے وقت دیا گیا،بعض فیصلوں میں عدالت نے مجوزہ قوانین کا مسودہ بھی پارلیمان کو دیا، نیب ترامیم سے وہ کیسز بھی دوبارہ کھلیں گے جن میں عدالتیں فیصلے کر چکی ہیں، این آر او کیس میں بھی صرف وہ مقدمات دوبارہ کھلے تھے جو آرڈیننس کے ذریعے بند ہوئے ،جن ملزمان کو عدالتیں سزائیں دے چکی ہیں انکے کیسز ترامیم کے بعد کیسے ختم ہوسکتے؟ جسٹس منصور علی شاہ نے عمران خان کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ کے دلائل مکمل ہوچکے ہیں؟ جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ دلائل مکمل کرنے کیلئے مزید 2 دن درکار ہیں، سپریم کورٹ نے عمران خان کے وکیل کوپیر تک دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کر دی وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان آئندہ سال جنوری سے دلائل کا آغاز کریں گے عدالت نے کیس کی سماعت سوموار تک ملتوی کردی

    25 روپے اضافے جیسے عوام دشمن اقدام کا دفاع کوئی منتخب وزیر نھیں کرسکتا یہ فریضہ باہر سے لائے گئے پراسرارمشیر ھی کر سکتے ، سلمان غنی

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    ، 25 کروڑ آبادی میں سے عمران خان ہی نیب ترامیم سے متاثر کیوں ہوئے؟

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  • ارشد شریف قتل کیس،شفاف تحقیقات چاہتے ہیں سہولت کارکا کردارادا کرینگے،چیف جسٹس

    ارشد شریف قتل کیس،شفاف تحقیقات چاہتے ہیں سہولت کارکا کردارادا کرینگے،چیف جسٹس

    ارشد شریف قتل کیس،شفاف تحقیقات چاہتے ہیں سہولت کارکا کردارادا کرینگے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں ارشد شریف قتل ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں5 رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی،پی ٹی آئی رہنما مراد سعید اور ڈی جی ایف آئی اے کمرہ عدالت میں موجود تھے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزارت خارجہ نے رپورٹ جمع کرائی ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزارت داخلہ کی جانب سے کوئی درخواست نہیں ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے ایک صفحے پر مشتمل وزارت داخلہ کا جواب عدالت میں جمع کرا دیا

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی میں 5ممبران ہیں اور ان کیساتھ سپورٹنگ ٹیم ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ سپورٹنگ ٹیم کو متعلقہ فنڈز بھی فراہم کئے جائیں، اس ٹیم کے ساتھ ہر قسم کی معاونت کی جائے گی،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ اس کیس میں ہم انٹر پول سے بھی رابطہ کرینگے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں جے آئی ٹی کو کوئی انتظامی ایشوز نہیں آئیں گے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ٹیم ارشد شریف کی والدہ سمیت تمام متعلقہ افراد جو اندرون اور بیرون ملک ہیں ،کے بیان ریکارڈ کریگی۔تفتیش ہر رخ سے کی جائے گی۔ اس کیس میں اہم پہلو کینین پولیس کا ہے ،ان کی وزارت خارجہ کے ساتھ بھی رابطہ کرینگے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس کیس کی شفاف تحقیقات چاہتے ہیں۔ سہولت کار کا کردار ادا کرینگے،اس کیس کے لئے ہم موجود ہیں۔اگر کینیا جانے کے لئے فنڈز جاری نہ ہوئے تو ہم حکومت سے بات کرینگے۔ جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ جو کینیا کے تین افراد کے ابتدائی رپورٹ میں نام آئے ہیں ان کو سمن کیا گیا ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ان تینوں کے نام رپورٹ میں ہیں،جو ٹیم کینیا گئی تھی ان کے بیان ریکارڈ کئے تھے۔ اس میں کینیا کے اندر جو کچھ کرسکتے ہیں وہ کرینگے، جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ اس سپیشل جے آئی ٹی کی میٹنگ کب ہوگی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسپیشل جے آئی ٹی کی میٹنگ جلد ہوگی۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس کیس کی سماعت جنوری کے پہلے ہفتے تک ملتوی کرتے ہیں ،ہم یہ طے کرینگے کہ ہر پندرہ دن بعد رپورٹ جمع کرائی جائے۔ رپورٹ چیف جسٹس کے چیمبر میں جمع ہوگی،جواب میں بتایا گیا کہ وزارت خارجہ ڈپلومیٹک میدان میں اس کیس پر کام کریگی۔ اس کیس میں قانونی پہلو اور میوچوئل لیگل اسسٹنس بھی لی جائے گی۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اسپیشل جے آئی ٹی پیش رفت کرکے بیان ریکارڈ کریگی، ثبوت اکٹھا کریگی۔ سماعت جنوری کے پہلے ہفتے تک ملتوی کرتے ہیں،اس دوران جے آئی ٹی کو کوئی انتظامی پریشانی ہو تو وہ براہ راست تحریری طور پرآگاہ کریگی ،ہم امید کرتے ہیں کہ جے آئی ٹی اپنی رپورٹس وقت پرجمع کرائیگی اور آئندہ سماعت سے پہلے تفصیلی رپورٹ جمع کرائی جائیگی۔

    ارشد شریف قتل کیس، اسپیشل جے آئی ٹی آئی قائم کردی گئی وفاقی حکومت نے نئی اسپیشل جے آئی ٹی کی تشکیل کا نوٹیفیکیشن سپریم کورٹ میں پیش کردیا نئی اسپیشل جے آئی ٹی میں اسلام آباد پولیس اور آئی ایس آئی کے نمائندہ شامل ہیں،نئی اسپیشل جے آئی ٹی میں آئی بی اور ایف آئی اے کا نمائندہ بھی شامل ہے

    ارشد شریف قتل کیس، اسلام آباد پولیس نے رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کردی ،اسلام آباد پولیس کی جانب سے کہا گیا ہےکہ ارشد شریف کی والدہ کا بیان ریکارڈ کرنے کے لیے گزشتہ روز رابطہ کیا گیا،ارشد شریف کی والدہ نے طبعیت ناسازی کےسبب بیان ریکارڈ نہیں کرایا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ارشد شریف کی والدہ کو عدالت میں زحمت پر ہم معذرت کرتے ہیں

    ارشد شریف کی موت،قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے،وفاقی وزیر اطلاعات

     وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب ارشد شریف کی والدہ کے پاس تعزیت کے لئے پہنچ گئیں

    جویریہ صدیق نے ٹویٹر پر ارشد شریف کی جانب سے مریم نواز کی والدہ کے لیے دعا کا سکرین شاٹ شیئر کیا اور مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ شرم کر۔ اللہ سے ڈر

    اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم

     ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

    ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

     ارشد شریف قتل کی تحقیقات سے متعلق ازخود نوٹس کیس سیکریٹری خارجہ نے جواب سپریم کورٹ میں جمع کرا دیا،

    خیال رہے کہ 23 اکتوبر کو نیروبی مگاڈی ہائی وے پر شناخت میں غلطی پر پولیس نے ارشد شریف کو سر پر گولی مار کر ہلاک کردیا تھا تاہم ارشد شریف کے قتل کیس کی تحقیقات جاری ہیں جس میں کینیا پولیس کے مؤقف میں تضاد پایا گیا ہے

  • ارشد شریف قتل کی تحقیقات سے متعلق ازخود نوٹس،سیکرٹری خارجہ نے جمع کروایا جواب

    ارشد شریف قتل کی تحقیقات سے متعلق ازخود نوٹس،سیکرٹری خارجہ نے جمع کروایا جواب

    سپریم کورٹ میں ارشد شریف قتل کی تحقیقات سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی

    سیکریٹری خارجہ نے جواب سپریم کورٹ میں جمع کرا دیا، سیکرٹری خارجہ کی جانب سے جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ کینیا اور دبئی کے حکام کیساتھ وزارت خارجہ رابطے میں ہے،وزارت خارجہ کینیا کے اعلی ٰسطح حکام کیساتھ بھی رابطے میں ہے،سیاسی سطح پر وزیراعظم پاکستان نے کینیا کے صدر سے بھی رابطہ کیا،وزارت خارجہ کینیا میں ہونے والی تحقیقات سے متعلق مسلسل معلومات لے رہی ہے،امید ہے کہ جلد ارشد شریف قتل کا نتیجہ سامنے آجائے گا،کینیا کے سفیر نے بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے پر آگاہ کیا جائے گا،کینیا میں تحقیقات کیلئے خصوصی وفد بھی روانہ کیا جارہا ہے،پاکستان اور کینیا کے وزرا ئےخارجہ کے درمیان رابطے کی کوشش بھی جاری ہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ارشد شریف کی والدہ کو عدالت میں زحمت پر ہم معذرت کرتے ہیں

    ارشد شریف کی موت،قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے،وفاقی وزیر اطلاعات

     وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب ارشد شریف کی والدہ کے پاس تعزیت کے لئے پہنچ گئیں

    جویریہ صدیق نے ٹویٹر پر ارشد شریف کی جانب سے مریم نواز کی والدہ کے لیے دعا کا سکرین شاٹ شیئر کیا اور مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ شرم کر۔ اللہ سے ڈر

    اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم

     ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

    ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

    خیال رہے کہ 23 اکتوبر کو نیروبی مگاڈی ہائی وے پر شناخت میں غلطی پر پولیس نے ارشد شریف کو سر پر گولی مار کر ہلاک کردیا تھا تاہم ارشد شریف کے قتل کیس کی تحقیقات جاری ہیں جس میں کینیا پولیس کے مؤقف میں تضاد پایا گیا ہے

  • نیب ترامیم منظور کرنے والی پارلیمان نے عوامی اعتماد توڑا؟ سپریم کورٹ

    نیب ترامیم منظور کرنے والی پارلیمان نے عوامی اعتماد توڑا؟ سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی

    عمران خان کے وکیل خواجہ حارث کی جانب سے سپریم کورٹ میں دلائل دیئے گئے،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ حکمران عوامی اعتماد لے کر بنتے ہیں،شریعت کے مطابق عوامی اعتماد برقرار رکھنے کے لیے احتساب ضروری ہے، جب حکمران اپنے عمل پر پردہ ڈالتے ہیں تو عومی اعتماد ٹوٹتا ہے، نیب ترامیم کے تحت کسی تھرڈ پارٹی کو اربوں کا فائدہ پہنچانا اب جرم نہیں،پبلک آفس ہولڈرز کی پراپرٹی عوامی ملکیت ہوتی ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے دلائل کے مطابق تو نیب ترامیم منظور کرنے والی پارلیمان نے عوامی اعتماد توڑا، اس طرح تو نیب ترامیم منظور کرنے والے اراکین کو آرٹیکل 62 ون ای کے تحت نااہل ہو جانا چاہیے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ہدایت کی کہ خواجہ حارث کل دلائل مکمل کریں،سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت کل 8 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی

    25 روپے اضافے جیسے عوام دشمن اقدام کا دفاع کوئی منتخب وزیر نھیں کرسکتا یہ فریضہ باہر سے لائے گئے پراسرارمشیر ھی کر سکتے ، سلمان غنی

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    ، 25 کروڑ آبادی میں سے عمران خان ہی نیب ترامیم سے متاثر کیوں ہوئے؟

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  • میں چاہتی ہوں جومیرے ساتھ ہوا وہ کسی اورماں کے ساتھ نہ ہو،والدہ ارشد شریف

    میں چاہتی ہوں جومیرے ساتھ ہوا وہ کسی اورماں کے ساتھ نہ ہو،والدہ ارشد شریف

    ارشد شریف قتل کیس ازخود نوٹس کی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی

    صحافی ارشد شریف کی والدہ اور اہلیہ بھی سپریم کورٹ میں موجود تھیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ارشد شریف کی والدہ کو عدالت میں زحمت پر ہم معذرت کرتے ہیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت مین کہا کہ عدالتی احکامات پر فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ جمع کرادی ہے، فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ دو حصوں پر مشتمل ہے،سپریم کورٹ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ پڑھنے کی ہدایت کر دی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پولیس اہلکاروں کو تعاون کی ہدایت دے دیتے ہیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کینیا میں ہونے والی تحقیقات کے بارے میں عدالت کو آگاہ کیا، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ کینیا میں 4دن پہلے نئی کابینہ بنی ہے جن سے ملاقات کی کوشش کی جارہی ہے،کینیا حکومت ارشد شریف قتل کیس کی تحقیقات کررہی ہے، کینیا کی پاکستان میں سفارتخانے کے ساتھ بھی وزارت خارجہ رابطے میں ہے گزشتہ روز عدالتی حکم پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے

    چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی رپورٹ ہمیں رات کو دیر سے ملی ہے،یہ واضح ہے کہ یہ ایک سفاک قتل اورسنجیدہ معاملہ ہے،واقعہ کینیا میں ہوا لیکن کچھ گواہ پاکستان میں ہیں،کیس میں کچھ ایشوز کو ساتھ لے کر چلیں گے ،تحقیقات ماہرین کا کام ہے ہمارا نہیں ،جو رپورٹ جمع ہوئی ہے وہ قابل تعریف ہے،یہ رپورٹ صرف ایک اشارہ ہے،یہ رپورٹ ابھی ایک ابتدائیہ ہے،

    صحافی نے شکایت کی کہ پولیس نے ارشد شریف کے اہلخانہ کیساتھ درست رویہ نہیں اپنایا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پولیس والا معاملہ بھی دیکھ لیں گے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ارشد شریف کو کینیا پولیس نے گولیاں ماریں،جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جن پولیس اہلکاروں نے گولیاں چلائیں انکا بیان رپورٹ میں نہیں ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ چیک کرنا پڑے گا کہ پاکستان میں کینیا پولیس کیخلاف مقدمہ درج ہوسکتا ہے یا نہیں،ابھی مختلف لوگوں کے بیانات ریکارڈ ہونگے یہ ایف آئی آر تحقیقات کا آغاز ہے،

    والدہ ارشد شریف نے کہا کہ قتل کیس کی تحقیقات سے متعلق ازخود نوٹس لینے پر آپ کی مشکورہوں . چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس کیس پر ایک ماہ سے کام کررہے تھے،و رپورٹ آئی ہے اس پر اب کام کرینگے، والدہ ارشد شریف نے کہا کہ میں نے رپورٹ بنائی ہے کہ کیسے ارشد کو پہلے دبئی پھر وہاں سے نکالا گیا،میری رپورٹ میں ان کے نام ہے جنہوں نے یہ کام کیا میں چاہتی ہوں جو میرے ساتھ ہوا ہے وہ کسی اور ماں کے ساتھ نہ ہو،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ ارشد شریف کی والدہ کی درخواست ہے کہ رپورٹ میں جو نام ہیں اس کا جائزہ لیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ کینیا کے حکام سے تحقیقاتی ٹیم نے معلومات حاصل کیں،فائرنگ کرنے والے تین اہلکاروں سے ملاقات کرائی گئی، چوتھے اہلکار کے زخمی ہونے کے باعث ملاقات نہیں کرائی گئی،کینیا میں متعلقہ وزیر اور سیکریٹری کابینہ سے ملاقات کی کوشش کر رہے ہیں،

    سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ وقار اور خرم سے تحقیقات کا آغاز کیا جائے،ارشد شریف کی والدہ کا بیان ریکارڈ کیا جائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک کریمنل معاملہ ہے اس لیے عدالتی کمیشن کی ضرورت نہیں، ایسی جے آئی ٹی بنائی جائے جس میں پولیس اور دیگر اداروں کے ماہرین شامل ہوں،بتائیں کیس کو آگے کیسے لے کر جائیں گے،وزارت خارجہ کو اس کیس میں اہم کردار ادا کرنا ہوگا،وزارت خارجہ کو ڈپلومیٹک تعلقات کا استعمال کرنا ہوگا،اس پر بھی عدالت کی معاونت کی جائے گی اس کیس پر مزید سماعت کل کرینگے ارشد کی والدہ کا دوبارہ بیان ریکارڈ کیا جائیگا ،فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کے ممبرزکے ساتھ جے آئی ٹی والے میٹنگ کرینگے، واقعے کی ایف آئی آر تھانہ رمنا میں درج کی گئی،یہ ایک شارٹ ایف آئی آر ہے، کیس میں مزید تحقیقات کی ضرورت ہے، بتایا گیا کہ اسپیشل جے آئی ٹی تشکیل دی گئی جو تفتیشی افسران کو سپورٹ کریگی،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے یہ بتانے کے لیے ایک دن کا وقت مانگا کہ جے آئی ٹی میں کون کون ہوں گے فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کی رپورٹ پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل معاونت کرینگے،جے آئی ٹی ارکان ماہرین ہوں جو فارن جیورسڈکشن کو جانتے ہوں وزارت خارجہ اس معاملے میں دوست ممالک اور عالمی اداروں سے ثبوت اکٹھا کرنے کے لیے مدد لے،کیس میں مزید تحقیقات کی جائے گی ،سیکریٹری داخلہ اور خارجہ کی کل آنے کی ضرورت نہیں، جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ارشد کی والدہ اگر آنا چاہتی ہیں تو آئیں باقی ان کی ضرورت نہیں ہے

    سپریم کورٹ نے ارشد شریف قتل کی تحقیقات کے لیے حکومتی اسپیشل جے آئی ٹی مسترد کر دی ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چاہتے ہیں آزادانہ ٹیم قتل کی تحقیقات کرے،پولیس فوری طور پر نئی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے،جے آئی ٹی میں ایسا افسر نہیں چاہتے جو انکے ماتحت ہو جن کا نام آ رہا ہے،ارشد شریف کی والدہ دو شہدا کی ماں ہیں، شہید کی والدہ کا موقف صبر اور تحمل سے سنا جائے، جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کینیڈا میں پاکستانی خاتون کے قتل پر اقدامات کرتے تو شاید یہ واقعہ نہ ہوتا،ان کا بیٹا تو جا چکا اب دوسروں کے بچے بچانا چاہتی ہیں، واقعے کے بعد شور کرنے کے بجائے پہلے کچھ نہیں کیا جاتا، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ جے آئی ٹی میں ایف آئی اے، آئی بی اور دیگر ایجنسیوں کے افسران شامل ہوسکتے ہیں،

    دوسری جانب آئی جی اسلام آباد نے ارشد شریف قتل کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دے دی 5رکنی جے آئی ٹی میں ایس پی صدر، ایس ایچ او رمنا، تفتیشی آفیسر شامل ہوں گے آئی جی اسلام آباد کی صوابدید پر کوئی بھی آفیسر کمیٹی کا پانچواں ممبر ہوگا،ڈی آئی جی ہیڈکوارٹر جے آئی ٹی کے چیئرمین مقرر کئے گئے ہیں،

    ارشد شریف کی موت،قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے،وفاقی وزیر اطلاعات

     وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب ارشد شریف کی والدہ کے پاس تعزیت کے لئے پہنچ گئیں

    جویریہ صدیق نے ٹویٹر پر ارشد شریف کی جانب سے مریم نواز کی والدہ کے لیے دعا کا سکرین شاٹ شیئر کیا اور مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ شرم کر۔ اللہ سے ڈر

    اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم

     ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

    ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

    خیال رہے کہ 23 اکتوبر کو نیروبی مگاڈی ہائی وے پر شناخت میں غلطی پر پولیس نے ارشد شریف کو سر پر گولی مار کر ہلاک کردیا تھا تاہم ارشد شریف کے قتل کیس کی تحقیقات جاری ہیں جس میں کینیا پولیس کے مؤقف میں تضاد پایا گیا ہے

  • ارشد شریف قتل کیس ازخود نوٹس،فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع

    ارشد شریف قتل کیس ازخود نوٹس،فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع

    سپریم کورٹ ،صحافی ارشد شریف قتل کیس ازخود نوٹس پر سماعت ہوئی

    عدالتی حکم پر فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروا دی گئی،ارشد شریف قتل کیس پرفیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ 592 صفحات پر مشتمل ہے ،رپورٹ ڈی جی ایف آئی اے اور ڈی جی آئی بی کے دستخط کیساتھ جمع کرائی گئی ،

    فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ارشد شریف کو 20جون 2022 کو یواے ای ویزے کا اجرا ہوا،ویزہ 18اگست 2022 تک کیلئے تھا،ارشدشریف کینیا گئے تو ان کے ویزے میں 20دن باقی تھے، ارشد شریف نے نئے ویزے کیلئے 12 اکتوبر 2022 کو دوبارہ رجوع کیا،ارشد شریف کی درخواست کو ردکردیا گیا، رپورٹ میں فائرکی جانیوالی گولیوں کی ٹریجکٹری کو بھی بیان کیا گیا، رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ارشد شریف کے سینے میں لگنےوالی گولی ٹریجکٹری فائرنگ پیٹرن سے نہیں ملتی،ارشد شریف کو ایک گولی کمر کے اوپری حصے میں لگی، گولی گردن سے تقریباً6سے 8انچ نیچے لگی جو سینے کی جانب سے باہر نکلی،زخم سے یہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ گولی قریب سے چلائی گئی، جس زاویے سے گولی چلی اس کے نتیجے میں گاڑی کی سیٹ میں بھی سوراخ ہونا چاہیے تھا،ارشد شریف شہیدنے وقار احمد کے گیسٹ ہاؤس میں 2ماہ 3دن قیام کیا، رپورٹ کے مطابق وقار احمد کے کینین پولیس اور وہاں کی انٹیلی جنس ایجنسیوں سے روابط ہیں

    وقار احمد کے کینیا کی نیشنل انٹیلی جنس ایجنسی سے قریبی تعلقات ہیں، وقارکے مطابق حادثے کے بعد پولیس نے ارشد کا آئی فون،آئی پیڈ،وائلٹ ،2یو ایس بیز حوالے کیں وقاراحمد نے آئی فون اور آئی پیڈ نیشنل انٹیلی جنس ایجنسی کے افسر کو دے دیا،ایک دن بعد پاکستانی ہائی کمیشن نے ایک افسر کو ارشد شریف کی چیزیں لینے کیلئے بھیجا گیا وقار کے مطابق اس نے این آئی ایس کے افسر کو کال کرکے بتایا،این آئی ایس کے افسر نے وقار کو پاکستانی ہائی کمیشن کو کسی بھی چیز کو تحویل میں لینے سے روکا،بعد ازاں ایک اسسٹنٹ ڈائریکٹر پوسٹ کا بندہ بھیجا گیا، رپورٹ کے مطابق ہائی کمیشن افسروں کو اہم شواہد ملے ہائی کمیشن افسروں کو 2 موبائل،ایک کمپیوٹر اور ارشدکی ایک ذاتی ڈائری ملی ،ارشدشریف یہ چیزیں کینیا میں رہائش کے دوان استعمال کررہے تھے وقار احمدسے پہلی 3ملاقاتیں کافی مددگا رثابت ہوئیں فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے ارشد شریف کی رہائش گا دورہ کیا،دورے کے دورا ن ٹیم کو ارشد شریف کا پاسپورٹ ملا، یو ایس بیز ،پاسپورٹ کی کمیشن کوحوالگی پر سوال کا جواب تسلی بخش نہیں وقار احمد نے پہلے سی سی ٹی وی فوٹیج دینے پہلے آمادگی ظاہر کی رپورٹ کے مطابق وقارنے بعدمیں فوٹیج دینے سے معذرت کرلی

    وقاراحمد نے کہا فوٹیج لوکل اتھارٹیز کے حوالے نہیں کی گئی،وقارنے کہا وکیل اور بیوی نے فوٹیج نہ دینے کا مشورہ دیا ہے ،فیکٹ فائنڈنگ کی رپورٹ میں وقار کے چھوٹے بھائی خرم کا بھی ذکر ہے خرم کاکہنا تھا کہ وہ کھانے کے بعد ارشد شریف کو ساتھ لےکر نکلے گا،راستے میں انہیں سڑ ک پر پتھر نظر آئے جس پرخرم نے ارشد کو بتایا کہ یہ ڈاکو ہوں گے،جیسے سے سڑک پرپڑے پتھروں کو پار کیا توانہیں گولیاں کی آواز سنائی دی، گولیوں کی آواز سنتے ہی وہ وہا ں سے بھاگ گئے، خرم نے محسوس کیا ارشد شریف کو گولی لگی ہے، خرم نے اپنے بھائی وقار کو فون کیا اور فارم ہاؤس پر پہنچنے کا کہا ،فارم ہاؤس 18کلو میٹر دور تھا، فارم ہاؤس پہنچ کر خرم نے گاڑی کو گیٹ پر ہی چھوڑ دیااور اندر بھاگ گیا،خرم کا کہنا ہے ارشد کی ہلاکت فارم ہاؤس کے گیٹ پر ہوئی وقوعہ کی جگہ سے فارم ہاؤس تک خرم کے علم میں نہیں تھا کہ ارشدزندہ ہےیا نہیں ، جس زاویےپر خرم بیٹھاتھا اسے نظر آنا چاہیے تھاکہ ارشدبری طرح زخمی ہے، ارشد کے قتل بارے میں فیصل واوڈاکی پریس کانفرنس پر ان سے 15نومبر کو رابطہ کیا گیا،

    فیصل واوڈاسے ارشدشریف کے قتل سے متعلق شواہد طلب کیے گئے، اُن کی درخواست پر ٹیم نے انہیں 7 سوال تحریری طورپر دیئے دوبارہ رابطے کی کوشش پر انہوں کو کوئی جواب نہیں دیا ،کیس میں کئی غیرملکی کرداروں کا کردار اہمیت کا حامل ہے ارشد شریف کے کینیا میں میزبان خرم اور وقار کا کردار اہم اور مزید تحقیق طلب ہے،وقار احمد کمیٹی کے سوالات کا تسلی بخش جواب نہ دے سکے، گاڑی چلانے والے خرم کے بیانات تضاد سے بھرپور ہیں، دونوں افراد مطلوبہ معلومات دینے سے ہچکچا رہے ہیں،

    ارشد شریف قتل کا مقدمہ ایف آئی اے میں انسداد دہشتگردی ونگ میں درج کرنے کی سفارش کی گئی،اور کہا گیا کہ صحافی ارشد شریف پر تشدد کے ٹھوس شواہد نہیں مل سکے،پاکستان اور کینیا کی پوسٹمارٹم رپورٹس میں تضاد ہے،کینیا کی پوسٹمارٹم رپورٹ کے مطابق ارشد شریف کا ناخن ڈی این اے کیلئے لیا گیا،کینیا حکام نے نہیں بتایا کہ کتنے ناخن بطور سیمپل لیے گئے، پاکستانی ڈاکٹرز کے پوسٹمارٹم رپورٹ سےارشد شریف پر تشدد کے خدشات کو تقویت ملتی ہے، پاکستانی پوسٹمارٹم رپورٹ کے مطابق ارشد شریف کے بائیں ہاتھ کی انگلیوں کے چار ناخن نہیں تھے،

    ‏ارشد شریف کو گولی کیسے لگی؟ حقائق سامنے آ گئے

    ارشد شریف کی موت،قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے،وفاقی وزیر اطلاعات

     وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب ارشد شریف کی والدہ کے پاس تعزیت کے لئے پہنچ گئیں

    جویریہ صدیق نے ٹویٹر پر ارشد شریف کی جانب سے مریم نواز کی والدہ کے لیے دعا کا سکرین شاٹ شیئر کیا اور مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ شرم کر۔ اللہ سے ڈر

    اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم

     ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

    ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

    خیال رہے کہ 23 اکتوبر کو نیروبی مگاڈی ہائی وے پر شناخت میں غلطی پر پولیس نے ارشد شریف کو سر پر گولی مار کر ہلاک کردیا تھا تاہم ارشد شریف کے قتل کیس کی تحقیقات جاری ہیں جس میں کینیا پولیس کے مؤقف میں تضاد پایا گیا ہے۔

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”578106″ /]